SELECT YOUR LANGUAGE:    ENGLISH    or   INDONESIAN

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے

اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر)

مرکزی صفحہ  تعارف  حضرت عیسی  کرشمہ قدرت  الحجرالأسود  تعلیمات  دینِ الٰہی  پروگرام  تصانیف  ویڈیو  رابطہ    

بسم اللہ الرحمن الرحیم:

لندن  انٹرویو 1997

اکتوبر 1997 میں لندن میں مدیر " صدا " نے عالمی روحانی پیشوا جناب حضرت ریاض احمد گوہر شاہی مد ظلہ العالی کی خدمت میں حاضر ہو کر چند سوالات کئے جن کے آپ نے تسلی بخش جوابات دیئے جو طالبین حق کے لیے راہنمائی کا سبب ہیں ۔ ان سوالات و جوابات کو ویڈیو کی صورت میں محفوظ کر لیا گیا۔ اب ان سوالات و جوابات کو تحریر کی شکل میں پیش کیا جارہا ہے :

سوال : آج جو میں خدمت میں حاضر ہوا ہوں تو میں آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں  گا۔ چھوٹے سے میرے پانچ چھ سوالات ہیں ۔ چائے وغیرہ تو نہیں پیئں گئے ضرور پیئں گے چائے بھی پیتے رہے گے اور گفتگو بھی ہوتی رہے گی۔ تاکہ دونوں بیک وقت ایک وقت میں کام ہو جائیں۔ پہلا میرا سوال جو آپ سے ہے کہ آپ کا نام گوہر شاہی آپ کے والد نے تجویز کیا تھا ، دادا نے تجویز کیا تھا یا آپ کا خود رکھا ہوا ہے ؟

جواب : ہمارے بزرگ تھے، ہم اُن کی پانچویں پُشت سے ہیں ، گوہر علی شاہ نام تھا اُن کا ، اُنہی کی وجہ سے گوہر شاہی ہمارا سارا خاندان کہلاتا ہے۔  گوہر شاہ کی اُولاد۔

 مدیر: اچھا یہ آپ کا خاندانی نام ہے

سوال : دوسرا  جو میرا سوال ہے وہ تھوڑا سا اُس سے ہٹ کے ہے۔ اس وقت آپ کا دنیا میں کیا مقام ہے ؟

جواب: یہ تو مجھے پتہ نہیں،  یہ تو دنیا جانتی ہے ۔ یا اللہ جانتا ہے

مدیر: نہیں آپ کی طرف سے۔ آپ اس وقت اپنے آپ کو کس سٹیج پر محسوس کرتے ہیں ؟ آپ کی زبان سے سننا چاہتے ہیں ۔ کیا سٹیج ہے ؟

جواب : سٹیج نہیں مخلوق کے خادم ہیں ۔ اللہ کے حکم کی بجا آوری کر رہے ہیں بس، باقی ہمیں نہیں پتہ لیا سٹیج ہے، کیا ہیں ہم۔ جس طرح آپ کہہ رہے تھے کہ آپ کو نہیں پتہ کہ آپ کون ہیں ۔

مدیر : سبحان اللہ آپ کا جواب اچھا ہے ۔ مگر بہرحال اِسلیے کہ جب آدمی ---  اس دنیا میں تین قسم کے انسان پائے جاتے ہیں ۔ جو میرے خیال میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے مجھ سے زیادہ پڑھا ہو گا۔

جواب: مقصد سمجھ گیا آپ کا --- بعض لوگ ہوتے ہیں اُن کو اپنے آپ کا نہیں پتہ ہوتا کہ ہم کیا ہیں ۔ لیکن وہ کام کرتے رہتے ہیں ۔ دنیا اندازہ لگاتی ہے کہ یہ کیا ہیں ۔ بعض لوگ ہیں کرتے تو بہت کچھ ہیں ، اچھے طریقے سے بھی چلتے ہیں لیکن لوگ اندازہ لگاتے ہیں کہ اس کی چال کیا ہے۔

مدیر : نہیں وہ صیحیح ہے مگر جو تقسیم ہے صوفیانہ طریقت میں یا جو بزرگ تھے، تین قسم کے انسان تھے۔ ایک کامل ہوتا ہے اور جس کووہ چاہے کامل بنا دیتا ہے۔ ایک خود کامل ہوتا ہے لیکن کسی کو کامل نہیں کر سکتا ۔ ایک مجھ جیسا ہوتا ہے نہ کامل ہے نہ مخلوق ہے جس کا کوئی مقام ہی نہیں۔ تو آپ اُن  دو مقاموں میں سے کسی مقام پر اس وقت  ہیں ۔ اگر خداوند کریم نے آپ کو یہ طاقت دی ہے کہ مجھ جیسے کندہ نا تراش کو ایک نظر دیکھنے کے بعد کچھ بنا سکتے ہیں ؟ آپ کو یہ فیلنگ محسوس ہوتی ہے؟

جواب: نہیں ہم نے جو اندازہ لگایا ہے اتنا ہی اندازہ لگایا ہے کہ اللہ تعالی بھی ہم پر بہت ہی مہربان ہے اور کیوں مہربان ہے ؟ ہم نے اُس کی خاطر گھر بار ، بیوی بچے، کاروبار چھوڑکہ جنگلوں میں  رہے۔ روتے رہے اللہ اللہ کرتے رہے، عبادت کرتے رہے۔ شاید یہ وجہ ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اُس نے ہم سے باتیں بھی کری ہیں ۔ ہم نے اُس کو بھی دیکھا ہے۔ اُس نے ہم کو بھی دیکھا ہے۔ اس سے آگے ہم کو پتہ نہیں اور منزل کیا ہوتی ہے۔

مدیر: میرا خیال میں آپ اُس منزل پر ماشا اللہ پہنچ گے ہیں ۔  کہ جب اتنا اللہ سے قرب جس کو محسوس ہو جائے۔

جواب: اور اس سے زیادہ اور کیا منزل ہوتی ہے۔یہی منزل کافی ہے۔

مدیر: اس سے آّگے تو منزل ہو بھی نہیں سکتی تو اُس منزل پہ اللہ تعالی نے آپ کو پہنچا دیا ہے۔ آپ کی کون سی ادا اُس کو پسند آئی یہ تو خیر وہ ہی جانتا ہے۔ دنیا میں کوئی شخس اس کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ تیسرا سوال جو ہے کہ شریعت یا طریقت میں آپ کس پر عمل کرتے ہیں ؟

جواب: شروع میں  جو ہم نے پایا نا، طریقت تو بعد میں سیکھی نا، شروع میں ہم شریعت میں نماز روزہ سب کچھ کرتے رہے۔ پھر کچھ عرسے بعد ہم کو قلبی ذکر ملے اس کو طریقت بولتے ہیں نا۔ ساتھ اس کو بھی چلایا، شریعت کو بھی، طریقت کو بھی - یہ اکھٹے شریعت طریقت چلتے رہے، کچھ عرصے بعد ہماری اللہ سے باتیں چیتیں شروع ہو گی نا تو اُس وقت نہ ہم نے شریعت کو فوقیت دی نہ طریقت کو فوقیت دی  ۔ ہم نے یہ ہی کہا کہ " باجھ وصال اللہ دئے باھو، اے دنیا جھوٹی بازی ھو " کہ بغیر اللہ کے دیدار کے یہ سب  جھوٹ ہے۔ کیونکہ اس میں فتنہ ہے نا، فرقہ ہے نا۔ اس ( دیدار ) میں کوئی فرقہ نہیں ہے۔ مسلئہ نہیں ہے ۔ ہم نے اپنی روحوں کو اس قابل کر لیا تھا جنگلوں میں کہ وہ یہاں سے نکلتیں اور حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جا کے نماز پڑھتیں ۔ یہ طریقت ہے نا، اور شریعت بھی یہ ہے اور پھر طریقت بھی یہ ہے۔ اصلی شریعت یہ ہے کہ تمھاری روحیں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پیچھے  نماز پڑھیں ۔ اور طریقت یہ ہے کہ روح ( جسم سے )  نکل کے اللہ کا دیدار کرے۔ ہم اس کو فوقیت دیتے ہیں ۔

مدیر: ماشااللہ آپ بذات خود کس کے مرید ہوئے؟

جواب: میں جو مرید ہوا -- گدی نشینوں کا ہوا تھا لیکن اُن سے فیض نہیں تھا۔ میں نے اُن کی مریدی ختم کر دی تھی۔ پھر درباروں میں چکر لگاتا رہا کہ کہیں سے مجھے فیض حاصل ہو، لیکن کہیں سے فیض حاصل نہیں ہوا۔ میں یہ چاہتا تھا کہ میرا قلب--لوگ کہتے ہیں ابتدء قلب سے ہوتی ہے تو کوئی ایسا آدمی ملے جو میرے قلب کو اللہ اللہ میں لگا دے۔ نہ ایسا کوئی پیر ملا نہ نہ دربار  سے فائدہ حاصل ہوا ۔ میں مایوس ہو گیا کہ لوگ ویسے ہی کہتے ہیں کہ  درباروں میں فیض ہوتا ہے۔ ہم تو سچے طالب ہیں ۔ سچی طلب رکھتے ہیں ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ پھر پیروں سے بھی بیزار ہو گئے، پیر گدی نشین سجادہ نشین ، ان کے والد وغیرہ بڑئے ولی ہوں گے یہ تو کچھ نہیں ہیں نا۔ پھر ہم نے یہ ہی سوچا تھا کہ یا تو اس دنیا میں کوئی ہے ہی نہیں کامل ، اگر ہے تو ہماری اُس تک پہنچ ہی نہیں ہے۔ اگر پہنچ نہیں ہے تو ہمارا گھومنا پھیرنا بیکار ہے، جانوروں کی طرح ہے وہ بھی تو جنگلوں میں گھومتے پھرتے ہیں ۔ پھر ہم نے کاروبار کیا ، شادی کی۔ ایک رات سو رہے تھے، اُس طرف دھیان ہی ختم ہو چکا تھا، سو رہے تھے کہ اچانک کمرہ منور ہوا ہے کہ جس طرح لائٹ ہوتی ہے کہ گاڑی کی لائٹ کمرئے میں آئی ۔ اُس میں ایک چہرہ نمودار ہوا۔ ہم نے پوچھا تم کون ہو۔ اُس نے کہا کہ میں بری امام ہوں ۔ میں نے کہا آپ کے آنے کا مقصد ؟ بولے اُٹھ اب تیرا وقت آ چکا ہے۔ میں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی یہ ہی کچھ ڈھونڈتا رہا نہیں ملا - بولے تیرا وقت اب تھا۔ اُس وقت تیرا وقت ہی نہیں تھا۔ اب آج کے بعد تو نے نیچے سونا ہے نماز باقاعدہ پڑھنی ہے ، درود شریف ( کا ختم ) روزانہ دلانا ہے۔ پھر جیسا اُنھوں نے کہا میں عمل کرتا رہا۔ اُس کے بعد یہ سلسلہ جاری ہوا۔ کوئی ایک سال شہر میں رہا۔ اُس کے بعد ذہن اُدھر ہو گیا تھا۔ پھر حکم ہوا کہ جنگلوں میں چلا جا۔ پھر جنگلوں میں چلا گیا۔ کئ درباروں سے ہوتا ہوا جنگلوں میں چلا گیا- وہاں حضور پاک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم ایک دن آئے اور اُنھوں نے دست بیعت کیا۔ اُنھوں نے دست بیعت کیا  تو پھر  مجھے حاجت نہیں ہوئی کہ کہیں جا کے دنیا میں دوبارہ جا کے کسی سے دست بیعت ہو جاؤں۔ کیونکہ ہم اس چیز کے قائل ہیں کہ وہ حیات النبی ہیں جو اُن کے زمانے میں فیض ہے وہ اُن کے زمانے بعد بھی وہ ہی فیض ہے۔ اور ہم کو اُن کے زمانے کے بعد ہم کو یہ فیض حاصل ہوا ہے کہ لوگوں کے قلبوں کو زندہ کر دیتے ہیں تو ہمیں کسی سے بیعت ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ اویسی بیعت کہلاتی ہے۔ 70 پرسنٹ لوگ اس کو نہیں مانتے لیکن 30 پرسنٹ اس کو مانتے ہیں ۔

