SELECT YOUR LANGUAGE:    ENGLISH    or   INDONESIAN

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے

اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر)

مرکزی صفحہ  تعارف  حضرت عیسی  کرشمہ قدرت  الحجرالأسود  تعلیمات  دینِ الٰہی  پروگرام  تصانیف  ویڈیو  رابطہ    

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی مدظلہ العالی

کا پاک پتن شریف (مزار حضرت بابا فرید) میں عظيم الشان اجتماع سے روحانی خطاب

 

آعوذبااﷲمن الشیطن الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

عزیز ساتھیو السلامُ علیکمُ:۔


 

آپ کے شہر میں پہلے بھی کئی مرتبہ آنا ہوا۔ آنے کا مقصد کوئی سیاست نہیں ہے۔ کسی فرقے کی دِل آزاری نہیں ہے۔ کوئی حکومت پر نُکتہ چینی نہیں ہے۔ ہر شہر میں، ہر مُحّلے میں، ہر گھر میں کچھ دل والے ہوتے ہیں۔ اُن دل والوں کو نکالنا مقصد ہے، اور دل کی آواز اُنکے ضمیر تک پہچانا۔
 

حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کےزمانے میں دو طرح کا علم تھا۔ ایک زبان والوں کے لیےجس کو شریعت کہتے ہیں ۔اور ایک دل والوں کے لیے جس کو طریقیت کہتے ہیں ۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جن لوگوں نے ظاہری علم پر قناعت کری، اُنھی میں سے کوئی خوارج ہوا اور کوئی منافق ہوا۔ اور جن لوگوں نے وہ دل والا علم بھی حاصل کیا وہ تو صحابی یا رسُول اﷲ کہلائے ولیّوں سے بھی اعلی مقام حاصل کر کے چلے گئے۔
 

اور آج اِس زمانے میں جو لوگ صرف ظاہری علم پرقناعت کیے بیٹھے ہیں ، وہ تو72 فرقوں میں تقسیم ہو گے۔
 

جو دل والوں کے مدرسے ہیں وہ جنگلوں میں ہیں جو زبان والوں کے مدرسے ہیں وہ شہروں میں ہیں۔ جنگلوں میں تو مدرسے نہیں ہوتے نا۔ پھر یہ لوگ جنگلوں میں کس مدرسے کے لیے چلے گئے۔ جو دل والوں کے مدرسے ہیں وہ جنگلوں میں ہیں جو زبان والوں کے مدرسے ہیں وہ شہروں میں ہیں۔ لوگ کہتے ہیں ہم نے دل دیکھا ہے، گوشت کا لوتھڑا ہےِ أسکی زبان ہی نہیں ہے تو وہ اﷲ اﷲ کیسے کرے گا۔ وہ کہتے ہیں  یہ درویشوں کا خیال ہے۔ اگر تمھیں یقین ہو جائے کہ واقعی تمہارہ دل اﷲ اﷲ کرسکتا ہے، یقین کرؤ تمھیں اِس کے بغیر نید ہی نہ آئے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ جو تمھاری زبان ہے یہ بھی تو گوشت کا لوتھڑا ہے نا۔ اؤ یہ اﷲ اﷲ کیسے کرتی ہے۔  یہ دو جبڑوں کے درمیان گوشت لٹکا ہوا ہے اور وہ گوشت دو پسلیوں کے درمیان لٹکا ہوا ہے یہ بھی گوشت اور وہ بھی گوشت۔ جب اﷲ تعالی نے جسم بنایا أس میں روح ڈالی، روح کی امداد کے لیے چھ اور مخلوقیں ڈالیں۔ جنکو لطائف کہتے ہیں

حدیث شریف میں باقاعدہ أن کے نام ہیں قلب، روح، سّری، خفی، اخفیٰ، اناّ، نفس۔

کسی کا کام سوچنے کے لیے، کسی کا کام سونگھنے کے لیے، کسی کا کام بولنے کی لیے، کسی کا کام چلنے کے لیے۔ وہ سات مخلوقیں اِس تمھارے جسم میں ڈال دیں۔ أن سات مخلوقیں کی امداد کے لیے نو جسے اور ڈال دئیے۔ سولہ مخلوقیں تمھارے جسم میں ڈال دیں۔
 

ایک مخلوق ہے جس کا نام ہے لطیفہ اخفیٰ۔ وہ سینے کے درمیان میں ہے۔ جسطرح یہ جّن فرشتے ہیں
 

أسطرح وہ مخلوقیں ہیں جسکو سائنس حواس خمّسہ بولتی ہے۔ ایک مخلوق ہے جو سینے کے درمیان میں ہے۔
 

وہ مخلوق بولتی ہے اِس گوشت کے لوتھڑے کے ذریعے۔
 

اگر کسی کی وہ مخلوق نہ ہو تو ڈاکٹر کہتے ہیں کہ زبان تو صیحیح ہے، یہ بولتا کیوں نہیں ہے۔
 

انسانوں اور جانوروں میں اِن مخلوقوں کا فرق ہے۔ اگر یہ مخلوق جانوروں میں ہوتی تو وہ بھی کچھ نہ کچھ بولتے نا۔
 

أن کے بھی گلّے ہیں اور أن کی بھی زبانیں ہیں۔


 

اب وہ جو گوشت کا لوتھڑا دل ہے ٲسکو بولوانے کے لیے بھی ایک مخلوق ہے۔ عربی میں گوشت کے لوتھڑے کو "فواد" کہتے ہیں۔ اور وہ جو مخلوق ہے أس کو قلب کہتے ہیں، أس کو قلب کہتے ہیں۔ دل اور قلب میں فرق ہے اب یہ جو مخلوق ہے یہ آزاد ہے اور وہ جو قلب ہے ایک لاکھ اسّی ہزار جالوں کے اندر بند ہے۔ اگر کوئی ٲس کو بھی جگا لے، آزاد کرا لے تو جسطرح یہ زبان اﷲ اﷲ کرتی ہے۔ اِسطرح وہ گوشت کا لوتھڑا دل بھی اﷲ اﷲ کرتا ہے۔


اب وہ آزاد کیسے ہو؟ اگر کسی شخص نے! کوئی شخص انڈے کی خاصیت سے بے خبر ہو، أسے کہا جائے یہ ہوا میں أڑے گا یہ چوں چوں کرئے گا۔ وہ کہے گا تو غلط کہتا ہے نہ اسکی ٹانگیں ہیں، نہ زبان ہے، نہ پر ہیں، تو کہتا ہے یہ ہوا میں أڑے گا۔ أسکا نام بیضہ ہے تمھارے اندر بیضہ ناسوتی ہے۔ ٲس میں ایک چوزہ بند ہے اور اِس میں ایک فرشتہ بند ہے۔ أسکو ظاہری گرمی کی ضرورت ہے۔ اور اِسکو اﷲھو کی ضربوں کی ضرورت ہے۔ ٲسکو مُرغی چاہیے اور اِس کو مُرشد چاہیے۔ مُرغی کیا کرے گی ٲسکے حساب سے ٲسکو گرمی پہنچائے گی۔ جب دیکھے گی کہ ہیٹ زیادہ پکڑ گیا، تو أٹھ کے چلی جائے گی۔ اور مُرشد ٲسکے سینے کے حساب سے أس میں اﷲ کا نور پہنچائے گا۔

اب أسکی مرضی ہے نظروں سے پہنچائے، سینے سے سینہ ملا کر پہنچائے یا ذکوریت کے ذریعے پہنچائے۔

جب وہ انڈا پھٹے گا۔ أس میں سے ایک چوزہ نکلے گا بغیر سیکھے سیکھائے چوں چوں کرئے گا۔ کیوں؟ چوں چوں اُسکی فطرت ہے اور جب یہ پھٹے گا تو اس میں سے ایک فرشتہ نکلے گا۔ بغیر سیکھے سیکھائے اﷲ اﷲ اﷲ اﷲ کرئے گا۔ أس وقت تم اﷲ اﷲ نہیں کر رہے۔ وہ جو تمھارے اندر ایک چیز ہے وہ اﷲ اﷲ کر رہی ہے نا۔ اب تم أس کے أستاد ہو گئے تمھاری تسبیح یہ ہے جو بازاروں میں ملتی ہے۔ اور أسکی جو تسبیح ہے وہ تمھارے اندر ہے وہ جو ٹک ٹک کرتی ہے۔ اب تم نے أسکو کہا کہ تو اس ٹک ٹک کے ساتھ اﷲ اﷲ ملا۔ اب أس نے دل کی ڈھڑکن کے ساتھ اﷲ اﷲ ملانا شروع کر دی۔ کبھی ملی، کبھی ہٹی تین سال کے بعد اتنا پختہ ہو گئی کہ تم ڈٹ کے سوتے رہے اور اﷲ اﷲ ہوتی رہی۔ أس وقت سخی سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ

کچھ جاگدئے سوتے ھو، کچھ سوتے جاگدئے ھو

کچھ لوگ ایسے ہیں جو جاگ کر ساری رات عبادت کرتے ہیں لیکن سوئے ہوں میں شامل
اور کچھ لوگ بستروں پر سو رہے ہیں اُن کے دل اللہ اللہ کر رہے ہیں۔


اب پھر کوئی بھی چیز آپس میں رگڑا کھاتی ہے۔ پانی ٹھنڈا ہے لیکن جب آپس میں رگڑا کھاتا ہے تو بجلی بن جاتی ہے۔ لوہا جب لوہے سے رگڑ کھاتا ہے تو چنگاری أٹھتی ہے۔ اﷲ جب اﷲ سے ٹکراتا ہے تو نور بنتا ہے۔

اِک سِکھ نے کہا کہ تُمھارے اکابر کہتے ہیں۔ تم لوگ کہتے ہو قرآن میں نُور ہے۔ وہ کہنے لگا میں تُمھارا جاسوس رہ کر آیا تُمھارے بچوں کو میں قرآن پڑھتا رہا، بیس، پچیس سال پڑھایا۔ اگر أس میں نور ہوتا تو میں نُوری کیوں نہیں ہوا؟ عیسائی بولا کہ میں بھی شب و روز تُمھارے قرآن کا مطالعہ کرتا ہوں نُوری میں بھی کوئی نہیں ہوا۔ تو ہم نے کہا تم نے دل سے نہیں پڑھا۔ تو وہ کہنے لگے ہم نے دل سے نہیں پڑھا تمھارے مُسلمان تو دل سے پڑھتے ہیں نا، وہ نُوری کیوں نہیں ہوئے؟ اگر قرآن میں نور ہے تو اتنے بہتر فرقے کیوں بن گئے ساری نوری ہوتے نا۔ بات تو بڑی معقول تھی، اس کا جواب بھی کوئی نہیں ہے۔

اب جس قرآن میں نور ہے۔ وہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے سینے مبارک میں نوری الفاظ ہیں۔ یہ جو قرآن ہے اس سے نور بنایا جاتا ہے۔ کیونکہ کاغذ بازار سے خریدا ہے، پرینٹینگ کروایا تو باہر آگیا۔ اِس میں کئی ہاتھ لگے ہیں۔ کئی مشینیں لگیں ہیں۔ اس سے نور بنایا جاتا ہے۔ لوہا لوہے سے ٹکڑاتا ہے چنگاری اُٹھتی ہے، قرآن کی آیتیں جب آیتوں سے ٹکراتیں ہیں تو نُور بنتا ہے نا۔ تم نے کبھی نور بنانے کی کوشش کری؟

عامل حضرات ہیں سورۃ المزمل کا عامل لے لو وہ سورۃ المزمل کی بار بار تکرار کرتا ہے، بار بار تکرار کرتا ہے۔ أس تکرار سے وہ نور بنتا ہے نا۔ اب جو وہ نُور بنتا ہے وہ زبان سے باہر جاتا ہے اندر نہیں جاتا ہے نا۔ أس عامل نے جو مخلوقیں قابو کری نا وہ أن کی غذا ہیں۔ کچھ لوگ تسبیح کے ذریعے نور حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ جو ٹِک ٹِک ہے اس کے ساتھ اﷲ اﷲ ملاتے ہیں۔ بغیر ٹِک ٹِک کے بھی اﷲ اﷲ ہو سکتی ہے۔ تو پھر ٹِک ٹِک کے ساتھ اﷲ اﷲ کیوں ملاتے ہیں۔ کیوں أنگلیوں کو تھکاتے ہیں۔ وہ اﷲ اﷲ کا ٹکراؤ ہوتا ہے أس ٹِک ٹِک کے ساتھ۔ جب وہ ٹکراؤ ہوتا ہے تو نور بنتا ہے۔ لیکن وہ نور أنگلیوں میں ہے نا اندر نہیں جاتا ہے نا أنگلیوں میں رہتا ہے نا۔ جب وہ تمھارے دل کی دھڑکنیں اﷲ اﷲ پکارنا شروع کرتی ہیں۔ تو پھر وہ جو اندر رگڑا لگتا ہے، وہ جو نور بنتا ہے، تو وہ باہر نہیں جاتا ہے۔ وہ تمھارا خون میں جاتا ہے۔ جب خون میں جاتا ہے، تو خون سے پھر نسّوں میں جاتا ہے تو نسّوں سے پھر تمھاری روحوں تک جاتا ہے۔ جب روحوں تک جاتا ہے تو روحیں بھی اﷲ اﷲ پکارنا شروع کر دیتی ہیں پھر تم قبر میں چلے جانا تو وہاں بھی اﷲ اﷲ اور یومِ محشر میں بھی اﷲ اﷲ وہ روحیں کرتی رہیں گی نا۔

