|
SELECT YOUR LANGUAGE: ENGLISH or INDONESIAN |
||
![]() |
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے |
![]() |
|
اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر) |
||
|
مرکزی صفحہ تعارف حضرت عیسی کرشمہ قدرت الحجرالأسود تعلیمات دینِ الٰہی پروگرام تصانیف ویڈیو رابطہ |
||
|
حضور قبلہء عالم سیدنا سرکار ریاض احمد گوھر شاہی
مدظلہ العالی ادھر آنے کا مقصد بتا دیں، کہ جگہ جگہ ہم کیوں جاتے ہیں؟ ایک تو اللہ رسول کا حکم ہے، ایک تو وہ بندے ہیں جنہوں نے اوپر دنیا ہی مانگی، ان کے پاس جانا ہی بیکار ہے۔. جب اللہ تعالیٰ نے روحیں بنائیں نا تو سب سے پوچھا ’’الست بربکم‘‘ کیا تم مجھے اپنا رب تسلیم کرتے ہو؟ سب نے کہا ’’قالو بلی‘‘ (کہا ہاں)، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کے لذات دکھائے، بہت سی روحیں ان لذات کی طرف لپکیں، وہ لذات ان کے مقدر میں لکھ دیئے گئے۔ بہت سی روحیں وہ اس طرف نہیں لپکیں، اس کے جلوے کو دیکھتی رہیں، جب وہ اس کے جلوے کو دیکھتی رہیں نا تو پھر اللہ ان سے محبت کرنے لگا اور وہ اللہ سے محبت کرنے لگیں۔اب وہ روحیں جنہوں نے دنیا مانگی تھی ان کو تو دنیا مل گئی، انہوں نے عیاشی مانگی تھی ان کو عیاشی مل گئی، اب جو وہ لوگ بڈھے ہونے لگے، ساری عمر انہوں نے عیاشی میں گزاری، جب بڈھے ہو گئے تو انہوں نے سوچا اب تو مر جائیں گے، عیاشی کے قابل نہیں رہے آگے کیسے عیاشی کریں گے، تو انہوں نے تسبیح لے لی اور نمازیں پڑھنے لگ گئے تاکہ آگے بھی تو حوریں ملیں نا، اللہ کیلئے نہیں، اپنی عیاشی کیلئے، انہوں نے عبادت کرنا شروع کر دی کہ آگے حوریں ملیں گی جنت ملے گی۔ اب جو دوسری روحیں تھیں جن سے اللہ محبت کرتا تھا وہ بھی اس دنیا میں آگئیں، وہ کوئی مسلم کے گھر میں خوئی کافر کے گھر میں آگئیں، کوئی امریکہ میں کوئی جاپان میں۔ اب ہم ان روحوں کو ڈھونڈ رہے ہیں۔اب جب وہ روحیں
آئیں نا تو اندر (جسم میں) آئیں اندر تالا لگ گیا (جسم میں قید ہو گئیں)۔
اب، جب اندر تالا لگ گیا تو انہیں کوئی پتہ نہیں، اندر ساکت ہیں، پھر ان
کو جگانا پڑتا ہے، انہوں نے اللہ سے محبت کی، ان کے اندر اللہ اللہ
پہنچانا پڑتا ہے، جب ان کے اندر اللہ اللہ کی آوازیں گونجتی ہیں تو پھر
وہ بھی اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتی ہیں، جب وہ روحیں اللہ اللہ کرنا
شروع کر دیتی ہیں تو ان کو پھر وہ یاد آجاتا ہے کہ ہم کیا تھیں، ہم تو
اللہ سے محبت کرنیوالی تھیں، پھر بات ان کو دوبارہ حاصل ہو جاتی ہے اس
دنیا میں۔ اب وہی روح اللہ اللہ کرے گی نا جو اللہ کو چاہتی تھی، جس نے
اللہ کو انہیں چاہا وہ ہزاروں کوشش بھی کرے تو اس کے اندر اللہ اللہ ہو
ہی نہیں سکتی، اب روح تک اللہ اللہ پہنچایا کیسے جاتا ہے؟ اب جو مسلم کے
گھر میں آئیں ان میں سے بھی چند کو وہ راز ملا کہ اندر کس طرح اللہ جائے،
مسلم میں سے بھی چند کو راز ملا تھا اور غیر مسلم کو تو راز ملا ہی نہیں
تھا۔ اب ایک اللہ کا نام
لیتے ہیں، تسبیح سے اللہ اللہ۔ یہ تیری روح اللہ اللہ نہیں کر رہی، یہ تو
کر رہا ہے، بار سے کر رہا ہے اندر سے نہیں کر رہا، اس اللہ اللہ کو اندر
پہنچانا پڑتا ہے۔ ایک یہ تیری (ظاہری) تسبیح ہے ایک وہ (دل
ہے) جو اندر لگی ہوئی ہے کرتی ہے ٹک ٹک ٹک، اس ٹک ٹک کے ساتھ اللہ اللہ
ملاتے ہیں، اللہ ھو، اللہ ھو، اب اللہ ہو تسبیح کے بغیر بھی کیا جا سکتا
ہے، تسبیح کی کیا ضرورت ہے؟ گننے کی کیا ضرورت ہے؟ لگا رہنا ہے، دن رات
اللہ اللہ کرتے رہنا ہے پھر تسبیح کی کیا ضرورت ہے؟ جس طرح پتھر پتھر سے
ٹکراتا ہے، شلہ اٹھتا ہے پانی پانی سے ٹکراتا ہے بجلی بنتی ہے، اللہ اللہ
سے ٹکراتا ہے نور بنتا ہے، وہ اس نور کیلئے تسبیح پڑھتے ہیں۔ ہم نے حیدر آباد میں ایک عورت دیکھی تھی يا نور السماوات والارض کی تسبیح کرتی تھی تو اس کی عاملہ بن گئی، تو جمعرات کے دن لوگوں کو بلاتی، جب اندھیرا ہوتا تو اندھیرے میں وہ تسبیح پڑھتی تو لائٹیں (روشنی) دور سے نظر آتیں کہ لائٹیں نکل رہی ہیں، تو تجربے کے طور پر، آدمی تو شکی ہوتا ہے نا۔ کہتے کہ اس نے دانوں میں کچھ لگایا ہو گا تو دوسرا آدمی جب س کو رول کرتا تو کچھ بھی نہ ہوتا، اس کو کہتے کہ اب تو یہ آیت اس کے ساتھ نہ پڑھ ویسے گھما، ویسے رول کرتی تو کچھ نہ ہوتا، جب ایت پڑھتی تو س میں چمک آجاتی، اس کا مطلب ہے کہ یہ نور بنانے کیلئے تسبیح کے ساتھ ساتھ اللہ کرتے ہیں تاکہ اس ٹکراؤ سے نور پیدا ہو، یہ (ہاتھوں والی تسبیح سے) نور بنتا ضرور ہے لیکن یہ باہر ہے، اندر تو نہیں جاتا نا؟ یہ اگر کام آیا بھی تو یوم محشر میں کام آئیگا نا، ابھی تمہارے کام نہیں آرہا نا، جب اندر کی تسبیح سے ٹک ٹک کے ساتھ اللہ اللہ ملاتے ہیں تو وہ جو نور بنتا ہے وہ باہر نہیں جاتا کیونکہ اس ٹک ٹک کا تعلق ہی خون سے ہے تو وہ سیدھا خون میں جاتا ہے۔ یہ سائنس ہے پانی پانی سے تکراتا ہے تو بجلی بنتی ہے۔ یہ جو تمہارے اندر خون جو ہے نا یہ خون پانی سے زیادہ طاقت رکھتا ہے۔ جب خون خون سے ٹکراتا ہے تو بجلی بنتی ہے، تمہارے اندر ڈیڑھ واٹ بجلی موجود ہے۔کوئی بھی جاندار اس میں بجلی ہوتی ہے، یہ تک تک سے کون کے ٹکراؤ سے بجلی بنتی ہے۔ اب اس ٹک ٹک کے ساتھ جب اللہ اللہ ملا، تو پھر نور بننا شروع ہو گیا نا، اس خون میں مکس ہو گیا نا اللہ اللہ، جب اللہ اللہ خون میں گیا تو نس نس میں چلا گیا نا کیونکہ خون کا تعلق دل سے اور (س طرح) دل کا تعلق نس نس سے ہے نا۔ حدیث شریف میں ہے کہ شیطان تمہاری نسوں میں دوڑتا ہے۔جب نس نس میں اللہ
اللہ گیا، تو شیطان تو چلا گیا، وہ تو نکلا نا؟ پھر وہ اللہ اللہ کا نور
اندر چلا جاتا ہے، روحوں تک چلا جاتا ہے، جب روحوں تک جاتا ہے تو پھر وہ
روحیں بیدار ہو کر اللہ اللہ شروع کر دیتی ہیں، پھر تم سوتے رہنا وہ اللہ
اللہ کرتی رہیں گی۔ تم کو نیند آتی ہے ان کو تو نیند نہیں آتی۔ تمہارا
کاروبار ہے، بچے ہیں اس کا تو کاروبار بچے نہیں ہیں نا۔ اس کا کاروبار ہی
صرف اللہ اللہ ہے۔ وہ باشعور ہے، یہ جو حساب کتاب قبر مین ہو گا یہ روح
سے حساب کتاب ہو گا نا، اس میں شعور ہے تو تبھی اس سے حساب کتاب ہو گا نا؟
اگر وہ سوال کا جواب دے سکے گی تو اللہ اللہ نہیں کر سکتی؟ وہ کہتے ہیں کہ ایک دن کسی کو پیار سے دیکھ لے تو چالیس سال اس کا اثر رہتا ہےجب وہ دیکھتا ہے تو پھر محبت بھی ختم ہو جاتی ہے اور عشق آجاتا ہے، پھر میں تیرا اور تو میرا۔اس وقت علامہ اقبال
نے فرمایا۔
گر ہو عشق تو کفر بھی ہے
مسلمانی پھر فرماتے ہیں۔
گر نہ ہو عشق تو مسلم بھی ہیں کافر و زندیق اب یہ چیزیں خاص میں تھیں، عام نہیں تھیں، یہ ولی لوگ کیا کرتے تھے جو بہت ان کے قریب ہو جاتے ہیں، عبادت کے ذریعے یا خدمت کے ذریعے، کسی طریقے سے جو ان کے زیادہ قریب ہو جاتے ہیں یہ ان کو راز بتاتے ہیں، ان کی دو طرح کی بیعت ہوا کرتی تھی، سنا ہوا ہے، ایک عام بیعت ایک خاص بیعت۔ عام بیعت والوں کو وہ یہ چیز نہیں بتاتے تھے۔ کہتے تھے خاصوں کی بات عاموں میں نہیں کرنی کھیر پکا کرے کتوں کے آگے نہیں دھرنی۔ عام بیعت میں شریعت تھی، نماز روزہ، یہ چیزیں تھیں بس، اور خاص بیعت میں یہ سلسلہ تھا اندر کا۔ اس (عام بیعت) سے بہت ہوا تو مولوی بن گیا، اور اس (اندر والے سلسلے) سے اللہ کا ولی بن گیا، دوست بن گیا، جو اللہ کے دوست بنے نا وہ اس چیز (اندر والے سلسلے) سے بنے نا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اس کو عام کر دیا ہے۔جو بھی ہے، نماز
پڑھتا ہے یا نہیں پڑھتا ہے، داڑھی ہے یا نہیں ہے، چھوٹا ہے یا بڑا ہے اس
کو سکھا دو طریقہ بتا دو آگے جس کو ہم چاہیں گے اس کو چن لیں گے، اب
تمہارے قلب ہم جاری نہیں کر سکتے ہم تم کو بتا سکتے ہیں کہ جس کو وہ چاہے
گا اس کے اندر سے اللہ اللہ شروع ہو جائیگی۔ جب اس کے اندر سے اللہ اللہ
شروع ہو جائیگی ہم سمجھ جائیں گے کہ اللہ اس کو چاہتا ہے پھر ہم اس کے
ساتھ لگ جائیں گے۔ تو پھر ہم کو بھی اللہ نے ایک روحانی طاقت دی ہے ہم
روحانی طاقت سے اس کی مدد کرینگے، جب مدد کرینگے تو وہ خود دیکھ لے گا کہ
مدد کیسے ہوتی ہے۔ لیکن جن کے اندر اللہ اللہ نہیں ہوتی اس کا مطلب ہے کہ
اللہ ان کو نہیں چاہتا ہے تو پھر ہمارا ان سے کیا واسطہ ہے؟ نہ ہم بیعت
کرتے ہیں نہ نذرانہ لیتے ہیں ہمارا اس سے کیا تعلق ہے، اگر ہم نے اس سے
تعلق جوڑا تو اللہ کیلئے جوڑا نا، اگر اللہ اس کو چاہتا ہی نہیں ہے تو ہم
اس سے کنارہ کر گئے۔ اب تم میں سے، کیا خبر اللہ کس کو چاہتا ہے۔ یہ نہیں
کہ جو بہت نمازیں پڑھتا ہے اللہ اس کو چاہتا ہے، کیا پتہ وہ نمازیں اس (جنت
میں) عیاشی کیلئے پڑھ رہا ہو، اور یہ بھی نہیں ہے کہ کوئی چور ڈاکو ہے
