SELECT YOUR LANGUAGE:    ENGLISH    or   INDONESIAN

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے

اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر)

مرکزی صفحہ  تعارف  حضرت عیسی  کرشمہ قدرت  الحجرالأسود  تعلیمات  دینِ الٰہی  پروگرام  تصانیف  ویڈیو  رابطہ    

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھرشاہی مدظلہ العالی

کا روالپنڈی (لیاقت باغ) میں عظيم الشان اجتماع سے روحانی خطاب۔

 

 

آعوذبااﷲمن الشیطن الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


 

عزیز ساتھیوں السلامُ علیکمُ:۔

 

اِس سٹیج ہر آنے کا مقصد کوئ سیاست نہیں ہے۔ کوئ حکومت کے خلاف نُکتہ چینی نہیں ہے، کوئ فتنہ ڈالنا نہیں ہے۔ ہر شہر میں ہر محلے میں اہل دل ہوتے ہیں ٲن اہل دلوں کو نکالنا مقصد ہے اور دل کی آواز ٲن تک پہنچانا مقصود ہے۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو طرح کا علم تھا ایک دل والوں کے لیے اور ایک زبان والوں کے لیے۔ زبانی علم کو شریعیت کہتے ہیں اور دل والے علم کو طریقت کہتے ہیں۔ آپ کے زمانے میں جن لوگوں نے  صرف زبانی علم پہ ہی قناعت کری أن ہی میں سے کوئ خوارج ہوا اور کوئ مُنافق ہوا اور آج بھی جو لوگ صرف زبانی علم پہ قناعت کئے ہوے ہیں وہی 72 فرقوں میں تقسیم ہوے اور جن لوگوں  نے حضور پاک پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں وہ  باطنی علم بھی حاصل کیا وہ تو صحابی یا رسُول اﷲ کہلائےاور ولیوں سے اعلیٰ مقام بھی حاصل کر کے چلے گئے۔ اب وہ زبان کے علم کی تشریح ضروری نہیں ہے۔ ٲس دل کے علم کی بات کرتے ہیں ۔جس کو مسلمان بھول کے72 فرقوں میں تقسیم ہو گیا۔
 

تمھارا پہلا رُکن وہ باطنی علم ہے۔ تم نے ٲس کو سمجھا ہی نہیں ہے۔ پہلا رُکن کیا ہے۔ پہلا رُکن کلمہ حدیث شریف
 

کلمہ طیب افضل ذکر ، کہ کلمہ ذکر میں ہے۔ اور قرآن مجید حقیقت میں یہ فرماتا ہے کہ ٲٹھتے، بیٹھتے،
 

حتٰی کہ لیٹے ہوئے بھی میرا ذکر کر یہ تمھارا پہلا رُکن ہے تم نے اِس کو چھوڑ دیا ہے۔
 

تمھاری یہ پہلی سُنت ہے۔ جب حضور پاک پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانےمیں وہ لوگ مسلمان ہوتے تھے تو وہ کیا کرتے تھے۔ٲس وقت نمازیں ٲتریں نہیں تھیں نمازیں تو کئ سال بعد شب معراج میں ٲتریں۔ ٲس وقت وہ لوگ ہر وقت ذکر الہی ہی کرتے تھے اور ذکر الہی سے ٲن کے سینے منور ہوﮰ۔ اور جب نمازیں ٲتریں تو حلقوں میں نہیں اٹکیں سیدھی سینوں میں گئیں۔ 

اور تمھارا قرآن مجید کا پہلا لفظ الم وہ بھی ذکوریت میں ہے۔ اور تم نے ٲسکو چھوڑ ہی دیا ہےکہ حروف مقطعات ہے آگے چلو۔ یہ بنیادیں تھیں اور تم نے بُنیادوں کو چھوڑ کر مکان بنانے کی کوشش کری وہ مکان بن نہیں سکا۔ وہ مکان بنا نہیں اِدھر گِرا، دیوار ٲدھر گری بنائ، دیوبندی ہو گی، ٲدھر گرگئ مرضئ ہو گئ، اِدھر گر گی وہابی ہو گئ اؤ 72 ، 73 فرقے بن گے۔
 

الف سے اﷲ ہے کہ  اﷲ کا ذکر کر اگر اِسکی جلالت سے ڈرتا ہے تو ل نفی اثبات لا الاالہ کا ذکر کر۔ﺍگر نفی اثبات سے بھی ڈڑتا ہے ٹھنڈک چاہتا ہے م مُحمد اسول اﷲ ہی پڑھتا رہ۔ اِسی سے تو رب کو پا جاﮰ گا اگر اِن تینوں الفاظ کی توفیق نہیں ہے تو پھر قرآن میں لگا رہ۔ "الم" یہ نور سے ہدایت ہے۔ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے جسکو چاہو نور سے ہدایت دوں۔ اور باقی وہ کتاب وہ کتاب سے ہدایت ہے۔

 

ایک بزرگ تھے حضرت عبداﷲ بن مُبارک الروہی ٲن کو راضی الفریقین کہتے ہیں۔ دل والے بھی ٲن سے راضی ہیں، زبان والے بھی ٲن سے راضی ہیں۔ ٲنھوں نے دل والوں ذکر اﷲ سے سُدھارا اور زبان والوں کو قرآن مجید سے سُدھارا تب ٲن کو راضی الفریقین کہتے ہیں۔
 

یہ قرآن مجید میں اِس کے اِشارے ہیں اِس باطنی علم کے کہ  خضر علیہ السلام کو عِلم  لدونی تھا اِشارہ ہے، وہ عِلم نہیں۔ یا قرآن مجید میں ہے کہ اﷲ تعالٰی اپنے رسولوں میں سے جسکو چاہے عِلم غیب کے ذریعے چُن لیتا ہے۔ اشارہ ہے وہ علم غیب نہیں ہے۔ حدیث شریف میں بھی اِس کے اِشارے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہُ فرماتے ہیں مجھے حضور پاک سے دو علم حاصل ہوے۔ ایک تمھیں بتا دیا اگر دوسرا بتاؤں تم مجھے قتل کر دو۔ اِس کا مقصد ہے کہ حدیث شریف میں صرف کا اِشارہ ہے وہ علم نہیں ہے۔ اور تیسرا حضرت اابراہیم بن ادھم فرماتے ہیں میں نے سّتر مرتبہ اﷲ تعالی کو دیکھا اور ایک سو بیس مسلے سیکھے باطن کے چار لوگوں کو بتاے سب نے انکار کر دیا۔
 

حضور پاک پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں  مجھے اﷲ تعالی کی طرف سے تین علم حاصل ہوے۔ ایک عام لوگوں کے لیے دوسرا علم خاص کے لیے، پہلا علم زبان والوں کے لیے دوسرا علم دل والوں کے لیے اور تیسرا علم صرف میرے لیے اور اِس علم کی اور ایک تشریح ہے ایک دفعہ شاہ شمس تبریز رحمتہُ اﷲ مولانہ رومی کے مکتب میں چلے گے وہ کچھ کتابوں کا مطالعہ کر رہے تھے۔ جا کے پوچھتے ہیں کہ ایں چیست؟ رومی صاحب فرماتے ہیں کہ ایں آں علم است کہ تو نمی دانی! کہ یہ وہ علم ہے جس کو تو نہیں جانتا۔ اتنے میں رومی صاحب بيت الخلا میں چلے گے واپس آے تو أنھوں نے وہ کتابیں أٹھیں تو پانی کے حوض میں ڈال دیں۔ دیکھا کتابیں نہیں ہیں پوچھتے ہیں یہاں میری کتابیں تھیں کہا گیں۔ أنھوں نے کہا کہ میں نے پانی کے حوض میں ڈال دیں۔ کہنے لگے کیوں اِس میں تو میرے قیمتی نسخے تھے، قلمی نسخے تھے وہ تو تباہ ہو گے ہوں گئے أنھوں نے کہا کہ گھبراتے کیوں ہو میں ابھی نکلتا ہوں۔ جب پانی کے حوض سے نکالیں تو وہ أسی طرح خشک تھیں۔ أس وقت مولانا رومی نے کہا ایں چیست؟ أنھوں نے کہا کہ ایں آں علم است کہ تو نمی دانی! کہ یہ وہ علم ہے جس کو تم بھی نہیں جانتے۔

اب اِس کا ثبوت تو ہے کہ یہ عِلم باطن ہے۔ لوگوں نے اس کو ڈھونڈنے کی بڑی کوشش کری کسی نے نوافل کے ذریعے، کسی نے وظائف کے ذریعے لیکن یہ علم نہیں ملا۔ کوئ صائم ،روزے رکھتے ہوے سارا سال یہ علم حاصل نہیں ہوا۔ أنھوں نے پھر کچھ لوگوں نے تفسیر لے لیں قرآن مجید کی لیکن یہ علم پھر بھی حاصل نہیں ہوا۔ اور وہ سوچنے لگے پھر وہ علم ہے کہاں نہ نوافل میں ہے، نہ وظائف میں ہے، نہ نمازوں میں ہے، نہ تلاوت میں ہے، نہ تفسیروں میں ہے پھر وہ علم ہے کہاں أنھوں نے پھر اِسکا سے انکار ہی کر دیا کہ علم روحانیت ہے ہی نہیں۔ کیوں کہ أنھوں نے پوری کوشش کری لیکن کسی کو نہیں پتہ کہ یہ علم ہے۔ کہاں یہ علم نہ کتابوں میں ہے نہ حدیثوں میں ہے۔

یہ علم حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے سینے مبارک میں ہے۔

جسطرح ظاہری علم کے کیے سفید کاغذ چاہئے اِسطرح اِس باطنی علم کے لیے سفید سینہ چاہئے۔ سخی سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں میں کسی مدرسے میں نہیں پڑھا میں نے صرف قرآن مجید کا پہلا لفظ الف لے لیا اور الف سے اﷲ اﷲ کرتا رہا اﷲ اﷲ کرنے سے ہی میرا سینہ منور ہو گیا۔ فرماتے ہیں جب سینہ منور ہو گیا تو مجھے وہ کشف بھی ہونا شروع ہو گیا۔ میں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محفل میں پہنچنا شروع ہو گیا۔ فرماتے ہیں کہ میں وہاں جاتا تو کبھی ذکر الہی رہا ہوتا ، کبھی درود شریف کی محفل ہو رہی ہوتی کبھی حدیث کی باتیں ہو رہی ہوتیں ۔ ایک دن میں گیا وہاں دیکھا کہ لوگ قرآن مجید پڑھ رہے تھے سارے قرآن مجید پڑھ رہے تھے اور میں ایک کونے میں أداس بیٹھا کہ کاش میں پڑھا ہوتا آج میں بھی یہاں بیٹھ کر پڑھتا ۔ حضور پاک بھی أس محفل میں تھے ۔اُنھوں نے مجھے بُلایا کہ اُداس کیوں ہے۔ میں نے واقعہ سُنایا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ۔

انھوں نے کہا کہ یہ تو نقل قرآن مجید ہے اُسکو پڑھ رہے ہیں۔ اصل جو نوری الفاظ ہیں وہ تو میرے سینے میں ہیں۔ اب تمھارا سینہ اس قابل ہو چکا ہے۔

انھوں نے سینے سے سینہ مِلایا اور وہ نوری الفاظ ٴادھر ٹرانسفر ہو گئے۔

اب وہ لوگ کہتے ہیں یہ درویش لوگ کہتے ہیں یہ دل والا علم ہوتا ہے۔ یہ دل بھی اﷲ اﷲ کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ہم نے دل دیکھا ہے کہ یہ گوشت کا لوتھڑا ہے اِسکی زبان ہی نہیں ہے یہ کہاں سے اﷲ اﷲ کرے گا۔ بس یہ ہی کہتے ہو نا۔ اگر تمھیں یقین ہو جائے کہ یہ دل اﷲ اﷲ کرسکتا ہے، یقین کرؤ تمھیں اِس کے بغیر نید ہی نہ آئے۔ اور اِسی دل کی عبادت کے لیے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ عِلم حاصل کرؤ تمھیں کیوں نہ چین تک جانا پڑے۔ اِسی کے کیے چین تک جانا پڑتا ہے۔ ظاہری عِلم تو ہر مدرسے میں موجود ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ درویشوں کا خیال ہےاور درویش کہتے ہیں کہ یہ زبان بھی تو گوشت کا لوتھڑا ہے۔ اگر وہ دل گوشت کا لوتھڑا ہے تو یہ زبان بھی گوشت کا لوتھڑا ہےفرق یہ ہے کہ یہ دو جبڑوں کے درمیان لٹکی ہوئ ہےاور وہ دو پسلیوں کے درمیان لٹکا ہوا ہے وہ بھی گوشت کا لوتھڑا ہے یہ بھی گوشت کا لوتھڑا ہے۔

