SELECT YOUR LANGUAGE:    ENGLISH    or   INDONESIAN

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے

اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر)

مرکزی صفحہ  تعارف  حضرت عیسی  کرشمہ قدرت  الحجرالأسود  تعلیمات  دینِ الٰہی  پروگرام  تصانیف  ویڈیو  رابطہ    

دورہ سلطنت آف عمان 
جون 1996

 

عزیز ساتھیو اسلام علیکم ! آپ کے شہر میں پہلے بھی آنا ہوا آنے کا مقصد کوئی سیاست نہیں ہے کسی فرقے کی دل آزاری نہیں ہے کسی حکومت پر نقطہ چینی نہیں ہے ہر شہر میں ،ہر گھر میں ،ہر قصبے میں کچھ دل والے ہوتے ہیں اُن کو نکالنا مقصد ہے اور دل کی آواز اُن کے ضمیر تک پہنچانا ۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم  کے زمانے میں دو طرح کا علم تھا اک زبان والوں کیلئے اور اک دل والوں کیلئے ۔زبانی علم کو شریعت کہتے ہیں ،اور دل والے علم کو طریقت کہتے ہیں آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم  کے زمانے میں جن لوگوں نے صرف ظاہری علم پہ قنات کری اُنہی میں سے کوئی خوارج ہوا اور کوئی منافق ہوا ۔اور جن لوگوں نے وہ دل والا علم بھی حاصل کیا وہ تو اصحابی یا رسول اللہؐ کہلائے ،ولیوں سے بھی اعلیٰ مقام حاصل کرکے چلے گئے ۔

 

 اب وہ جو زبانی علم ہے جو شریعت کا علم ہے وہ قرآن مجید میں ہے ۔جب توریت اُتری تو اُس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارا دین مکمل کر دیا موسیٰ ؑ نے پڑھا کہ دین تو مکمل ہو گیا ہے اب اس کے آگے اور کیا علم ہو سکتا ہے بھئی جو کچھ ہے اس کتاب میں ہے توریت میں ہے ،اس سے آگے کیا علم ہو سکتا ہے ۔اللہ نے کہا بھی ہے کہ تمہارا دین مکمل کردیا اس کے پابند رہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں اس کے آگے اور علم بھی ہے یہ تمہارے عام کیلئے ہے وہ خواص کیلئے ہے (اللہ ) اس کیلئے آگے چلے جا فلاں دریا پہ چلا جا جب فلاں دریا پہ گئے تو وہاں خضر ؑملے ناں ،انہوں نے کشتی بھی توڑی ،تو بچے کو بھی مارا ناں اُس وقت موسیٰ ؑ نے کہا کہ واقعی اور بھی علم ہوتا ہے جس سے میں بے خبر ہوں کہا ناں موسیٰ ؑ نے ۔تو خضر ؑ سے کسی نے پوچھا کہ آیا کہ تمہارے سے بھی زیادہ کسی کے پاس علم ہے؟ تو فرمانے لگے کہ میں ایک دن جنگل میں جا رہا تھا تو دیکھا ایک آدمی سویا ہوا تھا اُس کے اوپر لائٹ پڑ رہی تھی جو ولیوں کے اوپر لائٹ ہوتی ہے میں پہچان گیا یہ کوئی اللہ کا ولی ہے میں نے اُس کو جگایا اُٹھ ،وہ اُٹھا کہنے لگا کیوں جگایا میں نے کہا میں تھکا ہوا ہوں تو میری خدمت کر ہاتھ پاؤں دبا اُس نے کہا جا اپنا کام کر میں نے سمجھا شاید اس نے مجھے پہچانا نہیں کیونکہ میں نقیب اولیاءہوں سارے ولی میرے محتاج ہیں ،میرے تحت ہیں اور اس نے مجھے کہا جا اپنا کام کر خضر ؑ کہتے ہیں اچھا اگر تو میری خدمت نہیں کرے گا ابھی میں بستی والوں کو بتاؤں گا کہ یہ اللہ کا ولی ہے وہ تیرے پیچھے لگ جائیں گے وہ کہنے لگا ٹھیک ہے جب اُن کو بتاؤ گے ناں یہ ولی ہے تو میں اُن کو بتاؤں گا کہ یہی خضر ؑ ہے وہ تمہارے پیچھے لگ جائیں گے اب خضر ؑ کہنے لگے تجھے میرے نام کا کیسے پتہ چل گیا اب وہ کہنے لگا اب تم مجھے بتاؤ میرا نام کیا ہے خضر ؑ کہتے ہیں کہ میں نے بڑی کوشش کری سارا علم لڑایا لیکن پتہ ہی نہیں چل سکا کہ اسکا نام کیا ہے آخر اللہ تعالیٰ کی طرف میں رجوع ہوا ،جب رجوع ہوا کہ اے اللہ یہ آدمی میری سمجھ سے باہر ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو واقعی نقیب اولیاءہے لیکن تو اُن کا نقیب اولیاءہے جو مجھے چاہتے ہیں یہ اُن میں سے ہے جن کو میں چاہتا ہوں۔

 

 اب علم بہت سارا ہے اب ہم جو بات کرتے ہیں ناں لوگ کہتے ہیں یہ ناں حدیث کی بات ہے ناں قرآن کی بات ہے لیکن حدیث،قرآن کے آگے بھی علم ہے ناں ۔وہ جو علم ہے وہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے سینے مبارک میں ہے ناں ( اللہ ) وہ علم سینے مبارک میں ہے اس قرآن مجید سے وہ توریت کا علم ختم ہو گیا توریت ختم ہو گئی یہ تو مانتے ہی ہیں ،زبور بھی چلا گیا ،انجیل بھی منتشر ہو گیا ،اب تمہارا قرآن مجید وہ بھی منتشر ہو چکا ہے ناں ۔بہتر(72 ) فرقے اہل قرآن نے ہی بنائے ناں بھئی اب تمہیں پھر راستہ کس چیز سے ملے گا ۔جب قرآن بھی منتشر ہو گیا تو پھر تمہارے پاس رستہ کون سا ہے اب تمہیں وہ دین پکڑنا پڑے گا جو منتشر ہو ہی نہیں سکتا ہے جس کو ہر مذہب قبول کرتا ہے وہ دین جو اللہ نے اپنے لیئے رکھا تھا جو اللہ کا دین ہے اب تمہیں اسکو پکڑنا پڑے گا تب تم کو صراطِ مستقیم حاصل ہو گا۔ اب اللہ کا دین کیا ہے توریت بھی اللہ کا دین نہیں ہے توریت والوں کا اور دین ہے زبور والوں کا اور ہے ،انجیل والوں کا اور دین ہے قرآن والوں کا اور دین ہے ،پھر اللہ کا دین کیا ہے ،پھر اللہ کا بھی دین کیا ہے اللہ کا دین عشق ہے ( اللہ ) اُس نے سب سے پہلے اپنے محبوب سے عشق کیا۔ خود عشق ،خود عاشق ،خود معشوق اب تمہارے اندر وہ عشق آجائے وہ عشق سب مذاہب سے بالا تر ہے مذاہب ایمان سکھاتے ہیں ایمان سے اللہ نہیں ملتا ایمان سے جنت ملتی ہے ،ایمان سے جنت ملتی ہے اللہ نہیں ملتا ہے اور وہ دین عشق سکھاتا ہے ناں ،عشق سے اللہ ملتا ہے ( اللہ ) وہ دین ہی کیا ہے۔ اب تم ایک تسبیح لیتے ہو اللہ اللہ کرتے ہو اب تسبیح کیساتھ اللہ اللہ کیوں کرتے ہیں۔ جسطرح پتھر پتھر سے ٹکراتا ہے ،لوہا لوہے سے ٹکراتا ہے چنگاریاں اُٹھتی ہیں اللہ اللہ سے ٹکراتا ہے نور بنتا ہے اب آپ کسی مذہب کی بات نہیں کریں ہم آپ کو عشق کی بات بتاتے ہیں آپ مذہبوں کو بھی چھوڑیں ،فرقوں کو بھی چھوڑیں عشق کو اپنائیں اگر اللہ مل گیا تو پھر جدھر اللہ اُدھر تم اب یہ جو ٹِک ٹِک کیساتھ اللہ اللہ کرتے ہیں یہ بھی نور بنتا ہے جب ٹکراؤ ہوتا ہے آپس میں تو وہ نور بنتا ہے لیکن یہ نور اندر نہیں جاتا ہے یہ باہر انگلیوں میں رہتا ہے اس کا اجر ملے گا تو یومِ محشر میں ملے گا ناں ابھی تو کچھ نہیں ہے ناں ۔اسی طرح لوگ زبان سے اللہ اللہ کرتے ہیں وہ بھی نور بنتا ہے وہ جو مستی آتی ہے وہ نور کی مستی ہوتی ہے ناں ۔لیکن وہ نور بھی باہر ہی باہر ہے ناں اندر تو وہ بھی نہیں گیا ناں اسی طرح کی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر تسبیح لگا دی ہے وہ بھی ٹِک ،ٹِک،ٹِک کرتی رہتی ہے وہ ٹِک،ٹِک کیوں کرتی ہے اب وہ خالی ٹِک ،ٹِک کررہی ہے ناں اُسی کی رگڑ سے تمہارے اندر بجلی بن رہی ہے (ہاں ) یہ جو تمہارے اندر بجلی ہے ڈیڑھ کلو واٹ بجلی ہے تمہارے یہ جو اس ٹِک،ٹِک سے بنتی ہے اور جوں جوں وہ ٹِک،ٹِکیں آہستہ ہوتی جاتی ہیں تمہارے میں جو سرعت ،تیزی وہ کم ہوتی جاتی ہے بندر میں دیکھو ،بلی میں دیکھو اُسکی ٹِک، ٹِک بڑی تیز ہے اور اُس میں بڑی پھرتی ہے اب جب اُس ٹِک ،ٹِک کیساتھ اللہ اللہ ملتا ہے پھر وہ اللہ اللہ کا جب رگڑا لگتا ہے ناں تب پھر وہ نور بھی بننا شروع ہو جاتا ہے ناں ( اللہ ) پھر جو نور ہے اُس بجلی میں مکس ہو جاتا ہے جب وہ نور اُس بجلی میں مکس ہوجاتا ہے تب پھر وہ ٹِک،ٹِک کا تعلق خون سے ہے خون کو آگے دھکیلتی ہے ،پھر آگے دھکیلتی ہے پھر وہ اللہ کا نور پورے خون میں چلا جاتا ہے یہ نور نہیں گیا ،زبان کا نور بھی نہیں گیا وہ جب اندر اللہ اللہ ہوئی تو اسکا نور اندر خون میں گیا ناں خون سے ہوتا ہوا پھر وہ تمہاری نسوں تک چلا جاتا ہے وہ نور نسوں میں جاتا ہے نسوں سے ہوتا ہوا جو تمہاری روحیں ہیں روحوں تک پہنچ جاتا ہے پھر تمہاری روح بیدار ہو کے وہ بھی اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتی ہے پھر تم سوتے رہو گے تمہاری روح اللہ اللہ کرتی رہے گی تم قبر میں چلے گئے تو وہاں بھی تمہاری روح اللہ اللہ کرتی رہی اور یوم محشر میں بھی روح اللہ اللہ کرتی رہی ۔