اب چھ مخلوقیں ایسی تھیں جو علوّی تھیں۔ نہ نوری تھیں نا ناری تھیں۔ ایک مخلوق جسکو نفس بولتے ہیں وہ شیطانی تھی۔ وہ جب اِس جسم میں آئی أ س وقت بلھے شاہ نے فرمایا۔ 

اِس نفس پلیت نے پلیت کیتاں آساں منڈھوں پلیت نہ سے

یہ گوشت ہے یہ کوئی پلیت تھوڑا ہی ہے۔ وہ جو اندر روحیں ہیں وہ بھی پلیت کوئی نہیں ہیں۔ 
وہ جب نفس آیا، نا تو یہ جسم پلیت ہوا نا۔ اب جب تک نفس پاک نہیں ہو گا تم پاک نہیں ہو گے نا۔ تم پلیت ہو نا۔

ایک حدیث شریف میں ہے کچھ لوگ قرآن پڑھتے ہیں۔ قرآن أن کے أوپر لعنت کرتے ہیں۔ وہ جن کے نفس عمارہ ہیں، جن کے نفس کتے ہیں۔ وہ ناپاک ہیں نا۔
ایک حدیث میں ہے کہ جس گھر میں کتا ہو وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ اِس کتے نے کہا مجھے نہیں کہا، أس کتے کو کہا ہے۔ اؤ أس کتے کو کیوں کہا۔ وہ تو آدم علیہ السلام کی حفاظت کے لیے جنت میں بنایا گیا ۔ آج تک وہ آدمی کی وہ حفاظت کر رہا ہے نا۔ أسکا کیا قصور ہے۔ أسکو اگر گلی کے کونے پے بندھ کے آؤ گے تمھاری حفاظت کیا کرئے گا۔ وہ اِس کتے کو کہا، جن لوگوں کے اندر یہ کتے ہیں۔ وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔

مجدد صاحب فرماتے ہیں۔ مقتدی کو چاہیے پہلے ذکر اﷲ کرئے اپنے نفس کو پاک کرئے۔ قرآن اُن لوگوں کے پڑھنے کے قابل نہیں، جنکے نفس کتے ہیں۔ فرماتے ہیں مکتوبات شریف میں کہ جب نفس پاک ہو جائے پھر قرآن پڑھے۔
ایک لمحہ فِکریہ سو سال کی عبادت سے بہتر ہے أس وقت قرآن اندر أترئے گا نا۔
 

بھئی اب تو قرآن کتاب سمجھتا ہے نا ڑٹتا ہے نا۔ أس وقت قرآن تیرے اندر جائے گا نا۔ ایک ایک آیت کےاوپر تو پھر غور کرئے گا نا۔ قرآن خود فرماتا ہے "ھدی اللمتقین" پاکوں کو ہدایت ہے اس سے۔ جن کے جسم پاک ہو گئے أنھوں نے اِس سے ہدایت حاصل کری۔ خود بھی ہدایت حاصل کری اور لوگوں کو بھی ہدایت پے لے کر آئے۔ وہ جن کے نفس پاک تھے۔ أنھوں نے کافروں کو مُسلمان بنایا نا۔ اور جن کے نفس پاک نہیں ہوئے۔ جن کے اندر قرآن نہیں أترا۔ جب أنھوں نے قرآن سے تبلیغ کرنا شروع کر دی تو أنھوں نے فرقے بنا دئیے نا۔ أنھوں کافروں کو مُسلمان بنایا مطمئنہ والوں نے۔ اور عمّارہ والوں نے مُسلمانوں کو کافر کہا۔ کسی نے کہا وہ منافق ہے، وہ کافر ہے، وہ مُشرک ہے، وہ یہودی ہے۔

اب وہ جو نفس ہے أسکو پاک کیسے کریں گے۔ أسکو پاک کرنے کے لیے بابا فرید جیسی ہستیاں، غوث پاک جیسی ہستیاں، اجمیر شریف والی ہستیاں جنگلوں میں چلیں گئیں۔ أس نفس کو پاک کرنے کے لیے۔ اب وہ شہری کیسے پاک کریں۔ بھئی أنھوں نے تو جنگلوں میں پاک کئے نا۔ اب وہ شہری کیسے پاک کریں۔ شہری تو جنگلوں میں جانے سے ڈرتے ہیں نا۔ اب وہاں تو سانپ بھی ہیں، تو ریچھ بھی ہیں، تو شیر بھی ہیں۔ یہ تو ڈرتے ہیں۔ پھر یہ نفسوں کو پاک کیسے کریں۔؟

جب تمھاری وہ نس نس میں اﷲ اﷲ گونجے گا ۔ وہ اﷲ اﷲ نس نس میں گونجے گا۔ وہ جہاں تمھارا نفس ہے۔ ناف میں نفس ہے وہ أسکو چاروں طرف سے گھیر لے گا اﷲ اﷲ۔ جب أسکو چاروں طرف سے گھیر لے گا۔ اب أسکے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ کوئی تو نفس ہیں وہ تو نوری غذاء نہیں لیتے مر جاتے ہیں۔ مرنے دو جان چھوٹ گئی۔ تو کئی ڈرپوک قسم کے بھی نفس ہیں ۔ وہ مرتے نہیں ہیں وہ زندہ رہنے کے لیے نور ہی حاصل کر لیتے ہیں صرف زندہ رہنے کے لیے نور حاصل کرتے ہیں۔ پھر جب نور حاصل کرتے ہیں۔ تو أس کے لیے شرط یہ جو اندر مخلوقیں ہیں وہ شرط لگاتیں ہیں کہ کلمہ پڑھ ۔ پھر وہ باحالت مجبوری کلمہ پڑھنا شروع کر دیتے ہے۔ کلمے کے اثر سے کالا کتا تھا، پھر وہ سفید کتا ہو گیا۔ پھر کلمے کے اثر سے اُسکی شکل بیل کی طرح ہو گئی، پھر کلمے کے اثر سے اُسکی شکل تمھاری طرح ہو گئی۔ پھر تم نماز پڑھنے لگے ساتھ أس نے بھی نماز پڑھی۔ پھرتم ذکر کرنے لگے ساتھ وہ بھی جھوما۔

پھر اُسکو پکڑ کر حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محفل میں لے گئے۔ اُس وقت حضورپاک ﷺ اور حاضرین عش عش کر اُٹھے۔

 آفرین ہے اِس کے اوپر اور اِسکے مُرشد کے اوپر۔ کتے کو پاک کیا اِنسان بنایا اور میری محفل میں لے آیا۔

یہ ہی ہے فنا فی الرسول کا مقام، تمھاری پہنچ حضور پاک تک ہو گئی۔


اب رہ گیا اﷲ۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم اِس دنیا میں ہیں نا اور روح مبارک أوپر ہے۔ لیکن کچھ لطائف اِس دنیا میں ہیں۔ اﷲ ساری دنیا ختم ہوتی ہے۔ پھر بھی أسکا نام و نشان نہیں ہے۔ اچھا اﷲ تک پہنچنے کا طریقہ۔ جب تمھارے اندر چوبیس گھنٹے اﷲ اﷲ شروع ہو جائے گی۔ تو تمھارے دل میں اﷲ کا نور آ جائے گا۔ ایک حدیث شریف میں ہے کہ یہ جو ظاہر ہے یہ باطن کا عکس ہے۔ اِدھر جو نظام ہے بجلی کا ہے۔ أدھر جو نظام ہے وہ نور کا ہے۔ یہاں موبائل فون پڑا ہے بجلی کی لہریں یہاں سے اُٹھتی ہیں، امریکہ پہنچ جاتی ہیں، اگر بجلی کی لہریں یہاں سے اُٹھتی ہیں امریکہ پہنچ جاتی ہیں۔ اگر کسی میں نُور ہو گا تو وہ لہریں اُٹھیں گی تو کہا جائیں گی۔ وہ لہریں یہاں سے اُٹھیں گی عرش معٰلی میں پہنچ جائیں گی۔ اب صرف تمھارا تعلق جو ہے نا عرش معٰلی سے أس نوری ٹیلیفون کے ذریعے ہوا ہے۔ اب أن لوگوں سے بات چیت کرنی ہے نا۔ ابھی تو صرف کُنیکشن لگا ہے نا۔

جب حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم شب معراج میں گئے تو اﷲ تعالیٰ نے آپ کو نمازیں تحفے کے طور پے دیں۔ آپ کے لیے نہیں دیں، آپ تو دنیا میں آنے سے پہلے بھی نبی تھے۔ جب نمازیں نہیں أتریں تھیں تب بھی نبی تھے دیں تو اِس اُمت کے لیے دیں۔ کہ یہ تحفے اپنی اُمت کو دے دینا تاکہ وہ مجھے بھیجیں گے نا ، وہ مجھے بھیجیں گے پانچ وقت بھیجیں گے پھر میں اُنکو یاد رہوں گا وہ مجھے یاد رہیں گے۔ 

اب وہ تحفے نیچے آگئے ۔اب اِن تحفوں کو أوپر پہنچانا ہے نا۔ تو اب أوپر أس ٹیلیفون کے بغیر تو نہیں جا سکتے نا۔ اگر تمھارے اندر نُوری ٹیلیفون ہے تو وہ تحفے تمھارے عرش معلٰی میں ہیں۔ اگر وہ نوری ٹیلیفون نہیں ہے تو وہ تحفے تمھارے اِسی دنیا میں، اِسی کاروبار میں، اِسی آٹے میں، اِسی بیوی بچے میں، اِسی میں ضائع ہو جائیں گے۔

اب صرف أس کی آواز جو ہے نا وہ عرش معلٰی میں جاتی ہے۔ أسکو بولتے ہیں مومن۔ وہ نماز مومن کا معراج ہے۔ 


سورة الحجرات میں ہے "اعراب نے کہا کہ ہم اِیمان لے آئے،اﷲ تعالٰی نے فرمایا، نہیں اِنکو کہو صرف اِسلام لائے مومن تب بنوں گئے جب نُور تمھارے دل ميں اُترے گا"۔ جب تمھارے دل میں نور اُتر آیا نا تو تم أمتی ہو گئے نا۔ اِس وقت تمھارے بہتر فرقے ہیں نا، سُنی، شیعہ، وہابی۔

سارے ہی کہتے ہیں ہم صحیح ہیں نا۔ تو فرقہ کیوں صحیح ہوا۔ فرقہ کبھی صحیح نہیں ہو سکتا ہے یہ نکلا ہوا ہے بٹا ہوا ہے۔ یہ جس سے نکلا ہے وہ صحیح ہے نا۔  یقین کرؤ نہ سُنی صحیح ہے، نہ شیعہ صیحیح ہے نہ وہابی صحیح ہے۔ اگر صحیح ہے تو أمتی صحیح ہے نا۔ 
 

اور أمتی کیا ہوتا ہے۔ جس میں اﷲ کا نور ہوتا ہے وہ أمتی ہوتا ہے نا۔ جب وہ نور نکل گیا تو سُنی، شیعہ ، وہابی بن گیا نا۔ تو جب وہ نُور دوبارہ آجائے گا کبھی نہیں کہوں گئے میں سُنی ہوں ، میں شیعہ ہوں، میں وہابی ہوں۔ یہی کہوں گئے، بس اُمتی ہوں تُمھارا یا رسُول اﷲ۔ 


اب جب تمھارے دل میں نور آگیا۔ جس طرح مغرب میں میگنیٹ پہاڑ ہیں۔ یہاں قطب نما ہے۔ جس شہر میں لے کے جاؤ گے۔ أس کا رخ أدھر ہی ہو گا۔ اگر تمھارے دل میں نور آ گیا تو تم جس بھی فرقے سے ہو گے۔ تمھارا رخ اﷲ کی طرف ہو گا۔ بھئی مرکز ہی وہ ہی ہے۔ رخ بھی أدھر ہو گا۔ کسی بھی فرقے سے ہو۔
 

اب رہا سوال اب پہلے پتہ لگے کہ اﷲ کا دین ہے کیا؟ أس کا دین سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ 
 
توریت میں کچھ اور دین ہے، زبور میں کچھ اور دین ہے، انجیل میں کچھ اور دین ہے ، اور قرآن میں کچھ اور دین ہے۔ تو پھر أس کا دین کیا ہے۔ أس کا دین عشق ہے۔ أس کا دین عشق ہے۔ 
اور جب کوئی أسکا عاشق ہو جاتا ہے۔ تو وہ أسکا ہو جاتا ہے نا۔ 