اِس زبان میں طاقت نہیں ہے بولنے کی اِس کو بولانے کے لیے ایک مخلوق ہے جسکا نام ہے لطیفہ اخفا وہ سینے کے درمیان ایک مخلوق ہے جس کے ذریعے یہ زبان بولتی ہے۔ اگر کسی کی وہ مخلوق ختم ہو جائے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ زبان تو ٹھیک یہ پتہ نہیں بولتا کیوں نہیں ہے۔ انسانوں اور حیوانوں میں اِن مخلوقوں کا فرق ہے۔ اگر وہ مخلوقوں کا فرق نہ ہوتا تو زبانیں تو جانوروں کی بھی ہیں وہ بھی کچھ نہ کچھ بولتے ۔ توتلا ہی بولتے کچھ نہ کچھ بولتےتوتلا ہی بولتے اِسطرح ایک اور مخلوق ہے وہ جو گوشت کا لوتھڑا ہے جسکو دل بولتے ہیں ٲسکے ساتھ بھی ایک مخلوق ہے جس کا نام ہے لطیفہ قلب فرق یہ ہے کہ یہ مخلوق آزاد ہے اور وہ مخلوق ایک لاکھ اسّی ہزار جالوں کے اندر بند ہے۔ اگر کوئ شخص ٲس مخلوق کو بھی آزاد کرا لے تو جسطرح یہ زبان اﷲ اﷲ کرتی ہے۔ اِسطرح وہ گوشت کا لوتھڑا بھی اﷲ اﷲ کرتا ہے۔

اب رہا سوال یہ تو معلوم ہو گیا اگر وہ مخلوق جاگ ٲٹھے تب وہ دل اﷲ اﷲ کرتا ہے نا ورنہ نہیں۔ لیکن وہ مخلوق جاگے کیسے وہ ایک لاکھ اسّی ہزار جالوں کے اندر بند ہے۔ اگر کسی شخص نے نہ انڈا دیکھا ہو أسے کہا جائے کہ یہ ہوا میں أڑے گا یہ چوں چوں گا وہ کہے گا کہ تو غلط کہتا رہا ہے نہ اسکی زبان ہے نہ پر ہیں نہ ٹانگیں ہیں توڑ کر دیکھا کچھ نہیں تو کہتا ہے کہ ہوا میں أڑے گا وہ نقل ہے۔ أسکا نام بیضہ ہے۔ تمھارے اندر بیضہ ناسوتی ہے۔ٲس کے ٲوپر تین چھلکے ہیں اور اِس کے اوپر ایک لاکھ اسّی ہزار جالے ہیں۔ ٲسکے اندر ایک چوزہ بند ہے دیکھتا نہیں ہے لیکن چوزہ بند ہے اور اِسکے اندر ایک فرشتہ بند ہے۔

ٲسکو مُرغی چاہیے اور اِس بیضہ ناسوتی کو مُرشد چاہیے۔

مُرغی کیا کرے گی ٲسکے حساب سے ٲسکو گرمی پہنچاے گی اور مُرشد ٲسکے سینے کے حساب سے أسکو اِسم ذات کی گرمی پہنچاے گا۔ جب وہ گرمی سے انڈا پھٹے گا بغیر سیکھے سیکھاے چوں چوں کرنا شروع کر دے گا۔ اُسکی فطرت ہے چوں چوں اور جب یہ اِسم ذات کی گرمی سے پھٹے گا تو بغیر سیکھے سیکھاے اﷲ اﷲ کرنا شروع کر دے گا اسکی فطرت ہے اﷲ اﷲ۔ وہ اِسکے اندر اﷲ اﷲ کرنا شروع کر دے گا اُس وقت وہ آدمی دیکھے گا میں اﷲ اﷲ نہیں کر رہا لیکن میرے اندر کی کوئ چیز ہے جو اﷲ اﷲ کر رہی ہے۔ اُس وقت وہ آدمی اُس مخلوق کا اُستاد بن جاے گا۔

اب یہاں سے دو طرح کی تسبیح چلتی ہے ایک زبان والوں ایک دل والوں کے لیے ۔ زبان کی تسبیح بازار میں ملتی ہے اُس کا کیا کام ہےٹک ٹک کرنا زبان کہتی ہے اﷲ وہ کرتی ہے ٹک أس کا کام ہے ٹک ٹک کرنا ہے۔ ایک آدمی نے کہا تھا کہ یہ تم جو ہر وقت اﷲ اﷲ کرتے ہو اﷲ تو ایک ہی بڑا دل سے مانگ لو گھڑی گھڑی اﷲ اﷲ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جسطرح بادل آپس میں ٹکڑاتے ہیں تو بجلی بنتی ہے۔ اِسطرح جب اﷲ اﷲ آپس میں ٹکڑاتا ہے پھر نور بنتا ہے۔ لیکن اب وہ نور وہ جو نور بن رہا ہے وہ بھی باہر ہے وہ جو اﷲ اﷲ ہے وہ بھی باہر ہے وہ جو تمھارا دھیان ہے وہ بھی باہر ہے۔ یہ عبادت ہے روحانیت نہیں ہے۔ عبادت ہے روحانیت نہیں ہے۔ لیکن جب وہ تمھارے اندر کی تسبیح وہ بھی ٹک ٹک کر رہی ہے، وہ بھی ٹک ٹک کر رہی ہے۔ اب تم نے ٲس مخلوق کو حکم دیا کہ تیری تسبیح یہ ہے اِس ٹک ٹک کے ساتھ اﷲ اﷲ مِلا ۔ اب أس نے اِس کے ساتھ اﷲ اﷲ مِلا نا شروع کر دی۔ تین سال تک تم نے دھیان دیا، تین سال تک تم نے دھیان دیا تین سال کے بعد تم ڈٹ کے سوتے رہے اور وہ اﷲ اﷲ کرتا رہا ۔

أس وقت سخی سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا

کجھ جاگدیاں سُتے ھو تاں کجھ سُتیاں جاگدے ھو

کچھ لوگ ایسے ہیں جو جاگ کر عبادت کرتے ہیں ساری رات لیکن سوئے ہوں میں شامل اور کچھ لوگ بستروں میں سو رہے ہیں اُن کے دل اللہ اللہ کررہے ہوتے ہیں۔

حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم سوتے ہیں ہمارے دل نہیں سوتے ہیں

اب وہ ٹک ٹک بھی اندر ہے اب وہ جو اللہ اللہ وہ بھی اندر ہے اب وہ جو تمھارا دھیان ہے وہ بھی اندر ہے۔ اب وہ جو نور بن رہا ہے وہ بھی اندر ہے۔ اب وہ جو نور اندر ہے وہ اندر سے باہر نہیں آنے دیتا۔ اب وہ اندر کی تسبیح کا کیا کام ہے وہ خون کو آگے دھکیلتی ہے ٹک ٹک اگے دھکیلتی ہے اب اس ٹک ٹک کے ساتھ اللہ اللہ ملتا ہے۔ اب وہ اﷲاﷲ أس ٹک ٹک کے ذریعے نس نس میں چلا جاتا ہے جب پورے خون میں اللہ اللہ چلا جاتا ہے۔

اللہ اللہ کے نور کو خون میں پہچانے کا اور کوئ طریقہ نہیں ہے۔

جب پوری نس نس میں اللہ اللہ چلا جاتا ہے۔ أس وقت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں تو ایک دفعہ اللہ اللہ کرے گا تجھے ساڈھے تین کروڑ اللہ اللہ کا ثواب ملے گا فرماتے ہیں کہ تیرے اندر سا ڈھے تین کروڑ نسیں ہیں دل نے ایک دفعہ اللہ کری ساڈھے تین کروڑ نسیں گونج اٹھیں۔ سلطان صا حب فرماتے ہیں کہ 72 ہزار اور ثواب ملتا ہے۔اگر کسی کا دل ایک دفعہ اللہ کرے تو کیسے ملتا ہے یہ جو مسّام ہیں جہاں سے پسینہ آتا ہے یہ انسان کے 72 ہوتے ہیں دل نے ایک دفعہ اللہ کری 72 ہزار آوازیں یہاں سے بھی گونجیں۔ 

اُس وقت علامہ اقبال نے فرمایا پھر خدا بندے سے خود پو چھے بتا تیری رضا کیا ہے
فرمایا کہ خودی کو کر بلند اتنااور خودی کا مطلب سمجھایا خودی کا سّر نہاں لاالااللہ
تو لاالااللہ کا اتنا ذکر کر کہ لوگ کہیں کہ مجنوں ہو گیا اور منافق کہیں ریاکار۔

 

ایک اور شاعر نے کہا۔

گنہگارپہنچے در پاک پر زاہد و پارسا دیکھتے رہ گئے۔

گناہ گار کیسے پہنچ گے اور زاہد و پارسا کیسے دیکھتے رہ گئے۔ یہ بھی ایک راز ہے نقطہ ہے۔
جو پارسا ہیں وہ بھی سُن لیں جو گناہ گار ہیں وہ بھی سُن لیں۔ 

جب کوئ آدمی نماز پڑھتا ہے نیکی کرتا ہے اُسکی فائل میں کرامََا کاتبین لکھتے ہیں کہ أس نماز پڑھی نیکی کری اچھا کام کیا پھر نماز پڑھتا ہے پھر لکھتے ہیں نیکی کرتا ہے پھر لکھتے ہیں لیکن اِسکے ساتھ ایک اور کام ہو جاتا ہے اُس میں تکبر آ جاتا ہے کہ میں نے نماز پڑھی میں نے نیکی کری وہ تکبر اُسکے دل کے اوپر دھبہ لگاتا ہے۔ اب تکبر کو بھی ٹالنے کیلے علم باطن ہے اب اُسکے پاس علم باطن نہیں ہے۔ جب تکبر سینے میں آتا ہے تو وہ جو اندر اﷲ اللہ ہوتی ہے اُس تکبر کو جلاتی ہے اب اُسکے اندر اللہ اللہ بھی نہیں ہے اُسکا سینہ خالی ہے۔ نیکیوں سے کتاب بھر گی اور تکبر سے دل سیاہ ہو گیا جب تکبر سے دل سیاہ ہو گا تو تکبر کے دوست بھی ہیں وہ بھی أس کے ساتھ لگ جاتے ہیں بغل ہے حسد ہے کینہ ہے یہ چیزیں بھی اُس کے سینے میں اگھٹی ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالی کبھی بھی اپنی مخلوق کو دیکھتا ہے وہ فا ئلوں کو نہیں دیکھتا اس میں کیا لکھا ہوا ہے وہ دلوں کو دیکھتا ہے۔ جب اُسے دیکھا کہ تکبر سے بھرا پایا اللہ تعالی اُس سے بیزار ہو گیا۔ جب بیزار ہو گیا تو فائل نیچےلکھی رہ گئ۔

جب اللہ تعالی کسی سے بیزار ہو جاتا ہے تو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم اُسکو اُمت سے خارج کر دیتے ہیں اُسکو خوارج کہتے ہیں۔

اور وہ گناہ گار کیسے پہنچ گیا۔ گناہ گار نے گناہ کیا فائل پہ لکھا گیا اور اُسکے گناہ کا ایک دھبہ اُسکے دل پر لگا دیا۔ کیا ہوا اُسکی فائل بھی گناہوں سے بھر گئ اور اُسکا دل بھی گناہوں سے کالا ہو گیا۔ اُس نے دل کو صاف کرنے والا طریقہ سیکھ لیا۔

حدیث شریف میں ہے کہ ہر چیز کو صاف کرنے کے لیے کوئ نہ کوئ ہتھیار ہے دل کو صاف کرنے کے لیے ذکر اللہ ہے۔

اُس نے اللہ کا ذکر سیکھ لیا ہر وقت اللہ اللہ کرتا رہا، اللہ اللہ کرتا رہا اللہ اللہ کرنے سے اُسکا سینہ صاف ہو گیا چمک اُٹھا اللہ تعالی نے اُس کو بھی دیکھا اُسکے بھی دل کو دیکھا اور اُس پر مہربان ہو گیا اور اُس کی فا ئل لکھی کی نیچے رہ گئ۔ جب رب مہربان ہو گیا تو ساری نوری مخلوق بھی اُس کے أو پر مہربان ہو گئ۔