 

اس قسم کی تمہارے اندر سولہ (16)مخلوقیں ہیں ۔سات روحیں ہیں نو (9) جُسے ہیں سولہ (16)مخلوقیں تمہارے ڈھانچے میں ہیں جب وہ نکل جاتی ہیں تو تمہارا ڈھانچہ ختم ہو جاتا ہے اُس کا مطلب ہے کہ اصل وہ ہے ناں تم نقل ہو ناں پھر اُس مخلوق کے بعد باقی جو مخلوقیں ہیں وہ بھی اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتی ہیں وہ بھی جاگنا شروع ہو جاتی ہیں حتیٰ کہ سولہ(16) کی سولہ (16) مخلوقیں اس جسم میں اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتی ہیں پھر یہی مسجد ،یہی کعبہ یہی گُلِ گلزارِ جنت ہے۔ اب وہ تمہاری روحیں اللہ اللہ میں لگ گئیں اب اُن کی نور سے پرورش ہونا شروع ہو گئی نور سے انہوں نے طاقت پکڑ لی اب تم مذہب کو چھوڑو پہلے صراطِ مستقیم میں دیکھو کہ صراط ِ مستقیم کیا ہے جب انہوں نے طاقت پکڑ لی اک تمہارے جسم میں اک ایسی روح ہے جس کو نفس بولتے ہیں اُس میں شیطانی طاقت ہے بچہ بچپن سے ہی شیطانیاں کرتا ہے اُس میں شیطانی طاقت ہے وہ ذرا طاقتور ہوتی ہے خواب میں وہ جسم سے باہر نکل جاتی ہے شیطانوں میں جاکے گھوم آتی ہے پھر آکے جسم میں داخل ہو جاتی ہے کیونکہ وہ شیطانی روح ہے شیطان میں جاتی ہے ناں شیطانی طاقت کے ذریعے ۔اب تمہارے اندر جو روحیں ہیں اُن میں وہ نوری طاقت بھی آگئی ناں۔جب وہ نوری طاقت آ گئی ناں وہ نوری طاقت کے ذریعے جسم سے نکلتی ہیں ناں وہ شیطانی شیطانوں میں جاتی ہیں تو نوری نوریوں میں جاتی ہے ناں ( اللہ ) پھر جب یہ نوری نوریوں میں جائیں گی ناں تو پھر جب دیکھیں گی ناں کہ جس کے آگے سارے نبی ولی جھکتے ہیں یہ بھی اُس کے آگے جا کے جھک جائیں گی ناں بھئی روح نے تو صراطِ مستقیم پا لیا ناں اُس نے باطن میں دیکھ لیا ناں اب کوئی کہتا ہے کہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تو کوئی کہتا ہے چلے گئے ہیں تو دونوں نے نہ اُس نے دیکھا ہے ناں نہ اِس نے دیکھا ناں اُس وقت روح جاکے دیکھ آئے گی ناں ۔اُ سکے بعد ہر وقت جب تمہارے دل میں اللہ اللہ شروع ہو جائے گی کوئی بھی چیز دل میں بس جائے تو اُس سے محبت ہو جاتی ہے اللہ دل میں آگیا اللہ سے محبت ہو گئی جب اللہ سے محبت ہو جاتی ہے اللہ کسی کا احسان لیتا ہی نہیں ہے اک روپیہ خرچ کرو (10)دس روپے لوٹا تا ہے احسان مانے تو کیوں(9) نو روپے فالتو دے اک نیکی کرو دس نیکیوں کا ثواب دیتا ہے تھوڑی سی محبت کرو دس گنا زیادہ محبت کرتا ہے اور جس سے اللہ محبت کرتا ہے اُس کو ایک دن دیکھتا ہے بڑے پیار سے دیکھتا ہے جس دن اللہ نے تمہیں پیار سے دیکھا محبت ختم ہو گئی پھر وہ عشق کا مقام ہے ناں پھر میں تیرا اور تو میرا ، پھر میں تیرا اور تو میرا اُس وقت پھر علامہ اقبال ؒنے فرمایا  گر ہو عشق تو کفر بھی ہے مسلمانی اگر عشق پیدا ہو جائے اللہ کا عشق پیدا ہو جائے اگر کافر ہے تو وہ بھی مسلمان ہی ہے ناں فرماتے ہیں اگر یہ نا ہوتو پھر مسلم بھی ہے کافروزندیق آج مسلمان ایک دوسرے کو کافر وزندیق کہہ رہے ہو ناں عشق نہیں ہے تب کہہ رہے ہو ناں اگر اُس کافر میں بھی عشق آجائے یقین کرو وہ اِن مذاہب والوں سے بہتر ہے جن میں اللہ رسول کا عشق نہیں ہے اب عشق بھی آگیا اب حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو بھی جاکے دیکھ لیا اُن کی شان کیا ہے اب یہ جو نمازیں اوپر کس طرح جاتی ہیں تم یہ فرض فرض ایک رسم ادا کر رہے ہو وہ جو نمازیں اوپر جاتی ہیں اُن کا کوئی طریقہ ہے ناں تم کو طریقہ ہی نہیں آتا ناں یہاں سے امریکہ بات ٹیلیفون کے ذریعے جاتی ہے ناں تو بغیر ٹیلیفون کے لگا رہ ناں سارے لگے ہوئے ہیں ناں بہتر (72) فرقے والے لگے ہوئے ہیں ناں اگر آواز سب کی ایک جگہ چلی جائے تو بہتر (72) فرقے کیوں ہوں ایک ہی ہوں ناں سارے ( اللہ ) حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم  کے زمانے میں سنی،شیعہ نہیں ہوتے تھے نہ سنی، نہ شیعہ،نہ وہابی ہوتے ہی نہیں تھے اُن کے زمانے میں جو ہوتے ہی نہیں تھے تو پھر یہ کون تھے؟ بھئی سوچنے والی بات ہے ناں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم  کے زمانے میں اُمتی ہوتے تھے جو اُمت سے نکلا اُس کو خوارج کہتے ہیں یہ سارے اُمت سے نکلے ہوئے ہیں یہ سارے اُمت سے نکلے ہوئے ہیں کوئی فرقہ اپنے آپکو اُمتی کہتا ہے سُنی بھی نہیں کہتے کہ سنی ہوں وہ کہتا میں شیعہ ہوں ،میں وہابی ہوں کوئی اُمتی کہتا ہے ؟خوارج ہیں تب ناں اُمتی کون ہوتا ہے حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم  فرماتے ہیں اُمتی وہ ہے جس میں نور ہے حدیث شریف میں ہے قیامت کے دن اُمتوں کی پہچان نور سے ہو گی اور قرآن مجید بھی فرماتا ہے اعراب نے کہا ہم ایمان لے آئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں اِنکو کہو صرف اسلام لائے مومن تب بنو گے جب تمہارے دل میں نور اترے گا تو جب نور اترے گا تب تم اُمتی ہوئے ناں تو اُمتی کی بخشش ہو گئی ناں ۔

