SELECT YOUR LANGUAGE:    ENGLISH    or   INDONESIAN

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے

اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر)

مرکزی صفحہ  تعارف  حضرت عیسی  کرشمہ قدرت  الحجرالأسود  تعلیمات  دینِ الٰہی  پروگرام  تصانیف  ویڈیو  رابطہ    

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھرشاہی مدظلہ العالی کا لاہور میں روحانی خطاب

آعوذبااﷲمن الشیطن الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

(اس خطاب کے متن کا ابتدائی حصہ میسر نہیں ہے۔ جس کے لئے ہم معازرت خواہ ہیں)


آگے سجادہ نشین، نشین گدّی نشین انکو بیعت کا حق نہیں ہے۔ ہم جو بیعت ہوتے ہیں، اﷲ کے لیے بیعت ہوتے ہیں۔ بیعت کا مطلب ہے اپنے آپ کو بیچ ڈالنا۔ بیعت کے بعد تیرا مال و جان، نفس أس کا ہو گیا نا۔ تو پھر کیوں بکے نمازوں کے لیے تو نہیں بکے۔ ہم بیعت کے بغیر بھی نمازیں پڑھ سکتے تھے۔ روزؤں کے لیے نہیں بکے، ڈاڑھیوں کے لیے نہیں بکے، اﷲ کو پانے کے لیے بکے۔ اﷲ کو یہ جسم نہیں جاتا ہے، وہ جسم کے اندر کی چیزیں جاتیں ہیں نا۔ تو بیعت کے بعد بھی ہماری وہ چیزیں تیار نہیں ہوئیں جنکا تعلق اﷲ سے ہے تو پھر بے کار ہو گئی نا ہماری بیعت۔

بیعت کا ٓاختیار صرف ولیّ کو ہے۔ اور ولیّ وہ ہوتا ہے، ولیّ اﷲ۔ اِس کا مطلب ہے اﷲ کا دوست۔

اگر تمھاری کسی سے دوستی ہے، أس سے بات چیت بھی ہو أسکو دیکھا ہوا ہو تب تم أس کے دوست ہو نا۔ نہ بات چیت ہے، نہ دیکھا ہوا ہو کہتے ہو میں اﷲ کا دوست ہوں۔ یہ دوستی نہیں ہے۔ جس طرح جھوٹی نبوت کا دعویدار کافر ہو جاتا ہے۔ أس کو ماننے والے بھی کافر ہو جاتے ہیں۔ اِسطرح جھوٹی ولایّت کا دعویدار کفر کے نزدیک پہنچ جاتا ہے نا۔ اور أس کو ماننے والے کمبخت اور بے نصیب ہی رہتے ہیں نا۔ بھئی وہ جو کافر ہے وہ اپنے لیے ہے نا اپنی أس نے اپنی عاقبت خراب کر دی۔ اِس نے ہزاروں لوگوں کی زندگیاں خراب کر دی نا۔ ایک آدمی میں سولہ مخلوقیں، ہزار مُرید، سولہ ہزار، یہ سولہ ہزار مخلوقوں کا قاتل ہے نا۔
اگر تجھے دیدار ہے تو بیعت کر۔ اگر تجھے دیدار نہیں ہے تو، تو بیعت کا مجاز نہیں ہے۔

اب یہ شعور أمت میں بھی ہونا چاہیے نا۔ ضروری ہے نا ہر آدمی اپنے پیر کو ولیّ سمجھتا ہے نا تب أس سے بیعت ہوتا ہے نا۔ اگر أس کا پیر ولیّ ہے تب بھی أس کو نہیں پتہ، نہیں ولیّ ہے تب بھی أس کو نہیں پتہ۔ ضروری ہے کہ اپنے پیر کا پتہ ہونا چاہیے کہ ولیّ ہے بھی ہے یا نہیں نا۔ لیکن تمھیں پہچان نہیں ہے نا۔

چور کو چور کو پہچانتا ہے نا۔ ولیّ کو ولیّ کو پہچانتا ہے۔

لاہور کا چور وہاں بیٹھا دو پشاور کا چور وہاں بیٹھا دو۔ آپس میں جانتے نہیں ہیں۔ اُنکی نظریں ٹکرائیں گی۔ وہ سمجھ جائے گا میرا پیٹی بھائی ہے، حقیقت ہے۔ اِک ولیّ اِدھر، اِک ولیّ أدھر أن کے دل ٹکرائیں گے نا جب تمھارے دل میں اﷲ اﷲ آئے گا نا، اﷲ اﷲ کا نور آئے گا۔ تمھارا ذکر قلب جاری ہو گا۔ اﷲ اﷲ اﷲ اﷲ شروع ہو جائے گی۔ پھر تم داتا صاحب چلے جانا، نا۔ وہاں بھی اللہ ہے یہاں بھی اللہ ہے رقت پیدا ہو جائے گی۔ اﷲ اﷲ میں تیزی ہو جائے گی۔ ایک حدیث شریف میں ہے کہ ولیّ کی پہچان جس کی محفل میں اﷲ اﷲ شروع ہو جائے۔ بھئی تیرے دل میں  اﷲ اﷲ تھی نا، أس پاس گیا اور تیز ہو گئ، پہچان ہو گئ نا۔ آگے کسی اور کے دربار پر چلے جانا بابا فرید پے چلے جانا وہاں بھی اللہ یہاں بھی اللہ رقت پیدا ہو جائے گی نا۔ شناخت ہو گی نا پھر تم اپنے مرشد کے پاس چلے جانا جو بات داتا صاحب، یا بابا فرید پے ہوئی تھی اگر مرشد کے پاس جانے سے ہوتی ہے۔ پھر تیرا مرشد کامل ہی ہے۔ پھر تو جیسا بھی ہے آپے لاسی سارا ھو۔ اؤ تیری نسبت ہو گئ نا، تو جب تیری نسبت ہو گئ۔

ایک حدیث شریف میں ہے کہ کچھ لوگ یوم محشر میں چمک رہے ہونگے۔ نبی بھی چمک رہیں ہونگے، یہ کون سا نبی یہ فلاں نبی، فلاں نبی۔ یہ کون سا نبی، یہ نبی نہیں یہ ولیّ تھا لوگ کہیں گے شائد ہمارے زمانے میں ہو۔ جا کے پہچان لیں گے، اک کہے گا اے اﷲ میں نے اِسکو وضو کروایا تھا چلو بخش دیا۔ دوسرا کے کہے گا کہ اے اﷲ میں نے اِس کو کپڑا پہنایا تھا چلو بخش دیا۔ اور جو کہیں گے اے اﷲ ہم تھے ہی اِسی کے ۔ کہے گا نا جدھر یہ جاتا ہے اِس کو لے جاؤ۔

یہ مرشد کامل ہوتا ہے نا۔ اگر تیرا مرشد کامل ہے تو پھر ٹھیک ہے نا۔
پھر تو بار بار اُسکے پاس جاتا ہے، بار بار جاتا ہے تو پھر کچھ بھی نہیں ہوتا ہے تو پھر وہ کچھ بھی نہیں ہے نا۔ أس وقت سخی سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا بہتر ہے کہ تو اِسکو تین طلاق دے دے۔

اب یہ مسلئہ خراب کیسے ہوا سیاست کا۔ یہ جو ولیّ ہوتے تھے۔ آگے أن کی أولاد ولیّ بن کر بیٹھ گئی۔ جب نبّوت وراثت نہیں ہے تو ولایت کیسے وراثت ہو سکتی ہے۔ جب نبی کا بیٹا نبی نہیں ہو سکتا تو ولی کا بیٹا ولی کیسے ہو سکتا ہے۔ پھر اب ہمارے علماء نے دیکھا یہ جو گدّی نشین ہیں، ہمارے پاس علم تو ہے نا۔ أن کے پاس علم ہی نہیں ہے نا۔ اِن سے ہم بہتر ہیں کہ اگر یہ بیعت کر سکتے ہیں تو کیا ہم بیعت نہیں کر سکتے؟ أنھوں نے بیعت کرنا شروع کر دی۔ پھر ہمارئے تعویذوں والوں نے دیکھا کہ ہم سے بھی لوگوں کو فیض ہو رہا ہے نا۔ اگر یہ عالم کر رہے ہیں تو ہم نہیں کر سکتے ہیں ہم عامل ہیں۔ أنھوں نے بیعت کرنا شروع کر دی۔ تو پھر ہمارئے مفتیوں نے دیکھا کہ یہ تو ہمارئے شاگرد تھے سارے، اگر اِن کے دس پندرہ مُرید ہیں تو ہمارے نہیں ہو سکتے۔ أنھوں نے بیعت کرنا شروع کر دی۔ اِسطرح یہ بیعت کا سلسلہ خراب ہو گیا۔ اب ضروری ہے کہ اِس أمت میں لوگوں میں روشنی آئے اِن لوگوں کو پہچانیں۔ اِن میں بھی کوئی ولیّ ہو سکتا ہے۔ کہ کیا خبر کون ہو گا؟