اور اللہ اللہ کرنے والوں میں ایک اور خاصیت پیدا ہو جاتی ہے بہت بڑا کنجوس ہو آپ اُسکو اللہ اللہ میں لگائیں وہ بہت بڑا سخی ہو جائے گا۔ جب اللہ تعالی بہت سخی ہے اور اُسکے نام میں بھی یہ صفت ہے۔

ایک دن عیسی علیہ اسلام نےشیطان سے پوچھا کہ تیرا بہترِین دوست کون ہے أس نے کہا کنجوس عابد کیا کہ وہ کیسے کہ اُسکی عبادت کو اُسکی کنجوسی رائیگاں کر دیتی ہے کہ تیرا سب سے زیادہ بڑا دشمن کون ہے اُس نے کہا گناہ گار سخی کہا وہ کیسے کہ اُسکی سخاوت اُسکے گناہوں کو جلا دیتی ہے وہ جو پہلا مقام ہے زبان والوں کا شریعیت والوں کا وہ مسلمانوں کا ہے شریعیت والے کبھی مو من بن ہی نہیں سکتے اپنے آپکو سمجھتے ہیں لیکن مومن نہیں بن سکتے۔ مومن کی تشریح کچھ اور ہے۔

اعراب نے کہا ہم ایمان لے آَئےَ اللہ تعالی نے فرمایا ان سے کہو نہیں کہ صرف اسلام لائےَ مومن تب بنوں گے جب نور تمہا رے دل میں داخل ہو گا۔

مومن کی تشریح جب أس کے دل میں نور داخل ہو گا۔ مسلمانوں میں فرقے ہیں 72 فرقے ہیں ایک دوسرے کو کافر منافق کہتے ہیں مومن کا تو کوئ فرقہ نہیں ہے۔ مومن تو سارے بھائ بھائ میں چشتی ہے وہ کبھی قادری کو کافر نہیں کہے گا۔ قادری کبھی نقشبندی کو کافر نہیں کہے گا نقشبندی سہروردی کو کافر نہیں کہے گا۔ وہ تو سارے بھائ بھائ ہیں مومن نہیں کہتا میں سُنی ہوں میں شیعہ ہوں میں وہابی ہوں۔ مومن کہتا کہ بس اُمتی ہوں تمہارا یا رسول اللہ بس اُمتی ہوں بس اور کچھ نہیں ہوں۔ یہاں تک اگر کوئ عام آدمی پہنچ جائےَ جس کی نس نس میں اللہ اللہ چلا جائےَ اُسکو نور کہتے ہیں کہ اب وہ نور ہو گیا لیکن اگر کوئ ساتھ عالم بھی ہے تو وہ یہاں تک پہنچ جائےَ اُسکو نور العلیٰ نور کہتے ہیں اور اُسی کے لیے حضور پاک نے فرمایا کہ میرے عالم بنی اسرائیل کے نبیوں کے مانند ہیں اور واقعی ہی ایسے عالم کی توہین دین اسلام کی توہین ہے اور جو عالم علم باطن کے بغیر جب علم باطن ہی نہیں ہے اُسکی جگہ تکبر ہے دوسری شےَ ہے تکبر ہے بغل ہے حسد ہے، حرص ہے۔

اُن کے لیے پھر حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا ہل عالم سے ڈرو اور بچو اصحابہ نے پوچھا عالم بھی اور جاہل بھی کہا کہ جسکی زبان عالم اور دل سیاہ یعنی جاہل ہو وہ کہیں بھی فتنہ کھڑا ہوتا ہے۔ عالم حق جا کے فتنہ مٹاتے ہیں۔ اور یہ روز ایک فتنہ کھڑا کر دیتے ہیں یہ جو عالم سو ہیں روز ایک نیا فتنہ کھڑا کر دیتے ہیں۔

وہ جو پہلا مقام مسلمان کا تھا پھر یہ مومن اور عالم باعمل کا ہے۔ پھر آگے تیسرا مقام پھر ولیّ کا ہے اب ولا یت کیا ہے؟ ہر وقت دل اللہ اللہ کرتا رہے نس نس میں اللہ ہوتا رہے ہر بال اللہ اللہ کرتا ہے وہ ولیّ نہیں ہے وہ مومن ہے۔ اُسکو ولیّ نہیں کہہ سکتے أسکو مومن کہتے ہیں وہ زکوریت میں ہے۔

ولیّ زکوریت میں نہیں ہے ولیّ تو دیدار میں۔

ولایت کیا ہے؟ جو بھی بچہ اس دنیا میں آیا خواہ کافر کا خواہ ہندو کا وہ ولایت کا راز لے کر آیا کہ کیا خبر کب مسلمان ہو جائےَ اور وہ راز سیکھ لے جو ولیّوں کا راز ہے اور یہ بھی ولیّ بن جائےَ۔ تا ریخ گواہ ہے کہ کافروں کے بچے بھی مسلمان ہو کے ولیّ بنے۔ شکرنج میں سندھ میں ایک شکرنج جگہ ہے وہاں

ایک ہندوَ کا بچہ تھا جسکی تین سال عمر تھی ایک آنکھ میں خانہ کعبہ تھا اور ایک آنکھ میں اللہ لکھا ہوا تھا۔

آپ نے دیکھا ہو گا خواب میں یہاں سوتے ہیں دوسرے شہر میں گھومتے ہیں وہ آپ تو نہیں ہوتے لیکن آپ کے اندر کی کوئ چیز ہوتی ہے۔ وہ آپکے اندر کی ایک مخلوق ہے۔ وہ لطیفہ نفس ہے شیطانی محفلوں میں گھومتا ہے وہ آزاد ہے۔ آپکے جسم میں سات اور مخلوقیں ہیں وہ نسوں کے اندر ہیں چمٹی ہوئ ہیں سوئ ہوئ ہیں اُن کو غذا کی ضرورت ہے۔ جب اللہ اللہ کا نور نسوں میں جاتا ہے تو پھر وہ جاگ اٹھتیں ہیں۔

جب وہ جاگ اٹھتیں ہیں تو تین سال کے بعد وہ خود بخود اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتی ہیں۔

جب اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ اُن میں پھر خواب میں بھی نکلنے کی طا قت ہو جاتی ہے۔ اُس وقت خواب میں تم دیکھتے ہو کہ حضور پاک کے روضے کے گرد منڈ لا رہے ہیں۔ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں۔ ولیوّں کے درباروں کی طرف تمہارہ رخ ہو گیا ہے۔ وہ جو مخلوقیں نور سے جاگ اٹھی۔ بارہ سال لگتے ہیں اُن کی غذا اللہ کا نور ہے۔ اللہ کے نور سے اُن کی پرورش ہو رہی ہے۔ بارہ سال میں وہ بالغ ہو جاتیں ہیں۔ جب بالغ ہو جاتی ہیں اُس وقت تم نے سوچا وہ تمہا ری سوچ کی محتاج ہو جاتی ہیں۔ تم نے سوچا دیکھیں حضور پاک کیا کر رہے ہیں تم نے سوچا وہ اس سینے سے نکل کر حضور پاک کے قدموں میں۔

اُس وقت بلھے شاہ فرماتے ہیں لوکی پنج ویلے تے عاشق ہر ویلے لوکی مسیتی عاشق قدماں

جو لوگ پانچ وقت رب کی یاد کرتے ہیں۔ نماز بھی رب کی یاد ہے۔ أن کی انتہا نماز مسجد ہے باجماعت ہو جائیں گے اور کیا کریں گے۔ اور جو لوگ حضور پاک کے قدموں میں پہنچ جاتے ہیں قدموں میں پہنچ  گئے نوازے تو گئے۔ اب تم نے سوچا اوپر جانے کا تم نے سوچا یہ مخلوق اوپر پرواز کر گئ فرشتوں نے روکا نہیں روکی۔ فرشتوں کہنے لگے چلو جو کچھ بھی ہے۔ بیت المعمور سے آگے جل جائےَ گا۔ وہاں تو فرشتے بھی نہیں جا سکتے۔

یہ بیت المعمور سے بھی آگے چلی گئ وہاں پہنچ گئ جہاں رب کی ذات ہے

ظاہری جسم سے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے اور ان مخلوقوں سے ولیّ وہاں پہنچتے ہیں۔

اُس وقت فرشتوں نے کہا کہ واقعی ہی انسان اشرف المخلوقات ہے۔

اُس وقت کہا اس وقت نہیں۔ جب وہاں پہنچ گیا اُس وقت کہا۔ اسکے بعد کیا ہوا کہ تم مر گےَ۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد روحیں آسمانون میں چلی جاتی ہیں۔ کھبی سوچا ہے کہ ولیوّں کی روحیں بھی آسمانوں پہ چلیں گئ۔ تو پھر درباروں میں کیا ہے ولیّ کی روح بھی آسمان میں چلی گئ۔ یہ جو اضافی مخلوقیں تھی جو ولیّ بن کے درباروں میں بیٹھ گیئں۔ نماز پڑھتیں ذکر کرتیں اور لوگوں کو فیص پہنچاتیں اور قیامت تک اِن کا ثواب اِس کی روح کو ملتا رہے گا۔
شب معراج میں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم , موسیٰ علیہ اسلام کی قبر سے گزرےَ دیکھا موسیٰ علیہ اسلام صبح کی نماز پڑھ رہے ہیں۔ اوپر وہاں پہنچے دیکھا موسیٰ علیہ اسلام وہاں بھی موجود ہیں۔ مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو فلاں دن خانہ کعبہ میں دیکھا فرمانے لگے میں نہیں گیا دوسرے نے کہا کہ اُسی دن حضور پاک کے روضے پے دیکھا فرمانے لگے میں نہیں گیا۔ تیسرے نے کہا کہ اُسی دن غوث پاک روضے پے دیکھا فرمانے لگے میں نہیں گیا لوگوں نے کہا کہ پھر کہا تھا فرمانے لگے میرا اندر تھا۔ جتنے بھی یہاں بیٹھے ہوے ہیں سب کے اندر وہ مخلوقیں موجود ہیں۔

اگر تم اُن میں سے ایک بھی مخلوق جگا لو تو تم مرکے بھی زندہ ہو۔ اگر ایک بھی مخلوق کو جگا لو تو تم مرکے بھی زندہ ہو۔ اگر تم نے اُن کو چھوڑ ہی دیا اُن کو پتہ ہی نہیں اُن کی غذا کیا ہے۔ وہ چالیس سال کے بعد مرنا شروع ہو جاتیں ہیں۔ پھر ہو سکتا ہے وہ تمہاری زندگی ہی میں ختم ہو جایئں۔ تو پھر تم زندہ ہی مردہ ہو۔

غوث پاک کی ایک وقت میں نو آدمیوں نے دعوت پکائ نو کے گھر جا کر کھانا کھایا۔ کچھ لوگ اس بات کو مانتے نہیں ہیں کہ کیسے جا سکتا ہے ایک آدمی نو جگہ۔ جو اُن کو چاہنے والے ہیں وہ کہتے کہ واقعی ہی نو کے گھر گئے لیکن اُن کو بھی نہیں پتہ کیسے گئے۔ غوث پاک کا جسم مبارک مسجد میں مَوذن کے پاس تھا وہ جسم کے اندر کی چیزیں أدھر جا کر کھانا کھا رہی تھیں۔ اگر اُنھوں نے کھانا کھایا ہو گا اُٹھیں بھی ہو گئیں بیٹھیں بھی ہو گئیں اور باتیں بھی کری ہو گئیں اور جس میں اٹھنے، بیٹھنے اور باتوں کی طاقت ہے تو نماز بھی یہ ہی کچھ ہے ہو سکتا ہے اُن کی نماز خانہ کعبہ میں ہوتی ہو۔ وہ جو کہتے ہیں کہ درویش کی نماز عرش مُعلی میں ہوتی ہے لوگ سوچتے ہیں عرش مُعلی میں کیسے جاتا ہے یقیناَ جاتا ہے یہ جسم نہیں جاتا وہ جسم کے اندر کی چیزیں جاتی ہیں نا۔ ثواب أس کا کس کو ملے گا جس کی ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں سب کو پتہ ہے 98 نام صفاتی ہیں

صفاتی نام سے آپ رب تک نہیں پہنچ سکتے۔

آپ "یا کریم" کا ذکر کریں گےَ تو اُس کے کرم تک پہنچیں گےَ۔ "یا رحیم" سے اُسکے رحم تک پہنچیں گےَ اُس کی ذات تک نہیں پہنچ سکتے۔ اُسکی ذات تک پہنچنے کے لیے ذاتی ذکر ہے اسم ذات کا ذکر ہے۔ 