 

تمہاری کیا بخشش ہو گی تم تو خوارج ہو بھئی بخشش تو اُمتی کی ہو گی ناں اُمتی کی سفارش ہو گی ناں خوارج کی تو کوئی نہیں خوارج تو نکلا ہوا ہے اب اُمتی کی اُس کو مومن بولتے ہیں تو مومن ،مسلمان کی نماز معراج نہیں ہوتی ہے مومن کی نماز معراج ہوتی ہے اُس کیلئے سب سے پہلے مومن بننا پڑتا ہے اور مومن ،معراج کیسے بنتی ہے نماز اسکی اللہ تعالیٰ نے اس بندے کو نیچے بھیجا بہت ہی دور بھیجا ناں اُس کو پتہ تھا ناں کہ میرے خاص بندے بھی اسمیں ہونگے ناں ۔ہیں ناں اُس کے بندے جس کے ذریعے اُس کو رابطہ کرنا پڑتا ہے اس لیئے اُس نے ان میں ایک ٹیلی فون لگا کے بھیجا ہر بندے میں ایک ٹیلیفون لگا کے یہ دل تمہارا ٹیلیفون ہے ۔اب یہ ٹیلیفون ہے لیکن اسمیں پاور نہیں ہے ناں موبائل فون پڑا ہے فون ہے بجلی ہوگی اسکی لہریں یہاں سے اُٹھیں گی امریکہ بات ہو گی تمہارے اندر فون ہے اسمیں اگر نور کی لہریں اُٹھیں گی تو یہاں سے اُٹھیں گی عرش معلی میں جاکے بات ہو گی جب وہ تمہارے دل کی دھڑکنیں ،تمہاری روحیں ہر وقت اللہ ،اللہ ،اللہ کرتی رہیں گی یہ تمہارا دل اسمیں بجلی ذخیرہ ہے اب وہ نور کا ذخیرہ بن جائے گا وہ بجلی نور میں ٹرا نسفر ہو جائے گی وہ اس دل میں اب اُس میں پاور آگئی ناں یہ میگنٹ آ گیا میگنٹ ہے سوئیاں پھینکو ،کھینچتا ہے ناں نسبت ہے ناں اب اس دل میں نور آگیا اب تونے نماز پڑھی اُسکا نور باہر نہیں گیا وہ اندر دل نے کھینچ لیا ناں اور تلاوت کری اُس کا نور بھی باہر نہیں گیا وہ دل نے کھینچ لیا ناں اب دل کا رابطہ عرش معلی سے ہے اب وہ نماز بھی اوپر جا رہی ہے اور وہ تلاوت بھی اوپر جا رہی ہے حتیٰ کہ تیری بات بھی اوپر جا رہی پھر میں تیرا اور تو میرا ہے ناں ۔ایک سکھ نے کہا تمہارے اکابر کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں نور ہے کہنے لگا ہمیں پہلے اسکا ثبوت دو تم باقی باتیں تو پھر کریں گے ناں میں تمہارا جاسوس رہ کر آیا تمہارے بچوں کو قرآن پڑھاتا تھا ،نمازیں پڑھاتا تھا میں نے بھی بہت سی آئیتیں رٹی ہوئی تھیں اگر اُس میں نور ہوتا تو میں نوری کیوں نہیں ہوا میں تو مڑ کے سکھ ہی بن کے جیسا گیا تھا ویسا ہی آیا اک عیسائی بھی بیٹھا ہوا تھا اُس نے کہا میں بھی دن رات تمہارا قرآن پڑھتا ہوں نوری میں بھی کوئی نہیں ہوا تو ہم نے کہا بات یہ ہے کہ تم نے اسکو دل سے نہیں پڑھا یہی کہہ سکتے تھے ناں کہنے لگے ٹھیک ہے ہم نے دل سے نہیں پڑھا تمہارے مسلمان تو دل سے پڑھتے ہیں ناں وہ نوری کیوں نہیں ہوئے بات بڑی معقول تھی اگر یہ نوری ہوتے تو اتنے فرقوں میں مبتلا کیوں ہوتے سارے ایک ہی ہوتے ناں سارے قرآن پڑھنے والے ایک دوسرے کو کافر اور منافق کہہ رہے ہیں ناں مقصد یہ ہے کہ وہ قرآن اُن کے اندراترا نہیں ہے اندر جاتا تو نور بنتا ناں دوائی اندر جائے تو شفا دے ناں قرآن دل میں جائے تو اُنکو نور پہنچائے ناں وہ قرآن اُن کے دلوں میں اترا نہیں جب قرآن دلوں میں نہیں اترا اس دل میں دو ہی چیزیں ہیں یا اللہ یا شیطان ،یا تمہارے دل میں اللہ ہوگا اگر اللہ نہیں ہے تو پھر شیطان ہو گا بھلے تم باہر سے بڑے نمازی ہو قاضی کیوں نہ ہو اگر تمہارا دل خالی ہے اسمیں شیطان ہے لوگ کہتے ہیں ہم تو تلاوت کرتے ہیں ،نمازیں پڑھتے ہیں ہمارے ساتھ شیطان کا کیا کام کہتے ہیں ناں یہ بہت بڑا دھوکہ ہے بھئی جب تو نماز پڑھتا ہے تو تیرے دل میں وسوسے کیوں آتے ہیں تُو تو اللہ کے حضور کھڑا ہے تو سوچنا بھی نہیں چاہتا وہ وسوسے تیرے دل میں آتے ہیں دل میں شیطان ہے تب آتے ہیں ناں (اللہ ) بھئی شیطان ہے تب آتے ہیں ناں تو تُو کیسے کہتا ہے میرے ساتھ شیطان کا کیا کام ہے وہ آتا ہے تمہاری نماز خراب کرکے چلا جاتا ہے نماز خراب ہوتی ہے تب وہ آتا ہے ناں وہ تمہارا اور اللہ کے درمیان جو ٹیلیفون ہے اسمیں وہ بیٹھ جاتا ہے جب تمہارے دل میں اللہ اللہ گونجے گا دل کی دھڑکنیں اللہ اللہ پکاریں گی اس وقت جب تم نماز پڑھو پھر بھی شیطان آئے گا تمہاری نماز خراب کرنے کیلئے ایک دن حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ جب میں نماز پڑھتا ہوں تو مجھ کو وسوسے آتے ہیں آپ نے فرمایا تمہیں دو قسم کا ثواب مل رہا ہے اک نماز پڑھنے کا ،اور اک جہاد کرنے کا جب وہ شیطان آتا ہے وہ تیرے دل میں اللہ اللہ ہو رہی ہے وہ اُسکو باہر نکالتی ہے اُن وسوسوں کو (اللہ ) پھر وہ آتا پھر اللہ اللہ اسکو باہر نکالتی ہے یہ تو جہاد ہو رہا ہے ناں اگر وہ وسوسے آکے چپ کرکے بیٹھ جائیں جہاد تو نہیں ہے ناں پھر تو شکست ہے ناں ،پھر تو شکست ہے ناں اس وقت ضروری ہے یہ جو دین اللہ کا دین ہے اسکو دین الہیٰ بولتے ہیں یہ آیا کرتا تھا خاص خاص بندوں کیلئے ۔جن لوگوں کیلئے دین آیا عشق آیا ۔خواجہ صاحب ؒ بن گئے اور داتا صاحب ؒ بن گئے یہ صرف انہی لوگوں کیلئے تھا جن کو اللہ چاہتا تھا اب اللہ نے اسکو عام کر دیا جو بھی آئے لبیک ( اللہ ) نہیں سمجھے ،جو بھی آئے لبیک ،عیسائی ہے ،ہندو ہے ،سکھ ہے ،مسلمان ہے کوئی بھی ہے یہ علم سب کیلئے ہے اور جس میں وہ علم چلا جائے گا وہ تو اللہ کا عاشق ہو جائے گا جب اللہ کا عاشق ہو جائے گا ۔تو جدھر اللہ اُدھر وہ وہ ہمارے علماءکہتے ہیں یہ خاص ہے ہم مانتے ہیں باتیں صحیح ہیں لیکن یہ باتیں خاص میں کرنے کی ہیں تُو یہ باتیں خاصوں میں کر ناں عاموں کو ہمارے لیئے رہنے دے ناں عاموں یہ باتیں کیوں کرتا ہے تو ہم کہتے ہیں وہ جو خاص لوگ تھے ناں وہ بھی عام میں تبدیل ہو گئے ناں اب خاص میں اور عام میں کیا فرق ہے دونوں ایک ہی جیسے ہیں ناں جیسی وہ نماز پڑھتا ہے ویسی وہ پڑھتا ہے ناں ہم عام میں وہ باتیں کرتے ہیں اُن میں جو خاص عام میں پھنسے ہیں وہ نکل آتے ہیں ناں ہمارا اُن سے یہ اختلاف ہے جب یہ دل اللہ اللہ میں لگتا ہے ،جس دن یہ دل اللہ اللہ میں لگتا ہے اُس دن تمہاری گاڑی اللہ کی طرف چل پڑتی ہے کیونکہ اللہ کا تعلق اس دل سے ہے ناں جس دن اللہ اللہ اس دل نے کری تمہاری گاڑی اللہ کی طرف چل پڑی ناں ۔اب اُس گاڑی کو پٹرول کی ضرورت ہے ناں یہ شریعت اسکا پٹرول ہے ۔نمازیں ،روزے پڑھتے رہو گاڑی چلتی جائے گی اس طریقت کا تعلق دل سے ہے ناں اور جب یہ گاڑی اللہ تک پہنچ جاتی ہے اُس کو حقیقت کہتے ہیں ناں حقیقت کا تعلق اِن نظروں سے ہے ناں جب تم نے لوگوں کو کہا کہ سب کچھ شریعت میں ہے اس سے آگے کچھ بھی نہیں ہے ناروے میں گئے ہم وہاں ایک بورڈ لگا ہوا تھا کہ اس کے آگے دنیا نہیں ہے اگر کوئی دنیا کا مہم جو ہوا تو وہاں جاکے رکا جائے گا ناں کہ آگے دنیا ہی نہیں میں کیا کروں جب تم نے کہا کہ سب کچھ شریعت میں ہے اگر کوئی اللہ کا طالب ہوا تو شریعت میں ہی پھنس جائے گا ناں پھر شریعت کے آگے ہے ہی کچھ نہیں سب کچھ شریعت میں ہے پھنس گیا ناں اگر سب کچھ شریعت میں ہوتا تو ہمارے جتنے بھی اکابر ہیں داتا صاحب ؒ ،خواجہ صاحب ؒ جنگلوں میں کیوں گئے حتیٰ کہ غوث پاک ؓ بھی جنگلوں میں گئے ناں اس کا مطلب ہے وہاں کچھ اور تعلیم تھی ناں وہاں وہ طریقت کی تعلیم تھی ناں یہاں یہ شریعت کی تعلیم ہے وہاں طریقت کی تعلیم ہے شریعت مدرسوں میں شہروں میں پڑھائی جاتی ہے اور طریقت جنگلوں میں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم پڑھاتے ہیں ناں (اللہ ) پھر وہ پڑھا کے طریقت واپس بھیج دیتے ہیں پھر شریعت اور طریقت والوں کا ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے ناں میں جدھر جاتا ہو ں ہمارے علماءپیچھے لگ جاتے ہیں کہتے ہیں اسکو بس کچھ بیان نہیں کرنے دو جتنا وہ روکتے ہیں اُتنا عروج ہو رہا ہے کیونکہ اللہ رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم  کا حکم ہے ۔

