SELECT YOUR LANGUAGE:    ENGLISH    or   INDONESIAN

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے

اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر)

مرکزی صفحہ  تعارف  حضرت عیسی  کرشمہ قدرت  الحجرالأسود  تعلیمات  دینِ الٰہی  پروگرام  تصانیف  ویڈیو  رابطہ    

  اُومان ﴿قطر﴾ میں حضرت ریاض احمد گوھر شاہی مدظلہ العالی

کا خطاب اور سوالات کے جوابات

آعوذبااﷲمن الشیطن الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

عزیز ساتھیوں السلامُ علیکمُ:۔
 

آپ کے شہر میں پہلے بھی آنا ہوا۔ آنے کا مقصد کوئی سیاست نہیں ہے کسی فرقے کی دل آزاری نہیں ہے کسی حکومت پر نکتہ چینی نہیں ہے۔ ہر شہر میں ہر گھر میں ہر قصبے میں کچھ دل والے ہوتے ہیں انکو نکالنا مقصد ہے اور دل کی آواز ان کے ضمیر تک پہنچانا۔
 

حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو طرح کا علم تھا ایک زبان والوں کے لیے اور ایک دل والوں کے لیے۔ زبانی علم کو شریعیت کہتے ہیں اور دل والے علم کو طریقت کہتے ہیں۔ آپ کے زمانے میں جن لوگوں نے صرف ظاہری علم پر قناعت کری ان ہی میں سے کوئی خوراج ہوا کوئی منافق ہوا اور جن لوگوں نے وہ دل والا علم بھی حاصل کیا وہ تو ایک صحابی یا رسول اللہ کہلائے۔ ولیوں سے بھی اعلیٰ مقام حاصل کر کے چلے گئے۔ اب وہ جو زبانی علم ہے۔ جو شریعیت کا علم ہے وہ قرآن مجید میں ہے۔
 

جب توریت اتری اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارا دین مکمل کر دیا۔

موسیٰ علیہ السلام نے پڑھا کہ دین تو مکمل ہو گیا اب اس کے آگے اور کیا علم ہو سکتا ہے؟ بھی جو کچہ ہے اس کتاب میں ہے توریت میں ہے اس کے آگے کیا علم ہوسکتا ہے۔ اللہ نے کہا بھی ہے کہ تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اس پر پابند رہو۔
 

اللہ تعالیٰ نے پھر فرمایا نہیں اسکے آگے اور علم ہے یہ تمہارے عام کے لیے ہے وہ خاص کے لیے ہیں۔

اسکے لیے آگے چلے جاؤ فلاں دریا پر چلے جاؤ۔ جب فلاں دریا پر گئے تو وہاں خضر علیہ السلام ملے نا انہوں نے کشتی بھی توڈی تو بچے کو بھی مارا نا اس وقت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ واقعی ہی اور بھی علم ہوتا ہے۔ جس سے میں بے خبر ہوں۔ کہا نا موسی علیہ السلام نے۔

تو خضر علیہ السلام سے کسی نے پوچھا آیا تہمارے سے بھی زیادہ کسی کے پاس علم ہے۔

تو فرمانے لگے میں ایک دن جنگل میں جارہا تھا تو دیکھا ایک آدمی سویا ہوا تھا۔ اس کے اوپر لائٹ پڑ رہی تھی جو ولیوں کے اوپر لائٹ ہوتی ہے میں پہچان گیا تھا کہ یہ کوئ اللہ کا ولی ہے میں نے اسکو جگایا اٹھ وہ اٹھا کہنے لگا کیوں جگایا؟ میں نے کہا تھکا ہوا ہوں اُٹھ میری خدمت کر میرے ہاتھ پاؤں دبا۔ اس نے کہا جا اپنا کام کر میں نے سمجھا شاید اس نے مجھے پہچانا نہیں ہے۔ کیونکہ میں نقیب اولیا ہوں سارے ولی میرے محتاج ہیں۔ میرے تحت ہیں اور اس نے مجھے کہا جا اپنا کام کر۔ حضر علیہ السلام کہتے ہیں اچھا اگر تو میری خدمت نہیں کرئے گا ابھی بستی والوں کو بتاؤں گا کہ یہ اللہ کا ولی ہے وہ تیرے پیچھے لگ جائیں گے۔ وہ کہنے لگا ٹھیک ہے اگر تو ان کو بتاؤ گئے نا کہ یہ ولی ہے میں انکو بتاؤں گا کہ یہ ہی خضر ہے وہ تمہارے پیچھے لگ جائیں گے۔ اب خضر علیہ السلام کہنے لگے کہ تجھے میرے نام کا کیسے پتہ چل گیا۔ اب وہ کہنے لگا کہ اب تم بتاؤں میرا کیا نام ہے۔ حضرعلیہ السلام کہتے ہیں کہ میں نے بڑی کوشش کری سارا علم لڑیا لیکن پتہ ہی نہیں چل سکا کہ اسکا نام کیا ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ کی طرف میں رجوع ہوا جب رجوع ہوا کہا اے اللہ یہ آدمی میرے سمجھ سے باہر ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو واقعی نقیب اولیا ہے لیکن تو ان کا نقیب اولیا ہے۔ جو مجھے چاہتے ہیں یہ ان میں سے ہے جنکو میں چاہتا ہوں۔ اب علم بہت سارا ہے۔

اب ہم جو بات کرتے ہیں نا لوگ کہتے ہیں کہ یہ نہ حدیث کی بات ہے نہ قرآن کی بات ہے۔

لیکن حدیث قرآن کے آگے بھی علم ہے وہ جو علم ہے وہ حضور پاک کے سینے مبارک میں ہے نا۔

وہ علم سینے مبارک میں ہے۔ اس قرآن مجید سے وہ توریت کا علم ختم ہوگیا توریت ختم ہوگی ۔ یہ تو ماننتے ہی ہے نا زبور بھی چلا گیا۔ انجیل بھی منتشر ہوگیا۔ اب تمھارا قرآن مجید وہ بھی منتشر ہو چکا ہےنا 72 فرقے اہل قرآن نے ہی بنائےہیں نا بھی اب تمہیں پھر رستہ کس چیز سے ملے گا۔

جب قرآن بھی منتشر ہوگیا تو تو پھر تہمارے پاس رستہ کونسا ہے؟

اب تمہیں وہ دین پکڑنا پڑے گا جو منتشر ہو ہی نہیں سکتا ہے جسکو ہر مذہب قبول کرتا ہے۔
 

وہ دین جو اللہ نے اپنے لیے رکھا تھا جو اللہ کا دین ہے۔ اب تمہیں اُسکو پکٹرنا پڑے تب تم کو صراط مستقیم حاصل ہوگا۔
 

اب اللہ کا دین کیا ہے توریت میں اللہ کا دین نہیں ہے توریت والوں کا اور دین ہے زبور والوں کا اور ہے۔ انجیل والوں کا اور دین ہے قرآن والوں کا اور دین ہے پھر اللہ کادین کیا پھر اللہ کا دین کیا ہے؟۔ اللہ کا دین عشق ہے اس نے سب سے پہلے اپنے محبوب سے عشق کیا۔ خود عشق خود عاشق خود معشوق۔ اب تمہارے اندر وہ عشق آجائے وہ عشق سب مذاہب سے بالا تر ہے۔ مذاہب ایمان سیکھاتے ہیں۔ ایمان سے اللہ نہیں ملتا ہے۔ ایمان سے جنت ملتی ہے ایمان سے جنت ملتی ہے اللہ نہیں ملتا ہے اور وہ دین عشق سیکھاتا ہے نا عشق سے اللہ ملتا ہے وہ دین کیا ہے؟ ہاتھوں میں تسبح لیتے ہو اللہ اللہ کرتے ہو۔ اب تسبح کے ساتھ اللہ اللہ کیوں کرتے ہیں جس طرح پتھر پتھر سے ٹکراتا ہے لوہا لوہے سے ٹکڑاتا ہے تو چنگاریاں اٹھتی ہے۔ اللہ اللہ سے ٹکٹراتا ہے تو نور بنتا ہے۔ اب آپ کسی مذہب کی بات نہیں کریں۔ ہم اب آپکو عشق کی بات بتاتے ہیں۔

آپ مذہبوں کو بھی چھوڑیں۔ فرقوں کو بھی چھوڑیں۔ عشق کو اپنائیں اگر اللہ مل گیا تو پھر جدھر اللہ ادھر تم۔

اب یہ جو ٹک ٹک کے ساتھ اللہ اللہ کرتے ہیں یہ بھی نور بنتا ہے۔ جب ٹکراؤ ہوتا ہے آپس میں تو وہ نور بنتا ہے۔ لیکن یہ نور اندر نہیں جاتا یہ باہر انگلیوں میں رہتا ہے اسکا اجر ملے گا تو یوم محشر میں ملے گا نا ابھی تو کچھ نہیں ہے نا اسطرح لوگ زبان سے اللہ اللہ کرتے ہیں نا وہ بھی نور بنتا ہے۔ وہ جومستی آتی ہے وہ نور کی مستی ہوتی ہے نا لیکن وہ نور بھی باہر ہی باہر ہے نا اندر تو وہ بھی نہیں گیا نا۔ اسی طرح کی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر تسبیح لگا دی وہ بھی ٹک ٹک کرتی رہتی ہے وہ ٹک ٹک کیوں کرتی ہے اب وہ خالی ٹک ٹک کر رہی ہے نا اسکی رگڑ سے تہمارے اندر بجلی بن رہی ہے۔

وہ تمہارے اندر بجلی ہے ڈیڑھ کلو واٹ بجلی ہے تمہارے اندر۔

جو اس ٹک ٹک سے بنتی ہیں اور جوں جوں وہ ٹک ٹکیں آہستہ ہوتی جاتیں ہیں تمہاری نسوں میں وہ تیزی کم ہوتی جاتی ہے۔ بندر میں دیکھو، بلی میں دیکھو اسکی ٹک ٹک بڑی تیز ہے اور اس میں بڑی پُھرتی ہے اب جب اس ٹک ٹک کے ساتھ اللہ اللہ ملتا ہے۔ پھر وہ اللہ اللہ کا جب رگڑ ا لگتا ہے نا تب پھر وہ نور بھی بننا شروع ہوجاتا ہے نا۔ پھر وہ نور ہے وہ اس بجلی میں مکس ہوجاتا ہے۔ جب وہ نور اس بجلی میں مکس ہوجاتا ہے تب پھر وہ ٹک ٹک کا تعلق خون سے ہے خون کو آگے دیکھیلتی ہے پھر آگے دیکھیلتی ہے پھر وہ اللہ اللہ کا نور پورے خون میں چلا جاتا ہے یہ نور نہیں گیا۔ زبان کا نور بھی نہیں گیا وہ جب اندر اللہ اللہ ہوئی تو اسکا نور اندر خون میں گیا نا۔ خون سے ہوتا ہوا پھر وہ تمہاری نسوں تک چلا جاتا ہے وہ نور نسوں میں جاتا ہے نسوں سے ہوتا ہوا جو تمہاری روح ہے روحوں تک پہنچ جاتا ہے پھر تمہاری روح بیدار ہو کے وہ بھی اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتی ہے۔ پھر تم سوتے رہوں گے تمہاری روح اللہ اللہ کرتی رہے گی تم قبر میں چلے گئے تو وہاں بھی تہماری روح اللہ اللہ کرتی رہی اور یوم محشر میں بھی روح اللہ اللہ کرتی رہی۔ اس قسم کی تمہارے اندر سولہ مخلوقیں ہیں۔ سات روحیں ہیں نو جسے ہیں سولہ مخلوقیں تہمارے ڈھانچے میں ہیں جب وہ نکل جاتیں ہیں تو تمہارا ڈھانچہ ختم ہوجاتا ہے۔ اسکا مطلب ہے اصل وہ ہیں نا تم نقل ہونا پھر اس مخلوق کے بعد وہ باقی جو مخلوقیں ہیں وہ بھی اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتی ہیں وہ بھی جاگنا شروع ہو جاتی ہیں حتی کہ سولہ کی سولہ مخلوقیں اس جسم میں اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ پھر یہ ہی مسجد یہ ہی کبعہ یہ ہی گل گلزار جنت ہے۔ اب وہ تمہاری روحیں اللہ اللہ میں لگ گئیں۔ اب ان کی نور سے پرورش ہونا شروع ہوگئ۔ نور سے انہوں نے طاقت پکڑ لی۔

اب تم مذہب کو چھوڑ و پہلے صراط مستقیم کو دیکھو۔ کہ صراط مستقیم کیا ہے

جب انہوں نے طاقت پکڑ لی ایک تمہارے جسم میں ایسی روح ہے جسکو نفس بولتے ہیں۔ اس میں شیطانی طاقت ہے۔ بچہ بچپن سے ہی شیطانیاں کرتا ہے اس میں شیطانی طاقت ہے وہ ذرا طاقت ور ہوتی ہے خواب میں وہ جسم سے باہر نکل جاتی ہے۔ شیطانوں میں جا کر گھوم آتی ہے پھرآ کر جسم میں داخل ہوجاتی ہے کیونکہ وہ شیطانی روح ہے شیطانوں میں جاتی ہے نا شیطانی طاقت کے ذریعے۔ اب تمہارے اندر جو روحیں ہیں ان میں وہ نوری طاقت بھی آگئی نا۔ جب وہ نوری طاقت آگئی نا۔ وہ نوری طاقت کے ذریعے اس جسم سے نکلتی ہیں نا۔ وہ شیطانی ، شیطانوں میں جاتی ہیں تو نوری نوریوں میں جاتی ہے نا۔ تو جب یہ نوری نوریوں میں جائیں گئی تو پھر جب بھی دیکھیں گی نا جسکے آگئے سارے نبی ولی جھکتے ہیں یہ بھی اسکے آگے جا کر جھک جائیں گی نا۔

روح نے تو صراط مستقیم پا لیا نا اس نے باطن میں دیکھ لیا نا۔

ًاب کوئی کہتا کہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم  زندہ ہیں تو کوئی کہتا چلے گئے ہیں دونوں نہ اس نے دیکھا نہ اس نے دیکھا۔ اس وقت روح جا کر دیکھ آئے گی نا۔ اس کے بعد جب ہر وقت تمہارے دل میں اللہ اللہ شروع ہوجائے گی کوئی بھی چیز دل میں بس جائے تو اس سے محبت ہو جاتی ہے نا۔ اللہ دل میں آگیا اللہ سے محبت ہوگئی۔ جب اللہ سے محبت ہو جاتی ہے اللہ کسی کا احسان لیتا ہی نہیں ہے۔ ایک روپیہ خرچ کرو دس روپے لوٹتا ہے۔ احسان مانے تو کیوں نو روپے فالتو دے۔ ایک نیکی کرو دس نیکیوں کا ثواب دیتا ہے تھوڑی سے محبت کرو دس گنا زیادہ محبت کرتا ہے اور جس سے اللہ محبت کرتا ہے اس کو ایک دن دیکھتا ہے بڑے پیارسے دیکھتا ہے جس دن اللہ نے تمہیں پپار سے دیکھا محبت ختم ہوگئی پھر وہ عشق کا مقام ہے نا۔ پھر میں تیرا اور تو میرا پھر میں تیرا اور تو میرا۔ اس وقت پھرعلامہ اقبال نے فرمایا

گرہو عشق توکفر بھی ہے مسلمانی
 

اگر عشق پیدا ہو جائے اللہ کا عشق پیدا ہو جائے اگر کافر ہے تو وہ بھی مسلمان ہی ہے نا فرماتے ہیں اگر یہ نہ ہو تو پھر

 مسلم بھی ہے کافر و رندیق ً

آج مسلمان ایک دوسرے کا کافر و رندیق کہہ رہے ہیں نا۔ عشق نہیں ہے تب کہہ رہے ہونا اگر اس کافر میں بھی عشق آجائے تو یقین کرؤ تو وہ ان مذہب والوں سے بہتر ہے۔ جن میں اللہ، رسول کا عشق نہیں۔ اب عشق بھی آگیا۔ اب حضور پاک کو بھی جا کر دیکھ لیا۔ انکی شان کیا ہے۔