اب آپ تقریریں سنتے ہیں کہ جب تک محبت عشق نہیں حضور پاک سے اﷲ تعالی سے ایمان مکمل نہیں ہے۔ یہ ہی سنتے ہیں نا ، سنتے ہیں نا، دؤائی کی تعریف سنتے ہیں نا۔ دؤائی تو نہیں ملتی ہے نا۔ دؤائی ملے تو عشق و محبت آئے نا۔ چلو وہ دؤائی کا طریقہ بھی بتا دیں گے کہ اندر عشق و محبت کیسے آتا ہے۔ جب اس تمھارے دل میں اﷲ اﷲ ٹکرائے گا۔ کوئی بھی چیز دل ميں بس جائے اُس سے محبت ہو جاتی ہے، کوئی بھی چیز۔ جب اﷲ اﷲ اِس دل ميں بس جائے گا تو اﷲ سے محبت ہو جائے گی نا۔ جب اﷲ سے محبت ہو جائے گی۔

اب تم کہتے ہو مجھے اﷲ سے، اﷲ کے حبیب سے بڑا عشق ہے۔ تم کہتے ہو مکار ہو۔ 
محبت، عشق کا تعلق زبان سے نہیں ہے۔ محبت، عشق کا تعلق دل سے ہے۔
محبت کی نہیں جاتی ہے ، محبت ہو جاتی ہے۔ تم زبان سے کہتے ہو عشق ہے۔ 
جس سے عشق کا تعلق ہے، وہاں تو تم نے دنیا بسائی ہوئی ہے نا۔ 


ہر وقت اﷲ اﷲ کرنے سے اﷲ سے محبت جائے گی۔ خود بخود ہو جائے گی۔ اﷲ تعالٰی کسی کا احسان لیتا نہیں ہے۔ أس میں یہ خوبی ہے۔ اُسکے لیے ایک روپیہ خرچ کرؤ، دس روپے لُوٹا دیتا ہے نا۔ بھئی احسان لے تو کیوں واپس کرئے۔ ایک نیکی کرؤ دس نیکیوں کا ثواب دے دیتا ہے نا۔ تھوڑی سی محبت کرؤ، دس گنا زیادہ محبت کرتا ہے نا۔ اور جس سے محبت کرتا ہے پھر اُس کو دیکھتا ہے نا۔ پھر سرسری نظر سے نہیں دیکھتا ہے بڑے پیار سے دیکھتا ہے۔

پھر جس دن اﷲ نے تم کو دیکھ لیا پھر وہ عشق کا مقام ہے نا۔ تو پھر میں تیرا اور تو میرا۔

اب اﷲ نے تم کو دیکھا نا، اور دوسرا نقطہ ہے تم اﷲ کو دیکھتے ہو۔ وہ دوسرا راز ہے۔ اچھا وہ راز کیا ہے؟ اﷲ تعالٰی نے ساتوں آسمانوں سے ایک ایک چیز اِس جسم میں ڈالی۔ اگر اِسکو ملکوت کی سیر کرنے کا شوق ہوا تو قلب کو منور کر لے گا طاقت ور کرلے گا أس کے ذریعے ملکوت کی طیر سیر کرے گا۔ اگر اِسکو جبروت میں جانے کا خیال ہواتو روح کو طاقت ور کرلے گا ۔ اگر اِسکو لاھوت میں جانے کا خیال ہو، تو لطیفہ سّری کو تیار کرلے گا۔

اگر اُسکو خیال ہوا کہ میں اﷲ کو جا کے دیکھوں تو لطیفہ اناّ کو تیار کرلے گا، نا۔

أس نے تمھارے اندر سات مخلوقیں ڈال دیں۔ اب وہ جو مخلوقیں ہیں اب أنکی پرورش گوشت روٹی نہیں ہے۔ أنکی پرورش اﷲ کے نور سے ہے۔ اب جوں جوں اندر اﷲ اﷲ ہو رہی ہے ۔ اﷲ کے نور سے أنکی پرورش ہو رہی ہے۔ جب پرورش ہو رہی تو بالکل بالغ ہو گئیں۔ یہ جو کہتےہیں کہ فلاں ولی نے بارہ سال چّلا کاٹا، تیرہ سال کیوں نہیں کاٹا۔ گیارہ سال کیوں نہیں کاٹا۔ جسطرح پندرہ سال میں بچہ بالغ ہو جاتا ہے۔ نوکری کے قابل ہو جاتا ہے۔ اِسطرح بارہ سال کی عمر میں یہ مخلوقیں حضور پاک کے قدموں کے قابل ہو جاتیں ہیں۔ أس وقت تم نے سوچا کہ دیکھیں حضور پاک کیا کررہے ہیں، تم نے سوچا وہ اس سینے سے نکلیں اور حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں۔ أس وقت بلھے شاہ نے فرمایا ہے کہ

"لوکی پانج ویلے، تو عاشق ہر ویلے، لوکی مسیتی، عاشق قدماں"

جو لوگ پانچ وقت رب کو یاد کرتے ہیں ۔ نماز بھی رب کی یاد ہے۔ أن کی انتہا نماز مسجد میں باجماعت ہو جائیں گے اور کیا کریں گے۔ اور جو لوگ اِس کے ساتھ ہر وقت اﷲ اﷲ کرتے ہیں حضور پاک کے قدموں میں پہنچ جائیں گے نا ۔ اب تم نے سوچا دیکھیں اوپر کیا ہو رہا ہے، وہ تمھاری مخلوق جو دماغ میں ہے۔ جس کا نام ہے لطیفہ انا ۔ وہ اوپر پرواز کر گئی۔ فرشتوں نے روکا نہیں روکی۔ کہنے لگے جو کچھ بھی ہے بیعت المعمور سے آگے جل جائے گا فرشتے آگے نہیں جا سکتے جلتے ہیں۔ اور وہ بیعت المعمورسے آگے وہاں پہنچ گیا، جہاں رب کی ذات ہے۔

ظاہری جسم سے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچےاور اِن مخلوقوں سے ولیّ وہاں پہنچتے ہیں نا۔ اب ہمارے علماء کہتے ہیں کہ اگر ولیّوں کو دیدار ہوتا، تو صرف خواب کے ذریعے ہوتا۔ جن کے پاس یہ لطیفہ انا ہے۔ اس کے ذریعے جو دیدار ہوتا ہے۔ واقعی ہی وہ خواب کے ذریعے ہوتا ہے۔ کچھ ولی ہیں جنکو اِن مخلوقوں کے علاوہ اﷲ تعالی ایک اور مخلوق دے دیتا ہے۔ جس کو بولتے ہیں جسہ توفیق الٰہی أن کو أس جسے کے ذریعے دیدار ہوتا ہے۔ مراقبے اور کشف کے عالم میں دیدار ہوتا ہے۔

علامہ اقبال نے فرمایا نہیں۔ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ اؤ آگے بھی جا پھر جب آگے گیا تو بولا عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔ عشق کے پاس پہنچ گیا نا، جہاں عشق ہے۔ عشق تو اﷲ ہی ہے نا۔ خود عشق ہے، خود عاشق ہے، خود معشوق ہے۔ 

جب وہ سیّارہ وہاں پہنچ گیا، ایک دوسرے کو پیار سے دیکھتے ہیں، بھئی اتنے کوسّوں میل دور گیا تو دیکھے گا نا أسکو پیار سے۔ تو یہ وہاں گیا تو وہ بھی أسکو پیار سے دیکھے گا ،نا۔ پھراﷲ تعالٰی فرماتا ہے میں تجھے دیکھ لوں تو مجھے دیکھ لے۔ دیکھتے ہیں خوب دیکھتے ہیں پیاس بجھاتے ہیں۔ پھر أس کا نقشہ وہ نیچے أس کے دل میں آتا ہے۔ أسکی آنکھوں سے اِس کے دل میں آتا ہے۔ پھر اﷲ تعالٰی فرماتا ہے اب تو نیچے چلا جا،اب جو تجھے لے وہ مجھے دیکھ لے۔ نقشہ بتا رہا ہے کہ اوپر کیا ہو رہا ہے۔ اوپر تمھارا لطیفہ ہے سارا نقشہ تمھارے دل میں آرہا ہے۔

اﷲ کا سارا نقشہ اُسکے دل میں آجاتا ہے أسکے لیے بولتے ہیں، أس کو بولتے ہیں کہ کامل مُرشد

أسکے لئے پھر سخی سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔ مرشد دا دیدار اے باھو مینوں لکھ کروڑاں حجاں ھو۔

أس کے لیے جس کے اندر اﷲ آ گیا ہے۔ پھر فرشتوں کو پتہ چلتا ہے۔ أوپر اعلان ہوتا ہے۔ جبرائیل علیہ السلام اعلان کرتے ہیں کہ فلاں بندہ ہے، جس میں اﷲ آ گیا ہے۔ وہ فرشتے اﷲ کو دیکھ ہی نہیں سکتے۔ تو پھر وہ أس اﷲ کا نقشہ دیکھنے کے لیے أس بندے کے پاس آتے ہیں۔ تو وہ پھر نیچے سو رہا ہوتا ہے اور قطار در قطار آسمانوں تک لائن لگی ہوتی ہے۔ یہ أس بندے کی شان ہے۔ پھر اب مُرشد ملے تو ایسا ملے جو رب کو پہنچائے۔ اب کئی آدمی ہیں جو یہاں بھی مُرشدوں کے مرید ہونگے۔ اپنے مُرشد کو کامل سمجھا تب أس کے مرید ہوئے نا۔ لیکن کیا خبر کس کا مُرشد کامل ہے۔

ایک وقت میں ایک غوث اور تین قطب ہوتے ہیں پوری دنیا میں یہ بیعت کرنے کے مجاز ہیں۔ 
چالیس ابدال ہیں أن کو بھی اجازت نہیں ہے کہ تم کو بیعت کریں۔ 

جب پوری دنیا میں چار آدمی ہیں تو اس شہر میں پتہ نہیں کتنے ہونگے۔ تو جس شہر میں دیکھو کتنے لاکھ ہونگے۔ اب مُرشد کے بغیر اﷲ بھی نہیں ملتا ہے۔ اب مُرشد کی پہچان بھی کوئی نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ تم کو کامل کی پہچان ہو۔ ایک لاہور کا چور اُس کونے میں بیٹھا دو پشاور کا چور اِس کونے میں بیٹھا دو۔ آپس میں جانتے نہیں ہیں لیکن اُنکی نظریں ٹکرائیں گی۔ وہ سمجھ جائیں گے کہ میرا پیٹی بھائی ہے۔ ایک اﷲ والا وہاں بیٹھا ہے اور ایک اﷲ والا وہاں بیٹھا تو انکے دل آپس میں ٹکرائیں گے نا۔ جب تمھارے دل میں نور جائے گا ۔ تو تم بابا صاحب کے پاس چلے جانا وہاں بھی اللہ یہاں بھی اللہ، دل ٹکرائیں گے نا آپس میں۔ رقت پیدا ہو جائے گی نا۔ سمجھ جاؤں گئے کہ ولیّ کامل ہے۔ پھر دل کی تسلی کے لے داتا صاحب چلے جانا وہاں بھی اوراللہ یہاں بھی اللہ دل ٹکرائیں گے وہاں بھی رقت پیدا ہو جائے پھر تم اپنے مرشد کے پاس چلے جانا جو بات بابا فرید کے ہوئی، جو بات داتا صاحب کے ہوئی اگر مرشد کے پاس جانے سے وہی بات ہوتی ہے تب پھر تمھارا مرشد کامل ہی ہے۔ پھر جان بھی جاتی ہے جانے دئے اُسکو نہیں چھوڑنا۔ پھر تم جیسے بھی ہو آپے ہی لاسی سارا ھو۔ اگر بار بار اُسکے پاس جاتے ہو، بار بار جاتے ہو تو کچھ بھی نہیں ہوتا تو پھر وہ کچھ بھی نہیں ہے نا۔

بیعت کا اختیار صرف ولی کو ہے، ولی کی أولاد کو بھی نہیں ہے ولایت وراثت نہیں ہے۔

اگر وراثت ہوتی تو نبّوت وراثت ہوتی۔ اگر نبی کا بیٹا نبی نہیں ہو سکتا تو ولی کا بیٹا ولی کیسے ہو سکتا ہے۔

اگر کوئی شخص نبی نہیں ہے وہ نبوت کا وعوی کرتا ہے تم اُسکو کہتے ہو کافر ہے اور واقعی ہی کافر ہے۔ اؤ ماننے والے کو بھی کہتے ہو کافر۔ اور اگر کوئی ولیّ نہیں ہے تو ولیّ کا دعویٰ کرتا ہے تو پھر وہ کیا ہوا۔ وہ بالکل کفر کے نزدیک پہنچ جاتا ہے۔ اور أسکو ماننے والے کمبخت اور بے نصیب ہی رہتے ہیں اور ولیّ کے لیے ضروری ہے۔ ہمارے ہاں کیا ہے۔ سجّدہ نشیں ، گّدی نشیں، برسوں سے چلے آرہے ہیں بیعت کر رہے ہیں خالی ہیں۔ کوئی ہو گا کوئی ایک آدھ ان میں ولیّ آیا ہو گا نا سارے تو نہیں ہیں نا۔ ولیّ کے لیے شرط ہے أسکو کو دیکھا ہوا ہو دوست کو اور أس سے بات چیت ہو۔ تب وہ تمھاری بیعت کا مجاز ہے۔