 

اب نوجوان اُن کے پاس جاتے ہیں جو طالب ہے کہ مجھکو اللہ کی طلب ہے بھئی نماز پڑھ قرآن پڑھ وہ پڑھتا ہے ساری شریعت اپنا ،اپناتا ہے داڑھی بھی رکھ لیتا ہے پانچ ،چھ سال ہو گئے مولوی صاحب کوئی رب کا نام و نشان نہیں پھر ایسا کر سیاست میں آجا وہ سیاست حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے کری تھی وہ سیاست میں اسکو لگا لیتے ہیں پانچ ،چھ سال سیاست میں لگ گیا مولوی صاحب اللہ کا نام و نشان نہیں پھر تو جہاد کر اسکو فضیلت ہے کہ جہاد کیا ،کہ وہ یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نہیں کہتے تو اُنکو مار وہ تجھے ماریں گے جہاد شروع ہو گیا ناں اس طرح نوجوانوں کی زندگی جو ہے ناں وہ برباد ہو رہی ہے ۔وہ زندگی برباد ہو رہی ہے اِن عالموں میں بھی کئی قسم کے عالم ہیں ناں اک عالمِ ربانی ہے وہ جس کے سینے میں قرآن اُترا اُس کو عالم ربانی کہتے ہیں وہ قاری نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں ہے قرآن جس طرح اس قرآن کی تعظیم فرض ہے اسکو چوم سکتے ہیں اسکو پشت نہیں کر سکتے اسطرح اُس عالم کو چوم سکتے ہیں اور اُسکو پشت نہیں کر سکتے کیونکہ اُس کے اندر قرآن ہے اُس کو عالم ربانی کہتے ہیں اُس نے کافروں کو مسلمان بنایا ہے مسلمانوں میں کوئی فتنہ کھڑا ہوا اُس نے مٹایا ہے اور جن کے سینوں میں قرآن نہیں اُن کے ہاتھوں میں قرآن ہے اور جن کے ہاتھوں میں قرآن ہے اُنکو عالمِ سُو کہتے ہیں اِس قرآن کے ذریعے اُس نے بہتر (72 ) فرقے بنائے قرآن سے بنائے نہ اُس نے اور تیسرا ہے جس کے بغلوں میں قرآن ہیں ۔یہ قرآن پڑھا رہا ہے ہاتھوں میں قرآن ہے اور وہ تیسرا بڑا خطرناک ہے جس نے نوجوانوں کی زندگیاں خراب کر دیں اُس کے بغلوں میں قرآن ہے اور اُس کیلئے بلھے شاہ ؒ فرماتے ہیں کھاکے سارا مکر جاندے ،جناندے بغل وچ قرآن ( اللہ ) صبح کہتے ہیں بے نظیر کافر ہے شام کو جب پیسے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم نے تو کہا ہی نہیں تھا (اللہ ) وہ اُس قرآن کی آڑ میں سیاست کرتے ہیں ناں قرآن کی آڑ میں سیاست کرتے ہیں اور کہتے ہیں حضور پاک ﷺ نے بھی سیاست کری تھی حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ایسی سیاست تھوڑی کری تھی پھر کہتے ہیں کہ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا جہاد ہے یعنی جو بھی حکومت ہے اُن کے خلاف یہی اُنکی ہوتی ہے حدیث یہی ہوتی ہے ناں بھئی پہلی بات تو یہ ہے کہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جابر سلطان مسلمانوں میں کون تھا کوئی ہے ریکارڈ اگر کوئی ہوتا تو موجود کر لیتے جہاد کیوں کرتے یہ تو آپ نے کافروں کیلئے کہا تھا ناں یہ مسلمانوں میں فٹ کرتے ہیں آپس میں لڑاتے ہیں ناں اس وجہ سے ضروری ہے اب تم سیاست کو چھوڑو بہت عرصہ کر چکے ہو اب روحانیت کی طرف آؤ وہ پانچ ،چھ سال جو تم نے سیاست میں گزارے کچھ نہیں ملا اگر تم پانچ ،چھ سال صرف اللہ اللہ ہی کرتے رہتے اور نہیں تمہارے دل کی صفائی تو ہو جائے گی ناں دل کی صفائی ہو گئی دل چمک اُٹھا تو اللہ تعالیٰ کبھی کبھی ان مخلوقوں کا دیکھتا ہے بنائی جو ہے ناں وہ داڑھیوں کو نہیں دیکھتا ،وہ شکلوں کو نہیں دیکھتا وہ چمکتے ہوئے دلوں کو دیکھتا ہے ( اللہ ) اور جس دل کو اللہ نے چمکتے دیکھا اُس پہ مہربان ہو گیا ناں اب جو اُس کا طریقہ ہے کیونکہ اسمیں مذہب کی بات نہیں ہے اور کوئی مذہب اسکو جھٹلا بھی نہیں سکتا ہے کوئی مذہب ،توریت،زبور،انجیل،قرآن اس علم کو جھٹلا بھی نہیں سکتا ہے اب جو اسکا طریقہ ہے روزانہ چھیاسٹھ (66) مرتبہ کاغذ پہ اللہ لکھتے ہیں اللہ کو اندر لانا ہے بھئی تو قرآن پڑھتا ہے باہر پھینکتا ہے ،نماز پڑھتا ہے باہر ،اللہ اللہ کرتا ہے باہر ،چھو چھو کرتا ہے باہر ہی جاتا ہے ناں اور اللہ ہی کو تو اندر لانا ہے یہی اک راز ہے کہ اللہ اندر آئے تو اندر اللہ اندر کیسے آئے مجھے اک نیوی کیپٹن ملا کہتا میں پانچ ،چھ سال سے کاغذ پہ اللہ لکھتا ہوں پتہ نہیں کتنا ہزاروں بار میں نے اللہ اللہ لکھا میں اللہ کو پا نہیں سکا کہ وہ کاغذ تونے کیا کیے کہ وہ میں سمندر میں ڈال دیئے سمندر میں ڈالے ناں اندر ؟ کہتا کیا میں کھا جاتا روزانہ چھیاسٹھ (66) مرتبہ سفید کاغذ کے اوپر اللہ لکھیں کالی پنسل سے لکھیں آپ تھوڑے دن لکھیں گے جو کاغذ پہ لکھتے تھے وہ تمہاری آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے گا وہ تصور آنکھوں میں آجائے گا جب آنکھوں میں آجائے پھر لکھنا بند کر دیں آنکھوں سے توجہ سے اُسکو دل کے اوپر اُتارنے کی کوشش کریں ناں کاغذ سے آنکھوں نے کھینچ لیا اور آنکھوں سے دل کھینچ لیتا ہے ناں اور جو کاغذ پہ لکھتے تھے ایک دن وہی دل پہ لکھا نظر آئے گا ناں پولیس کی مہر لگی پولیس والا اللہ لکھا گیا اللہ والا اُس وقت تمہارے دل کی دھڑکن تیز ہو جائے گی ٹِک،ٹِک،ٹِک،ٹِک اُس کیساتھ اللہ ھُو ملائیں وہ دل کی تسبیح ہے وہ دل کی تسبیح اندر ہے اُس ٹِک،ٹِک کیساتھ اللہ ھُو ملائیں گھڑی گھڑی اسطرح کریں وہ دل کی دھڑکنیں اللہ ھُو میں تبدیل ہو جائیں گی رات کو سونے لگیں اُنگلی کو قلم خیال کریں تصور سے دل کے اوپر اللہ لکھتے لکھتے سو جائیں اُسی مستی میں سو جائیں صبح اُٹھیں وضو ہے یا نہیں پرواہ نہیں دل کا وضو پانی سے نہیں ہوتا آپ سارا دن پانی میں پڑے رہیں پانی تو دل میں جائے گا نہیں تو دل کا وضو کیسے ہو گا جب یہ اللہ کا نور اس دل میں آئے گا وہ اس دل کو دھوئے گا اُس کو بولتے ہیں وضو کر لے شوق شراباں دا ( اللہ ) بعض لوگ دل کی دھڑکنیں ہونگی اُس کیساتھ اللہ اللہ ملائیں گے بعض کی خاموش ہو گئیں پھر وہ کیا کریں اُن کیلئے کئی طریقے ہیں جو جس کو پسند آ جائے بلھے شاہ ؒ نے کہا اساں نچ کے یار منایا اے تو سوچنے لگے یہ کیا کہا نچنے سے اللہ کیسے مانتا ہے پھر آگے کہنے لگے ایتھے نچنا وی عبادت بن جاندا اے ،کہ نچنا وی ایتھے عبادت بن جاندا اے اور پریشانی ہوئی کہ ناچ تو حرام ہے اور بلھے شاہ ؒ کہتے ہیں عبادت بن جاتا ہے خوب نچے ،خوب نچے دل کی دھڑکنیں اُبھریں تو کہندے ہیں خوب نچیا ،بلھا خوب نچیا دل دیاں دھڑکناں اُبھریاں اُنہاں نال میں اللہ اللہ ملایا تے اللہ من گیا ناں ۔نیت نچن دی ،اللہ نوں منان دی سی ناں ۔دھڑکنان نوں ابھارن دی سی ناں تو اللہ تعالیٰ نیتاں نوں دیکھ دا اے ناں ( اللہ ) نچن دی نیت ای نئی سی ،ہن پاویں تُسی نچو۔امیر کلال ؒ نے کبڈی کھلائی انہاں دل دی دھڑکنان اُبھارن واسطی آن پاویں کبڈی کھیلو اک ہور بزرگ سن اُنہاں دیواراں بنوائیاں صبح بناؤ تے شامی گھراؤ ،صبح بنا ؤ تے شامی گھراؤ ،اک ہور طریقہ اے ورزش کرو او بھی نئیں تے دوڑو او بھی نئیں تے جتھے بہہ کے ضرباں لاندے نے اللہ ھُو اللہ ھُو ضرباں لاؤ او گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ اللہ ھُو کرو گے ناں اوہی پوزیشن نچنے والی ہوئے گی کبڈی والی ہو جائے گی ناں دل دیاں دھڑکناں اُبھرن گیاں ناں اُنہاں دھڑکناں نال فیر اللہ ھُو  ملاؤ ناں ( اللہ ) یہ اس ناں طریقہ اے۔