اللہ اس کو نہیں چاہے گا، ہو سکتا ہے کہ اس چور ڈاکو کا پیشہ ڈاکہ ہو اور
روح وہی ہو جو اوپر تھی (اس کی محبت والی)۔ وہ ڈاکو کے گھر آگیا (پیدا ہو
گیا)، کافر کے گھر آگیا لیکن روح تو وہی تھی جو اوپر تھی، ہو سکتا ہے کہ
وہ تھوڑی سی پریکٹس کرے تو اس کے اندر اللہ اللہ شروع ہو جائے۔ جب اللہ اللہ شروع ہو جاتی ہے، یہ اللہ اللہ شروع ہوئی تمہاری گاڑی چل پڑی، گاری کا رخ اللہ کی طرف ہو گیا، جب گاری کا رخ اللہ کی طرف ہو گیا اب جو تمہارے گناہ ہیں وہ اس گارکے لئے پتھروں کی طرح رکاوٹیں بن جائینگے، بڑی دیر سے بڑی مشکل سے گاری وہاں پہنچے گی، لیکن اگر تم نے اس کے ساتھ نماز روزہ بھی کیا نیک کام کئے تو اس گاری کا رستہ ہموار ہو جائیگا نا تو بڑی جلدی پہنچ جائیگی ورنہ اس کو پہنچنا (تو ضرور) ہے۔ اس طریقے سے وہ دیر کو پہنچے گی اور سا طریقہ سے نماز روزہ اور شریعت کی پابندی سے جلدی پہنچے گی۔
یہ تھوڑا سا علم ہے
میں نے آپ کو بتا دیا، میں چاہتا ہوں کہ اس کی تفصیل بھی بتاؤں۔ سارے
پڑھے لکھے ہو سمجھدار ہو، پاکستان میں ہمارے زیادہ سمجھدار ہوتے نہیں ہیں،
جو سمجھدار تھے نکل آئے جو سمجھدار نہیں تھے آکے ہو گئے۔ ان (پاکستانیوں)
کو جب بات بتاتے ہیں نا وہ سمجھ نہیں پاتے ہیں، کوئی دس پرسنٹ سمجھتے ہیں
نوے پرسنٹ نہیں سمجھتے ہیں، یہاں ہم نے دیکھا نوے پرسنٹ سمجھتے ہیں دس
پرسنٹ نہیں سمجھتے ہیں کہ جبکہ یہ دین سے بھی دور ہیں، اور وہ دین میں
ہیں پھر بھی دین کی بات نہیں سمجھ نہیں پاتے، اگر وہ دین کی بات سمجھ
پاتے تو پھر آج 72 فرقے کیوں بنتےء؟ یہ دین سے دور ہونے کے باوجود دین کی
بات سمجھ جاتے ہیں، اب یہ جو بت تمہیں بتائی ہے، یہ تم کو بڑی دور لگی ہے
جبکہ یہ معمولی بات ہے، دین میں یہ چھوٹی سی بات ہے۔ اب تم کیا ہو؟ تم کچھ نہیں ہو ایک ڈھانچہ ہو، تمہارے اندر اللہ تعالیٰ نے سات بندے بند کر دیئے، 9 ان بندوں کے آگے غلام ہیں ان بندوں کو لطائف بولتے ہیں آگے ان کے غلام ان کو جسے بولتے ہیں، 9 اور 7 سال سولہ مخلوقیں اس ڈھانچے میں بند ہیں، جب وہ مخلوقیں نکل جاتی ہیں وہ ڈھانچہ ختم ہو جاتا ہے، یہ مانتے ہو نا؟ جو بھی حساب کتاب ہو گا ان سے ہو گا نا؟ یہ ڈھانچہ تو قبر میں۔ وہیں ہڈیاں گل گئیں خاک ہو گئیں، اب تم اس ڈھانچے کی مرمت کرتے رہتے ہو نا، اس کا خیال رکھتے ہو نا؟ جو اندر بندے ہیں ان کا خیال نہیں رکھتے ہو، جبکہ وہ اصل چیز ہیں، یہ ڈھانچہ ان کا محتاج ہے اور وہ جو اندر کی مخلوقیں ہیں وہ اس ڈھانچے کی محتاج ہیں، ایک دوسرے کی یہ محتاج ہیں۔ جب آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنیا گیا تھا تو شیطان نے (حسد و نفرت سے اس پر) تھوکا تھا، وہ ناف پر پڑ گیا وہ جو نشان پڑ گیا۔ اس کے تھوک کے جراثیم سے، تمہارے جراثیم سے بچہ بن جاتا ہے تو شیطان کے تھوک کے جراثیم سے اندر کتا بن گیا، جب وہ اندر کتا بن گیا۔ اس وقت بلھے شاہ نے فرمایا۔ اس نفس پلیت نے پلید کیتا اساں منڈھوں پلیت نہ ہا سےوہ جو مٹی تھی وہ
پاک تھی نا جس سے اللہ نے بنایا، جو روحیں تھیں وہ بھی پک تھیں نا۔ وہ جو
تھوک سے کتا بن گیا نا جس کو نفس بولتے ہیں وہ اندر گیا تو ناپاک ہو گیا،
پھر حدیث میں ہے جس گھر میں کتا ہو گا رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ اب خواہ
وہ گھر یا یہ گھر، جب تک تیرے اندر وہ کتا ہے کوئی عبادت کوئی پاک چیز
تیرے اندر ٹھہر ہی نہیں سکتی ہے، اندر کتا جو ہے، جب تو اس کو پاک کریگا
نا تو پھر ناپاک چیز اندر نہیں ٹھہر سکے گی نا۔ اس نفس کیلئے مذاہب آئے
ہیں۔ ان (روحوں) کے لئے کیا ضرورت تھی یہ تو پاک چیزیں تھیں، ان کا دوزح
سے کیا تعلق تھا، جنتی ہی جنتی تھا، وہ جو اندر نفس آیا نا اس کیلئے
مذاہب آئے، تمہارا قرآن بھی اترا ہے نا اس نفس کی خاطر، بار بار قرآن میں
لکھا گیا ہے کہ اس نفس کو کو پاک کر اس کو ختم کر، پاک نہیں ہوتا تو قتل
ہی کر دے، قرآن میں ڈرایا گیا ہے۔ یہ ایک علم ہے، نفس کو ڈرایا گیا نا کہ
تجھے دوزخ میں پھینکیں گے پھر اس کو لالچ دی گئی کہ تو اچھے کام کریگا تو
تجھے بہشت ملے گی، یہ سارا قرآن اس نفس کی اصلاح کیلئے آیا، اب اگر تیرے
نفس کی اصلاح ہو گئی تو پھر۔۔۔ (کیا ہوگا)؟ تیری بھی اصلاح سب مسلمانوں
کی اصلاح ہو گئی تو سب ایک جیسے ہو گئے نا، اللہ نے تو سات جنتیں بنائی
ہوئی ہیں۔ نفس کی اصلاح کے