اﷲ تعالٰی کے ننانوئے نام ہیں سارے جانتے ہیں۔ ایک ذاتی ہے 98 اٹھا نو ے صفا تی ہیں، 98 اٹھانوے مِل کر بھی اِ سمِ ذ ات والے کو نہیں پہنچ سکے۔ یعنی ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی مِل کر بھی حضور پاکﷺ کو نہیں پہنچ سکے۔ موسٰی علیہ السلام "یا رحمان" کا ذکر کرتے، عیسٰی علیہ السلام "یا قدوس" کا سُلیمان علیہ السلام "یا وہابُ" کا ، داؤد علیہ السلام "یا دوؤدو" کا باقی نبی اپنے اُولعزم مُرسل کا کلمہ پڑھتے۔ ایک دن موسٰی علیہ السلام نے کہا کہ اے اﷲ دیدار دے۔ جواب آیا تاب نہیں ہے۔ کہنے لگے کیا کسی میں تاب ہو گی۔

جواب آیا ایک میرا حبیب اور اُسکی اُمت۔ سُنی، شیعہ کا نہیں کہا اُمت کا کہا۔ میرا حبیب اور اُسکی اُمت یہ فرمایا۔ 

تو موسٰی علیہ السلام کہنے لگے میں اُمتی کے برابر بھی نہیں، نبی ہوں آخر اُمتی کے برابر بھی نہیں، جلوہ دے دیکھی جائے گی۔ جلوہ پڑا تو موسٰی علیہ السلام بے ہوش ہو گئے۔ اب کیا وجہ ہے۔ کہ موسٰی علیہ السلام اِس دنیا میں کوہ طور میں بے ہوش ہوئے۔ حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سامنے جا کے مُسکرا رہیں ہیں۔ ذات، ذات کے سامنے مُسکرایا۔ اور حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے طُفیل وہ اِسم اِس اُمت کو مِلا تب اِس کو فضیلت ہوئی نا۔

ایک حدیث شریف میں ہےکہ قیامت کے دن اُمتوں کی پہچان نور سے ہو گی۔ باقاعدہ حدیث شریف ہے ہمارے علماء پڑھاتے ہیں کہ اُمتوں کی پہچان نور سے ہو گی۔ یہ"یا رحمانُ" سے چمک رہے ہیں موسٰی علیہ السلام کی اُمت یہ اﷲ ھو سے چمک رہے ہیں یہ حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی اُمت۔ اِس اسم کے لیے بنی اسرائیل کے نبی ترستے رہئے، کیونکہ جو دیدار ہے نا اِسم ذات میں ہے نا۔ أن کو اِسم ذات ملا ہی نہیں ہے نا۔ وہ بے ہوش ہوتے رہے نبی اور یہ ولی دیدار کرتے ہیں۔

ایک دن عیسٰی علیہ السلام بھی کہہ اُٹھے اے اﷲ بڑا شوق ہے ،تجھے دیکھنے کا ۔ اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ تو نے وہ موسٰی کا حال نہیں دیکھا، کیونکہ عیسٰی علیہ السلام "یا قدوس" کا ذکر کرتے تھے اور وہ بھی صفاتی ، سہم گے۔ پھر دیدار کیسے ھو گا۔ کہا کہ دیدر تو میرے حبیب کو ہے یا أسکی اُمت کو ہے۔ پھرعیسٰی علیہ السلام نے کہا اے اﷲ نبوت سنبھال بس تو مجھے أمتی بنا۔

اب مہدی علیہ السلام آئیں گئے،عیسٰی علیہ السلام أن سے بیعت ہونگے، اُمتی بنیں گے۔

اِسم ذات کا ذکر سیکھیں گے تب اﷲ کا دیدار ہو گا۔

اؤ یقین کرؤ کہ اِس علم کے بغیر نمازیں بھی کوئی نہیں ہیں تمھاری۔ یومِ مـحـشـر کـه جــان گــداز بــود اولــیــن پــرســش از نــمـــاز بــود۔ ہے نا کہ سب سے پہلے نماز کا پوچھا جائے گا۔ أدھرحدیث "لا صلواة الا بحضور قلب" دل کی حاضری کے بغیر نماز ہی نہیں ہوتی تو جو نماز ہی نہیں ہوتی اُسکا کیا پوچھا جائے گا۔ بھئی دل کی حاضری کے بغیر نماز نہیں ہوتی جو ہوتی ہی نہیں اُسکا کیا پوچھا جائے گا۔ وہ جو نماز ہوتی ہے اُسکا پوچھا جائے گا نا۔ وہ جو تمھاری نمازیں عرش مُعلٰی میں گونجا کرتی تھی۔ اتنا عرصہ تو نے پڑھی، اتنا عرصہ کیوں چھوڑ دئ؟ أس نماز کا پوچھیں گے نا۔ نماز کے لیے شرط ہے جو زبان میں ہو وہ دل میں ہو۔ آپ صادق ہیں۔ اور اگر زبان میں اور ہے، دل میں اور ہے، دنیاوی حساب سے بھی آپ منافق ہیں نا۔ اگر آپ دنیا کے لیے بھی زبان میں کچھ اور رکھتے ہیں اور دل میں اور رکھتے ہیں تو منافقت ہے نا۔ اور اﷲ کے معاملے میں زبان میں اور رکھیں اور دل میں اور رکھیں تو۔ بہت بڑا منافق ہے۔

اﷲ تعالی نے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو فرمایا "قل ھو اللہ احد" کہہ دییجئے اللہ ایک ہے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے امین کہا۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کہا کہہ دو اللہ ایک ہے۔ جنھوں نے آمین کہا مسلمان جنھوں نے نہیں مانا کافر جنھوں نے حیل وحجت کری منافق۔ اب مسلمان کس کو کہتا ہے گھڑی گھڑی کہتا ہے روز کہتا ہے کہہ دے اللہ ایک ہے؟ اؤ بلھے شاہ فرماتے ہیں "اک نقطے وچ گل مکدی اے" اؤ تم کس کو کہتے ہو کہہ دے اللہ ایک ہے؟ تم تو جانتے ہو نا۔ توپھر کس کو کہتے ہو کہہ دے اللہ ایک ہے۔ تم اپنے دل کو کہتے ہو کہہ دے اللہ ایک ہے۔ وہ کہتا ہے گھر میں آٹا ہی کوئی نہیں۔ کہتے ہو اللہ الصمد اللہ بے نیاز ہے وہ کہتا ہے بیوی بیمار ہے۔ "لم یلد ولم یولد" وہ کہتا ہے ڈیوٹی سے لیٹ ہو گیا ہے جا۔ یہ ہی کہتا ہے نا؟ کافروں کی زبان اقرار نہیں کرتی، منافقوں کے دل تصدیق نہیں کرتے اور فاسقوں کے جسم عمل نہیں کرتے بتاؤں تمھارا دل تو منافق تھا۔ تمھارا دل تو منافق تھا نا۔ اس کو نماز صورت بولتے ہیں۔

مجدد صاحب فرماتے ہیں۔ ہر آدمی کی نماز صورت ہے خاصان خدا کی نماز حقیقت ہے۔ فرماتے ہیں ہرآدمی کو چاہئیےکہ نماز حقیقت تلاش کرے یہ نماز صورت 72 فرقے والے پڑھتے ہیں۔ یہ کوئی بڑا کمال نہیں ہے، نماز صورت کا پانچ وقت نمازی ہو جانا۔

یہ نماز صورت قرآن فرماتا ہے تباہی بھی ہے اور دکھوا بھی ہے۔ دکھوا کیسے ہے؟ بڑے خشوع و خضوع سےلگا ہوا ہے۔ پانچ وقت نماز پڑھ رہا ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں، بڑی دیر سے لگا ہے، بڑے خشوع و خضوع سے لگا ہے ۔ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے نہیں نہ میں اِسکی شکل کو دیکھتا ہوں، نہ داڑھی کو دیکھتا ہوں نہ اِسکے سجدے کو دیکھتا ہوں۔ ميں اِسکے قلب اور نیت کو دیکھتا ہوں۔ جس کو دنیا دیکھتی ہے، اُس میں وہ ہوشیار ہے جس کو اﷲ دیکھتا ہے اُس میں وہ کاروبار ہے۔ تو یہ بھلے گھر میں اکیلا پڑھتا رہے یہ دکھاوا ہی ہے نا۔

تباہی کیسے ہے؟ پانچ وقت کا نمازی ہے دل میں تکبر آیا نا۔ لوگوں نے کہا تہجد بھی پڑھتا ہے اور تکبر آیا۔ لوگوں نے تعظیم کری اور تکبر آیا ایک دن بے نمازی کو دیکھا بڑی حقارت سے دیکھا کہ میں تجھ سے بہتر ہوں.اور یہ نہیں پتہ کہ تکبر عزرازیل را خوار کرد، نمازیں وہ بھی پڑھتا تھا نا۔ پھر وہ کہتا ہے سب سے میں بہتر ہوں، تہجد گزار ہوں نمازی ہوں بس ۔ لیکن کہتے ہیں کہ حضور پاک سب سے افضل ہیں ۔ چلو ساری سُنتیں اپناؤ۔ ساری سُنتیں اپناتا ہے۔ پھر کہتا اب حضور میں اور مجھ میں کیا فرق ہے۔ اؤ جن کے لیے ساری دنیا بنائی، جن کے لیے تجھے بنایا، اور تو کہتا ہے وہ میرے جیسے ہیں جب یہاں تک پہنچا توأسکا ایمان ہی چلا گیا نا۔ یہ نماز صورت ہے جو تمھارے ایمانوں کو خراب کر رہی ہے۔

اب نماز حقیقت وہ کیا ہے؟ أس کے لیے توفیق اﷲ ہی ہے۔ جس کو اﷲ چاہے۔ جو خود چاہے نہیں وہ نہیں جس کو اﷲ چاہے۔ أس کے لیے تمھیں سب سے پہلے اﷲ اﷲ سیکھنی ہو گی یہ تمھارا پہلا رُکن ہے۔ پہلا رُکن ہے کلمہ طیب۔ کلمہ طیب ذکر میں ہے، حدیث شریف افضل ذکر کلمہ طیب۔ اور ذکر کے لیے قرآن مجید فرماتا ہے "اُٹھتے، بیٹھتے، حتیٰ کہ کروٹیں لیتے میرا ذکر کر"۔ ایک دفعہ کلمہ پڑھتا ہے مسلمان ہو جاتا ہے۔ تو یہ بار بار پھر کیوں پڑھتے ہیں۔ بھئی تو نے پڑھ لیا مسلمان اب کیوں لگا ہوا ہے ایک دفعہ پڑھتا ہے تو مسلمان ہوتا ہے۔ گھڑی گھڑی رگڑا دیتا تو مومن بناتا ہے نا۔ بھئی اب یہ دودھ ہے، تو دودھ دودھ ہی ہے اگر رگڑا نہ دو تو وہ مکھن کیسے بنئے گا۔ اؤ رگڑے سے ہی مکھن بنتا ہے نا۔ جب یہ کلمے کا رگڑا دیتے ہیں أس سے مومن بنتا ہے نا۔

یہ تمھارے قرآن کا پہلا لفظ ہے۔ "الف" تم کہتے ہو حروف مُقطعات، آگے چلو، جانے ہی نہیں دیتے ہو "الم" کیا ہے۔ بھئی جو سامنے کھڑا ہے پہلے اِس سے پوچھو تو کیا ہے؟ سخی سلطان باھو رحمتہ اﷲ فرماتے ہیں میں کسی مدرسے میں نہیں پڑھا۔ میں نے قرآن کا پہلا لفظ لے لیا الف سے اﷲ اﷲ ہی کرتا رہا۔ اﷲ اﷲ سے ہی میرا سینہ منور ہو گیا ۔ کہتے ہیں جب چمکتا ہوا سینہ حضور پاکﷺ نے دیکھا۔ تو سینے سے سینہ لگایا، توسارے علم میرے سینے میں خودبخود ہی آگئے۔ کہتے ہیں کہ کیونکہ میں کسی مدرسے میں پڑھا نہیں تھا۔ مجھے لکھنا آتا نہیں تھا۔ صرف بولنا آگیا۔ میں بولتا رہا اور لوگ کتابیں لکھتے رہے۔ ہزارؤں کتابیں میرے نام سے منسوب ہو گئیں۔

"الف" سے اﷲ اﷲ کر اگر تو اسکی جلالت سے ڈرتا ہے تو "ل" سے"لا اٍلااِلھ اﷲ" ہی پڑھتا رہ۔ یہ بھی ذکر ہے۔ اگر اسکی بھی توفیق نہیں ہے تو "م" سے "مُحمد رسول اﷲ" کرتا رہ۔ یہ نور سے ہدایت ہے۔ ورنہ پھر کتاب میں چلا جا۔ کتاب پتہ نہیں تجھے گمراہ کرے یا راہ راست پے لے آئے ۔اِس کے لیے تمھیں سب سے پہلے دل کی ڈھڑکنوں کو اﷲاﷲ میں لگانا ہو گا۔ پھر تم کوشش کرؤ گے میں کام کاج کرتا رہوں اﷲاﷲ ہوتی رہے۔ اِس کو بولتے ہیں ،دست کار میں دل یار ميں۔ پھر کوشش کرؤ گے میں کوئی اخبار رسالہ پڑھتا رہوں، گاڑی چلاتا رہوں اﷲاﷲ ہوتی رہے، کامیابی ہو جائے گی۔