اگر گرمی لگے تو درود شریف پڑھو اِسکی ٹھنڈا کر چھوڑ سی پھر اللہ ھُو کر رے او فیر گرمی لگنی اے غصہ اوناں اے فیر درود شریف پڑھ وہ اسکو ٹھنڈا کر دے گا یہ اس کا طریقہ ہے اس کیلئے نہ کوئی بیعت ہے نہ کوئی نذرانہ ہے بس اللہ رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم  کی طرف سے حکم ہے سب کیلئے حکم ہے جو جی چاہے اپنی قسمت آزمائے (اللہ )جب تک یہ تمہارے اندر اللہ اللہ نہیں ہوتا تمہاری مخلوقیں اندر جوان نہیں ہوتیں ہم تمہاری حفاظت کریں گے اب دیکھا ناں اس وقت بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے پیر پکڑے ہوئے ہیں ہو سکتا ہے آپ پیر پکڑ کر حرام ہو گئے ہوں پیر صرف اللہ کیلئے پکڑا جاتا ہے سلطان صاحب ؒ نے فرمایا اپنی کتاب میں اگر کوئی شخص دنیا کیلئے پیر پکڑے ،دنیا کیلئے بیعت ہو یا دنیا کیلئے بیعت کرے دونوں حرام ۔ دنیا کیلئے بیعت کرے یا بیعت ہو دونوں حرام ہو گئے ناں بیعت تو صرف اللہ کیلئے ناں ،اللہ کو پانے کیلئے ہے ناں بیعت کا مطلب ہے بِک جانا ناں اپنے آپکو بیچ دینا ناں اگر تو بِک کے بھی اللہ کو نہیں پا سکا اب اللہ کو جو گاڑی جاتی ہے یہ تو یہ دل جاتا ہے ناں اگر تجھے چار،پانچ،چھ سال بھی ہو گئے تیرے دل کی گاڑی کوخبر ہی نہیں ہے تو پھر یا تیرا پیر ناقص ہے یا پھر تو ناقص ہے پھر بہتر ہے ہو سکتا ہے تیرا نصیبا کسی اور جگہ ہو تو نصیبے کو تلاش کر یا پھر اپنے پیر کو پہچان تو سہی ناں کہ تیرا پیر ہے کچھ پیر ایسے ہیں جن کو دیکھنا ہی ثواب ،لکھ کروڑاں حجاں دا ثواب مل دا اے (اللہ) کوئی پیر ایسے بھی ہوتے ہیں وہ کون سے پیر ہوتے ہیں جب اُن کے یہ مخلوق اک مخلوق جو نوریوں میں جاتی ہے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم  تک پہنچتی ہے اک مخلوق جو دماغ میں ہوتی ہے وہ سیدھی اللہ تک پہنچتی ہے ( اللہ ) جب اللہ تک پہنچتی ہے پھر ایک دوسرے کو پیار سے دیکھتے ہیں بھئی بڑی دور سے گیا بڑی محنت کرکے گیا ناں پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تجھے دیکھ لوں تو مجھے دیکھ لے پیار سے دیکھتے ہیں پھر وہ جو اللہ کانقشہ اُس کی آنکھوں میں آتا ہے اُس کی آنکھوں کے ذریعے اُس کے دل میں آتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اب تو نیچے چلا جا اب جو تجھے دیکھ لے وہ مجھے دیکھ لے (اللہ) اُس کیلئے پھر سلطان صاحب ؒ نے فرمایا ناں مرشد دا دیدار اے با ھُو مینوں لکھ کروڑاں حجاں ھُو اب اگر تیرا پیر ایسا ہی ہے تو پھر تو جیسا بھی ہے آپی لاسی ساراں ھُو اب شناخت تو ہونی چاہیے کہ میرا پیر ہے بھی ایسا کہ نہیں چور کوچور پہچانتا ہے ناں ولی کو ولی پہچانتا ہے اک تم ایک لاہور کا چور اِدھر بٹھاؤ پشاور کا چور اُدھر، اُدھربٹھاؤ دونوں کی نظریں ٹکرائیں گی تو سمجھ جائیں گے میرا پیٹی بھائی ہے حقیقت ہے اک ولی اِدھر ہو گا اک ولی اُدھر ہو گا اُن کے دل ٹکرائیں گے سمجھ جائیں گے کہ تار لگی ہوئی ہے کوئی ولی بیٹھا ہوا ہے جب تمہارے دل میں یہ اللہ اللہ شروع ہو جائے گی تمہیں محسوس ہو گی تمہارا دل اللہ اللہ کررہا ہے پھر تم کسی دربار پہ چلے جانا ناں داتا صاحب ؒ چلے جانا وہاں بھی اللہ یہاں بھی اللہ رقت پیدا ہوئی ناں داتا صاحب ؒ نہیں تو ایوب ؑ یہاں نزدیک ہے ناں وہاں چلے جانا ناں ۔دربار کے اندر جانا ناں رقت پیدا ہو جائے گی اللہ اللہ ٹکرائے گا ناں تو رقت پیدا ہو جائے گی ناں سمجھ جاؤ گے ناں روحانی ہے کوئی پھر آگے دوسرے دربار پہ چلے جانا وہاں بھی اللہ تو یہاں بھی اللہ پھر اپنے مرشد کے پاس چلے جانا ناں جو بات وہاں جانے سے مرشد کے پاس ہوتی ہے تو پھر تیرا مرشد کامل ہی ہے ناں (اللہ ) اب یقین پکا ہو گیا ناں اب جان بھی جاتی ہے جانے دے لیکن گھڑی گھڑی اُس کے پاس جاتا ہے گھڑی گھڑی جاتا ہے تو کچھ بھی نہیں ہوتا پھر وہ کچھ بھی نہیں ہے ناں تو پھر وہ کچھ بھی نہیں ہے ناں تو پھر خواہ مخواہ تیری عمر برباد کررہا ہے ناں بیعت کا مطلب ہے بِک جانا تو بِک گیا تیری ساری نمازیں ،روزے اُس کے ہو گئے اگر وہ ہی آگے نہیں پہنچا تو تیری نمازیں روزے سب بیکار ہو گئے ناں اگر تیرا پیر کامل ہے اللہ والا ہے تو تُو سخت گناہگار ہی سہی تو جدھر وہ جائے گا اُدھر تو بھی جائے گا ناں (اللہ ) ضروری ہے اُسکی شناخت ہو اُس کی شناخت کی گارنٹی یہ دل ہے ناں بھئی گارنٹی یہ دل ہے ناں اس کیلئے اگر کوئی ذکر لینا چاہے تو ذکر لے اور اپنی قسمت آزمائے اگر تو اللہ اللہ شروع ہو گیا تو دُعا دے دینا اگر نہ ہوا تم جیسے ہو ویسے تو رہو گے ناں تمہارا تو کچھ نہیں بگڑے گا ناں یہ سالوں کا نہیں ،مہینوں کا نہیں یہ پانچ،سات دن میں پتہ چل جاتا ہے ناں کہ تم کیا ہو تو اس کیلئے کسی صاحب کو کوئی بات پوچھنی ہو تو پوچھ لے اور اُس کے بعد ذکر لے اور اپنی قسمت آزمائے کوئی نئی بات سُنی ہو گی کوئی دل میں تجسس ہے تو پوچھ لیں پھر پتہ نہیں زندگی کے میلے ہیں ملاقات ہو نہ ہو ہاں جی کیسے آئے آؤ جی ہاں جی جی

 

جواب: دوائی تو یہی ہے اسکی جو میں نے بتائی ہے اگر آدمی بیمار ہو جائے تو دوائی تو لیتا ہے ناں اسی طرح یہ گناہوں کا علاج ہے ناں ہر آدمی گناہگار تو ہوتا ہی ہے ناں اک نبی معصوم ہوتا ہے باقی لوگ تو گناہگار تو ہوتے ہی ہیں ناں اُن گناہوں کا یہ علاج ہے ناں یہ دوائی ہے ناں یہ ٹیکہ ہے ناں بس یہ ٹیکے لگاتے رہیں گے تو شفاءہوتی جائے گی ۔اور ایک دن بالکل پاک ،صاف،شفاف ہو جائیں گے اُس کا یہ علاج ہے کہ جب وہ پاک ،صاف،شفاف ہونگے ناں تو پھر وہ قرآن کے قابل ہونگے قرآن خود فرماتا ہے ھداللمتقین میں ہدائت کرتا ہوں پاکوں کو جب تو پاک ہوجاتا ہے پھر قرآن اُس کے اندر اُترتا ہے پھر اُس کو ہدائت ہوتی ہے اُس کے ذریعے لوگوں کو شفا ہوتی ہے ناں اور جس نے پاک ہوئے بغیر ،نفس کی پاکیزگی کے بغیر قرآن سے ہدائت پانے کی کوشش کری وہ گمراہ ہوا بہتر (72) فرقوں میں تقسیم ہو گیا اُس کیلئے ضروری ہے کہ پہلے اُس کا اندر صاف ہو جائے اس اندر اک پلید چیز ہے چھ چیزیں ایسی ہیں جو علوی ہیں نہ نوری ہیں نہ ناری ہیں اک چیز جو ہے وہ شیطانی ہے جس کیلئے بلھے شاہ ؒ نے فرمایا اس نفس پلیت نے پلیت کیتا اساں منڈھوں پلیت نہ سی ( اللہ) جب وہ چیز اس جسم میں آئی تو یہ جسم ناپاک ہوا ناں ورنہ یہ مٹی بھی ناپاک نہیں ہے وہ باقی روحیں بھی ناپاک نہیں ہیں وہ نفس آیا یہ ناپاک ہوا ناں اب جب تک یہ پاک نہیں ہو گا ،نفس پاک نہیں ہو گا تو بھی پاک نہیں ہو گا تو وہ نفس پاک جو ہے وہ ظاہری عبادت سے نہیں ہوتا ہے وہ نسوں میں ہے جب نسوں میں نور جاتا ہے اُس تک نور پہنچتا ہے تو پھر وہ پاک ہونا شروع ہو جاتا ہے ناں ( ہاں ) پھر وہی نفس جو کتے کی شکل میں تھا وہ اُسی انسان کی شکل میں بن جاتا ہے اور حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم  کے قدموں میں پہنچاتے ہیں اسکو (اللہ )