بعد جب یہ نفس پاک ہو جائے تو پھر اندر چھ بندے اور ہیں پھر ان کا علم
آیا ہے۔ یہ علم ظاہر میں آیا ہے، قرآن کے ذریعے آیا ہے، وہ علم سینہ بہ
سینہ اایا اس کو علم باطن کہتے ہیں، یہ (ظاہری) علم علماء کے حصے میں آیا
وہ (باطنی علم) اولیاء کے حصے میں آیا، اس کے بعد یہ قلب کا علم آیا، یہ
ایک مخلوق ہے اس کا نام قلب ہے، اگر تو بہشت میں اچھا درجہ حاصل کرنا
چاہتا ہے تو قب سے عبادت کر، اگر تو اگلا درجہ چاہتا ہے تو روح کی عبادت
کر، اس سے اگلا چاہتا ہے تو دارالسلام کی کر، اس سے اگلا درجہ چاہتا ہے
تو دارالقرار کی کر، اور اگر آخری (درجہ کی جنت) فردوس چاہتا ہے تو اس (لطیفے)
انا سے عبادت کر، اس سے تیرا درجہ بڑھے گا نا ورجہ سارے ایک درجے میں ہیں
نا۔ یہ جو درجے ہیں، یہ تمہارے اندر کے انسانوں کی وجہ سے ہیں، پھر ان انسانوں کا تعلق ایک ایک جہان سے اللہ نے رکھا، نفس کا تعلق اس دنیا سے ہے، اب س نفس میں طاقت ہے، تم رات کو سوتے ہو وہ تمہارے اس جسم سے باہر نکل جاتا ہے، خواب کے ذریعے تم اپنے آپ کو شیطانوں میں گھومتے دیکھتے ہو، یہ تمہارا نفس ہے، اس میں شیطانی طاقت ہے نا، اور وہ دوسری مخلوق (قلب) ہے اس میں طاقت نہیں ہے، جب تم اس میں طاقت پہنچاؤں گے نا، قلب والی میں، تو پھر یہ بھی خواب میں نکلے گی اور سیدھی عالم ملکوت میں جائیگی، تو پھر اگر روح کو طاقت پہنچاؤ گے تو وہ یہاں(اس جسم) سے نکلی تو سیدھی (عالم) جبروت میں جائیگی نا، پھر جبروت میں نمازیں ہوتی ہیں، حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم پڑھاتے ہیں نا تو یہ وہاں جا کے نماز پڑھا کریگی نا، ابھی تو یہ نہیں جا سکتی نا، جب یہ طاقت پکڑگے گی تو پھر جائیگی نا، پھر جب اس (لطیفہ سری) کو طاقتور کرو گے تو یہ ()عالم) لاہوت میں چلی جائیگی نا۔ پھر اس دماغ والی کو طاقتور کرو گے تو یہ وہاں پہنچ جائیگی جہاں اللہ کی ذات ہےظاہری جسم سے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم پہنچے اور ان مخلوقوں کے ذریعے ولی وہاں پہنچتے ہیں نا۔یہ تمہارے اندر چیزیں ہیں نا لیکن تم ان کو چھیڑتے ہی نہیں ہو، تم نے ان کو نہیں چھیڑا اور جس (جسم) کو چھیڑتے ہو یہ تو آگے جائیگا ہی نہیں، نہ یہ پہلے تھا، یہ جسم پہلے بھی نہیں تھے نا، آگے بھی یہ جسم نہیں ہو گانا، اب اگر یہ جسم آگے جائیگا تو اس کو حوریں قبول ہی نہیں کرینگی کہ اے اللہ ہم ہزاروں سالوں سے انتظار کر رہی ہیں کہ تو بندے بھیجے گا ہمارے لئے اور یہ کالے پیلے بھیج دیئے ان کا کیا کریں گے، وہ علیحدہ جسم بنائے جائینگے خوبصورت جسم بنائے جائینگے جو نہ جلیں گے نہ مریں گے نہ بڈھے ہونگے نہ بیمار ہونگے، وہ دوسرے جسم بنائے جائیں گے یہ تو اسی قبر میں رہ جائینگے، تم اسی کے پیچھے لگے ہوئے ہو، وہ جسم تمہاری روحوں کو ملیں گے۔ تو اب یہ جو نسخہ ہے یہ گناہگار کیلئے بہت بہتر نسخہ ہے۔گناہ گار کیلئے کس طرح ہے؟ کہ ایک آدمی شراب پیتا ہے حرام مال کھاتا ہے اس کیلئے یہ نسخہ بہترین ہے، اب کیا وجہ ہے حدیث میں لکھا ہے کہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو فائل پر لکھتے ہیں کہ اما کاتبین۔ جب فائل پہ لکھتے ہیں دل پر دھبہ کیوں لگاتے ہیں؟ یہ سوچنے کی بات ہے نا کہ دل کو کالا کیوں کرتا ہے؟ وہ اس وجہ سے کہ اگر کسی بنی ولی کو ضرورت پڑی کہ اس کے متعلق جانے تو اس کی فائل منگوا کے دیکھ لیتا کہ اس نے کیا کیا، کیا؟ یہ کیسا تھا؟ اگر اللہ کو ضرورت پڑی، اس کو دیکھنے کی، تو وہ فائلوں کو نہیں دیکھے گا وہ اس کے دل کو دیکھ لے گا کہ کتنا بڑا گنہگار ہے، پھر اس گنہگار نے کیا کیا کہ دل کو صاف کرنے والا طریقہ سیکھ لیا۔ ایک حدیث شریف میں ہے کہ ہر چیز کو صاف کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی ہتھیار ہے دل کو صاف کرنے کیلئے اللہ کا ذکر ہے۔اس نے قلبی ذکر سیکھ لیا، اللہ اللہ کرتا رہا، اللہ اللہ کے نور سے اس کا دل صاف ہو گیا، فائل کو نہیں مٹا سکا وہ تو فرشتوں کے قبضے میں ہے لیکن اس کا دل تو اس کے اپنے پاس ہے نا، اللہ اللہ سے اس کا دل چمک اٹھا، چمکتے ہوئے ستاروں پر نظر پڑتی ہے جب جاتے ہو تم، اسی طرح اللہ تعالیٰ جب دیکھتا ہے تو چمکتے ہوئے دلوں پر اس کی نظر پڑتی ہے نا، پھر وہ دل چمکتے ہوئے دیکھتا ہے فائل نہیں دیکھتا، چمکتا ہوا دل دیکھا اس پر مہربان ہو گیا۔ پھر شاعر کسی نے کہا۔ گنہگارپہنچے در پاک پے زاہد و پارسا دیکھتے رہ گئےیہ کل گنہگار تھا،