اب تم سنتے ہو اکثر جمعے کے خطابوں میں کہ جس میں عشق نہیں اﷲ، رسول کا عشق محبت، نہیں أس کا ایمان مکمل نہیں۔ سنتے ہو نا۔ بات بھی صیحیح ہے نا۔ لیکن سننے کے بعد، آیا سننے کے بعد تمھارا ایمان مکمل ہوا۔ تم میں عشق آیا۔ کوئ نہیں آیا نا۔  بھئی تمھیں دؤائی کا پتہ بتاتے ہیں نا۔ دؤائی تو نہیں دیتے ہیں نا۔ جب تک دؤائی اندر نہیں جائے گی تمھارے اندر عشق کیسے آئے گا۔

جب تمھارے دل میں اﷲ اﷲ شروع ہو جائے گی۔ کوئی بھی چیز دل ميں آ جائے اُس سے محبت ہو جاتی ہے نا، یہ جو کہتے ہیں کہ ہم محبت کرتے ہیں وہ مکار ہیں۔ محبت کی نہیں جاتی ہے، محبت ہو جاتی ہے۔ زبان میں ہم کرتے ہیں دل میں دنیا بسائی ہوئی ہے۔ یہ مکّاری ہے۔

جب تیرے دل میں اﷲ اﷲ شروع ہو جائے گی، تو تیرے دل میں اﷲ کی محبت پیدا ہو جائے گی۔ خود بخود۔

جب تیرے دل میں اﷲ کی محبت پیدا ہو جائے گی۔ اﷲ تعالٰی کسی کا احسان لیتا نہیں ہے۔ اﷲ جو ہوا۔ اُسکے لیے ایک روپیہ خرچ کرؤ، وہ دس روپے لُوٹا دیتا ہے نا۔ بھئی احسان مانے تو کیوں نو روپے فالتو دے۔ تھوڑی سی ایک نیکی کرؤ دس نیکیوں کا ثواب دے دیتا ہے نا۔ تھوڑی سی محبت کرؤ، دس گنا زیادہ محبت کر لیتا ہے نا۔ اور جس سے اﷲ محبت کرتا ہے پھر ایک دن اُس کو دیکھتا ہے، سرسری نظر سے نہیں دیکھتا بڑے پیار سے دیکھتا ہے۔

پھر جس دن اﷲ نے تمھیں پیار سے دیکھا محبت کٹ گئی عشق آ گیا نا۔ اور پھر میں تیرا اور تو میرا۔

پھر تو جس فرقے سے بھی ہے، جس مذہب سے بھی ہے۔ تو علامّہ اقبال فرماتے ہیں کہ "گر ہو عشق تو کفر بھی مسلمانی"

کہ اگر تیرے اندر عشق آ گیا تو کفر بھی ہے مسلمانی نا۔ 

پھر فرماتے ہیں "گر ہو نہ تو مسلم بھی ہے کافر و رندیق"

اور أس کا ثبوت ہے نا کہ مسلمان ایک دوسرئے کو کافر و رندیق ہی کہہ رہے ہیں نا۔ اؤ عشق نہیں ہے تب کہہ رہے ہیں نا۔

اِس وقت تم کہتے ہو کہ ہم سب سے افضل أمت ہیں کہتے ہو نا۔ ہمیں تم بتاؤ شکلوں سے أمت ہو۔ شکلوں سے یہودی جو ہیں نا وہ تم سے خوبصورت ہے۔ پیسے سے عیسائی تم سے آگے ہے۔ اور صحت سے جان سے مرہٹا تم سے آگے ہے۔ پھر تم میں کون سی فضیلت ہے۔ کیوں جی

موسٰی علیہ السلام کی أمت "یا رحمان" کا ذکر کرتی تھی، عیسٰی علیہ السلام کی أمت "یا قدوس" کا سُلیمان علیہ السلام کی أمت "یا وہابُ" کا ، داؤد علیہ السلام کی أمت "یا دوؤدو" کا باقی نبی اپنے اُولعزم مُرسل کا کلمہ پڑھتے۔ ایک دن موسیٰ علیہ اسلام نے کہا اے اللہ دیدار دے جواب آیا تاب نہیں ہے۔ کہنے لگے کسی میں تاب ہو گی جواب آیا ایک میرا حبیب اور اُسکی اُمت۔

اؤ مسلمان کا نہیں کہا أمت کا کہا، مسلمان کو کہاں دیدار ہوتا ہے۔ وہ أمت کو ہوتا ہے نا۔

ایک میرا حبیب اور اُسکی اُمت۔ موسیٰ علیہ اسلام کو جلال آیا میں نبی ہو کے ایک امتی کے برابر نہیں دے جلوہ دیکھی جائے گی جلوہ پڑا تو موسیٰ علیہ اسلام بے ہوش ہو گئےَ۔

اب کیا وجہ ہے کہ موسی علیہ السلام اس دنیا میں کوہ طور میں بے ہوش ہوئے۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سامنے جا کر مسکرا رہے ہیں کیا وجہ تھی۔ موسی علیہ السلام کے جسم میں یا رحمان کا وہ صفاتی نور تھا۔ ہر وقت یا رحمان ہوتی رہی وہ صفاتی نور بنتا رہا۔ لیکن صفاتی نور ذات کی تاب نہ لا سکا۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک میں اسم ذات کا ذاتی نور تھا۔ ذات ذات کے سامنے مُسکرایا

اور حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے طفیل وہ اِسم اِس اُمت کو ملاتب اِسکو فضیلت ہے نا۔

ایک حدیث شریف میں ہےکہ قیامت کے دن اُمتوں کی پہچان نور سے ہو گی۔ یہ "یا رحمانُ" سے چمک رہے ہیں موسٰی علیہ السلام کی اُمت۔ یہ"یا ودؤدو" سے چمک رہے ہیں داؤد علیہ السلام کی اُمت اور یہ جو اﷲ ھو سے چمک رہے ہیں یہی حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہے نا ۔ یہ تمھارا نشان ہے نا اور جس دن سے تم نے اس اﷲ ھو کو چھوڑا۔

بھئی اِس سینے میں دو چیزیں آ سکتیں ہیں۔ یا اﷲ اگر اﷲ نہیں ہے تو پھر شیطان۔ یہ تمھیں ماننا پڑئے گا۔

بھلے تم باہر سے کتنے بھی نمازی ہو جاؤ، کتنی بھی داڑھیاں ہو جائیں، کتنا بھی علم ہو جائے اگر تمھارئے اندر اﷲ نہیں ہے پھر شیطان ہے۔ اِسکا ہم تمھیں ثبوت دیتے ہیں۔ نمازی کو بڑا یہ سن کے بڑا آگ لگتی ہے۔ یہ کہتا ہے میرے اندر شیطان ہے۔ اور میں کہتا ہوں کہ جب تو نماز پڑھتا ہے تو تجھے وسوسے دل میں کیوں آتے ہیں۔ بھئی تو، تو اﷲ کے حضور میں کھڑا ہے نا۔ اؤ تو پھر جو سوچنا بھی نہیں چاہتا وہ پچھلے وسوسے تیری طرف آتے ہیں۔ تیرے دل میں شیطان ہے تب ہی آتے ہیں۔ اب وہ جب تک وہ شیطان نکلے گا نہیں۔

تو شیطان کیسے نکلے گا۔ آپ أس کی پریکٹیس کریں۔ وہ بھی تجربا کریں آپ نماز پڑھ رہیں ہیں وسوسے آ رہے ہیں۔ ایک دن آپ اﷲ ھو کے ذکر میں بیٹھیں۔ وسوسہ نہیں آئے گا مستی آئے گی۔ اپنے آپ کی خبر ہی نہیں ہو گی میں کہاں بیٹھا ہوا ہوں۔ لیکن جب تو ذکر چھوڑئے گا تو پھر وہ وسوسے شروع ہو جائیں گے نا۔ اگر تیرے اندر ہی مخلوقیں حلقہ بنا لیں تو۔ اگر تیرے اندر بھی چوبیس گھنٹے اﷲ اﷲ ہوتی رہے تو۔ پھر یہی  مسجد یہی کبعہ یہی گل گلزار جنت ہے نا۔

اِس وقت سارے جو کلمہ منہ سے زبان سے پڑھتے ہیں۔ سارے کہتے ہیں اسلامی ممالک زبان سے ایک ہے نا دل سے تو ایک نہیں ہے۔ دل سے ایک دوسرے کو کافر منافق ہی سمجھتے ہیں نا۔ کیونکہ زبان سے ایک ہے زبانی کلمہ پڑھتے ہیں نا اور جب تمھارے دلوں نے بھی کلمہ پڑھ لیا۔ أنھوں نے بھی اﷲ اﷲ کرنا شروع کر دی۔ پھر زبان سے بھی ایک اور دل سے بھی ایک۔

أس وقت یہ فرقہ واریت ختم ہو گی نا۔ أس سے پہلے تو نہیں ہو سکتی ہے نا۔

أس وقت تم مومن بن جاؤ گے نا۔ تو مومن سارے بھائی بھائی ہوتے ہیں نا۔

اب اِس کا بتاتے ہیں کہ اِس اﷲ کو اندر لے کے جانے کا طریقہ کیا ہے۔ مجھے ایک نیوی کا کپتن ملا تو کہنے لگا پانچ، چھ سال ہو گئے۔ میں کاغذ پے اﷲ لکھتا ہوں پتہ نہیں کتنی دفعہ میں نے لکھا اور لکھ کے میں سمندر میں ڈالتا گیا۔ لیکن مجھے اﷲ نہیں ملا میں نے کہا تو نے سمندر میں ڈالا نا۔ دل میں تو نہیں ڈالا نا۔ أس کو دل میں ڈال نا۔ کہ وہ کیسے؟ بس یہی ایک راز ہے نا۔ نہ سمجھ آئے تو بہت مشکل ہے۔ تو سمجھ آئے تو بڑا ہی آسان ہے نا۔

