|
SELECT YOUR LANGUAGE: ENGLISH or INDONESIAN |
||
![]() |
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے |
![]() |
|
اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر) |
||
|
مرکزی صفحہ تعارف حضرت عیسی کرشمہ قدرت الحجرالأسود تعلیمات دینِ الٰہی پروگرام تصانیف ویڈیو رابطہ |
||
|
ِدین ِالٰہی
تمام دین اس دنیا میں نبیوں کے ذریعے بنائے گئے۔ جبکہ اس سے پہلے خود عشق ، خود عاشق ، خود معشوق تھا۔ اور وہ روحیں جو اس کے قرب، جلوے اور محبت میں تھیںوہی عشق الٰہی، دین ِالٰہی اور دین ِ حنیف تھا۔
پھر اُن ہی روحوں
نے دنیا میں آکر اُس کو پانے کےلئے اپنا تن من قربان کر دیا۔
حدیث: حضرت ابو ہریرہ : مجھے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے دو علم حاصل ہوئے ایک تمہیں بتادیا، دوسرا بتاؤں تو تم مجھے قتل کردو
جب پانی کے حوض سے خشک کتابیں نکلیں تو مولانا روم نے کہا: ایں چیست؟ - یہ کیا ہے؟ شاہ شمس نے کہا: ایں آں علم است کہ تو نمی دانی - یہ وہ علم ہے جسے تم نہیں جانتے
ہر نمازی کی دُعا اے اللہ! مجھے اُن لوگوں کا سیدھا راستہ دکھا ، جن پر تیرا انعام ہوا
علامہ اقبال اس کو کیا جانے، بچارے دو رکعت کے امام
....٭....
بہت سی محب اور ازلی ارواح مختلف مذاہب اور مختلف اجسام میں موجود ہیں۔
اس آخری زمانہ میں اللہ
تعالیٰ کسی ایک روح کو دنیا میں بھیجے گا جو اِن روحوں کو تلاش کر کے اکھٹا
کرے گا، اور انہیں یاد دلائے گا کہ کبھی تم نے بھی اللہ سے محبت کری تھی۔
ایسی تمام روحیں خواہ کسی بھی مذہب یا بے مذہب اجسام میں تھیں۔ اُس کی آواز
پر لبیک کہیں گی، اور اُس کے گرد اکھٹی ہوجائینگی - وہ رب کا ایک خاص نام
اِن روحوں کو عطا کریگا، جو قلب سے ہوتا ہوا روح تک جا پہنچے گا ، اور پھر
روح اُس نام کی ذاکر بن جائیگی۔ وہ نام روح کو ایک نیا ولولہ، نئی طاقت اور
نئی محبت بخشے گا۔ اُس کے نور سے روح کا تعلق دوبارہ اللہ سے جُڑ جائیگا۔ جن لوگوں کی منزل قلب سے روح کی طرف رواں دواں ہے، وہی دین ِ الٰہی میں پہنچ چکے یا پہنچنے والے ہیں۔ اِن کو کتابوں سے نہیں بلکہ نور سے ہدایت ہے اور نور سے ہی باز ِ گناہ ہوجاتے ہیں۔ اور جو سُن کر یا محنت سے بھی اس مقام سے محروم ہیں وہ اس سلسلے میں شامل نہیں ہیں۔ اگر ذکر قلب و روح کے بغیر خود کو اس سلسلے میں متصور کیا یا اُن کی نقل کی، تو وہ زندیق ہیں
جبکہ عام لوگوں کی بخشش کا ذریعہ
عبادات اور مذہب ہیں۔
بہت سے مُسلم ولیوں کی شفاعت کو نہیں مانتے۔ لیکن حضورپاک نے اصحابہ کو تاکید کری تھی کہ اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ سے اُمت کےلئے بخشش کی دُعا کرانا۔