اس نے دل کو صاف کیا، قب چمک اٹھا، اللہ تعالیٰ اس پر مہربان ہو گیا، جب
یہ اللہ اللہ اندر جاتا ہے تو گناہ کے جراثیم باہر آتے ہیں اور ایک دن یہ
اللہ اللہ پورے جسم کو پاک صاف کر دیتا ہے اور اندر جو کتا ہے ایک دن یہ
اللہ اللہ اس کو بھی انسان بنا دیتا ہے۔ اگر وہ انسان نہ بنے، سرکش ہے،
تو ختم ہی ہو جاتا ہے۔ اس قت انسان انسان ہوتا ہے، اس وقت نماز پڑھتا ہے
تو اس کے اندر جاتی ہے، قائم ہوتی ہے۔ اب تو نماز پڑھتا ہے تو نماز (کو
زبان سے صف) پڑھتا ہی ہے نا؟ بار بار پڑھتا ہے، نماز کے وقت مومن ہے، وہی
کاروبار کے وقت ہیرا پھری، رات کو سو رہا ہے تو ہیرا پھیری، اس وقت تجھے
کون مومن کہے گا لیکن جب تو پاک ہو گا نماز تیرے اندر اترے گی تو پھر تو
نماز پڑھتے وقت بھی مون، کاروبار میں بھی مومن، تو سوتے وقت بھی مومن۔
اب نماز اندر کیسے اترے گی؟ جب اللہ اللہ کا نور اس دل میں آئیگا، بہت سارا نور یہاں سینے میں جمع ہو جاتا ہے، تمہارا اللہ کے درمیان، یہ ایک ٹیلی فون ہے، جس نبی ولی نے رب سے کلام کیا اس دل سے کیا، یہ ٹیلی فون ہر کسی کے پاس ہے لیکن اس کو بجلی چاہئے، یہ ٹیلی فون اسی طرح پڑا ہوا ہے گھماتے رہو کیا ہے بیکار ہے نا۔ اس ٹیلی فون کو بجلی چاہئے اور اس (قلب) کو نور چاہئے۔ بجلی کی لہریں یہاں سے امریکہ اور نور کی لہریں یہاں سے عرش معلیٰ پر، اس وقت تو بات کریگا تو وہ بھی عرش پہ اور نماز پڑھے گا تو وہ بھی اس کے ذریعے عرش پر جائیگی، وہ تو عرش پر چلی گئی تیرے اندر نماز کیسے ٹھہرے گی؟ جب اس (قلب) میں نور آجائیگا تو نور کو نور سے نبست ہے، پھر جب تو نماز پڑھے گا تو نماز کا نور بھی تیرے اندر، قرآن پڑھے گا تو اس کا نور بھی تیرے اندر۔ اس وقت نماز قائم ہو گی اب تیری نماز قائم ہے۔ ابھی تو تو نماز پڑھتا ہے۔ قرآن نے پڑھنے کا نہیں کہا اس نے قائم کرنے کا کہا ہے، جگہ جگہ یہی لکھا ہوا ہے کہ نماز کو قائم کرو۔جو اس کا ذکر کرنا چاہتے ہیں طریقہ بتا دیتے ہیں آپ اپنی قمست آزمائیں۔ اگر تو اندر سے اللہ اللہ شروع ہو گئی تو دعا دے دینا، تم نے تو دعا نہیں دینی، وہ جو اندر بندے بند ہیں وہ تو دعا دیں گے نا، بھئی قیدی جب آزاد ہونگے تو دعا تو دیں گے؟ اگر کچھ دن نہ ہوا تو یہ جو اللہ اللہ کرو گے اس کا ثواب تو ملے گا نا۔ یقین کرو یہ ایسی چیز ہے۔ یہ دوائی اللہ اللہ کی ایسی ہے کہ اگر قلب نہ بھی چلے تو پھر بھی یہ اپنا اثر ضرورت دکھاتی ہے۔کوئی لڑکا تھا،
محلے میں اس نے کوئی لڑکی دیکھ لی اور چکر لگانے شروع کر دیئے، لڑکی کوئی
اللہ والی تھی ذکر کرنے والی تھی، اس نے بلا کے پوچھا کہ تم کیوں چکر لگا
رہے ہو؟ کہا تیری خاطر۔ اس نے کہا میں تو تجھے نہیں مل سکتی تم خوامخواہ
اپنی زندگی برباد کر رہے ہو، ایک طریقہ ہے کہ تو مسجد میں بیٹھ جا، وہاں
اللہ کر تو میں گھر والوں کو کہوں گی کہ کوئی اللہ والا ہے، پھر مجھے
اجازت مل سکتی ہے تجھ سے ملنے کی، اس کو طریقہ بھی بتا دیا جو اس نے
سیکھا تھا، کہا روٹی تجھے بھیجتی رہوں گی۔ وہ قریب ہی مسجد میں جا کر
بیٹھ گیا اور اللہ ہو کرنا شروع کر دیا۔ روٹی وہ بھیجتی رہی، پندرہ دن
گزرے تو سوچا کہ جا کے دیکھوں کہ کیا حالت ہے اسکی۔ گئی تو اس نے بلایا،
اس لڑکے نے اوپر دیکھا لڑکی کو اور پھر نظریں نیچی کر کے اللہ ھو کرنا
شروع کر دیا، لڑکی پھر دوبارہ بلایا تو پوچھتا ہے تو کون ہے؟ وہ کہتی ہے
میں وہی ہوں جس نے تجھے یہاں بٹھایا، کہا اب تو جا اور مجھے اللہ اللہ
کرنے دے۔ تو جس کے اندر اللہ
اللہ آجاتی ہے تو سب چیزوں سے نجات، سب بیماریوں سے نجات ہو جاتی ہے، یہ
نام (اللہ) ہر چیز پر قادر ہے، اس کا طریقہ ہے، اس کو اپنے اندر لانا ہے،
جذب کرنا ہے، اب آپ نے دیکھا ہے کہ آپ اللہ کرتے ہیں، کسی محفل میں جا کر
اللہ اللہ کرتے ہیں، باتیں سنتے ہیں آپ کو کیف آتا ہے نا، لیکن ہر وقت
ااپ محفل میں نہیں بیٹھ سکتے نا، ہر وقت ایسی باتیں نہیں سن سکتے، اس کے
بعد بے چینی ہے نا، اگر آپ کے اندر چوبیس گھنٹے اللہ اللہ شروع ہو جائے
تو پھر کیف ہی کیف ہے۔ گھنٹہ بھر جو بیٹھتے ہو اللہ اللہ کرتے ہو تمہیں
کتنا مزا آتا ہے، اور اگر چوبیس گھنٹے اللہ اللہ شروع ہو جائے تو ۔۔۔۔۔۔؟