مدیر: ایک اور اس کے علاوہ سوال ہے میرا کہ جہاد کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: وہ جس جہاد کا ذکر ہے وہ جہاد آج کل نہیں ہوتا ہے نا۔ جہاد کا مطلب ہے وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں ۔ اب کشمیر میں اللہ کی راہ میں تو نہیں مرتے ہیں۔ وہ تو اُس ٹکڑے کے لیے مر رہے ہیں نا۔ افغانستان میں ہے، وہ اللہ کے لیے نہیں مر رہے ہیں نا۔ وہ تو فرقہ واریت ہے، ملکی اختلاف ہیں ۔ یہ جہاد نہیں ہے جہاد وہ ہے جو فی سبیل اللہ ہو۔ صرف اللہ کے لیے ۔ ابھی ہماری گورنمنٹ بھی لڑتی ہے۔ فوج جا کے لڑتی ہے۔ یہ تو جہاد نہیں ہے نا۔ یہ تو تنخواہ لیتے ہیں نا۔ تنخواہ لیتے ہیں تو وہ کہتے ہیں جاؤ تو جانا پرتا ہے، مال جو کھایا ہے۔

مدیر: آج کل یہ مسلئہ ادیبوں اور شاعروں کے ذہنوں  پر سوار ہے کہ جہاد کیا چیز ہے؟ کیونکہ جہاد کی جو ڈسکرپشن مجھ جیسے جاہل آدمی کے پاس  ہے کہ خداوند کریم نے جو وعدہ کیا ہے کہ شہید کبھی مرتا نہیں تو اُس کی ڈسکرپشن ( تعریف) جو ہمیں بتائی گئی ہے اُس میں امام رازی بھی تھے اور نہج البلاغہ اور کئی کتابیں وغیرہ وغیرہ ۔ اور ماڈرن زمانے کے جو مفکرین ہیں اُنھوں نے بھی پوری دنیا کو چار چیزوں میں بانٹ دیا ۔ جمادات جو سب سے کم تر ہیں ، دوسرئے سٹیج پر جو بہتر ہے وہ نباتات ، اُس سے بہتر حیوانات، اور سب سے بہتر انسان ہوتا ہے۔ تو ہر چھوٹی چیز اگر بڑی چیز پر قربان ہو جائے تو اُس کی بقا ہو جاتی ہے۔ اور اُس کی مثال اُنھوں نے یہ دی ہے کہ کوئی بنجر زمین آپ دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ مردہ زمین ہے ۔ لیکن اگر زمین میں سے کچھ پیدا ہونا شروع ہو جائے تو کہتے ہیں کہ یہ زندہ زمین ہے۔ یعنی اُس کی بقا اسی میں ہے کہ وہ جو قربانی دے کہ کسی چیز کو پیدا کر دئے۔ کچھ پروڈیوس کر دے

جواب: آپ کے لیے کوئی قربانی دیتا ہے تو وہ جہاد نہیں ہے ۔ قربانی جو اللہ کے لیے دیتا ہے وہ جہاد ہے۔

مدیر : میں  اسی طرف آ رہا ہوں ۔ چونک انسان سے بر تر کوئی چیز نہیں اور ہر چیز سے افضل انسان ہو گیا اور اللہ نے کہا کہ ہم نے سب سے افضل کسی کو بنایا تو انسان کو بنایا۔ تو بقول آپ کے اگر زمین کے لیے میں مارا جاتا ہوں تو جہاد کہاں رہے گا۔ اس لیے کہ زمین تو مجھ سے کمتر چیز تھی۔ اگر میں کسی بھی چیز کے لیے جو دنیاوی ہو اُس کے لیے مارا جاؤں تو وہ مجھ سے کمتر ہو جاتی ہے اور جو چیز بھی مجھ سے کم تر ہو گی اس کے لیے جان دوں حتیٰ کہ ملک کے لیے بھی جان دوں تو وہ بھی مجھ سے کم تر ہے۔ مجھ سے بہتر تو صرف ذات پروردگار ہے۔ جب تک احکام نبوی نہ ہوں کہ یہاں پر تمھاری ضرورت برائے بقائے انسانیت یا بقائے مذہب ہے۔ وہ وہاں سے جہاد شروع ہوتا ہے۔ ایک فلسفہ یہ تھا اُسی فلسفے کو جو قادیانی حضرات تھے اُنھوں نے کہا کہ جہاد کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اُنھوں نے اُسے اپنے دین سے خارج کر دیا۔ میں آپ سے معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کہاں پر جا کے جہاد واجب ہو جاتا ہے۔

جواب: سب سے بڑا  جہاد جو ہے وہ نفس سے جہاد ہے۔ یہ جہاد اکبر ہے یہ ہر کوئی نہیں کر سکتا ۔ جس نے کر لیا وہ اللہ کا ہو گیا۔ اُس نے نفس کی قربانی دے دی۔ ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کی قربانی دی نا۔ یہ اُس سے بھی بڑھ کے ہے نا۔ اس کا درجہ اُس سے بھی بڑھ کے ہے۔ یہ تو سب سے افضل ہے۔ اُس کے بعد جہاد جو ہے نا وہ کافر کے ساتھ جہاد ہے وہ بھی دین کے لیے۔ اُس سے ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں ۔ اُس کو دین میں لانے کے لیے۔ باقی ہم جو ہندوستان سے لڑ پڑئے ہیں زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے وہ جہاد کون سا ہے۔ پھر وہ جہاد یہ کہ کافر سے دین کے لیے جہاد کریں اور فی سبیل اللہ ہو، اُس کا معاوضہ نہ لے نا۔ اگر معاوضہ لے گا تو جہاد ختم ہو گیا۔ وہ آج کل ایسا ہوتا نہیں ۔ جہاں آپ نے کہا کہ انسان افضل ہے میں کہتا ہوں ہر انسان افضل نہں  ہے۔ اگر ہر انسان افضل ہے تو پھر دوزخ کا کیا مطلب ہے؟ وہ انسان افضل ہے جس نے اللہ کو اپنے دل میں بسا لیا۔ جو اللہ سے واصل ہو گیا وہ افضل ہے نا۔ وہ اشرف ہے نا۔ جو اُس ( اللہ ) سے واصل نہیں ہے تو شیطان سے واصل ہے نا۔ پھر افضل کیسے ہوا؟ وہ ارذل ہو جاتا ہے۔ وہ (اللہ سے واصل ) افضل ہو جاتا ہے اور وہ ( شیطان  سے واصل ) ارذل ہو جاتا ہے۔ وہ اُس وقت افضل ہوتا ہے۔ اب آپ کہتے ہیں کہ فرشتوں سے بھی افضل ہے تو فرشتے تو بیت المعمور میں چلے جاتے ہیں آپ تو نہیں جا سکتے پھر آپ کیسے افضل ہیں ؟ لیکن آپ محنت کر کے ایک طریقہ سیکھ کے روحانیت کے ذریعے اللہ تک پہنچ جاتے ہیں نا، اللہ تک فرشتہ نہیں جا سکتا ۔ تب آپ افضل ہیں نا۔ جہاں تک فرشتہ پہنچ سکتا ہے وہاں تک آپ افضل نہیں ہیں ۔  جہاں فرشتہ نہیں اُس سے آگے جائیں تو پھر افضل ہیں ۔

مدیر: پیدائش کا جہاں تک تعلق ہے کہ جب اللہ پیدا کرتا ہے کہ جیسے آنحضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بشر جو پیدا ہوتا ہے وہ فطرت کے اصولوں پیدا ہوتا ہےاور دین اسلام فطرت کہلاتا ہے۔ یعنی دوسرے معنوں میں کہ ہر شخص پیدا تو مسلمان ہوتا ہے، اللہ تعالی نے اُس کو صیلاحیت تو اُس کو پوری دی ہوئی ہے کہ وہ چاہے تو بن سکتا ہےچاہے  تو نہ بنے۔

جواب: ہم اس کے قائل نہیں نا ۔ اُس ( شخص ) کےچاہنے سے نہیں ہوتا ہے۔ جس کو اللہ چاہے وہی روح کو--افضل --ارذل -- اوپر سے بنا کر نیچے بھیجتا ہے نا۔

مدیر: پھر آدمی تو بے بس ہو جاتا ہے۔

جواب: آدمی بے بس ہے۔

مدیر: جب بے بس ہے تو پھر اُس کو سزا نہیں مل سکتی۔ اس لیے کہ اللہ کے عدل کے خلاف ہو جائے گا۔