اب یہ جو نمازیں ہیں اوپر کس طرح جاتیں ہیں۔ تم بھی تو فقط ایک رسم اداء کر رہے ہو۔ وہ جو نمازیں اوپر جاتیں ہیں تو ان کا کوئ طریقہ ہے نا۔ تم کو اس کا طریقہ ہی نہیں آتا ہے نا۔ یہاں سے امریکہ بات ٹیلی فون کے ذریعے جاتی ہے نا بغیر ٹیلی فون کے لگا رہ نا۔ سارے لگے ہوئے ہے نا۔ 72 فرقے والے لگے ہوئے ہیں نا۔ اب اگر آواز سب کی ایک جگہ چلی جائے تو 72 فرقے کیوں ہوں ایک ہی ہوں نا سارے ۔

حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سنی شیعہ نہیں ہوتے تھے نہ سنی نہ شیعہ نہ وہابی۔ ہوتے ہی نہیں تھے۔

ان کے زمانے میں جب ہوتے ہی نہیں تھے تو پھر یہ کون تھے۔ یہ سوچنے والی بات ہے نا۔ حضور پاک کے زمانے میں امتی ہوتے تھے جو امت سے نکلا اسکو خوارج کہتے ہیں۔ امت یہ سارے امت سے نکلے ہوئے ہیں۔ یہ سارے امت سے نکلے ہوئے ہیں کوئی فرقہ اپنے آپ کو امتی کہتا ہے، سنی کہتا ہے میں سنی ہوں وہ کہتا ہے میں شیعہ ہوں میں وہابی ہوں کوئی امتی کہتا ہے خوارج ہیں تب نا۔ امتی کون ہوتا ہے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اُمتی وہ ہے جس میں نور ہے۔

حدیث شریف میں ہے قیامت کے دن امتیوں کی پیچان نور سے ہوگی۔

اور قرآن مجید فرماتا ہے۔ اعراب نے کہا کہ ہم ایمان لے آئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں ان سے کہو صرف اسلام لائے۔ مومن تب بنو گے جب تمہارے دل کے اندر نور اترے گا۔

جب نور اترے گا تب تم امتی ہوئے نا تو امتی کی بخشش ہوگی نا تمہاری کیا ہوگی تم تو خوراج ہو۔

بھئی بخشش تو امتی کی ہوگئی نا۔ امتی کی سفارش ہوگئی نا۔ خوارج کی کیوں خوراج تو نکلا ہوا ہے۔ اب امتی کی۔ اسکو مومن بولتے ہیں۔ تو مومن۔ مسلمان کی نمازمعراج نہیں ہوتی ہے۔ مومن کی نماز معراج ہوتی ہے تو اس کے لیے سب سے پہلے مومن بننا پڑتا ہے۔ اور مومن کی معراج کیسے بنتی ہے نماز۔ اللہ تعالیٰ نے اس بندے کو نیچے بھیجا بہت ہی دور بھیجا نا۔ اسکو پتہ تھا کہ میرے خاص بندے بھی اس میں ہونگے نا۔ ہیں نا اُسکے بندے جس کے ذریعے اسکو رابطہ کرنا پڑتا ہے۔ اس سے اس نے ان میں ٹیلیفون لگا کر بھیجا ہر بندے میں ایک ٹیلی فون لگا ہوا ہے یہ دل تمہارا ٹیلی فون ہے۔ اب یہ ٹیلی فون ہے لیکن اس میں پاور نہیں ہے نا۔ موبائل فون پڑا فون ہے بجلی ہوگی اسکی لہریں یہاں سے اٹھیں گی تو امریکہ بات ہوگئی تمہارے اندر فون ہے اگر اس میں نور کی لہریں اٹھیں گئی تو یہاں سے اُٹھے گییں تو عرش معلیٰ میں جا کر بات ہوگی۔ جب وہ تمہارے دل کی دھڑکنیں تمہاری روحیں ہر وقت اللہ اللہ کرتی رہیں گی۔ یہ تمہارا دل اس میں بجلی ذخیرہ ہے وہ نور کا ذخیرہ بن جائے گا۔ وہ بجلی نور میں ٹرانسفر ہو جائے گی وہ اس دل میں اب اس میں پاور آگئی نا وہ میگینیٹ آگیا۔ میگینیٹ ہے سوہاں پھینکو،کھینچتا ہے نا نسبت ہے نا۔ اب اس دل میں نور آگیا اب تو نے نماز پڑھی اسکا نور باہر نہیں آئے گا وہ اندر دل نے کھینچ لیا نا اور تلاوت کری اسکا نور بھی باہر نہیں گیا وہ دل نے کھینچ لیا یہ اب دل کا رابطہ عرش معلیٰ سے ہے۔

اب وہ نماز بھی اوپر جار ہی ہے اور وہ تلاوت بھی اوپر جا رہی ہے۔ حتی کہ تیری بات بھی اوپر جا رہی ہے۔

ایک سکھ نے کہا تمہارے اکابر کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں نور ہے۔ کہنے لگا کہ مجھے پہلے ہمیں اسکا ثبوت دو تم باقی بات تو پھر کریں گے نا میں تمہارا جاسوس رہ کر آیا تہمارے بچوں کوقرآن پڑھاتا تھا۔ نمازیں پڑھتا تھا۔ میں نے بھی بہت سے آیتیں رٹی ہوئی تھیں۔ اگر اُس میں نور ہوتا تو میں نوری کیوں نہیں ہوا۔ میں موڑ سے سکھ ہی بنا جیسا گیا تھا ویسا ہی آیا۔ ایک عیسائی بھی بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا میں بھی دن رات تمہارا قرآن پڑھتا ہوں نوری میں بھی کوئی نہیں ہوا۔ تو ہم نے کہا کہ بات یہ ہے کہ تم اسکو دل سے نہیں پڑھا یہ ہی کہہ سکتے تھے نا کہنے لگا ٹھیک ہے ہم نے دل سے نہیں پڑھا تمہارے مسلمان تو دل سے پڑھتے ہیں نا وہ نوری کیوں نہیں ہوئے۔ بات بڑی معقول تھی اگر یہ نوری ہوتے تو اتنے فرقوں میں مبتلا کیوں ہوتے سارے ایک ہی ہوتے نا۔ سارے قرآن پڑھنے والے ایک دوسرے کو کافر مناقق کہہ رہے ہیں نا مقصد یہ ہے کہ وہ قرآن ان کے اندر اترا نہیں ہے اندر جاتا تو نور بننا نا۔ دوائی اندر جائے تو شفا دے نا۔ قرآن دل میں جائے تو ان کو نور پہنچائے نا اور قرآن ان کے دلوں میں اترا نہیں ہے۔ جب قرآن دلوں میں نہیں اترا۔

اس دل میں دو چیزیں ہیں یا اللہ یا شیطان یا تو تمہارے دل میں اللہ ہوگا

اگر اللہ نہیں ہے تو پھر شیطان ہوگا۔

بھلے تم باہر سے بڑے سے بڑے نمازی ہو قاری کیوں نہ ہوں۔ اگر تمہارے دل خالی ہے اس میں شیطان ہے۔ لوگ کہتے ہیں ہم تو تلاوت کرتے ہیں نمازیں پڑھتے ہیں ہمارے ساتھ شیطان کا کیا کام۔ کہتے ہیں نا یہ بہت بڑا دھوکہ ہے۔ بھئی جب تو نماز پڑھتا ہے تو تیرے دل میں وسوسے کیوں آتے ہیں تو تو اللہ کے حضور کھڑا ہے تو سوچنا بھی نہیں چاہتا وہ وسوسے تیرے دل میں آتے ہیں نا تیرے دل میں شیطان ہیں تب آتے ہیں نا بھئی شیطان ہے تب آتے ہیں نا، بھئی تو پھر کیسے کہتا ہے کہ شیطان کا میرے ساتھ کیا کام ہے۔ وہ آتا ہے تمہاری نماز خراب کر کے چلا جاتا ہے۔ نماز خراب ہوتی ہے تب وہ آتا ہے نا تمہارے اور اللہ کے درمیان جو ٹیلی فون ہے اس میں وہ بیٹھ جاتا ہے جب تمہارے دل میں اللہ اللہ گو نجیں گا تو دل کی دھڑکنیں اللہ اللہ پکاریں گی۔ اس وقت جب تم نماز پڑھو پھر بھی شیطان آئے گا تمہاری نماز خراب کرنے کے لیے۔ ایک دن خضرت ابوبکر صدیق نے حضور پاک سے فرمایا جب میں نماز پڑھتا ہوں تو مجھ کو وسوسے آتے ہیں آپ نے فرمایا تمہیں دوقسم کا ثواب مل رہا ہے ایک نماز پڑھنے کا اور ایک جہاد کرنے کا۔ جب وہ شیطان آتا ہے وہ تیرے دل میں اللہ اللہ ہو رہی ہے وہ اسکو باہر نکالتی ہے ان وسوسوں کو پھر وہ آتا ہے پھر اللہ اللہ اسکو باہر نکالتی ہے یہ تو جہاد ہو رہا ہے نا۔ اب اگر وہ وسوسے آئیں چپ کر کے بیٹھ جائیں جہاد تو نہیں ہے نا پھر تو شکست ہے نا۔ پھر تو شکست ہے نا۔