باہر بیرونی کیف ہے اور اندر۔۔۔۔۔۔ اس کا طریقہ ہے، اس (اللہ اللہ) کو اندر لانے کا طریقہ: پہلے کاغذ پر لکھتے ہیں 66 مرتبہ اللہ اللہ۔ اگر ہو سکتا ہے تو دن میں چار پانچ دفعہ لکھو سات دفعہ لکھو۔ جب بھی لکھو 66 مرتبہ لکھو۔ یہ ایک عمل بن جائیگا، جس طرح 786 بسم اللہ سے تعلق رکھتا ہے اسی طرح 66 اللہ سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک دن آئے گا جو ااپ کاغذ پر لکھتے تھے نا وہ آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائیگا، اسے صاحب تصور کہتے ہیں جب آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے تو لکھنا بند کر دیں اور آنکھوں سے توجہ کے ساتھ اپنے دل پر اتارو۔ ایک دن آئیگا جو کاغذ پر لکھتے تھے وہ دل پر لکھا نظر آئیگا۔ قرآن فرماتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے دلوں پر ایمان لکھ دیا گیا ہے۔اللہ سے بڑھ کر کس
کا نام ہے؟ تو ایمان آگیا نا یہاں (سینے میں)۔ جس وقت یہ یہاں (دل پر)
نظر آئیگا تو اس وقت دل کی دھڑکن تیز ہو جائیگ ٹک ٹک ٹک۔۔۔ یہ دل کی
تسبیح ہے، پھر اس ٹک ٹک کے ساتھ اللہ ہو ملاؤ۔ ایک ٹک کے ساتھ اللہ اور
دوسرے ایک کے ساتھ ہو، یہ تم خود نہیں کر سکتے ہو، تم سانس کے ساتھ ذکر
کر سکتے ہو، ضربیں لگ کر بھی کر سکتے ہو، سانس روک کے بھی کر سکتے ہو،
خفی بھی کر سکتے ہو، تالو سے بھی کر سکتے ہو، لیکن دل کی دھڑکن کے ساتھ
تم کبھی بھی نہیں کر سکتے، جا کے ٹرائی کرنا، تم کبھی بھی نہیں کر سکتے
ہو۔ یہ تب آئیگا جب رب کی رضا ہو گی، رب کی رضا کے بغیر تو ہو ہی نہیں
سکتا ہے نا۔ اگر دل کی دھڑکن اللہ اللہ سے مل گئی تو اس کی رضا ہو گئی۔
اب پیچھے نہیں ہٹنا۔ اب اگر جان بھی جاتی ہے تو جانے دو، اب اس کو نہیں
چھوڑ کیونکہ اس نے تجھے قبول کر لیا ہے، جان تو ویسے بھی جانا ہے آج نہیں
جائیگی تو بیس سال بعد چلی جائیگی، ویسے ہو سکتا ہے ناکارہ ہی چلی جائے
مگر اب جائے گی تو شہیدوں میں جائیگی نا، اب گاڑی کا رخ اس کی طرف ہو گیا
نا، چل پڑی نا گاڑی، اب اگر ایکسیڈنٹ بھی ہو تو جو کعبے کی طرف جاتے ہوئے
مر جاتے ہیں تو نام تو شہیدوں میں ہوتا ہے نا۔ کسی کسی وقت دل پر
ہاتھ رکھو، دل دھڑکے تو اس دھڑکن کے ساتھ اللہ ہو ملاؤ، کبھی نبض پر ہاتھ
رکھو اس نبض کے ذریعے اللہ ہو اپنے اندر پہنچاؤ، یہ نبض ٹک ٹک کرتی ہے نا۔
اس کے ذریعے اللہ ہو اپنے اندر پہنچاؤ۔ کوئی ایسا کام کرو جس سے دل دھڑکے۔
تم نے سنا ہو گا کہ لال شہباز ناچتے تھے، لوگوں کو بھی نچاتے تھے، یہ بھی
سنا ہو گا، بلھے شاہ اساں نچ کے یار منایا
اے۔ یہ بھی سنا ہو گا کہ امیر کلال لوگوں کو کبڈی کھلاتے تھے،
ولیوں نے یہ کام کیوں کیا؟ امیر کلال کو کبڈی کی کیا ضرورت تھی؟ بلھے شاہ
کو ناچنے یا نچانے کی کیا ضرورت تھی؟ جس وقت گنہگار طبقہ ان کے پاس جاتا
تھا جن کے دل ختم ہو گئے تھے وہ ان کو کبڈی کھلاتے تھے کہ چلو دوڑو، جب
وہ دوڑتے تھے تو ان کی دل کی دھڑکنیں ابھرتیں تو اس کہتے تھے کہ اب کبڈی
کو چھوڑو اور ان دھڑکنوں کے ساتھ اللہ اللہ ملاؤ، تم چاہے دوڑو چاہے ناچو
چاہے ورزش کرو، لیکن یہ زمانہ دوڑنے والا بھی نہیں ہے اور ناچنے والال
بھی نہیں ہے تو ایک اور آسان طریقہ ہے کہ بیٹھ کر اللہ ہو کی ضربیں لگاؤ،
گھنٹہ بھر کرو گے تو دل کی دھڑکن ابھرے گی اس دھڑکن کے ساتھ اللہ ہو ملاؤ،
تھوڑے دن ایسا کرو گے نا پھر دل کی دھڑکنیں اللہ ہو پکار اٹھیں گی پھر ان
ضربوں کی ضرورت ہی نہیں۔ یہ جلالی بھی ہے، لوگ حوالہ دیتے ہیں کہ ایک پرندہ ’’ققنس‘‘ تھا۔ کوئی درویش اللہ ہو، یا ھو کا ذکر کرتا رہا اس کو ققنس بھی سنتا رہا، وہ درویش چلا گیا اس پرندے نے پیچھے اللہ ھو کرنا شروع کر دیا، جب اللہ ھو کرنا شروع کر دیا تو تھوڑے دن اس نے کیا تو اس نے دیکھا کہ میرے اندر گرمی پیدا ہو گئی ہے اب میں کیا کروں، جو اللہ ھو اندر چلی جائے تو وہ پھر نکلتی بھی نہیں، یہ بھی مصیبت ہے۔ صحابی رضی اللہ تعالٰی تھے نا ان کے اندر اللہ ہو چلا گیا تو ریت پر رسیوں سے گھسیٹتے تھے کمروں میں بند کرتے تھے مگر پھر بھی حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم تک پہنچ جاتے تھے نا، اللہ ھو اندر چلا گیا تھا نا، ققنس نے سوچا کہ یہ بند بھی نہیں ہو رہا تو اب میں بھی جل بھی جاؤں گا، اس نے جتنی اس کی عقل تھی چھوٹی چھوٹی لکڑیاں جمع کیں اپنے پاس کہ اگر آگ لگے تو ان کو لگے میں تو بچ جاؤنگا۔ جب آگ لگی تو لکڑیاں بھی جل گئیں اور وہ ققنس بھی جل گیا، اس کی جسم کی راکھ سے ایک انڈہ بنا، وہ انڈہ پھٹا، اس میں سے جو بچہ نکلا اس نے اللہ اللہ کرنا شروع کر دی تو وہ بھی جل گیا یہ سلسلہ جاری ہے۔ بہت لوگوں کو پتہ ہے کہ وہ ققنس پرندہ اللہ ھو۔ کرتا اور جل جاتا ہےوہ کہتے ہیں کہ