ایک دن موسیٰ علیہ اسلام نے اللہ تعالیٰ کو فرمایا اے اللہ مجھے دیدار دے جواب آیا تاب نہیں ہے۔ سوچنے لگے کسی میں تاب ہو گی جواب آیا ایک میرا حبیب اور اُسکی اُمت موسیٰ علیہ اسلام کو جلال آ گیا کہ میں ایک نبی ہو کے ایک امتی کے برابر نہیں جلوہ دے دیکھی جائےَ گی۔ جلوہ پڑا موسیٰ علیہ اسلام بے ہوش ہو گئے۔

اب کیا وجہ ہے کہ موسی علیہ السلام اس دنیا میں کوہ طور پر بے ہوش ہوئے۔ اورحضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سامنے جا کے مسکرا رہے ہیں۔ کچھ تو بات ہو گی موسی علیہ السلام کے جسم میں یا رحمان کا صفاتی نور تھا وہ ذات کی تاب نہ لا سکا۔ اور حضور پاک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے جسم میں اسم ذات کا ذاتی نور تھا۔ ذات ذات کے سامنے مُسکرایا اور حضور پاک کے طفیل یہ اِسم اِس اُمت کو ملا تب اِسکو فضیلت ہوئی۔ اور أمت اس ڈرتی ہے اور محروم ہے۔

سارے نبی اِسم ذات کو ترستے رہے اِسم ذات کسی کو نہیں ملا ۔ موسی علیہ السلام"یا رحمان" کا ذکر کرتے، عیسی علیہ السلام"یا قدوس" کا، سلیمان علیہ السلام"یا وہاب" کا ، داؤد علیہ السلام "یا ودؤدؤ" کا۔ باقی نبی اپنے اُولولعزم مُرشد کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ أن کو اپنی زندگی میں کسی نبی کو بھی دیدار نہیں ہوا لیکن اِس اُمت کے ولی کہتے ہیں کہ ہم دیدار کرتے ہیں ۔اب جس چیز سے تم افضل تھے أس نے اِن کو چھوڑ دیا۔

فضایہ فوج میں سب سے زیادہ افضل ہے۔ اِس وجہ سے کہ وہ جہاز سے لڑتی ہے۔
اگر أس سے جہاز چھین لو تو وہ بندوق والا أس سے بہتر ہے۔ 

جب اِس أمت سے افضل چیز چھین گئی تو یہ أمت بہتر، تہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئی۔ یہ أمت غلام ہو گئی جب اِس کا سینہ خالی ہو گیا ۔ باہر سے نمازیں أتاریں گییں اندر سے سینہ خالی تھا۔ تو یہ أمت پھر سیاست میں چلی گئی۔ لوگ کہتے ہیں کہ دین میں سیاست ہے۔ ہم کہتے ہیں کی سیاست کا دین سے کیا تعلق ہے۔ بڑی تشریح کرتے ہیں کہ نہیں دین سے تعلق ہے۔ کہتے ہیں حضور پاک نے بھی تو سیاست کری ہے ہم کہتے ہیں کہ حضور پاک نے سیاست کی تھی۔ وہ ایک سوچ تھی ایک سمجھ تھی۔ أن کی سیاست نے مُسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچایا۔ اگر نقصان ہوا ہو گا تو مُشرکوں کا ہوا ہو گا، کفار کا ہوا ہو گا۔ اور اِن کی سیاست تو مُسلمانوں کو برباد کر رہی ہے۔ مُسلمانوں میں خون خرابہ ہو رہا ہے۔ تو یہ تیری کیا سیاست ہے۔

ایک حدیث شریف میں ہے "لاصلوۃ الا باحضور القلب" دل کی حاضری کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ لوگ کہتے ہیں ہم دل سے نماز پڑھتے ہیں سردی میں بھی، گرمی میں بھی مسجد میں جاتے ہیں دل سے نہیں پڑھتے تو کیا کرتے ہیں ۔ یہی غلط فہمی ہے بہت بڑی غلط فہمی ہے۔

بُلھے شاہ فرماتے ہیں کہ ''اِک  نقطے وچ گل مکدی اے"
اگر یہ نقطہ سمجھ میں آٓ جائے۔ مُسلمان کی نماز کچھ اور، مُومن کی نماز کچھ اور، ولی کی نماز کچھ اور۔ 

آپ نے دیکھا ہوگا کہ آپ کا کوئی دوست یا ہمسایہ بیس، پچیس سال آپ کے ساتھ نمازیں پڑھتا رہا ایک دن پتہ چلا کہ وہ غیر مقلد ہوگیا ہے۔ اگر اُسکا ایک سجدہ بھی قبول ہوتا تو غیر مقلد کیوں ہوتا۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر ایک سجدہ بھی ساری زندگی میں قبول ہوجائے۔ توپھر بھی کوشش کی أمید ہے کہ وہ غیر مُتعلق کیوں ہو وہ بھی دل کی حاضری کے بغیر نمازیں پڑھتا تھا۔ تمھاری طرح تھا درباروں کو مانتا، تمھاری طرح نمازیں پڑھتا۔ غیر مُتعلق ہوگیا۔ اگر وہ بیس، پچیس سال کے بعد ہوا تو تم بھی تو تیس، چالیس سال کے بعد ہو سکتے ہو۔ تمھاری طرح تھا نا۔

اب وہ نماز لاصلوۃ الا باحضور القلب کیا ہے؟ ایک نماز صورت ہے، ایک نماز حقیقت ہے، ایک نماز عشق ہے۔ نماز صورت تو ہر کوئ پڑھ سکتا ہےوہ بھی نماز صورت پڑھتا رہا۔ بہتر، تہتر فرقے والے بھی نماز صورت پڑھتے ہیں۔ سکھ جاسوس بھی نماز صورت پڑھ کے، پڑھا کے چلے گئے۔ ریکارڈ ہے۔ سکھ جاسوس بھی پکڑے گئے۔ جس نماز کو سکھ جاسوس بھی پڑھ لیتا ہے۔ أس نماز کا کیا یقین ہے؟ اﷲ تعالی نے حضور پاک کو فرمایا "قل ھو اللہ احد" کہہ دییجئے اللہ ایک ہے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے امین کہا ۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کہا کہہ دو اللہ ایک ہے۔ جس نے آمین کہا وہ مسلمان ہوا جس نے نہیں مانا وہ کافر رہا اور جس نے حیل وحجت کی وہ منافق۔ اب جب تم نماز پڑھتے ہو تم کس کو کہتے ہو کہہ دے اللہ ایک ہے۔ تم تو جانتے ہو اللہ ایک ہے۔ گھڑی گھڑی کس کو کہتے ہو اللہ ایک ہے۔ کہہ دے اللہ ایک ہے۔ تم اپنے دل کو کہتے ہو کہہ دے اللہ ایک ہے۔ ایک بچے سے بھی پوچھو اگر کسی کی زبان میں کچھ ہو، دل میں کچھ ہو۔ أسکو کیا کہتے ہیں ،کہیں گے أس کو مُنافق کہتے ہیں۔

اب تم اپنے دل کو کہتے ہو کہہ دے اللہ ایک ہے۔ وہ جواب دیتا ہے گھر میں آٹا ہی نہیں ہے مُنافق کرتا ہے مانتا ہی نہیں ہے، پھر کہتے ہو اللہ الصمد اللہ بے نیاز ہے دل کہتا ہے بیوی بیمار ہے ۔ پھر کہتے ہو لم یلد ولم یولد دل کہتا ہے ڈیوٹی سے لیٹ ہوگیا ہے چل۔ أس نے تسلیم ہی نہیں کیا ۔ کافروں کی زبان اقرار نہیں کرتی، منافقوں کے دل تصدیق نہیں کرتے اور فاسقوں کے جسم عمل نہیں کرتے بتاؤ تمھارا دل تو منافق تھا۔ اور مُنافق دل کی نماز کیسے جائے گی۔أس نماز کو نماز صورت کہتے ہیں۔ ساری عمر پڑھتا رہ کوئ اعتبار نہیں ہے۔

اور ایسی نماز کے لیے قرآن مجید فرماتا ہے أن نمازیوں کے لیے تباہی ہے جو نماز حقیقت سے بے خبر ہیں۔ أن کی نماز دکھوا ہے۔ 

دکھوا کیسے ہے۔ لوگ دیکھ رہے ہیں۔ بڑے خشوع و خضوع سے نماز پڑھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نہ عمل کو دیکھتا ہوں، نہ شکل کو نہ تیری داڑھی کو دیکھتا ہوں، نہ تیرے سجدے کو۔ میں تیرے قلب اور نیت کو دیکھتا ہوں۔ جس کو دنیا دیکھتی ہے۔ أس میں وہ اٹینشن کھڑا ہے۔ اور جس کو اللہ دیکھتا ہے۔ أس میں شیطانی خیال، مال، بچے بیوی کہو یہ نماز دکھوا ہے خواہ ساری عمر ہی کیوں نہ پڑھتا رہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے تباہی بھی ہے، تباہی کیسے ہے۔ نماز بھی پڑھتا ہے اور تباہی کی طرف بھی چلا گیا۔ نماز پڑھی تکبر آیا نا تو دوسرے نے کہا کہ پانچ وقت کا نمازی ہے تھوڑا اور تکبر آیا۔ تیسرے نے کہا تہجد بھی پڑھتا ہے اور تکبر آیا۔ 

اور ایک دن بے نمازی کو دیکھا بڑی حقارت سے دیکھا کہ میں تجھ سے بہتر ہوں.
یہ نہیں پتہ کہ تکبر عزرازیل را خوار کرد، نمازیں وہ بھی پڑھتا تھا۔

اگر أس کو خوار کیا تو تکبر نے کیا۔ جب تکبر کی انتہا ہو گئی۔ سوچنے لگا اِس دُنیا میں میرے جیسا کوئ نہیں ہے۔ میں بہت بڑا تہجد گُزار ہوں، بڑا نمازی ہوں۔ میرے جیسا کوئ نہیں ہے۔ سوچنے لگا اور کون ہے حضور پاک کے لیے لوگ کہتے۔ چلو ساری سُنتیں اپناؤ۔ أس نےساری سُنتیں اپنا لیں، جب ساری سُنتیں اپنا لیں پھر کہنے لگا۔ کہ اب مجھ میں اور حضور پاک میں کیا فرق رہا۔ وہ بھی میرے بڑے بھائ کی طرح ہیں۔ جب یہاں تک پہنچا أسکا ایمان ہی چلا گیا۔ وہ ہے نا کہ تباہی ہے۔ أسکی تباہی کی طرف وہ نماز لے گی۔

أدھر نماز حقیقت اب وہ کیا ہے؟ جو مومن کا معراج ہے۔ یہ نماز تباہی بن گی، اور وہ نماز معراج بن گی۔ یہ ہی رکوع، سجود ہیں، یہ ہی نماز ہے۔ بات اتنی سی ہے کہ أس کے ساتھ دل ہے۔ أس کے لیے تمھیں سب سے پہلے اللہ اللہ سیکھنا ہو گا۔ دل کی ڈھرکنوں کو اللہ اللہ میں لگانا ہو گا۔ پھر تم کوشش کرو گے کام کاج کرتا رہوں اللہ اللہ ہوتی رہے اسکو بولتے ہیں دست کار میں دل یار میں۔ پھر کوشش کرو گے کوئ اخبار رسالہ پڑھتا رہوں اللہ اللہ ہوتی رہے۔ اِس میں بھی کامیابی ہوجائے گی پھر کوشش کرو گے کہ نماز پڑھتا رہوں اوراللہ اللہ ہوتی رہے۔

اس وقت زبان کہے گی کہہ دے اللہ ایک ہے دل کہے گا اللہ اللہ۔ "اللہ الصمد" دل کہے گا اللہ اللہ۔ "لم یلد ولم یولد" دل کہے گا اللہ اللہ۔ زبان اقرار کر رہی ہے دل تصدیق کر رہا ہے اور جسم عمل کر رہا ہے۔ زبان ذکر مفصل میں ہے اور دل ذکر مجمل میں ہے۔ زبان دلیل سے منوا رہا ہے کہ کہہ دے اللہ ایک ہے اور دل بغیر دلیل کے مان رہا ہے کہ اللہ ہی اللہ۔ زبان کا تصرف ہے کہ وہ امریکہ سے بولتے ہو یہاں سنتا ہو۔ یہ زبان کا تصرف ہے اور دل کا تصرف ہے یہاں گونجتا ہے عرش معلیٰ والے سنتے ہیں ، وہاں امریکہ سے بولتے ہیں یہاں سنتے ہو۔ اور دل یہاں گونجتا ہے اور عرش معلیٰ والے سنتے ہیں۔ تمھاری اس نماز کو یہ دل عرش معلیٰ میں پہنچا ئے گا وہ نما ز مومن کا معراج ہے۔ اِسکے بعد مومن کی آواز یہاں سے چلی گی۔