روزانہ کاغذ کے أوپر! یہ أن کے لیے ہے جو اہل دل ہیں۔ جو چاہیں گے۔ روزانہ کاغذ کے أوپر66 مرتبہ، ساٹھ چھ چھیساٹھ مرتبہ  اﷲ لکھیں۔ فجر کی نماز کے بعد بہت اچھا وقت ہے ورنہ آپکو جب بھی وقت میسر آئے۔ اگر آپ فارغ ہیں تو دن ميں، چار، پانچ، چھ دفعہ اﷲ لکھیں جب بھی لِکھیں چھیاسٹھ مرتبہ ایک عمل بن جائے گا۔ آپ تھوڑے دن لکھیں گے۔ ایک دن آئے گا۔ جو کاغذ پر لکھتے تھے، وہ تمھاری آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے گا۔ جب آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے پھر لکھنا بند کر دیں۔ اِس کو صاحب تصّور بولتے ہیں۔ پھر آنکھوں سے توجہ سے دل کے أوپر أتاریں نا۔

جسطرح کاغذ سے آنکھوں نے کھینچ لیا۔ اِسطرح دل آنکھوں سے کھینچ لیتا ہے نا۔ 
پھر ایک وقت آئے گا۔ آپ جو کاغذ پہ لکھتے تھے وہ تمھارے دل پہ لکھا نظر آئے گا  نا۔ 

 

پولیس کی مہر لگی ہے پولیس والا اﷲ لکھا گیا، اﷲ والا۔ 


أس وقت تمھارے دل کی ڈھرکنیں تیز ہو جائیں گی۔ ٹک ٹک، ٹک ٹک، أس ڈھرکن کے ساتھ اﷲ ھو ملائیں۔ ایک کے ساتھ اﷲ، ایک کے ساتھ ھو۔ گھڑی، گھڑی اِسطرح کریں گے وہ دل کی ڈھرکنیں اﷲ ھو میں تبدیل ہو جائیں گی۔ اب دیکھیں کہ میرے اندر نور بھی بنا یا نہیں۔ وہ جو کالا سا جیسے کاغذ پہ لکھتے تھے نا۔ اب وہی کالا سا دل پہ لکھا نظر آرہا ہے نا۔ اب وہ جو اندر رگڑا لگ رہا ہے نا۔ دودھ، دودھ ہی ہے جب تک رگڑا نہیں لگتا مکھن نہیں بنتا۔ ذکر، ذکر ہی ہے جب تک رگڑا نہیں لگتا تو نور نہیں بنتا نا۔ جب وہ اندر رگڑا لگتا پھر نور بننا شروع ہو جاتا نا۔ پھر وہ کالا سا لکھا ہوا تھا۔ پھر وہ سفید نظر آنا شروع ہو جاتا ہے نا۔ اِس کا مطلب ہے تیرے اندر نور بننا شروع ہو گیا نا۔ پھرایک دن وہ بالکل سورج کی طرح چمک رہا ہوتا ہے۔

جب وہ سورج کی طرح چمک أٹھے۔ اب تو بے خوف ہو جا۔ اب تو قبر میں بھی چلا جا بڑی شان و شوکت سے جا۔

فرشتے آئیں گے پوچھیں گے بتا تیرا رب کون ہے پہلا سوال۔ بس کفن کو پیچھے کر، دیکھ اﷲ چمک رہا ہے۔ اؤ یقین کر اُنکی جرات نہیں ہے کہ دوسرا سوال پوچھیں۔ اے بندہٴ خدا آرام سے سو جا، تو جان اور تیرا رب جانے۔ ہمیں تو شرم آتی ہے تجھ سے کیا پوچھیں۔ تو، تو کوئی اﷲ والا ہی ہے۔

رات سونے لگیں۔ اِس انگلی کو قلم خیال کریں۔ تصور سے دل کے اوپر اﷲ لکھتے لکھتے سو جایئں۔ اِسی میں نید آ جائے۔ کیونکہ سوتے وقت جو نیت ہوتی ہے خواب میں بھی وہی کچھ ہوتا ہے۔ اﷲ ھو پڑھتے پڑھتے سو گئےاور خواب میں بھی اﷲ ھو کرتے رہے۔ صبح اُٹھیں وضو ہے یا نہیں پرواہ نہیں دل کا وضو پانی سے نہیں ہوتا۔ ذکر خفی کرتے رہیں۔ جب تک دل کی ڈھڑکن سے نہيں مِلتا اُسکو ذکر خفی کہتے ہیں۔ جب دل کی ڈھڑکنیں پُکارتیں ہیں اﷲ اﷲ وہ ذکر قلبی ہوتا ہے نا۔

آج تمھاری گاڑی اﷲ کی طرف چل پڑی اِس کو طریقت بولتے ہیں نا۔

اب اِس گاڑی کو پٹرول چاہیے نا۔ پھر نمازیں، روزئے یہ پٹرول ہے۔ پٹرول ڈالتا جا اور گاڑی چلتی جائے گی یہ طریقت ہےنا۔

پھر گاڑی چلتے چلتے پھر وہاں جب پہنچ جاتی ہے۔ أس کو حقیقت بولتے ہیں نا حقیقت کا تعلق اِن نظروں سے ہے نا۔

ہمارا جو اختلاف علماء سے بس یہی ہے۔ علماء کہتے ہیں سب کچھ شریعت میں ہے۔
وہ کہتے ہیں طریقیت بھی شریعت میں ہے، حقیقت بھی، معرفت بھی شریعت میں ہے۔


ہم نارؤے ميں گئے۔ وہاں ایک بورڈ لگا ہوا ہے اِسکے آگے دنیا ہی نہیں ہے۔ اگر کوئی دنیا کا کوئی مہم جوح ہوا تو وہاں جا کے روک جائے گا، نا۔ تم نے کہا کہ سب کچھ شریعت میں ہے۔

اگر کوئی اﷲ کا طالب ہوا تو یہیں پھنس جائے گا نا۔ اؤ کیوں نہیں کہا کہ طریقت بھی ہوتی ہے۔ اگر تمھارئے پاس نہیں ہے۔ تو طریقت والوں کے پاس بھیجو نا۔ حقیقت بھی ہوتی ہے، معرفت بھی ہوتی ہے۔ فناء، بقا، لقا بہت ساری منزلیں ہیں توعبور کر نا، تو نے بجائے فناء، بقا کے أس کو سیاست میں لگا دیا أس کی عمر ہی برباد کر دی نا۔ ہمیں اختلاف ہے تو یہ اختلاف ہے۔ کہ تم نوجوانوں کو ادھر روحانیت میں لگاؤ نا، سیاست میں نہیں لگاؤ۔

بھئی سیاست تو عیاری ہے نا۔ یہ تو دنیا داروں کا کام ہے نا۔ تم کو تو زیب نہیں دیتی نا۔ اِس میں تو کہنا پڑتا ہے نا صبح کہتے ہیں کہ حکومت عورت نہیں کر سکتی نا تو شام میں کہنا پڑتا ہے جب پیسے ملتے ہیں یا دباؤ پڑتا ہے۔ عورت حکمرانی کر سکتی ہے نا۔ یہ تم کو تو زیب نہیں دیتی نا۔

اب کچھ لوگ ہونگے جن کی دل کی ڈھڑکنیں خاموش ہو گئی۔ اب کیونکہ ڈھڑکن کے ساتھ اﷲاﷲ ملانی ہے نا۔ اب ڈھڑکنیں خاموش ہو گئی پھر وہ کیا کریں۔ ہم نے بلھے شاہ کا ایک کلام سنا تھا کہ

اتھے نچنا وی عبادت بن جاندا اے

ہم کہتے تھے  نچنا تو حرام ہے تو بلھے شاہ کہتے ہیں کہ عبادت بن جاندا ہے ۔ پھر جب پتہ لگا تو کہا سچ ہی کہا۔ بلھے شاہ فرماندے نیں میں نچیا خوب نچیا دل دیاں دھڑکناں ابھریاں نچن نال انھاں دل دیاں ڈھرکناں نال میں فیر اللہ اللہ ملایا۔ جب اللہ اللہ ملایا تے فیر اللہ وی من گیا نا۔

امیر کلاں کبڈی کھلاتے۔ لوگ جاتے (تو کہتے کہ) چلو کبڈی کھیلیں۔ لوگ کہتے کہ ہم فیض کے لیے آتے۔ بولتے ہمارا فیض کبڈی میں۔ کبڈی کھیل رہے تھے امیر کلاں۔ بہاؤ الدین نقشبندی رحمتہ اﷲ وہ پہنچ گئے نام سن کے لوگوں سے پوچھا کہاں ہیں حضرت۔ أنھوں نے کہا وہ کبڈی کھیل رہے ہیں۔ کہنے لگے کہ ولّی کا کیا کام کبڈی سے۔ واپس جانے لگے۔ زمین نے أن کو روک لیا۔ جانے ہی نہیں دیا بعد میں وہی بہاؤ الدین نقشبند رحمتہ اﷲ أن کے ساتھ کبڈی کھیلے اتنے بڑے ولّی بنے۔ أس کبڈی میں کیا راز تھا۔