جواب: اُس  کی وجہ یہ ہے نا، یہ سارے یہ ہی سوچتے ہیں نا۔ جب اللہ نے روحیں بنائیں تھیں اُن کو اپنا جلوہ دکھایا تھا اور پوچھا تھا " الست بربکم " کیا تم مجھے رب مانتی ہو؟--            سب نے کہا تھا " قالو بلیٰ"--- پھر اللہ نے اُن کے امتحان کے لیےدنیا کے لذات بنائے۔۔۔۔۔ مصنوعی عورتیں ، شراب وغیرہ یہ سب دنیا کی چزیں بنا دیں نا چمک دمک کے ساتھ کہ کوئی ہے اس کی طالب ۔ تو بہت سی روحیں اُدھر لپکیں نا۔ کوئی عورتوں کی طرف، کوئی شراب کی طرف کوئی پیسے کی طرف وہ اُس کی قسمت میں لکھ دیا گیا نا۔ بہت سی روحیں ادھر نہیں گئیں نا وہ اللہ کا جلوہ ہی دیکھتی رہیں نا۔ وہ جلوہ ان کی قسمت میں لکھ دیا گیا نا- جنھوں نے وہ دنیا مانگی تھی اُن کو نیچے آکر وہ دنیا ہی ملی نا۔ جب وہ نیچے آئے تو اللہ تعالی نے ساتھ دو شیطان لگا دیئے کہ اُن کو اللہ کی طرف جانے ہی نہیں دینا۔ وہ دنیا میں غرق رہے بس۔ اگر انھوں نے نماز پڑھی نا عبادت کری تو اللہ کے لیے نہیں پڑھی۔ وہ لالچ--بہشت کے لالچ کے لیے۔ یہاں بھی لالچی وہاں بھی لالچی ۔ پھر وہ ہی لوگ ہیں جو بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے۔ اللہ نے نہیں چاہا کہ اُن کو صیحیح رستہ ملے ۔ تو کوئی قادیانی ہو گیا، کوئی کیا ہو گیا۔ اسلام سے خارج ہو گئے نا۔ وہ جو روحیں تھیں جنھوں نے اللہ کو طلب کیا تھا وہ نیچے آئے اُن کے ساتھ دو فرشتے لگا دیئے کہ اُن کو اُدھر سینما جانے ہی نہیں دینا۔ کیا وجہ ہے ایک بھائی ہےکلب میں گھوم رہا ہےایک بھائی ہے اللہ اللہ کر رہا ہے۔ یہ بھائیوں کا رشتہ یہاں ہوا روحوں کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔ روحوں کا تو نہ بھائی ہے نہ ماں ہے۔ وہ اللہ کی طرف ہو گیا وہ دنیا کی طرف ہو گیا۔ یہ اُوپر  سے مقدر ہے ۔ اُس کے تحت ہی تم سے کام کرآیا جائے گا نا۔ جب اُوپر ہی سب کچھ کر کے آئے ہو، اب نیچے کیا کرو گے۔

مدیر: تو یہاں اگر جو لوگ آنا چاہیں واپس روحانیت کی طرف وہ بیچارے کیا کریں؟

جواب: وہ جو روحیں  ہیں جنھوں نے اُوپر ہی دنیا مانگی  تھی۔ اُس میں شیطان بھی تھا عزازئیل بھی تھا۔ جنوں کی روحیں بھی بنی تھیں انسانوں کی روحیں بھی بنی تھیں ۔ جو ذرا بیک ہو گئی تھیں وہ جنوں کی بن گئیں ۔ جوآگے تھیں وہ انسانوں کی روحیں بن گئیں ۔ اس ( شیطان ) بھی کہا تھا کہ یہ دنیا دار ہے، یہ بھی دوزخی ہے اس کو، ابلیس کو، جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ تو دوزخی ہے۔ اس کا نام عزازئیل ہے۔ اُس نے کہا کہ میں بہشتی بن کے دکھاؤں گا۔ اُس نے اتنی عبادت کری ، چپے چپے پہ کری نا۔ چونکہ تھا جو دوزخی آخر میں یہ دوزخی ہو ہی گیا نا اک سجدہ نہیں کیا چلو (بھگا دیا) ، اُس پہ لعنت برسا دی گی۔ پھر جو لوگ بہشتی ہوتے ہیں نا وہ روحیں ہوتی ہیں جو یہاں ( دنیا میں ) بڑئے نڑئے گناہ کرتی رہیں ، ڈاکے مارتی رہیں ، کوئی ایسا کام کریں گی کہ اللہ اُن کو ولی بنا دے گا۔ بہت سے تمھارئے ڈاکو چور ولی بن گئے نا، ساری عمر چوریاں ڈاکے کرتے رہے آخر میں کوئی چھوٹا سا کام کیا اللہ نے اُن کو ولی بنا دیا۔ یہ کیا وجہ ہے پھر ۔ یہ وہی وجہ ہے ، اُوپر کی وجہ ہے۔ نیچے تعمیل ہو رہی ہے۔ اب رہا کیا جس کو وہ چاہتا ہے دوزخ میں جس کو چاہتا ہے بہشت میں ( داخل کر دیتا ہیے) ۔ یہ تو آپ مانتے ہیں نا؟ بھلے وہ آپ کو دوزخ میں ڈال دئے جس کو بھی ۔ جس کو وہ چاہے تو پھر یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی؟ وہی جس کو چاہتا دوزخ میں جس کو چاہتا بہشت میں بھیج دیتا ، وہیں سے بھیج دیتا نا۔ پھر جس کو دوزخ میں بھیجتا وہ کہتا نا -- اے اللہ مجھے کیوں دوزخ میں بھیجا ؟ میں نے کیا کیا تھا؟ ( جواب ملتا ) کہ تو نے وہ اقرار کیا تھانا ( کہتا) اقرار کیا تھا ناعمل تو نہیں کیا تھا۔ اُس عمل کے لیے اُس روح کو نیچے لایا۔ پھر جب کہے گا کہ میں نے کیا کیا۔ تو( اللہ کہے گا) کہ تو نے اقرار بھی کیا تھا اور دنیا میں جا کے عمل بھی کیا تھا۔ یہاں ایک نقطہ اُس نے چھوڑا ہے ۔ اُن لوگوں کے لیے۔ ہاں ! اگر اُن کو کوئی کامل ٹکڑا جائے تو ۔۔۔۔۔۔ تو پھر علامہ اقبال فرماتے ہیں نا : نگاہ مرد مومن سے بدل جاتیں ہیں تقدیریں --- اگر کوئی کامل ٹکر جائے ۔ ورنہ نہیں ۔۔۔۔۔۔ ورنہ اُن کی تقدیریں وہی ہیں ۔

ایک واقعہ ہے۔

بابا فرید رحمتہ اللہ ایک دن گئے شہاب الدین سہروردی---نا--- بہاؤ الدین زکریا ملتانی کے پاس ۔ اُنھوں نے اُن کو دعوت پر بلایا ۔ دونوں ولی تھے وہ بھی ولی ، یہ بھی ولی ۔  جب دعوت میں بلایا - لوگ بیٹھے تھےانتظار تھا کہ کوئی ولی آ رہا ہے ۔ جب آئے تو کھانے کے وقت بہاؤ الدین زکریا نے اپنی ایک کنیز کو بولا کہ اُن کے ہاتھ دھلاؤ۔ اب وہ کیا کرنے لگے ۔ وہ اُن کے ہاتھ دھلاتی رہی وہ اُس ( کنیز ) کے منہ کو تکتے رہے ۔ پورا لوٹا ختم ہو گیا انھوں نے نظر نیچی نہیں کری ۔ لوگوں کو تشویش ہوئی کہ ولی ہو کے تاڑتا کیوں ہے ۔ اُس نے کیوں تاڑا ؟ اب بہاؤ الدین زکریا کو پتہ تھا کوئی راز ہو گا۔ لوگوں کو کوئی پتہ نہ تھا۔ جب کھانے پہ سارئے بیٹھے نا اُس وقت بہاؤ الدین زکریا نے چھیڑا کہ آپ اُس ( کنیز ) کے منہ کو کیوں تکتے رہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ہاتھ دھلا رہی ہے،آپ نیچے ہاتھ رکھیں ،آپ اُس کو تاڑتے رہے ۔ اُنھوں نے کہا کہ دراصل بات  یہ ہے کہ جب میں تمھارے گھر آیا میں دیکھا کہ یہ سارئے جتنے بھی تمھارے سرونٹ ( نوکر ) وغیرہ ہیں نا سارے بہشتی ہیں ۔ صرف یہ کنیز ہے دوزخن ہے ۔ یہ میرے ہاتھ دھلاتی رہی تو میں اُس کے گناہ معاف کراتا رہا۔ اُس وقت تک نظر نیچے نہیں ہٹائی جب تک اللہ نے نہیں کہا کہ میں نے اس کو معاف کر دیا ۔ یہ حکمت تھی یعنی ایسے ولی ہوتے ہیں کہ تقدیر بدل دی تھی --- ( وہ کنیز ) تھی انہی ( دوزخیوں ) میں سے--  ایسے کئ واقعات ہو ئے ہیں ولیوں کے ذریعے۔۔۔۔۔ نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں ۔

مدیر: میں  نے یہ پہلے بھی عرض کیا تھا کہ جو کامل ہوتا ہے وہ جس پر نظر ڈال دئے اُس کو کامل کر دیتا ہے۔ اور یہ ہی ایک معراج انسانیت وہاں پہ جا کے ختم ہو جاتی ہے وہ ایک اللہ کی طرف سے دی ہوئی معراج ہے۔

ایک اور سوال ہے : کہ آپ کی کیا امام مہدی سے ملاقات ہو چکی - بالمشافہ؟

جواب: میں  تو کبھی نہیں کہا کہ میری امام مہدی سے ملاقات ہوئی ہے۔

مدیر: یہ میرا سوال ہے۔

جواب: میں  کچھ نہیں بتا سکتا ۔

مدیر: جیسے آپ نے ابھی فرمایا تھا کہ پہلی مرتبہ نور کا ہالہ کمرے میں نظر آیا۔

جواب: وہ امام مہدی نہیں تھے۔ بری امام  تھے-- میں نے بری امام کا کہا تھا۔

مدیر: یہ بھی  میں ایک پرچے پر دیکھا تھا کہ آپ نے فرمایا کہ امام مہدی کا ظہور ہو چکا ہے۔

جواب: میں  نہیں کہتا۔ ساری دنیا کہتی ہے۔ گھمگول شریف والوں کو-- پرسوں ترسوں خبر پڑھی کہ امام مہدی آچکےہیں ، جتنے بھی ولی ہیں اُن کو اُن کا چہرہ د کھایا جا چکا ہے۔ یہاں ( برطانیہ میں ) شیخ ناظم ہیں ، مشہور ہیں لندن میں ، وہ بھی کہتے ہیں ، امام مہدی آ چکے ہیں ۔

مدیر: تو آپ کو بھی اُن کا چہرہ دکھایا گیا؟

جواب: ہم بھی  کہتے ہیں ، آ چکے ہیں ۔ اب جب اُن کی نشانی کیا ہو گی ؟ جس طرح حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی پشت پر مہر نبوت تھی کلمے کے ساتھ ، اسی طرح اُن ( امام مہدی ) کی پشت پہ کلمے کے ساتھ مہر مہدیت ہو گی۔