اب ولی کا کیا مقام ہے؟ مومن وہاں خود نہیں پہنچا۔ لیکن أس کی آواز عرش معلیٰ میں چلی گی أس کی نماز وہاں چلی گی۔ ایک دفعہ مجدد الف ثانی رحمتہ علیہ مسجد میں گئے دیکھا ایک آدمی سو رہا ہے۔ سوچا شاہد نماز پڑھ کے سویا ہو گا۔ پھر ظہر کو گئے پھر دیکھا سو رہا، سوچا نماز پڑھ کے سویا ہو گا آپ عصر سے مغرب تک مسجد میں رہتے۔ ۔مغرب کی ازان ہو رہی ہے وہ سو رہا ہے ۔آپ کافی برہم ہوے جھنجھوڑا اٹھ یا مسجد سے نکل جا یا نماز پڑھ ۔وہ فوراً اٹھا وضو کیا جماعت کھڑی ہونے والی تھی۔ بلند آواز میں کہا امام صاحب ٹھہر جائیں ۔ امام صاحب ٹھہر گئے ۔أس نے نیتی دورکعت نمازسُنت وقت فجر دیکھتے ہیں کہ فجر کا سماں ہو گیا ہے۔ پھر اُس نے ظہر کی نماز پڑھی ظہر کا سماں ہو گیا۔ پھر أس نے عصر کی نماز پڑھی عصر۔ایک راوی نے لکھتا ہے کہ سورج واپس آ گیا۔ اُس وقت اُس نے کہا مجدد صاحب آپ تو صاحبِ نظر تھے۔ بہتر تھا مجھے جگانے سے پہلے میرا حال دیکھتے میں تو اُسی کے پاس تھا جسکی تم نمازیں پڑھتے ہو۔

أسی کے لیے پھر بُلھے شاہ نے فرمایا ہے۔ اساں عشق نماز جدوں نیتی اے  بھُل گئے مندر مسیتی اے۔

اب لوگ کہتے ہیں اﷲ تعالی عبادت سے ملتا ہے۔ جب کسی کو رب کی طلب ہوتی ہے توعبادت کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ بالکل غلط ہے رب عبادت سے نہیں ملتا۔ عبادت سے کوئ دیکھائے اگر عبادت سے ملتا تو سب عابدوں کو ملتا۔ رب دل سے ملتا ہے. عبادت دل کو صاف کرنے کا ذریعہ ہے۔ اگر عبادت سے آپ دل نہیں دھو نہیں سکتے تو رب کو پا نہیں سکتے۔ عبادت کا کیا مطلب ہے؟ دل کی صفائ ہو جائے ، نفس کی پاکیزگی ہو جائے دل کی صفائ کیسے ہو گی۔ اللہ اللہ سے دل کی صفائ شروع ہو جائے گی۔ أسکے لیے "الم" ہے۔ اب وہ نفس کی پاکیزگی کیسے شروع ہو جاے گی۔ أس کے لیے روزے رکھتے ہیں،أس کے لیے روزے رکھتے ہیں۔ ہندؤں کو بھی دیکھا ہے ایک فرقہ ہے وہ بھی روزے رکھتے ہیں۔ تین دن روزے رکھتا ہے۔ اور آگ کے پاس بیٹھتا ہے کیوں، کہ میں کھاؤ پیو نہیں أس نار کا اثر میرے اندر جائے۔ مسمانوں کے روزے کچھ اور طریقے سے ہیں۔ ایک دن کا روزہ ہے۔ نماز تو أس کے لیے فرض ہی فرض ہے۔

أس کے لیے یہ حکم ہے کہ جب تو روزہ رکھے تو ہر وقت ذکر اللہ میں رہے۔ پیٹ خالی ہو اللہ کا نور أس کی نسوں میں جائے۔ جب اللہ کا نور أس کی نسوں میں جائے گا۔ تو وہ جو نفس کتا ہے أسکا تعلق اِن نسوں سے ہی ہے۔ أسکو غذا یا سانس سے ملتی ہے یا روٹی سے ملتی ہے۔ جب اللہ اللہ کرنے سے أسکی پانچوں مخلوقیں جو سینے میں ہیں سنٹر میں ہیں۔ وہ اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ تو أس کو غذا جانا بند ہو جاتی ہے۔ أسکی شکل کتے کی طرح ہے۔

ایک حدیث شریف میں ہے کہ جس گھر میں کتا ہو وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ 

اب لوگ کہتے ہیں کہ کتا اللہ نے بنایا کیوں ہے۔ بھئی کتا بنایا کیوں ہے وہ، وہ کتا نہیں وہ اِس کتے کے لیے حدیث ہے۔ وہ کتا تو بہشت میں بنا آدم علیہ السلام کی رکھوالی کرتا رہا اورآج تک تمھاری رکھوالی کر رہا ہے۔ وہ گھر میں تو رہے گا رکھوالی کے لیے کیا گلی کے کونے پر بندھ دو گے۔ وہ اِس کتے کے لیے ہے یہ جو تمھارے اندر کتا ہے۔

جس شخص کے اندر یہ کتا ہے۔ وہ نفس عمارہ ہے اور وہ ناپاک ہے وہ کتا ناپاک ہوتا ہے۔

حدیث شریف میں ہے کہ کچھ لوگ قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن أن کے أوپر لعنت کرتا ہے۔

وہ جن کے اندر کتے ہیں جب قرآن پڑھتے ہیں قرآن أنکے أوپر لعنت کرتا ہے۔ اور أسی کے لیے مجدد الف ثانی رحمتہ اﷲ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید ہر آدمی کے پڑھنے کے قابل نہیں مقتدی کو چاہیے کہ پہلے ذکر اﷲ کرے اپنے نفس کو پاک کرے۔ جب نفس پاک ہو جائے۔ نفس صحیح ہو جائے پھر قرآن مجید پڑھے۔ پھر قرآن مجید أس کے اندر أترے گا۔

جب وہ اﷲ اﷲ کرنے سے أس کی غذا بند ہو جائے گی۔ اُس کو بھوک لگے گی وہ مخلوق ہےاپنے ہمسیاؤں کو بولے گا کچھ غذا دو وہ أسکو نور کا لقمہ دیں گے۔ دوسرے دن پھر وہ غذا مانگے گا نور کی پھر وہ لقمہ دیں گے۔ یہاں جو نفس نور کی غذا نہیں لیتے مر جاتے ہیں کوئی نفس نور کی غذا لیتے ہیں زندہ رہنے کے لیے۔ تیسرے دن وہ کہیں گی وہ مخلوقیں کہ اب تو خود ذکر کر کلمہ شریف کا ذکر کر وہی تیری غذا بن جائے گی نور کی۔

پھر وہ صرف زندہ رہنے کے لیے کلمہ پڑھنا شروع کر دے گا جب کلمہ پڑھنا شروع کر دے گا۔ وہ کالا کُتا تھا کلمے کے اثر سے أسکی شکل سفید کتے کی طرح ہو جائے گی، پھر کلمہ پڑھتا رہے گا صرف زندہ رہنے کےلیے کلمے کے اثر سے پھر اُسکی شکل بیل کی طرح ہو جائے گی۔ پھر وہ کلمہ پڑھتا رہے گا کلمے کے اثر سے اُسکی شکل بکرے کی طرح ہو جائے گی۔ پھر کلمہ پڑھتا رہے گا پھر اُسکی شکل أسی انسان کی طرح ہو جائے گی۔

جب أس انسان کی طرح کی شکل ہو جائے گی۔ بیٹھ کر ذکر کرے گا ساتھ وہ بھی بیٹھ کے ذکر کرے گا ۔ جب وہ نماز پڑھیں گے ساتھ وہ بھی نماز پڑھے گا۔ پھر اُسکو پکڑ کر حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محفل میں لے جائیں گے۔ پھر حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور حاضرین عش عش کر اُٹھیں گے۔ کہ آفرین ہے اِس کے اوپر اور اِسکے مُرشد کے اوپر جس نے کتے کو انسان بنا کے وہاں لایا۔ أس وقت أس کو مرتبہ اِرشاد ہو جاے گا۔ کوئی نا کوئی أسکومرتبہ دے دیا جاے گا۔ عبادت سے یہ کام ہوتا ہے۔ نفس کی پاکیزگی ہوتی ہے۔ نفس کی وجہ سے أدھر أسکی رسائی ہو جاتی ہےاور جب قلب میں اﷲ کا نور آ جاتا ہے، قلب میں جب اﷲ کا نور آ جاتا ہے۔

جسطرح لوہے کو لوہے سے نسبت ہے۔ وہ مضبوط لوہا وہ مقناطیس کو دور سے کھینچ لیتا أسکو نسبت ہے۔ اِسی طرح نور کو سے نور کو نسبت ہے۔ اِس دل میں ذرا سا بھی نور آ جاےَ وہ نور کا گولہ اُس نور کو کھینچ لے گا۔ اور انسان کی رب سے نسبت ہو جاتی ہے۔

عبادت کا یہ مقصد ہے روزوَں کا یہ مقصد ہے اگر عبادت اور روزوَں سے نفس کو پاک نہیں کر سکے قلب کو صاف نہیں کر سکتے تو پھر ایک انگریز نے کھلے عام ایک ایک سوال کیا تھا اُس نے کہا تھا کہ میں آج مسلمان ہو جاوَں نمازیں بھی پڑھو گا شرابیں بھی چھوڑو گا سب کچھ کروَ گا لیکن ایک بات تم مجھے سمجھا دو کہ وہ کیا کہ تمھارے علماء کہتے ہیں پتہ پھر بھی نہیں کہ تم جنتی ہے کہ دوزخی ہے گھر بار چھوڑوں سب کچھ چھوڑوں مذہب بھی چھوڑوں پھر بھی تم کہتے ہو پتہ نہیں کہ جنتی ہے یا دوزخی ہے وہ کہتا ہے تمھارے مذہب میں گارنٹی نہیں ہے اُس نے کہا جو سند کمزور ہے وہ سند کار أسکی گارنٹی نہیں دیتا ورنہ سارے سند کار گارنٹی دیتیں ہیں تم لوگ گارنٹی نہیں دیتے ہو تم اپنی بھی گارنٹی نہیں دیتے ہو ہماری گارنٹی کیا دو گےَ اور یقین کروَ اگر وہ راز مِل جاےَ تو مذہب اسلام گارنٹی ہی گارنٹی ہے۔

مہینوں کی بات نہیں سالوں کی بات نہیں پانچ ، سات دن میں ہی پتہ چل جاتا ہے کہ تم کیا ہو 
صرف پانچ سات دن میں تجربہ کریں اُس کو پتہ چل جائےَ گا کہ میں کیا ہوں۔ 

جب کسی کو یہ ذکر دیا جاتا ہے جسکو تم لوگ بھول چُکے ہو اُس کی حلیئے کو فرشتے بیت المعمور میں لے جاتے ہیں۔ بیت المعمور کی مخلوق سے اللہ خود کلام کرتا ہے۔ دکھتا نہیں دور ہے کلام کرتا ہے أن سے۔ پوچھتا ہے اِسکو کون لے آیا جہاں سے وہ ذکر عطاء ہوا تھا میں لایا کیوں لایا اے اللہ تیرا دوست بنانے کیلےَ اب اُس کی مرضی اگر اُسکی مرضی نہیں ہے تو کہے گا مجھے یہ دوست نہیں چاہیے۔ پھر آپ ہزار قادریوں کے پا س جایَں بے کار اگر اُسکا ارادہ ہوا کہ میں اس کو دوست بناوَں تو پھر پوچھے گا اچھا اِسکا ضامن کون ہے۔ دوست تو میں بنا لوں دوست کو آزمایا جاتا ہے تو یہ بھاگ ہی جائےَ اِسکا ضامن کون ہے اُس وقت پھر غوث پاک فرماتے ہیں کہ میں اسے تب سے جانتا ہوں میرے نام سے جیتا مرتا ہے پھر وہ اِس کی ضمانت دیتے ہیں اچھا اب گواہی کون دے گا پھر وہ جن دو ولیوں کے درباروں پہ جاتا تھا وہ گواہی دیتے ہیں پکا سُنی ہے ہم اِسکو جانتے ہیں اچھا اب اسکی تصدیق کون کرے گا پھر حضور پاک اِس کی تصدیق کرتے ہیں۔ جب تصدیق کرتے ہیں وہ کہتا تھا کہ میں رات کو سو رہا تھا میرے اندر سے اللہ اللہ شروع ہو گئیَ۔ تصدیق تو ہو گئی پانچ سات دن میں یہ کام ہو جاتا ہے۔ پانچ سات دن میں تصدیق ہو جاتی ہے۔ مہینوں کی بات نہیں پانچ سات دن میں پتہ چل جاتا ہے اور جسکی تصدیق نہیں ہوئ اللہ نے اُسکو قبول ہی نہیں کیا اور واقعی ہی اُسکی گارنٹی ہی نہیں ہے۔