اس وقت تو ضروری ہے کہ یہ جو دین اللہ کا دین ہے۔ اسکو دین الہیٰ بولتے ہیں یہ آیا کرتا تھا خاص خاص بندوں کے لیے جن لوگوں کے لیے دین آیا عشق آیا خواجہ صاحب بن گئے اور داتا صاحب بن گئے یہ صرف انہی لوگوں کے لیے تھا جن کو اللہ چاہتا تھا اب اللہ نے اسکو عام کر دیا جو بھی آئے لبیک نہیں سمجھے جو بھی آے لبیک عیسائی ہے، ہندؤ ہے، سکھ ہے، مسلمان ہے کوئ بھی سب کے لیے ہے یہ علم سب کے لیے ہے اور جن میں وہ علم چلا جائے گا وہ تو اللہ کا عاشق ہو جائے گا تو جب اللہ کا عاشق ہو جائے گا تو جدھر اللہ ادھر وہ۔

ہمارے علماء کہتے ہیں کہتے ہیں کہ خاص ہم مانتے ہیں یہ باتیں صیحیح ہیں یہ بات خاص میں کرنے کی ہیں تو یہ باتیں خاصوں میں کر نا۔ عاموں کو ہمارے لیے رہنے دے نا۔ عاموں میں یہ باتیں کیوں کرتا ہے ہم کہتے ہیں کہ وہ جو خاص لوگ تھے نا وہ بھی عام میں تبدیل ہوگئے نا۔ اب خاص میں اور عام میں کیا فرق ہے۔ دونوں ایک ہی جیسے ہیں نا۔ جیسی وہ نماز پڑھتا ہے ویسی وہ پڑھتا ہے نا۔ ہم عام لوگ باتیں کرتے ہیں ان میں جو خاص عام میں پھنسے ہوئے ہیں وہ تو نکل آتے ہیں نا۔ ہماراُ ان سے یہ اختلاف ہے۔

جب یہ دل اللہ اللہ میں لگتا ہے جس دن یہ دل اللہ اللہ میں لگتا ہے اس دن تمہاری گاڑی اللہ کی طرف چل پڑتی ہے کیونکہ اللہ کا تعلق اس دل سے ہے نا جس دن اللہ اللہ اس دل نے کری تمہاری گاڑی اللہ کی طرف چل پڑی نا۔ اب اس گاڑی کو پٹرول کی ضرورت ہے نا۔ یہ شریعیت اسکا پیٹرول ہے نا نمازیں روزے پڑھتے رہو گاڑی چلتی جائے گی۔ اس طریقیت کا تعلق دل سے ہے نا اور جب یہ گاڑی اللہ تک پہنچ جاتی ہے اسکو حقیقت کہتے ہیں نا۔ حقیقت کا تعلق ان نظروں سے ہے نا جب تم نے لوگوں کو کہا کہ سب اس شریعیت میں ہے اس سے آگے کچھ بھی نہیں ہے۔ ناروئے میں گیا وہاں ایک بورڈ لگا ہوا ہے اس کے آگے دنیا نہیں ہے اگر کوئی دنیا کو مہم جوح ہوا وہاں جب کر رک جائے گا نا۔ آگے دنیا ہی نہیں ہے میں کیا کروں۔

جب تم نے کہا کہ سب کچھ شریعیت میں ہے۔

اگر کوئی اللہ کا طا لب ہوا تو وہ تو شریعیت میں ہی پھنس جائے گا نا۔

آگے ہے ہی کچھ یہں ہے سب کچھ شریعیت میں ہے یہیں پھنس گیا نا۔ اگر سب کچھ شریعیت میں ہوتا تو ہمارے جتنے بھی اکابر ہیں داتا صاحب خواجہ صاحب جنگلوں میں کیوں گئے حتی کہ غوث پاک بھی جنگلوں میں گئے نا۔ اسکا مطلب ہے کہ وہاں کچھ اور تعلیم تھی نا۔ وہاں وہ طریقیت کی تعلیم تھی نا۔ یہاں یہ شریعیت کی تعلیم ہے۔ وہاں طریقیت کی تعلیم ہے۔ شریعیت مدرسوں میں شہروں میں پڑھائی جاتی ہے اور طریقیت جنگلوں میں حضور پاک پڑھاتے ہے نا پھر وہ پڑھا کر طریقیت واپس بھیج دیتے ہیں نا۔ پھر شریعیت اور طریقیت والوں میں ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے نا۔

میں جدھر جاتا ہوں ہمارے علماء پیچھے لگ جاتے ہیں کہتے ہیں اسکو کچھ بیان نہ کرنے دو۔ اور جتنا وہ روکتے ہیں اتنا عروج ہو رہا ہے۔

وہ تو اللہ رسول کا حکم ہے اب وہ جو نوجوان انکے پاس جاتے ہیں جو طالب ہیں مجھے اﷲ کی طلب ہے۔ نماز پڑھ، قرآن پڑھ پڑھتا ہے ساری شریعیت اپناتا ہے داڑھی بھی رکھ لیتا ہے۔ 5-6 سال ہوگئے مولوی صاحب کوئی رب کا  نام ونشان نہیں پھر ایسا کر سیاست میں آجا۔ سیاست حضور پاک نے کری تھی وہ سیاست میں اسکو لگا لیتے ہیں۔ پانچ ، چھ سال سیاست میں لگ گیا مولوی صاحب اللہ کا نام و نشان نہیں ہے تو پھر تو جہاد کر اسکو فضلیت ہے کہ جہاد کیا۔ کہ وہ یارسول اللہ نہیں کہتے تو ان کو مار وہ تجھےماریں گئے جہاد شروع ہوگیا نا۔ اس طرح نوجوانوں کی زندگی جو ہے نا وہ برباد ہو رہی ہے۔ وہ زندگی برباد ہو رہی ہے ان عالموں میں بھی کئی قسم کے عالم ہیں ۔ ایک عالم ربانی ہے وہ جس کے سینے میں قرآن اترا اسکو عالم ربانی کہتے ہیں وہ قاری نظرآتا ہے ۔ لیکن حقیقت میں ہے قرآن جسطرح اس قرآن کی تعظیم فرض ہے۔ اسکو چوم سکتے ہیں اس کو پشت نہیں کر سکتے۔ اس طرح اس عالم کو چوم سکتے ہیں اور اسکو پشت نہیں کر سکتے کیونکہ اس کے اندر قرآن ہے اسکو عالم زبانی کہتے ہیں۔  اس نے کافروں کو مسلمان بنایا ہے مسلمانوں میں کوئی فتنہ کھڑا ہوا اسکو کو مٹایا ہے اور جنکے سینوں میں قرآن نہیں ان کے ہاتھوں میں قرآن ہے۔ جنکے ہاتھوں میں قرآن ہے ان کو عالم سو کہتے ہیں نا۔ اس قرآن کے ذریعے اس نے 72 فرقے بنائے۔ قرآن سے ہی بنائے نا اُس نے نا تو تیسرا ہے جسکے بغلوں میں قرآن ہے۔ یہ قرآن پڑھ رہا ہے۔ ہاتھوں میں قرآن ہے

اورتیسرا بڑا خطر ناک ہے جس نے نوجوانوں کی زندگیاں خراب کر دیں ۔ اس کے بغلوں میں قرآن ہے۔