 

سوال : ( خود پرچی پڑھتے ہوئے ) اسمیں لکھا ہوا ہے جی سوال یہ ہے کہ آپ کی کمر مبارک پر یہ الفاظ نقش ہیں کہ امام مہدی لکھا ہوا ہے یا یہ بات

جواب : یہ توکوئی معقول بات نہیں ہے ناں جی،کیا آیا تم نے دیکھا ہے؟ جو یہ سوال کررہا ہے یا سُنا ہے دوسرا سوال یہ ہے کہ تصویر کا بنوانا ،گھروں میں لگانا درست ہے یا نہیں یہ بھی ایک فرقے کا سوال ہے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم  کے زمانے میں نہ کیمرے ہوتے تھے نہ تصویریں ہوتی تھیں اُس وقت بُت بنائے جاتے تھے بُتوں کیلئے آپ نے منع کیا ہے اب ایک فریدالدین ہیں اُن کے بھائی نے مجھ سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ تصویر حرام ہے اور وہی کہتے ہیں قبر میں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم  کا نقشہ دکھایا جائے گا وہ بھی پھر تصویر ہی ہو گا ناں وہ کہتا ہے اگر اِدھر حرام ہے تو پھر اُدھر حرام کیوں نہیں ہے۔ وہ تصویر کوئی ننگی تصویر ،عورت کی تصویر ہے آپ کے جذبات مجروح ہوتے ہیں تو وہ آپ کیلئے حرام ہے ناں اُتار دیں ناں اگر آپ کا کوئی پیرو مرشد ہے یا کوئی ولی کی تصویر ہے آپ گناہ کرنے لگتے ہیں اُ س کا خیال آجاتا ہے تو وہ آپ کیلئے بہتر ہے ناں اب دیکھیں ناں لوگ کہتے ہیں ویڈیو کتنا چڑھتے ہیں اس سے اور ویڈیو  کیا کوئی  شیطان ہے  او لوھا ( لویاں ) ہی ہے ناں پرزے  ہیں  ناں  اگر  فلموں  دیکھو  تو حرام اگر نعتیں ، قوالی دیکھو تو حلال ، پیسہ ہے  غلط کام  میں لگاؤ تو حرام ہے تو  جائز میں لگاؤ تو  حلال بن گیا تمہارے لیئے کہتے ہیں جہاں تصویر لگی ہو وہاں نماز ہو جاتی ہے یا نہیں وہاں ذکر بھی ہوتا ہے پہلے ہی بتایا اگر وہاں ،یہاں ذکر ہو رہا ہے یا نمازیں ہو رہی ہیں اگر عورتوں کی تصویریں لگی ہوئی ہیں تو وہ ناجائز ہی ہیں حرام ہی ہیں اگر کسی بزرگ یا ولی اللہ کی تصویر ہے وہ تمہارے میں اور اضافہ کرتی ہے وہ کیسے اضافہ کرتی ہے وہ پھر یہی سوچتا ہے کہ میرے ساتھ وہ بھی بیٹھا ذکر کررہا ہے ناں جس طرح نماز باجماعت پڑھتے ہیں تو خیال رکھتے ہیں ناں کہ آگے میرے امام ہے ناں اسی طرح آپ کا خیال ہوا ہے وہ میرے ساتھ بیٹھا ہوا ہے دیکھ رہا ہے تو رہا یہ جو مسئلے مسائل ہیں ناں تم اسمیں اُلجھ گئے ناں اصلی منزل تو تمہاری اللہ کو پانا تھا ناں تم نے اُس کو چھوڑ دیا اِن مسئلوں میں اُلجھ گئے اب تصویر حلال ہے یا حرام ہے تم اسکو چھوڑو ناں تم اللہ کو پانے کی کوشش کرو ناں اُدھر جاؤ ناں تم ۔جب اللہ مل گیا تو اِنکی کیا وقعت ہے تو پھر اسکی کیا وقعت ہے اگر تجھے اللہ مل گیا ناں تو پھر حضرت رابعہ بصری ؒچکلے میں بیٹھ گئیں تھیں وہاں جو آیا وہ بھی اللہ والا بن کے چلا گیا ناں (اللہ ) او تو اللہ کو پا اِن مسئلوں کو چھوڑ اور جی کوئی بات

 

سوال: میں ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں درمیان میں دوسرا شخص سرکار وہ ایک صاحب ہیں پہلا شخص میں پوچھنا چاہتا ہوں ۔جب دین مکمل ہے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم  کی بات ،بقول نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم  کے ۔دین مکمل ہوگیا حج کے ٹائم پہ آپ نے فرمایا دین مکمل ہے پھر یہ ذکر یہ جو ہم کررہے ہیں تو یہ ثابت نہیں کسی کتاب سے 
سرکار شاہ صاحب :میں نے پہلے ہی بتایا میں بتاتا ہوں ،نامعلوم شخص بیچ میں اس کے بارے میں آپ کیا بتائیں گے میں بتاتا ہوں یہ ساری بات اسی کے متعلق ہی کری ہے ناں وہ جو دین مکمل ہوا ناں وہ شریعت والوں کا ہو ا ناں طریقت والوں کا تو دین مکمل وہاں نہیں ہوا تھا حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں مجھے حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم  سے دو علم حاصل ہوئے ہیں اک تمہیں بتا دیا وہ یہی تھا ناں دوسرا بتاؤں تو تم مجھے قتل کر دو وہ دین طریقت تھا ناں یہ حدیث ہے باقاعدہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم  فرماتے ہیں مجھے تین علم حاصل ہوئے اک عام کیلئے ،اک خاص کیلئے ،اک صرف میرے لیئے اب رہا سوال اگر یہی دین تھا پھر آپ داتا صاحبؒ یا خواجہ صاحب ؒ کی نفی کردیں ناں پھر وہ جنگلوں میں کیوں گئے وہ کس دین ،کونسا دین سیکھنے کیلئے جنگلوں میں گئے اس کا مطلب ہے کوئی اس سے ہٹ کے دین تھا ناں وہ دین طریقت تھا یہ دین شریعت ہے اس کے آگے بھی دین ہیں جو نظروں سے پلایا جاتا ہے وہ حقیقت ہے ناں دین تو بہت سارے ہیں ناں

 

سوال : سرکار وہ ایک صاحب پوچھنا یہ چاہتے ہیں کہ کوئی شخص اُن کے سینے کے اجزاءکو ،سینے کی دھڑکنوں کو ،یا گوشت کے ٹکڑوں کو اُبھار لیتا ہے عمل سے وہ ذکر قلب ہے ،روحانیت ہے یا عبادت ہے

