|
SELECT YOUR LANGUAGE: ENGLISH or INDONESIAN |
||
![]() |
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے |
![]() |
|
اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر) |
||
|
مرکزی صفحہ تعارف حضرت عیسی کرشمہ قدرت الحجرالأسود تعلیمات دینِ الٰہی پروگرام تصانیف ویڈیو رابطہ |
||
|
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی مدظلہ العالی کا پاک پتن شریف (مزار حضرت بابا فرید) میں عظيم الشان اجتماع سے روحانی خطاب
آعوذبااﷲمن الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
عزیز ساتھیو السلامُ علیکمُ:۔
آپ کے شہر میں پہلے بھی کئی مرتبہ
آنا ہوا۔ آنے کا مقصد کوئی سیاست نہیں ہے۔ کسی فرقے کی دِل آزاری نہیں ہے۔
کوئی حکومت پر نُکتہ چینی نہیں ہے۔ ہر شہر میں، ہر مُحّلے میں، ہر گھر میں
کچھ دل والے ہوتے ہیں۔ اُن دل والوں کو نکالنا مقصد ہے، اور دل کی آواز
اُنکے ضمیر تک پہچانا۔
حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم
کےزمانے میں دو طرح کا علم تھا۔
ایک زبان والوں کے لیےجس کو شریعت کہتے ہیں ۔اور ایک دل والوں کے لیے جس کو
طریقیت کہتے ہیں ۔ آپ
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے
زمانے میں جن لوگوں نے ظاہری
علم پر قناعت کری، اُنھی میں سے کوئی خوارج ہوا اور کوئی منافق ہوا۔ اور
جن لوگوں نے وہ دل والا علم بھی حاصل کیا وہ تو صحابی یا رسُول اﷲ کہلائے ولیّوں
سے بھی اعلی مقام حاصل کر کے چلے گئے۔
اور آج اِس زمانے میں جو لوگ صرف ظاہری علم
پرقناعت کیے بیٹھے ہیں ، وہ تو72 فرقوں
میں تقسیم ہو
گے۔ جو دل والوں کے مدرسے ہیں وہ جنگلوں میں ہیں جو زبان والوں کے مدرسے ہیں وہ شہروں میں ہیں۔ جنگلوں میں تو مدرسے نہیں ہوتے نا۔ پھر یہ لوگ جنگلوں میں کس مدرسے کے لیے چلے گئے۔ جو دل والوں کے مدرسے ہیں وہ جنگلوں میں ہیں جو زبان والوں کے مدرسے ہیں وہ شہروں میں ہیں۔ لوگ کہتے ہیں ہم نے دل دیکھا ہے، گوشت کا لوتھڑا ہےِ أسکی زبان ہی نہیں ہے تو وہ اﷲ اﷲ کیسے کرے گا۔ وہ کہتے ہیں یہ درویشوں کا خیال ہے۔ اگر تمھیں یقین ہو جائے کہ واقعی تمہارہ دل اﷲ اﷲ کرسکتا ہے، یقین کرؤ تمھیں اِس کے بغیر نید ہی نہ آئے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ جو تمھاری زبان ہے یہ بھی تو گوشت کا لوتھڑا ہے نا۔ اؤ یہ اﷲ اﷲ کیسے کرتی ہے۔ یہ دو جبڑوں کے درمیان گوشت لٹکا ہوا ہے اور وہ گوشت دو پسلیوں کے درمیان لٹکا ہوا ہے یہ بھی گوشت اور وہ بھی گوشت۔ جب اﷲ تعالی نے جسم بنایا أس میں روح ڈالی، روح کی امداد کے لیے چھ اور مخلوقیں ڈالیں۔ جنکو لطائف کہتے ہیں حدیث شریف میں باقاعدہ أن کے نام ہیں قلب، روح، سّری، خفی، اخفیٰ، اناّ، نفس۔
کسی کا کام سوچنے کے لیے، کسی کا
کام سونگھنے کے لیے، کسی کا کام بولنے کی لیے، کسی کا کام چلنے کے لیے۔ وہ
سات مخلوقیں اِس تمھارے جسم میں ڈال دیں۔ أن سات مخلوقیں کی امداد کے لیے
نو جسے اور ڈال دئیے۔
سولہ مخلوقیں تمھارے جسم میں ڈال دیں۔
ایک مخلوق ہے
جس کا نام ہے لطیفہ اخفیٰ۔
وہ سینے کے درمیان میں ہے۔ جسطرح یہ جّن فرشتے ہیں
أسطرح وہ
مخلوقیں ہیں جسکو سائنس حواس خمّسہ بولتی ہے۔ ایک مخلوق ہے جو سینے کے
درمیان میں ہے۔
وہ مخلوق
بولتی ہے اِس گوشت کے لوتھڑے کے ذریعے۔
اگر کسی کی وہ
مخلوق نہ ہو تو ڈاکٹر
کہتے ہیں کہ زبان تو صیحیح ہے، یہ بولتا کیوں نہیں ہے۔
انسانوں اور
جانوروں میں اِن مخلوقوں کا فرق ہے۔ اگر یہ مخلوق جانوروں میں ہوتی تو وہ
بھی کچھ نہ کچھ بولتے نا۔ أن کے بھی گلّے ہیں اور أن کی بھی زبانیں ہیں۔
اب وہ جو گوشت کا لوتھڑا دل ہے ٲسکو بولوانے کے لیے بھی ایک مخلوق ہے۔ عربی میں گوشت کے لوتھڑے کو "فواد" کہتے ہیں۔ اور وہ جو مخلوق ہے أس کو قلب کہتے ہیں، أس کو قلب کہتے ہیں۔ دل اور قلب میں فرق ہے اب یہ جو مخلوق ہے یہ آزاد ہے اور وہ جو قلب ہے ایک لاکھ اسّی ہزار جالوں کے اندر بند ہے۔ اگر کوئی ٲس کو بھی جگا لے، آزاد کرا لے تو جسطرح یہ زبان اﷲ اﷲ کرتی ہے۔ اِسطرح وہ گوشت کا لوتھڑا دل بھی اﷲ اﷲ کرتا ہے۔
اب أسکی مرضی ہے نظروں سے پہنچائے، سینے سے سینہ ملا کر پہنچائے یا ذکوریت کے ذریعے پہنچائے۔جب وہ انڈا پھٹے گا۔ أس میں سے ایک چوزہ نکلے گا بغیر سیکھے سیکھائے چوں چوں کرئے گا۔ کیوں؟ چوں چوں اُسکی فطرت ہے اور جب یہ پھٹے گا تو اس میں سے ایک فرشتہ نکلے گا۔ بغیر سیکھے سیکھائے اﷲ اﷲ اﷲ اﷲ کرئے گا۔ أس وقت تم اﷲ اﷲ نہیں کر رہے۔ وہ جو تمھارے اندر ایک چیز ہے وہ اﷲ اﷲ کر رہی ہے نا۔ اب تم أس کے أستاد ہو گئے تمھاری تسبیح یہ ہے جو بازاروں میں ملتی ہے۔ اور أسکی جو تسبیح ہے وہ تمھارے اندر ہے وہ جو ٹک ٹک کرتی ہے۔ اب تم نے أسکو کہا کہ تو اس ٹک ٹک کے ساتھ اﷲ اﷲ ملا۔ اب أس نے دل کی ڈھڑکن کے ساتھ اﷲ اﷲ ملانا شروع کر دی۔ کبھی ملی، کبھی ہٹی تین سال کے بعد اتنا پختہ ہو گئی کہ تم ڈٹ کے سوتے رہے اور اﷲ اﷲ ہوتی رہی۔ أس وقت سخی سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ ”کچھ جاگدئے سوتے ھو، کچھ سوتے جاگدئے ھو“
کچھ لوگ ایسے ہیں جو جاگ کر
ساری رات عبادت کرتے ہیں لیکن سوئے ہوں میں شامل
