SELECT YOUR LANGUAGE:    ENGLISH    or   INDONESIAN

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے

اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر)

مرکزی صفحہ  تعارف  حضرت عیسی  کرشمہ قدرت  الحجرالأسود  تعلیمات  دینِ الٰہی  پروگرام  تصانیف  ویڈیو  رابطہ    

 

میراث مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کانفرنس
اکتوبر 1995 ملتان

اعوذ بااللہ من الشیطن الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

عزیز ساتھیو اسلام علیکم ! آپ کے اس شہر میں پہلے بھی کئی مرتبہ آنا ہوا آنے کا مقصد کوئی سیاست نہیں ہے ،کسی فرقے کی دل آزاری نہیں ہے کوئی حکومت پر نکتہ چینی نہیں ہے ہر شہر میں ،ہرمحلے میں، ہر گھر میں کچھ دل والے ہوتے ہیں اُنکو نکالنا مقصد ہے اور دل کی آواز اُنکے دلوں تک پہنچانا مقصود- حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو (2 )طرح کا علم تھا اک دل والوں کیلئے اک زبان والوں کیلئے زبانی علم کو شریعت کہتے ہیں اور دل والے علم کو طریقت کہتے ہیں آپ کے زمانے میں جن لوگوں نے صرف ظاہری علم پہ قنات کری اُنہی میں سے کوئی خوارج ہوا اور کوئی منافق ہوا اور جن لوگوں نے وہ دل والا علم بھی حاصل کیا وہ تو اصحابی یا رسول اللہ کہلائے اور ولیوں سے بھی اعلیٰ مقام حاصل کرکے چلے گئے اور آج اِس زمانے میں جو لوگ صرف ظاہری علم پہ قنات کرے ہوئے ہیں وہ تو (72)بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے اب اِس وقت سنی،شیعہ،وہابی کتنے فرقے بن گئے ہم انگلینڈ میں گئے تو وہاں دو فرقے آپس میں لڑ رہے تھے ایک کہہ رہا تھا کہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سنی تھا دوسرا کہہ رہا تھا نہیں سنی نہیں تھا وہابی تھا اتنے میں ہم پہنچ گئے پوچھا تم تمہارا کیا خیال ہے ہم نے کہا حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ سنی تھا نہ وہابی تھا ۔بڑا تعجب ہوئی یہ کیا کہہ رہا ہے سنی بھی نہیں تھا شیعہ بھی نہیں تھا وہابی بھی نہیں تھا پھر کیا تھا صرف اُمتی تھا کہنے لگے اُمتی کیا ہوتا ہے ۔کہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس میں اللہ کا نور ہے وہ اُمتی ہے اور جب ان اُمتیوں سے نور نکلتا گیا تو سنی،شیعہ، وہابی بنتا گیا اب اگر سنی،شیعہ،وہابی میں دوبارہ نور آئے کبھی نہیں کہے گا میں سنی ہوں ،میں شیعہ ہوں،میں وہابی ہوں بس یہی کہے گا اُمتی ہوں تمہارا یا رسول اللہ۔

 اب اُمتی کیسے بنتا ہے اُمتی میں یہی ہے کہ جس میں نور ہو گا وہ میرا اُمتی ہے اور نور کیسے جائے گا اب ہمارے علماءاسٹیج پہ چڑھ کے کہتے ہیں کہ جب تک عشق مصطفی  نہیں ہے اللہ کی محبت نہیں کچھ بھی نہیں وہ دوائی کا پتہ تمہیں بتاتے ہیں دوائی تو نہیں دیتے ناں بھئی اِسکی دوائی دو ناں کہ اِسکی دوائی کیا ہے اِسکی دوائی تو نور ہے ناں نور تمہارے اندر کیسے بنے گا وہ باتوں ،باتوں سے نہیں وہ خیالوں،خیالوں سے نہیں اُس کیلئے کچھ عمل کرنا پڑے گااب زبانی علم کی تشریح ضروری نہیں ہے اُس دل والے علم کی تشریح ضروری ہے جس سے نور بنتا ہے جس سے روحانیت آتی ہے جس طرح یہ زبان اللہ اللہ کرتی ہے اِسی طرح وہ دل بھی اللہ اللہ کر سکتا ہے لوگ کہتے ہیں درویشوں کا خیال ہے ہم نے دل دیکھا ہے گوشت کا لوتھڑا ہے وہ گوشت کا لوتھڑا کیسے اللہ اللہ کر ے گا تم کہتے ہو یہ خیال ہے اگر تم کو یقین ہو جائے کہ تمہارا دل اللہ اللہ کر سکتا ہے یقین کرو تمہیں اِس کے بغیر نیند ہی نہ آئے لیکن تم کہتے ہو نہیں یہ خیال ہے جب اِس جسم کو بنایا گیا اللہ تعالیٰ نے اِس میں روح ڈالی اُس روح کے ساتھ چھ(6)اور معاون روحیں ڈالیں جن کو لطائف بولتے ہیں کسی کا کام دماغ میں سوچنے کیلئے کسی کا کام بولنے کیلئے ،کسی کا کام چلنے کیلئے ،کسی کا کام سونگنے کیلئے اپنی اپنی ڈیوٹیاں مقرر کر دیں اک اور روح مخلوق جسکا نام لطیفہ اخفیٰ ہے جس طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس طرح وہ مخلوقیں ہیں وہ سینے کے درمیان ہے اب یہ جو زبان بولتی ہے اُس لطیفہ اخفیٰ کے ذریعے بولتی ہے اگر کسی میں لطیفہ اخفیٰ نہ ہو تو ڈاکٹر کہتے ہیں زبان تو ٹھیک ہے یہ بولتا کیوں نہیں انسانوں اور جانوروں میں اِن مخلوقوں کا فرق ہے اگر وہ مخلوقیں جانوروں میں ہوتیں تو وہ بھی کچھ نہ کچھ بولتے ناں اُن کے بھی گلے ہیں اُنکی بھی زبانیں ہیں کیوں نہیں بولتے اُن میں وہ مخلوق نہیں ہے اک اور مخلوق ہے وہ گوشت کے لوتھڑے کے ساتھ بٹھا دی عربی میں گوشت کے لوتھڑے کو فواد کہتے ہیں اور اُس مخلوق کو قلب کہتے ہیں فرق یہ ہے لطیفہ اخفیٰ زبان والا آزاد ہے اور قلب ایک لاکھ اسی ہزار (180000 ) جھالوں کے اندر بند ہے اگر کوئی شخص اُس مخلوق قلب کو بھی جھگا لے تو جس طرح یہ زبان اللہ اللہ کرتی ہے اُس طرح وہ گوشت کا لوتھڑا دل بھی اللہ اللہ کر سکتا ہے اب رہا سوال وہ جاگے کیسے وہ تو ایک لاکھ اسی ہزار (180000 ) جالوں کے اندر بند ہے اگر کوئی شخص انڈے کی خاصیت سے بے خبر ہے اُسے کہا جائے یہ ہوا میں اُڑے گا یہ چوں چوں کرے گا وہ کہے گا تو غلط کہتا ہے نہ اِسکی ٹانگیں،نہ زبان،نہ پر روز توڑ کے دیکھتا ہوں کھاتا ہوں اِس میں کچھ بھی نہیں ہے تو کہتا ہے یہ ہوا میں اُڑے گا وہ بیضہ ہے ۔تمہارے اندر بھی ہے اُسے تصوف میں بیضہ ناسوتی کہتے ہیں وہ تمہاری عبرت کیلئے ہے اُس میں اک چوزہ بند ہے اور اِس میں اک فرشتہ بند ہے اُسکو ظاہری گرمی کی ضرورت ہے اِس کو اللہ ھو کی ضربوں کی ضرورت ہے اُس کے اوپر تین چھلکے ،اِس کے اوپر ایک لاکھ اسی ہزار (180000 ) جالے ۔اُسکو مرغی چاہیے ورنہ بیکار ہو جائے گا اِسکو مرشد چاہیے ۔مرغی کیا کرے گی اُسکے حساب سے اُسکو گرمی پہنچائے گی جب دیکھے گی ہیٹ (Heat ) زیادہ ہو رہی ہے اُٹھ کے چلی جائے گی پھر آکے بیٹھ جائے گی اور مرشد کیا کرے گا اِس کے سینے کے حساب سے اُس میں اللہ کا نور پہنچائے گا اب وہ نور خواہ نظروں سے پہنچائے ،خواہ سینے سے پہنچائے ،خواہ ذکوریت کے ذریعے پہنچائے مقصد نور سے ہے اب جب وہ انڈا پھٹے گا وہ انڈا نکلے گا بغیر سیکھے سکھائے وہ چوں ،چوں کرے گا اُسکو کسی نے سکھایا ہی نہیں ہے تو پھر وہ چوں،چوں کیوں کرتا ہے چوں،چوں اُسکی فطرت ہے اور جب یہ بیضہ پھٹے گا تو بغیر سیکھے سکھائے اللہ اللہ کرے گا اللہ اللہ اِسکی فطرت ہے اُس وقت تم کہو گے میں اللہ اللہ نہیں کر رہا میرے اندرسے کوئی اور مخلوق ہے جو اللہ اللہ کر رہی ہے ۔