پھر کوشش کرؤ گے نماز پڑھتا رہوں اور اﷲاﷲ ہوتی رہے۔ اُس وقت زبان کہے گی کہہ دے اﷲ ایک ہے ، دل کہے گا اﷲ ہی اﷲ۔ "اﷲ الصمد" دل کہے گا اﷲ اﷲ" اب جو زبان میں وہ دل میں زبان اقرار کر رہی ہے اور دل تصدیق کر رہا ہے نا۔ اس کو بولتے ہیں "اقرار بالسّان تصدیق بالقلب" زبان دلیل سے منوا رہی ہے کہ کہہ دے اللہ ایک ہے اور دل بغیر دلیل کے مان رہا ہے کہ اللہ ہی اللہ زبان ذکر مفصل میں ہے اور دل ذکر مجمل میں ہے۔ زبان کا تصرف ہے کہ یہاں بولتے ہو امریکے والے سنتے ہیں۔ اور دل کا تصرف ہے یہاں گونجے توعرش معلیٰ والے سنتے ہیں نا۔ یہ تمھاری نماز کو یہ دل عرش معلیٰ میں پہنچائے گا۔

یہ نماز مومن کا معراج ہے نا۔

 

مومن کا معراج ہے، ولی کا نہیں۔ ولی کی نمازکچھ اور ہے۔ اب اِسکی آواز گئی ہے نا خود تو نہیں گیا نا۔ 

جب یہ تمھارے اندر روحیں ، مخلوقیں طاقت پکڑ جائیں گی، تو پھر جب اِن کی نماز کا وقت اور، اِن کے خانے کبعے اور۔ تمھارا خانہ کبعہ، اِس جسم کا خانہ کبعہ أدھر ہے۔ اِن کا خانہ کبعہ بیعت المعمور ہے۔

یہ خانہ کبعہ بیعت المعمور کی نقل ہے۔ کیونکہ تم بھی نقل ہو، تو تم کو یہ خانہ کبعہ أسکی نقل میں ملا۔ 

اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو بیعت المعمور دیکھایا خواب میں اور کہا کہ اس قسم کا خانہ کبعہ دنیا میں بناؤ۔ یہ جو چیزیں ہیں تمھارے اندر کی اب ایک نقطے کی بات ہے۔ ہمارے علماء ہماری بات یا تو سمجھتے نہیں ہیں۔ یا پتا نہیں ان کو کوئی بغص ہے کہ کیا یے۔ لوگ سمجھ جاتے ہیں۔ علماء کیوں نہیں سمجھتے؟

اب دیکھیں نا اللہ تعالیٰ نے فرمایا "اُٹھتے، بیٹھتے، حتیٰ کروٹیں لیتے میرا ذکر کر، خریدو فروخت میں بھی اِس سے غافل نہ رہ اور ساتھ پیٹ بھی لگا دیا بیوی بچے بھی دے دیے۔ ہے نا؟ اب تو کام کاج کرے گا کہ ذکر کرے گا؟ اؤ کام کاج سے آیا ہے، تھکا ہوا ہے تو سوئے گا کہ ذکر کرے گا؟ تجھے نہیں کہا، وہ جو تیرے اندر انسان رہتا ہے اُسکو کہا ہے۔ تو کام کاج کر وہ اپنا اﷲاﷲ کرے۔ تو سوتا رہے تو اﷲاﷲ کرے۔ اؤ تیرے بیوی بچے ہیں نا أس کا تو بیوی بچہ نہیں ہیں نا ،تجھے نید آتی ہے نا، أسکو نید تو نہیں آتی ہے نا۔

اب یہ ہے، دوسرا نقطہ یہ ہے کہ یہ جو جسم ہے۔ اِس کا تعلق نہ ازل سے ہے، نہ ابد سے ہے۔ اِس سے پہلے جسم نہیں تھا۔ اِس دنیا سے پہلے۔ اور اِس دنیا کے بعد بھی یہ جسم نہیں ہو گا۔ وہاں دوسرے جسم دیئے جائیں گے، جو نہ جلئیں گے نہ مرئیں گے۔ یہی بات ہے نا۔ وہ نہ جلئیں گے، نہ مرئیں گے وہ جسم دیئے جائیں گے نا۔ یہ جسم اِسی مٹی میں مٹی بن کے رہ جائے گا۔ جب اِس جسم کو آگے جانا ہی نہیں ہے۔ دوذخ، بہشت میں جانا ہی نہیں ہے۔ تو پھر یہ نماز کیوں پڑھے؟ پھر اِس کا تو آگے سے تعلق ہی نہیں ہے۔ آگے سے تعلق ہے تو روح کا ہے نا۔ وہ روح اِسکی محتاج ہے۔ وہ جو روح ہے نا وہ اِس جسم کی محتاج ہے۔

جسطرح ماں بیٹے کو أٹھاتی، بیٹھاتی ہے، اسطرح یہ جسم أس کو رکوع ، سجود کرواتا ہے۔ جب وہ بیٹا جوان ہو جاتا ہے نا تو ماں أسکی کی محتاج ہو جاتی ہے۔ اِسی طرح جو تمھاری روح ہے نا، وہ اپاہج ہے وہ باہر نکل نہیں سکتی ہے نا۔ تو یہ پھر اِس جسم کو کہا گیا کہ تو اِس کو رکوع ، سجود کروا، تیرا احسان ہو گا أس کے أوپر۔

اور یہ ہی وجہ ہے کہ یہ جسم نخرے کرتا ہے۔ اس کو پتہ ہے کہ میں نے تو آگے جانا نہیں ہے نا۔ اؤ خوامخواہ میرئے أوپر مصیبت ڈال دی ہے اﷲ تعالٰی نے۔ پھر جب وہ ذکوریت سے وہ تمھاری روح بالغ ہو جائے گی۔ تو پھر یہ جسم بھلے سوتا رہے، بھلے مر جائے اُسکو پرواہ نہیں ہے۔ پھر وہ جا کر بیعت المعمور میں نمازیں پڑھیں گی۔ وہ آزاد ہو جائیں گی ألٹا وہ عرش معلٰی میں جا کر نمازیں پڑھیں گی۔ اور أس وقت تک وہ سر نہیں أٹھائیں گی جب تک اﷲ جواب نہ دئے۔ لبیک یا عبدی۔

اب کچھ لوگ کہتے ہیں اِس بات کے أوپر اعتراض کرتے ہیں۔ عام لوگ نہیں کرتے ہیں۔ ہمارے علماء اعتراض کرتے ہیں۔ وہ ایک مثال دیتے ہیں۔ کہ کوئی آدمی تھا بہت عرصہ نمازیں پڑھتا رہا۔ جب بہت عرصہ نمازیں پڑھتا رہا تو بڈھا ہو گیا أس نے دُعا کری۔ اے اﷲ اب تو مجھے نمازوں سے چھٹکارا دے میں بہت ہی بڈھا ہو گیا ہوں۔ اﷲ نے أسکی دعا قبول کر لی اور صبح کو أس کے ہوش حواس ختم ہو گئے۔ مطلب ہے کہ نماز کی معافی نہیں ہے جب تک ہوش حواس ختم نہ ہوں۔ اؤ أس بڈھے نے اپنے انسان کو باہر نہیں نکالا تھا نا۔ اگر وہ انسان أس روح کو جوان کر لیتا تو وہ سوتا رہتا روح اپنی اﷲاﷲ کرتی رہتی نا۔

لوگوں نے غوث پاک رضی اللہ تعالٰی کو کہا کہ آپ شیخ بقاء کی بڑی تعریف کرتے ہیں وہ تو نماز ہی نہیں پڑھتے۔ توغوث پاک رضی اللہ تعالٰی نے فرمایا تمھیں خبر نہیں وہ ہر وقت کبعے میں سر بسجود ہوتے ہیں۔

وہ لوگ معارف بن جاتے ہیں۔ ایک عارف ہوتا ہے ایک معارف ہوتا ہے۔ عارف کیا ہوتا ہے۔ تھوڑی سی أس کی تشریح کر دیں۔ کہ کئی لوگ درباروں کو ماننے والے ہیں۔ کہتے ہیں یہ عارفانہ کلام ہے تو یہ معارفانہ کلام ہے۔ پتہ نہیں یہ کیا ہے اور وہ کیا ہے۔ جب کوئی شخص اس جسم سے عبادت کرتا ہے۔ جنگل میں چلا جاتا ہے، بھوک پیاس بھی سہتا ہے، نمازیں بھی پڑھتا ہے۔ تہجد کرتا ہے، رؤزے رکھتا ہے۔ أسکی یاد میں روتا ہے۔ جب بھی اﷲ چاہے أس کے أوپر اپنی تجلی ڈالتا ہے۔ أس کے جسم پہ ڈالتا ہے أس کا جسم ولی ہو جاتا ہے۔ أس کا جسم ولی ہو گیا وہ جسم سمیت حضور پاک کی محفل میں جا سکتا ہے۔ أدھر معارف کیا ہوتا ہے۔ عارف کو خطرہ ہے ہو سکتا ہے کہ تجّلی سے ہلاک ہو جائے ،ہو سکتا ہے تجّلی سے مجذوب ہو جائے۔

دوسرا سلسلہ معارف کا ہے۔ وہ زیادہ زور دیتے ہیں اپنے اندر کو۔ اندر کو جگاتے ہیں روحوں کو باہر کھڑا کر دیتے ہیں۔ پھر جب تجّلی پڑتی ہے۔ تو پھر کسی روح کے أوپر تجّلی پڑتی ہے أسکی وہ روح ولیّ ہو جاتی ہے۔ أسکا جسم ولیّ ہو گیا اِسکی روح ولیّ ہو گئی وہ جسم سمیت جاتا ہے نا۔ یہ دور سے دیکھتا ہے کتنا خوش نصیب ہیں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محفل میں جسم سمیت بیٹھا ہوا ہے اتنے میں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم بات کرتے ہیں کسی سے۔ وہ عارف پوچھتا ہے آپ کِس سے بات کر رہے ہیں؟ ہمیں تو نظر نہیں آتا۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں اُس آدمی سے بات کر رہا جسکا جسم مخلوق میں اور روح میرے پاس ہے۔ اور وہ عش عش کرتے ہیں کہ کتنا خوش نصیب ہے۔ اِدھر بھی موجود اور أدھر بھی موجود اِ تنے میں نماز کا وقت آجاتا ہے حکم ہوتا ہے یہ جو ظاہری ولایت والے ہیں ظاہر میں جا کے نماز پڑھیں ورنہ ولایت سلب ہو جائے گی۔ اور وہ جو روح والا ہوتا ہے وہ توحضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتا ہے نا۔ بھلے گھر میں سو رہا ہو۔ وہ روحانی طور پے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتا ہے نا۔ أسکو معارف بولتے ہیں نا۔

جب وہ عارف اس دنیا سے گزر جاتا ہے۔ جسم کو ولایت ملی تھی۔ جسم ختم ہو گیا ولایت ختم ہو گئی۔ أسکا فیض ختم ہو گیا۔ اور أسکی کسی روح کو ولایت ملی تھی۔ وہ قبر میں ولیّ بن کے بیٹھ جاتی ہے اور قیامت تک لوگوں کو فیض پہنچاتی رہتی ہے نا۔ وہ عارف تھے اور یہ معارف ہیں۔ 

اور ایک اور ثبوت ہے۔ ایک دفعہ مجدد صاحب مسجد میں گئے دیکھا ایک آدمی سو رہا ہے۔ سوچنے لگے نماز پڑھ کے سویا ہو گا۔ پھر آپ دوبارہ گئے پھر بھی وہ سو رہا ہے، آپ عصر سے مغرب تک مسجد میں رہتے۔ مغرب کی ازان ہو رہی ہے وہ سو رہا ہے۔ آپ کو بڑا غصّہ آیا جھنجھوڑا اٹھ یا تو نماز پڑھ یا مسجد سے نکل جا۔ وہ فوراً اٹھا جماعت کھڑی ہونے والی تھی بلند آواز سے کہا امام صاحب ٹھہر جائیں۔ امام صاحب روک گئے۔ وضو کیا فورا نیت کری دو رکعت سُنت وقت فجر سارے دیکھتے ہیں فجر کا سماں ہو گیا پھر وہ ظہر کی نماز پڑھی ظہر کا سماں ہو گیا۔ پھر عصر کی نماز پڑھی ۔ایک راوی لکھتا ہے کہ سورج واپس آ گیا۔ اُس وقت أس نے کہا مجدد صاحب آپ تو صاحب نظر تھے بہتر تھا مجھے جگانے سے پہلے میرا حال دیکھتے میں تو اُسی کے پاس تھا جس کی تم نمازیں پڑھتے ہو۔ 