 وہ خوب ڈوڑاتے جب دل کی ڈھرکنیں أبھرتیں کہتے اب کبڈی کو چھوڑو اب اِن کے ساتھ اﷲاﷲ ملاؤ۔ 

لال شہباز قلندر نچاتے۔ آج تک وہاں جو عام آدمی کرے أسکو ناچ بولتے ہیں۔  ولیّ کرے تو دھمال بولتے ہیں۔ بات تو ایک ہی ہے نا۔ آج تک وہاں لوگ دھمال کرتے ہیں۔ میں ایک دفعہ گیا تو لوگ نچ رہے تو کہہ رہے، دماں دم مست قلندر، دماں دم مست قلندر، دو آدمی بے ہوش ہو گئے کہتے کہتے۔ ایک کو میں پانی میں ڈالنے لگا یقین کریں دانت أس کے بالکل بند ہیں۔ دانت بند ہیں پانی بھی اندر نہیں ہو رہا۔ تو دل سے آواز آ رہی ہے دماں دم مست قلندر، دماں دم مست قلندر۔ اب تو دماں دم مست قلندر کہتے ہیں نا۔ أس وقت تو اﷲ ھو سے دھمالیں کرتے تھے نا۔ تو پھر اگر دماں دم مست قلندر آ سکتا ہے تو پھر اﷲ ھو اندر نہیں آتا ہو گا۔

اب ایک اور بھی طریقہ ہے اس کے علاوہ کہ کچھ لوگ بیٹھ کر ضربیں لگاتے ہیں اﷲ ھو، اﷲ ھو
گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ جب ضربیں لگاتے ہیں نا تو پھر وہی پوزیشن پیدا ہو جاتی ہے وہ
 جو ناچنے سے ہوئی تھی۔ 

جب دل کی ڈھڑکنیں أبھریں پھر أس کے ساتھ اﷲ ھو ملایئں۔ اب کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں کے اوپر ہے نا۔ نچہ ڈھڑکن أبھرنے کے لیے اس میں اﷲاﷲ ملانے کے لیے یہ عبادت ہوئ نا۔ اگر دل ڈھڑکتا ہے أس کے ساتھ اﷲاﷲ ملتا ہے تو بعض دفعہ گرمی لگتی ہے۔ کیونکہ اﷲ ھو جلالی بھی ہے جب گرمی لگے تو درؤد شریف پڑھیں وہ اُس کو ٹھنڈا کر دے گا۔ پھر آپ اﷲ کا ذکر کریں پھر گرمی لگے پھر درؤد شریف پڑھیں وہ اُس کو ٹھنڈا کر دے گا۔ یہ اِس کا طریقہ ہے۔

اب اِس کی اجازت بھی ہوتی ہے۔ اجازت کیا ہوتی ہے۔ آپ یہاں تحجد پڑھتے رہیں۔ کام بڑا اچھا کر رہیں ہیں۔ شیطان ایک کونے پہ کھڑا ہستا رہتا ہے۔ اؤ کیوں؟ اؤ تھکتا رہ تیرا دل تو میرے ہاتھ میں ہے۔ میرا ہاتھ تو تیرے دل میں ہے جب جی چاہوں گا موڑ دؤں گا اور تمھیں ایک دن بڑی شکایت ہو گی میں بڑا تحجد گزار تھا کیا ہو گیا میں فرض نماز بھی نہیں پڑھ سکتا۔ أس شیطان نے دل موڑ دیا نا۔ جب کوئی شخص اﷲ کو دل میں بسانے کی کوشش کرتا ہے۔ شیطان سوچتا ہے۔ اگر یہ اﷲ اِس کے دل میں چلا گیا یہ تو ساری عمر کے لیے میرے ہاتھوں سے گیا نا۔ 

کوئی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اللہ کرتے ہیں أنکے دلوں پہ اللہ نقش ہو جاتا ہے۔

قرآن مجید فرماتا ہے کچھ لوگ جنکے دلوں پر ایمان لکھ دیا ۔ یہ لفظ اﷲ ایمان ہے نا۔ 
 

کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ اللہ کرتے رہتے ہیں تو أنکے دلوں پہ مدینہ شریف آ جاتا ہے۔

وہ خدا بھی نہیں اور جدا بھی نہیں پھر وہ کہیں بھی ہے مدینے میں ہیں ۔ 


تو کچھ لوگ اللہ اللہ کرتے رہتے ہیں أنکے دلوں پہ خانہ کبعہ آ جاتا ہے۔ ایک دفعہ مجدد صاحب نے دیکھا کہ باطنی مخلوق جن، فرشتے اُنکو سجدہ کر رہئے ہیں۔ بڑے گھبرائے کہ کہیں استدراج تو نہیں ہو گیا۔ آواز آئی گبھراؤ نہیں یہ تمہیں سجدہ نہیں کر رہے وہ جو تمھارے اندر خانہ کعبہ بس گیا نا، یہ أس کو سجدہ کر رہے ہیں نا۔

جب رابعہ بصری رحمتہ اﷲ کے دل پہ خانہ کعبہ آیا تو اُس کبعے کو حکم ہوا کہ جا جا کے اُس کا طواف کر، اؤ تجھے ابراہیم علیہ السلام نے گارے مٹی سے بنایا نا اِسکو میں نے اپنے نور سے بنایا ہے نا

اب یہاں کچھ لوگ کہتےہیں کہ حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پاس خانہ کبعہ نہیں آیا۔ تو رابعہ بصری کے پاس کیسے آ سکتا ہے۔ بھئی حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم تو خانہ کبعے کے کبعہ تھے۔ وہ تو کبعہ کے کبعے تھے صرف بات یہ تھی۔ اگر حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم خانہ کبعہ میں نہ جاتے۔ آج جو کہتے ہیں کہ ہم حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم جیسے ہیں تو وہ کیوں جاتے۔ وہ اگر گئے نا تو امت کے لیے گئے نا۔ اگر میں نہ گیا تو کوئی بھی نہیں جائے گا نا۔

اؤ یقین کرؤ کہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو نمازوں کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ آپ تو فرماتے ہیں میں تو أس وقت بھی نبی تھا ۔ آدم علیہ السلام کو بنایا ہی نہیں گیا تھا۔ میں دنیا میں  آنے سے پہلے بھی نبی تھا۔ نمازیں أترنے سے پہلے بھی نبی ہی تھے نا۔

تو پھر نمازوں کی کیا ضرورت تھی۔ یہ أمت کے لیے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے پڑھیں۔ اگر آپ منگل کو نہ پڑھتے تو آپ سنت بنا لیتے نا۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے سخت بیماری کی حالت میں نمازیں پڑھیں۔ اؤ کل اِن کو نزلہ زکام ہو گا تو کہیں گے۔ ہم تو بیمار ہیں نا۔ ورنہ أن کو نمازوں کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ تمھارے لیے سارے کام أنھوں نے کیے۔

اب رابعہ بصری کے دل پہ خانہ کعبہ آیا۔ تو پھر بھی أن کو آدھا قلندر بولتے ہیں نا۔ تو پھر پورا قلندر کون ہوتا ہے۔ بھئی جس کو کبعہ طواف کرتا ہے وہ بھی آدھا قلندر ہے۔ تو پھر پورا قلندر کون ہوا؟

اؤ جس کے دل میں اﷲ کا نقشہ آ جاتا ہے۔ تو پھر أس کے دل میں اﷲ آ گیا نا۔

أسی کے لیے پھر حدیث شریف میں ہے۔ کہ میں أسکے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے میں أسکی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے۔ شیطان کو پتہ ہے کہ یہاں تک حضرت انسان پہنچ سکتا ہے۔ أس کے پاس شیطانی فوج ہے جنات کی حکم دیتا ہے جا اِس کو تباہ کر برباد کر کچھ بھی کر یہ اﷲ اِس کے اندر نہ جائے۔ اب تمھارے پاس تو ایک جن بھی نہیں ہے نا۔ تو تم أس کا مقابلہ کیسے کرؤ گے۔ جہاں سے اِس کی اجازت ہوتی ہے۔ اﷲ تعالٰی اُنکو بھی ایک رحمانی فوج دیتا ہے نا۔ اؤ شیطانی فوج تم پہ ٹوٹ پڑی اور رحمانی فوج شیطانوں پہ ٹوٹ پڑی نا۔ اور رحمانی فوج اُس وقت تک تمھارا ساتھ دئے گی جب تک تمھارے اندر رحمان جاگ نہیں اُٹھتے۔ پھر بندہ نہیں رہے بندہ نواز بن گئے۔ پھر غریب نہیں رہے غریب نواز بن گئے۔ اب ہم تمھاری أس وقت تک حفاظت کریں گے۔

بیعت بھی نہیں کریں گے۔ نذرانہ بھی نہیں لیں گے۔أس وقت تک حفاظت کریں گے۔ جب تک تمھارا اندر جاگ نہیں أٹھتا۔ 
پھر جب وہ اندر جاگ أٹھے گا تو خود ہی کسی کامل کو ڈھونڈ لے گا، نا۔ ہماری محنت پوری ہو جائے گی نا۔ 