روُحوں کا دین
عشقِ الٰہی و دینِ الٰہی والوں کی پہچان جس میں سب دریا ضم ہو جائیں وہ سمندر
کہلاتا ہے ابتدائی پہچان جب قلب و روح کا ذکر جاری ہو جائے، چاہے عبادت سے ہو یا کسی کامل کی نظر سے ہو، دونوں حالتوں میں وہ ازلی ہے۔ گناہوں سے نفرت ہونا شروع ہوجائے، اگر گناہ سرزد ہو بھی جائے تو اُس پر ملامت ہو اور اُس سے بچنے کی ترکیبیں سوچے۔ مجھے وہ لوگ بھی پسند ہیں جو گناہوں سے بچنے کی ترکیبیں سوچتے ہیں۔ فرمانِ الٰہی دنیا کی محبت دل سے نکلنا اور اللہ کی محبت کا غلبہ شروع ہوجائے، حرص، حسد، بخل اور تکبر سے چھٹکارا محسوس ہو۔ زبان کسی کی غیبت سے باز آجائے، عاجزی محسوس ہو، کنجوسی کی جگہ سخاوت اور جھوٹ جاتا نظر آئے۔ حرام خواہشات ِنفسانی حلال میں تبدیل ہوجائیں۔ حرام مال، حرام کھانے اور حرام کاموں سے نفرت پیدا ہو انتہائی پہچان چرس، افیون، ہیروئن، تمباکو اور شراب
وغیرہ سے مکمل چھٹکارا ہو جائے۔ مقدس ہستیوں سے خواب، مراقبے یا مکاشفہ کے
ذریعہ ملاقاتی ہو جائے۔ نفس اماراہ سے مطمئنہ بن جائے، لطیفہ انا رب کے
روبرو ،اللہ اور بندے کے درمیان سب حجابات اُٹھ جائیں۔ باز ِ گناہ، عشق ِخدا
، وصل ِ خدا ، بندہ سے بندہ نواز اور غریب سے غریب نواز بن جائے۔ مہدی اور عیسیٰ کا لوگوں کے قلوب پر تسلط ہوجائے گا۔ پوری دنیا میں امن قائم ہوجائے گا۔ جُدا جُدا مذہب ختم ہو کر ایک ہی مذہب میں تبدیل ہو جائیں گے۔ وہ مذہب رب کا پسندیدہ ، تمام نبیوں کے مذاہب اور کتابوں کا نچوڑ، تمام انسانیت کے لئے قابلِ قبول، تمام عبادات سے افضل، حتیٰ کہ اللہ کی محبت سے بھی افضل، عشق الٰہی ہوگا۔
علامہ اقبال نے اسی وقت کے لئے نقشہ کھینچا تھا دنیا کو ہے اُس مہدی برحق کی ضرورت ہو جس کی نظر زلزلہء عالم ِافکار
کھلے جاتے ہیں اسرار ِنہانی، گیا دور حدیث لن ترانی ہوئی جس کی خودی پہلے نمودار، وہی مہدی وہی آخر زمانی
کھول کر آنکھ مری آئینہءادراک میں ، آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ لولاک لما دیکھ زمیں دیکھ ، فضا دیکھ ، مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
گزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چُھپ کے پیتے تھے پینے والے بنے گا سارا جہاں میخانہ ہر ایک ہی بادہ خوار ہوگا
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدارِ یار ہوگا سکوت تھا پردہ دار جس کا وہ راز اب آشکار ہوگا
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کوپلٹ دیا تھا
تمام آسمانی کتابیں اور صحیفے اللہ کا دین