ققنس جل گیا ہم بھی جل جائینگے، وہ ڈراتے ہیں۔ اس ققنس نے اللہ ہو سیکھا
تھا وہی سنا تھا محمد الرسول اللہ نہیں سنا تھا۔ اگر وہ یہ سن لیتا تو
کیوں جلتا؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نام جلالی ہے تو حضور پاکصلیٰ اللہ علیہ وسلم
کا نام جمالی ہے، اب تم اللہ کرو گے تمہیں گرمی لگی گی، جتنی گرمی برداشت
کر سکتے ہو کرو کیونکہ گرمی کے بغیر کوئی چیز پکتی نہیں ہے، نہ کوئی پھل
پکتا ہے نہ تمہارے گھر ہانڈی پکتی ہے نہ روٹی پکتی ہے، دیکھو اور جتنی
برداشت کر سکتے ہو برداشت کرو، جب برداشت نہ ہو سکے تو پھر درود شریف
پڑھو ٹھنڈا کر دیگا، پھر اللہ کا ذکر کرو، نور کی گرمی آئیگی پھر درود
شریف پڑھو پھر اس کو تھنڈا کر دیگا۔ پھر ایک دن درود شریف اور اللہ ہو
ایک ہو جائینگے، نہ جلال تو نہ جمال، پھر کہو گے کہ میں چوبیس گھنٹے اللہ
اللہ کرتا ہوں مجھے گرمی کیوں نہیں لگتی ہے، پھر جمال جلال اکٹھا ہو
جائیگا۔ اس کا طریقہ ہے۔ شریعت کی پابندی اس کیلئے بہت بہتر ہے، لیکن جو شریعت کی پابندی نہیں کر سکتے ان کیلئے اس حال سے تو بہتر ہے، ایک شخص نماز ہی نہیں پڑھتا، اگر کوئی نماز پڑھتا ہے اور وہ ذکر لیتا ہے تو اس کیلئے اور بہتری ہو گی نا۔ سونے پر سہاگہ ہو گیا۔ نمازی تو پہلے ہی ہے اور اب اندر سے بھی اللہ اللہ کر رہا ہے اس کا مرتبہ بڑھ گیا نا، ایک شخص نماز ہی نہیں پڑھتا ذکر لے کر ذکر بھی کرتا ہے لیکن پھر بھی نماز نہیں پڑھتا ہے تو وہ پہلی حالت سے تو بہتر ہے نا جب وہ کچھ بھی نہیں کرتا تھا، ہو سکتا ہے کہ ذکر کے طفیل ہی وہ نمازی کبھی بن جائے، اگر وہ نمازی ساری زندگی نہ بھی بن سکے ہو سکتا ہے اللہ اللہ کرنے سے اسے اللہ سے محبت ہی ہو جائے اور وہی اس کیلئے کافی ہو جائے۔ اس میں جتنی بھی شریعت کی پابندی کریگا اتنا ہی اس کا مقام بلند ہو گا نا۔ ورنہ یہ ہمارا ایمان ہے، ایمانیہ، حلفیہ تحریراً (کہتے ہیں کہ) اگر کسی کے اندر قلب جاری ہو جائے تو وہ دوزخ میں نہیں جا سکتا، کیونکہ اب یہ اس کی رضا سے ہے نا۔ جس پر اس کی رضا ہو جائے تو وہ دوزخ میں کس طرح جائیگا۔ دوزخ میں ذاکر قلبی کبھی نہیں جا سکتا ہے۔ہاں! مرتبے سے
محروم رہ سکتا ہے، اگر شریعت کی پابندی نہ کرے تو مرتبے سے محروم رہ سکتا
ہے لیکن دوزخ میں نہیں جا سکتا، کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ جس میں ذرا
برابر بھی نور ہے وہ دوزخ میں نہیں ا سکتا، جب اللہ اللہ کرنا ہے تو پھر
نور تو بننا ہی ہے نا۔ دوائی لے گا تو اثر تو ہو گا، اللہ اللہ کرنے کا
اثر تو ہو گا وہ بھی جب قلب کر رہا ہے اللہ اللہ۔ اگر اللہ قبول
کریگا کہ میں اس کو قبول تو کر لیتا ہوں لیکن اس کا ضامن کون ہے؟ یہ بھاگ
جائے تو؟ یعنی دوست کو آزمانا ہوتا ہے نا اور اگر میں نے آزمایا اور یہ
بھاگ گیا تو پکڑ کر کون لے آئیگا واپس؟ تو پھر غوث پاک رضی اللہ تعالٰی
ضمانت دیتے ہیں۔ پھر پوچھا جاتا ہے گواہی کون دے گا ؟وہ جن درباروں پر
آتا جاتا ہے وہ اولیاء گواہی دیتے ہیں۔ پھرپوچھا جاتا ہےتصدیق کون کرے گا؟
پھر حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم
تصدیق کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالی منظوری دیتا ہے تو پھر اس کا قلب جاری
ہوتا ہے۔ تو پھر اگر بھاگ بھی گیا تو جنہوں نے تصدیق کی جنہوں نے ضمانت
دی وہ پکڑ کے واپس لے آئیں گے نا۔ وہ تو نہیں چھوڑتے وہ جہاں بھی دوڑ کے
جائے گا پھر پکڑ کر وہیں لے آئیں گے۔اس کے بغیر یہ قلب جاری نہیں ہوتا ہے۔ طریقہ تمہیں بتا
دیتے ہیں۔ کرنا چاہو تو اقرار کرو کہ میں کروں گا۔ کیونکہ پھر آگے پوچھتے
ہیں نا کہ اس بندے نے اقرار کیا تھا۔ اور جب اقرار نہیں کرو گے تو تمہیں
اوپر کون لے جائے گا۔ ہاں! جب اقرار ہی نہیں کیا تو کون لے جائے گا؟ اس
لئے جو ذکر لینا چاہتے ہیں وہ میرے ساتھ اللہ ھو پڑھیں۔ ان کو اجازت ہو
جائے گی بس۔ کوئی پیسہ نہیں مٹھائی نہیں بیعت نہیں۔ ایک اجازت ہے
پڑھو اللہ
ھو
‘ اللہ ھو
‘ اللہ ھو