جب کوئ شخص ہر وقت اللہ اللہ کرتا رہتا ہے۔ کسی کے دل پہ اللہ درج ہو جاتا ہے۔

قرآن مجید فرماتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنکے دلوں پہ ایمان لکھ دیا گیا۔

خواجہ بہاوَالدین نقشبندی رحمتہ اللہ لوگوں کے دلوں پہ لفظ اللہ لکھ دیتے تھے لوگوں کو نظر آتا کسی کو خواب میں کسی کو کیسے تب اُن کو نقشبندی بولتے ہیں

اور کوئ ہر وقت اللہ اللہ کرتا رہتا ہے حضور پاک کا روضہ مبارک اُسکے دل پر درج ہو جاتا ہے۔ پھر وہ کہیں بھی ہے مدینے میں ہی ہے وہ جو کہتے ہیں کہ جو لوگ خانہ کعبہ میں نماز پڑھتے ہیں اُنکو سّوالاکھ کا درجہ ۔

جو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے روضے مبارک میں پڑھتے ہیں پچاس کا درجہ وہ اُن کیلے نہیں ہیں وہ جنکے اندر بس گیا ہے خانہ کعبہ اور حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا روضہ مبارک اُن لوگوں کو درجے ملتے ہیں ہے۔ وہاں جا کر پتہ بھی نہیں چلتا ہے کہ حج قبول ہوا یا نہیں ہوا۔ بھائ اگر اتنا درجہ مِلے دو نمازوں کا ہی پتہ نہیں کتنا درجہ مِل رہا جائے جبکہ وہاں تو ثبوت ہی کوئ نہیں کہ پتہ نہیں کس کا حج قبول ہوا بھی یا نہیں اور یہ کسی کے دل پے جب مدینہ بس جائےَ خانہ کعبہ بس جائےَ تو پھر ثبوت ہی ثبوت ہے کہ اُسکو درجہ مِل ہی رہا ہے۔

ایک دفعہ باطنی مخلوق فرشتے وغیرہ جن وغیرہ مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کو سجدہ کرنے لگےَ۔ آپ بڑے گبھراےَ سجدہ تو انسان جائز ہی نہیں کہیں استدراج تو نہیں ہو گیا جواب آیا گبھراوَ نہیں یہ تمہیں سجدہ نہیں کر رہے وہ جو تمہارے اندر خانہ کعبہ بس گیا اُسکو سجدہ کر رہے ہیں۔ اور جب وہ خانہ کعبہ رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہ کے سینے میں بسا تو اُس کبعے کو حکم ہوا کہ جاوَ جا کر اُس کا طواف کر اوَ تیری بنیاد تو ابراہیم علیہ السلام نے رکھی اور اِسکی بنیاد میں نے رکھی ۔ شاہ منصور یہی کہتے کہتے سولی پے چڑھ گئےَ وہ کہتے تھے تو اُدھر کیوں جاتا ہے جبکہ تیرے اندر حج آسکتا ہے تو اُدھر کیوں جاتا ہے حج کو تو ادھر بُلا اِسی بات کے اوپر اُن کو سولی ہوگی تھی۔ اور اسی کے لیے کسی شاعر نے کہا

مسجد ٹاویں ،مندر ٹاویں ،ٹاویں جو کجھ ٹینڈا۔ اک بندے دا دل نہ ٹاویں رب دلاں وچ ریندا

انہی لوگوں کو کہا کہ جن کے دلوں میں خانہ کعبہ ہے یا اللہ ہے اُن ہی کے لیے کہا کہ رب اُن میں ہے لوگ اپنے لیے ہی سمجھ لیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ "حبل الورید" کہ میں تمہاری شہ رگ سے بھی نزدیک ہوں علامہ اقبال پے بھی اِسی بات پر فتویٰ لگا تھا وہ کہتے تھے کہ تو بھی تو ہر جائ ہے بھئی "حبل الورید" ہے  ہرجائ ہے ہر وقت ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں تو تو شریک ہے، تو پھر ہمارا حساب کتاب کیا ہو گا۔ جب أنھوں نے پھر جوب شکوہ دیا پھر أس کی تشریح کری کہ نہیں اﷲ أنہی کے اندر ہے۔ أنہی کے اندر موجود ہے جنھوں نے اﷲ کو اپنے اندر بسا لیا اور جنھوں نے اﷲ کو اپنے اندر بسا لیا ۔

حدیث شریف بندہ نوافل کے ذریعے میرا اتنا قرب حاصل کر لیتا ہے کہ میں اُس کے ہاتھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ پکڑتا ہے، اور میں اُسکی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے یہ درجہ اگر کسی نے پایا تو اسم ذات سے پایا
 

جو لوگ اِسم ذات کو چھوڑ گئے۔ ایک شخص تھا اللہ کی طلب ہوئ ورد وظائف میں لگا۔ ہر طرح کی عبادت کری۔ تین چار سال کے بعد اندر جھانکا دیکھا اندر سے تو خالی ہوں ویسا ہوں جیسا تھا۔ عبادت بھی کری سوچا رب کہیں مسجد میں ملتا ہے میں گھر لگا رہا مسجد میں چلا گیا تین چار سال وہاں گزارئےَ اندر دیکھا تو خالی سوچا شاید رب جنگلوں میں ملتا ہے جنگلوں میں چلا گیا اندر دیکھا تو خالی سوچا رب دریاوَں میں ملتا ہے دریاوَں میں پانی میں چلا گیا وہاں کئی سال گزارے ہر طرح کی عبادت کری لیکن رب کا نام و نشان ہی کہیں نہیں سوچنے لگا کہ رب شاید کوہ طور پے ملتا ہے موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور میں ملا تھا وہ کوہ طور پے چلا گیا کئ سال گزر گئے کوئ رب کا نام و نشان نہیں اُسکا مرنے کا وقت آ گیا اب وہ سوچنے لگا کہ رب پتہ نہیں کیسے مِلتا ہے ہر طرح کی عبادت کری روزےَ بھی رکھے دھکے بھی کھائےَ رب کا نام و نشان نہیں پتہ نہیں کیسے ملتا ہے آواز آئ اے نادان میں تیرے گھر میں موجود تھا وہ کہتا اے اللہ کس کونے میں تھا کہ میں تیرے دل میں تھا

اپنے دل میں مجھے یاد کر لیتا مجھے پا لیتا۔ کیونکہ رب کا تعلق دل سے ہے۔

وہ فرماتا ہے کہ تو ہاتھوں سے کوئ کام کر ڈرایوری کر، کسانی کر مجھے کوئ اعتراض نہیں۔ آنکھوں سے مخلوق کا نظارہ دیکھ، زبان سے میری نعمتیں کھا، پاؤں سے سیر کر اِدھر جا أدھر جا ۔ مجھے کوئ اعتراض نہیں ہے لیکن ایک چیز وہ چھوٹا سا دل میرے لیے چھوڑ دینا۔ اگر تو نے أس کو بھی دنیا میں لگا دیا تو تیرا اور میرا وابطہ ختم۔ 

جب کوئ شخص اِس دل سے محروم ہو جائے، دل کی طرف جائے ہی نہیں دن رات عبادت کرتا رہے مسجد میں نماز پڑھتا رہے، یقین کرؤ أس کا شمار دنیا داروں میں ہو گا۔ بھئی تلاوت بھی کر رہا ہے تو دماغ دنیا والوں میں، نماز بھی پڑھ رہا ہے تو دماغ دنیا داروں میں،أس کا دل جو دنیا میں ہے۔ اور جب کسی کے دل میں اﷲ بس جاے اور یقین کرؤ اگر وہ صدمے بیٹھا ہو گا تو پھر بھی لوگ کہیں گے کہ اﷲ والا ہے۔


اب اِسکی اجازت بھی ہوتی ہے۔ آپ باقی صفاتی اسماء بغیر اجازت کے کتابوں سے پڑھ کے فیض حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن اِسم ذات اگر آپ نے اسکو کتابوں کے ذریعے فیض حاصل کرنے کی کوشش کری تو یقین کریں آپ تباہ ہو جائیں گے، برباد ہو جائیں گے۔ آپ اِس کے جلال کو برداشت ہی نہیں کر سکیں گے۔ اِس کے لیے اجازت ضروری ہے۔ اجازت کیا ہے۔ آپ یہاں تہجد پڑھتے رہیں شیطان ایک کونے میں کھڑا ہنستا رہتا ہے، تیرا دل تو میرے ہاتھ میں ہے جب جی چاہو گا موڑ دوں گا، لگا رہ، اور تو نے ایک دن شکایت کری میں بڑا تہجد گزار تھا مجھے کیا ہو گیا کہ میں فرض نماز بھی نہیں پڑھ سکتا۔ تو شیطان نے دل موڑ دیا۔ جب کوئ شخص اِسم اﷲ کو دل میں بسانے کی کوشش کرتا ہے۔ شیطان سوچتا ہے کہ اگر یہ لفظ اﷲ اِس کے دل میں چلا گیا، اِس کا دل تو منور ہو جائے گا۔ یہ تو ساری عمر کے لیے میرے ہاتھوں سے گیا۔

بايزيد بسطامى جنگل میں گئے جب باقی عبادت کرتے تو شیطان کونے میں کھڑا رہتا دیکھتا رہتا گھورتا رہتا۔ لیکن جب وہ اللہ ھو کی ضربیں لگاتے تصور کرتے اﷲ ھو کا دل پہ تو شیطان قریب آکر ان کو ستاتا صاحب کشف تھے ایک دن غصے میں آگے ڈنڈا أٹھایا اور اُسکے پیچھے بھاگے آج اِسکو مارؤں گا۔ آواز آئی کہ اے بايزيد یہ ڈنڈوں سے نہیں مرتا یہ اللہ کے نور سے جلتا ہے اتنا ذکر کر اتنا ذکر کر کہ تو نور اللہ نور ہو جائے۔ جب بايزيد بسطامى نور العلیٰ نور ہو گے تو شہر بسطام سے جادوگر ہی چلے گے۔ اب ہمارا عمل یہاں اثر کوئ نہیں کرتا۔

جب کوئ شخص أسکو اندر بسانے کی کوشش کرتا ہے قرآن میں لکھا ہے کہ شیطان کے پاس جنّات کی فوج ہے شیطان کے پاس۔ حکم دیتا ہے جا اِسکو برباد کر ، تباہ کر ، کچھ بھی کر یہ لفظ اﷲ اِس کے اندر نا جائے۔ اب تمھارے پاس تو ایک جن بھی نہیں ہے جو اُنکا مقابلہ کرؤ ۔ وہ آیئں گئے تمھیں ستائیں گے۔ باز نہیں آے، بیمار کریں گے۔ باز نہیں آے، پاگل بھی کر کے جا سکتے ہیں۔ ہوش آے گا یہ ہی کہو گے کہ خبردار اﷲ ھو مت کرنا اِس سے لوگ پاگل ہو جاتے ہیں۔

آج لوگ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ اﷲ ھو سے پاگل ہو جاتے ہیں

لیکن جہاں سے اِس کی اجازت ہوتی ہے۔ اﷲ تعالٰی اُنکو بھی ایک رحمانی فوج دیتا ہے۔ شیطانی فوج تم پہ ٹوٹ پڑی اور وہ رحمانی فوج شیطانوں پہ ٹوٹ پڑتی ہے۔ اور وہ رحمانی فوج اُس وقت تک تمھارا ساتھ دے گی جب تک تمھارے اندر رحمان جاگ نہیں اُٹھتا۔ پھر تم بندہ نہیں رہے بندہ نواز بن گئے، غریب نہیں رہے غریب نواز بن گئے۔