یہاں سے پھر دو طرح کی تسبی ہے اک زبان والوں کیلئے جو بازاروں میں بکتی ہے اک دل والوں کیلئے جو اندر چلتی ہے اب تم اُس مخلوق کے اُستاد ہو گئے اُسکو صرف اللہ اللہ کرنا آتا ہے اب تم اُس کے استاد ہوگئے کہ تیری تسبی یہ ہے یہ جو دل کی دھڑکن ہے تو اِس کے ساتھ اللہ اللہ ملا یہ تیری تسبی ہے اُس نے اُس کے ساتھ اللہ اللہ ملانا شروع کر دی کبھی ملی،کبھی ہٹی ،تین سال کے بعد اتنا پختہ ہو گئی کہ تم ڈٹ کر سوتے رہے اور اللہ اللہ ہوتی رہی اُس وقت سخی سلطان باھو ؒ فرماتے ہیں کجھ جاگدیاں سُتے ھو ،تے کجھ سُتیاں جاگدے ھو کچھ لوگ ہیں ساری رات جاگ کر عبادت کرتے ہیں لیکن سوئے ہوﺅں میں شامل ،اور کچھ لوگ بستروں پر سو رہے ہیں اُنکے دل اللہ اللہ کر رہے ہیں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم سوتے ہیں ہمارے دل نہیں سوتے اب یہ تسبی سے اللہ اللہ کرتے ہیں یہ کیوں کرتے ہیں اک سکھ نے سوال کیا کہ تم کہتے ہو کہ ہمارے قرآن میں نور ہے وہ کہنے لگا میں تمہارا جاسوس رہ کر آیا میں تمہارے بچوں کو قرآن پڑھاتا تھا میں نمازیں بھی پڑھاتا تھا اگر قرآن میں نور ہوتا تو میرے اندر کیوں نہیں ہے عیسائی بولا میں شب و روز تمہارے قرآن کا مطالعہ کرتا ہوں اگر وہ نوری ہے تو میرے اندر کیوں نہیں ہے ہم نے کہا تم نے دل سے نہیں پڑھا یہی کہہ سکتے تھے اور کیا کہتے وہ کہنے لگا ٹھیک ہے ہم نے دل سے نہیں پڑھا تمہارے مسلمان تو دل سے پڑھتے ہیں ناں تو وہ نوری کیوں نہیں ہوئے اگر وہ نوری ہو جاتے قرآن پڑھنے والے ۔تو ایک دوسرے کو کافر منافق کیوں کہتے بات بڑی معقول تھی سارے قرآن پڑھنے والے ہیں دیوبندی بھی قرآن پڑھتا ہے ،۔۔۔۔۔بھی قرآن پڑھتا ہے تو سنی بھی قرآن پڑھتا ہے ایک دوسرے کو پھر کافر کیوں کہتے ہیں منور نہیں ہوئے ناں اب قرآن میں نور بنایا جاتا ہے جس قرآن میں نور ہے وہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے سینے مبارک میں ہے اِس قرآن سے نور بنایا جاتا ہے جس طرح پانی،پانی سے ٹکراتا ہے بجلی بنتی ہے ۔لوہا ،لوہے سے ٹکراتا ہے چنگاری اُٹھتی ہے قرآن کی آئتیں جب آئیتوں سے ٹکراتی ہیں تو نور بنتا ہے ناں تو تم نے کبھی آئیتوں کو آئیتوں سے ٹکرایا جن لوگوں نے ٹکرایا وہ عمل بن گئے اِس ٹِک ٹِک کے ساتھ اللہ اللہ ملاتے ہیں اِس طرح جب ٹِک،ٹِک کے ساتھ اک سو اک (101 ) دفعہ اللہ اللہ ہوتی ہے تو معمولی سی نور کی چنگاری بنتی ہے لیکن اب یہ تسبی والے کیا کرتے ہیں دس،پندرہ دفعہ اللہ اللہ کرتے ہیں اُس کے بعد پوچھتے ہیں بھائی کیا حال ہے خیر ہے وہ تسلسل تو ٹوٹ گیا ناں وہ نور کیسے بنے گا اک سو اک (101 ) دفعہ تو کوئی بات نہ کر صرف اللہ اللہ کر تو پھر معمولی سی چنگاری اُٹھے گی اب اگر وہ نور کی چنگاری اُٹھ بھی گئی ۔تو وہ تیری انگلیوں میں جائے گی ناں اندر تو نہیں جائے گی ناں یہ عبادت ہے روحانیت نہیں ہے بعض لوگ زبان سے اللہ اللہ کرتے ہیں وہ بھی نور ضرور بنتا ہے لیکن وہ باہر جاتا ہے ناں اندر تو وہ بھی نہیں جاتا ہے ناں جب تمہارے اندر دل کی دھڑکن وہ اللہ اللہ پکارنا شروع کر دیں گی اندر تمہارے دھڑکنوں کے ساتھ اللہ اللہ کا رگڑا لگے گا تو پھر وہ جو نور بنے گا ۔ نہ انگلیوں میں جائے گا ،نہ باہر جائے گا وہ سیدھا تمہارے خون میں جائے گا جب خون میں جائے گا خون سے وہ نسوں میں جائے گا نسوں سے وہ تمہاری روحوں تک جائے گا جب روحوں تک پہنچے گا تو وہ روحیں اللہ اللہ کرنا شروع کر دیں گی ناں پھر روحیں یہاں بھی اللہ اللہ کریں گی،قبر میں بھی جاکے اللہ اللہ کریں گی یومِ محشر میں بھی اللہ اللہ کرتی رہے گی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اُٹھتے،بیٹھتے حتیٰ کہ کروٹیں لیتے میرا ذکر کر ،خرید و فروخت میں بھی اِس سے غافل نہیں رہنا اور ساتھ پیٹ بھی لگا دیا اب آدمی سوچتا ہے ،پیٹ بھی لگا دیا ،بچے بھی ہیں اور کہتا ہے خریدو فروخت میں بھی لگا رہ ،اُٹھتے،بیٹھتے بھی لگا رہ ،تو پھر میں کام کاج کیسے کروں یہی سوچتا ہے ناں وہ کہتا ہے ہر وقت کر ،وہ تجھے نہیں کہا ہر وقت کر ،وہ جو تیرے اندر انسان رہتا ہے اُس کو کہتا ہے ہر وقت کر ۔اک دفعہ تو اُس انسان کو جگا لے پھر تو کام کرتا رہ وہ اللہ اللہ کرتا رہے گا ،تو سوتا رہ وہ اللہ اللہ کرتا رہے گا پھر تیرے سونے میں بھی برکت ،تیرے کام کاج میں بھی برکت اک دفعہ تو اس انسان کو جگا لے اب جب وہ تیرے اندر ست (7 ) انسان ہیں اُس میں چھ(6 ) مخلوقیں ۔۔۔۔ ہیں اک مخلوق شیطانی ہے اُس کا نام ہے نفس یہ جو سارا بگاڑا ہے ناں اِس نفس کا ہے بلھے شاہ ؒ فرماتے ہیں اس نفس پلیت نے پلیت کیتا ۔اساں منڈھوں پلیت نہ سی یہ جو گوشت ہے یہ کوئی پلیت نہیں ہے وہ جو اللہ نے روحیں ڈالیں وہ بھی پلیت نہیں ہیں جب وہ نفس اِس کے اندر آیا تو یہ جسم پلیت ہوا ناں اب اُس نفس کو پاک کرنا ہے اِس قلب کو صاف کرنا ہے نفس کو پاک کرنا ہے اب وہ نفس پاک کیسے ہو گا جب تمہاری نس نس میں اللہ اللہ جائے گا نور نس نس میں جائے گا پھر وہ نور وہاں پہنچ جائے گا جہاں تمہارا نفس ہے اُس نفس کو گھیرے گا نور اب وہ نفس یا تو مر جائے یا اللہ اللہ کرنا شروع کر دے کسی کے نفس مر جاتے ہیں کسی کے نفس اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتے ہیں اللہ اللہ سے پھر وہ کالے کتے کی طرح تھا پھر وہ سفید کتے کی طرح ہو جاتا ہے پھر اُسکی شکل بیل کی طرح ہو جاتی ہے ،پھر اُس کی شکل بکرے کی طرح ہو جاتی ہے پھر وہ نفس اُسی انسان کی شکل اختیار کر لیتا ہے پھر وہ نماز پڑھتا ہے ساتھ وہ بھی نماز پڑھتا ہے وہ ذکر کرتا ہے ساتھ وہ بھی جھومتا ہے پھر اُس کو پکڑ کر حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محفل میں لے جاتے ہیں پھر حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور حاضرین عش،عش کر اُٹھتے ہیں آفرین ہے اِس کے اوپر اور اِس کے مرشد کے اوپر کتے کو پاک کیا انسان بنایا اور محفل میں لے آیا اُس وقت حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم اُس کو کوئی مرتبہ دے دیتے ہیں اب نفس تو پاک ہو گیا ناں۔