اِس کے لیے اگر کسی کا کوئی مُرشد ہے ہمیں اِس سے بھی مطلب نہیں۔ مُرشد نہیں ہے اِس سے بھی مطلب نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمھارا اندر چمک أٹھے بس۔ تمھاری روح چمک أٹھے تمھاری روح بیدار ہو جائے۔ تو جب بیدار ہو گی تو خود ہی اپنا مسکن ڈھونڈ ہی لے گی۔ 

اِس کے لیے ہم جہاں بھی جاتے ہیں تو بہت سے عالم حضرات ہمارے حق میں ہیں تو بہت سے ہیں ہمارے مخالف ہیں۔ حق والوں کی تو سامنے أن کی کوئ بات زیادہ نہیں آ رہی۔ جو مخالف ہیں نا، وہ پرچے بھیج، بھیج کے نا، کفر کے فتویٰ لگا لگا کے۔ جہاں جاتے ہیں وہاں پہلے فتویٰ پہنچے ہوئے ہوتے ہیں أس وجہ سے اگر کسی کے دل میں کوئ بات ہو تو پوچھ لے دل کی تسلی کر لے۔ أس کے بعد ذکر لے اور اپنی قسمت آزمائے۔ 

اِس وقت ہر آدمی کہتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ میرے پر بڑا مہربان ہے ہر آدمی کہتا ہے بڑا اللہ کا کرم ہے۔ کیوں؟ کار بنگلہ ہے کرم نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ اور دوسرے سے پوچھتے ہیں کیا حال ہے؟ کہ بڑا ہی کرم ہے۔ کیوں؟ اتنا بڑا آفسر ہو گیا ہوں کرم نہیں تو اور کیا ہے اور تیسرے سے پوچھتے ہیں کیا حال ہے؟ کہ بڑا ہی کرم ہے۔ کیوں؟ میں اتنا بڈھا ہوں، اتنی صحت ہے کرم نہیں تو اور کیا ہے۔ ہم کہتے ہیں اگر تم اِسکو کرم سمجھتے ہو یہ چیزیں تو کفار کے پاس بھی ہیں۔ جو کافروں کو دیں وہ ہی تم کو دیں تو تمھارے اوپر کیا کرم ہوا۔ اگر تم نے دیکھنا ہے کہ واقعی ہی تمھارے أوپر اﷲ کا کرم ہے تو أس کے ذکر میں لگ جاؤ دو ، چار، پانچ سات دن میں تمھارے اندر اﷲاﷲ شروع ہوگئی أس کا کرم ہو گیا۔
 

 فذکرونی اذکرکم تو میرا ذکر کر میں تیرا ذکر کرؤں گا۔

ذکر أسی کا کیا جاتا ہے جس سے دوستی ہو جائے۔ اگر کوشش کے باوجود اﷲاﷲ نہیں ہوتا ہے تو تمھارے أوپر اﷲ کا کوئی کرم نہیں۔ کرم ہوتا تو تم کو اپنے نام لیواؤں میں لیتا۔ پھر اگر کار بنگلہ دیا تو پھر وہ کرم ہے نا، پھر کرم ہے کرم ہے نا۔ یہ کرم ہے۔ اپنے آپ کو آزمانے کا راز میں کیا ہوں۔ میرے اوپر اﷲ کتنا مہربان ہے۔ اور میرا مرشد کیا ہے یہی ایک کسوٹی ہے بس۔ 

گجرانوالا میں ایک انگریز نے سوال کیا میں مسلمان تو ہو جاؤں۔ شرابیں بھی چھوڑ دوں گا، نمازیں بھی پڑھوں گا جو کہو گے میں کرؤں گا۔ ایک بات مجھے سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ اگر مجھے سمجھا دو تو۔ کیا؟ کہ تم گارنٹی نہیں دیتے۔ میں مسلمان بھی ہو جاؤں پھر بھی تم بہشت کی گارنٹی نہیں دیتے ہو۔ میں تمھارے سب علماء کے پاس پھرا وہ کہتے ہیں ہمیں اپنی گارنٹی نہیں، تیری گارنٹی کیا دیں۔ وہ کہنے لگا جس چیز کی گارنٹی نہیں ہوتی وہ کمزور ہے۔ تمھارے مذہب کی گارنٹی نہیں تمھارا مذہب کمزور ہے۔ أس کو پتہ نہیں تھا کہ مذہب اسلام گارنٹی ہی گارنٹی ہے سالوں کی بات نہیں مہینوں کی بات نہیں دنوں میں تمھیں پتہ چل جائے گا تم کیا ہو۔

اگر تم یہ اندر اﷲ کو بسا کے دیکھو تو تمھارے اندر یہ روحیں بے چین ہیں۔ 

وہ روحیں بے چین ہیں ہمارے اندر کسی طریقے سے اﷲ آئے ہم اس کو پکڑیں تو تم اﷲاﷲ باہر ہی پھینکتے رہتے ہو۔ نماز پڑھی تو نور باہر، قرآن پڑھا تو نور باہر اﷲاﷲ کری تو وہ بھی باہر۔ اندر جائے تو پتہ چلے کہ تم کیا ہو۔ اِس کے لیے جو کچھ پوچھنا چاہتے ہیں پوچھیں اِس کے بعد ذکر لیں اور اپنی قسمت آزمائیں۔ اگر اﷲاﷲ شروع ہو گیا تو دُعا دے دینا ورنہ جیسے ہو ویسے تو ہو رہو گے نا۔

سوال: یہ کہتے ہیں جس طرح آپ دل سے اﷲاﷲ کا ورد جاری کروا دیتے ہیں۔ کیا آپ ایک گونگے شخص کی زبان سے اﷲاﷲ کروا سکتے ہیں؟
جواب: پہلے بھی بتایا ہے کہ یہ زبان اﷲاﷲ نہیں کرتی ہے۔ اِس کو اﷲاﷲ وہ مخلوق کرواتی ہے نا تو گونگے کی وہ مخلوق ہی نہیں ہوتی ہے نا۔ بھئی گونگے کی مخلوق ہی نہیں ہوتی ہے نا وہ اﷲاﷲ کیسے کرے گی أس کی زبان۔

پیچھے سے میرے جانے کہ بعد ایک جو اٹھاوٴ گے بہتر نہیں ہے کہ ابھی ہی بات چیت سب کچھ ہو جائے اور لوگ بھی دیکھ لیں۔ صرف اتنا ہے کہ ہماری کچھ کتابیں ہیں۔

سوال: چاند پر 
جو کیا آپ کا چہرہ دیکھایا گیا ہے۔ اِس کے متعلق کچھ بتائیں؟
جواب: دیکھیں نا پہلی بات تو ہے۔ اتنا جھوٹ تو ہم بول نہیں سکتے نا اگر یہ بات جھوٹی ہوئی۔ تو کل ہم تمھارے میں کیسے خطاب کر سکیں گے۔ کس منہ سے آئیں گے۔ ہم نے اِس کی پوری تحقیق کری ہے۔ آخر میں یہ ہے کہ فوٹو میں آگیا ہے، کمیرے میں آگیا ہے۔ کمیرے میں آیا۔ اب رسالوں میں آنا شروع ہو گیا ہے۔ اب اگر ہم کہیں گے یہ غلط ہے۔ پھر لوگ ہم کو کہتے ہیں یہ چھپاتا ہے۔ رہا سوال تصویر آ گئی ہے کیوں آئی ہے۔ اِس کا ہم کو علم نہیں ہے۔ کس نے دی ہے۔ اِس کا بھی ہم کو علم نہیں ہے۔ کیوں دی ہے؟ اِس کا بھی ہم کو علم نہیں ہے۔ پہلے لوگوں دیکھی ہے پھر ہم کو بتائی ہے۔ پھر ہم نے دیکھی تو پھر ہم کو نظر آئی۔ پھر ہم نے اقرار کیا ہے نا۔ یہاں ایک سوال ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ دیکتھے بھی ہیں۔ ہمارئے مخالف بھی دیکتھے ہیں۔ پھر وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی شکل نہیں آئی غوث پاک کی نہیں آئی۔ اِس کی کیوں آتی ہے۔ بھئی اِس کا جواب تو اﷲ دے سکتا ہے نا۔ کیا خبر حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے لگوا دی ہو۔ اِس کے متعلق ہم کچھ نہیں بتا سکتے۔

اتنا ضرور بتائیں گے۔ کہ جب حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے چاند کو دو ٹکرئے کیا تھا۔ تو کچھ لوگوں نے کہا تھا یہ جادو ہے۔
حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا چاند پہ جادو نہیں ہو سکتا۔ اتنا ہمارا ایمان ہے کہ جادو نہیں ہو سکتا۔
 

اگر کوئی کہے کہ یہ جادو ہے۔ تو پھر وہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی جادو تھا نا۔ پھر وہ لوگ پھر برحق کہتے ہیں نا۔ پھر وہ برحق کہیں گے نا کہ پھر صحیح ہے یہ جادو ہے۔ یہ جادو ہے تو وہ بھی جادو تھا۔ أس معجزے کا انکار ہو جائے گا نا۔