یہ اِسم کسی نبی کو نہیں ملا، صرف حضور پاک کو ملا۔ حضور پاک کے طفیل اِس امت کو ملا حضور پاک کے بعد نو اصحابہ اکرام کو اِسم ذات کا علم ہوا۔ جنھوں نے أسکو پھلایا۔ نو اصحابہ اکرام سے پھر یہ بارہ اماموں تک پہنچا اِس کا علم۔ بارہ اماموں سے پھر یہ لے کے اجتماعی طور پر غوث پاک کو دے دیا گیا۔ تب آپ کو غوث اعظم کہلاتے ہیں ۔ وہ بارہ امام وقت کے غوث تھے۔ اب اِن کو غوث اعظم کہتے ہیں۔ اب اِسم ذات غوث پاک کے پاس ہے۔ آپ چیشتی ہیں، نقشبندی ہیں، قادری ہیں، سہروردی ہیں اگر ملے گا تو غوث پاک کے ذریعے ہی ملے گا۔ کسی کو خواب میں بھی ملا تو غوث پاک کے ذریعے ہی ملا۔

غوث پاک نے ستّر مرتبہ اﷲ سے وعدہ لیا کہ میرا مُرید ایمان کے بغیر نہیں جاے گا۔

آپ فرماتے ہیں کہ جیسا بھی ہے، میرا مرید جیسا بھی ہے۔ مرتے وقت أس کو کلمہ نصیب ہو گا۔ آپ فرماتے ہیں کہ میرا مُرید کون ہو گا اب جو گیارھویں دیتا ہے وہ بھی کہتا ہے کہ میں غوث پاک کا مُرید ہوں نہیں مُریدوں کے لیے تو آپ نے ستّر مرتبہ اﷲ سے وعدہ لیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں میرا مُرید کون ہوگا؟ میرا مُرید وہ ہو گا جو ذاکر ہو گا پھر فرماتے ہیں "بہشت الاسرار" کہ میں

ذاکر أسی کو مانتا ہو جس کا دل اﷲ اﷲ کرے۔ زبانی تو طوطا بھی اﷲ اﷲ کرسکتا ہے

میں ذاکر أس کو مانتا ہوں أسکے لیے آپ نے ستّر مرتبہ اﷲ وعدہ لیا۔ فرمایا کہ وہ جیسا بھی ہے ایک دفعہ میرا مرید ہو گیا ایک دفعہ أس کا قلب چل پڑا بیچ میں اگر أس کی زندگی گناہوں میں گزری، مرتے وقت پھر أسکا قلب جاری ہو جائے گا۔ أدھر اﷲ نے فرمایا کہ جس کا مرتے وقت زبان پہ کلمہ ہو گا۔ وہ بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائے گا۔ آپ کا قول اور حدیث آپس میں ٹکڑا گے۔ عام آدمی سوچتا ہے کہ مرنے سے پہلے کلمہ پڑھ لیں گے کلمہ تو آتا ہی ہے۔ لیکن یہ نہیں پتہ کی مرنے سے پہلے زبان ہی بند ہو جائے گی۔ ہزاروں میں سے میں کسی ایک کا سُنتے ہیں کہ کلمہ بھی پڑھ رہا تھا اور مر بھی رہا تھا۔

ایک بزرگ گزرئے ہیں حضرت امام رازی رحمتہ اﷲ۔ وہ بہت کلمہ پڑھتے تھے اُنکی زبان ہر وقت کلمہ میں، اُنکی زبان ہر وقت کلمہ میں تر رہتی تھی۔ أن کی موت کا وقت آ گیا۔ شیطان نے سوچا کہ ہیں تو یہ بہشتی لیکن یہ کلمہ پڑھتے جایئں گے بغیر حساب کتاب کے جنت میں جاییں گے۔ اگر ان کا کلمہ بند کراؤں تو ان کا حساب کتاب تو ہو نا، أس نے آ کر پوچھا بتاؤ تم نے رب کو کیسے مانا۔ أنھوں ایک دلیل دی أس نے کہا نہیں کوئ اور دلیل انھوں نے 99 دلیلیں دیں۔ شیطان کا مقصد تھا کہ دلیلیلوں میں ہی اِنکی جان نکل جائے کلمہ نہ پڑھیں۔ اُدھر حضرت نجم کُبرا دیکھ رہے تھے۔ حضرت امام رازی رحمتہ اﷲ اُنکے پاس ایک دفعہ گئے تھے۔ ولایت کی شہرت سن کر لیکن أن کی کوئی بات اُنکو پسند نہ آئی دوبارہ نہیں گئے، اب انھوں نے کہا چلو ایک دفعہ تو آیا تھا اُسی کی لاج رکھ لیتے ہیں۔ دور سے پانی کا چھینٹا مارا اور کہا اے نادان تو کہہ دے میں نے بغیر دلیل کے رب کو مانا، کلمہ پڑھ، تین دفعہ تکرار کری اور روح پرواز کر گئی۔ شیطان نے ایسے لوگوں کو بھی نہیں چھوڑا، عام آدمی کیسے کہہ سکتا ہے کہ میں کلمہ پڑھ لوں گا۔ لیکن وہ لوگ جو غوث پاک کے مرید ہیں أن کے دل کی زبانیں اﷲ اﷲ کر رہیں ہیں وہ مر بھی رہے تھے اﷲ اﷲ کر بھی رہے تھے۔ شیطان کا تصرف اس زبان کے اوپر ہے، أس دل کے اوپر أس کا تصرف نہیں کیونکہ دل کا تعلق اﷲ سے ہے وہ مر بھی رہے تھے اﷲ اﷲ کر بھی رہے تھے، حتیٰ کہ مر بھی گئے مریے کے بعد بھی ڈیڑھ سکینڈ تک اﷲ اﷲ ہوتی رہی۔

پہلے جان نکلتی ہے بعد میں دل کی ڈھڑکن بند ہوتی ہے۔

اب بغیر حساب کتاب کے جنت میں کیسے جایئں گئے۔ قبر میں چلا گیا فرشتے آگے مُنکر نکیر وہ تین سو ساٹھ سوالوں کے جواب پوچھتے ہیں سب سے پہلا سوال بتا تیرا رب کون ہے جب پوچھا تیرا رب کون ہے وہ خاموش ہے کفن پیچھے ہٹایا لفظ اﷲ چمک رہا ہے کہ دیکھ لے کہ میرا رب کون ہے۔ أس وقت فرشتے کہتے ہیں اے بندہ خدا آرام سے سو جا تو جان تیرا رب جانے ہمیں شرم آتی ہے تجھ سے کیا سوال کریں۔ أس کے بعد ایک اور فرشتہ اتا ہے۔

أس کا نام امان ہے وہ تین سو ساٹھ سوالوں کے بعد کفن پے لکھ کر کر چلے جاتے ہیں۔

امان آتا ہے أس پے کچھ لکھا ہوا ہی نہیں ہے۔ روح کو دیکھتا ہے وہ اسم اﷲ سے چمک رہی ہے۔ اُسکو پکڑ کے رضوان کے پاس لے جاتا ہے اِسکو بہشت میں داخل کر۔ رضوان کہتا ہے اِس کا حساب کتاب لا، وہ کہتا ہے یہ چمک دمک ہی اِسکا حساب کتاب ہے۔ اِس طریقے سے بغیر حساب کتاب کے وہ بہشت میں جائے گا۔

اب اس کا تھوڑا سا طریقہ بھی بتا دیں۔ ہو سکتا ہے کہ کوئ اہل دل ہو ہمارے آنے کا مقصد بھی پورا ہو جائے اور أن کے بیٹھنے کا مقصد بھی پورا ہو جائے۔ ہر آدمی کو گمان ہے کہ اﷲ تعالی مجھ پہ مہربان ہے۔ کسی سے پوچھتے ہیں کیا حال ہے؟ بڑا اللہ کا کرم ہے کیوں ؟ کار بنگلہ ہے کرم نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ دوسرے سے پوچھتے ہیں کیا حال ہے کہ بڑا کرم ہے کیوں غریب خاندان سے تھا اتنا بڑا آفسر بن گیا کرم نہیں تو اور کیا ہے اور تیسرے سے پوچھتے ہیں کیا حال ہے کہ بڑا ہی کرم ہے کیوں؟ اتنا بڈھا ہوں ، اتنی صحت ہے کرم نہیں تو اور کیا ہے۔ اور ہم کہتے ہیں کہ اگر تم اسکو کرم سمجھتے ہو تو یہ چیزیں کافروں کے پاس بھی ہیں ۔ کافروں کے پاس ہیں نا جو أس کو نہیں مانتے أن کے پاس بھی ہیں جو کافروں کو دیں پھر تم کو دیں تو تمھارے اوپر کیا کرم ہوا اگر تم نے دیکھنا ہے کہ واقعی ہی تم پر رب کا کرم ہے ایک کسوٹی ہے کہ اﷲاﷲ میں لگ جاؤ۔ اگر پانچ سات دن میں اندر بھی اﷲاﷲ شروع ہو گئی تو أس کا کرم ہو گیا ۔

فاذکرونی اذکروکم تم میرا ذکر کر میں تیرا ذکر کروں گا

 

 ذکر اُسی کا کیا جاتا ہے جس سے دوستی ہو جائے 
 

اگر کوشش کے باوجود اﷲاﷲ نہیں جمتا ألٹا أس کی مخالفت شروع کر دی
تو تمھارے اوپر رب کا کوئی کرم نہیں کرم ہوتا تو تم کو اپنے نام لیواﺅں میں لیتا۔ 

اپنے آپ کو اپنےمرشد کو، رب کو پہچاننے کا یہی ایک راز، کہ رب میرے اوپر کتنا مہربان ہے۔ جب کوئ شخص ہر وقت اﷲاﷲ کرتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کچھ لوگ ہیں ہاتھوں میں بیٹر رکھتے ہیں بیٹر ہوتا ہے ہاتھوں میں۔ دیکھتے رہتے ہیں أن کو أس سے محبت ہو جاتی ہے۔ أس کی خاطر راتوں کو جاگتے ہیں۔ ایک بیٹر کی خاطر رات کو جاگتے ہیں۔ أن کو أس سے محبت ہو جاتی ہے۔ یعنی جس چیز کو زیادہ دیکھو، ذہن اور دل جس طرف جائے گا۔

کیونکہ محبت کا تعلق دماغ اور دل سے ہے۔ جب آدمی ہر وقت اﷲاﷲ کرتا ہے اپنے دل میں اﷲ بساتا ہے اور دماغ میں أس کا تصور لاتا ہے۔ أس کو پھر اﷲ سے محبت ہو جاتی ہے۔

آپ کا کوئی دوست امریکہ میں بیٹھا ہے۔ آپ أسکو چالیس دن دل سے یاد کریں یقین کریں أس کا خط آجائے گا۔ دل کو دل سے راہ ہے۔ جب آپ اﷲ تعالی کو دل کی گہراییوں سے یاد کریں گے دل کی گہراییوں کا مطلب وہ جو نس نس میں اﷲاﷲ چلی گی۔ جب أس طریقے سے آپ یاد کریں گے، تو وہ کئی دوستوں اور کئی ماؤں سے زیادہ مہربان ہوگا۔ پھر وہ دیکھے گا کہ یہ بندہ کون ہے کب سے اﷲاﷲ کر رہا ہے۔ تمھارے دل میں أس کی محبت پیدا ہو گی۔ جب رب سے محبت پیدا ہو گی تو رب کے حبیب سے بھی محبت پیدا ہو گی۔ وہ خدا بھی نہیں اور جدا بھی نہیں جب رب کے حبیب سے محبت پیدا ہو گی تب ولیوں سے محبت پیدا ہو گی پھر رب تمھیں دیکھے گا۔ پھر وہ سرسری نظر سے نہیں دیکھے گا پیار سے دیکھے گا۔ جب رب پیار سے دیکھے گا تو ساری نوری مخلوق بھی تم کو پیار سے دیکھے گی۔

جب رب أس بندے کو دیکھتا ہے پھر وہ محبت کا مقام نہیں پھر وہ عشق کا مقام ہے پھر وہ عشق کا مقام ہے أسکو پھر حُریت بولتے ہیں أس وقت پھر یہ ہے کہ تو میرا میں تیرا۔