 اب حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لطائف مبارک اس دنیا میں ہیں اب اُس کو رسائی وہاں ہو گئی اب اللہ جو ہے وہ تو دنیا جہاں ساری دنیا ختم ہوتی ہے اُس سے بھی بہت دور ہے ناں اب اللہ تک رسائی کیسے ہوگی ایک حدیث شریف میں ہے کہ اس دنیا میں جو نظام ہے یہ دنیا باطن کا عکس ہے یہاں جو نظام ہے یہ بجلی کا ہے وہاں جو نظام ہے وہ نور کا ہے یہاں موبائل فون پڑا ہے بجلی کی لہریں یہاں سے اُٹھتی ہیں امریکہ چلی جاتی ہیں اور اگر کسی کے اندر نور ہو گا تو نور کی لہریں اُٹھیں گی تو وہ کہاں جائیں گی نور کی لہریں اُٹھیں گی پھر وہ عرش معلی میں جائیں گی جب تمہارے اندر اللہ اللہ شروع ہو گئی نس ،نس میں اللہ اللہ شروع ہو گئی تو وہ نور تمہارے دل میں اکٹھا ہو گا پھر اُسکی لہریں یہاں سے اُٹھیں اور عرش معلی میں پہنچ گئیں اب صرف ظاہری طور ٹیلی فون کا کنکشن ہوا بات چیت نہیں پہنچی جب حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم شب معراج میں گئے تو اللہ تعالیٰ نے اُنکو نمازیں دیں تحفے کے طور پہ اگر کوئی آدمی اُسکی نماز نہ پڑھے اُسکی شان گھٹتی تو نہیں ہے ناں وہ اللہ ہی ہے ناں تو پھر یہ نمازیں کیوں دیں یہ تحفے کیلئے دے دیں کہ اپنی اُمت کو دے دینا یہ تحفے مجھے بھیجیں گے میں اُن کو یاد رہوں گا وہ مجھے یاد رہیں گے اب وہ تحفے نیچے آگئے اب ان تحفوں کو اُس نوری ٹیلیفون کے ذریعے اوپر پہچانا ہے ناں اگر تمہارے اندر وہ ٹیلی فون ہے ہی نہیں ہے تو تمہارے تحفے اوپر کیسے جائیں گے وہ تمہاری نماز ،نمازِ صورت کہلاتی ہے یہ نماز اوپر نہیں جاتی اس کو نمازِ صورت کہتے ہیں مجدد صاحب ؒ فرماتے ہیں عام آدمی کی نماز صورت ہے خاصانِ خدا کی نماز حقیقت ہے فرماتے ہیں کہ ہر آدمی کو چاہیے کہ نماز حقیقت کی تلاش کرے اب وہ نماز صورت کیا ہے 72 فرقے والے وہی نماز صورت ہی پڑھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو فرمایا قل ھو اللہ ھواحد کہہ دیجئے اللہ ایک ہے آپ نے آمین کہا حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کہہ دو اللہ ایک ہے جنہوں نے آمین کہا مسلمان ،جنہوں نے نہیں مانا کافر،جنہوں نے حیل وحجت کری منافق ۔اب مسلمان کس کو کہتا ہے کہہ دے اللہ ایک ہے بلھے شاہ ؒ فرماتے ہیں اک نقطے وچ گل مکدی ایہہ کس کو کہتے ہو کہہ دے اللہ ایک ہے تم اپنے دل کو کہتے ہو کہہ دے اللہ ایک ہے وہ جواب دیتا ہے گھر وچ آٹا ای کوئی نئیں اے پھر کہتے ہو اللہ الصمد اللہ بے نیاز ہے دل کہتا ہے بیوی بیمار ہے پھر کہتے ہو لم یلد ولم یُلد دل کہتا ہے ڈیوٹی سو لیٹ ہو گیا چل ۔کافروں کی زبان اقرار نہیں کرتی،منافقوں کے دل تصدیق نہیں کرتے ،فاسقوں کے جسم عمل نہیں کرتے ۔بتاؤ تمہارا دل تو منافق تھا پھر منافق دل کی نماز کیسے ہوگی اللہ اور تیرے درمیان جو ٹیلی فون ہے وہ دل ہے جب اللہ اس سے نکلا تو شیطان آکے بیٹھ گیا اب اگر کسی نمازی کو کہا جائے تیرے اندر شیطان ہے تو اُسکو بڑا غصہ آئے گا میں پانچ وقت کا نمازی ہوں کہتا ہے میرے اندر شیطان ہے وہ مرزا غلام احمد کو بھی کہا گیا تھا کہ یہ جو الہام ہوتے ہیں یہ شیطانی ہیں اُس نے کہا میں پنج وقت کا نمازی ہوں ،بچپن سے ہی میں اعتکاف میں بیٹھتا ہوں تو میرے پاس شیطان کا کیا کام یہ غلط فہمی ہے اِسکا ثبوت ہے جب تم نماز پڑھتے ہو تم سوچنا نہیں چاہتے تم تو اللہ کے حضور میں کھڑے ہو اللہ کی طرف رجوع کر رہے ہو پھر تمہارے دل میں وسوسے کیوں آتے ہیں وسوسے اگر آتے ہیں تو تمہارے اندر کوئی چیز ہے ناں ،وہ شیطان ہے ناں جو وسوسے ڈالتا ہے ناں ،وہ تمھاری نماز خراب کرکے چلا جاتا ہے ناں ۔ایک دفعہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے پوچھا میں جب نماز پڑھتا ہوں تو وسوسے آتے ہیں اُنکے دل میں اللہ اللہ بھی ہوتی تھی ،وسوسے بھی آتے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں دو طرح کا ثواب ملتا ہے ۔اک نماز کا ثواب ،دوسرا جہاد کا ثواب کہ جب تمہارے اندر وہ وسوسے آتے ہیں تو تمہارے اندر جو اللہ اللہ ہورہی ہے وہ اِسکو دور کرتی ہے ناں ،وہ جہاد ہے ناں ۔

اگر تمہارے اندر اللہ اللہ نہیں ہے تو اُسکو دور کون کرے پھر وہ وسوسے تمہارے دل میں بیٹھ جاتے ہیں ناں اسکا مطلب ہے تمہارا دل بھی ا ُسی میں شامل ہے ناں تو یہ تو جہاد نہیں ہوا ناں قرآنِ مجید فرماتا ہے اِسی نماز صورت والوں کیلئے کہ اُن نمازیوں کیلئے تباہی ہے جو نماز حقیقت سے بے خبر ہیں اُن نماز پڑھنے والوں ،پڑھنے والوں کیلئے اُن کی نماز دکھاوا بھی ہے آدمی بڑے خشوع،خضوع سے نماز پڑھ رہا ہے دنیا والے کہہ رہے ہیں کہ بڑی دیر سے بڑے خشوع،خضوع سے نماز پڑھ رہا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نہیں نہ میں اسکی شکل کو دیکھتا ہوں ،نہ اسکی داڑھی کو دیکھتا ہوں ،نہ اسکے سجدے کو دیکھتا ہوں میں اسکے قلب اور نیت کو دیکھتا ہوں جسکو دنیا دیکھتی ہے اُس میں وہ ہوشیار ہے جسکو اللہ دیکھتا ہے اُس میں کاروبار ہے یہ نماز دکھاوا ہی ہوئی ناں دنیا دیکھتی ہے ناں یہ نماز تباہی بھی ہے قرآنِ مجید فرماتا ہے تباہی بھی ہے تباہی کیسے ہے پانچ وقت کا نمازی تھا لوگوں نے کہا بڑا اچھا آدمی ہے تکبر آیا ناں وہ تہجد بھی پڑھتا ہے اور تعظیم کری اور تکبر آیا اک دن بے نمازی کودیکھا بڑی حقارت سے دیکھا کہ میں تجھ سے بہتر ہوں اور یہ بھی نہیں پتہ کہ تکبر عزازیل راہ خوارکر نمازیں وہ بھی پڑھتا تھا اگر عزازیل نے مار کھائی تکبر سے کھائی ناں اب وہ سوچتا ہے کہ میں نے ساری نمازیں وغیرہ پڑھ لیں اب ایسا کریں کہ ساری سُنتیں بھی اپناؤ ساری سُنتیں،سُنتیں بھی اپنا لیتا ہے جب ساری سُنتیں اپنا لیتا ہے پھر کہتا ہے اب مجھ میں تو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم میں کیا فرق رہا جب یہاں تک پہنچتا ہے تو اُس کے ایمان کی تباہی ہو گئی ناں یہ نماز صورت ہے جو تباہی کی طرف لے کے جاتی ہے اب وہ نماز حقیقت کیا ہے نماز حقیقت تو معراج ہے نماز حقیقت کیلئے تمہیں سب سے پہلے اللہ اللہ سیکھنی ہو گی یہ تمہارا پہلا رُکن ہے پہلا رکن کلمہ طیب حدیث شریف میں ہے افضل الذکر کلمہ طیب ،کلمہ طیب ذکر میں ہے قرآنِ مجید فرماتا ہے اُٹھتے،بیٹھتے،کروٹیں لیتے میرا ذکر کر یہ پہلا رکن ذکر ہے یہ تمہارے قرآنِ مجید کا پہلا لفظ بھی ہے سخی سلطان باھو ؒ فرماتے ہیں میں کسی مدرسے میں نہیں پڑھا میں نے قرآن مجید کا پہلا لفظ الف لے لیا ۔الف سے اللہ اللہ کرتا رہا اللہ اللہ سے میرا سینہ منور ہو گیا جب سینہ منور ہا گیا حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے سینے سے سینہ ملایا تو سارے علم خود بخود ہی آگئے الف سے اللہ اللہ کر اگر اِس کی جلالت سے ڈرتا ہے تو لسے لا الہ الا اللہ ہی پڑھتا رہ اگر اِسکی بھی توفیق نہیں ہے تو م سے محمد الرسول اللہ  ہی پڑھتا رہ اِسی سے کچھ پا لے گا یہ ذکوریت ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کو نور کی ہدایت ہے ا ل م نور سے ہدایت ہے اگر یہ نہیں تو پھر کتاب میں لگا رہ کتاب کیلئے یہ ہے کتاب سے اُن لوگوں نے ہدایت پائی کتاب کہتی ہے ھداللمتقین ہدایت کرتی ہے پاکوں کو جب تمہارا سینہ پاک ہو جائے گا تو پھر وہ ہدایت کو پکڑے گی ناں اک حدیث شریف میں ہے کہ کچھ لوگ قرآن پڑھتے ہیں وہ اُن کے اوپر لعنت کرتا ہے وہ جن کے نفس کُتے ہیں وہ ناپاک ہیں جب وہ قرآن پڑھتے ہے وہ اُن کے اوپر لعنت ہی کرتا ہے مجدد صاحب ؒ فرماتے ہیں مقتدی کو چاہیے پہلے ذکر اللہ کرے قرآن اُن لوگوں کے پڑھنے کے قابل نہیں جن کے نفس کُتے ہیں فرماتے ہیں کہ جب نفس پاک ہو جائے پھر قرآن کو ہاتھ لگائے اُس وقت اک لمحہ فکریہ سو سال کی عبادت سے بہتر ہے اک حدیث شریف میں ہے کہ جس گھر میں کُتا ہو وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے اِس کُتے نے کہا میں نہیں اُس کُتے کو کہا اُس کُتے کو کیوں کہا وہ تو آدم ؑ کی حفاظت کیلئے جنت میں بنایا گیا اب نیچے آدمی آیا تو نیچے آدمی کی حفاظت کر رہا ہے ناں ۔اُس کو اگر گلی کے کونے میں باندھ آؤ گے تو تمہاری حفاظت کیا کرے گا اُس کُتے کو نہیں کہا یہ جو تمہارا اندر نفس ہے اِس کو کہا کہ جس گھر میں یہ کُتا ہو گا وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے جب تمہارا نفس پاک ہو جائے گا اب جو تم قرآن کو ناں ۔۔۔۔۔ سرسری جائزہ لیتے ہو اُس کو کتاب سمجھتے ہو سرسری جائزہ لیتے ہو رٹتے ہو اِسکو جب تمہارا اندر پاک ہو جائے گا پھر یہ تمہارے اندر جائے گاناں پھر اِس کے ہر لفظ کے اوپر تم غور کرو گے ناں تو پھر علامہ اقبال ؒ نے فرمایا قاری نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں ہے قرآن