اور اس کے لیے بلھے شاہ فرماتے ہیں کھا کر سارا مکر جاندے جندھاں دے بغل وچ قرآن۔

صبح کہتے ہیں بے نظیر کافر ہے۔ شام کو جب پسے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو کہا ہی نہی تھا وہ اس قرآن کی آڑ میں سیاست میں کرتے ہیں نا۔ قرآن کی آڑ میں سیاست میں کرتے ہیں اور کہتے ہیں حضور پاک نے بھی سیاست کری تھی۔ حضور پاک نے ایسی سیاست تھوڑی کی تھی پھر کہتے ہیں کہ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا جہاد ہے یعنی جو بھی حکومت ہے اس کے خلاف یہ ہی ان کی ہوتی ہے حدیث یہ ہی ہوتی ہے نا بھئی پہلی بات تو ہے کہ حضور پاک کے زمانے میں جابر سلطان مسلمانوں میں کون تھا۔ کوئ ہے رکارڈ؟ اگر کوئی ہوتا تو حاظر کر لیتے جہاد کیوں کرتے یہ تو آپ نے کافروں کے لیے کہا تھا نا۔ یہ مسلمان میں پھوٹ ڈال کر آپس میں لڑاتے ہیں نا۔

اس لیے ضروری ہے کہ اب تم سیاست کو چھوڑو بہت عرصہ کرچکے ہو۔

اب روحانیت کی طرف آو۔

وہ پانچ، چھ سال جو تم نے سیاست میں گزارنے کچھ نہیں ملا اگرتو 5-6سال صرف اللہ اللہ ہی کرتے رہئے تو اور نہیں تمارے دل کی صفائی تو ہو جائے گی نا۔ دل کی صفائی ہوگئی۔ دل چمک اٹھا تو اللہ تعالیٰ کبھی کبھی ان مخلوقوں کو دیکھتا ہے بنائی جو ہے نا۔ وہ داڑھیوں کو نہیں دیکھتا وہ شکلوں کو نہیں دیکھتا وہ چمکتے ہوئے دلوں کو دیکھتا ہے۔ جس دل کو اللہ نے چمکتا ہوا دیکھا اسی پر مہربان ہوگیا نا۔ اب جو اسکا طریقہ ہے کیونکہ اس میں مذہب کی بات نہیں ہے۔

اور کوئ مذہب اس کو جھٹلا بھی نہیں سکتا ہے کوئی مذہب توریت، زبور، انجیل قرآن اس علم کو جھٹلا بھی نہیں سکتا ہے۔

اب جو اسکا طریقہ ہے روزانہ 66 مرتبہ کاغذ پر اﷲ لکھتے ہیں۔ اللہ کو اندر لانا ہے بھی تو قرآن پڑھتا ہے باہر پھینکتا ہے۔ نماز پڑھتا ہے باہر اللہ اللہ کرتا ہے۔ کرتا ہے جو تو کرتا ہے باہر ہی جاتا ہے نا۔

وہ اللہ کو تو اندر لانا ہے۔ یہی ایک راز ہے کہ اللہ اندر آئے تو اللہ اندر کیسے آئے۔

مجھے ایک نیوی کا کپٹن ملا کہنے لگا کہ میں پانچ ، چھ سال سے کاغذ پر اللہ لکھتا ہوں پتہ نہیں کتنے ہزاروں بار میں نے اللہ اللہ لکھا۔ میں اللہ کو پا نہیں سکا تو وہ کاغذ تو نے کیا کہنے لگا اؤ میں نے سمندر میں ڈال دیے۔ سمندر میں ڈالے نا۔ اندر ۔ کہتا کیا میں کھا جاتا۔ روزانہ 66 مرتبہ سفید کاغذ کے اوپر اللہ لکھیں۔ کالی پینسل سے لکھیں آپ تھوڑے دن لکھیں گئے جو کاغذ پر لکھتے تھے وہ تمہاری آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے گا۔ تصور آنکھوں میں آجائے گا۔ جب آنکھوں میں آجائے پھر لکھنا بند کردیں۔ آنکھوں سے توجہ سے اسکو دل کے اوپر اتارنے کی کوشش کریں نا کاغذ سے آنکھوں نے کھینچ لیا آنکھوں سے دل کھینچ لیتا ہے نا۔ اور جو کاغذ پر لکھتے تھے ایک دن وہی دل پہ لکھا نظر آئے گانا۔ پولیس کی مہر لگی پولیس والا۔ اللہ لکھا گیا اللہ والا اس وقت تمہارے دل کی دھڑکن تیز ہو جائے گی ٹک ٹک ٹک ٹک اس کے ساتھ اللہ ہو ملائیں وہ دل کی تسبح ہے وہ دل کی تسبح اندر ہے۔ اس ٹک ٹک کے ساتھ اللہ ھو ملائیں۔ گھڑی گھڑی اس طرح کریں وہ دل کی دھڑکنیں اللہ ھو میں تبدیل ہو جائیں گی۔ رات کو سونے لگیں انگلی کو قلم خیال کریں تصور سے دل کے اوپر اللہ لکھتے لکھتے سوجائیں۔ اسی مستی میں سوئیں صبح اٹھیں وضو ہے یا نہیں پرواہ نہیں دل کا وضو پانی سے نہیں ہوتا۔ آپ سارا دن پانی میں پڑے رہیں پانی تو دل میں جائے گا نہیں تو دل کا وضو کیسے ہوگا۔ جب یہ اللہ کا نور اس دل میں آئے گا وہ اس دل کو دھوئے گا اسکو بولتے ہیں "وضو کر لے شوق شراب دا"۔

بعض لوگ دل کی دھڑکنیں ہوں گی اس کے ساتھ اللہ اللہ ملا لیں گئے۔ بعض کی خاموش ہوگئیں پھر وہ کیا کریں ان کے لیے کئی طریقے ہیں جو جسکو پسند آجائے۔ بلھے شاہ نے کہا کہ آساں نچ کے یار منایا اے۔ تو سوچنے لگے یہ کیا کہا ہے نچنے سے اللہ کیسے مانتا ہے پھر آگے کہنے لگے کہ اتھے نچنا بھی عبادت بن جاندا اے کی نچنا بھی اتھے عباد ت بن چاندا ائے اور پرشانی ہوئی کہ نچ تو حرام ہے تو بلھے شاہ کہتے ہیں کہ عبادت بن جاتا ہے ۔ خوب نچے، خوب نچے دل کی دھڑکنیں ابھریں وہ کہندئے کہ خوب نچیاں بلھلا ، خوب نچیاں دل دیاں دھڑکنا ابھریاں انھاں نال میں پھر اللہ اللہ ملایا پھر اللہ من گیا نا۔ نیت نچن دی اللہ نومنان دی سی نا ڈھرکناں نوں اُبھرن دی سی ناں۔ اللہ تعالیٰ نیت نوں دیکھدانا۔ نچن دی نیت اے سی نا۔ ہون توساں پھاویں نچو امیر کلاں نے کبڈی کھلائی ان دل دی دھڑکنا نوں اُبھرن واسطے پھاویں کبذی کھلو۔ ایک ہور بزرک سون انہوں نے دیوار بنایاں صبح بناؤ تے شامی گراؤں، صبح بناؤ تے شامی گراؤں ایک اور  طریقہ ہے ورزش کرؤ اور وی نیں روڑوں ، او وی نیں تے جتھے ،بیٹھ کے ضرباں لانڈئے نا اللہ ھو اللہ ھو ضرباں لاؤ۔ اؤ گھنٹا ڈیڑھ گھنٹا اللہ ھو کہو گئے نا اوپوزیشن نچنے والی ہو جائے گی نا۔ کبڈی والی ہو جائے گی نا۔ دل دیاں دھڑکنا، ابھرن گی نا اناں دھڑکناں  نال پھر اللہ ھو ملاؤ نا۔ یہ اس نا طریقہ ہے۔ اگر گرمی لگے تو درود شریف پڑھو اسکو ٹھنڈا کر دے گا۔ پھر اﷲ ھو کر رہے ہو اگر گرمی لگتی ہے غصہ آ رہا ہے پھر دردوشریف پڑھو وہ اسکو ٹھنڈا کر دے گا۔  یہ اس کا طریقہ ہے۔