۔۔۔۔۔لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ۔ اب کوئی بات پوچھنی ہو جو سمجھ نہ آئی ہو تو پہلے دل کی تسلی بھی کر لو کیونکہ ہمارے سجن بھی بہت ہیں اور دشمن بھی بہت ہیں۔ بہت مولوی ہمارے ساتھ ہیں بہت مولوی ہمارے دشمن ہیں۔ جو مخالف ہیں نا انہوں نے ہمارے خلاف کافی قسم کا پروپیگنڈہ کیا ہے لوگوں میں۔ اس لئے اگر سنی سنائی کوئی ایسی بات ہو تو پوچھ لو تاکہ دل میں کوئی ایسی بد گمانی نہ رہے۔
سوال: طریقت کیا چیز ہے؟
سوال: یہ کس طرح پتہ چلے گا کہ ہم کہاں ہیں؟ اچھا اس کا تھوڑا
سا یہ ہے کہ وہ تصور تو آنکھوں میں چلا گیا۔ اب جب رات کو سونے لگیں اس
شہادت کی انگلی کو قلم خیال کریں کہ میں تصور سے اپنے دل پر اللہ لکھ رہا
ہوں۔جو ابھی تمہارا مرشد ہے اس کو پکاریں کہ وہ روحانی طاقت سے تمہارے دل
پر اللہ لکھے۔ مرشدوں کا یہی کام ہے اللہ کو ملانے کیلئے آتے ہیں۔ تم ان
کو دنیا میں لے جاتے ہو۔ وہ اللہ کیلئے آتے ہیں۔ اگر کوئی مرشد نہیں ہے
یا تمہارا مرشد کمزور ہے۔ آج کل کمزور بہت ہیں نا۔ ولی تھا اس کا پھر
بیٹا پھر پوتا۔ صدیوں سے یہ سلسلہ چل رہا ہے تو سارے تو ولی نہیں ہوتے نا۔
جو لوگ گدی نشین یا سجادہ نشین کے ہاتھ چڑھ گئے نا تو ان کو یہ چیز حاصل
نہیں ہوتی ہے نا۔ اگر وہ کمزور ہے نہیں پہنچتا ہے تو جس دربار پہ تمہارا
آنا جانا ہو، کامل دربار ہو، اس کا تصور لیں کہ وہ دربار والا میری مدد
کر رہا ہے۔ جو کامل ذات ہے جس طرح اپنی زندگی میں فیض پہنچا سکتے تھے نا
اسی طرح زندگی کے بعد فیض پہنچا سکتے ہیں۔ اس کے بعد اگر وہ بھی کوئی
نہیں پہنچتا تو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے روضے کو لے لیں کہ میں
آپ کا امتی ہوں۔ اب میں اس تگ و دو میں لگ گیا اللہ کو پانے میں میری مدد
کریں۔ پھر جہاں آپ کا نصیبہ ہو گا وہ تو وہ چہرہ دربار آپ کے سامنے آ
جائے گا۔ صبح اٹھیں، وضو ہے یا نہیں، دل کا وضو پانی سے تھوڑی ہوتا ہے۔
سارا دن پانی میں گھسے رہو پانی اندر تھوڑی جائے گا۔ ذکی خفی کرتے رہیں۔
جس دن دل کی دھڑکن نے پکارا اللہ ہو
سمجھیں آج میری گاڑی اللہ کی طرف چل پڑی۔ یہ طریقت ہے۔ طریقت کا تعلق اس
دل سے ہے۔ پھر اللہ اللہ کرتے اللہ تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کو حقیقت بولتے
ہیں۔ حقیقت کا تعلق ان نظروں سے ہے۔ جس کو پکارتا ہے ایک دن اس کو دیکھ
لیتا ہے۔
سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ بعد میں آیا
ہے۔ کچھ صدیوں بعد؟ لیکن اسلام میں کچھ فرقے ہیں جو اس کو نہیں مانتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں جو کچھ ظاہر میں ہے بس۔ ہم کہتے ہیں جو کچھ ظاہر میں ہے (ظاہر
کیلئے ہے وہ یہ کہ) اللہ تعالی نے کہا ظاہر میں بھی جا۔ تو ظاہر میں جا
کے مسجد میں نماز پڑھ لوگ تجھے دیکھیں۔ ان لوگوں کیلئے ہے کہ تیرا اخلاق
کیا ہے تو اپنی بات کیسے کرتا ہے۔ تاکہ وہ تیری طرف رجوع ہوں۔ تو وہاں جا
لوگوں کے ساتھ مل جل۔ نمازوں کے بعد ایک دوسرے کو جپھی بھی ڈالتے ہیں
مصافحہ بھی کرتے ہیں تاکہ تمہارا آپس میں راضی نامہ ہو، دشمنیاں ختم ہوں۔
پھر اک عبادت کے بعد کہا پوشیدہ پوشیدہ۔ کہ میں جانوں اور تو جانے اور اس
کو بھی خبر نہ ہو۔ وہ یہ عبادت ہے نا۔ اب کیا خبر اس کے اندر اللہ اللہ
ہو رہی ہے۔ نہ اس کو پتہ نہ ساتھ والے کو پتہ۔ یہ طریقت ہے خفیہ خفیہ
پوشیدہ پوشیدہ۔
وہ کہتے ہیں یہ علم نہ
حدیث میں ہے نہ قرآن میں ہے۔ہم کہتے ہیں ٹھیک ہے (اگر) نہ حدیث میں ہے
نہ قرآن میں ہے تو پھر اس کو جھٹلا کے دکھاؤ۔ پھر گردنیں کیوں ہلاتے ہو
کہ صحیح ہے۔ یہ جھٹلا بھی نہیں سکتے نا اس کو کہ بات بھی صحیح ہے۔
ہمارے کو یہ بتایا گیا، یہی بتایا گیا کہ تم مسلم کو
بھی اکٹھا کر لو، ہندو کو بھی، سکھ کو بھی، عیسائی، غیر مذہبکو بھی اکٹھا
کر لو۔ سب لائن میں کھڑا کر دو۔ تو رب جب دیکھا گا تو کسی چمکتے ہوئے دل
کو دیکھا گا۔وہ مسلم ہندو کو نہیں دیکھے گا وہ چمکتے ہوئے دل کو دیکھے گا۔
اور اس کا ہم نے تجربہ کیا ہے۔
*****اللہ
ھو*****اللہ ھو******اللہ
ھو******اللہ ھو******اللہ
ھو******اللہ ھو******اللہ
ھو*****
اگر آپ بھی ذکر کی لینا چاہتے
ہیں تو امام مہدی ریاض احمد گوھرشاہی کی
شبیہ مبارک
کوپورے چاند پر دیکھتے ہوئے تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔ |
|
© 1998-2010 All Faith Spiritual
Movement Intl' |