جواب : نہیں وہ ایسا ہے دو سلسلے والے لوگ ہیں میں اُن کو جانتا ہوں اُنکی محنت پہ آفرین ہے اُنہوں نے یہ سُنا اگر یہ دل ذکر سے جنبش میں آئے عرش معلی کو جنبش ہوتی ہے اسمیں شک نہیں ہے اک فرقے نے کیا کیا دل کی دھڑکنوں میں اللہ اللہ ملائی دھڑکنوں کے ذریعے ۔جب دھڑکنوں میں تیزی آئی اُن کے دل نے جنبش کری اُس نے تو ایسا کیا دوسرے والے نے کیا کیا کہ مشق کے ذریعے اس دل کو یہاں سے لایا ناف تک ناف اللہ ھُو اللہ ھُو وہ بھی ہم نے سلسلہ دیکھا اک اور سلسلہ دیکھا جس نے گوشت کے لوتھڑے کو اللہ ھُو اللہ ھُو او جنبش میں لگا لیا اب رہا سوال جس نے ناف تک لگایا اُس نے جب تک تصور کیا ناں وہ ہوا ناں جب تصور چھوڑا تو ختم ہو گیا ناں جب اُس نے اللہ ھُو میں لگایا جب تک وہ مشق کرتا رہا تصور کرتا رہا وہ ہوتا رہا ناں جب تصور ختم کیا تو ختم ہو گیا ناں وہ تصور ذیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ کر سکتے ہیں وہ بھی ایک گھنٹہ سے زیادہ نہیں کر سکتا اور یہ بھی ایک گھنٹہ سے زیادہ نہیں کر سکتے اُن کے دلوں میں پھر تکلیف ہونا شروع ہو جاتی ہے یہی بات ہے ناں اور جنہوں نے وہ دل کی دھڑکنوں کیساتھ اللہ اللہ ملایا وہ تو چوبیس گھنٹے اللہ اللہ کرتی رہی ناں (اللہ ) وہ دل کی دھڑکنیں جو کرتی ہیں وہ ذکر قلب ہے اور یہ جو انہوں نے ملا لیا ناں یہ بھی ایک گوشت کے لوتھڑے کا قلب ہے ناں ذکر ہے ناں لیکن جو مقام دل کی دھڑکنوں کا ہے ناں وہ مقام اِنکو نہیں ہے کیونکہ یہ وقتی ہے اور وہ دائمی ہے یہ سوتے میں نہیں ہوتا ہے وہ سوتے میں بھی ہوتا رہتا ہے آپ اُن لوگوں کو دیکھیں ناں آپ کیساتھ چل پھر رہیں ہیں تو بالکل ساکن ہیں لیکن جب وہ محفل میں بیٹھیں گے تب اُن کے دل ایسا ایسا کریں گے ناں اُن کا تعلق تصور سے ہے ناں وہ تصور گھنٹے سے زیادہ قائم رہ نہیں سکتا ہے ناں رہا ۔اُن کی محنت پہ آفرین ہے یہ نہیں کہہ سکتے غلط ہے لیکن جو منزل ہے ناں وہ دل کی دھڑکنوں سے ہے خون سے ہے اور خون سے روحوں میں جاتا ہے ناں اُس سے منزل چلتی ہے ناں وہ عبادت ہے لیکن منزل نہیں ہے اور جی کوئی سوال کر لیں

 

سوال : آپ نے کسی کتاب میں لکھا ہے میں مہدی ہوں

سرکار شاہ صاحب : نہیں

سائل : تو پھر لوگ پرو پیگنڈہ کرتے ہیں

سرکار شاہ صاحب : پھر لوگوں سے پوچھیں ناں جی

سائل : دیکھیں جی میں نے اُن سے کہا ہے کہ مہدی ؑ ،مہدی کا مطلب ہوتا ہے ہدائت دینے والا یہ تو اللہ کاکام ہے وہ ہدائت کرے

سرکار شاہ صاحب : میں نے کہیں نہیں لکھا جی نہ کسی کو کہا ہے جی اگر کوئی کہے تو اُس کی مرضی ہے کوئی کیا کہتا ہے ،کوئی کیا کہتا ہے ،کوئی کیا کہتا ہے ۔

 اس کیلئے بہتر ہے ذکر لے لیں اور اپنی قسمت آزمائیں ہاں کسی بھی فرقے سے ہے تعلق اس سے مطلب نہیں ہے ،مطلب ،اللہ کو پانا مطلب ہے

 

سوال: سرکار کسی شخص کا کہنا ہے اگر ذکر چالو ہو جائے تو اسکو بند کر سکتے ہیں یا نہیں ؟

سرکار شاہ صاحب : یہ جو ہیں ناں یہ اپنی مرضی سے چالو ہوتا ہی نہیں ہے ناں اگرآپ چاہیں ناں کہ میرا ذکر چالو ہو جائے تو کبھی بھی نہیں ہو گا ناں جب تک رب نہیں چاہے گا تو وہ تمہارا آگا ،پیچھا دیکھ کر ہی چاہے گا ناں نہیں دیکھ کر ہی چاہے گاناں تو پھر مشکل ہے ایک دفعہ وہ چا لے پھر یہ بند ہو جائے یہ چلتا ہی رہتا ہے بیچ میں اگر نشیب و فراز آ بھی جاتے ہیں لیکن یہ چلتا ہی رہتا ہے ہاں جی

 

سوال : 66 بار اللہ لکھنے کا راز کیا ہے

سرکار شاہ صاحب : یہ ایک عمل بن جاتا ہے جسطرح786 ہے وہ بسم اللہ سے تعلق رکھتا ہے اسی طرح جو چھیاسٹھ(66) ہے ناں یہ اللہ سے تعلق رکھتا ہے ناں یہ ایک عمل بن جاتا ہے ناں یہ حروف ابجد میں ہے ناں کہ تو تسلی سے بات جیسی بھی چاہو کر لو پھر ایسا کریں ناں میں پڑھو گا ناں اللہ ھُوجن لوگوں کو ذکر لینا ہے کیونکہ زبر دستی کاسودا نہیں ہے دل کا سودا ہے زبر دستی لے گا بھی تو اللہ نہیں چاہے گا تو بیکار ہے ناں بھئی اگر لے بھی لے ذکر اللہ نہیں چاہے تو بیکار ہے ناں یہ جس کو دل چاہتا ہے وہ میری زبان کیساتھ اقرار کرے گا تین دفعہ اللہ ھُو کا تو جو نہیں چاہتا وہ خاموش رہے جو اقرار کرے گا اُس کو اجازت ہوگی اجازت کا مطلب کیا ہوتا ہے آپ اسکے بغیر بھی اللہ ھو پڑھ سکتے ہیں ناں آپ یہاں تہجد پڑھتے رہیں شیطان ہنستا رہتا ہے کھڑا تیرا دل تو میرے ہاتھ میں ہے ناں جب جی چاہوں گا موڑ دونگا لگا رہ لیکن اگر کوئی شخص اللہ کو دل میں بسانے کی کوشش کرتا ہے شیطان سوچتا ہے اللہ اس کے اندر چلا گیا یہ تو ساری عمر کیلئے میرے ہاتھوں سے گیا ناں ہاں کیونکہ وہ اللہ کے نور سے جلتا ہے ناں اسکے پاس ہندو فوج ہے جنات کی پھر اُس آدمی کے اوپر چھوڑ دیتا ہے جا اسکو برباد کر ،تباہ کر ،کچھ بھی کر یہ اللہ اسکے اندر نہ جائے اب تمہارے پاس تو کوئی مقابلہ کرنے کیلئے کوئی چیز نہیں ہے وہ آئیں گے تمہیں ستائیں گے پاگل بھی کرکے جا سکتے ہیں لیکن جہاں اسکی اجازت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اُنکو بھی ایک رحمانی فوج دیتا ہے او شیطانی فوج تم پہ ٹوٹ پڑی اور رحمانی فوج شیطانوں پہ ٹوٹ پڑی وہ رحمانی فوج اُس وقت تک تمہارا ساتھ دے گی جب تک تمہارے اندر رحمان نہیں جاگ اُٹھتاپھر بندہ نہیں رہے بندہ نواز بن گئے غریب نہیں رہے غریب نواز بن گئے اجازت یہ ہے ٹھیک ہے پڑھیں جی

 اللہ ھُو ،اللہ ھُو ،اللہ ھُو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم بس جی اجازت ہو گئی سب کو دعا مانگیں اور چلیں

 

دُعا : اعوذ بااللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یا الہیٰ رحم کُن برماھُما ۔عفُکن جملہ گناہ معاف ۔۔۔۔۔ یا الہیٰ اس دھرتی پہ رحم ،یا الہیٰ انکے سینوں پہ رحم ،یا الہیٰ انکے قلب نور عرفان سے منور فرما ،یا الہیٰ انکی ظاہری ،باطنی بیماریاں دور فرما ،یا الہیٰ انکی دینی ،دنیاوی مشکلات ختم فرما ربنا اتنا فی الدنیا حسنتہ و فی الاخرة حسنتہ وقنا عذاب النار لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

 

*****************************

اگر آپ بھی ذکر کی لینا چاہتے ہیں تو امام مہدی ریاض احمد گوھرشاہی کی شبیہ مبارک کوپورے چاند پر دیکھتے ہوئے
 

تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔

 

 

© 1998-2011 All Faith Spiritual Movement Intl'
admin@theallfaith.com