اس کے لیے نہ کوئی بعیت ہے نہ کوئی نذرانہ ہے بس اللہ رسول کی طرف سے حکم ہے۔

سب کے لیے حکم ہے جو جی چاہے اپنی قسمت آزمائے۔

جب تک وہ تمہارے اندر یہ اللہ اللہ نہیں ہوتا تمہاری مخلوقیں اندر جواں نہیں ہوتیں۔ ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔ اب دیکھنا نا اس وقت بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے پیر پکڑے ہوئے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ پیر پکڑ کرحرام ہوگئے ہوں۔ پیر صرف اللہ کے لیے پکڑا جاتا ہے سلطان صاحب نے فرمایا اپنی کتاب میں

اگر کوئی شخص دنیا کے لیے پیر پکڑے، دنیا کے لیے بیعت ہو، یا دنیا کے لئے بیعیت کرئے دونوں حرام۔

دنیا کے لیے بیعت کرے، یا دنیا کے لئے بیعت ہو دونوں حرام ہے ہوگئے نا۔ بیعت تو صرف اللہ کے لیے ہے۔ اﷲ کو پانے کے لئے ہے نا۔ بیعت کا مطلب ہے بک جانا اپنے آپ کو بیچ دینا ہے نا۔ اگرتو بک کر بھی اللہ کو پا نہیں سکا؟ اب اللہ کو جو گاڑی جاتی ہے یہ تو دل جاتا ہے نا۔ اگر تجھے چار، پانچ، چھ سال ہوگئے ہیں تیرے دل کی گاڑی کو خبر ہی نہیں ہے یا پھر تیرا پیر ناقص ہے یا پھر تو ناقص ہے۔ پھر بہتر ہے ہوسکتا ہے تیرا نصیب کسی اور جگہ ہو، تو نصیبے کو تلاش کر یا پھر اپنے پیر کو پہچان تو سہی نا کہ تیرا پیر ہے کیا۔ کچھ پیر ایسے ہیں جنکو دیکھنا ہی سوا لاکھ کروڑ حجاں دا ثواب ملتا ہے۔ کوئی پیر ایسے بھی ہوتے ہیں وہ کون سے ہوتے ہیں جب ان کی یہ مخلوق ایک مخلوق جو نوریوں میں جاتی ہے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہے۔

ایک مخلوق جو دماغ میں ہوتی ہے وہ سیدھی اللہ تک پہنچتی ہے۔ جب اللہ تک پہنچتی ہے پھر ایک دوسرے کو پیار سے دیکھتے ہیں۔ بھئی بڑے دور سے گیا بڑی محنت کرکے گیا نا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تجھے دیکھ لوں تو مجھے دیکھ لے۔ پیار سے دیکھتے ہیں پھر وہ جو اللہ کا نقشہ اسکی آنکھوں میں آتا ہے اسکی آنکھوں کے ذریعے اسکے دل میں آتا ہے جب دل میں آتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب تو نیچے چلا جا اب جو تجھے دیکھ لے وہ مجھے دیکھ لے۔

اس کے لئے پھرسلطان صاحب نے فرمایا ہے کہ مرشد دا دیدار ہے باھو مینوں لاکھ کروڑ حجاں ہو۔ اب اگر تیرا پیر ایسا ہی ہے تو پھر تو جیسا بھی ہے آپے لاسی سارہ ھو۔ اب شناخت تو ہونی چاہیے نا میرا پیر ہے بھی ایسا کہ نہیں۔ چور کو چور پہنچانتا ہے۔ ولی کو ولی پہنچانتا ہے۔ تم ایک لاہور کا چور ادھر بیٹھاؤ پشاور کا چور ادھر بیٹھاؤ دونوں کی نظریں ٹکرائیں گی سمجھ جائیں گے میرا پیٹی بھائی ہے ۔ حقیقت ہے ۔ اک ولی ادھر ہو گا اک ولی ادھر ہو گا ان کے دل ٹکرائیں گے سمجھ جائیں گے کہ تار لگی ہوئی ہے کوئ ولی بیٹھا ہوا ہے جب تمھارے دل میں یہ اللہ اللہ شروع ہوجائے گی تو تمھیں محسوس ہوگی کہ تمھارا دل اللہ اللہ کررہا ہے پھر تم کسی دربار پر چلے جانا داتا صاحب چلے جانا وہاں بھی اللہ یہاں بھی اللہ رکت پیدا ہوئی نا۔ داتا صاحب گے۔ حضرت ایوب علیہ السلام نزدیک ہے نا وہاں چلے جانا ہے نا دربار کے اندر جانا نا رکت پیدا ہوجائے گی اللہ اللہ ٹکراے گا نا تو رکت پیدا ہوجائے گی نا سمجھ جاؤں گے کہ روحانی ہے کوئ۔ پھر آگے دوسرے دربار پر چلے جانا وہاں بھی اللہ تو یہاں بھی اللہ  پھر اپنے مرشد کے پاس چلے جانا جو بات وہاں جانے  سے مرشد کے پاس ہوتی ہے پھر تیرا مرشد کامل ہی ہے نا۔ اب یقین پکا ہوگیا نا۔ اب جان بھی جاتی ہے جانے دے لیکن گھڑی گھڑی اس کے پاس جاتا ہے گھڑی گھڑی جاتا ہے تو پھر کچھ بھی نہیں ہوتا تو پھروہ کچھ بھی نہیں ہے نا تو پھر وہ کچھ بھی نہیں ہے نا تو پھر خواہ مخواہ تیری عمر ہی برباد کررہا ہے نا۔ بیعت کا مطلب ہے بک جانا تو بک گیا تیری ساری نمازیں روزے اُسکے ہو گے اگر وہ ہی آگے نہیں پہنچا تو تیری نمازیں روزیں سب بے کار ہوگئے نا ۔ اگر تیرا پیر کامل ہے اللہ والا ہے تو تو سخت گناہ گار ہی سہی تو جدھر وہ جاے گا ادھر تو وہ بھی جاے گا نا۔

ضروری ہے کہ اس کی شناخت ہو اس کی شناخت کی گارنٹی یہ دل ہے نا گارنٹی یہ دل ہے

اس کے لئے اگرکوئی ذکر لینا چاہے تو ذکر لے اور قسمت آزمائے ۔ اگر تو اللہ اللہ شروع ہوگیا تو دعا دے دینا اگر نہ ہوا تو تم جیسے ہو ویسے تو رہو گے نا ۔ تمھارا تو کچھ نہیں بگڑا نا یہ سالوں کا نہیں مہینوں کا نہیں یہ پانچ سات دن میں پتہ چل جاتا ہے کہ تم کیا ہو اس کے لئے اگر کسی صاحب کو کوئی بات پوچھنی ہو تو پوچھ لے اس کے بعد پھر ذکر لے اور اپنی قسمت آزمائے۔ کوئی نئی بات سنی ہوگی کوئی دل میں تجسس ہے تو پوچھ لیں پھر پتہ نہیں زندگی کے میلے ہیں ملاقات ہو نہ ہو۔


 

سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب: دوائی تو یہ ہے نا اسکی جو میں نے بتائ ہے۔ اگر آدمی بیمار ہوجائے دوائی تو لیتا ہے نا۔ اسطرح یہ گناہوں کا علاج ہے نا۔ ہر آدمی گناہ گار تو ہوتا ہی ہے ایک نبی معصوم ہوتا ہے باقی لوگ تو گناہ گار ہوتے ہی ہیں نا ان گناہوں کا یہ علاج ہے نا، یہ دوائی ہے نا، یہ ٹیکہ ہے نا۔ بس یہ ٹیکے لگاتے رہیں گے تو شفاء ہوتی جائے گی اور ایک دن بالکل پاک صاف شفاف ہوجائے گا۔ اس کا یہ علاج ہے جب وہ پاک صاف شفاف ہوگے نا تو پھر وہ قرآن کے قابل ہونگے۔

قرآن خود فرماتا ہے "ھدی اللمتقین" میں ہدایت کرتا ہوں پاکوں کو جب تو پاک ہوجاتا ہے پھر قرآن اُس کے اندر اترتا پھر اسکو ہدایت ہوتی ہے