مدیر: تو مجھ  جیسا گنہگار آدمی کیسے اُن کو ننگا دیکھے گا کہ اُن کی پشت پر مہر مہدیت ہے۔ میرے لیے بھی تو کوئی ایسی گائیڈ نس دے دیں کہ ان کیس میری زندگی میں وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب: جو کہے  گا کہ میں امام مہدی ہوں تو اُس کے پاس چلے جانا نا، کہ آپ امام مہدی ہو؟ وہ کہے گا ہاں-- تو کہنا کہ ذرا کمر دکھاؤ نا۔ جو کہے گا کہ میں ہوں اُس کو دکھانی پڑے گی۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ نہیں ہے پھر آپ کو حق بھی نہیں ہے دیکھنے کا--- کوئی کہتا ہے کہ میں ہوں تو پھر اُس کو دکھانے کا  حق ہے- یہ نشانی ہے۔ پیٹنٹ نشانی ہے۔

مدیر: اس لیے  کہ مولانا مودودی نے بھی اپنی ایک کتاب  :  "مسائل و افکار" میں لکھا ہے کہ سوال کیا گیا کہ حضرت امام مہدی کارتبہ بڑا ہے یا حضرت عیسٰی کا۔ تو انھوں نے بڑا اچھا اس کا جواب دیا تھا کہ جس وقت امام مہدی کا ظہور ہو گا اُسی دور میں حضرت عیسٰی  بھی واپس آئیں گے۔ اور نماز امام مہدی پڑھائیں گے اور حضرت عیسٰی اُن کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ تو یہ آپ فیصلہ کر لیجیے کہ نماز پڑھانے والا بڑا ہوتا ہے یا نماز پرھنے والا۔ تو اُس کا مقصد یہ ہے کہ اگر امام مہدی کا ظہور ہو چکا ہے تو حضرت عیسٰی کو بھی دنیا میں واپس آنا ہی چاہیے۔

جواب: بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ آئے ہوئے ہیں اپنا کام کر رہے ہیں ۔ امریکی رسالوں میں بھی تھا ۔ ابتداء میں ہم نے ایسا پڑھا ہے رسالوں میں ۔ وہاں ایک آدمی آتا  ہے ہسپتالوں میں جاتا ہے۔ لاعلاج قسم کے مریضوں کو دم کرتا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ باولا سا ہے۔ جب وہ چلا جاتا ہے وہ ( مریض ) ٹھیک ہو جاتا ہے۔پھر اُس کے پہچھے بھاگتے ہیں وہ ملتا نہیں ہے۔ اس طریقے سے بہت سی رپورٹیں ہیں ۔ پھر کئی لوگوں نے آدمی کی تصویریں بھی لیں ہیں ۔ بہرحال یہ آگے کی بات ہے ہم نے تحقیق پوری کری ہے، وہ جو تصویر ہے وہ عیسٰی علیہ السلا م کی ہی ہے۔

مدیر: جو تصویر اس وقت لگی ہوئی چرچز ( گرجا گھر ) وغیرہ میں؟

جواب: نہیں ،  چرچز میں لگی ہوئی ہے نا یہ انھوں  نے خیالی بنائی ہے۔ کہ اُن کی ایسے آنکھیں تھی ایسے بال تھے، ایسے بنائی ہے۔ اس میں کوئی چیز مل گئی ہے کوئی نہیں ملی ۔ لیکن وہ جو تصویر اب امریکہ میں ہے عام لوگوں کے پاس ہے، اب پاکستان میں بھی پہنچ گئی ہے لوگوں نے د کھائی ہے، وہ جو ہے نا وہ اُن (حضرت عیسٰی ) کی اصلی تصویر ہے۔ کیونکہ میں نے عیسٰی علیہ السلام کو بذات خود دیکھا ہے۔ پھر میں نے اُس تصویر کو دیکھا ہے۔ پھر کچھ چہرئے چاند کے اُوپر  پر ہیں ۔اُس میں جو تصویر نیچے ہے وہی تصویر چاند پہ ہے۔ اُس کے لیے ناسا نے کہا ہے کہ چاند پہ عیسیٰ علیہ السلام کی تصویر موجود ہے یہ ناسا کی رپورٹ ہے۔

مدیر: تو حضرت مہدی کی تصویر بھی اوپر( چاند) موجود ہو گی؟

جواب: ضرور ہو گی ۔ اگر اُن ( عیسٰی ) کی ہے تو اُن ( امام مہدی کی بھی ہو گی) اب عیسیٰ کو پہچانا  نا توآپ نے کہا ۔ اب مہدی کو پہچانے گا تو وہ کہے گا کہ اُس کی تصویر بھی اُوپر ہے۔

مدیر: ایک  اور مسلئہ ہے جو یہاں کے ادیبوں کو اور دانشواروں کو اور شاعروں کو ہمیشہ الجھا کر رکھتا ہے، اس میں آپ میری راہنمائی کریں کہ اسلام میں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر کیوں رکھی گئ ہے؟ کیا عورت ڈی گریڈ ہے؟

جواب: اصل  میں یہ ہے، عورت جو ہے نا وہ رب کا دیدار نہیں کر سکتی ۔ صرف رب سے بات کر سکتی ہے۔ دیدار نہیں کر سکتی۔ اسی وجہ سے عورت کا  رتبہ کم ہے۔ ولیوں میں رابعہ بصری کو قلندرہ بولتے ہیں کہ سب سے بڑی ہے لیکن اُن کو بھی آدھا قلندر کہتے ہیں ۔ حالانکہ خانہ کبعہ اُن کا طواف کرنے آیا تھا۔۔ خانہ کبعہ طواف کرے پھر بھی اُن کو آدھا قلندر کہتے ہیں ۔ اُس کی وجہ یہ تھی کہ وہ رب سے باتیں کرتی تھیں لیکن  رب کا دیدار نہیں کر سکتی  تھیں۔ اس وجہ سے عورت کا درجہ نیچا ہے۔ دوسری بات یہ ہے عورت کو رب نے (اپنے ہاتھ سے) بنایا ہی نہیں ہے۔ ۔ تم کہو گے کہ یہ پھر کہاں سے آگئی۔ اللہ نے تو صرف آدم علیہ السلام کو بنایا مٹی سے بنایا۔ یہ کہیں پڑھا ہےکہ مٹی سے مائی حوا کو بھی بنایا - نہیں پڑھا۔ صرف آدم علیہ السلام کا پڑھا ہے، مائی حواکا کیوں نہیں پڑھا ۔  پسلی سے نکلیں نا۔ رب نے ( اپنے ہاتھ سے) نہیں بنایا نا۔ آدم علیہ السلام کی پسلی سے نکلیں ، آدم کے اندر سے ، وہ جو مکر چکر تھے وہ عورت کی شکل میں نمودار ہوئے۔ اس وجہ سے اس کی پوزیشن جو ہے نا وہ نیچے ہے۔ رب کی تخلیق نہیں ہے 

 تمھارا وہ اللہ ہے اور عورت کے مجازی خدا تم ہو۔ اسکے تم ہومجازی خدا، وہ تمھارے برابر کیسے ہو سکتی ہے۔ پھر دو ملا کے آگے پیچھے ایک ( مرد) کے برابر کر دیں نا۔ اس وجہ سے ایک کی گواہی  نہیں ہوتی ۔ مرد کے برابر نہیں ہے ۔ نا دیدار کر سکتی ہے- نا اسکو اللہ نے تخلیق کیا ہے-  یہ مرد سے نکلی ہوئی ہے۔ صرف حضرت فاطمہ الزہرہ نے (رب کا دیدار) کیا ہے۔ اُن کو بتول کہتے ہیں ۔ اآن میں جو روح تھی نا وہ مردانہ تھی۔ جسم زنانہ تھا نا۔ اب بتول تب کہتے ہیں کہ عورتوں کو ہر مہینے پریڈ آتے تھے ۔ اُن کو پریڈ نہیں آتے  تھے۔۔ جن عورتوں کو پریڈ نہ آئیں اُن کو بانجھ کہتے ہیں اُن کے اُولاد نہیں ہوتی ہے ۔ اُن کی اُولاد بھی ہو گئی ۔ پریڈ بھی نہیں تھے اُولاد بھی ہو گئی۔ اب رہا سوال کہ اولاد کی پرورش تو خون سے ہوتی ہے تو خون تھا ہی نہیں ۔ پرورش کیسے ہو گئی ؟ وہ نور سے پرورش ہوئی، تب نوری اولاد کہتے ہیں نا۔ صرف اُن کی ، آگے نہیں ۔۔ سات نسلوں تک اُس کا اثر رہا اُس کے بعد اثر ختم ہو گیا۔ سات سے گیارہ تک امامت رہی۔ انہی میں رہی ۔ اُس کے بعد یہ امامت اُمت میں چلی گئی۔ امام ابو حنیفہ میں چلے گئی ، امام مالک میں چلی گئی ، کبھی سادات میں کبھی اُمت میں ۔

مدیر: امام جعفر صادق کے وقت میں امام ابو حنیفہ موجود تھےبلکہ انھوں نے یہ کہا کہ میں نے امام جعفر صادق سے علمی اکستاب کیا۔

جواب: امام جعفر صادق طریقت میں تھے  یہ شریعت کا علم دیتے نہیں تھے ۔ پھر آخر میں امام مالک کے پاس چلی گئی۔ ،پھر کبھی اُمت میں ، کبھی سادات میں ۔ مستقل سادات میں نہیں رہی۔

مدیر: اس لئے  کہ زین العابدین جو پیدا ہوئے تو اُن کی ماں جو تھی وہ ایران کی تھیں ۔ تو نجیب الطرفین کا جو سلسلہ چلا تھا وہ تو امام حسن اور امام حسین پہ آ کے ختم ہو گیا۔

جواب: ابھی تک بھی لوگ نجیب الطرفین ہیں۔ نجیب الطرفین کا یہ ہوتا ہے کہ اگر ماں حضرت حسن سے ہو یا باپ حضرت حسن سے ہو  آگے بیوی حضرت حسین سے یا حسن سے ہو ۔ اس طرح اُس کو نجیب الطرفین کہتے ہیں نا ۔ یہاں ، ابھی تک، پاکستان میں ، دنیا میں نجیب الطرفین سادات کہلاتے ہیں نا۔ جس طرح غوث پاک ہیں وہ بھی نجیب الطرفین ہی کہلاتے ہیں ، ماں سے بھی سلسلہ تھا باپ سے بھی تھا۔