نہیں ہیں۔ ان کتابوں میں نماز روزہ اور داڑھیاں ہیں۔ جبکہ اللہ اس کا پابند
نہیں ہے، یہ دین نبیوں کی امتوں کو منور اور پاک صاف کرنے کےلئے بنائے گئے۔
جبکہ اللہ خود پاکیزہ نور ہے، اور جب کوئی انسان وصل کے بعد نور بن جاتا ہے
تو پھر وہ بھی اللہ کے دین میں چلا جاتا ہے۔ اللہ کا دین پیار و محبت ہے۔
ننانوے ناموں کا ترجمہ ہے۔ اپنے دوستوں کا ذکر کرنے والا ہے۔ ایسے ہی شخص کےلئے شیخ عبدالقادر جیلانی نے فرمایا کہ " جس نے وصال پر پہنچ کر بھی عبادت کی یا ارادہ کیا،تو اُس نے کفران ِ نعمت کیا"
بلھے شاہ نے فرمایا " اساں عشق نماز جدوں نیتی اے " ، " بھُل گئے مندر مسیتی اے"
علامہ اقبال نے کہا اس کو کیا جانے بے چارے دو رکعت کے امام
اس علم کے متعلق ابو ہریرہ نے فرمایا تھا کہ مجھے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے دو علم عطا ہوئے، ایک تمہیں بتا دیا۔ اگر دوسرا بتاؤ تو تم مجھے قتل کردو۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنہوں نے بھی اس علم کو کھولا، شاہ منصور اور سرمد کی طرح قتل کر دیے گئے۔
جب توریت اتری اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارا دین مکمل کر دیا۔
موسیٰ علیہ السلام نے پڑھا کہ
دین تو مکمل ہو گیا اب اس کے آگے اور کیا علم ہو سکتا ہے؟ بھی
جو کچہ ہے اس کتاب میں ہے توریت میں ہے اس کے آگے کیا علم ہوسکتا ہے۔
اللہ نے کہا بھی ہے کہ تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اس پر پابند رہو۔ اللہ تعالیٰ نے پھر فرمایا نہیں اسکے آگے اور علم ہے یہ تمہارے عام کے لیے ہے وہ خاص کے لیے ہیں۔
اسکے لیے آگے چلے جاؤ فلاں
دریا پر چلے جاؤ۔
جب فلاں دریا پر گئے تو وہاں خضر علیہ السلام ملے نا انہوں نے کشتی بھی
توڈی تو بچے کو بھی مارا نا اس وقت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ واقعی
ہی اور بھی علم ہوتا ہے۔ جس سے میں بے خبر ہوں۔ کہا نا موسی علیہ
السلام نے۔ تو خضر علیہ السلام سے کسی نے پوچھا آیا تہمارے سے بھی زیادہ کسی کے پاس علم ہے۔تو فرمانے لگے میں ایک دن جنگل میں جارہا تھا تو دیکھا ایک آدمی سویا ہوا تھا۔ اس کے اوپر لائٹ پڑ رہی تھی جو ولیوں کے اوپر لائٹ ہوتی ہے میں پہچان گیا تھا کہ یہ کوئ اللہ کا ولی ہے میں نے اسکو جگایا اٹھ وہ اٹھا کہنے لگا کیوں جگایا؟ میں نے کہا تھکا ہوا ہوں اُٹھ میری خدمت کر میرے ہاتھ پاؤں دبا۔ اس نے کہا جا اپنا کام کر میں نے سمجھا شاید اس نے مجھے پہچانا نہیں ہے۔ کیونکہ میں نقیب اولیا ہوں سارے ولی میرے محتاج ہیں۔ میرے تحت ہیں اور اس نے مجھے کہا جا اپنا کام کر۔ حضر علیہ السلام کہتے ہیں اچھا اگر تو میری خدمت نہیں کرئے گا ابھی بستی والوں کو بتاؤں گا کہ یہ اللہ کا ولی ہے وہ تیرے پیچھے لگ جائیں گے۔ وہ کہنے لگا ٹھیک ہے اگر تو ان کو بتاؤ گئے نا کہ یہ ولی ہے میں انکو بتاؤں گا کہ یہ ہی خضر ہے وہ تمہارے پیچھے لگ جائیں گے۔ اب خضر علیہ السلام کہنے لگے کہ تجھے میرے نام کا کیسے پتہ چل گیا۔ اب وہ کہنے لگا کہ اب تم بتاؤں میرا کیا نام ہے۔ حضرعلیہ السلام کہتے ہیں کہ میں نے بڑی کوشش کری سارا علم لڑیا لیکن پتہ ہی نہیں چل سکا کہ اسکا نام کیا ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ کی طرف میں رجوع ہوا جب رجوع ہوا کہا اے اللہ یہ آدمی میرے سمجھ سے باہر ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو واقعی نقیب اولیا ہے لیکن تو ان کا نقیب اولیا ہے۔ جو مجھے چاہتے ہیں یہ ان میں سے ہے جنکو میں چاہتا ہوں۔ اب علم بہت سارا ہے۔ اب ہم جو بات کرتے ہیں نا لوگ کہتے ہیں کہ یہ نہ حدیث کی بات ہے نہ قرآن کی بات ہے۔لیکن حدیث قرآن کے آگے بھی علم ہے وہ جو علم ہے وہ حضور پاک کے سینے مبارک میں ہے نا۔
وہ علم سینے مبارک میں ہے۔ اس
قرآن مجید سے وہ توریت کا علم ختم ہوگیا توریت ختم ہوگی ۔ یہ تو ماننتے
ہی ہے نا زبور بھی چلا گیا۔ انجیل بھی منتشر ہوگیا۔ اب تمھارا قرآن
مجید وہ بھی منتشر ہو چکا ہےنا 72 فرقے
اہل قرآن نے ہی بنائےہیں نا بھی اب تمہیں پھر رستہ
کس چیز سے ملے گا۔ جب قرآن بھی منتشر ہوگیا تو تو پھر تہمارے پاس رستہ کونسا ہے؟
اب تمہیں وہ دین پکڑنا پڑے گا جو
منتشر ہو ہی نہیں سکتا ہے جسکو ہر مذہب قبول کرتا ہے۔
وہ دین جو اللہ نے اپنے لیے رکھا
تھا جو اللہ کا دین ہے۔ اب
تمہیں اُسکو پکٹرنا پڑے تب تم کو صراط مستقیم حاصل ہوگا۔
اب اللہ کا دین کیا ہے توریت
میں اللہ کا دین نہیں ہے توریت والوں کا اور دین ہے زبور والوں کا اور
ہے۔ انجیل والوں کا اور دین ہے قرآن والوں کا اور دین ہے پھر اللہ
کادین کیا پھر اللہ کا دین کیا ہے؟۔ اللہ کا دین عشق ہے اس نے سب سے
پہلے اپنے محبوب سے عشق کیا۔ خود عشق خود عاشق خود معشوق۔ اب تمہارے
اندر وہ عشق آجائے وہ عشق سب مذاہب سے بالا تر ہے۔ مذاہب ایمان سیکھاتے
ہیں۔ ایمان سے اللہ نہیں ملتا ہے۔ ایمان سے جنت ملتی ہے ایمان سے جنت
ملتی ہے اللہ نہیں ملتا ہے اور وہ دین عشق سیکھاتا ہے نا عشق سے اللہ
ملتا ہے وہ دین کیا ہے؟ ہاتھوں میں تسبح لیتے ہو اللہ اللہ کرتے ہو۔ اب
تسبح کے ساتھ اللہ اللہ کیوں کرتے ہیں جس طرح پتھر پتھر سے ٹکراتا ہے
لوہا لوہے سے ٹکڑاتا ہے تو چنگاریاں اٹھتی ہے۔ اللہ اللہ سے ٹکٹراتا ہے
تو نور بنتا