اس کے ذریعے لوگوں کو شفاء ہوتی ہے نا۔ اور جس نے پاک ہوئے بغیر نفس کی پاکیزگی کے بغیر قرآن سے ہدایت پانے کی کوشش کری وہ گمراہ ہوا 72فرقوں میں تقسیم ہوا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اس کا اندر صاف ہوجائے اس اندر ایک پلید چیز ہے چھ چیزیں ایسی ہیں جو علوی ہیں نہ نوری ہیں نہ ناری ہیں ایک چیز جو ہے وہ شیطانی ہے۔ جس کے لیے بھلے شاہ نے فرمایا اس نفس پلیت نے پلید کیتا اساں منڈھوں پلیت نہ سے۔ جب وہ چیز اس جسم میں آئی تو وہ جسم ناپاک ہوا نا۔ ورنہ وہ مٹی بھی ناپاک نہیں ہے وہ باقی روحیں بھی ناپاک نہیں ہے۔ وہ نفس آیا تو یہ ناپاک ہوا نا۔ اب جب تک یہ پاک نہیں ہوگا نفس پاک نہیں ہوگا تو بھی پاک نہیں ہوگا۔ اب وہ نفس پاک جو ہے نا وہ ظاہری عبادت سے نہیں ہوتا ہے وہ نسوں میں ہے۔ جب نسوں میں نور جاتا ہے اس تک وہ نور پہنچتا ہے۔ تب پھر وہ پاک ہونا شرو ع ہوجاتا ہے نا۔ تو پھر وہی نفس جوکتےکی شکل میں تھا۔ وہ اسی انسان کی شکل میں بن جاتا ہے اور حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں پہنچاتا ہے نا۔


 

سوال: اس میں لکھا ہوا ہے جی سوال یہ ہے کہ آپ کی کمر پر الفاظ نقش ہیں کہ امام مہدی لکھا ہوا ہے یا؟
جواب: یہ بات یہ کوئی معقول بات نہیں ہے جی کہ آیا کیا تم نے دیکھا ہے یہ جو سوال کررہا ہے یا سنا ہے؟

 

سوال: کیا تصویر کا بنانا اور گھروں میں لگانا درست ہے یا نہیں ہے؟

جواب: یہ جی ایک فرقے کا سوال ہے۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ کیمرے ہوتے تھے نہ تصویریں ہوتی تھیں۔ اس وقت بت بنائے جاتے تھے۔ بتوں کے لئے آپ نے منع کیا ہے۔ اب ایک فرید الدین ہے ان کے بھائی نے مجھ سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں تصویر حرام ہے اور وہی کہتے ہیں کہ قبر میں حضور پاک کا نقشہ دکھایا جائے گا وہ بھی تو تصویر ہی ہوگا نا۔ وہ کہنے لگا اگر ادھر حرام ہے تو ادھر حرام کیوں نہیں ہے؟ وہ تصویر کوئی ننگی تصویر عورت کی تصویر ہے آپ کے جذبات مجروح ہوتے ہیں وہ آپ کے لیے حرام ہے نا اُترا دیں نا۔ اگر آپ کے کوئی پیر ومرشد ہیں یا کوئ ولی کی تصویر ہے۔ آپ گناہ کرنے لگتے ہیں اسکا خیال آجاتا ہے تو وہ آپ کے لئے بہتر ہے نا۔ اب لوگ کہتے ہیں ویڈیو کتنے چلتے ہیں اس سے وہ ویڈیو کیا کوئی شیطان ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر فلمیں دیکھو تو حرام اگر نعت یا قوالی دیکھو تو حلال۔ پیسہ ہے غلط کام میں لگاؤ تو حرام ہے تو جائز میں لگاؤ تو حلال بن گیا تمھارے لیے۔

 

سوال: کہتے ہیں جہاں تصویر لگی ہو وہاں نماز ہوجاتی ہے نہیں وہاں ذکر بھی ہو؟

جواب: پہلے ہی بتایا ہے کہ اگر وہاں جہاں ذکر ہورہا ہے یا نمازیں ہورہی ہیں اگر عورتوں کی تصویریں لگی ہوئیں ہیں وہ ناجائزہی ہے حرام ہے۔ اگر کسی بزرگ یا ولی اﷲ کی تصویر ہے وہ تمھارے میں اور اضافہ کرتی ہے وہ کیسے اضافہ کرتی ہے؟ وہ پھر یہ ہی سوچتا ہے کہ میرے ساتھ وہ بھی بیٹھا ذکر کر رہا ہے نا۔ جسطرح نماز باجماعت پڑھتے ہیں تو خیال رکھتے ہیں نا کہ آگے میرے امام ہے نا اس طرح اس کا خیال ہے کہ وہ میرے ساتھ بیٹھا ہوا ہے یہ خیال ہے نا تو رہا یہ جو مسلے مسائل ہیں نہ تم اس میں الجھ گئے نا۔

اصلی منزل تمھاری اللہ کو پانا تھا نا تم نے اُسکو چھوڑ دیا ان میں الجھ گے

اب تصویر حلال ہے یا حرام ہے ۔ تم اس کو چھوڑو نا تم اللہ کو پانے کی کوشش کرو نا۔

ادھر جاؤ نا تم جب اللہ مل گیا تو ان کی کیا وقعت ہے۔ تو پھر ان کی کا وقعت ہے جب تجھے اللہ مل گیا نا تو پھر حضرت رابعہ بصری چکلے پر بیٹھ گئی تھیں وہاں جو آیا وہ بھی اللہ والا بن کر چلا گیا نا تو اللہ کو پا ان مسئلوں کو چھوڑ۔

 

اور جی کوئی بات۔

سوال: جب دین مکمل ہے سرکار بقول نبی کریم کے دین مکمل ہوگیا حج کے دن آپ نے فرمایا کہ دین مکمل ہوگیا پھر یہ ذکر یہ جو ہم کرتے ہیں تو یہ ثابت نہیں کسی کتاب سے یا کسی طریقے سے اس کے بارے میں بتائیں؟

جواب: میں بتاتا ہوں یہ ساری بات اسی کے متعلق کی ہے نا۔ وہ جو دین مکمل ہوا نا وہ شریعت والوں کا ہوا نا ۔ طریقت والوں کا تو دین مکمل وہاں نہیں ہوا تھا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں مجھے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے دو علم حاصل ہوئے ہیں ۔ ایک تمھیں بتا دیا وہ یہ ہی تھا نا۔ دوسرا بتاؤں تو تم مجھ کو قتل کردو وہ دین طریقت ہی تھا نا۔ یہ حدیث ہے باقاعدہ ۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے تین علم حاصل ہوئے ۔ ایک عام کے لئے ، ایک خاص کے لئے ، ایک صرف میرے لئے۔ اب رہا سوال اگر یہ ہی دین تھا پھر آپ داتا صاحب اور خواجہ صاحب کی نفی کر دیں نا۔ پھر وہ جنگلوں میں کیوں گئے ۔ وہ کون سا دین سیکھنے کے لئے جنگلوں میں گئے۔

اس کا مطلب ہے کہ وہ اس سے کچھ ہٹ کےتھا نا۔ وہ دین طریقت تھا یہ دین شریعیت ہے۔

اس سے آگے بھی دین ہے جو نظروں سے پلایا جاتا ہے وہ حقیقت ہے نا دین تو بہت سارے ہیں نا۔
 

سوال: سرکار وہ ایک صاحب ہیں سرکار وہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ بعض لوگ سینے کی دھڑکنوں کو یا گوشت کے ٹکڑوں کو ابھار لیتے ہیں عمل سے تو کیا یہ ذکر قلب ہے یا روحانیت ہے یا عبادت؟