مدیر: جو بلڈ ( خون ) باہر کا شامل ہوا ، مثال کے طور پہ امام۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب: پہلے جو تھا وہ نور ہی نور تھا نا۔ جب بلڈ آیا نا تونورکے ساتھ بلڈ بھی شامل ہوگیا  نا۔ کچھ عرصے کے بعد نور بھی ختم ہو گیا بلڈ رہ گیا نا-پھر بلڈ میں نور اُنکو ڈالنا پڑا-  اُن اماموں تک کسی کو ضرورت نہیں تھی چلے ولے کی  ۔ کسی سیّد کو ضرورت نہیں تھی، اماموں تک۔ اُس کے بعد سادات کو بھی چلّوں کی ضرورت پڑی ہے نا۔ اُس نور کے لیے جو بلڈ سے نکل گیا تھا ۔ اُس نور کا اثر وہاں ( بارہ اماموں ) تک رہا نا ۔ ۔  پھر اُن کو بھی چلّوں کی ضرورت پڑی ، اُس سے پہلے نہیں پڑی ۔ وہ نوری ہی نوری تھے۔

مدیر: ایک  اور یہاں لوگ پوچھتے ہیں ، کہ جب بھی کبھی امام مہدی کا ظہور ہو گا کیا وہ سعودی عرب سے ہو گا؟ یا کسی جگہ سے بھی ہو سکتا ہے؟

جواب: دو حدیثیں ہیں؛ ایک میں یہ ہے کہ وہ خانہ کبعہ سے ہو گا، وہاں ظاہر ہونگے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ میں ظاہر ہونگے ۔ اب اگر آپ دونوں حدیثوں کو ماننے والے ہیں تو پھر اُن کو دونوں جگہ آنا چاہیے۔ اگر وہ ایک جگہ آتے ہیں تو پھر دوسری حدیث والا نہیں مانے گا۔ وہ کہے گا کہ اُن کو بہت المقدس میں آنا تھا کبعے میں کیسے آ گئے۔ ادھر آنا تھا اُدھر کیسے آ گئے۔ پھر جھگڑا ہو گا نا۔ اس کا مطلب ہے دونوں حدیثیں غلط ہو گئیں ۔ ایک تو غلط  ہو ہی گئی نا۔ اب دونوں میں سے کیا خبر کون سی غلط ہے۔ تو دونوں کو آپ ضیعف بھی کہہ سکتے ہیں ۔

مدیر: کیا  یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ بیک وقت دونوں جگہ سے ظاہر ہو جائیں ؟

جواب: ایسا نہیں کسی ایک ہی جگہ آئیں گے نا۔ لیکن چونکہ ہم حدیثوں کے قائل ہیں نا، ماننے والے ہیں ، اُن کی نفی بھی نہیں کرتے ۔ جس جگہ بھی آئیں گے ہم نے تو اُن کو ماننا ہے نا۔ اُس روایت کو نہیں ماننا ہے نا۔  جومہدی علیہ السلام کی نشانیاں ہیں وہ جس شخس پہ آ گئیں ، اگر یہاں اترا ہے تو ہم نے جو اللہ کی نشانی ہے اُس کو دیکھنا ہے، وہ  راوی کا لکھا ہوا ہے نا  یہ اللہ کی نشانی ہے-  ہم نے اللہ کی نشانی کو ماننا ہے نا۔ راوی کو نہیں ماننا ہے نا۔ کیونکہ راوی غلط بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ دو سو ( 200 ) حدیثوں کی تصدیق ہے ، حضرت عائشہ صدیقہ نے کری تھی۔ باقی کی تصدیق تو نہیں ہے نا۔ اُس کے بعد کہتے ہیں حضرت امام بخاری کی ( بیان کردہ احادیث ) تصدیق والی ہیں ۔وہ کہتے ہیں جب وہ حدیث لکھتے تھے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اشارہ ہوتا تھا تب وہ لکھتے تھے۔ ہم کہتے ہیں اگر وہ لکھتے تھے تو پھر اس میں ضعیف کیوں کہتے ہو۔ یہ بات ہم کو مشکوک کرتی ہے۔ جب جو چیز اشارے سے لکھی گئی آپ کہتے ہو ضعیف ہے ۔ اُس میں تو کوئی ضعیف ہونی ہی نہیں چاہیے۔ اگر ضعیف تھی تو اآس میں ڈالی کیوں ؟ اس بات نے مشکوک کر دیا نا۔ ہم اس چیز کے قائل ہیں کہ اگر نشانیاں پوری اتریں تو وہ ( امام مہدی) جہاں بھی اتریں ہمیں اُن کو تسلیم کرنا پڑے گا۔

مدیر: اس میں  میرئے خیال میں قول ہے حضرت امام جعفر صادق کا اور بڑی اچھی دلیل ہے کہ وہ حدیث جو قرآن سے مطابقت کرتی ہو وہ تو صیحیح مان لو لیکن وہ جو حدیث جو قرآن کے against ( خلاف) جاتی ہو اُس کو دیوار پہ مارو وہ رسول کی بات نہیں ہے۔ انھوں نے حد فاصل کھینچی ۔ اب اگر بخاری شریف میں بھی حدیث مل جائے جو قرآن سے ہٹ کے ہو تو میرے خیال میں تو ہر آدمی کو۔۔۔۔۔

جواب: اگر  قرآن سے ہٹ کے ہے تو پھر اُس میں ڈالی کیوں گئی، درج کیوں کیا؟

مدیر: ساری ایسی چیزیں اور بہت ساری ایسی کتابیں ، آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ اسلام کا سب سے تاریک دور سو سال کا ہے یعنی وصال رسول کے بعد سے پہلی کتاب جب ہمارے پاس ہے، پہلی کتاب پورے روئے زمین پہ قرآن کو چھوڑ کے، وہ ابن اسحاق کی سیرت النبی ہے۔ اور سو سال تک ہمارئے پاس کہیں سے کوئی ایک پرزہ لکھا ہوا نہیں ملتا ۔ وہ جو کچھ بھی ہے سینہ با سینہ آیا۔ میں نے آپ سے کہا آپ نے اُن سے کہا انھوں نے اُن کو کہا۔ کتابی شکل میں کہیں نہیں ملتا۔ وہ گڑ بڑ ہوا سارا۔ یہ چونکہ تحریری کہیں نہیں ہے اسی لیے آج پوری اُمت مسلمہ رسول کی تاریخ انتقال نہیں جانتی۔ آپ  کب پیدا ہوئے یہ تو مان لی جاتی ہے لیکن جب حکومت بن چکی ہو مکہ سے مدینہ تک اسلام پھیل چکا ہو، پورا عرب سرنگوں ہو چکا ہو، اور آج تک پوری اُمت ایک جگہ قائل نہیں ہے کہ رسول کا انتقال کس دن ہوا تھا ۔ اور یہ ایک ایسی زبردست ہمارے یہاں کمزوری ہے کہ ارے ! اتنا بڑا  شخص دنیا کو چھوڑ کے گیا ہو اور یہ ہی نہیں آج تلک تصدیق ہو سکے کہ کس دن وصال ہوا ہے بارہ دن کے اندر ہوا ہے، اٹھائیس صفر کو ہوا ہے یا کس دن ہوا ہے کوئی تصدیق اس کی آج تلک تحریری نہیں۔ زبانی کوئی مانتا ہے کوئی نہیں مانتا۔ جس وقت کوئی زبانی بات ہوتی ہے تو کوئی کہتا ہے کہ یہ تاریخ نہیں یہ تاریخ تھی۔

جواب: حضرت امام جعفر کا جو دور تھا بڑا قریبی  دور تھا  حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے۔ جب انھوں نے بھی کہا کہ حدیث قرآن سے مطابقت نہیں رکھتی  ۔۔۔۔ اس کا مطلب ہے کہ اُن کے زمانے میں بھی ایسی حدیثیں تھیں ۔ یہ ثبوت ہے  ( کہ اُس زمانے میں بھی ایسی حدیثیں تھیں)۔

مدیر: تاریخ  میں میں ابھی پڑھ رہا تھا  کہ حضرت عمر نے ایک دن ابو ہریرہ کو سڑک پہ پکڑ لیا  اور اتنی زور سے گھونسہ مارا کہ منہ سے خون بہنے لگا۔ وہ رسول کے پاس شکائت لے کے گئے کہ صاحب انھوں نے مجھے بے وجہ مارا۔ تو انھوں نے (حضرت عمر) نے کہا کہ نہیں انھوں نے غلط حدیث پیش کی تھی۔ تو رسول اللہ  نے فرمایا کہ نہیں اکثر اوقات ایسا ہوا ہے کہ سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ اپنی طرف سے اُن بیچاروں نے صیحیح بات بتائی لیکن سمجھ نہیں سکے یا سمجھا نہیں سکے۔ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بالکل غلط بات ہو گئی جس پہ حضرت عمر کو اتنا غصّہ آیا کہ انھوں نے پٹائی کر دی ۔ یہ بھی ہمارے ساتھ ٹریجڈی ہوئی ہے۔ اور میرے خیال میں بہتر فرقے جو بنے ہیں اسی کی وجہ سے بنے ہیں وگرنہ کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ رسول اللہ کو نہیں مانتا ، کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ قرآن کو نہیں مانتا ، کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ اللہ کو نہیں مانتا۔ جب سب اللہ کو مانتے ہیں اللہ کے رسول  کو مانتے ہیں قرآن کو مانتے ہیں پھر فرقے کیوں بٹے؟ تو فرقے صرف اسی وجہ سے بٹ گئے کہ ہر ایک پاس جو پہنچی اور ایک بات کے  اگر دو معنے ہو سکتے ہیں تو ایک نے ایک معنے لے لئے ایک نے دوسرئے معنے لے لیے۔ تو نہ اُن کو برا کہہ سکتے ہیں نہ اُن کو برا کہہ سکتے ہیں۔

جواب: میں  نے جو ایک دن شوق کیا حدیثوں کو پڑھنے کا، مشکواۃ شریف کا۔ دو چار حدیثیں میں نےپڑھیں-- پھر میں نے کہا  آج کے بعد میں حدیثیں نہیں پڑھوں  گا۔  ایمان ہی خراب کرتی ہیں
 