اِن کی دل کی دھڑکنوں کو تم کو اللہ اللہ میں لگانا ہی ہو گا یہ دل کی تسبیح ہے پھر کوشش کرو گے میں کام کاج کرتا رہوں اللہ اللہ ہوتی رہے اِس کو بولتے ہیں دست کار میں دل یار میں ،پھر کوشش کرو گے نماز پڑھتا رہوں اور اللہ اللہ ہوتی رہے اُس وقت زبان کہے گی کہہ دے اللہ ایک ہے دل کہے گا اللہ ای اللہ ،اللہ الصمد ،دل کہے گا اللہ ای اللہ لم یلد و لم یُلد دل کہے گا اللہ ای اللہ اب جو زبان میں ہے وہ دل میں ہے ناں اس کو کہتے ہیں اقرا ربااللسان و تصدیق باالقلب زبان ذکر مفصل میں اور دل ذکر مجمل میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔جسطرح مغرب کی طرف میگنٹ کے پہاڑ ہیں یہاں قطب نما ہے جس شہر میں قطب نما کو لے کے جاؤ گے اُس کا رخ میگنٹ کے پہاڑوں کی طرف ہی ہو گا تعلق ہے ناں اگر اِس دل میں ذرا سا بھی نور آجائے تو اِس کا رخ جس فرقے میں بھی ہو گا اُس کا رخ نور کی طرف ہی ہو گا بھئی اِس کا رخ پھر اُدھر ہی ہو گا ناں جدھر نور ہے اُدھر یہ نور اِدھر ہو جائے گا ۔۔۔۔ اب رہا سوال اللہ کا دین کیا ہے کوئی نہیں بتا سکتا اللہ کا دین کیا ہے توریت،تورو،توریت، میں کچھ اور دین ہے زبور میں کچھ اور دین بنا لیا اُس نے،انجیل میں کچھ اور دین بنا لیا ،قرآن میں کچھ اور دین بنا لیا پر اُس کا اپنا دین کیا ہے اُس کا دین عشق ہے عشق نور سے آتا ہے اور جو نوری ہو جاتا ہے وہ اُسکا ہو جاتا ہے جب تو نوری ہو گیا تو اُس کا ہو گیا پھر جس فرقے کے ساتھ وہ اُدھر تو،پھر وہ اُمت کے ساتھ ہے تو اُمتی ہو گیا ناں اب مومن کی نماز معراج ہے ۔۔۔۔۔ آواز جاتی ہے ولی بذات خود جاتا ہے اب ولی کا یہ جسم نہیں جاتا عرش معلی میں ،وہ جو اندر کی مخلوقیں ہیں وہ عرش معلی میں جاتی ہیں وہ وہاں جاکے نمازیں پڑھتی ہیں ناں ولیوں کی روحوں کے ساتھ ،نبیوں کی روحوں کے ساتھ نہ پوچھتے ہیں اِس کا مقصد کیا ہے ملتے ہیں ناں ملاقات ہوتی ہے دور،دور سے فتویٰ لگا دیتے ہیں اِسی طرح یہ بھی بات ہے ہو سکتا ہے اِس پہ بھی فتویٰ لگا دیں لیکن خیر ہے جہاں سو (100 ) وہاں ایک سو ایک (101 )سہی اب دیکھیں ناں یہ جو تمہارا جسم ہے یہ تو فانی ہے ناں اس جسم کو یہیں رہنا ہے ناں اس دنیا میں یہ جسم ملا اس دنیا میں یہ جسم رہے گا اس کا آگے سے کوئی تعلق نہیں ہے آگے جو جسم ملیں گے وہ دوسرے ہونگے نہ جلیں گے،نہ مریں گے،نہ بڈھے ہونگے یہی بات ہے ناں اقرار کرتے ہو ناں جب اس جسم کو آگے جانا ہی نہیں ہے تب اِس کو نماز پڑھنے کی کیا ضرورت ہے ،پھر اسکو نماز پڑھنے کی کیا ضرورت ہے اِس کو اُس چیز کی کیا ضرورت ہے اِس کو تو آگے جانا ای نہیں اِسکو تو دنیا میں رہنا ہے وہ جو تمہاری روحیں جس کو آگے جانا ہے وہ اِس جسم کے اندر چمٹی ہوئی ہے بڑی کمزور ہے اِس جسم نے اُس کو طاقتور بنایا ہے وہ سجدہ نہیں کر سکتی اِس جسم نے اُس کو سجدہ کرانا ہے نئیں سمجھے اِس کے سجدے اُس کیلئے،اصل کیلئے ہیں پھر جب یہ جسم اُس کو طاقتور بنا دیتا ہے جب یہ جسم اُس کو طاقتور بنا دیتا ہے اُس اندر کے انسان کو تو پھر بھلا یہ سو جائے ،بھلا یہ مر جائے اُس کو پرواہ نہیں پھر اُس کا سجدہ ای سجدہ ہے لوگوں نے پوچھا غوث پاک ؒ سے ایک دن آپ شیخ بقا کی بڑی تعریف کرتے ہیں وہ نماز نہیں پڑھتے انہوں نے فرمایا تمہیں خبر نہیں وہ تو ہر وقت کعبے میں سر بسجود رہتے ہیں اک دن مجدد صاحب ؒ مسجد میں گئے دیکھا ایک آدمی سو رہا ہے سمجھا نماز پڑھ کے سویا ہو گا عصر کے وقت پھر گئے دیکھا سو رہا ہے عصر سے مغرب تک مسجد میں رہتے مغرب کی اذان ہو رہی ہے اور وہ سو رہا ہے آپ کو بڑا غصہ آیا جھنجھوڑا اُٹھ،یا تو نماز پڑھ،یا مسجد سے نکل جا وہ فوراً اُٹھا جماعت کھڑی ہونے والی تھی سخت آواز سے کہا امام صاحب ذرا ٹھہر جائیں امام صاحب رک گئے اُس نے وضو کیا فوراً کہا دو رکعت سُنت وقت فجر سارے دیکھتے ہیں کہ فجر کا سماں ہو گیا پھر اُس نے ظہر کی نماز پڑھی ظہر کا سماں ہوا پھر اُس نے عصر کی نماز پڑھی ایک راوی لکھتا ہے کہ سورج واپس لوٹ آیا اُس وقت اُ س نے کہا مجدد صاحب ؒآپ تو صاحب نظر تھے بہتر تھا مجھے جگانے سے پہلے میرا حال دیکھ لیتے میں تو اُسی کے پاس تھا جس کی تم نماز پڑھتے ہو جب بلھے شاہ ؒ وہ اندر کا انسان جاگ اُٹھا اُس وقت اُنہوں نے کہا کہ اساں عشق نماز جدوں نیتی اے تے بھل گئے مندر مسیتی اے اب یہ جو اندر کے انسان ہیں اوپر ست جہان ہیں ہر جہان سے اک ،اک بندہ اللہ تعالیٰ نے لیا اِس جسم میں ڈال دیا پتہ نہیں اِس کو کس جہان کی سیر کا شوق ہو اُس کو طیر،سیر بولتے ہیں اگر تجھے ملکوت کی شوق ہے کہ ملکوت میں کیا ہے لطیفہ قلب کو طاقتور بنا لے اِس کا تعلق ملکوت سے ہے ملکوت میں طیر،سیر ہو جائے گی تیری ۔اگر تجھے جبروت کو دیکھنے کا شوق ہے تو اِس روح کو طاقتور بنا لے ۔اگر لاہوت میں جانے کا خیال ہے لطیفہ سری کو طاقتور بنا لے اِس کے ذریعے تو لاہوت پہنچ جائے گا اگر تجھے خیال ہے جہاں اللہ ہے وہاں پہنچنے کا لطیفہ انا کو طاقتور بنا لے جب یہ دماغ کی مخلوق اِس کا نام ہے لطیفہ انا جس کے ذریعے لوگ ۔۔۔۔ ہو جاتے ہیں اس کا ذکر ہے یا ھو ۔یا ھو کے نور سے اس میں ذاتی نور آجاتا ہے پھر وہ کہتا ہے دیکھیں اوپر کیا ہو رہا ہے ،اوپر کیا ہو رہا ہے یہ مخلوق اوپر پرواز کر جاتی ہے فرشتے روکتے ہیں نہیں رکتی کہنے لگے چلو جو کچھ بھی ہے بیت المعمور سے آگے جل جائے گا اُس سے آگے فرشتے بھی نہیں جا سکتے اور یہ بیت المعمور سے بھی آگے چلی جاتی ہے وہاں پہنچ جاتی ہے جہاں رب کی ذات ہے جن کو اس مخلوق کے بغیر دیدار ہوا کسی اور مخلوق کے ذریعے وہ خواب میں ہوا اور جنہوں نے اس مخلوق کے ذریعے دیدار کیا وہ خواب میں نہیں ہوا وہ ہوش وحواس میں ہوا اُس کیلئے سخی سلطان باھو ؒ فرماتے ہیں کہ جب ہم جب بھی چاہتے ہیں رب کو دیکھ لیتے ہیں ظاہری جسم سے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے اور اِن مخلوقوں سے ولی وہاں پہنچتے ہیں جب کوئی وہاں پہنچ جاتا ہے اک دوجے کو پیار سے دیکھتے ہیں ۔