اور کچھ لوگ بستروں پر سو رہے ہیں اُن کے دل اللہ اللہ کر رہے ہیں۔
”اِس نفس پلیت نے پلیت کیتاں آساں منڈھوں پلیت نہ سے“
یہ گوشت ہے یہ کوئی
پلیت تھوڑا ہی ہے۔ وہ جو
اندر روحیں ہیں وہ بھی پلیت کوئی نہیں ہیں۔
وہ جب نفس آیا، نا تو یہ جسم پلیت ہوا نا۔ اب جب تک نفس پاک نہیں ہو گا تم پاک نہیں ہو گے نا۔ تم پلیت ہو نا۔
ایک حدیث شریف میں ہے کچھ
لوگ قرآن پڑھتے ہیں۔ قرآن
أن کے أوپر لعنت کرتے ہیں۔ وہ جن کے نفس عمارہ ہیں، جن کے نفس کتے ہیں۔ وہ
ناپاک ہیں نا۔
مجدد صاحب
فرماتے ہیں۔ مقتدی کو چاہیے پہلے ذکر اﷲ کرئے اپنے نفس کو پاک کرئے۔ قرآن
اُن لوگوں کے پڑھنے کے قابل نہیں، جنکے نفس کتے ہیں۔ فرماتے ہیں مکتوبات
شریف میں کہ جب نفس پاک ہو جائے پھر قرآن پڑھے۔
ایک لمحہ فِکریہ سو سال کی عبادت سے بہتر ہے أس وقت قرآن اندر أترئے گا نا۔ بھئی اب تو قرآن کتاب سمجھتا
ہے نا ڑٹتا ہے نا۔ أس وقت قرآن تیرے اندر جائے گا نا۔ ایک
ایک آیت کےاوپر تو پھر غور کرئے گا نا۔ قرآن خود فرماتا ہے "ھدی
اللمتقین" پاکوں
کو ہدایت ہے اس سے۔ جن کے جسم پاک ہو گئے أنھوں نے اِس سے ہدایت حاصل
کری۔ خود بھی ہدایت حاصل کری اور لوگوں کو بھی ہدایت پے لے
کر آئے۔ وہ جن کے نفس پاک تھے۔ أنھوں نے کافروں
کو مُسلمان بنایا نا۔ اور جن کے نفس پاک نہیں ہوئے۔ جن کے اندر قرآن نہیں
أترا۔ جب أنھوں نے قرآن سے تبلیغ کرنا شروع کر دی تو أنھوں نے فرقے بنا
دئیے نا۔ أنھوں کافروں کو مُسلمان بنایا مطمئنہ والوں نے۔ اور عمّارہ والوں
نے مُسلمانوں کو کافر کہا۔ کسی نے کہا وہ منافق ہے، وہ کافر ہے، وہ مُشرک
ہے، وہ یہودی ہے۔ پھر اُسکو پکڑ کر حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محفل میں لے گئے۔ اُس وقت حضورپاک ﷺ اور حاضرین عش عش کر اُٹھے۔ آفرین ہے اِس کے اوپر اور اِسکے مُرشد کے اوپر۔ کتے کو پاک کیا اِنسان بنایا اور میری محفل میں لے آیا۔ یہ ہی ہے فنا فی الرسول کا مقام، تمھاری پہنچ حضور پاک تک ہو گئی۔
اب وہ تحفے نیچے آگئے ۔اب اِن تحفوں کو أوپر پہنچانا ہے نا۔ تو اب أوپر أس ٹیلیفون کے بغیر تو نہیں جا سکتے نا۔ اگر تمھارے اندر نُوری ٹیلیفون ہے تو وہ تحفے تمھارے عرش معلٰی میں ہیں۔ اگر وہ نوری ٹیلیفون نہیں ہے تو وہ تحفے تمھارے اِسی دنیا میں، اِسی کاروبار میں، اِسی آٹے میں، اِسی بیوی بچے میں، اِسی میں ضائع ہو جائیں گے۔
اب صرف أس کی آواز جو ہے نا وہ عرش معلٰی میں جاتی ہے۔ أسکو بولتے ہیں
مومن۔ وہ نماز مومن کا معراج ہے۔
سارے ہی کہتے ہیں ہم صحیح ہیں نا۔ تو فرقہ کیوں صحیح ہوا۔ فرقہ کبھی صحیح
نہیں ہو سکتا ہے یہ نکلا ہوا ہے بٹا ہوا ہے۔ یہ جس سے نکلا ہے وہ صحیح ہے
نا۔ یقین کرؤ نہ سُنی صحیح ہے، نہ شیعہ صیحیح ہے نہ وہابی صحیح ہے۔ اگر
صحیح ہے تو أمتی صحیح ہے نا۔
اور أمتی کیا ہوتا ہے۔
جس میں اﷲ کا نور ہوتا ہے وہ أمتی ہوتا ہے نا۔ جب وہ نور نکل گیا تو سُنی،
شیعہ ، وہابی بن گیا نا۔ تو جب وہ نُور دوبارہ آجائے گا کبھی نہیں کہوں
گئے میں سُنی ہوں ، میں شیعہ ہوں، میں وہابی ہوں۔ یہی کہوں گئے، بس اُمتی
ہوں تُمھارا یا رسُول اﷲ۔
اب رہا سوال اب پہلے پتہ لگے کہ اﷲ کا دین ہے کیا؟ أس کا دین سمجھ میں
نہیں آتا ہے۔
توریت میں کچھ اور دین
ہے، زبور میں کچھ اور دین ہے، انجیل میں کچھ اور دین ہے ، اور قرآن میں
کچھ اور دین ہے۔ تو پھر أس کا دین کیا ہے۔ أس کا دین عشق ہے۔ أس کا دین
عشق ہے۔
اور جب کوئی أسکا عاشق ہو جاتا ہے۔ تو وہ أسکا ہو جاتا ہے نا۔ اب آپ تقریریں سنتے ہیں کہ جب تک محبت عشق نہیں حضور پاک سے اﷲ تعالی سے ایمان مکمل نہیں ہے۔ یہ ہی سنتے ہیں نا ، سنتے ہیں نا، دؤائی کی تعریف سنتے ہیں نا۔ دؤائی تو نہیں ملتی ہے نا۔ دؤائی ملے تو عشق و محبت آئے نا۔ چلو وہ دؤائی کا طریقہ بھی بتا دیں گے کہ اندر عشق و محبت کیسے آتا ہے۔ جب اس تمھارے دل میں اﷲ اﷲ ٹکرائے گا۔ کوئی بھی چیز دل ميں بس جائے اُس سے محبت ہو جاتی ہے، کوئی بھی چیز۔ جب اﷲ اﷲ اِس دل ميں بس جائے گا تو اﷲ سے محبت ہو جائے گی نا۔ جب اﷲ سے محبت ہو جائے گی۔
اب تم کہتے ہو مجھے اﷲ
سے، اﷲ کے حبیب سے بڑا عشق ہے۔ تم کہتے ہو مکار ہو۔
محبت، عشق کا تعلق زبان سے نہیں ہے۔ محبت، عشق کا تعلق دل سے ہے۔ محبت کی نہیں جاتی ہے ، محبت ہو جاتی ہے۔ تم زبان سے کہتے ہو عشق ہے۔ جس سے عشق کا تعلق ہے، وہاں تو تم نے دنیا بسائی ہوئی ہے نا۔
پھر جس دن اﷲ نے تم کو دیکھ لیا پھر وہ عشق کا مقام ہے نا۔ تو پھر میں تیرا اور تو میرا۔اب اﷲ نے تم کو دیکھا نا، اور دوسرا نقطہ ہے تم اﷲ کو دیکھتے ہو۔ وہ دوسرا راز ہے۔ اچھا وہ راز کیا ہے؟ اﷲ تعالٰی نے ساتوں آسمانوں سے ایک ایک چیز اِس جسم میں ڈالی۔ اگر اِسکو ملکوت کی سیر کرنے کا شوق ہوا تو قلب کو منور کر لے گا طاقت ور کرلے گا أس کے ذریعے ملکوت کی طیر سیر کرے گا۔ اگر اِسکو جبروت میں جانے کا خیال ہواتو روح کو طاقت ور کرلے گا ۔ اگر اِسکو لاھوت میں جانے کا خیال ہو، تو لطیفہ سّری کو تیار کرلے گا۔ اگر اُسکو خیال ہوا کہ میں اﷲ کو جا کے دیکھوں تو لطیفہ اناّ کو تیار کرلے گا، نا۔أس نے تمھارے اندر سات مخلوقیں ڈال دیں۔ اب وہ جو مخلوقیں ہیں اب أنکی پرورش گوشت روٹی نہیں ہے۔ أنکی پرورش اﷲ کے نور سے ہے۔ اب جوں جوں اندر اﷲ اﷲ ہو رہی ہے ۔ اﷲ کے نور سے أنکی پرورش ہو رہی ہے۔ جب پرورش ہو رہی تو بالکل بالغ ہو گئیں۔ یہ جو کہتےہیں کہ فلاں ولی نے بارہ سال چّلا کاٹا، تیرہ سال کیوں نہیں کاٹا۔ گیارہ سال کیوں نہیں کاٹا۔ جسطرح پندرہ سال میں بچہ بالغ ہو جاتا ہے۔ نوکری کے قابل ہو جاتا ہے۔ اِسطرح بارہ سال کی عمر میں یہ مخلوقیں حضور پاک کے قدموں کے قابل ہو جاتیں ہیں۔ أس وقت تم نے سوچا کہ دیکھیں حضور پاک کیا کررہے ہیں، تم نے سوچا وہ اس سینے سے نکلیں اور حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں۔ أس وقت بلھے شاہ نے فرمایا ہے کہ "لوکی پانج ویلے، تو عاشق ہر ویلے، لوکی مسیتی، عاشق قدماں"جو لوگ پانچ وقت رب کو یاد کرتے ہیں ۔ نماز بھی رب کی یاد ہے۔ أن کی انتہا نماز مسجد میں باجماعت ہو جائیں گے اور کیا کریں گے۔ اور جو لوگ اِس کے ساتھ ہر وقت اﷲ اﷲ کرتے ہیں حضور پاک کے قدموں میں پہنچ جائیں گے نا ۔ اب تم نے سوچا دیکھیں اوپر کیا ہو رہا ہے، وہ تمھاری مخلوق جو دماغ میں ہے۔ جس کا نام ہے لطیفہ انا ۔ وہ اوپر پرواز کر گئی۔ فرشتوں نے روکا نہیں روکی۔ کہنے لگے جو کچھ بھی ہے بیعت المعمور سے آگے جل جائے گا فرشتے آگے نہیں جا سکتے جلتے ہیں۔ اور وہ بیعت المعمورسے آگے وہاں پہنچ گیا، جہاں رب کی ذات ہے۔ ظاہری جسم سے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچےاور اِن مخلوقوں سے ولیّ وہاں پہنچتے ہیں نا۔ اب ہمارے علماء کہتے ہیں کہ اگر ولیّوں کو دیدار ہوتا، تو صرف خواب کے ذریعے ہوتا۔ جن کے پاس یہ لطیفہ انا ہے۔ اس کے ذریعے جو دیدار ہوتا ہے۔ واقعی ہی وہ خواب کے ذریعے ہوتا ہے۔ کچھ ولی ہیں جنکو اِن مخلوقوں کے علاوہ اﷲ تعالی ایک اور مخلوق دے دیتا ہے۔ جس کو بولتے ہیں جسہ توفیق الٰہی أن کو أس جسے کے ذریعے دیدار ہوتا ہے۔ مراقبے اور کشف کے عالم میں دیدار ہوتا ہے۔
علامہ اقبال نے
فرمایا نہیں۔ ستاروں
سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ اؤ
آگے بھی جا پھر جب آگے گیا تو بولا عشق
کے امتحان اور بھی ہیں۔ عشق
کے پاس پہنچ گیا نا، جہاں عشق ہے۔ عشق تو اﷲ ہی ہے نا۔ خود عشق
ہے، خود عاشق ہے، خود معشوق
ہے۔
جب وہ سیّارہ وہاں پہنچ گیا، ایک دوسرے کو پیار سے دیکھتے ہیں، بھئی اتنے کوسّوں میل دور گیا تو دیکھے گا نا أسکو پیار سے۔ تو یہ وہاں گیا تو وہ بھی أسکو پیار سے دیکھے گا ،نا۔ پھراﷲ تعالٰی فرماتا ہے میں تجھے دیکھ لوں تو مجھے دیکھ لے۔ دیکھتے ہیں خوب دیکھتے ہیں پیاس بجھاتے ہیں۔ پھر أس کا نقشہ وہ نیچے أس کے دل میں آتا ہے۔ أسکی آنکھوں سے اِس کے دل میں آتا ہے۔ پھر اﷲ تعالٰی فرماتا ہے اب تو نیچے چلا جا،اب جو تجھے لے وہ مجھے دیکھ لے۔ نقشہ بتا رہا ہے کہ اوپر کیا ہو رہا ہے۔ اوپر تمھارا لطیفہ ہے سارا نقشہ تمھارے دل میں آرہا ہے۔ اﷲ کا سارا نقشہ اُسکے دل میں آجاتا ہے أسکے لیے بولتے ہیں، أس کو بولتے ہیں کہ کامل مُرشدأسکے لئے پھر سخی سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔ مرشد دا دیدار اے باھو مینوں لکھ کروڑاں حجاں ھو۔أس کے لیے جس کے اندر اﷲ آ گیا ہے۔ پھر فرشتوں کو پتہ چلتا ہے۔ أوپر اعلان ہوتا ہے۔ جبرائیل علیہ السلام اعلان کرتے ہیں کہ فلاں بندہ ہے، جس میں اﷲ آ گیا ہے۔ وہ فرشتے اﷲ کو دیکھ ہی نہیں سکتے۔ تو پھر وہ أس اﷲ کا نقشہ دیکھنے کے لیے أس بندے کے پاس آتے ہیں۔ تو وہ پھر نیچے سو رہا ہوتا ہے اور قطار در قطار آسمانوں تک لائن لگی ہوتی ہے۔ یہ أس بندے کی شان ہے۔ پھر اب مُرشد ملے تو ایسا ملے جو رب کو پہنچائے۔ اب کئی آدمی ہیں جو یہاں بھی مُرشدوں کے مرید ہونگے۔ اپنے مُرشد کو کامل سمجھا تب أس کے مرید ہوئے نا۔ لیکن کیا خبر کس کا مُرشد کامل ہے۔
ایک وقت میں ایک غوث اور تین قطب ہوتے ہیں پوری دنیا میں یہ بیعت کرنے کے
مجاز ہیں۔ جب پوری دنیا میں چار آدمی ہیں تو اس شہر میں پتہ نہیں کتنے ہونگے۔ تو جس شہر میں دیکھو کتنے لاکھ ہونگے۔ اب مُرشد کے بغیر اﷲ بھی نہیں ملتا ہے۔ اب مُرشد کی پہچان بھی کوئی نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ تم کو کامل کی پہچان ہو۔ ایک لاہور کا چور اُس کونے میں بیٹھا دو پشاور کا چور اِس کونے میں بیٹھا دو۔ آپس میں جانتے نہیں ہیں لیکن اُنکی نظریں ٹکرائیں گی۔ وہ سمجھ جائیں گے کہ میرا پیٹی بھائی ہے۔ ایک اﷲ والا وہاں بیٹھا ہے اور ایک اﷲ والا وہاں بیٹھا تو انکے دل آپس میں ٹکرائیں گے نا۔ جب تمھارے دل میں نور جائے گا ۔ تو تم بابا صاحب کے پاس چلے جانا وہاں بھی اللہ یہاں بھی اللہ، دل ٹکرائیں گے نا آپس میں۔ رقت پیدا ہو جائے گی نا۔ سمجھ جاؤں گئے کہ ولیّ کامل ہے۔ پھر دل کی تسلی کے لے داتا صاحب چلے جانا وہاں بھی اوراللہ یہاں بھی اللہ دل ٹکرائیں گے وہاں بھی رقت پیدا ہو جائے پھر تم اپنے مرشد کے پاس چلے جانا جو بات بابا فرید کے ہوئی، جو بات داتا صاحب کے ہوئی اگر مرشد کے پاس جانے سے وہی بات ہوتی ہے تب پھر تمھارا مرشد کامل ہی ہے۔ پھر جان بھی جاتی ہے جانے دئے اُسکو نہیں چھوڑنا۔ پھر تم جیسے بھی ہو آپے ہی لاسی سارا ھو۔ اگر بار بار اُسکے پاس جاتے ہو، بار بار جاتے ہو تو کچھ بھی نہیں ہوتا تو پھر وہ کچھ بھی نہیں ہے نا۔ بیعت کا اختیار صرف ولی کو ہے، ولی کی أولاد کو بھی نہیں ہے ولایت وراثت نہیں ہے۔اگر وراثت ہوتی تو نبّوت وراثت ہوتی۔ اگر نبی کا بیٹا نبی نہیں ہو سکتا تو ولی کا بیٹا ولی کیسے ہو سکتا ہے۔