جواب: اب رہا سوال ذکر تو سلطان صاحب کے کبوتر بھی کرتے ہیں۔ طوطے کو سکھا لو وہ بھی شروع ہو جائے گا۔ یہ جو زبانی ذکر ہے نا یہ تو طوطا بھی کر سکتا ہے۔ بات تو دل کی کری ہے نا۔ کبوتر، طوطا ایک ہوسکتا ہے۔ نہیں ہوسکتا نا۔ زبانی ذکر والے بھی ایک نہیں ہو سکتے، خفی ذکر والے بھی ایک نہیں ہو سکتے۔ دل کے ذکر والے ایک ہو سکتے ہیں نا۔ تو دل کا ذکر وہ ہوتا ہے جو دل کی ڈھڑکن کے ساتھ اﷲاﷲ ملے۔ وہ ذکر قلبی ہوتا ہے نا۔ ذکر خفی ہے یہ ذکر قلبی نہیں ہے۔

سوال: اور دوسرا لکھتے ہیں آپ نے سیاست کی مخالفت کی ہے ۔ جبکہ نبی اکرم اور صحابہ اکرام نے خلافت قائم کی؟
جواب: بھئی خلافت قائم کی، سیاست تو نہیں کری نا أن لوگوں نے۔ اگر أن کی سیاست تھئ اِس میں یہ تو نہیں نا صبح یہ کہا کہ بے نظیر حکومت نہیں کر سکتی، شام کو کہا کر سکتی ہے۔ ایسی سیاست تو نہیں تھی نا۔ اگر ایسی سیاست ہو تو ہم أن کے ساتھ ہیں نا سیاسیوں کے ساتھ ہیں نا اگر وہ حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم والی سیاست ہو تو۔ یہ جو سیاست ہے ہم اِس کے مخالف ہیں نا۔ اِس میں تو ایمان ہی جاتا ہے نا۔ بھئی ایمان سیاست میں جاتا ہے نا۔ تو اس سیاست کے ہم خلاف ہیں نا۔ رہا سوال سیاست کے لیے دوسرے جو لوگ پڑے ہوئے ہیں۔ تم اپنا دین کا کام کرؤ نا۔ بھئی أن کو سیاست کرنے دو نا۔ نہ تمہیں کرسی ملتی ہے۔ أن کے رستے میں بھی رکاوٹ۔ تم کو بھی کچھ حاصل نہیں ہوا۔ یا تو ہمیں اتنا امید ہو جائے نا کہ تمھیں ووٹ مل جائے گا۔ ووٹ بھی نہیں ملتا نا۔ تو پھر اپنا وقت بے کار کیوں کرتے ہو۔ بھئی مجمعہ جب لگاتے ہیں نا تو دین دار ہزارؤں اکھٹے ہو جاتے ہیں۔ جب پیر حضرات آتے ہیں نا تو ہزارؤں مرید اکھٹے ہو جاتے ہیں۔ لیکن کہتے ہیں پیر صاحب نذرانہ دس روپے دے دیں گے۔ لیکن ووٹ تو بے نظیر کو ہی دیں گے۔ یہی کہتے ہیں نا پھر کیوں کہتے ہیں نا ان کو۔ أن کو پتہ ہے اگر یہ مسلم لیگیا ہے تو مسلم لیگیا ہی رہے گا۔ اگر پیپلز پارٹییا ہے تو پیپلز پارٹییا ہی رہے گا۔ تمھارئے أوپر اعتبار ہی نہیں ہے۔ اؤ اعتبار ہی نہیں ہے! گھومنے پھرنے والا ہے۔ اِس وجہ سے تم کو ووٹ نہیں ملتا نا۔ وہ اِسی سیاست کے چکر میں آکے تم بد نام ہوئے ہو نا۔

جتنی تم نے اپنی طاقت سیاست میں لگائی۔ اؤ یقین کرؤ اگر روحانیت میں لگاتے نا تو کہیں کے کہیں پہنچ جاتے۔

وہ جو روحانیت والے عالم ربانی تھے نا جب کہیں جاتے تو وقت کے بادشاہ بھی کھڑئے ہو جاتے۔ اک جاتا پورا بازار کھڑا ہو جاتا عالم صاحب آ رہے ہیں۔ اب تم سارے مل کے بھی جاؤ نا تو کوئی کھڑا نہیں ہو گا نا۔ اؤ کیوں کھڑا نہیں ہو گا اس سیاست نے تم کو خراب کر دیا نا۔ سیاست ہے ہی بے ایمانی ہے۔ اس نے تم کو بے ایمان کر دیا۔ حضور پاک کی سیاست أس نے کافروں کو بھی، یہودیوں کو بھی، مسلمانوں کو بھی ایک پلیٹ فارم پر لائے اور تمھاری سیاست مسلمانوں کے بھی تفرقے کر رہی ہے نا۔ تو ہمارا بس یہی ہے کہ یہ جو نوجوان ہیں جن کے دلوں میں وہ چیز ہے جس کے ذریعے اﷲ تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کی طرف ان کو لے کے جاؤ نا۔ بھئی جو کرسی ملی گئ تو مولوی صاحب کو ملی نا تمھارا کیا ہوا۔ کیا ہوا تمھارا۔ ویسے ہی ہو نا۔ اگر"الف" سے ہی اﷲاﷲ کرتے رہتے تو کچھ پا جاتے۔ اور نہیں تو دل کی صفائی تو ہو ہی جاتی نا ۔

میں وہاں انگلینڈ میں گیا تو مجھے وہاں ایک ہندؤ راہب ملا۔ کہنے لگا کہ باتیں تو تو بڑی کرتا ہے۔ ہم تو ویسے ہی رہیں گے۔ کیوں؟ ہمارئے اندر کتے ہیں۔ جب تک کتے ہیں تو ہمکتوں والے ہی کام کریں گے۔ کہنے لگا کتوں کو نکالو نا۔ یہ کتے نکلیں تو ہم ہم انسان بنیں نا۔ تو ساری تو أسی کے أوپر أوپر دی ہے نا۔ شیطان کے أوپر دی ہے نا۔ اندر نفس شیطان ہے نا۔ أس کا طریقہ بھی بتا دیا ہے۔

سوال: کچھ لوگ بلند آواز سے ذکر کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس کی وضاہت فرمائیں؟
جواب: تھوڑی سی بات ہے۔ کچھ لوگ ذکر کرتے ہیں أن کو بھی نہیں پتہ ہے کہ میں کیوں کرتا ہوں۔ ہم نے یہ دیکھا کہ بہت سے لوگ ہیں مسجد میں، یا گھر میں پڑھتے ہیں اﷲ ھواﷲ ھو۔ خوب سانس وانس چڑھتا ہے۔ اﷲ ھو کرتے ہیں گھر چلے جاتے ہیں۔ شور مچایا۔ اِس سے بہتر تھا تو ذکر خفی کر لیتا اﷲ کو یاد کرنا تھا نا تو ذکر خفی کر لیتا نا لیکن اگر تو اﷲ ھو کرتا ہے دل کی  ڈھڑکنیں پھر تیری أبھرتیں ہیں۔ پھر أس کے ساتھ اﷲاﷲ ملاتا ہے تو یہ جائز ہے نا، پھر یہ جائز ہے نا۔ ورنہ پھر شور ہی ہے ۔

سوال: اِس میں یہ ہے کہ کسی بزرگ نے دعویٰ نہیں کیا کہ مجھے کسی نبی یا صحابی نے پھل کھلایا؟
جواب: اس سے تو بڑے بڑے دعوے ہیں ۔ یہ تو پھل کا دعویٰ ہے۔
 

امام ابو حضرت امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے99 دفعہ اﷲ کو دیکھا ہے۔

ابراہیم بن اودھم نے فرماتے ہیں کہ میں 70 مرتبہ اﷲ کا دیدار کیا ہے۔

اور سلطان صاحب کی کتاب میں ہے نا وہ بھی پڑھ کر دیکھ لو۔ جب چاہوں اﷲ کو دیکھ لوں۔

تو یہ چھوٹا سا معمولی سا دعویٰ ہے۔
 


سوال: اِِس میں یہ لکھتے ہیں آپ سے التماس ہے کہ داڑھی اور مونچھیں، داڑھی منڈھ اور مونچھیں منڈھ بھی ولیّ ہو سکتا ہے یا نہیں؟
جواب: ولایت کا تعلق نہ تو داڑھیوں سے ہے تو نہ ہی مونچھیوں سے ہے۔ ولایت کا تعلق عبادت سے بھی کوئ نہیں ہے۔ نمازوں سے بھی نہیں ہے۔ ولایت کا تعلق اﷲ کی ذات سے جس کو چاہے۔ اب وہ جوغوث پاک کے گھر میں چوری کرنے گیا تھا۔ أس کو نماز تو آتی بھی کوئ نہیں تھی نا۔ داڑھی بھی نہیں ہو گی۔ اﷲ نے چاہ لیا نا راتوں رات ولیّ بنا دیا نا۔
 