اب اس کے لیے طریقہ یہ ہے روزانہ66 مرتبہ ساٹھ چھ چھیاسٹھ کالی پنسل سے سفید کاغذ کے پر اﷲ لکھیں جب بھی لکھیں باوضو بیٹھ کے لکھیں۔ فجر کی نماز کے بعد بہت اچھا وقت ہے ورنہ جب بھی آپکو وقت میسر آئے، آپ تھوڑے دن لکھیں گے ایک وقت ایسا آئے گا آپ جو کاغذ پے لکھتے تھے، وہ آپ کی آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے گا۔ کاغذ سے آنکھوں میں آ جائے گا۔ تصور آ جائے گا۔ جب آنکھوں میں آ جائے تو لکھنا بند کر دیں آنکھوں سے پھر أسکو دل کےأوپر أتارنے کی کوشش کریں۔ آنکھوں تک لے کر جانا تمھارا کام تھا۔ آنکھوں سے پھر دل پہ لے کر جانا اﷲ کا کام تھا۔ اگر اﷲ نے چاہا تو جو آپ کاغذ پے لکھتے تھے وہ دل پے لکھا ہوا نظر آے گا۔ أس وقت دل کی ڈھڑکن تیز ہو جائے گی۔ ٹک ٹک، أس ٹک ٹک کے ساتھ اﷲھو ملایں۔ ایک کے ساتھ اﷲ ایک کے ساتھ ھو۔

جس طرح قرآن مجید میں بار بار نماز کا لکھا ہوا ہے، اِسطرح ذکر کا بھی لکھا ہوا ہے۔ نماز کا وقت بھی لکھا ہوا ہے۔ ذکر کا لکھا ہوا ہے کہ أٹھتے، بیٹھتے، حتٰی کہ کروٹیں لیتے ہوے بھی میرا ذکر کر نا، خریدو فروخت میں بھی اس سے غافل نہ رہنا۔

عام آدمی کے لیے پانچ نمازوں کے ساتھ پانچ ہزار دفعہ روزانہ ذکر ضروری ہے۔ اگر کوئی عالم ہے تو أس کے لیے پچیس ہزار دفعہ روزانہ ذکر ضروری ہے۔ تب أسکو مقتدیوں پر فضیلت حاصل ہو گی۔ اگر کوئی چاہے کہ میں کوئی قطب ابدال بن جاؤں تو أس کے لیے بہتر ہزار دفعہ ذکر ضروری ہے۔ اگر کوئی کہے کہ میں اﷲ کا عاشق اﷲ میرا عاشق، اﷲ کہتا ہے کہ آجا میں تیار ہوں ۔ أس کے لیے حکم ہے کہ سّوا لاکھ دفعہ روزانہ ذکر کرے سّوالاکھ دفعہ ذکر اِس تسبیح سے نہیں ہوسکتا ہے۔ وہ تب ہی ہوتا ہے وہ دل کی ڈھرکنیں اﷲاﷲ میں لگ جائیں۔ وہ ایک گھنٹے میں ساڑھے تین ہزار سے لے کے چھ ہزار دفعہ اﷲاﷲ کر لیتیں ہیں۔ چوبیس گھنٹے میں سّوالاکھ سے بھی بڑھ جاتی ہیں۔ سّوالاکھ سے آگے تو کوئی عبادت نہیں ہے۔ جب فتح مکّہ ہوئی اصحابہ اکرام کے دل سّوا لاکھ تک پہنچ چکے تھے۔ أس وقت آیت اُتری کہ میں تمھاروں کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے۔ وہ آیت أن کے لیے ہے۔ تمھاروں کے دل سّوا لاکھ تک پہنچ چکے تھے تب أن کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دئے گے وہ آیت ہر زمانے کے لیے ہے۔

اگر آج بھی کسی کا دل سّوا لاکھ تک پہنچ جائے۔

اﷲ قسم اﷲ تعالی أس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے گا۔

جب وہ دل کی ڈھرکنیں أبھریں تب أن کے ساتھ اﷲ ھو ملایں رات سونے لگیں انگلی کو قلم خیال کر کے دل کے اوپر اﷲ لکھتے لکھتے سو جایئں۔ اِسی میں نید آ جائے۔ آدھی رات کے بعد ہر آدمی کے پاس فرشتے آتے ہیں خاص فرشتے ہوتے ہیں وہ کراما کاتبین سے پوچھتے ہیں کہ بتاؤں اس کا آخری عمل کیا تھا جب یہ سونے لگا تھا بھیی یہ عشاء کی نماز پڑھ کے سویا تھا دعا دیتے ہیں کہ اﷲ تعالی اس کو خوش رکھے اور یہ درود شریف پڑھ کے سویا تھا اﷲ تعالی اس کو بھی خوش رکھے اور یہ تومسکین کو کھانا کھلا کے سویا تھا اﷲ تعالی اس کو بھی خوش رکھے اور یہ آیتہ الکرسی پڑھ کے سویا تھا اور آیتہ الکرسی لاج رکھنا اور أس کی حفاظت کرنا اور یہ اﷲ ھو پڑھتے پڑھتے اِسی کے تصور میں سو گیا تھا۔ کہتے ہیں خاموش آہستہ بات کرؤ شاید اس کی یاد میں آنکھ لگ گئ ہو اور ہو سکتا ہے کہ تمھاری ساری رات عبادت میں شمار کر دے، کیونکہ کہ سوتے وقت جو نیت ہوتی ہے خواب میں بھی وہی کچھ ہوتا ہے۔

اﷲ ھو پڑھتے پڑھتے سو گئےاور خواب میں بھی اﷲ ھو کرتے رہے۔

اب صبح اُٹھیں کام کاج کے لیے جا رہئے ہیں ذکر خفی کرتے رہیں۔ ذکر خفی اور ہے ذکر قلبی اور ہے جب تک دل کی ڈھڑکنوں سے نہيں مِلتا وہ ذکر خفی کہلاتا ہے۔ جب دل کی ڈھڑکنوں سے ملتا ہے پھر وہ ذکر قلبی کہلاتا ہے وضو ہو یا نہ ہو آپ دل کو پانی سے کیسے وضو دیں گے سارا دن پانی میں پڑے رہیں پانی تو دل میں جاتا ہی نہیں تو  دل کا وضو کیسے ہو گا؟ جب اﷲ کا نور اِس سینے میں جائے گا وہ اِس دل کو دھوئے گا اُسکو بولتے ہیں وضو کر لے شوق شرابا دا۔ اور وہ وضو گھڑی گھڑی نہیں کرتے ہیں زندگی میں ایک بار ہی ہو جائے تو کافی ہے۔

آپ نے سنا ہو گا کتابوں میں پڑھا ہو گا کہ پہلے زمانے میں لوگ ولیّوں کے پاس جاتے تھے۔ کچھ ولیّوں کے پاس سب کے پاس نہیں کیوں کہ أن کے اپنے اپنے طریقے ہیں۔ وہ کہتے چلو دیوار بناؤ وہ سارا دن دیوار بناتے شام کو گرا دیتے۔ پھر صبح کو کہتے دیوار بناؤ شام کو گرا دیتے۔ یہ بات سمجھ آتی نہیں تھی کہ ولّی ایسا کیوں کرتے۔ أن کو اس سے کیا فائدہ ہوتا أس کو دکھ پہنچا کے۔ جب وہ مٹی گارا أٹھتا سارا دن لگا رہتا۔ تو ساتھ ساتھ أس کے دل کی ڈھڑکن دیکھتے۔ جس دن دیکھا کہ اب أس کے دل کی ڈھڑکن أبھر گئی۔ پھر کہہ دیا کہ اب اس مٹی گارے کو چھوڑ اب ڈھڑکنوں کے ساتھ اﷲاﷲ ملا۔

امیرکلاں رحمتہ اﷲ ایک بزرگ گزرے ہیں جب بیس، پچیس لوگ أن کے پاس جاتے کہتے چلو کبڈی کھیلیں۔ وہ کہتے ہم تو فیض کے لیے آئے بولتے ہمارا فیض کبڈی میں ہے۔ کبڈی کھیل رہے تھے۔ بہاؤ الدین نقشبندی رحمتہ اﷲ وہ بھی بہت بڑے آدمی تھے۔ وہ بھی فیض کے لیے أن کے پاس پہنچ گئے۔ پوچھا کہا ہیں لوگوں نے کہا کہ وہ کبڈی کھیل رہے ہیں۔ کہنے لگے کہ ولّی تو کبڈی نہیں کھیل سکتا ہے۔ یہ ولّی نہیں ہو سکتے۔ واپس جانے لگے زمین نے أن کو روک لیا۔ بعد میں وہی بہاؤ الدین نقشبندی رحمتہ اﷲ أن کے ساتھ کبڈی کھیل کر اتنے بڑے ولّی بنے۔ اب أس کبڈی میں کیا راز تھا۔ عبادت تو نہیں تھی، جب وہ ڈوڑتے، دوڑاتے دل کی ڈھرکنیں أبھرتیں پھر کہتے کہ أس کبڈی کو چھوڑوں اور دل کی ڈھرکنوں کے ساتھ اﷲ ھو ملاؤ۔

سندھ میں ہیں لال شہباز قلندر رحمتہ اﷲ وہ جب دیکھتے کچھ آدمی آئے تو کہتے چلو ناچو وہ ناچ آج تک موجود ہے۔ وہ پھر دھمال کرتے ہم نے وہاں خود دیکھا ہے سیون شریف میں أس وقت اﷲ ھو ہوتا تھا أس دھمال کے اندر۔ اب دما دم مست قلندر ہوتا ہے۔ اب دیکھا ہے کہ لوگ دھمال کرتے کرتے أسی مسجد میں بے ہوش ہو جاتے ہیں جب بے ہوش ہو جاتے ہیں تو أن کے دلوں سے آواز مست قلندر کی آتی ہے۔ اگر آج آواز دلوں سے مست قلندر کی آتی ہے۔ تو أن کے زمانے میں دلوں سے آواز اﷲ ھو کی بھی آتی ہو گی۔ اس زمانے میں کبڈی یا دھمال یا دیواریں ذرا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ پھر ایک اور بہترین طریقہ ہے۔ وہ جہاں ضربیں لگاتے ہیں اﷲھو اﷲھو ، گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ ضربیں لگاتے ہیں۔ وہ جب ضربیں لگاتے ہیں أن ضربوں سے بھی دل ڈھڑکتا ہے۔ جب دل ڈھڑکے پھر أن ڈھڑکنوں کے ساتھ اﷲھو ملایں۔ اِس کا یہ طریقہ ہے۔

اب یہ کہ خواہ کوئی نقشبندی ہے چیشتی ہے، قادری ہے، سہروردی ہے کہیں سے بھی بیعت ہے ہمیں اس سے مقصد نہیں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ ایک فیض ہے۔ اپنی قسمت آزماؤ اگر میسر ہو گیا تو دُعا دے دینا اگر میسر نہیں ہوا تو تمھارا کیا بگڑا۔ نہ کوئی  نذرانہ لیا نہ کوئی بیعت کیا ہے۔ اگر تمھارے اندر اﷲاﷲ شروع ہو گی تو ہم تم کو نہیں بلایں گے۔ تم خود ہی ڈھونڈو گے۔ اگر شروع نہ ہوئی تو اپنے گھر ہی بیٹھے رہنا۔

بعض لوگوں کو یہ اعتراض ہے۔ کہ ہم مرشد والے ہیں۔ مرشد اپنی جگہ اور فیض اپنی جگہ ۔ لال شہباز قلندر رحمتہ اﷲ ابراہیم قادری مروندی سے بیعت تھے۔ مرشد أن کے وہ تھے لیکن فیض أنھوں نے صدرالدین رحمتہ اﷲ سے حاصل کیا۔ مرشد تو أن کو کہا۔ وہاں سے پوری تسکین نہ ہوئی تو ملتان آگئے بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمتہ اﷲعلیہ سے فیض حاصل کیا پھر بھی پوری تسکین نہ ہوئی تو دہلی چلے گے۔ بو علی قلندر رحمتہ اﷲعلیہ سے فیض حاصل کیا۔ مرشد تو أنہی کو کہا۔ جب بو علی قلندر رحمتہ اﷲعلیہ سے فیض حاصل کیا۔ تو مڑ کے گئے تو سب کے سردار ہو گئے۔ اگر کوئی کہیں سے بیعت بھی ہے تو وہ یہ ذکر حاصل کر سکتا ہے، یہ ہے۔ 


اس کے لیے کوئی صاحب ذکر لینا چاہے تو سٹیج پے آجائے اور قسمت آزمائے۔


 

اللہ ھو*****اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو
 


 

اگر آپ بھی ذکر کی لینا چاہتے ہیں تو امام مہدی ریاض احمد گوھرشاہی کی شبیہ مبارک کوپورے چاند پر دیکھتے ہوئے
 

تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔

 

© 1998-2010 All Faith Spiritual Movement Intl'
admin@theallfaith.com