اگر کوئی شخص نبی نہیں ہے وہ
نبوت کا وعوی کرتا ہے تم اُسکو کہتے ہو کافر ہے اور
واقعی ہی کافر ہے۔ اؤ ماننے
والے کو بھی کہتے ہو کافر۔ اور اگر کوئی ولیّ نہیں ہے تو ولیّ
کا دعویٰ کرتا ہے تو پھر وہ کیا
ہوا۔ وہ بالکل کفر کے نزدیک پہنچ جاتا ہے۔ اور أسکو ماننے والے کمبخت اور
بے نصیب ہی رہتے ہیں اور ولیّ کے لیے ضروری ہے۔ ہمارے ہاں کیا ہے۔ سجّدہ
نشیں ، گّدی نشیں، برسوں سے چلے آرہے ہیں بیعت کر رہے ہیں خالی ہیں۔ کوئی
ہو گا کوئی ایک
آدھ ان میں
ولیّ آیا ہو گا نا سارے تو نہیں ہیں نا۔ ولیّ کے لیے شرط ہے أسکو کو
دیکھا ہوا ہو دوست کو اور أس سے
بات چیت ہو۔ تب وہ تمھاری بیعت کا مجاز ہے۔
اﷲ تعالٰی کے ننانوئے نام ہیں سارے جانتے ہیں۔ ایک ذاتی ہے 98 اٹھا نو ے صفا تی ہیں، 98 اٹھانوے مِل کر بھی اِ سمِ ذ ات والے کو نہیں پہنچ سکے۔ یعنی ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی مِل کر بھی حضور پاکﷺ کو نہیں پہنچ سکے۔ موسٰی علیہ السلام "یا رحمان" کا ذکر کرتے، عیسٰی علیہ السلام "یا قدوس" کا سُلیمان علیہ السلام "یا وہابُ" کا ، داؤد علیہ السلام "یا دوؤدو" کا باقی نبی اپنے اُولعزم مُرسل کا کلمہ پڑھتے۔ ایک دن موسٰی علیہ السلام نے کہا کہ اے اﷲ دیدار دے۔ جواب آیا تاب نہیں ہے۔ کہنے لگے کیا کسی میں تاب ہو گی۔
جواب آیا ایک میرا حبیب اور اُسکی اُمت۔ سُنی،
شیعہ کا نہیں کہا اُمت کا کہا۔ میرا
حبیب اور اُسکی اُمت یہ فرمایا۔
تو موسٰی علیہ السلام کہنے لگے میں اُمتی کے برابر بھی نہیں، نبی ہوں آخر اُمتی کے برابر بھی نہیں، جلوہ دے دیکھی جائے گی۔ جلوہ پڑا تو موسٰی علیہ السلام بے ہوش ہو گئے۔ اب کیا وجہ ہے۔ کہ موسٰی علیہ السلام اِس دنیا میں کوہ طور میں بے ہوش ہوئے۔ حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سامنے جا کے مُسکرا رہیں ہیں۔ ذات، ذات کے سامنے مُسکرایا۔ اور حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے طُفیل وہ اِسم اِس اُمت کو مِلا تب اِس کو فضیلت ہوئی نا۔
ایک حدیث شریف میں ہےکہ قیامت
کے دن اُمتوں کی پہچان نور سے ہو گی۔ باقاعدہ حدیث شریف ہے ہمارے علماء
پڑھاتے ہیں کہ اُمتوں کی پہچان نور سے ہو گی۔ یہ"یا رحمانُ" سے چمک رہے
ہیں موسٰی علیہ السلام کی اُمت یہ اﷲ ھو سے چمک رہے ہیں یہ حضورپاک صلیٰ
اللہ علیہ وسلم کی اُمت۔ اِس اسم کے لیے بنی اسرائیل کے نبی ترستے رہئے،
کیونکہ جو دیدار ہے نا اِسم ذات میں ہے نا۔ أن کو اِسم ذات ملا ہی نہیں
ہے نا۔ وہ بے ہوش ہوتے رہے نبی اور یہ ولی دیدار کرتے ہیں۔
ایک دن عیسٰی علیہ السلام بھی کہہ اُٹھے اے اﷲ بڑا شوق ہے ،تجھے دیکھنے کا ۔ اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ تو نے وہ موسٰی کا حال نہیں دیکھا، کیونکہ عیسٰی علیہ السلام "یا قدوس" کا ذکر کرتے تھے اور وہ بھی صفاتی ، سہم گے۔ پھر دیدار کیسے ھو گا۔ کہا کہ دیدر تو میرے حبیب کو ہے یا أسکی اُمت کو ہے۔ پھرعیسٰی علیہ السلام نے کہا اے اﷲ نبوت سنبھال بس تو مجھے أمتی بنا۔ اب مہدی علیہ السلام آئیں گئے،عیسٰی علیہ السلام أن سے بیعت ہونگے، اُمتی بنیں گے۔اِسم ذات کا ذکر سیکھیں گے تب اﷲ کا دیدار ہو گا۔اؤ یقین کرؤ کہ اِس علم کے
بغیر نمازیں بھی کوئی نہیں ہیں تمھاری۔ یومِ مـحـشـر
کـه جــان گــداز بــود اولــیــن پــرســش از نــمـــاز بــود۔ ہے
نا کہ سب سے پہلے نماز کا پوچھا جائے گا۔ أدھرحدیث "لا
صلواة الا بحضور قلب" دل
کی حاضری کے بغیر نماز ہی نہیں ہوتی تو جو نماز ہی نہیں ہوتی اُسکا کیا
پوچھا جائے گا۔ بھئی دل کی
حاضری کے بغیر نماز نہیں ہوتی جو ہوتی ہی نہیں
اُسکا کیا پوچھا جائے گا۔ وہ
جو نماز ہوتی ہے اُسکا پوچھا جائے گا نا۔ وہ جو تمھاری نمازیں عرش مُعلٰی
میں گونجا کرتی تھی۔ اتنا عرصہ تو نے پڑھی، اتنا عرصہ کیوں چھوڑ دئ؟ أس
نماز کا پوچھیں گے نا۔ نماز کے لیے شرط ہے جو زبان میں ہو وہ دل میں ہو۔ آپ
صادق ہیں۔ اور اگر زبان میں اور ہے، دل میں اور ہے، دنیاوی حساب سے بھی آپ
منافق ہیں نا۔ اگر آپ دنیا کے لیے بھی زبان میں کچھ اور رکھتے ہیں اور دل
میں اور رکھتے ہیں تو منافقت ہے نا۔ اور اﷲ کے معاملے میں زبان میں اور
رکھیں اور دل میں اور رکھیں تو۔ بہت بڑا منافق ہے۔ پھر کوشش کرؤ گے نماز پڑھتا رہوں اور اﷲاﷲ ہوتی رہے۔ اُس وقت زبان کہے گی کہہ دے اﷲ ایک ہے ، دل کہے گا اﷲ ہی اﷲ۔ "اﷲ الصمد" دل کہے گا اﷲ اﷲ" اب جو زبان میں وہ دل میں زبان اقرار کر رہی ہے اور دل تصدیق کر رہا ہے نا۔ اس کو بولتے ہیں "اقرار بالسّان تصدیق بالقلب" زبان دلیل سے منوا رہی ہے کہ کہہ دے اللہ ایک ہے اور دل بغیر دلیل کے مان رہا ہے کہ اللہ ہی اللہ زبان ذکر مفصل میں ہے اور دل ذکر مجمل میں ہے۔ زبان کا تصرف ہے کہ یہاں بولتے ہو امریکے والے سنتے ہیں۔ اور دل کا تصرف ہے یہاں گونجے توعرش معلیٰ والے سنتے ہیں نا۔ یہ تمھاری نماز کو یہ دل عرش معلیٰ میں پہنچائے گا۔
یہ نماز مومن کا معراج ہے نا۔