مدیر: آپ صیحیح  کہہ رہے ہیں ۔ میرے پاس  تو اور کچھ ہے ہی نہیں سوائے چند  کتابوں کے۔ میں جب بھی ہندوستان جاتا ہوں یا پاکستان جاتا ہوں تو جتنی بھی مجھ سے اُٹھائی جا سکتی ہیں کتابیں ہی لے کے  آتا ہوں  اور  میرا رسالہ نکلتا ہے۔  ادبی نکالتا ہوں ۔ میں بذات خود بخاری پڑھ رہا تھا ، اب میرئے ذہن میں یہ بات نہیں آتی  کسی بھی صورت سے کہ کتنے ہی بے غیرت زمانہ ہو جائے  یہ میں کیسے مان لوں  کہ کسی شخص نے پوچھا جا کے حضرت عائشہ سے کہ غسل جنابت کس طرح کرتے ہیں انھوں نے کہا کہ میں تمھیں دکھائے دیتی ہوں ۔ چنانچہ انھوں نے کپڑے ڈال کے نہانا شروع کیا کہ اس طرح سے رسول اللہ نے بتایا ہے۔

جواب: ایسا نہیں ہو سکتا اسی میں ایک اور بات بھی  لکھی کہ جب حضرت عائشہ صدیقہ حیض میں ہوتی تھیں نماز پڑھتی تھیں خون ٹپکتا تو نیچے بالٹی رکھ لیتی تھیں ۔ یہ لکھنی ہی نہیں چاہیے تھیں ایسی باتیں ۔

مدیر: ایک  اور مفکر نے بڑی پیاری بات لکھی  کہ جب کسی قوم کا انحطاط شروع ہوتا ہے اور وہ ڈاؤن فال کی طرف جاتی ہےتو سب سے پہلے وہ کیا کرتی ہے کہ اپنے گزرے ہوئے اُولوالامز لوگ جو ہوتے ہیں یا اپنے لیڈر جو ہوتے ہیں اُن میں برائیاں نکالنا شروع کرتی ہیں کہ یہ برائی تھی اُن میں یہ برائی تھی  ۔۔۔۔۔ اور اُس بہانے سے وہ خود ایک عمل کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ ہمارے ہاں جب بادشاہت کا دور آیااور لوگ عیاشی اور شراب میں ڈوبنے لگے تو انھوں نے ایسی حدیثیں گھڑ کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اُن سے اگر یہ غلطی ہو جاتی تھی تو ہم نے کون سا برا کام کیا۔

جواب: اب اس کا علاج بھی آپ نے سوچا ہے؟

مدیر: سرکار اسی لیے تو آپ کے پاس آئے ہیں ۔ آخر میں آپ سے میسج لینا ہے۔

جواب: آخر  میں یہ ہے کہ جب ہم نے یہ حدیثیں پڑھیں  تو ہمارے دل میں کچھ وسوسے پیدا ہونے شروع ہو گئے ۔ اُس میں کچھ  ایسا تھا کہ یہ جو جماع ہے یہ آپ گدھی وغیرہ سے کر لیں تو کوئی گناہ نہیں ہیں ، یہ سب کا متفقہ فیصلہ تھا ۔ اس قسم کی باتیں تھیں ۔ پھر اُس میں  حدیث میں۔۔۔۔۔۔۔ مشکواۃ میں لکھا ہوا تھا  کہ حضرت عمر جب روزہ کھولتے تھے تو بیوی کے ذریعے کھولتے تھے۔ جنابت کے ذریعے ، نعوذ باللہ ۔ اُس میں لکھا ہوا ہے۔  میں بڑا پریشان ہوا کہ اسلا م کیا؟ اور یہ چیزیں ہمیں منع کی جاتی ہیں، وہ لوگ خود کرتے تھے ۔ تو بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی ۔ تو میں یہ ہی سوچا کہ یہ حدیثیں صیحیح نہیں ہیں ۔ اب جب کمزور (حدیثوں) پر سے ایمان اُٹھ رہا تھا تو پھر صیحیح سے بھی ایمان اُٹھ رہا تھا - تو پھر ہم کو ایک نسخہ ملا کہ ان حدیثوں کے چکر میں نہ جا۔ تو اپنی اللہ اللہ کر، نہ تو کوئی وسوسے آئے  اور نہ کوئی شیطان آئے ، بس اللہ اللہ کے ذریعے تیرا اللہ سے رابطہ جڑا رہے حدیثوں کی ضرورت نہیں ہے۔پھر ایسے ہی کیا ۔ پھر اللہ اللہ کرتے رہے نا تو پھر حدیثوں کے وسوسے کیا، شیطانی وسوسے بھی نہیں آتے تھے۔ اللہ اللہ کرتے اللہ سے محبت ہو گئی پھر اللہ بھی ہم سے محبت کرنے لگا۔ اس سے ہم نے منزل پا لی۔اور میں نے سوچا کہ اگر میں حدیثوں کے چکر میں رہ جاتا نا تو آج تو آج کوئی نیا فرقہ بنا ہوتا۔ پھر سوچا کہ یہ جو لوگوں نے فرقے بنائے ہیں نا اُن حدیثوں کے اوپر سوچ سوچ کے یہ فرقے بنائے ہیں ۔ اب اس وقت حل یہ ہی ہے کہ بس اُن کے چکر میں نا جاےٴ ، اللہ اللہ کو بسائے ۔ پانچ وقت نماز پڑھے جو پڑھنی ہے۔ پانچ ارکان پہ عمل کرئے اور اپنی اللہ اللہ کرئے ۔ اور حدیثیں مولویوں کے لیے چھوڑ دے۔ اس دور کے لیے علامہ اقبال کا ایک شعر بھی ہے۔ اب جو دور ہے یہ حدیثوں  کا نہیں ہے ، یہ تمہیں فتنوں میں مبتلا کریں گی  اب اللہ اللہ کا دور ہے۔ یہ حدیثیں سب اللہ ہی کے لیے  ہیں نا۔ اللہ ہی کی طرف راغب کرنے کے لیےہیں نا ۔ اب جہازوں کا دور آ گیا نا اب اُن بکھیڑوں میں گدھا گاڑیوں میں کیوں جاتا ہے۔ بسوں میں کیوں ---کب پہنچے گا، جہازوں کا دور ہےاُن کو چھوڑ سیدھا جہاز میں جا، پہنچ اُدھر-- کیوں اُلجھتے ہو۔

مدیر: آپ نے یہ بہت اچھی بات کی۔ اور حقیقت  یہ ہے کہ حضرت موسٰی کے وقت میں دور تھا جادو کا۔ اللہ نے سب سے بہتر جادو گر ، اُن تمام گادو گروں پر حاوی کرنے ولا حضرت موسی کو پیدا کر دیا۔ حضرت عیسٰی کے وقت میں طب معراج کو پہنچی تھی تو اللہ جب بھی اپنے نمائندے کو بھیجتا ہے تو اُن سب میں بہتر کو نمائندہ بناتا ہے ۔ تو ساری طب عیسٰی کے آگے فیل ہوگئی۔ آنحضورصلیٰ اللہ علیہ وسلم کے وقت میں عرب کا کلام معراجی کلام تھا کہ پڑھ کے حیرت ہوتی ہے کہ اُن کی قوت فکر کہاں پہنچی ہوئی تھی۔ آنحضور کو اُن تمام کے اوپر حاوی کر دیا۔ یہ دعویٰ کیا کہ تم ایک جیسی ایک آیت ہی بنا دو۔

جواب: جہالت  کی وجہ سے قرآن نازل کر دیا گیا۔ حدیثیں آ گئیں ۔ مہدی علیہ السلام کے زمانے میں پھر کیا ہو گا؟ پھر  وہ ساری حدیثیں  ختم --اللہ  اللہ آ جائے گا۔

مدیر: جی ہاں  بالکل ہو گا ۔ اس لیے کہ بتدریج جو عروج ہو رہا ہے وہ سب آ کر علم ہی پہ ختم ہوتا ہے۔ اللہ کی پہلی آیت جو اتری  " اقراء بسم ربک الذی خلق خلاق الا نسان من علق " ، کہ اللہ نے سب کچھ تمھیں قلم کے طفیل دیا اور قلم ایک وہ چیز ہے جو آدمی کو کہٰں سے کہیں پہنچا دیتا ہے۔ پندرہ سو سال پہلے جہالت کا زبردست اندھیرا تھا اگر کسی کے پاس علم تھا تو وہ اُس کو گھر میں بند  رکھتا تھا۔

جواب: تھوڑی  سی اور بات بتاتا چلوں آپ کو ، آپ جیسے لوگ اس کو سمجھ پاتے ہیں ۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کےوقت میں جاہلیت کو ختم کیا گیا تھا علم غالب کیا گیا تھا ۔ جب مہدی علیہ السلام آئیں گے نا اُس علم کو بھی ختم کر کے عشق پیدا کیا جائے گا۔ جہاں عشق پہنچائے وہاں ایمان والوں کو بھی خبر نہٰں ہوتی ۔ یہ آخری سٹیج ہو گا جس میں مہدی علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام اکھٹے عشق کو لوگوں کے دلوں میں ڈالیں گے۔ اب علم سے یہ بہتر فرقوں میں چلے گئے-- علم سے گئے  نا -- اب عشق ان کو ایک کرے گا ۔ پہلے جاہلوں کو علم نے ایک کیا اب عالموں کو عشق ایک کرے گا۔

مدیر: اس سے پہلے مجھے یہ حدیث مل چکی ، یہ بھی حدیث امام جعفر صادق سے ملی یا امام محمد باقر سے کہ انھوں نے کہا تھا کہ علم ایک نقط تھا جاہلوں نے اُسے پیھلا دیا۔ میں بڑا چکر میں تھا  کہ باخدا یہ کون سا فلسفہ ہے کہ علم نقطہ تھا اور جاہلوں نے اُسے پیھلا دیا ۔ سوچتے سوچتے پریشان ہو گیا۔ ایک اور پیر صاحب ملے عراق کے ہیں کہنے لگے کہ بھئی تم سمجھے نہیں ، در حقیقت یہ ہوتا ہے۔کہ اگر  میں تم سے فزکس کی بات کرؤ  اور  فزکس کا ایک فارمولا بتاؤں دو لفظوں  کے اندر کہ ایٹم اور پروٹان کیا ہوتے ہیں ۔ تو تم تو نہیں سمجھو گئے اور اگر میں تمھیں بڑئے کاغذ پہ سمجھاؤں لکھتے لکھتے ۔۔۔ تو آخر تک وہ پھیل جائے گا۔ اور جب وہ پھیل جائے گا تو اُس وقت تک جو اس کے ٹکڑے ادھر اُدھر نکلے ہوں گے وہ سب جہالت میں چلے جائیں گے۔ اصل نقطہ رہ جائے گا۔ اور آپ نے فرمایا ہے  وہ بھی یہ ہی ہے کہ آخیر میں انسان سب علم کو سمیٹ کر ایک عشق کے نقطے پر آ جائے گا۔ اور وہ جو نقطہ ہے اور وہ ہی سب کچھ ہے ۔ اور اُسی کو سمجھانے کے لیے پوری دنیا اس وقت طالب ہے۔