پیار سے دیکھتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تجھے دیکھ لوں تو مجھے دیکھ لے اب جس طرح اوپر سیارہ ہے وہ نقشہ نیچے بھیجتے ہیں اسی طرح یہ تمہارا سیارہ اللہ کے پاس ہے وہ اُس کا نقشہ تمہارے دل میں بھیجتا ہے اب اللہ کا نقشہ اُس کے دل میں آتا ہے جب دل میں آتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اب تو نیچے چلا جا اب جو تجھے دیکھ لے وہ مجھے دیکھ لے اب جس نے تجھے دیکھ لیا اُس نے مجھے دیکھ لیاپھر ایسے کامل کیلئے سخی سلطان باھو ؒ نے فرمایا ہے مرشد دا دیدار باھو مینوں لکھ کروڑاں حجاں ھو کہتے ہیں کہ میں لکھ کروڑ دفعہ حج میں جاؤں لیکن اللہ تو وہاں نہیں ہے ناں اللہ تو اوپر ہے ناں تو اللہ تو اُس کے دل میں آگیا اب جو لوگ بیعت ہوتے ہیں اپنے آپ کو بیچتے ہیں بیعت کا مقصد ہے اپنے آپ کو بیچ دینا اپنا جان و نفس اُس کے حوالے کر دینا بھئی اگر آپ نماز خود پڑھ سکتے ہیں تو بکنے کی کیا ضرورت ہے داڑھی بھی رکھ سکتے ہیں حافظ بھی ہو سکتے ہیں آپ اُس کام کیلئے بکتے ہیں جو آپ کے بس میں نہیں ہے آپ یہاں سوتے ہیں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ہوں آپ کے بس میں نہیں ہے آپ سوتے رہیں آپ کا اندر اللہ اللہ کررہا ہو اس کام کیلئے اپنے آپکو بیچنا پڑھتا ہے پھر اُس مرشد کو ڈھونڈنا پڑتا ہے ناں جس کا تعلق اللہ سے ہے اللہ کو یہ جسم تو نہیں جائے گا ناں اللہ کو تمہارا اندر جائے گا ناں اگر تم نے مرشد پکڑا تو اپنے اندر کیلئے پکڑا ہے ناں اگر دس بارہ سال بھی ہو گئے تمہارا اندر کچھ بھی نہیں ہے تو پھر تمہارا یا تو مرشد ناقص ہے یہ پھر تم ناقص ہو ضروری ہے یہاں جتنے بیٹھے ہوں گے پیرو مرشد والے ہونگے ہر آدمی اپنے مرشد کو کامل سمجھتا ہے تو اُس سے بیعت ہوتا ہے ناں لیکن سب کے مرشد کامل تو نہیں ہیں ناں اب جس طرح چور چور کو پہچانتا ہے اُسی طرح ولی کوولی پہچانتا ہے ایک لاہو ر کا چور اُس کونے میں بیٹھا دو پشاور کا چور اُس کونے میں بیٹھا دو جانتے نہیں ہیں اُنکی نظریں ٹکرائیں گی ناں وہ سمجھ جائیں گے یہ میرا پیٹی بھائی ہے اک نور والا آدمی ادھر بیٹھا دو اک اُدھر بیٹھا دو اُن کے دل ٹکرائیں گے ناں جب تمہارے دل میں اللہ کا نور آئے گا ناں پھر تم کیا کرنا سلطان صاحب ؒ پہ چلے جانا وہاں بھی نور یہاں بھی نور جب نور نور سے ٹکرائے گا رقت پیدا ہو جائے گی سمجھ جاؤ گے مرد کامل ہے ولی ہے اُس کے بعد تم پاکپتن شریف چلے جانا وہاں بھی اللہ ہے یہاں بھی اللہ ہے وہاں بھی ٹکرائے گا رقت پیدا ہو جائے گی سمجھ جاؤ گے کہ یہاں بھی ولی کامل ہے پھر تم اپنے مرشد کے پاس چلے جانا اگر مرشد کے پاس جانے سے وہی بات ہوتی ہے جو سلطان صاحب ؒ پہ ہوئی تھی اور پاکپتن شریف سے ہوئی تھی پھر تمہارا مرشد کامل ہی ہے اب یقین پختہ ہو گیا کہ میرا مرشدکامل ہے اب جان بھی جاتی ہے چلی جائے اُس مرشد کو نہ چھوڑنا پھر تم جیسے بھی ہو ا آپی لے سی ساراں ہو اب بار بار اُس کے پاس جانے سے کچھ بھی نہیں ہوتا تو پھر وہ کچھ بھی نہیں ہے ناں پھر تمہاری عمر ہی برباد ہو رہی ہے ناں کیونکہ تم نے اللہ تک نہیں پہنچنا تھا تمہارے اندر نے اللہ تک پہنچنا تھا اُس نے تمہارے اندر کو برباد کر دیا ناں وہ تو بہت بڑا قاتل ہے سولہ (16 ) مخلوقوں کا قاتل ہے جس طرح ایک آدمی نبی نہیں ہے نبوت کا دعویٰ کرتا ہے کافر کہتے ہو ناں اور ماننے والے کو بھی کافر کہتے ہو ناں اک ولی نہیں ولائیت کا دعویٰ کرتا ہے کافر نہیں کہیں گے لیکن کفر کے نزدیک پہنچ جاتا ہے اور اُس کے ماننے والے بھی کم بخت اور بے نصیب ہوتے ہیں اب ہمارے ہاں یہ ہوتا ہے اک تو ظاہری عبادت ہے دوسرا زیادہ زور سنتوں کے اوپر دیا جاتا ہے ہم سنتوں سے منحرف نہیں ہیں ہم بھی سنتیں پڑھتے ہیں سنتوں پہ عمل کرتے ہیں لیکن ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ سنتیں چیز کیا ہیں او پتہ تو لگے سنت چیز کیا ہے ہم آپ سے پوچھیں یہ چار رکعت سنت آپ کیوں پڑھتے ہیں آپ کہتے ہیں ہم حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی نقل کرتے ہیں بھئی یہ اُتری نہیں ناں وہ فرض نمازیں اُتریں یہ آپ کیوں پڑھتے ہیں کہ ہم حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی نقل کرتے ہیں ہم کہتے ہیں کسی کی نقل کرتے تھے اللہ تو نماز ہی نہیں پڑھتا پھر آپ کہتے ہیں یہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی ادائیں تھیں جو ہمارے لیے سنتیں بن گئیں یہی کہتے ہو ناں ہم کہتے ہیں ادا تب کام آتی ہے جب یار دیکھ رہا ہو بھئی یہ سرخی ،پوڈر تب کام آئے گا ناں کوئی یار دیکھنے والا ہو وہ کہتا ہے نہ تو عملوں کو دیکھتا ہوں نہ شکلوں کو دیکھتا ہوں میں تیرے قلبوں کو دیکھتا ہوں جب تمہارے قلب منور ہو جائیں گے پھر اُس وقت وہ تمہیں دیکھے گا اُس وقت ہو سکتا ہے اک سُنت کا ثواب سو شہیدوں کے برابر ہو اس وقت نہیں دیکھے گا جب دیکھے گا تب ناں یہ اسم ذات سے تمہارے سینے منور ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نناوے (99) نام ہیں اٹھانوے (98 )نام صفاتی ہیں اک نام اُس کا ذاتی ہے اک لاکھ چوبیس ہزار (124000 )بنی صفاتی اسماءوالے مل کر بھی اسم ذات والے کو نہیں پہنچ سکے وہ سارے مل کر بھی اسم ذات والے کو نہیں پہنچ سکے ۔