مومن کا معراج ہے، ولی کا نہیں۔
ولی کی نمازکچھ اور ہے۔ اب اِسکی آواز گئی ہے نا خود تو نہیں گیا نا۔
جب یہ تمھارے اندر روحیں ، مخلوقیں طاقت پکڑ جائیں گی، تو پھر جب اِن کی نماز کا وقت اور، اِن کے خانے کبعے اور۔ تمھارا خانہ کبعہ، اِس جسم کا خانہ کبعہ أدھر ہے۔ اِن کا خانہ کبعہ بیعت المعمور ہے۔ یہ خانہ کبعہ بیعت المعمور کی نقل ہے۔ کیونکہ تم بھی نقل ہو، تو تم کو یہ خانہ کبعہ أسکی نقل میں ملا۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ
السلام کو بیعت المعمور دیکھایا خواب میں اور کہا کہ اس قسم کا خانہ کبعہ
دنیا میں بناؤ۔ یہ جو چیزیں ہیں تمھارے اندر کی اب ایک نقطے کی بات ہے۔
ہمارے علماء ہماری بات یا تو سمجھتے نہیں ہیں۔ یا پتا نہیں ان
کو کوئی بغص ہے کہ کیا
یے۔ لوگ سمجھ جاتے ہیں۔ علماء کیوں نہیں سمجھتے؟ جسطرح ماں بیٹے کو أٹھاتی، بیٹھاتی ہے، اسطرح یہ جسم أس کو رکوع ، سجود کرواتا ہے۔ جب وہ بیٹا جوان ہو جاتا ہے نا تو ماں أسکی کی محتاج ہو جاتی ہے۔ اِسی طرح جو تمھاری روح ہے نا، وہ اپاہج ہے وہ باہر نکل نہیں سکتی ہے نا۔ تو یہ پھر اِس جسم کو کہا گیا کہ تو اِس کو رکوع ، سجود کروا، تیرا احسان ہو گا أس کے أوپر۔اور یہ ہی وجہ ہے کہ یہ جسم
نخرے کرتا ہے۔ اس کو پتہ ہے کہ میں نے تو آگے جانا نہیں ہے نا۔ اؤ خوامخواہ
میرئے أوپر مصیبت ڈال دی ہے اﷲ تعالٰی نے۔ پھر جب وہ ذکوریت سے وہ تمھاری
روح بالغ ہو جائے گی۔ تو پھر یہ جسم بھلے سوتا رہے، بھلے مر جائے اُسکو
پرواہ نہیں ہے۔ پھر وہ جا
کر بیعت المعمور میں نمازیں
پڑھیں گی۔ وہ آزاد ہو جائیں گی ألٹا وہ عرش معلٰی میں جا کر نمازیں پڑھیں
گی۔ اور
أس وقت تک وہ سر نہیں أٹھائیں گی
جب تک اﷲ جواب نہ دئے۔ لبیک یا عبدی۔ لوگوں نے غوث پاک رضی اللہ تعالٰی کو کہا کہ آپ شیخ بقاء کی بڑی تعریف کرتے ہیں وہ تو نماز ہی نہیں پڑھتے۔ توغوث پاک رضی اللہ تعالٰی نے فرمایا تمھیں خبر نہیں وہ ہر وقت کبعے میں سر بسجود ہوتے ہیں۔وہ لوگ معارف بن جاتے ہیں۔ ایک عارف ہوتا
ہے ایک معارف ہوتا
ہے۔ عارف
کیا ہوتا ہے۔ تھوڑی سی أس کی تشریح کر دیں۔ کہ کئی لوگ
درباروں کو ماننے والے ہیں۔ کہتے ہیں یہ عارفانہ کلام ہے تو یہ معارفانہ
کلام ہے۔ پتہ نہیں یہ کیا ہے اور وہ کیا ہے۔ جب کوئی شخص اس جسم سے عبادت
کرتا ہے۔ جنگل میں چلا جاتا ہے، بھوک پیاس بھی سہتا ہے، نمازیں بھی پڑھتا
ہے۔ تہجد کرتا ہے، رؤزے رکھتا ہے۔ أسکی یاد میں روتا ہے۔ جب بھی اﷲ چاہے أس
کے أوپر اپنی تجلی ڈالتا ہے۔ أس کے جسم پہ ڈالتا ہے أس کا جسم ولی ہو جاتا
ہے۔ أس کا جسم ولی ہو گیا وہ جسم سمیت حضور پاک کی محفل میں جا سکتا ہے۔
أدھر معارف کیا ہوتا ہے۔ عارف کو خطرہ ہے ہو سکتا ہے کہ تجّلی سے ہلاک ہو
جائے ،ہو سکتا ہے تجّلی سے مجذوب ہو
جائے۔
جب وہ عارف اس دنیا سے گزر جاتا ہے۔
جسم کو ولایت ملی تھی۔ جسم ختم ہو گیا ولایت ختم ہو گئی۔ أسکا فیض ختم ہو
گیا۔ اور أسکی کسی روح کو ولایت ملی تھی۔ وہ قبر میں ولیّ بن کے بیٹھ
جاتی ہے اور قیامت تک لوگوں کو فیض پہنچاتی رہتی ہے نا۔ وہ عارف تھے اور
یہ معارف ہیں۔
اور ایک اور ثبوت ہے۔ ایک
دفعہ مجدد صاحب مسجد میں گئے دیکھا ایک آدمی سو رہا ہے۔ سوچنے لگے نماز
پڑھ کے سویا ہو گا۔ پھر آپ دوبارہ گئے پھر بھی وہ سو رہا ہے، آپ عصر سے
مغرب تک مسجد میں رہتے۔ مغرب کی ازان ہو رہی ہے وہ سو رہا ہے۔ آپ کو بڑا
غصّہ آیا جھنجھوڑا اٹھ یا تو نماز پڑھ یا مسجد سے نکل جا۔ وہ فوراً اٹھا
جماعت کھڑی ہونے والی تھی بلند آواز سے کہا امام صاحب ٹھہر جائیں۔ امام
صاحب روک گئے۔ وضو کیا فورا نیت کری دو رکعت سُنت وقت فجر سارے دیکھتے ہیں
فجر کا سماں ہو گیا پھر وہ ظہر کی نماز پڑھی ظہر کا سماں ہو گیا۔ پھر عصر
کی نماز پڑھی ۔ایک راوی لکھتا ہے کہ سورج واپس آ گیا۔ اُس
وقت أس نے کہا مجدد صاحب آپ تو صاحب نظر تھے بہتر تھا مجھے جگانے سے پہلے
میرا حال دیکھتے میں تو اُسی کے پاس تھا جس کی تم نمازیں پڑھتے ہو۔ اگر ایک سنت تم پکڑ لو تو سارے گناہوں کا کفارہ۔ سارے فرضوں کا کفارہ۔ وہ کون سی سنت ہے؟دیدارِ خدا۔ اگر وہ ایک ہی سنت حاصل ہو جائے تو۔
اب دوسرا اسکا ثبوت ہے۔ جب حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم شب معراج میں گئے تو دیکھا موسٰی علیہ السلام قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ جسم نہیں پڑھ رہا تھا وہ ان کی مخلوق نماز پڑھ رہی تھی نا۔ أوپر پہنچے، أوپر بھی وہ موجود تھے نا۔ تو پھر أس مخلوق کا ثواب کس کو ملے گا ۔ موسٰی علیہ السلام کو۔اِس کے لیے یہ ہے اب
اسکا طریقہ بتاتے ہیں۔ کہ یہ
دوائی اندر کیسے جاتی ہے۔ اور یہ
راستہ کیا ہے؟
بھٹ شاہ والے کہتے ہیں نماز
روزہ کم سُٹو او رستہ کوئی دوجو۔
بابا فرید رحمتہ اﷲ نے بھی کہا تھا کہ جس راستے میں چلا اگر تم بھی أس
راستے پر چلو تو جنتی ہی جنتی
ہو۔ وہ اِس راستے کا کہا تھا دل والے رستے کا تم لوگ دروازئے سے نکلنا
شروع ہو گئے۔ اؤ دل کا رستہ اور جو بھی
دل کے
رستے پہ جائے وہ
جنتی ہی جنتی ہےنا۔
دیکھیں نا خانہ کبعہ افضل ہے نا یہاں سے۔ اگر وہاں جا کر بھی آدمی جنتی
نہیں ہو سکتا شک ہے نا۔