جواب:   اُسی عشق کی طالب ہے  پوری دنیا ۔ اب پوری دنیا علم  سے بھی بیزار ہے، یقین کرو پوری دنیا عبادت سے بھی بیزار ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نمازیں پڑھتے ہیں،  دھیان ادھر اُدھر ہوتے ہیں ۔  یہی کہتے ہیں نا--عبادت سے بھی بیزار ہیں- علم نے فرقے بنا دئیے ۔ اورعبادت نے حرص تکبر ڈال دیا ۔ اور عابد، عابد پر مسجدوں میں حملے کر رہا ہے۔  اب عشق کی ضرورت ہے ۔ اور عشق کے لیے عیسٰی اور مہدی مل کر اکھٹا کام کریں گے ، میں کہتا ہوں کر رہے ہیں ۔ نظریں ہونگی  اُن کو پہچاننے والی، تو پہچان جا ئیں گے لوگ ۔ لیکن جب حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو لوگوں نے آہستہ آہستہ پہچانا ، ایک دم تو نہیں پہنچانا ، اسی طرح اُن کو بھی لوگ آہستہ آہستہ پہچان رہے ہیں --- ہیں دنیا میں  ، کام کر رہے ہیں اور لوگ اُن کو پہچان رہے ہیں ،اُن کے ساتھ  چل رہے ہیں، اُن کے ساتھ لگ رہے ہیں ، عیسٰی کے ساتھ بھی لگ رہے ہیں ، مہدی کے ساتھ بھی لگ رہے ہیں ۔ جب عروج ہو جائے گا تو پھر پتہ چل جائے گا کہ یہ عیسٰی تھا اور یہ مہدی تھا ۔ عروج کے وقت-- پہلے نہیں ۔ پہلے جو بہت نزدیک طبقہ ہو گا، عروج کے وقت سب پہچان لیں گیں۔

مدیر: میرے  خیال میں قلیل طبقہ تو پہچان بھی  چکا ہو گا۔ اگر وہ کام کر رہے ہیں

جواب: جو قلیل طبقہ اُن کے ساتھ ہے وہ اُن کو پہچان  چکا ہے ۔ اگر وہ نہ بھی کہے میں عیسٰی  ہوں- میں مہدی  ہوں-وہ پہچانتا ہے ۔ جو اُن  کے قریب ہیں  تو جب وہ نور ہیں تو جو اُن کے قریب ہو گا وہ بھی تو نور ہو گا۔ چور کو چور پہچانتا ہے۔

مدیر: اس لیے  کہ اللہ نے بھی ان کو وہ نور کی آنکھیں دی ہو گی وہ تو اسی نظر سے دیکھیں گے نا۔ ان کو تو معلوم ہے کہ کون کیا ہے۔

جواب: صیحیح بات ہے جو اس کے قریب ہیں ۔ وہ نور العلی نور ہو گا تو نور سے نور کو پہچانے گا۔

مدیر: ایک  دوسرے کو پہنچانتے ہی ہوں گے۔

جواب: ہاں  چور چور کو پہنچانتا ہے۔

مدیر؛ وہ کہتے نہیں ہیں کہ   وہ ان کے ساتھ والے ہی اڑ کے جائیں گے

مدیر: یہ جو میں " صدا " نکالتا ہوں یہ پوری دنیا میں جاتا ہوں حتیٰ کہ جاپان بھی جاتا ہوں ۔ اردو پڑھنے والوں کے لیے اور جو دانشوار ہیں اُن کے لیے ، آپ اس میں اُن کو وہ پیغام دیں کہ وہ کون سا موضوع اس وقت ہے جو ہر ادیب، ہر شاعر ، ہر ایک کی آواز ہے کہ ہمیں کسی صورت میں آشتی حاصل ہو سکتی ہے ۔

جواب: علامہ  اقبال کا پیغام ہے ۔  اُس کے شعر لکھیں اُس کی نیچے تشریح لکھیں ۔

مدیر: مگر  ادیب جو افسانے لکھتے  ہیں تخلیق کرتے ہیں ، انشائیے لکھتے  ہیں ، شاعری کرتے ہیں ، اُن کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے۔

جواب:  ہم خود  بھی شاعر ہیں ۔ لیکن یہ کہ جب تک نفس پاک نہ ہو جائے ، دل میں  اللہ کا  درد  نہ ہواُس وقت تک مخلوق کا درد نہیں ہوتا۔ جو کچھ لکھتے ہیں بناوٹ ہی بناوٹ ہے۔ بناوٹ میں اثر نہیں ہوتا نا۔

مدیر: سبحان  اللہ ! میں اُس میں لکھو گا کہ حقیقت  یہ ہے کہ غالب نے کہا تھا کہ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔

جواب: ان میں اثر نہیں ہے - کیونکہ یہ جو بناوٹی درد پیدا کرتے ہیں تو بناوٹی پھولوں  کاغذ کے پھولوں سے خوشبو نہیں آتی۔ اصل وجہ یہ ہے- اب کیا وجہ ہے کہ وہی  علامہ اقبال شاعر ہے، اس سے بہتر بھی شعر لکھنے والے ہیں لیکن  اُن کے کلام میں اثر نہیں ہے اور اُن ( اقبال ) کے کلام میں اثر ہے ۔ وہ روحانی تھے نا ۔ یہ لکھتے ہیں دنیا کےلیے دکھاوے کیلیے کہ  لوگ ہماری طرف راغب ہوں۔

مدیر: علامہ  اقبال پر الزام ہے کہ جوانی میں  انھوں نے کسی کا قتل بھی کیا  تھا؟

جواب: مجھے علم  نہیں - اگر کیا ہو گا تو انسان تو گناہگار ہے کر بھی سکتا ہے۔

مدیر:حقیقت یہ ہے علامہ اقبال کے کلام کا پوری دنیا میں ترجمہ کیا جا رہا ہے اور ایران میں تو بہت ہے ۔ اُن کی ایک کتاب کی سیل ایک دن میں 35 ہزار کتابیں ہیں۔ ایک دن میں 35 ہزار کتابیں بکیں فارسی زبان میں ۔ پوری دنیا میں کلام کا ترجمہ ہو رہا ہے۔ دنیا کی بہت کم زبانیں ایسی ہیں جن میں اُن کے کلام کا ٹرانسلیشن نہ ہوا ہو۔

جواب: ہاں  پوری دنیا میں  اُن کے کلام کا ترجمہ  ہوا ہے ۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ انھوں نے قتل کیا ۔ موسیٰ  علیہ السلام نے بھی قتل کر دیا  تھا مکا مار کے۔ یہ کون سا بڑی  بات ہے۔

مدیر: آخر  میں آپ جو " صدا" کے قارئین کو جو پیغام دینا چاہتے ہوں وہ آپ چھوٹا سا مجھے بھی دے دیں ۔

جواب: ہمارا  پیغام یہ ہے کہ کوئی مفتی ہے ، مولوی ہے، عابد ، زاہد، شیعہ ، سنی ، ہندو، سکھ، کافر، سب کو اللہ کے روبرو کھڑا کر دو سمجھے؟ اللہ اُن کو دیکھے گاجن کے دل چمک رہے ہیں خواہ وہ کسی مذہب سے ہوں یا نہ ہوں ۔ جاہل ہوں یا عالم ہوں ۔۔ جن کے دل چمک رہے ہو اُن پہ اللہ مہربان ہو گا۔ اور دل چمکنے کا راز کیا ہے ؟ جب دل اللہ اللہ کرے  گا تو اللہ سے چمکے گا ۔۔ پیغام یہ ہی ہے کہ اللہ اللہ سیکھو اور قلب کی تسبیح کو چلاؤ۔ جس طرح یہ ( پتھر کی ) تسبیح ہے اسہ طرح تمھارے اندر تسبیح لگی ہوئی ہے۔ ٹک ٹک۔۔۔۔ اُس ٹک ٹک کے ساتھ اللہ ملاتے ہیں تو یہ قلب کو صاف کرتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ ہر چیز کو صاف کرنے کے لیےکوئی نہ کوئی ہتھیار ہے دل کو صاف کرنے کے لیے اللہ کا ذکر ہے۔ یہ تمھارا دل چمکے تو پھر تمھاری نمازیں بھی قبول ہوں ۔ اب نہ تمھاری نمازوں کا کوئی اعتبار ہے ، نہ تمھاری داڑھیوں کا اور نہ تمھارے علم کا کوئی اعتبار ہے۔ کیونکہ اس میں دل نہیں ہےنا۔ " لاصلوۃ الا بحضور قلب " دل کی حاضری کے بغیر نماز بھی نہیں ہوتی ہے۔ دلوں کو چمکاؤ تاکہ تمھاری نمازیں بھی ہوں ، تمھارے اوپر اللہ کی رحمت بھی ہو اور یہ فرقہ واریت بھی ختم ہو اور لڑائی جھگڑے بھی ختم ہوں ۔ بس یہی پیغام ہے ، ذکر قلبی سیکھو ، کہیں سے بھی حاصل کرو۔ یہ ہم نہیں کہتے کہ ادھر آؤ ، کہیں سے بھی حاصل کرو یہ ذکر قلبی تاکہ تمھارے دل صاف ہوں۔ کہیں سے بھی یہ گاڑی خرید لے سفر کر ، پہنچ جائے گا، منزل پہ پہنچ جائے گا۔ کہیں سے بھی ذکر قلب سیکھ تاکہ تو اللہ تک پہنچ سکے ۔ تیرے آنے کا مقصد ہی اللہ کو پانا ہے۔ اور تو اُس سے محروم ہے۔

مدیر: مگر  وہ والی بات پھر آڑے آ جاتی ہے کہ میری تو قسمت میں ہی اللہ تعالی نے لکھ دیا ۔ شروع سے ہی فیصلہ کر دیا ۔۔۔۔

جواب: کوشش کر کے دیکھ ، کیا پتہ کیا لکھا تھا، یہ تو کہہ رہا ہے ہمت مرداں مدد خدا۔ کیا خبر کوئی بابا فرید جیسا کامل مل ہی جائےاور تقدیر کو ہی بدل دے۔ ہمت کرکے تو دیکھ ۔ ہمت کر کے دیکھ تیری گاڑی چلے تو چلے ۔ نہیں چلے تو کسی کامل کے ہاتھ پاؤں دبا۔ ہو سکتا ہے آس کے ذرہعے ہی چل پڑے ۔ یہ ۔۔۔۔۔۔ لوگ کاملین کی خدمت کیوں کرتے ہیں ۔ علامہ اقبال نے فرمایا : تمنا درد دل کی ہو تو خدمت کر فقیروں کی ۔ نہیں ملتا گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں --- یہ اس لیے کہا ہے۔