ہر بنی کو کوئی نا کوئی صفاتی اسم عطا ہوا موسیٰ ؑ یا رحمنٰ ،عیسیٰ ؑ یا قدوس ،سلمان ؑ یا وہاب ،داؤد ؑ یا ودود اور باقی نبی اپنے اولعزم مرشد کا کلمہ پڑ ھتے ایک دن موسیٰ ؑ نے کہا اے اللہ دیدار دے جواب آیا تاب نہیں ہے کہنے لگے کسی میں تاب ہو گی جواب آیا اک میرا حبیب صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور اُس کی اُمت موسیٰ ؑ کو جلال آگیا میں نبی ہو کے اُمتی کے برابر نہیں جلوہ دے دیکھی جائے گی جلوہ پڑا موسیٰ ؑ بیہوش ہو گئے اب کیا وجہ ہے کہ موسیٰ ؑ اس دُنیا میں کوہ طور پہ بیہوش ہوئے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سامنے جا کے مسکرا رہے ہیں کیا وجہ ہے موسیٰ ؑ کے جسم میں یا رحمٰن یا صفاتی نور تھا وہ ذات کی تاب نہ لا سکا حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک میں اسم ذات کا ذاتی نور تھا ذات ،ذات کے سامنے مسکرایا اور حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے طفیل وہ اسم اس اُمت کو ملا تب اس کو فضیلت ہوئی اب تم خود ہی منحرف ہو اُمتی سے ۔ایک حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن ا متیوں کی پہچان نور سے ہو گی کیونکہ نور نکلا تب بہتر (72 ) فرقوں میں تقسیم ہوئے ناں تم اپنے آپ کو اُمتی کیوں نہیں کہتے تم میں نور ہی نہیں ہے تب اپنے آپ کو اُمتی نہیں کہتے نہ سنی ،شعیہ،وہابی کی شان کوئی نہیں ہے اُمتی کی شان ہے اور نبیوں نے اس اُمت میں آنے کی خواہش کری اک دن عیسیٰ ؑ بول اُٹھے اے اللہ مجھے بڑا شوق ہے تجھے دیکھنے کا ،بڑی محبت ہے جلوہ دکھا اللہ نے فرمایا تو نے موسیٰ ؑ کا حال نہیں دیکھا وہ سہم گئے حال دیکھا ہو ا تھا ناں اچھا پھر تیرا دیدار کیسے ہو گا اس کے لئے میرے حبیب صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو ہو گا یا اُس کے اُمتی کو ہو گا مجھے اُمتی بنانا اب عیسیٰ ؑ کو اللہ نے مارا نہیں ہے اُن کی روح قبض نہیں کری ان کو آسمان پہ اُٹھا لیا اُن کی خواہش کے مطابق پھر جب مہدی ؑ آئیں گے عیسیٰ ؑ اُمتی بنیں گے اُن سے بیعت ہونگے اور نبی کو بیعت ہونے کی کیا ضرورت ہے صرف دیدار خدا کیلئے یہ جو شرف بخشا دیدار کا اک اُمت کو بخشا اور اُمت تو اس سے محروم ہے یا تو پھر جلالت سے ڈرتی ہو اب دوائی کا پتہ بتا دیا ہے دوائی کی تعریف بھی کر دو جب تک دوائی اندر نہ جائے بتا بھی دیا حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے عشق اللہ سے عشق جب تک نور اندر نہ جائےعشق کیسے ہو گا اب اُس کو نور کو اندر ڈالنے کا طریقہ کہ وہ نور اندر کیسے آتا ہے اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ روزانہ(66) چھیاسٹھ مرتبہ اس میں کوئی نہیں ہے سُنی ہے،شیعہ ہے،وہابی ہے کوئی بھی ہے ہاں کوئی بھی ہے جس کے اندر نور آجائے گا تو وہ نور ہو جائے گا بس (66) چھیاسٹھ مرتبہ روزانہ سفید کاغذ پر کاپی پنسل سے اللہ لکھنا ہے آپ تھوڑے دن لکھیں گے ایک دن ایسا ہو گا جو آپ کاغذ پر لکھتے تھے وہ آپ کی آنکھوں پہ تیرنا شروع ہو جائے گا جب آنکھوں پہ تیرنا شروع ہو جائے گا پھر لکھنا بند کر دیں آنکھوں سے اُسکو دل کے اوپر اتارنے کی کوشش کریں اگر اللہ نے چاہا جو آپ کاغذپہ لکھتے تھے وہ دل پہ لکھا نظر آئے گا اُس وقت دل کی دھڑکنیں تیز ہو جائیں گی ٹک،ٹک ۔اُس ٹک ،ٹک کے ساتھ پھر اللہ ھو ملائیں یہ پولیس کی مہر لگی ہوئی پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں پولیس والا وہ اللہ لکھا گیا اللہ والا اب وہ کالا سا لفظ جو ہے ناں وہ یہاں درج ہو گا پھر جوں ،جوں اللہ اللہ ہوتا جائے گا اللہ اللہ کا رگڑا لگے گا اُس نور سے وہ سفید ہو نا شروع ہو جائے گا پھر جب وہ سفید ہو جائے گا اک دن اُس نور کی وجہ سے وہ سورج کی طرح چمک رہا ہو گا جب سورج کی طرح چمک ہو جائے اب تو بے خوف ہو جانا اب تو اگر مر بھی گیا ناں بڑی شان و شوکت سے جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُن کو جراّ ت نہیں ہو گی کہ وہ تم سے دوسرا سوال پوچھیں وہ کہیں گے اسلام و علیکم ہم تو جا رہے ہیں تو جان اور تیرا رب جانے ہمیں تو شرم آتی ہے تجھ سے کیا پوچھیں اسی کیلئے غوث پاک ؓ نے فرمایا ستر(70 ) اللہ سے وعدہ لیا ہے کہ میرا مرید ایمان کے بغیر نہیں جائے گا آپ ؓ نے فرمایا میرا مرید کون ہو گا فرمایا میرا مرید وہ ہو گا جو ذاکر ہو گا فرمایا میں ذاکر اُس کو مانتا ہوں جس کا دل اللہ اللہ کرے ورنہ زبانی طوطا بھی اللہ اللہ کر سکتا ہے کیا طوطا اللہ اللہ کرے تو وہ غوث پاک ؓ کا مرید ہوجائے گا ایک حدیث شریف میں ہے کہ جس کا مرتے وقت زبان پہ کلمہ ہو گا بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائے گا آدمی کہتا ہے میں کلمہ تو مجھے آتا ہے پڑھ لوں گا یہ نہیں پتہ کہ مرنے سے پہلے ہی زبان تیری بند ہو جائے گی وہاں شرط ہے مر بھی رہا ہو اور کلمہ بھی پڑھ رہا ہو ایک بزرگ گزرے ہیں حضرت امام رازی ؒ وہ کلمہ انہوں نے اتنا رٹا ہوا تھا کہ وہ سوتے بھی رہتے ناں وہ زبان اُن کی کلمہ پڑھتی رہتی لیکن جب وہ باتیں کرتے ناں تو زبان اس طرف لگ جاتی مرنے کا وقت آگیا اب شیطان نے سوچا ہے تو یہ جنتی ہے بغیر حساب کتاب کے جنت میں چلے جائیں گے چلو ان کو الجھائیں تو ان کا حساب کتاب تو ہو ناں اُس نے آکے پوچھا بتاؤ تمہارا ،تم نے رب کو کیسے مانا انہوں نے اک دلیل دی نہیں یہ غلط ہے کوئی اور دلیل نناوے (99 )دلیلیں دیں شیطان کا مقصد ہے کہ کلمے میں ان کی جان نہ نکلے دلیلوں میں ان کی جان نکل جائے اُدھر حضرت نجم الکبریٰ ؒ دیکھ رہے تھے یہ ایک دفعہ اُن کے پاس گئے تھے پھر کسی بات پہ بدظن ہو گئے نہ گئے انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ تو آیا تھا اُسی کی لاج رکھ لیتے ہیں اور دور سے پانی کا چھینٹا مارا اور کہا کہ اے ناداں تو کہہ میں نے بغیر دلیل کو اللہ کو مانا ہے اور کلمہ پڑھ پھر تین (3 )دفعہ تقرار کری اور روح پرواز کر گئی ۔شیطان نے ایسے لوگوں کو بھی نہیں چھوڑا عام آدمی کیسے کہہ سکتا ہے کہ میں کلمہ پڑھ لوں گا اب غوث پاک ؓ نے کیسے کہا کہ میرا مرید بغیر ایمان کے نہیں جائے گا اُن کے مرید اُن کے دل اللہ اللہ کر رہے تھے جن کے دلوں نے اُن کے زمانے میں اللہ اللہ کر لی وہ اُن کے اصلی مرید اُن کے زمانے کے بعد کسی بھی طریقے سے دل نے اللہ اللہ کر لی وہ غوث پاک ؓ کے داخلی مرید ہو جاتے ہیں یہ ذاکر قلبی مر بھی رہے تھے اور اُ ن کے دل اللہ اللہ کر بھی رہے تھے حتیٰ کہ یہ مر بھی گئے اور ڈیڑھ سیکنڈ تک اللہ اللہ ہوتی بھی رہی کیونکہ پہلے جان نکلتی ہے تو بعد میں دل کی دھڑکن بند ہوتی ہے رات کو سونے لگیں اُنگلی کو قلم خیال کریں دل کے اوپر تصور سے اللہ لکھتے لکھتے سو جائیں اسی میں نیند آجائے آدھی رات کے وقت اس دُنیا میں خاص فرشتے آتے ہیں ہر آدمی کے بارے میں کراما ً کاتبین سے پوچھتے ہیں بتاؤ اس کا آخری عمل کیا تھا جب یہ سونے لگا تھا صبح پتہ نہیں اس کی جان ہے یا نہیں کہتے ہیں یہ عشاءکی نماز پڑھ کے سویا تھا دُعا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اسکو خوش رکھے یہ درود شریف پڑھ کے سویا تھا اللہ تعالیٰ اس کو بھی خوش رکھے یہ آیت ُالکرسی پڑھ کے سویا تھا اچھا آیت ُالکرسی کی لاج رکھنا اور اسکی حفاظت کرنا اور یہ اللہ ھو پڑھتے پڑھتے اُسی کی مستی میں سو گیا تھا کہتے ہیں خاموش آہستہ بات کرو شاید اُسکی یاد میں آنکھ لگ گئی ہو ۔ہوسکتا ہے ساری رات تمہاری اللہ تعالیٰ عبادت میں شامل کر دے کیونکہ سوتے وقت جو نیت ہوتی ہے خواب میں بھی وہی کچھ ہوتا ہے ناں وہ اللہ ہو پڑھتے پڑھتے سو گئے اور خواب میں بھی اللہ ھو کرتے رہے۔