یہاں سے ہمارے علماء روکتے ہیں اِس بات کو ردّ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا تو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ظاہری میں نمازیں کیوں پڑھیں۔ بھئی حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو نمازوں کی ضرورت کیا تھی۔ آپ تو نمازوں کے آنے سے پہلے بھی نبی تھے۔ آپ تو فرماتے ہیں میں حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے بھی نبی تھا۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے دین بنایا اگر وہ منگل کو نماز نہ پڑھتے کسی تھکاوٹ کی وجہ سے تو أمت تو ساری تھکی رہتی ہے نا۔ تو یہ سنت بنا لیتی نا سنت بنا لیتی نا۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے سخت بیماری کی حالت میں بھی نماز پڑھی ہے نا۔ آپ کو نماز پڑھنے کی کیا ضرورت تھی۔ أن کو پتہ تھا کہ جو لوگ کہتے ہیں ایسے لوگ آئیں گے جو کہتے ہیں کہ ہمارے جیسے تھے۔ آپ نے بیماری کی سخت حالت میں نماز پڑھی۔ اور وہ کہیں گے نزلہ بخار ہو گیا ہے ہم بھی بیمار ہیں ہم بھی نماز نہیں پڑھتے نا۔ اِس وجہ سے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے نمازیں پڑھیں تو أمت کے لیے پڑھیں ۔ أنکو نمازوں کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ایک ہی سنت ایسی ہے اگر کوئی بھی اپنا لے۔ یقین کرو نفلوں کا، فرضوں کا تمھارے گناہوں کا بھی کفاّرہ ہو جائے گا ایک سنت ایسی ہے۔ ساری عمر تم گناہ کرتے رہے ہو۔

 اگر ایک سنت تم پکڑ لو تو سارے گناہوں کا کفارہ۔ سارے فرضوں کا کفارہ۔  وہ کون سی سنت ہے؟

دیدارِ خدا۔ اگر وہ ایک ہی سنت حاصل ہو جائے تو۔


بلکہ ایسا ہوتا ہے جن کے أوپر اﷲ تجّلی ڈالتا ہے بعض لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ أسکی تاب نہیں لا سکتے مجذوب ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ تاب لے آتے ہیں محبوب ہو جاتے ہیں۔ اب شرط ہے جو ایک دفعہ اﷲ کی تجّلی میں آگیا۔ اﷲ روزانہ تین سو ساٹھ مرتبہ أسکو دیکھے گا۔ ایک دفعہ دیکھے گا ساٹھ کبیرہ گناہ جلیں گے۔ اگر وہ مر گیا ہے أسکی قبر سے فیض جاری ہو جائے گا۔ وہ قبر پے بیٹھنے والوں کے گناہ جلنا شروع ہو جائیں گے۔ حدیث شریف میں ہے کہ شکستہ دل اور شکستہ قبر پر اﷲ کی رحمت پڑتی ہے۔ وہ ہی نظرٍ رحمت ہے نا۔ وہ جو تجلیّ سے شکستہ ہوا۔

اگر کوئی مجذوب ہوگیا وہ لوگوں کو ڈنڈے مارے گا، گالیاں دے گا۔ لوگوں کو فیض ہونا شروع ہو جائے گا۔ وہ دنکہ شریف میں ہے نا وہ ڈنڈئے مارتے ہیں اور جسکو ڈنڈئے مارتے ہیں أسکو فیض ہو جاتا ہے نا۔ اؤ پیر لال شاہ تھے نا وہ صدر ایوب کو ڈنڈئے مارتے تھے۔ آخری دفعہ گیا ڈنڈئے نہیں مارے۔ سوچنا لگا کہ میری بادشاہی گئی اور گئی۔

اور تیسرا ہے أسکی باتوں سے فیض شروع ہو جاتا ہے۔ اب جب وہ تین سو ساٹھ دفعہ دیکھتا ہے۔ تو لوگوں کے گناہ جلنا شروع ہو جاتے ہیں نا ۔ جب اصحاب کہف کو دیکھنا شروع ہوا تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا صرف ایک کتا تھا۔ وہ کتا ہی حضرت قطمیر بن گیا نا۔ بھئی کتا نمازیں تھوڑی پڑھتا تھا وہ أن کی صحبت میں بیٹھا رہا نا۔ نظرٍ رحمت پڑتی رہی نا تو وہ حضرت قطمیر بن گیا نا۔ وہ کتا پاک ہو گیا نا۔ جب تمھارا کتا نور سے پاک ہو گیا تو۔ نظر رحمت بھی تو نور ہی ہے نا۔ وہ کتا بہشت میں جائے گا بیلم با عور کی شکل میں۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے أوپر وہ نظر رحمت ہر وقت پڑتی تھی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں بیٹھنے والے ولیّوں سے بھی اعلٰی مقام حاصل کر کے چلے گئے۔

اب دوسرا اسکا ثبوت ہے۔ جب حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم شب معراج میں گئے تو دیکھا موسٰی علیہ السلام قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ جسم نہیں پڑھ رہا تھا وہ ان کی مخلوق نماز پڑھ رہی تھی نا۔ أوپر پہنچے، أوپر بھی وہ موجود تھے نا۔ تو پھر أس مخلوق کا ثواب کس کو ملے گا ۔ موسٰی علیہ السلام کو۔

اِس کے لیے یہ ہے اب اسکا طریقہ بتاتے ہیں۔ کہ یہ دوائی اندر کیسے جاتی ہے۔ اور یہ راستہ کیا ہے؟
 

بھٹ شاہ والے کہتے ہیں نماز روزہ کم سُٹو او رستہ کوئی دوجو۔
 
بابا فرید رحمتہ اﷲ نے بھی کہا تھا کہ جس راستے میں چلا اگر تم بھی أس راستے پر چلو تو جنتی ہی جنتی ہو۔ وہ اِس راستے کا کہا تھا دل والے رستے کا تم لوگ دروازئے سے نکلنا شروع ہو گئے۔ اؤ دل کا رستہ اور جو بھی دل کے رستے پہ جائے وہ جنتی ہی جنتی ہےنا۔ دیکھیں نا خانہ کبعہ افضل ہے نا یہاں سے۔ اگر وہاں جا کر بھی آدمی جنتی نہیں ہو سکتا شک ہے نا۔ 

اگر جنتی ہو جاتا تو مڑ کے آکے فراڈی کیوں ہوتا حاجی؟ یہ حاجی جاتا ہے، مڑ کے پہلے سے زیادہ فراڈی ہو جاتا ہے۔

اسکا مطلب ہے کہ أسکا حج قبول کوئی نہیں ہوا ہے نا۔ حج قبول ہو تو جنتی ہے نا۔ اگر وہاں جا کے بھی گارنٹی نہیں ہے۔ تو پھر یہاں کیا گارنٹی ہے۔ أنھوں نے جو کہا تھا اِس دل کے رستے کا کہا تھا۔ اگر دل کا رستہ تمھارا کھل گیا تو گارنٹی ہی گارنٹی ہے۔ یہ أس وقت تک نہیں کھلتا جب تک اﷲ تعالیٰ کی منظوری نہ ہو۔ تو منظوری ہوئی تو گارنٹی ہو گئی نا۔

اِس کا جو طریقہ ہے کوئی بھی ہے ہمیں اِس سے مطلب نہیں۔ کسی بھی فرقے سے ہے۔ 
دیوبندی ہے وہابی ہے کوئی بھی ہے۔ جب اﷲ أسکے اندر آجائے گا تو اﷲ والا ہو جائے گا ۔ 
اؤ جب کافروں کے اندر اﷲ آیا تو وہ بھی اﷲ والے ہو گئے۔ یہ تو پھر زبان تو أسکی کلمہ پڑھتی ہے نا۔

روزانہ 66 مرتبہ سفید کاغذ کے پر کالی پنسل سے اﷲ لکھو۔ آپ تھوڑے دن لکھو گے۔ فجر کی نماز کے بعد اچھا وقت ہے ورنہ جب بھی آپکو وقت میسر ہو۔ لکھیں باوضو۔ بڑے پیار سے لِکھیں ہو سکتا ہے أس وقت وہ دیکھ رہا ہو۔ بھئی وہ دنیا کو دیکھتا ہے نا۔ کیا پتہ أس وقت جب تم لکھ رہے ہو پیار سے۔ وہ دیکھ رہا ہو۔ اگر فرصت ہے تو دن ميں کئی بار اﷲ لِکھیں، تین دفعہ، چار دفعہ۔ جب بھی لِکھیں چھیاسٹھ مرتبہ لکھیں۔ یہ چھیاسٹھ ایک عمل بن جاتا ہے ۔آپ تھوڑے دن لکھیں گے آپ جو کاغذ پر لکھتے تھے، وہ آپ کی آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے گا۔ ۔جب آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے پھر لکھنا بند کر دیں۔ آنکھوں سے پھر توجہ سے أس کو دل کے أوپر أتارنے شروع کریں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں یہ مسمیرزم ہے۔ یہ مسمیرزم! واقعی ہی مسمیرزم اِسی سے نکلا ہوا ہے۔ مسمیرزم والے کیا کرتے ہیں وہ سورج کی یا شمع کی روشنی کو آنکھوں میں لے آتے ہیں۔ اُس سے پھر شیشے کے گلاس پر نظر ڈالتے ہیں، وہ کریک ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ جو ایک لاکھ، اسّی ہزار جالے ہیں۔ وہ سورج کی روشنی اُن کو توڑ نہیں سکتی نا۔

اسم اﷲ جب آنکھوں میں آئے گا تو اﷲ کو یہ تاثیر ہے نا۔ کہ وہ اُِْن کو توڑتا تاڑاتا دل کے اوپر جا کے بیٹھ جائے گا۔

جب دل کے اوپر جا کے بیٹھ جائے گا۔ تو دل کی ڈھرکن تیز ہو جائے گی۔ ٹک ٹک ٹک، وہ أسکی تسبیح ہے اَس کے ساتھ پھر اﷲ ھو مِلائیں۔ ایک کے ساتھ اﷲ، ایک کے ساتھ ھو۔ یہاں اﷲ لکھا گیا۔ یہ پولیس کی مہر لگی ہے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے، پولیس والا ہے نا، اﷲ لکھا گیا، اﷲ والا۔ پھر کیا ہو گا وہ جو دل کی دھڑکنیں اﷲاﷲ کر رہی ہیں وہ نور بنائیں گی وہ کالا سا تھا۔ اب پھر تم تجربہ کرؤ۔ تھوڑے عرصے بعد وہ جو کالا سا تھا وہ سفید ہو جائے گا۔ اِس کا مطلب ہے کہ تمھارے اندر نور کا سلسلہ جاری ہو گیا ہے۔ تب وہ سفید ہوا نا پھر ایک دن وہ سورج کی طرح چمک رہا ہو گا۔

جب سورج کی طرح چمک أٹھے تو بےخوف ہو جا بڑی شان و شوکت سے قبر میں چلا جا۔

مُنکر نکیر آئیں گے سب سے پہلے پوچھیں گے بتا ترا رب کون ہے پہلا سوال یہی ہو گا، خاموش رہ اُنکو ستا۔ ڈر نہیں أن سے اب تو اﷲ والا ہے تو أنکو ستا۔ پھر پوچھیں گے اؤ تیرا رب کون ہے۔ خاموش! پھر پوچھیں گے، گونگا ہے بتا ترا رب کون ہے۔ کفن ہٹانا دیکھا دینا یہ چمک رہا ہے اﷲ۔ اُنکی جرات نہیں ہے کہ تم سے دوسرا سوال پوچھیں، وہ کہیں گے بندئے خدا آرام سے سو جا السلام علیکُم ہم تو جا رہے ہیں تو جان تیرا رب جانے۔ کیونکہ أن کو پتہ ہے یہ جو اِسم ذات ہے اِس زمانے میں یہ غوث پاک کے پاس ہے۔ یہ کوئ غوث پاک کا مُرید ہے۔ غوث پاک نے70 مرتبہ اﷲ سے وعدہ لیا کہ میرا مُرید اِیمان کے بغیر نہیں جائے گا۔ آپ نے فرمایا میرا مُرید کون ہو گا؟ میرا مُرید وہ ہو گا، جو ذاکر ہو گا۔ پھر فرمایا میں ذاکر اُسی کو مانتا ہوں نا جسکا دل اﷲ اﷲ کرئے۔ جسکا دل اﷲ اﷲ کرئے میں أسکو ذاکر مانتا ہوں۔