اگر جنتی ہو جاتا تو مڑ کے آکے فراڈی کیوں ہوتا حاجی؟ یہ حاجی جاتا ہے، مڑ کے پہلے سے زیادہ فراڈی ہو جاتا ہے۔اسکا مطلب ہے کہ أسکا حج قبول کوئی نہیں ہوا ہے نا۔ حج قبول ہو تو جنتی ہے نا۔ اگر وہاں جا کے بھی گارنٹی نہیں ہے۔ تو پھر یہاں کیا گارنٹی ہے۔ أنھوں نے جو کہا تھا اِس دل کے رستے کا کہا تھا۔ اگر دل کا رستہ تمھارا کھل گیا تو گارنٹی ہی گارنٹی ہے۔ یہ أس وقت تک نہیں کھلتا جب تک اﷲ تعالیٰ کی منظوری نہ ہو۔ تو منظوری ہوئی تو گارنٹی ہو گئی نا۔
اِس کا جو طریقہ ہے کوئی بھی ہے ہمیں اِس سے مطلب نہیں۔ کسی بھی فرقے سے
ہے۔ روزانہ 66 مرتبہ سفید کاغذ کے پر کالی پنسل سے اﷲ لکھو۔ آپ تھوڑے دن لکھو گے۔ فجر کی نماز کے بعد اچھا وقت ہے ورنہ جب بھی آپکو وقت میسر ہو۔ لکھیں باوضو۔ بڑے پیار سے لِکھیں ہو سکتا ہے أس وقت وہ دیکھ رہا ہو۔ بھئی وہ دنیا کو دیکھتا ہے نا۔ کیا پتہ أس وقت جب تم لکھ رہے ہو پیار سے۔ وہ دیکھ رہا ہو۔ اگر فرصت ہے تو دن ميں کئی بار اﷲ لِکھیں، تین دفعہ، چار دفعہ۔ جب بھی لِکھیں چھیاسٹھ مرتبہ لکھیں۔ یہ چھیاسٹھ ایک عمل بن جاتا ہے ۔آپ تھوڑے دن لکھیں گے آپ جو کاغذ پر لکھتے تھے، وہ آپ کی آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے گا۔ ۔جب آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے پھر لکھنا بند کر دیں۔ آنکھوں سے پھر توجہ سے أس کو دل کے أوپر أتارنے شروع کریں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں یہ مسمیرزم ہے۔ یہ مسمیرزم! واقعی ہی مسمیرزم اِسی سے نکلا ہوا ہے۔ مسمیرزم والے کیا کرتے ہیں وہ سورج کی یا شمع کی روشنی کو آنکھوں میں لے آتے ہیں۔ اُس سے پھر شیشے کے گلاس پر نظر ڈالتے ہیں، وہ کریک ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ جو ایک لاکھ، اسّی ہزار جالے ہیں۔ وہ سورج کی روشنی اُن کو توڑ نہیں سکتی نا۔ اسم اﷲ جب آنکھوں میں آئے گا تو اﷲ کو یہ تاثیر ہے نا۔ کہ وہ اُِْن کو توڑتا تاڑاتا دل کے اوپر جا کے بیٹھ جائے گا۔جب دل کے اوپر جا کے بیٹھ جائے گا۔ تو دل کی ڈھرکن تیز ہو جائے گی۔ ٹک ٹک ٹک، وہ أسکی تسبیح ہے اَس کے ساتھ پھر اﷲ ھو مِلائیں۔ ایک کے ساتھ اﷲ، ایک کے ساتھ ھو۔ یہاں اﷲ لکھا گیا۔ یہ پولیس کی مہر لگی ہے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے، پولیس والا ہے نا، اﷲ لکھا گیا، اﷲ والا۔ پھر کیا ہو گا وہ جو دل کی دھڑکنیں اﷲاﷲ کر رہی ہیں وہ نور بنائیں گی وہ کالا سا تھا۔ اب پھر تم تجربہ کرؤ۔ تھوڑے عرصے بعد وہ جو کالا سا تھا وہ سفید ہو جائے گا۔ اِس کا مطلب ہے کہ تمھارے اندر نور کا سلسلہ جاری ہو گیا ہے۔ تب وہ سفید ہوا نا پھر ایک دن وہ سورج کی طرح چمک رہا ہو گا۔ جب سورج کی طرح چمک أٹھے تو بےخوف ہو جا بڑی شان و شوکت سے قبر میں چلا جا۔مُنکر نکیر آئیں گے سب سے پہلے پوچھیں گے بتا ترا رب کون ہے پہلا سوال یہی ہو گا، خاموش رہ اُنکو ستا۔ ڈر نہیں أن سے اب تو اﷲ والا ہے تو أنکو ستا۔ پھر پوچھیں گے اؤ تیرا رب کون ہے۔ خاموش! پھر پوچھیں گے، گونگا ہے بتا ترا رب کون ہے۔ کفن ہٹانا دیکھا دینا یہ چمک رہا ہے اﷲ۔ اُنکی جرات نہیں ہے کہ تم سے دوسرا سوال پوچھیں، وہ کہیں گے بندئے خدا آرام سے سو جا السلام علیکُم ہم تو جا رہے ہیں تو جان تیرا رب جانے۔ کیونکہ أن کو پتہ ہے یہ جو اِسم ذات ہے اِس زمانے میں یہ غوث پاک کے پاس ہے۔ یہ کوئ غوث پاک کا مُرید ہے۔ غوث پاک نے70 مرتبہ اﷲ سے وعدہ لیا کہ میرا مُرید اِیمان کے بغیر نہیں جائے گا۔ آپ نے فرمایا میرا مُرید کون ہو گا؟ میرا مُرید وہ ہو گا، جو ذاکر ہو گا۔ پھر فرمایا میں ذاکر اُسی کو مانتا ہوں نا جسکا دل اﷲ اﷲ کرئے۔ جسکا دل اﷲ اﷲ کرئے میں أسکو ذاکر مانتا ہوں۔ اگر بہاؤ الدین نقشبند رحمتہ اﷲ جنکو غوث پاک سے ہی فیض ہے غوث پاک کے مُرید ہیں۔أن کے مُریدوں پے اﷲ نقش ہو جاتا ہے۔ تب أن کو نقشبندی بولتے ہیں نا۔تو کیا غوث پاک کے مُریدوں کے نقش نہیں ہے۔ اور أس اﷲ والے سے وہ کیوں ڈرتے ہیں۔ کیونکہ أنھوں نے حال دیکھا ہے۔ جب غوث پاک قبر میں گئے نا أنھوں نے اپنا حلیہ چھپا لیا۔ غوث پاک نے۔ آ ئے منکر نکیر بتاء تیرا رب کون ہے۔ غوث پاک سے پوچھا، أنھوں نے کیا کیا کہ ایک ہاتھ سے ایک کو پکڑ لیا اور دوسرے ہاتھ سے دوسرے کو پکڑ لیا۔ اؤ اِسکا جواب میں بعد میں دونگا پہلے تم میرے سوال کا جواب دو۔ أنکو غصّہ آیا کہ یہ آدمی کیا کر رہا ہے۔ ہاتھ کھیینچا وہ ہاتھ چھوڑا ہی نہیں سکے وہ اتنی بڑی طاقت۔ اتنی بڑی طاقت انسان میں اتنی طاقت تو نہیں ہوتی ہے۔ أنھوں نے کہا بتاؤ آپ کا کیا سوال ہے۔ کہ جب اﷲ نے آدم علیہ السلا کو بنایا تھا تو تم نے کیوں کہا تھا کہ یہ دنیا میں فتنہ برپا کرئے گا۔ تم کو پتہ نہیں تھا ایسے آدمی بھی اِس میں آئیں گے۔ وہ سہم گئے، وہ سہم گئے کہنے لگے۔ ہم دو تھوڑی تھے سب نے مل کر کہا تھا۔ ایسا کرؤ ہم کو چھوڑ تو ہم أن سے پوچھ کر آتے ہیں۔ سب سے پوچھ کر آتے ہیں۔ أنھوں نے کہا نہیں تم پھر واپس نہیں آؤ گے۔ ایسا کرتے ہیں کہ پھر ایک کو چھوڑ دو وہ پوچھ کے آتا ہے۔ أنھوں نے کہا ٹھیک ہے۔ منکر کو چھوڑ دیا اور نکیر کو پکڑے رکھا۔ جا کے فرشتوں سے پوچھا کہ اس کا جواب کیا دیں۔ أنھوں نے کہا کہ اِس کا تو جواب کوئی نہیں ہے۔ اگر جواب نہیں ہے۔ تو وہ بندہ چھوڑے گا نہیں أسکو، وہ ہمارا بندہ پھنس گیا۔ وہ پھر اﷲ کی طرف رجوع ہوئے۔ کہ اے اﷲ اب تو بتا ہم بندہ کس طرح چھوڑائیں۔ اﷲ نے کہا اب یہی ہے کہ أس سے کوئی معاہدہ کر لو، کچھ أسکی مان لو کچھ منوا لو۔ پھر غوث پاک نے کہا کہ میرے مُرید بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائے گا۔ وہ پھر أس بات سے ڈرتے ہیں کہ غوث پاک نے ہاتھوں سے پکڑ لیا تھا کہیں أن کا مرید بھی نہ پکڑ لے۔رات سونے لگیں انگلی کو قلم