بلھے شاہ  نے فرمایا نچ کے یار منایا ۔ جس طرح بھی بن پڑے  اُس کو منانا ہے  چاہے کنجری بننا پڑے۔ یہ چیز کاملین سے ملتی ہے۔ لوگ کاملین سے رابطہ رکھیں ۔ اُن کو ڈھونڈیں ۔ بہت سے ہمارے لوگ ہیں ناقص لوگوں کو ، گدی نشینوں کو، سجادہ نشینوں کو کامل سمجھے بیٹھے ہیں ۔ اُن سے یہ چیز حاصل نہیں ہو رہی، اُن کی زندگی برباد ہو رہی ہے۔ اُن کو طلب بھی ہے لیکن آگے انہی ( پیروں ) کو حاصل نہیں ہے اور وہ اسی آسرے پہ بیٹھے ہیں کہ اب انجن سٹارٹ ہو، اب ہو کہ اب ہو لیکن اُن کی زندگی ختم ہو گئی ہے۔ اُن لوگوں کو بھی چاہیے کہ کسی کامل کو تلاش کریں ۔ کامل وہ نہیں ہوتا جو باپ ، بیٹا ، پھر بیٹا پھر بیٹا ۔ وہ کامل نہیں ہوتا۔ کامل وہ ہوتا ہے جس نے خود ریاضتیں کی ہوں ۔ وہ کامل ہوتا ہے اب تو کامل ہے۔  یہ تو نہیں ہو سکتا کہ تیرا بیٹا پھر اُس کا بیٹا  یہ کامل تھوڑی ہو سکتے ہیں۔ ریاضت تو تو نے کری نا ۔ ہاں ! تھوڑی بہت اُن کی تعظیم لازم ہے کہ وہ ولی کا بیٹا ہے بس۔ تو ایسے کاملین کو تلاش کریں جنھوں نے ریاضتیں مجاہدیں کیں ہوں ۔ اُن سے رابطے رکھیں اور اُن سے یہ چیز حاصل کریں ۔ اگر رابطہ رکھ کہ بھی یہ چیز حاصل نہیں ہوتی تب پھروہی لوگ ہیں جن کو اللہ ہی نہیں چاہتا ۔ کوئی بھی طریقہ استعمال کرے ۔ پھر اُن سے پو چھیں اُدھر بلھے شاہ بھی گیا تھا ، اُن کے پاس ۔ انھوں نے کہا تیری قسمت میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا آ پانویں لڑنا پے جائے ( چاہے لڑائی کرنی پڑے) تو آ سہی پانویں سانوں لڑنا ہی پئے جاوے۔ تو ایسے بھی ہوتے ہیں ۔

مدیر: شیخ  سعدی نے ایک حکاہت لکھی تھی ۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ جا رہے تھے  تو ایک عورت نے کہا حضرت موسیٰ تمھاری تو اللہ سے بات چیت ہوتی ہے۔ ذرا پوچھ کے آنا کہ میری کوئی اولاد ہے یا نہیں ہے۔۔۔۔ آپ نے سنا ہو گا۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ کامل لوگ تھے کہ جن سے اللہ نے کہا کہ میں مجبور ہو جاتا ہوں ۔ کہ یہ لوگ میرے لیے جان بھی قربان کرنے کو ہوں، میں اس کی بات کو کیسے رد کر دوں۔ اس لیے کہ اللہ کے عدل کے خلاف ہو جاتا ہے۔

جواب۔ یہ جہاں فتوی لگاتے ہیں  نا لوگ ۔۔۔ کہ جہاں مجبور خدا کی ذات ہوتی ہے ۔ وہ اسی کے اوپر ہے نا۔ اللہ نے کہا بچہ نہیں ہو گا۔ اُس نے کہا  ہو گا۔ ایک روٹی دے ۔ بس ہو گیا اللہ تعالیٰ مجبور ہو گیا نا۔ مجبور کیوں ہوا ۔ عشق بولتے ہیں اس کو  کہ میری خاطر پورے جسم کے لوتھڑ ے دے دئیے اُس نے۔ تو میں اُس کی ایک تھوڑی سی بات کیسے کاٹ دوں ۔

مدیر: اس میں  ایک بات کہوں گا کہ اس کچھ آدمی کا دخل ہوتا ہے اور کچھ بقول آپ کے اللہ کا نور  جس وقت بھی کسی  پہ ٹچ مار دیتا ہے  یا اُس پہ نازل ہو جاتا ہے  تو اُس کی خود ہی کایا پلٹ جاتی ہے ۔ اُس کو خود ہی نہیں محسوس ہوتا  کہ میں کہاں تھا کیا تھا اور کس طرح سے میں اس طرف راغب ہو گیا ۔ جس طرح آپ کی پوری زندگی گزری ہے کہ ایک دفعہ آپ راغب ہوئے پھر چھٹ گیا۔  پھر راغب ہوئے اور پھر اس کے بعد ایسا اللہ نے کرم کیا کہ آپ کو وہ کچھ دے دیا کہ معراج ہو سکتی ہے۔ اور یہ اللہ کی دین ہے۔ اسی کو اس نے کہا " وتعز من تشاء و تذل من تشاء بیدک الخیر انک علی کل شئی قدیر"  یہ دینے والی ذات اللہ ہی کی ہے۔ ایک اور واقعہ ہے یہ پرانا مسلئہ ہے کہ اللہ کتنا مجبور ہے اور بندہ کتنا مجبور ہے اور کتنا آزاد ہے ۔ یہ جبرو قضا کا جو فلسفہ ہے بہت پرانا ہے۔ حضرت علی ایک دفعہ وضو کر رہے تھے ایک شخص گیا اور جا کے کہا کہ یا علی مجھے یہ بتا ئیں کہ بندہ کتنا آزاد ہے اور کتنا مجبور ہے ؟ وہ سمجھا کہ یہ فلسفہ ہے اور اس میں گھنٹوں لگ سکتے ہیں ۔ اور پوری زندگی بیت سکتی ہے۔ کہ بھائی آدمی اتنا آزاد ہے اتنا مجبور ہے۔ کیا خوبصورت جواب دیا حضرت علی نے وضو کرتے کرتے کہا اللہ اکبر ، اپنی ایک ٹانگ اٹھا لے ۔ اُس نے ایک ٹانگ اٹھا لی۔ اللہ اکبر کہہ کہ کہنے لگے  کہ اب دوسری بھی اُٹھا لے۔ اُس نے کہا کہ یہ تو غیر ممکن ہے کہ میں اپنی دونوں ٹانگیں بیک وقت اٹھا لوں ۔ تو انھوں نے کہا کہ بس اللہ نے تجھ کو اتنا آزاد اور اتنا مجبور بنایا ہے۔ اگر دیکھو تو ازل کی جو صراط مستقیم پڑھتے ہیں صبح سے شام تک ، سورت فاتحہ میں صراط مستقیم پڑھتے ہیں ۔ یہ ہی صراط مستقیم ہے ۔ کہ ہم آدھے آزاد ہیں آدھے مجبور ہیں ۔ اور عبادت کا جو طریقہ ہے ۔ ماڈرن سائنس اس پر روشنی ڈال رہی ہے کہ آپ مجبور ہیں عبادت کرنے کے لیے ۔ اس لیے کہ آپ اپنی سانس کو دو منٹ سے زیادہ نہیں روک سکتے ۔ اور یہ سانس کا سائیکل درختوں کے ساتھ وابستہ ہے۔ ان کا نکالا ہوا آکسیجن آپ کو چاہیے اور آپ کا نکالا ہوا نائٹروجن ان کو چاہیے۔ یہ مسلسل عبادت ایک دوسرے کے ساتھ آپ کی ہو رہی ہے۔ اور آپ کی ذات سے فائدہ ہو رہا ہے۔ پھر آدمی مرتا زمین میں جاتا ہے چاہے وہ راکھ کر کے ڈالا جائے یا کسی صورت میں ، زمین کو ضرورت ہے فاسفورس کی ۔ اُس سے پیدا ہوتا ہے آدمی  اور اُسی میں چلا جاتا ہے تو یہ واقعی ہی مجبوری ہے۔اور اللہ نے جو عدل رکھا وہ صیحیح رکھا۔ مجھے آپ کی باتوں سے واقعی ہی ایک روحانی فیض ضرور ہوا جس کو لفظوں میں تو نہیں بیان کر سکتا مگر اتنی دیر سے آپ کے کرم کی ہو سکتا ہے میرے لیے بھی کوئی مشالغہ ہو۔ کوشش کرو گا کہ میں اپنے آپ کو جتنا بھی تبدیل کر سکتا ہوں ، کوشش کرونگا تبدیل کرنے کی ۔ اور آپ کا کوئی پیغام ، کوئی میسج ، میری ذات کے لیے یا لوگوں کے لیے؟

جواب: وہ بتا  دیا میں نے ۔ کوشش کرو ۔ کیونکہ تمھارا اور اللہ کے درمیان اس چیز ( قلب) سے رابطہ ہے ۔ یہ ٹیلیفون ہے ۔  اس میں شیطان آکے بیٹھ گیا ہے ۔ تمھاری عبادت خراب کرتا ہے نا۔ اور جب تک اس میں اللہ نہ آئے ، تم اللہ اللہ کرو گے اس میں نور آئے گا ، پھر ٹیلیفون تمھارا آن ہو جائے گا۔ اس ( دُنیاوی ٹیلیفون ) میں بجلی ہو امریکہ بات ہوتی ہے۔ اس ( قلب) میں نور عرش معلیٰ بات ہوتی ہے ۔ پھر تو نماز پڑھے گا عرش معلیٰ (جائے گی ) اس کے ذریعے ۔ بات کرے گا عرش معلیٰ (جائے گی ) اس کے ذریعے ۔ ہمارا مین مقصد ، دلوں کو صاف کرنا چاہیے ۔ اگر دل صاف نہیں ہے تو فتنا فساد ہی ہے۔ اگر دل صاف ہو تو یقین کروسارے ایک ہی ہو جائیں ۔ فرقہ واریت ختم ۔ شیطان ہی نکل گیا ، فرقہ واریت ہی ختم ۔ اس کا ہم نے پیغام دیا ہوا ہے اگر ان لوگوں کے پاس ہے لے لیں ۔ انٹر نیٹ میں پوری تعلیم کا نچوڑ ہے ۔ ہر مذہب کے لیے ہر فرقہ کے لیے ۔ اُس کو آپ اپنے رسالے میں دئے دینا۔ تو لوگوں کو بھی کافی اس سے فائدہ ہو جائے گا۔

                                    

------------------------------------------------

 

© 1998-2010 All Faith Spiritual Movement Intl'
admin@theallfaith.com