اگر بہاؤ الدین نقشبند رحمتہ اﷲ جنکو غوث پاک سے ہی فیض ہے غوث پاک کے مُرید ہیں۔

أن کے مُریدوں پے اﷲ نقش ہو جاتا ہے۔ تب أن کو نقشبندی بولتے ہیں نا۔

تو کیا غوث پاک کے مُریدوں کے نقش نہیں ہے۔ اور أس اﷲ والے سے وہ کیوں ڈرتے ہیں۔ کیونکہ أنھوں نے حال دیکھا ہے۔ جب غوث پاک قبر میں گئے نا أنھوں نے اپنا حلیہ چھپا لیا۔ غوث پاک نے۔ آ ئے منکر نکیر بتاء تیرا رب کون ہے۔ غوث پاک سے پوچھا، أنھوں نے کیا کیا کہ ایک ہاتھ سے ایک کو پکڑ لیا اور دوسرے ہاتھ سے دوسرے کو پکڑ لیا۔ اؤ اِسکا جواب میں بعد میں دونگا پہلے تم میرے سوال کا جواب دو۔ أنکو غصّہ آیا کہ یہ آدمی کیا کر رہا ہے۔ ہاتھ کھیینچا وہ ہاتھ چھوڑا ہی نہیں سکے وہ اتنی بڑی طاقت۔ اتنی بڑی طاقت انسان میں اتنی طاقت تو نہیں ہوتی ہے۔ أنھوں نے کہا بتاؤ آپ کا کیا سوال ہے۔ کہ جب اﷲ نے آدم علیہ السلا کو بنایا تھا تو تم نے کیوں کہا تھا کہ یہ دنیا میں فتنہ برپا کرئے گا۔ تم کو پتہ نہیں تھا ایسے آدمی بھی اِس میں آئیں گے۔ وہ سہم گئے، وہ سہم گئے کہنے لگے۔ ہم دو تھوڑی تھے سب نے مل کر کہا تھا۔ ایسا کرؤ ہم کو چھوڑ تو ہم أن سے پوچھ کر آتے ہیں۔ سب سے پوچھ کر آتے ہیں۔ أنھوں نے کہا نہیں تم پھر واپس نہیں آؤ گے۔ ایسا کرتے ہیں کہ پھر ایک کو چھوڑ دو وہ پوچھ کے آتا ہے۔ أنھوں نے کہا ٹھیک ہے۔ منکر کو چھوڑ دیا اور نکیر کو پکڑے رکھا۔ جا کے فرشتوں سے پوچھا کہ اس کا جواب کیا دیں۔ أنھوں نے کہا کہ اِس کا تو جواب کوئی نہیں ہے۔ اگر جواب نہیں ہے۔ تو وہ بندہ چھوڑے گا نہیں أسکو، وہ ہمارا بندہ پھنس گیا۔ وہ پھر اﷲ کی طرف رجوع ہوئے۔ کہ اے اﷲ اب تو بتا ہم بندہ کس طرح چھوڑائیں۔ اﷲ نے کہا اب یہی ہے کہ أس سے کوئی معاہدہ کر لو، کچھ أسکی مان لو کچھ منوا لو۔ پھر غوث پاک نے کہا کہ میرے مُرید بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائے گا۔

وہ پھر أس بات سے ڈرتے ہیں کہ غوث پاک نے ہاتھوں سے پکڑ لیا تھا کہیں أن کا مرید بھی نہ پکڑ لے۔

رات سونے لگیں انگلی کو قلم خیال کریں۔ تصور سے دل کے اوپر اﷲ لکھتے لکھتے سو جایئں۔ اِسی میں نید آ جائے۔ اِس دنیا میں آدھی رات کے وقت خاص فرشتے آتے ہیں۔ کراما کاتبین سے پوچھتے ہیں ہر آدمی کے بارے میں کہ جب یہ سونے لگا تھا اس کا آخری عمل کیا تھا۔ صبح پتہ نہیں اِسکی جان ہے یا نہیں۔ وہ کہتے ہیں یہ عشاء کی نماز پڑھ کے سویا تھا دعا دیتے ہیں اﷲ اِس کو خوش رکھے اور یہ درود شریف پڑھ کے سویا تھا اﷲ اِس کو بھی خوش رکھے۔ اور یہ آیتہ الکرسی پڑھ کے سویا تھا آیتہ الکرسی کی لاج رکھنا اور أس حفاظت کرنا۔ اور یہ اﷲ ھو پڑھتے پڑھتے أسی کی مستیّ میں سو گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں خاموش آہستہ بات کرؤ شاید اس کی یاد میں آنکھ لگ گئی ہو اور ہو سکتا ہے ساری رات تمھاری اﷲ تعالیٰ عبادت میں شامل کر دے، کیونکہ سوتے وقت جو نیت ہوتی ہے خواب میں بھی وہی کچھ ہوتا ہے۔ وہ اﷲ ھو پڑھتے پڑھتے سو گئے اور خواب میں بھی اﷲ ھو کرتے رہے۔

ہم چکوال میں کنٹین کرتے ہیں تو کچھ کنڈکٹر کنٹین میں آکے سو جاتے۔ وہ خراٹیں لے رہے ہوتے آوازیں آ رہی ہوتیں، لاہور، پنڈی، لاہور، پنڈی، لاہور، پنڈی۔ اؤ أٹھ کے دیکھتے کہ خراٹیں لے رہے ہیں تو لاہور، پنڈی کی آوازیں کہاں سےآ رہی ہیں۔ کیونکہ وہ لاہور ہوتے تو خیال پنڈی کی طرف، پنڈی ہوتے تو خیال لاہورکی طرف۔

جب تمھارا خیال اﷲ کی طرف ہو گا نا، تو خواب میں بھی اﷲ اﷲ ہوتی رہے گی۔

صبح اُٹھیں وضو ہے یا نہیں پرواہ نہیں دل کا وضو پانی سے نہیں ہوتا۔ سارا دن پانی میں پڑیں رہیں پانی تو دل میں جائے گا نہیں  تو دل کا وضو کیسے ہو گا؟

جب وہ اﷲ کا نور اِس دل کو دھوئے گا اُسکو بولتے ہیں وضو کر لے شوق شرابا دا۔ 
اور وہ وضو گھڑی گھڑی نہیں کرتے ہیں۔ زندگی میں اک بار ہی کافی ہے۔

تو ذکر خفی کرتے رہیں۔ جب تک دل کی ڈھڑکن سے نہيں مِلتا اُسکو ذکر خفی کہتے ہیں۔ ذکر خفی عبادت ہے کوئی منزل نہیں ہے۔ جب دل کی ڈھڑکنیں پُکار أٹھتیں ہیں اﷲ اﷲ یہ تمھارا طریقت میں پہلا قدم ہے۔ سُنا ہو گا نا شریعت، طریقت، حقیقت۔

شریعت کا تعلق اِس زبان سے ہے اور طریقت کا تعلق اِس دل سے ہے۔

اور جب اﷲ اﷲ کرتے پھر اﷲ تک پہنچ جاتا ہے تو وہ حقیقت ہے نا۔ حقیقت کا تعلق اِن نظروں سے ہے۔
 تو پھر جب اﷲ تعالٰی اُسکو کچھ عطاء کر دیتا ہے، تو پھر وہ معرفت ہے نا۔ 


لاڑکانہ میں مجھے کچھ مفتی صاحب ملے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو کہتے ہیں کہ طریقت، حقیقت، معرفت سب کچھ شریعت ہی میں ہے۔ ہم لوگوں شریعت میں لگاتے ہیں تو أنکو ألٹا دوسرا سبق بتاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ خاص کی باتیں ہیں عام کی کرنے کی نہیں ہیں۔ بات بھی صحیح ہے لیکن ہم نے تجربہ کیا نا کہ وہ جو خاص ہیں وہ بھی عام ہو گئے ہیں نا۔ اب عاموں میں ہم کو خاص ملتے ہیں نا۔ اگر وہ خاص خاص کی تلاش میں ہوں تو ہمیں کیا کہنے کی ضرورت ہے۔

ہم نارؤئے ميں گئے۔ تو سمندر میں ایک بورڈ لگا ہوا ہے وہاں لکھا ہوا ہے کہ اِسکے آگے دنیا ہی نہیں ہے۔ اگر کوئی دنیا کو ڈھونڈنے والا وہاں پہنچ جائے تو وہاں ساکن ہو جائے گا، نا۔ آگے کیا کرؤں دنیا جو نہیں ہے۔

جب تم نے کہہ دیا کہ سب کچھ شریعت میں ہی ہے تو اگر کوئی اﷲ کا طالب ہو تو وہیں جا کے ساکن ہو جائے گا نا۔ 
اگر أسکو بتاؤ کہ طریقت بھی ہے حقیقت بھی ہے، معرفت بھی ہے۔ پھر رستے میں چل پڑے گا۔ 


طالب ہے تو چلے گا ،نا۔ طالب ہوتے ہیں نا۔ 
 

تو پھر جب وہ چل پڑے گا۔ ٹھیک ہے۔ أسکو طریقت نہ ملی، حقیقت نہ ملی چل ہی پڑا تو جو بھی اﷲ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید ہو گیا نا، بھئی أسکی تلاش میں نکلا نا، جہاں بھی مر گیا شہیدوں میں تو گیا نا۔

اب اِسکی اجازت بھی ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ اﷲ ھو سے ڈرتے ہیں کیوں ڈرتے ہیں جلالی ہے۔
اﷲ تعالیٰ نے پہاڑوں پہ أتارنا چاہا أس نے انکار کر دیا۔ انسان کے دل نے اِسکو قبول کیا۔ 

یہ سخت جلالی ہے۔ آگ جلالی ہے ہر آدمی أس سے ڈرتا ہے۔ أسکے بغیر گزارا بھی کوئی نہیں ہر گھر میں جلتی ہے۔ قانون قدرت ہے کوئی چیز گرمی کے بغیر نہیں پکتی۔ فصل بھی گرمی کے بغیر نہیں پکتی۔ جب جلنے کو ہوتی ہے تو اﷲ تعالیٰ بارش برساتا ہے۔ تمھارے گھر میں ھانڈی ہے وہ بھی گرمی کے بغیر نہیں پکتی۔ جب مصالحہ جلنے کو ہوتا ہے تو پانی کے چھینٹے مارتیں ہیں نا۔ اؤ یہ سینہ بھی گرمی کے بغیر نہیں پکتا ،نا۔ جب یہ اﷲ ھو سے جلنے کو ہوتا ہے تو درؤد شریف پڑھتے ہیں نا وہ اس کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔ تم یہاں تحجد پڑھتے رہو۔ شیطان ایک کونے پہ کھڑا ہستا رہتا ہے کیوں تیرا دل تو میرے ہاتھ میں ہے جب جی چاہوں گا موڑ دوں گا۔ اور تمھیں شکایت ہو گی میں بڑا تحجد گزار تھا مجھے کیا ہو گیا میں فرض نماز نہیں پڑھ سکتا۔ اؤ شیطان نے دل موڑ دیا نا۔ جب کوئی شخص اِس دل میں اﷲ بسانے کی کوشش کرتا ہے۔ شیطان سوچتا ہے اگر اﷲ اِس کے اندر چلا گیا یہ تو ساری عمر کے لیے میرے ہاتھوں سے گیا نا۔

بايزيد بسطامى جوانی کے ایام ميں جنگل میں چلے گئے جب ورد وظائف کرتے نماز وغیرہ پڑھتے تو دور دیکھتا رہتا جب وہ اللہ ھو کی ضربیں لگاتے اللہ ھو کو اندر بسانے کی کوشش کرتے تو وہ ان قریب آ کے ستاتا۔ ایک دن اُن کو بڑا غصہ آیا کہ مجھے یہ اﷲ اندر لے جانے ہی نہیں دیتا ہے ڈنڈا لے کراُسکے پیچھے بھاگے آج اِس کو مارؤں گا۔ وہ بھی بڑا چالاک تھا وہ آہستہ آہستہ بھاگتا رہا تاکہ اِن کو خوب بھگاؤں یہ جتنا تیز دوڑئیں وہ تھوڑا اور آگے ہو جائے۔ أدھر سے آواز آئی کہ اے بايزيد یہ ڈنڈوں سے نہیں مرتا ہے یہ اللہ کے نور سے جلتا ہے تو اتنا ذکر کر اتنا ذکر کر کہ تو نور العلیٰ نور ہو جائے۔ اور جب بايزيد بسطامى نور العلیٰ نور ہو گئے تو شہر بسطام سے جادوگر ہی چلے گئے کہ اب ہمارا عمل اثر نہیں کرتا۔
 

اب اُسکو پتہ ہے کہ حضرت انسان اِس اِسم ذات سے ذات تک پہنچ سکتا ہے۔

کوئی لوگ ہیں جو اللہ اللہ کرتے ہیں أنکے دلوں پے اللہ نقش ہو جاتا ہے۔ اور قرآن مجید فرماتا ہے
أنکے دلوں پر ایمان لکھ دیا جاتا ہے۔ یہ ایمان ہے یہ اﷲ والے ہو گئے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ اللہ کرتے ہیں اور
أنکے سینے پے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا روضہ آجاتا ہے۔ وہ خدا بھی نہیں جدا بھی نہیں پھر وہ کہیں بھی ہے مدینے میں ہے۔
کچھ لوگ ایسے ہیں جو اﷲ کا ذکر کرتے ہیں أنکے دلوں پر خانہ کبعہ آجاتا ہے۔


مجدد صاحب نے ایک دفعہ دیکھا۔ خانہ کبعہ آیا تو دیکھا باطنی مخلوق جن فرشتے اُنکو سجدہ کر رہئے ہیں ۔ بڑے پریشان ہوئے کہیں استدراج تو نہیں ہو گیا انسان کو سجدہ جائز ہی نہیں ہے۔ یہ مجھے سجدہ کیوں کر رہے ہیں ۔ آواز آئی گبھراؤں نہیں یہ تمہیں سجدہ نہیں کر رہے وہ جو تمھارے اندر خانہ کعبہ بس گیا ہے یہ اُس کو سجدہ کر رہے ہیں۔