فصیل بن ایاز وہ بھی ڈاکو تھے نا راتوں رات ولیّ بن گئے نا۔

حضرت ابو بکر حواری ڈاکہ ڈالنے کے لیے گئے رات کو حضرت ابوبکر صدیق نے  أن کو بیعت کیا نا۔ سر کے أوپر ٹوپی رکھی نا جب أٹھے تو ٹوپی موجود تھی نا۔ تو راتوں رات ولیّ بن گئے نا۔ تو ولایت کے لیے جس کو اﷲ چاہ لے۔ یہ اﷲ کا کرم ہے جس کے أوپر ہو جائے۔ ولایت داڑھیوں کی، نمازوں کی محتاج نہیں ہے۔

سوال: سرکار اِس میں یہ لکھا ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان زلیل و رسوا ہو رہے ہیں۔ آپ دینی سیاست شروع کریں اور مسلمان عالم کو مشکلات سے نجات دلائیں دور یہود و نصاری کے غلبے سے نکال کر أس کا تحفظ کریں؟
جواب: میرا مقصد ہے آپ سیاست میں کیوں جاتے ہیں اِس وقت ضرورت ہے۔
 

أس چیز کو پکڑؤ جو سب سے اہم ہے۔

اﷲ کو پکڑؤ، اﷲ کے دین کو پکڑؤ نا۔

اگر کوئ دیوبندی ہوا تو پہلے سنی ہو گا پھر ہوا نا۔ تو سنی تھا اﷲ نہیں ملا تب دیوبندی ہو گیا نا۔ اگر اﷲ ملتا تو کیوں جاتا أدھر۔ وہ پھر شیعہ ہو گیا اﷲ نہیں ملا تب شیعہ ہوا نا۔ وہ اپنے طریقے سے ڈھونڈ رہا ہے، وہ اپنے طریقے سے ڈھونڈ رہا ہے وہ اپنے طریقے سے ڈھونڈ رہا ہے۔ حالانکہ ہم نے ہندؤں کو بھی دیکھا۔ وہ بھی اﷲ کو ڈھونڈ رہے ہیں ۔ بتوں کے ذریعے ڈھونڈ رہیں ہے نا۔ لیکن اب پتہ چلے کہ اﷲ ملتا کیسے ہے اور اﷲ کا دین کون سا ہے؟ توریت میں کچھ اور دین ہے، زبور میں کچھ اور دین ہے، انجیل میں میں کچھ اور دین ہے، قرآن میں کچھ اور دین ہے پھر اﷲ کا دین کیا ہے؟ کبھی سوچا ہے؟
 

اﷲ نے سب سے پہلے اپنے محبوب سے عشق کیا ہے۔ وہی أس کا دین بن گیا۔

تو خود عشق، خود عاشق، تو خود معشوق۔ 
آج جس کے اندر بھی عشق پیدا ہو جا ئے وہ أس کے دین میں چلا گیا۔ 

 

پھر وہی ہے نا گر ہو عشق تو کفر بھی ہے مسلمانی
 
اب سیاست کو چھوڑو اب عشق کو پکڑؤ۔ عشق کی طرف جاؤ نا۔ 
 

اور عشق ایسا ہے ہر کسی کے لیے ہے۔ عشق میں جو بھی فرقہ تیرا پرواہ نہیں، جو بھی مذہب تیرا پرواہ نہیں۔ ایک دفعہ أس کا عاشق ہو جا نا۔

جب وہ گرؤ نانک سکھّوں کو اپنی تعلیم دیتا۔ آخر میں کیا ہوا کہ ایک درویش ٹکر گیا۔ کہ تعلیم تیری صحیح ہے۔ دل بھی تیرا کچھ صاف لگتا ہے۔ لیکن اِس میں اگر اﷲاﷲ آ جائے تو تیرے اندر عشق بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ أس نے کہا کہ میں اﷲاﷲ پڑھ لوں گا لیکن "محمد رسول اﷲ" نہیں پڑھوں گا۔ أس نے کہا ٹھیک ہے تو اﷲاﷲ ہی پڑھ سہی۔ وہ اﷲاﷲ دل میں اﷲاﷲ ہی پڑھتا رہا ایک ہاتھ تسبیح، ایک ہاتھ مالا۔ نہ ہندؤ، نہ مسلمان۔ آخر کیا ہوا وہ مر گیا سکھّوں نے کہا ہمارا، مسلمانوں نے کہا ہمارا۔ کیونکہ مسلمانوں کو بھی أس میں کچھ روشنی نظر آرہی تھی نا۔ انگریز حکومت تھی أنھوں نے کہا ایسا کرؤ لڑؤ نہیں۔ اِس کو چارپائی پر لیٹا دؤ، چارپائی أٹھاتے ہیں۔ یہ جس طرف گر گیا أن کا۔ تو جب چارپائی أٹھائی تو لاش ہی غائب ہو گئی۔ بھئی نہ وہ سکھّوں کا تو نہ مسلمانوں کا۔ پھر کس کا؟ اﷲ کا نا۔ اﷲ کی طرف چلا گیا نا۔

سوال: یہ لکھتے ہیں کہ جب جسم میں حلال روزق نہیں جائے گا تو اﷲ کا نور کیسے پیدا ہو گا؟
جواب: ایک حدیث شریف میں ہے کہ وہ جسم جس کی پرورش حرام مال سے گئ ہو کبھی جنت میں نہیں جائے گا۔ یہ انہوں نے صحیح لکھا ہے کہ اگر حرام مال ہے تو اﷲ کا نور کیسے پیدا ہو گا۔ اﷲ کو پتہ تھا کہ کیسے کیسے بندے ہونگے۔ أس نے دوائیاں بھی بھجیں ہیں تو ٹیکے بھی بھیجے ہیں نا۔ اب اگر تو وظائف کے ذریعے ،عبادت کے ذریعے۔ اندر عبادت کو لے کے جانا پڑئے گا تو تجھے حرام چھوڑنا پڑئے گا۔ اگر حرام ہے تو عبادت تیرے اندر ہی نہیں جائے گی۔ تو تو ٹیکہ لگا نا، وہ سیدھا نسّوں میں لگے گا،نا۔ بھئی جب تیرے اندر ٹیکہ جائے گا۔ تو پھر تیرے اندر جو بیماری ہے۔ وہ خودبخود نکلنا شروع ہو جائے گی نا۔

ایک آدمی ہمارئے پاس آیا۔ تو وہ کہنے لگا کہ میں سخت شرابی ہوں بچپن سے شراب پیتا ہوں۔ میں نے ایک کتاب پڑھی کہ مرنے کے بعد کیا ہو گا۔ آب مجھے خوف ہے کہ میرا کیا ہو گا۔ اب میں نے بڑی کوشش کری کہ میں شراب چھوڑں، چھٹتی نہیں ہے۔ میں اب نماز پڑھنا چاہتا ہوں لیکن مولوی صاحب کہتے ہیں کہ قرآن میں لکھا ہے کہ نماز مت پڑھ جب تو نشے میں ہے۔ وہ کہتے ہیں پہلے تو شراب چھوڑ۔ شراب مجھ سے چھٹتی نہیں ہے۔ میں کیا کرؤں؟ ہمارئے پاس آ گیا۔ کہ کوئی حل بتاؤ۔ ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے تو شراب پیتا ہے تو پیتا رہ ۔ تجھے ایک ٹیکہ لگاتے ہیں ۔پھر أس کو طریقہ بتایا۔ کہ شراب پیتا رہوں؟ کہا پیتا رہ پہلے سے زیادہ پی۔ کہ گناہ ہو گا؟ کہا ہمارے سر۔  لیکن یہ بھی طریقہ کر۔ وہ گھر گیا اور پریکٹیس کرنا شروع کر دی۔ کوئی مہینے بعد أس کی بیوی آئی کہنے لگی کہ اب شراب پیتا ہے، پیتا ضرور ہے لیکن أسکو الٹی ہو جاتی ہے۔ اﷲ اندر گیا نا۔ تو شراب اب اندر کیسے ٹھرے۔ کچھ عرصے کے بعد وہ آیا۔ تو تھوڑی، تھوڑی داڑھی بھی تھی۔ ہمارئے ساتھ أس نے نماز پڑھی۔ جب اِس قلب کی اصلاح ہو جاتی ہے نا تو سارے جسم کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ جب اِس میں اﷲاﷲ جائے گا نا تو ساری بیماریوں کو باہر نکالے گا نا۔

سوال: آگے لکھتے ہیں کہ بھنگ حلال ہے یا حرام ہے آپ کی کتاب روحانی سفر کا حوالہ مستانی نے کہا؟
جواب: یہ خواب کی بات تھی نا جی۔ خواب میں نے لکھا تھا نا۔ یہ کتاب آپ لوگوں نے پڑھی ہی نہیں نا۔ أس میں لکھا ہوا تھا۔ خواب میں دیکھا بھنگ تو بڑی مزیدار لگی۔ تو خواب میں ہی کہہ رہیں ہیں کہ یہ تو حلال ہے، عالموں نے خواہ مخواہ حرام کر دی۔ یہ تو خواب کا واقعہ ہے نا۔ وہ ہم تو نہیں کہہ رہے تھے۔ خواب بے اختیارا ہوتا ہے نفس کہہ رہا ہو گا۔ جو بھی نشہ ہے وہ حرام ہے۔ ہم تو سگریٹ بھی نہیں پیتے أس کو بھی حرام سمجھتے ہیں۔