جواب: نہیں وہ ایسا ہے دو سلسلے والے لوگ ہیں میں اُن کو جانتا ہوں اُن کی محنت پر آفرین ہے انھوں نے یہ سنا اگر یہ دل ذکر سے جنبش میں آئے عرش معلیٰ کو جنبش ہوتی ہے ۔ اس میں شک نہیں ۔ ایک فرقے نے کیا کیا دل کی دھڑکنوں میں اللہ اللہ ملائی ۔ دھڑکنوں کے ذریعے جب دھڑکنوں میں تیزی آئی اُن کے دل نے جنبش کری اس نے ایسا کیا۔ دوسرے والے نے کیا کیا کہ مشق کے ذریعے اس دل کو یہاں سے لایا ناف تک ناف اللہ ھو اللہ ھو وہ بھی ہم نے سلسلہ دیکھا ایک اور سلسلہ دیکھا جس نے گوشت کے لوتھڑے کو اللہ ھو اﷲ ھو وہ جنبش میں لگایا اب رہا سوال جس نے ناف تک لگایا اس نے جب تک تصور کیا نا وہ ہوا نا۔ جب تصور چھوڑا تو ختم ہوگیا نا۔ جب اس نے اللہ ھو میں لگایا جب تک وہ مشق کرتا رہا تصور کرتا ہوتا رہا نا جب تصور ختم کیا تو ختم ہوگیا نا وہ تصور زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ کرسکتے ہیں وہ بھی ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں کرسکتا اور یہ بھی ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں کر سکتے ان کے دلوں میں پھر تکلیف ہونا شروع ہوجاتی ہے یہ ہی بات ہےنا اور جنھوں نے دل کی دھڑکنوں کے ساتھ اللہ اللہ ملایا وہ تو چوبیس گھنٹے اللہ اللہ کرتی رہی نا۔ وہ دل کی دھڑکنیں جو کرتی ہیں نا وہ ذکر قلب ہے اور یہ جو انھوں نے ملا لیا نا یہ بھی گوشت کے لوتھڑے کا ذکر ہے نا لیکن جو مقام دل کی دھڑکنوں کا ہے نا وہ مقام ان کا نہیں ہے کیونکہ وہ وقتی ہے اور وہ دائمی ہے ۔ یہ سوتے میں نہیں ہوتا ہے وہ سوتے میں بھی ہوتا رہتا ہے ۔ آپ ان لوگوں کو دیکھیں نا ۔آپ کے ساتھ چل پھر رہے ہیں تو بلکل ساکن ہیں لیکن آپ جب مشق میں بیٹھے گے تب ان کے دل ایسے ایسے کریں گے نا ۔ ان کا تعلق تصور سے ہے تصور گھنٹے سے زیادہ قائم رہ نہیں سکتا رہا ان کی محنت پے آفرین ہے یہ نہیں کہہ سکتے غلط ہے۔ لیکن جو منزل ہے نا وہ دل دھڑکنوں سے ہے خون سے ہے اور خون سے روحوں میں جاتا نا اس سے منزل چلتی ہے نا۔ وہ عبادات ہے لیکن منزل نہیں ۔
 

سوال: آپ نے کسی کتاب میں لکھا ہے کہ میں مہدی ہوں؟
جواب: نہیں ۔
 

سوال: لوگ پروپوگنڈا کرتے ہیں؟
جواب: لوگوں سے پوچھے جی۔
 

سوال: میں نے ان سے کہا ہے کہ مہدی علیہ السلام مہدی کا مطلب ہے ہدایت دینے والا وہ جو ہدایت دینے والا یہ تو اﷲ کا کام ہے جن کو ہدایت دے صاف ظاہر ہے۔ بس یہ ہی ہے شکریہ۔

جواب: میں نے کہیں نہیں لکھا جی نا ہی کسی کو کہا ہے جی اگر کوئی کہے تو اس کی مرضی ہے کوئی کیا کہتا ہے کوئی کیا کہتا ہے۔

 

سوال: ولید ے معنی کیا ہیں؟

جواب: پتہ نہیں ۔ تاریخ کی کتاب میں دیکھ لینا ڈکشنری میں دیکھ لینا

 

 اس کے لیے بہتر ہے ذکرلے لیں اور پھر قسمت آزمائیں ۔ خواہ کسی بھی فرقے سے ہے اس سے مطلب نہیں ہے۔

مطلب اﷲ کو پانا مطلب ہے۔

 

سوال: ایک صاحب کہتے ہیں کہ اگر ذکر چالو ہو جائے تو پھربند کر سکتا ہے اسکو کوئی؟

جواب: یہ جو ہے نا اپنی مرضی سے چالوہوتا نہیں ہے نا ۔ اگر آپ چاہیں نا کہ میرا ذکر چالو ہوجائے تو کبھی بھی نہیں ہوگا جب تک رب نہیں چاہے گا۔ جب رب چاہے گا تو وہ تمھا را آگے پیچھا دیکھ کر ہی چاہے گا نا۔ توپھر تو مشکل ہے ایک دفعہ وہ چاہ لے پھر یہ بند ہوجائے۔ پھر وہ چلتا ہی رہتا ہے۔ بیچ میں اگر نشیب و فراز آ بھی جاتے ہیں لیکن یہ چلتا ہی رہتا ہے ۔

 

سوال: راز کیا ہے یہ 66 بار اﷲ لکھنے کا؟

جواب: یہ ایک عمل بن جاتا ہے ۔ جسطرح 786 ہے وہ بسم اللہ سے تعلق رکھتا ہے اسطرح جو66 ہے نا وہ اللہ سے تعلق رکھتا ہے نا یہ ایک عمل بن جاتا ہے نا۔ یہ حروف ابجد میں ہے نا ۔
 

 

کرلو تسلی سے بات جیسی چاہو کر لو۔
 

سرکار کسی کے ذہن مین سوال ہی نہیں ہے ذکر عنایت فرمایں۔


 

ایسا کریں نا میں پڑھوں گا نا اللہ ھو۔ جن لوگوں کو ذکر لینا ہے کوئ زبردستی سودا نہیں ہے دل کا سودا ہے زبردستی لے گا بھی اللہ نہیں چاہے گا پھربے کار ہے نا۔ زبردستی لے بھی لے ذکر۔ اﷲ نا چاہے تو بے کار ہے نا۔ جس کا دل چاہتا ہے وہ میری زبان کے ساتھ اقرار کرے گا تین دفعہ اللہ ھو کا اورجو نہیں چاہتا وہ خاموش رہے جو اقرار کرے گا اُس کو اجازت ہوگی۔ اجازت کا مطلب کیا ہوتا ہے اپ اس کے بغیر بھی اﷲ ھو پڑھ سکتے ہیں نا آپ یہاں تہجد پڑھتے رہیں شیطان ہنستا رہتا ہے کھڑا۔ تیرا دل تو میرے ہاتھ میں ہے نا جب جی چاہے گا موڑ دونگا لگا رہ ۔ لیکن اگر کوئی شخص اللہ کو دل میں بسانے کی کوشش کرتا ہے شیطان سوچتا ہے اللہ اس کے اندر چلا گیا ۔ یہ تو ساری عمر کے میرے ہاتھوں سے گیا نا۔ کیونکہ وہ اللہ کے نور سے جلتا ہے نا۔ اس پاس ہندو فوج ہے جنات ہیں پھر وہ اس آدمی کو چھوڑ دیتا ہے جا اس کو برباد کر، تباہ کر کچھ بھی کر یہ اللہ اس کے اندر نہ جائے اب تمھارے پاس کوئی مقابلہ کرنے کے لیے چیز نہیں ہے وہ آئیں گے تمھیں ستائیں گے پاگل بھی کرکے جاسکتے ہیں۔ لیکن جہاں اس کی اجازت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ ان کو بھی ایک رحمانی فوج دیتا ہے شیطانی فوج تم پر ٹوٹ پڑی اور رحمانی فوج شیطانوں پر ٹوٹ پڑی اور رحمانی فوج اس وقت تک تمھارا ساتھ دے گی جب تک تمھارے اندر رحمان نہیں جاگ اٹھتا ۔ پھر بندہ نہیں رہے بندہ نواز بن  گئے غریب نہیں رہے گا غریب نواز بن  گئے۔ اجازت یہ ہے۔ اﷲ ھو اﷲ ھو اﷲ ھو اجازت ہو گی سب کو۔

 

*****اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو*****
 

 

اگر آپ بھی ذکر کی لینا چاہتے ہیں تو امام مہدی ریاض احمد گوھرشاہی کی شبیہ مبارک کوپورے چاند پر دیکھتے ہوئے
 

تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔

 

© 1998-2010 All Faith Spiritual Movement Intl'
admin@theallfaith.com