ہے۔ اب آپ کسی مذہب کی بات نہیں کریں۔ ہم اب آپکو عشق کی بات بتاتے ہیں۔ آپ مذہبوں کو بھی چھوڑیں۔ فرقوں کو بھی چھوڑیں۔ عشق کو اپنائیں اگر اللہ مل گیا تو پھر جدھر اللہ ادھر تم۔
اب یہ جو ٹک ٹک کے ساتھ اللہ
اللہ کرتے ہیں یہ بھی نور بنتا ہے۔ جب ٹکراؤ ہوتا ہے آپس میں تو وہ نور
بنتا ہے۔ لیکن یہ نور اندر نہیں جاتا یہ باہر انگلیوں میں رہتا ہے اسکا
اجر ملے گا تو یوم محشر میں ملے گا نا ابھی تو کچھ نہیں ہے نا اسطرح
لوگ زبان سے اللہ اللہ کرتے ہیں نا وہ بھی نور بنتا ہے۔ وہ جومستی آتی
ہے وہ نور کی مستی ہوتی ہے نا لیکن وہ نور بھی باہر ہی باہر ہے نا اندر
تو وہ بھی نہیں گیا نا۔ اسی طرح
کی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر تسبیح لگا دی وہ بھی ٹک ٹک کرتی رہتی ہے
وہ ٹک ٹک کیوں کرتی ہے اب وہ خالی ٹک ٹک کر رہی ہے نا اسکی رگڑ سے
تہمارے اندر بجلی بن رہی ہے۔ وہ تمہارے اندر بجلی ہے ڈیڑھ کلو واٹ بجلی ہے تمہارے اندر۔
جو اس ٹک ٹک سے بنتی ہیں اور جوں
جوں وہ ٹک ٹکیں آہستہ ہوتی جاتیں ہیں تمہاری نسوں میں وہ تیزی کم ہوتی
جاتی ہے۔ بندر میں دیکھو، بلی میں دیکھو اسکی ٹک ٹک بڑی تیز ہے اور اس
میں بڑی پُھرتی ہے اب جب اس ٹک ٹک کے ساتھ اللہ اللہ ملتا ہے۔ پھر وہ اللہ
اللہ کا جب رگڑ
ا لگتا ہے نا تب پھر وہ نور بھی بننا شروع ہوجاتا ہے نا۔ پھر وہ نور ہے
وہ اس بجلی میں مکس ہوجاتا ہے۔ جب وہ نور اس بجلی میں مکس ہوجاتا ہے تب
پھر وہ ٹک ٹک کا تعلق خون سے ہے خون کو آگے دیکھیلتی ہے پھر آگے
دیکھیلتی ہے پھر وہ اللہ اللہ کا نور پورے خون میں چلا جاتا ہے یہ نور
نہیں گیا۔ زبان کا نور بھی نہیں گیا وہ جب اندر اللہ اللہ ہوئی تو اسکا
نور اندر خون میں گیا
نا۔ خون سے ہوتا ہوا پھر وہ تمہاری نسوں تک چلا جاتا ہے وہ نور نسوں
میں جاتا ہے نسوں سے ہوتا ہوا جو
تمہاری روح ہے روحوں
تک پہنچ جاتا ہے پھر تمہاری روح بیدار ہو کے وہ بھی اللہ اللہ کرنا
شروع کر دیتی ہے۔ پھر تم سوتے رہوں گے تمہاری روح اللہ اللہ کرتی رہے
گی تم قبر میں چلے گئے تو وہاں بھی تہماری روح اللہ اللہ کرتی رہی اور
یوم محشر میں بھی روح اللہ اللہ کرتی رہی۔ اس قسم کی تمہارے اندر سولہ
مخلوقیں ہیں۔ سات روحیں ہیں نو جسے ہیں سولہ مخلوقیں تہمارے ڈھانچے میں
ہیں جب وہ نکل جاتیں ہیں تو تمہارا ڈھانچہ ختم ہوجاتا ہے۔ اسکا مطلب ہے
اصل وہ ہیں نا تم نقل ہونا پھر اس مخلوق کے بعد وہ باقی جو مخلوقیں ہیں
وہ بھی اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتی ہیں وہ بھی جاگنا شروع ہو جاتی ہیں
حتی کہ سولہ کی سولہ مخلوقیں اس جسم میں
اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ پھر یہ ہی مسجد یہ ہی کبعہ یہ ہی گل
گلزار جنت ہے۔ اب وہ تمہاری روحیں اللہ اللہ میں لگ گئیں۔ اب ان کی نور
سے پرورش ہونا شروع ہوگئ۔ نور سے انہوں نے طاقت پکڑ لی۔ اب تم مذہب کو چھوڑ و پہلے صراط مستقیم کو دیکھو۔ کہ صراط مستقیم کیا ہے
جب انہوں نے طاقت پکڑ لی ایک
تمہارے جسم میں ایسی روح ہے جسکو نفس بولتے ہیں۔ اس میں شیطانی طاقت ہے۔
بچہ بچپن سے ہی شیطانیاں کرتا ہے اس میں شیطانی طاقت ہے وہ ذرا طاقت ور
ہوتی ہے خواب میں وہ جسم سے باہر نکل جاتی ہے۔ شیطانوں میں جا کر گھوم
آتی ہے پھرآ کر جسم میں داخل ہوجاتی ہے کیونکہ وہ شیطانی روح ہے
شیطانوں میں جاتی ہے نا شیطانی طاقت کے ذریعے۔ اب تمہارے اندر جو روحیں
ہیں ان میں وہ نوری طاقت بھی آگئی نا۔ جب وہ نوری طاقت آگئی نا۔ وہ
نوری طاقت کے ذریعے اس جسم سے نکلتی ہیں نا۔ وہ شیطانی ، شیطانوں میں
جاتی ہیں تو نوری نوریوں میں جاتی ہے نا۔ تو جب یہ نوری نوریوں میں
جائیں گئی تو
پھر جب بھی دیکھیں گی نا جسکے آگئے سارے نبی ولی جھکتے ہیں یہ بھی اسکے
آگے جا کر جھک جائیں گی نا۔ روح نے تو صراط مستقیم پا لیا نا اس نے باطن میں دیکھ لیا نا۔ً
اب کوئی کہتا کہ حضور پاک
زندہ ہیں تو کوئی کہتا چلے گئے ہیں
دونوں نہ اس نے دیکھا نہ اس نے دیکھا۔ اس
وقت روح جا کر دیکھ آئے گی نا۔ اس کے بعد جب ہر وقت تمہارے دل میں اللہ
اللہ شروع ہوجائے گی کوئی بھی چیز دل میں بس جائے تو اس سے محبت ہو
جاتی ہے نا۔ اللہ دل میں آگیا اللہ سے محبت ہوگئی۔ جب اللہ سے محبت ہو
جاتی ہے اللہ کسی کا احسان لیتا ہی نہیں
ہے۔ ایک روپیہ خرچ کرو دس روپے لوٹتا ہے۔ احسان مانے تو کیوں نو روپے
فالتو دے۔ ایک نیکی کرو دس نیکیوں کا ثواب دیتا ہے تھوڑی سے محبت کرو
دس گنا زیادہ محبت کرتا ہے اور جس سے اللہ محبت کرتا ہے اس کو ایک دن
دیکھتا ہے بڑے پیارسے دیکھتا ہے جس دن اللہ نے تمہیں پپار سے دیکھا
محبت ختم ہوگئی پھر وہ عشق کا مقام ہے نا۔ پھر میں تیرا اور تو میرا
پھر میں تیرا اور تو میرا۔ اس وقت پھرعلامہ اقبال نے فرمایا گرہو عشق توکفر بھی ہے مسلمانی
ً اگر عشق پیدا ہو جائے اللہ کا عشق پیدا ہو جائے اگر کافر ہے تو وہ بھی مسلمان ہی ہے نا فرماتے ہیں اگر یہ نہ ہو تو پھر مسلم بھی ہے کافر و رندیق ًآج مسلمان ایک دوسرے کا کافر و رندیق کہہ رہے ہیں نا۔ عشق نہیں ہے تب کہہ رہے ہونا اگر اس کافر میں بھی عشق آجائے تو یقین کرؤ تو وہ ان مذہب والوں سے بہتر ہے۔ جن میں اللہ، رسول کا عشق نہیں۔
|
© 1998-2010 All Faith Spiritual Movement
Intl'
admin@theallfaith.com