خیال کریں۔ تصور سے دل کے اوپر اﷲ لکھتے لکھتے سو جایئں۔ اِسی میں نید آ
جائے۔ اِس دنیا میں آدھی رات کے وقت خاص فرشتے آتے ہیں۔ کراما
کاتبین سے پوچھتے ہیں ہر آدمی کے بارے میں کہ جب یہ سونے لگا تھا اس کا
آخری عمل کیا تھا۔ صبح پتہ نہیں اِسکی جان ہے یا نہیں۔ وہ کہتے ہیں یہ
عشاء کی نماز پڑھ کے سویا تھا دعا دیتے ہیں اﷲ اِس کو خوش رکھے اور یہ درود
شریف پڑھ کے سویا تھا اﷲ اِس کو بھی خوش رکھے۔ اور یہ آیتہ الکرسی پڑھ کے
سویا تھا آیتہ الکرسی کی لاج
رکھنا اور أس حفاظت کرنا۔ اور
یہ اﷲ ھو پڑھتے پڑھتے أسی کی مستیّ میں سو گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں خاموش
آہستہ بات کرؤ شاید اس کی یاد میں آنکھ لگ گئی ہو اور ہو سکتا ہے ساری رات
تمھاری اﷲ تعالیٰ عبادت میں شامل کر دے، کیونکہ سوتے وقت جو نیت ہوتی ہے
خواب میں بھی وہی کچھ ہوتا ہے۔ وہ اﷲ ھو پڑھتے پڑھتے سو گئے اور خواب میں
بھی اﷲ ھو کرتے رہے۔ جب تمھارا خیال اﷲ کی طرف ہو گا نا، تو خواب میں بھی اﷲ اﷲ ہوتی رہے گی۔صبح اُٹھیں وضو ہے یا نہیں پرواہ نہیں دل کا وضو پانی سے نہیں ہوتا۔ سارا دن پانی میں پڑیں رہیں پانی تو دل میں جائے گا نہیں تو دل کا وضو کیسے ہو گا؟
جب وہ اﷲ کا نور اِس دل کو دھوئے گا اُسکو بولتے ہیں وضو کر لے شوق شرابا
دا۔ تو ذکر خفی کرتے رہیں۔ جب تک دل کی ڈھڑکن سے نہيں مِلتا اُسکو ذکر خفی کہتے ہیں۔ ذکر خفی عبادت ہے کوئی منزل نہیں ہے۔ جب دل کی ڈھڑکنیں پُکار أٹھتیں ہیں اﷲ اﷲ یہ تمھارا طریقت میں پہلا قدم ہے۔ سُنا ہو گا نا شریعت، طریقت، حقیقت۔ شریعت کا تعلق اِس زبان سے ہے اور طریقت کا تعلق اِس دل سے ہے۔
اور جب اﷲ اﷲ کرتے پھر اﷲ تک پہنچ جاتا ہے تو
وہ حقیقت ہے نا۔ حقیقت کا تعلق اِن نظروں سے ہے۔
جب تم نے
کہہ دیا کہ سب کچھ شریعت میں ہی ہے تو اگر کوئی اﷲ کا طالب ہو تو وہیں جا
کے ساکن ہو جائے گا نا۔
اگر أسکو بتاؤ کہ طریقت بھی ہے حقیقت بھی ہے، معرفت بھی ہے۔ پھر رستے میں چل پڑے گا۔
تو پھر جب وہ چل پڑے گا۔ ٹھیک ہے۔ أسکو طریقت نہ ملی، حقیقت نہ ملی چل ہی پڑا تو جو بھی اﷲ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید ہو گیا نا، بھئی أسکی تلاش میں نکلا نا، جہاں بھی مر گیا شہیدوں میں تو گیا نا۔
اب اِسکی اجازت بھی ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ اﷲ ھو سے ڈرتے ہیں کیوں ڈرتے
ہیں جلالی ہے۔ یہ سخت جلالی ہے۔ آگ جلالی ہے
ہر آدمی أس سے ڈرتا ہے۔ أسکے بغیر گزارا بھی کوئی نہیں ہر گھر میں جلتی ہے۔
قانون قدرت ہے کوئی چیز گرمی کے بغیر نہیں پکتی۔ فصل بھی گرمی کے بغیر نہیں
پکتی۔ جب جلنے کو ہوتی ہے تو اﷲ تعالیٰ بارش برساتا ہے۔ تمھارے گھر میں ھانڈی ہے
وہ بھی گرمی کے بغیر نہیں پکتی۔ جب مصالحہ جلنے کو ہوتا ہے تو پانی کے
چھینٹے مارتیں ہیں نا۔ اؤ یہ سینہ بھی گرمی کے بغیر نہیں پکتا ،نا۔ جب یہ
اﷲ ھو سے جلنے کو ہوتا ہے تو
درؤد شریف پڑھتے ہیں نا وہ اس کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔ تم یہاں تحجد پڑھتے رہو۔
شیطان ایک کونے پہ کھڑا ہستا رہتا ہے کیوں تیرا دل تو میرے ہاتھ میں ہے جب
جی چاہوں گا موڑ دوں گا۔ اور
تمھیں شکایت ہو گی میں بڑا تحجد گزار تھا مجھے کیا ہو گیا میں فرض نماز
نہیں پڑھ سکتا۔ اؤ شیطان
نے دل موڑ دیا نا۔ جب کوئی شخص اِس دل میں اﷲ بسانے کی کوشش کرتا ہے۔ شیطان
سوچتا ہے اگر اﷲ اِس کے اندر چلا گیا یہ تو ساری عمر کے لیے میرے ہاتھوں سے
گیا نا۔ اب اُسکو پتہ ہے کہ حضرت انسان اِس اِسم ذات سے ذات تک پہنچ سکتا ہے۔
کوئی لوگ ہیں جو اللہ اللہ کرتے
ہیں أنکے دلوں پے اللہ نقش
ہو جاتا ہے۔ اور قرآن مجید فرماتا ہے
أنکے دلوں پر ایمان لکھ دیا جاتا ہے۔ یہ ایمان ہے یہ اﷲ والے ہو گئے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ اللہ کرتے ہیں اور أنکے سینے پے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا روضہ آجاتا ہے۔ وہ خدا بھی نہیں جدا بھی نہیں پھر وہ کہیں بھی ہے مدینے میں ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اﷲ کا ذکر کرتے ہیں أنکے دلوں پر خانہ کبعہ آجاتا ہے۔