 ہم چکوال میں کنٹین کرتے تھے وہاں کنڈیکٹر کبھی کبھی کنٹین میں سو جاتے تو دیکھتے خراٹے بھر رہے ہیں بڑی گہری نیند ہے اُن کو خراٹے بھر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں لاہور ،پنڈی ،لاہور،پنڈی ،لاہور،پنڈی کیونکہ جب وہ لاہور جاتے ہیں تو خیال پنڈی میں پنڈی ہوتے تو خیال لاہور میں اور خواب میں بھی وہ لاہور پنڈی،لاہور پنڈی کرتے رہتے ناں صبح اُٹھیں وضو ہے یا نہیں پرواہ نہیں دل کا وضو پانی سے نہیں ہوتا سارا دن آپ پانی میں پڑے رہیں پانی تو دل میں جائے گا نہیں آخر دل کا وضو کیسے ہو گا جب وہ اللہ ھو کا رگڑا لگے گا ناں وہ دل کو دھوئے گا ناں اُس کو بولتے ہیں وضو کر لے شوق شراباں دا اور وہ وضو گھڑی گھڑی نہیں کرتے ہیں زندگی میں اک بار ہی کافی ہے ذکر خفی کرتے رہیں جب تک دل کی دھڑکن سے نہیں ملتا اُس کو ذکر خفی کہتے ہیں جب وہ دل کی دھڑکنیں اللہ اللہ پکارنا شروع ہو تی ہیں اُس کو ذکر قلبی کہتے ہیں ناں وہ تمہارا طریقت کا پہلا قدم ہے شریعت کا تعلق اس زبان سے ہے اور طریقت کا تعلق اس دل سے ہے اور جب وہ دل اللہ اللہ کرتے کرتے اللہ تک پہنچ جاتا ہے تو پھر وہ حقیقت ہے ناں حقیقت کا تعلق ان نظروں سے ہے پھر جب اللہ تعالیٰ اُس کو کچھ نواز دیتا ہے تو وہ معرفت ہے ناں ہمارے علماءکہتے ہیں کہ سب کچھ شریعت میں ہے طریقت بھی،حقیقت بھی،معرفت بھی سب کچھ شریعت میں ہے ہمارے کو لاڑکانہ میں ایک مفتی صاحب ملے وہ کہنے لگے تو یوں کہتا ہے کہ یہ جدا جدا ہیں یہ تو خاصوں میں باتیں کرنے کی ہوتی ہیں تو عاموں میں کیوں باتیں کر رہا ہے بھئی اُنہیں تو یہی کہہ کہ سب کچھ شریعت میں ہے یہ سب خاصوں ۔۔۔۔ میں کہا کر تو ہم نے بولا ہم ناروے میں گئے وہاں سمندر میں ایک تختی لگی ہوئی ہے اس کے آگے دُنیا ای کوئی نئیں اگر کوئی دُنیا کا مہم جو ہو گا وہاں جا کے ساکن ہو جائے گا آگے تو دُنیا ای کوئی نہیں ہے اگر کوئی دین کا اللہ کا عاشق بننا چاہے گا تو دیکھے گا کہ شریعت کے آگے کچھ بھی نہیں ہے تو شریعت میں ہی پھنسا رہے گا ناں ہم بتاتے ہیں کہ شریعت کے آگے طریقت ہے اور طریقت کا تعلق اس دل سے ہے تم کہتے ہو یہ اسم جلالی ہے لیکن جب یہ عطا ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جن لوگوں نے بغیر عطا کے اسکو حاصل کرنے کی کوشش کر لی واقعی وہ لوگ پاگل ہو گئے ،جل گئے اور جن کو اللہ تعالیٰ نے عطا کر دیا وہ تو کہتے ہیں ہم چوبیس (24)گھنٹے اللہ اللہ کرتے ہیں ہمیں تو ذرا جلال نہیں آتا پھر بھی کچھ لوگ جلالی ہوتے ہیں کچھ جمالی ہوتے ہیں اگر ذکر کے دوران غصہ آجائے تو درود شریف پڑھیں وہ اسکوٹھنڈا کر دے گا پھر غصہ آتا ہے پھر درود شریف پڑھیں وہ اسکو ٹھنڈا کر دے گا اب بہت سے لوگ ہیں جن کے دل کی دھڑکنیں واضح ہیں وہ اس کے ساتھ اللہ اللہ ملا لیں لیکن جن کی دھڑکنیں واضح نہیں ہیں وہ کیا کریں اُن کے بھی طریقے ہیں لال شہباز قلندر ؒ وہاں لوگ جاتے وہ کہتے چلو ناچیں لوگ ناچتے کیوں ناچتے ؟جب خوب ناچتے اُن کو آج بھی وہ دھمال موجود ہے جب اُن کے دل دھڑکنا شروع ہو جاتے کہتے اب ناچ کو چھوڑو اب اُسی دل کی دھڑکن کے ساتھ اللہ اللہ ملاؤ ہم نے خود دیکھا وہاں کچھ لوگ دھمال کر رہے تھے دو (2 ) آدمی بیہوش ہو کر گر پڑے وہ کافی دیر ناچتے رہے اب پانی ڈالنے کیلئے میں بھی تھا دو تین آدمی اور بھی اب اُن کی زبان میں پانی ڈال رہے ہیں ایک آدمی تھا جس کی زبان بالکل بند تھی ہم پانی ڈال رہے تھے وہ دانت بھی اندر تھے آپس میں جڑے ہوئے تھے اُس کے اندر سے آواز آرہی تھی اُس کے دل سے آواز آرہی تھی دما دم مست قلندر ،دمادم مست قلندر آج وہ دمادم مست قلندر پہ دھمال ڈالتے ہیں اُس وقت وہ اللہ ھو پہ دھمال ڈالتے تھے آج اُن کے دلوں سے دمادم مست قلندر کی آواز آتی ہے اُس وقت اللہ ھو کی آوازیں آتی تھیں امیر کلال ؒ کے پاس لوگ جاتے ایک بڑے بزرگ گزر ے ہیں وہ کہتے چلو کبڈی کھیلیں لوگ کہتے ہم فیض کیلئے آئے فرماتے ہمارا فیض کبڈی میں ہے کبڈی کھیلیں سے بہاؤ الدین نقشبند ؒ بہت بڑے ولی کامل گزرے ہیں اُس وقت قہ بہت بڑے عالم تھے اُن سے فیض لینے کیلئے وہاں پہنچے پوچھا امیر کلال ؒ کہاں ہیں لوگوں نے پوچھا وہ کبڈی کھیل رہے ہیں اُنہوں نے کہا کہ ولی تو کبڈی نہیں کھیلتے جا کے دیکھا واقعی کبڈی کھیل رہے ہیں واپس لوٹنے لگے زمین نے روک لیا بعد میں وہی بہاؤ الدین نقشبندؒ اُن کے ساتھ کبڈی کھیلے اور اتنے بڑے ولی بنے کبڈی میں کیا راز تھا وہ خوب دوڑاتے دل کی دھڑکنیں اُبھرتیں کہتے اب کبڈی کو چھوڑو اب دھڑکنوں کے ساتھ اللہ اللہ ملاؤ اب یہ دونوں چیزیں ذرا معیوب سمجھی جاتی ہیں اب ایک اور طریقہ ہے جس کو ہر دل قبول کر لیتا ہے جہاں بیٹھ کر یہ ضربیں لگاتے ہیں اللہ ھو ۔اللہ ھو ۔اللہ ھو کی ضربیں لگائیں جب وہ ضربیں لگاتے ہیں تو وہی کبڈی والی حال،حالت ہو جاتی ہے اُس وقت جب دل دھڑکے اس دھڑکن کے ساتھ پھر اللہ ھو ملائیں روزانہ اگر آپ یہ مشق کریں گے ایک دن پھر آپ کے دل کی دھڑکنیں اللہ ھو میں تبدیل ہو جائیں گیں یہ اسکا طریقہ ہے اب اسکی اجازت بھی ہوتی ہے اجازلت کیا ہوتی ہے آپ یہاں تہجد پڑھتے رہیں کام تو بڑا اچھا کر رہے ہیں ناں لیکن شیطان ایک کونے پہ کھڑا ہنستا رہتا ہے کیوں؟