جب رابعہ بصری کے دل میں خانہ کعبہ آیا اُس کبعے کو حکم ہوا کہ جا جا کر اُس کا طواف کر تجھے ابراہیم علیہ اسلام نے گارے مٹی سے بنایا ہے اِسکو میں نے اپنے نور سے بنوایا ہے ۔أس وقت مولانا رومی نے کہا ایسے دل کے لیے جس پر خانہ کبعہ ہے اِک دل ہزار کبعوں سے بہتر ہے۔ أسکی بنیاد ابراہیم علیہ السلام نے رکھی۔ اور یہ اﷲ تعالیٰ کے انوار کی گزرگاہ ہے۔ اب وہ تو خانہ کبعہ آ گیا نا۔

سلطان صاحب سے لوگوں نے پوچھا۔ آپ حج کو کیوں نہیں جاتے۔ وہ فرمانے لگے کبعہ تو ادھر ہی ہے، کہ کبعہ تو ادھر ہی آتا ہے۔ تھوڑا سا اس میں علماء حجت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کبعے کو کیوں گئے تھے پھر۔ بھئی حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم تو خانہ کبعے کا کبعہ تھے۔ اگر وہ رابعہ بصری کے پاس آ سکتا ہے تو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں جا سکتا۔ اگر حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم خانہ کبعہ کو نہ جاتے تو کوئی بھی نہ جاتا کہ خود تو گئے نہیں ہم کو کہہ گئے۔ جب ہمارے جیسے ہیں ، جو کہتے ہیں ہمارے جیسے ہیں وہ کہاں پھر جاتے۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم اگر کبعے کو گئے تو تمھارئے لیے گئے۔ ورنہ وہ کہتے ہیں رابعہ بصری جیسے لوگ کہ کعبے ول اوہی جاندے جہڑے کم دے ہوندے چوچی۔

اؤ شاہ منصور پھر کیوں سولی پر چڑھ گے وہ کہتے ہوتے تھے تو اس کعبہ میں کیوں جاتا ہے وہ کہتے اپنے اندر کبعہ بناء، نوری کبعہ بناء وہ کعبہ تیرے پاس ائے ۔ وہ تو چوچیوں کا کام ہے نا۔ تو کبعہ کو اپنے پاس بُلا۔ تو پھر فتویٰ لگ گیا تھا کہ یہ کبعہ سے منع کرتا ہے۔ اِس بات کے أوپر فتویٰ لگا نا۔ تب پھر اب تو یہ وہ ہو گئے جن میں خانہ کبعہ آگیا۔

ایک وہ ہو گیا جس میں اﷲ کا نقشہ آ گیا۔ جس میں اﷲ کا نقشہ آ گیا۔ اُس کے لیے اﷲ تعا لٰی فرماتا ہے۔ میں اِسکی زبان بن جاتا ہوں جس سے بولتا ہے، میں اٍسکے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے پکڑتا ہے۔ پھر أس وقت سخی سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں اگر أسکو اﷲ بھی کہہ جاؤ تو بے جا کوئی نہیں ہے۔ اگر أسکو اﷲ بھی کوئی کہہ جائے تو بے جا کوئی نہیں ہے۔

اب شیطان کے پاس ہندؤں فوج ہے جناّت کی بمعہ اسلحہ ہے۔ حکم دیتا ہے جا اِسکو برباد کر، تباہ کر، پتہ نہیں یہ کس منزل تک پہنچ جائے۔ تمھارے پاس اک جن نہیں ہے جو اُسکا مقابلہ کرؤ۔ شیطانی فوج تمھارے پہ ٹوٹ پڑئے گی تمھیں روکنے کے لیے جہاں سے یہ ذکر عطاء ہوتا ہے اﷲ تعالٰی اُنکو بھی ایک رحمانی فوج دیتا ہے۔ شیطانی فوج تم پہ ٹوٹ پڑئے گی اور رحمانی فوج شیطانوں پہ ٹوٹ پڑئے گی۔ اور رحمانی فوج اُس وقت تک تمھارا ساتھ دے گی جب تک تمھارے اندر رحمان جاگ نہیں اُٹھتے۔ پھر بندہ نہیں رہے بندہ نواز بن گئے، غریب نہیں رہے غریب نواز بن گئے۔ اس کے لیے ہم نہ آپ کو بیعت کرتے ہیں نہ ہی آپ سے کوئی نذرانہ طلب کرتے ہیں۔ اِک فیض ہے، اِک فیض ہے۔

انگلی کو جب تصور کرؤ کہ میں دل پے اللہ لکھ رہا ہوں توسب سے پہلے تمھارے مرشد کا حق ہے کہتے ہیں کہ مشکل وقت میں مرشد کو پکارؤ۔ اِس وقت تم اﷲ کے لیےاجازت لے رہے ہو اس سے بڑی مشکل کام کون سا آئے گا۔ دیکھو کہ میرا مرشد میری انگلی کو پکڑ کے میرے دل پے اللہ لکھ رہا ہے۔ اگر تو تمھارا مرشد کامل ہے تو پہنچے گا، نا۔ أسکو پہنچنا چاہیے نا۔

اگر مرشد نہیں ہے تو جس دربار سے تم کو رغبت ہے اُس دربار والے کا نقشہ لے لو کہ وہ دربار والا میری انگلی کو پکڑ کر میرے دل پر اللہ لکھا رہا ہے۔ اگر دربار والوں سے رغبت نہیں ہے۔ تو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے روضے کو ہی لے لو کہ حضور پاک کے روضے سے مجھے فیض ہو رہا ہے۔ اگر روضے کا بھی دھیان نہیں آتا ہے تو خانہ کعبہ کو ہی لے لو کہ مجھے وہاں سے ہی براہ راست فیض آ رہا ہے۔ أس وقت جو بھی تمھارے سامنے آ جائے وہی تمھارا مرشد ہے۔

شخصیت کو پانا مقصد نہیں ہے مقصد اللہ کو پانا۔

کہیں سے بھی حاصل ہو جائے۔

ہاں یہ گاڑیاں کھڑی ہوئی ہیں ۔ کسی بھی گاڑی پے آپ سوار ہو جائیں یہ نقشبندیوں کی بھی گاڑی ہے، چشتیوں کی بھی ہے، قادروں کی بھی ہے، سہروردیوں کی بھی ہے، جس کا دیکھیں انجن سٹارٹ ہے أس میں جا کے بیٹھ جا ئیں۔ اگر ایک پہ بیٹھے ہو نہیں چلتی ہے تو دوسری پہ بیٹھ جاؤ نا جرم نہیں ہے۔ جس کا انجن سٹارٹ ہے أس پہ بیٹھ جاؤ نا کوئی جرم نہیں ہے۔ لیکن اگر چلتی گاڑی ہے أس پہ بیٹھ گئے ہو وہ چل رہی ہے تو پھر اگر تم اترنا چاہتے ہو تو پھر زخمی ہو گے نا۔ پھر نہ تم اِدھر کے نہ أدھر کے۔ اگر تمھارے اندر یہ قلب کا فیض جاری ہے ۔ تو پھر تو تم کو مُبارک ہی ہے۔ پھر اجازت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

لیکن اگر قلب کو فیض جاری نہیں ہے۔ پھر کہیں سے بھی بیعت ہو پھر ہم جانیں اور وہ جانیں۔

پھر کہیں سے بھی بیعت ہو یا نہیں ہو۔

ہم تمھارا أس وقت تک ساتھ دیں گئے جب تک تم روشن ضمیر نہیں بن جاتے۔ اِس کے لیے اگر دل میں اللہ اللہ شروع ہو گئ تو دُعا دے دینا۔ اگر اللہ اللہ شروع نہ ہوئی تو جو دو چار پانچ سات دن پریکٹس کری أس کا ثواب تو مل جائے گا نا۔ 

اِس وقت ہر آدمی اپنے آپ کو کہتا ہے کہ اللہ کا مجھ پہ بڑا کرم ہے۔ کسی سے پوچھو کیا حال ہے؟ بڑا کرم ہے۔ کیوں؟ کار بنگلہ ہے کرم نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ اؤ دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کیا حال ہے؟ بڑا کرم ہے۔ کیوں؟ اتنا بڑا آفسر ہوں کرم نہیں تو اور کیا ہے۔ ایک بابا جی سے پوچھا کہ کیا حال ہے؟ بڑا کرم ہے۔ کیوں؟ اتنا بڈھا ہوں، اتنی صحت ہے کرم نہیں تو کیا ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ اگر تم اسکو کرم سمجھتے ہو تو یہ چیزیں تو کافروں کے پاس بھی ہیں۔ جو کافروں کو دیں وہ تمکو دیں تمھارے اوپر کیا کرم ہوا؟ اگر تم نے دیکھنا ہے کہ واقعی ہی تمھارے أوپر اﷲ کا کرم ہے۔ أس کے ذکر میں لگ جاؤ دو چار پانچ چھ دن میں اللہ اللہ شروع ہو گئی۔ أس کا کرم ہوگیا۔ "فذکرونی اذکرکم" تو مجھے یاد کر میں تجھے یاد کرؤں۔
 

یاد أسی کو کیا جاتا ہے جس سے دوستی ہو جائے۔ 
اگر کوشش کے باوجود اﷲ اﷲ نہیں جمتا ہے أس کا کوئی کرم نہیں۔ 

ہو سکتا ہے دولت دے کے أس نے تم کو اپنے آپ سے ہٹا دیا ہو۔

پھر جب اللہ اللہ شروع ہو گئی۔ تو پھر کار بنگلہ دیا تو وہ کرم ہے نا۔ پھر آفسری دی تو پھر وہ کرم ہے نا۔
اپنے آپ کوآزمانے کا راز ،اپنے مرشد کو آزمانے کا راز اللہ کو میرے اوپر کتنا مہربان ہے، بس یہ ہی کسوٹی ہے۔


گجرانوالا میں ایک انگریز نے کہا میں مسلمان ہوجاؤں گا۔ شرابیں بھی چھوڑوں گا، جو کہو گے نمازیں بھی پڑھوں گا، تحجد بھی پڑھوں گا، لیکن ایک بات مجھے تمھارے علماء سمجھا نہیں سکے۔ وہ کیا؟ وہ کہتے ہیں گارنٹی ہم نہیں دیتے ہیں کہ دوزخ میں جائے گا یا بہشت میں جائے گا۔ وہ کہتا ہے کہ سب کچھ کرنے کے باوجود گارنٹی نہیں دیتے۔ کہتا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی گارنٹی نہیں ہے۔ وہ کہنے لگا کہ پھر مطلب ہے یہ مذہب کمزور ہے نا جس کی گارنٹی نہیں ہے۔ بھئی جب مذہب تمھارا کمزور ہے نا جس کی گارنٹی نہیں دیتے ہو ہم سب کچھ چھوڑ دیں پھر بھی کہتے ہو گارنٹی کوئی نہیں۔ پھر أس کو پتہ نہیں تھا مذہب اسلام گارنٹی ہی گارنٹی ہے۔

اِس رستے میں پانچ سات دن میں پتہ چل جاتا ہے کہ تم کیا ہو۔ اگر تمھارے اندر اللہ اللہ شروع ہو گیا ۔ پھر گارنٹی ہی گارنٹی ہے نا۔ اِسی رستے کے لیے بابا فرید نے فرمایا تھا کہ گارنٹی ہی گارنٹی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جس میں ذرا بھی نور ہے معمولی سا بھی نور ہے۔ وہ دوزخ میں نہیں جائے گا۔ یہ أسکی گارنٹی ہے نا۔

اس کے لیے ذکر لینا چاہیں ذکر لیں اپنی قسمت آزمائیں۔

مطلب ہے کہ بہت سے لوگ ہونگے جو ویسے ہی چسکے کے طور پے آئے۔ بہت سے لوگ ہونگے جو دیکھنے کے لیے آئے۔ سننےکے لیے آئے۔

تو بہت سے اہل دل ہونگے نا جن کو دل کی طلب ہو گی نا۔ 
اب جس کو بھی دل کی طلب ہے أس کے لیے ضروری ہے اقرار وہ بھی کرے میں بھی کرؤں۔ 
أس کے لیے ضروری ہے وہ مجھے دیکھے میں أسکو دیکھوں۔


میں زبان سے اﷲ ھو پڑھوں گا۔ جنکو ذکر دل کا لینا ہے وہ میرے ساتھ اﷲ ھو پڑھیں۔ ذکر کی اجازت ہو جائے گی۔


 

اللہ ھو*****اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو
 


اگر آپ
 بھی ذکر کی لینا چاہتے ہیں تو امام مہدی ریاض احمد گوھرشاہی کی شبیہ مبارک کوپورے چاند پر دیکھتے ہوئے
 

تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔



 

© 1998-2010 All Faith Spiritual Movement Intl'
admin@theallfaith.com