ایک وہ ہو گیا جس میں اﷲ کا نقشہ آ گیا۔ جس میں اﷲ کا نقشہ آ گیا۔ اُس کے لیے اﷲ تعا لٰی فرماتا ہے۔ میں اِسکی زبان بن جاتا ہوں جس سے بولتا ہے، میں اٍسکے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے پکڑتا ہے۔ پھر أس وقت سخی سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں اگر أسکو اﷲ بھی کہہ جاؤ تو بے جا کوئی نہیں ہے۔ اگر أسکو اﷲ بھی کوئی کہہ جائے تو بے جا کوئی نہیں ہے۔اب شیطان کے پاس ہندؤں فوج ہے جناّت کی بمعہ اسلحہ ہے۔ حکم دیتا ہے جا اِسکو برباد کر، تباہ کر، پتہ نہیں یہ کس منزل تک پہنچ جائے۔ تمھارے پاس اک جن نہیں ہے جو اُسکا مقابلہ کرؤ۔ شیطانی فوج تمھارے پہ ٹوٹ پڑئے گی تمھیں روکنے کے لیے جہاں سے یہ ذکر عطاء ہوتا ہے اﷲ تعالٰی اُنکو بھی ایک رحمانی فوج دیتا ہے۔ شیطانی فوج تم پہ ٹوٹ پڑئے گی اور رحمانی فوج شیطانوں پہ ٹوٹ پڑئے گی۔ اور رحمانی فوج اُس وقت تک تمھارا ساتھ دے گی جب تک تمھارے اندر رحمان جاگ نہیں اُٹھتے۔ پھر بندہ نہیں رہے بندہ نواز بن گئے، غریب نہیں رہے غریب نواز بن گئے۔ اس کے لیے ہم نہ آپ کو بیعت کرتے ہیں نہ ہی آپ سے کوئی نذرانہ طلب کرتے ہیں۔ اِک فیض ہے، اِک فیض ہے۔ انگلی کو جب تصور کرؤ کہ میں دل پے اللہ لکھ رہا ہوں توسب سے پہلے تمھارے مرشد کا حق ہے کہتے ہیں کہ مشکل وقت میں مرشد کو پکارؤ۔ اِس وقت تم اﷲ کے لیےاجازت لے رہے ہو اس سے بڑی مشکل کام کون سا آئے گا۔ دیکھو کہ میرا مرشد میری انگلی کو پکڑ کے میرے دل پے اللہ لکھ رہا ہے۔ اگر تو تمھارا مرشد کامل ہے تو پہنچے گا، نا۔ أسکو پہنچنا چاہیے نا۔اگر مرشد نہیں ہے تو جس دربار سے تم کو رغبت ہے اُس دربار والے کا نقشہ لے لو کہ وہ دربار والا میری انگلی کو پکڑ کر میرے دل پر اللہ لکھا رہا ہے۔ اگر دربار والوں سے رغبت نہیں ہے۔ تو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے روضے کو ہی لے لو کہ حضور پاک کے روضے سے مجھے فیض ہو رہا ہے۔ اگر روضے کا بھی دھیان نہیں آتا ہے تو خانہ کعبہ کو ہی لے لو کہ مجھے وہاں سے ہی براہ راست فیض آ رہا ہے۔ أس وقت جو بھی تمھارے سامنے آ جائے وہی تمھارا مرشد ہے۔ شخصیت کو پانا مقصد نہیں ہے مقصد اللہ کو پانا۔کہیں سے بھی حاصل ہو جائے۔ہاں یہ گاڑیاں کھڑی ہوئی ہیں ۔ کسی بھی گاڑی پے آپ سوار ہو جائیں یہ نقشبندیوں کی بھی گاڑی ہے، چشتیوں کی بھی ہے، قادروں کی بھی ہے، سہروردیوں کی بھی ہے، جس کا دیکھیں انجن سٹارٹ ہے أس میں جا کے بیٹھ جا ئیں۔ اگر ایک پہ بیٹھے ہو نہیں چلتی ہے تو دوسری پہ بیٹھ جاؤ نا جرم نہیں ہے۔ جس کا انجن سٹارٹ ہے أس پہ بیٹھ جاؤ نا کوئی جرم نہیں ہے۔ لیکن اگر چلتی گاڑی ہے أس پہ بیٹھ گئے ہو وہ چل رہی ہے تو پھر اگر تم اترنا چاہتے ہو تو پھر زخمی ہو گے نا۔ پھر نہ تم اِدھر کے نہ أدھر کے۔ اگر تمھارے اندر یہ قلب کا فیض جاری ہے ۔ تو پھر تو تم کو مُبارک ہی ہے۔ پھر اجازت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اگر قلب کو فیض جاری نہیں ہے۔ پھر کہیں سے بھی بیعت ہو پھر ہم جانیں اور وہ جانیں۔پھر کہیں سے بھی بیعت ہو یا نہیں ہو۔
ہم تمھارا أس وقت
تک ساتھ دیں گئے جب تک تم روشن ضمیر نہیں بن جاتے۔ اِس کے لیے اگر دل میں
اللہ اللہ شروع ہو گئ تو دُعا
دے دینا۔ اگر اللہ اللہ شروع نہ ہوئی تو جو دو چار پانچ سات دن پریکٹس
کری أس کا ثواب تو مل جائے گا نا۔
اِس وقت ہر آدمی اپنے آپ کو
کہتا ہے کہ اللہ کا مجھ پہ بڑا کرم ہے۔ کسی سے پوچھو کیا حال ہے؟ بڑا
کرم ہے۔ کیوں؟ کار بنگلہ ہے
کرم نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ اؤ دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کیا حال ہے؟ بڑا
کرم ہے۔ کیوں؟ اتنا
بڑا آفسر ہوں کرم نہیں تو اور کیا ہے۔ ایک بابا جی سے پوچھا کہ کیا حال ہے؟ بڑا
کرم ہے۔ کیوں؟ اتنا بڈھا ہوں،
اتنی صحت ہے کرم نہیں تو کیا ہے۔ تو ہم
کہتے ہیں کہ اگر تم اسکو کرم سمجھتے ہو تو یہ چیزیں تو کافروں کے پاس بھی
ہیں۔ جو کافروں کو دیں وہ تمکو دیں
تمھارے اوپر کیا کرم ہوا؟ اگر
تم نے دیکھنا ہے کہ واقعی ہی تمھارے أوپر اﷲ کا کرم ہے۔ أس کے ذکر میں لگ
جاؤ دو چار پانچ چھ دن میں اللہ اللہ شروع ہو گئی۔ أس کا کرم ہوگیا۔ "فذکرونی
اذکرکم" تو مجھے یاد کر میں تجھے یاد کرؤں۔
یاد أسی کو کیا جاتا ہے جس سے دوستی ہو جائے۔ ہو سکتا ہے دولت دے کے أس نے تم کو اپنے آپ سے ہٹا دیا ہو۔
پھر جب اللہ اللہ شروع ہو
گئی۔ تو پھر کار بنگلہ دیا تو وہ کرم ہے نا۔ پھر آفسری دی تو پھر وہ کرم
ہے نا۔
اپنے آپ کوآزمانے کا راز ،اپنے مرشد کو آزمانے کا راز اللہ کو میرے اوپر کتنا مہربان ہے، بس یہ ہی کسوٹی ہے۔
اِس رستے میں پانچ سات دن میں پتہ چل جاتا ہے کہ تم کیا ہو۔ اگر تمھارے اندر اللہ اللہ شروع ہو گیا ۔ پھر گارنٹی ہی گارنٹی ہے نا۔ اِسی رستے کے لیے بابا فرید نے فرمایا تھا کہ گارنٹی ہی گارنٹی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جس میں ذرا بھی نور ہے معمولی سا بھی نور ہے۔ وہ دوزخ میں نہیں جائے گا۔ یہ أسکی گارنٹی ہے نا۔اس کے لیے ذکر لینا چاہیں ذکر لیں اپنی قسمت آزمائیں۔مطلب ہے کہ بہت سے لوگ ہونگے جو ویسے ہی چسکے کے طور پے آئے۔ بہت سے لوگ ہونگے جو دیکھنے کے لیے آئے۔ سننےکے لیے آئے۔
تو بہت سے
اہل دل ہونگے نا جن کو دل کی طلب ہو گی نا۔
اب جس کو بھی دل کی طلب ہے أس کے لیے ضروری ہے اقرار وہ بھی کرے میں بھی کرؤں۔ أس کے لیے ضروری ہے وہ مجھے دیکھے میں أسکو دیکھوں۔
اللہ ھو*****اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو
تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔
|
|
© 1998-2010 All Faith Spiritual
Movement Intl' |