تھکتا رہ تیرا دل تو میرے ہاتھ میں ہے ناں جب جی چاہوں گا موڑ دوں گا اور تمہیں ایک دن شکایت ہو گی میں تہجد گزار تھا اب میں فرض نماز بھی نہیں پڑھ سکتا پتہ نہیں مجھے کیا ہو گیا وہ شیطان نے دل موڑ دیا ناں جب کوئی شخص اس دل میں اللہ کا نور بسانا چاہتا ہے شیطان شوچتا ہے اگر اس کے اندر یہ اللہ چلا گیا یہ تو ساری عمر کیلئے میرے ہاتھوں سے گیا با یزید بسطامی ؒ جنگل میں گئے جب ورد وظائف کرتے شیطان دور سے کھڑا دیکھتا رہتا لیکن جب وہ اللہ ھو کی ضربیں لگاتے اللہ کو اندر بسانے کی کوشش کرتے تو شیطان قریب آکے اُن کو ستاتا ایک دن بڑا غصہ آیا ڈنڈا لے کے اُس کے پیچھے بھاگے آج اسکو ماروں گا آواز آئی اے بایزید ؒ یہ ڈنڈوں سے نہیں مرتا یہ اللہ کے نور سے جلتا ہے تو اتنا ذکر کر ،اتنا ذکر کر کہ نور العلیٰ نور ہو جائے اور جب بایزید بسطامی ؒ نور العلیٰ نور ہو گئے تو شہر بسطام سے جادو گر ہی چلے گئے اب ہمارا عمل اثر نہیں کرتا اُس کو پتہ ہے اس ذکوریت کے ذریعے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے دلوں پہ اللہ لکھا جائے گا قرآن مجید فرماتا ہے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جن کے دلوں پہ ایمان لکھ دیا اللہ ایمان ہی ہے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ اللہ کرتے رہتے ہیں اُن کے دل پہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا روضہ آجاتا ہے کیونکہ وہ خدا بھی نہیں اور جُدا بھی نہیں جب حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا روضہ آجاتا ہے پھر وہ کہیں بھی ہے مدینے میں ہے پھر کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جن کے دلوں پہ خانہ کعبہ آجاتا ہے ایک دن مجدد صاحب ؒ نے دیکھا کہ باطنی مخلوق اُنکو سجدہ کر رہی ہے یہ جن اور فرشتے بڑے پریشان ہوئے کہ یہ استدراج تو نہیں ہو گیا کیونکہ سجدہ تو انسان کو ۔۔۔۔کسی اور کو جائز ہی نہیں ہے آواز آئی گھبراؤ نہیں یہ تمہیں سجدہ نہیں کر رہے وہ جو تمہارے اندر خانہ کعبہ بس گیا ہے یہ اُس کو سجدہ کر رہے ہیں جب رابعہ بصریؒ کے دل پہ خانہ کعبہ آیا اُس کعبے کو حکم ہوا جا جاکے اُس کا طواف کر او تیری بنیاد ابراہیم ؑ نے رکھی ہے اور اُس کو میں نے اپنے نور سے بنایا ہے اسی بات کے اوپر شاہ منصور ؒ کے اوپر فتویٰ لگا تھا ناں وہ کہتے تھے اُس کعبے کی طرف کیوں جاتا ہے مزہ تو یہ ہے وہ کعبہ تیرے پاس آئے کہ وہ کعبہ تیرے پاس آئے ناں اور مولانا روم ؒ نے یہ کہا ہے کہ اک دل ایسا دل کہ جس کے اوپر کعبہ آجائے وہ اُن ہزار کعبوں سے بہتر ہے اُس کی بنیاد ابراہیم ؑ نے رکھی اور یہ اللہ تعالیٰ کے انوار کی گزر گاہ ہے ہر آدمی کہتا ہے حبل الورید اللہ تعالیٰ میری شہ رگ کے نزدیک ہے ہر آدمی کہتا ہے علامہ اقبال ؒ پہ بھی ایسی بات پہ فتویٰ لگا تھا وہ کہتے تھے تو بھی ہر جائی ہے ہم شراب پیتے ہیں کچھ بھی برائی کرتے ہیں تو حبل الورید ہے تو بھی ہمارے ساتھ ہے پھر ہمارا حساب کتاب کیا لے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھ لینا اگر اللہ اللہ نا ہوئی تو جو پانچ سات دن محنت کری اُس کا ثواب تو مل جائے گا ناں اگر آپ پرکھنا چاہیں کہ مجھے فیض کس سے ہے ،کس سے ہوا جب آپ تصور سے انگلی سے اللہ لکھنے کی کوشش کریں گے اگر آپ کا مرشد ہے آپ اُس کی طرف توجہ دیں کہ میرا مرشد میری انگلی سے میرے دل پہ اللہ لکھ رہا ہے اگر آپ کا مرشد نہیں ہے تو جس دربار سے آپ کو محبت ہے اُس دربار والے کو تصور میں لائیں کہ وہ دربار والا میری مدد کر رہا ہے اس وقت میرے نزدیک اس سے بڑا اور اہم کا م اور کوئی نہیں ہے اگر کسی دربار سے بھی محبت نہیں ہے تو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے روضے کو ہی لے آئیں کہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا روضہ جو ہے ناں وہ میری مدد کر رہا ہے اُس وقت آپ کے سامنے جو بھی آجائے وہی آپ کا مرشد ہے کیونکہ شخصیت کو پانا مقصد تو نہیں ہے ناں مقصد تو اللہ کو پانا ہے ناں یہاں کہتے ہیں چشتی ہے ،نقشبندی ہے ،قادری ہے ،سہروردی ہے لیکن یقین کرو وہاں کہنا جرم ہے وہاں تو سارے اللہ کے دوست ہیں وہاں تو سارے ایک ہی جسم کے بال ہیں اک کو کھینچو سب کو تکلیف ہو گی اب یہ وسیلے ہیں نقشبندی، چشتی، قادری، سہروردی یہ وسیلے ہیں اگر تمہارے کو ایک بس یہاں سے لاہور نہیں پہنچاتی وسیلہ ہے ناں تو دوسری پکڑ لو ناں وہ نہیں پہنچاتی تیسری ۔تمہیں تو لاہو رپہنچنا ہے ناں یہ تو وسیلے ہیں ناں لیکن اگر تم کو کوئی وسیلہ پہنچا رہا ہے اک گاڑی چل رہی ہے تم کو پہنچا رہی ہے پھر اُس سے اُترنا جرم ہے ناںبھئ تم جا رہے ہو تو پھر اُس سے کیوں اترے ہاں اگر نہیں پہنچاتی ساکت ہے تو پھر تم دوسری گاڑی پر سوار ہو سکتے ہو اس کیلئے اگر آپ ذکر لینا چاہیں تو ذکر لیں اور اپنی قسمت آزمائیں ہم اُس وقت تک تمہارا ساتھ دیں گے جب تک تم روشن ضمیر نہیں ہو جاتے پھر جب روشن ضمیر ہو گئے تو پھر اگر بیعت ہو گی تو ولی کامل کی ہو گی ناں اُس وقت ہمارا مقصد پورا ہو جائے گا ہم نے جو باتیں کری اس سے کوئی ذکر لے یا نہ لے ہمیں پرواہ نہیں ہے کوئی دوزخ میں جائے یا بہشت میں جائے ہمیں کیا پرواہ ہے ہم کوئی ٹھیکیدار تو نہیں ہیں ناں اگر پرواہ ہو گی تو نبی کی بنی کو ہو گی ناں جس کی تم اُمت ہو بھئی پرواہ تو اُس کو ہو گی جس کی تم اُمت ہو ہم الہ اور تمہارے درمیان ایجنٹ ہیں جس طرح گاڑی دینے والا اور تو لینے والااور بیچ میں ایجنٹ باتیں کرتا ہے اُس کو کمیشن مل جاتاہے ہمیں کیا کمیشن ملے گا اگر تمہارے دلوں نے اللہ اللہ کرنی شروع کر دی اُس اللہ اللہ کا ہم کو بھی کمیشن مل جائے گا اب ذکر لینے والے آئیں ۔

*****************************

اگر آپ بھی ذکر کی لینا چاہتے ہیں تو امام مہدی ریاض احمد گوھرشاہی کی شبیہ مبارک کوپورے چاند پر دیکھتے ہوئے
 

تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔

 

© 1998-2011 All Faith Spiritual Movement Intl'
admin@theallfaith.com