سوال: اِس کا میں نے پہلے ہی جواب دیا ہے یہ کہتے ہیں مونچھ داڑھی کے بغیر ایسے شخص کو ولایت مل سکتی ہے؟
جواب: میں نے پہلے تشریح بھی کر دی بتا بھی دیا۔ فلاں فلاں بندے چور ڈاکو تھے۔ اﷲ تعالٰی نے أن کو ولیّ بنا دیا۔

سوال: حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جو شخص داڑھی منڈوتا أسترا۔۔۔۔۔۔۔۔ أس شخص کو ولایت مل سکتی ہے؟
جواب: بھئی یہ ایک گناہ ہے نا۔ اگر داڑھی منڈوتا ہے تو چھوٹا سا گناہ ہے نا۔ علامّہ اقبال سے لوگوں نے پوچھا۔ پیر جماعت علی شاہ  نے پوچھا کہ تیری داڑھی نہیں ہے۔ أنھوں نے کہا کہ میری داڑھی میرے اندر ہے نا۔

اؤ سہلی سرکار تھے داڑھی منڈوتا تھے مظفرآباد والے۔ جب فوت ہوئے عالموں نے کہا کہ یہ بے دین تھا۔ ہم اِسکی نماز جنازہ نہيں پڑھایں گے ،اِسکی داڑھی نہیں تھی۔ أن کا ایک حلیفہ تھا۔ أس نے کہا کہ چلو خود ہی کوئی جنازہ پڑھ کے دفنا دیتے ہیں ۔ جب وہ کپڑا أٹھایا تو داڑھی موجود تھی۔ علماء نے کہا لگا لی ہو گی۔ گرم پانی کروایا صابن سے منہ دھلوایا لیکن وہ داڑھی آ گئی تھی نا۔ منجانب اﷲ تھی نا۔

اگر کوئی کہے کہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اﷲ جو چاہے کر سکتا ہے ۔ تو کہتا ہے کیسے ہو سکتا ہے۔ تیرا ایمان ہی چلا گیا، نا۔ وہ تو ہر چیز پر قادر ہے نا۔ وہ چوروں کو قطب بنا دیتا ہے ڈاکوؤں کو ولیّ بنا دیتا ہے۔ تو کہتا ہے نماز کے بغیر یہ نہیں ہو سکتا ہے۔ تو ایمان تیرا چلا جائے گا نا۔

سوال: تصّور شیخ کیا نماز کے دوران جائز ہے؟
جواب: اتنا شیخ کا تصّور نماز میں ہوتا ہے کہ جس کا آگے عالم نماز پڑھا رہا ہے أس کے پیچھے کھڑا ہوں یا شیخ میرے دائیں کھڑا ہوا ہے۔ یہ تو جائز ہے۔ اگر أس کو دل میں بساتا ہے۔ أس میں پھر دو طریقے ہیں۔ اگر تیرا شیخ ولیّ اﷲ ہے۔ تو پھر دل میں بسانے سے بھی تجھے فائدہ ہو گا نا۔ تو تیری نماز أس کے لیے أوپر چلی گئی۔ وہاں ٹیلیفون لگا ہوا ہے نا۔ اگر تیرا شیخ ناقص ہے۔ تو پھر تیری نماز بھی برباد ہو گئی۔ أس کے لیے تو تسلی کر لے کہ تیرا شیخ کامل ہے یا ناقص ہے۔ یہ ضروری ہے نا آج کل کیا کرتے ہیں کہ شیخ اپنا تصّور کرواتے ہیں۔ أس تصور سے ضروری یہ ہوتا ہے کہ أس سے محبت ہو جاتی ہے۔ بھئی اگر تو کسی بیل کا تصّور کر رہا ہے تو بیل سے بھی تجھے محبت ہو جائے گی نا۔ أس سے بہتر ہے کیونکہ مشکوک دنیا ہے نا۔ تو اِس سے بہتر ہے کہ تو اﷲ کا ہی تصّور کر نا۔ اب تیرا شیخ خواہ ناقص ہے یا کامل ہے ۔ اﷲ کے تصّور سے تجھے نقصان تو نہیں ہے نا۔

 تو اِس سے بہتر ہے کہ تو دل کے أوپر اﷲ کا تصّور کر۔ شیخ کو سامنے جان یا سائڈ میں جان۔


سوال: یہ لکھتے ہیں کہ ذکر افضل ہے یا نماز؟
جواب: بھئی ذکر پاک کرتا ہے نا تو پھر نماز أوپر جاتی ہے نا۔ قرآن مجید میں ہے "اقامت الصّلواۃ للذکری" نماز قائم کر میرے ذکر کے واسطے۔ اب یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔

ظاہر و باطن دین اسلام کے دو پر ہیں ایک زبان اور ایک دل لوگ اک پر سے أڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جو ایک پر، چالیس ، پچاس سال ہو گئے مسجد میں نمازیں پڑھ رہے ہیں نا۔ اﷲ کو تو نہیں پہنچے نا۔ وہیں پھرپھڑا رہے ہیں نا ایک پر ہے نا۔ اور دوسرے لوگوں کو دیکھا ہے کہ نمازیں چھوڑ دیں اور جنگلوں میں اﷲ اﷲ کر رہے ہیں۔ أن کے دل اﷲ اﷲ کر رہے ہیں۔ لیکن نمازیں چھوڑیں وہ جنگلوں میں ہی گھوم رہے ہیں نا۔ اﷲ أن کو بھی نہیں ملا نا۔ اﷲ أن کو ملا جنھوں نے نمازیں زبانوں سے پڑھیں۔ اور دلوں سے اﷲ اﷲ کیا اﷲ تو أن کو ملا، نا۔ یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں نا۔ اب تو کہے پانی بہتر ہے، یا روٹی بہتر ہے۔ تو دونوں بہتر ہیں۔ دونوں ضروری ہیں۔

سوال: نماز قائم کرنا ضروری ہے
 کہ پڑھنا ضروری ہے؟
جواب: پڑھنا ضروری نہیں۔ پہلے لوگ نمازیں پڑھتے تھے۔ تو قرآن نے فرمایا۔ کہیں لکھا ہوا ہے نماز پڑھ۔ قرآن میں لکھا ہے نماز قائم کر۔ وہ پڑھتے تھے پڑھا اور چلا گیا او پڑھتا کیا ہے قائم کر تیرا دل منور ہو۔ نماز تیرے اندر جائے۔ تو پھر تو سدّا سہاگن ہوئی ھو۔ پھر تو گوم پھر رہا ہے تب بھی تو نمازی ہی ہے نا۔ ابھی تو جب پڑھ رہا ہے تو اس وقت نمازی ہے نا۔ اِس وجہ سے کہا کہ نماز قائم کر تو تجھے نماز قائم کرنا آیا ہی نہیں ہے نا۔
 

تو نماز قائم کرنے کی لیے پھر ذکر ضروری ہے نا۔

مجدد صاحب نے فرمایا مقتدی کو چاہیے۔ مکتوبات شریف میں آپ پڑھیں۔ مقتدی کو چاہیے کہ پہلے اﷲ کا ذکر کرے فرمایا قرآن اُن لوگوں کے پڑھنے کے قابل نہیں، جنکے نفس کتے ہیں۔ ۔فرمایا جب نفس پاک ہو جائے پھر قرآن پڑھے۔ پھر قرآن أس کے اندر أترئے گا،نا۔ پھر جب قرآن أترئے گا تو نماز بھی تو قرآن ہی ہے نا۔ وہ بھی اندر ہی جائے گی نا۔

سوال: لکھا ہے جی کہ آپ کے نزدیک مسلمان کون ہوتا ہے؟
جواب: مسلمان تو وہی ہے جس نے کلمہ پڑھ لیا۔

سوال: کیا نام عشق قرآن و سنت کے مطابق، قرآن و سنت سے جواب دیں؟
جواب: اب یہاں تھوڑا سا مسلئہ ہے۔ بھٹ شاہ والوں نے بولا ہے۔
 

 نماز روزہ کم سُٹو او رستہ کوئی دوجو

تمھارا جو قرآن سنت ہے نا وہ شہروں میں ہے۔ وہ علماء کے حصّے میں آیا ہے۔ جو عشق ہے نا وہ درویشوں کے حصّے میں آیا۔  اِس کے لیے تمھارے جتنے بھی اکابر ہیں قرآن سنت تو شہروں میں تھا نا وہ جنگلوں میں کیوں گئے۔ تمھارے داتا صاحب گئے، خواجہ صاحب گئے، غوث پاک گئے۔ عشق کے لیے گئے نا۔ تو جب أن میں عشق آیا۔ حدیث شریف میں اگر تو کسی کو عشق والے کو دیکھے أس کے ساتھ مبالغہ، مباحثہ نہ کر کہ وہ اﷲ کے عشق میں ڈوبا ہوا ہے۔
 

تو رہا سوال ہم تو کہتے ہیں اگر تیرے اندر عشق نہیں ہے نا۔ تو تو بہت بڑا نمازی بھی ہو گیا تلاوت بھی کرتا ہے نا۔ تو عشق والے کو تو نہیں پہنچ سکتا۔ " جیتھے عشق پہنچاؤے أتھے ایمان کو بھی خبر نہیں ہے" جس جگہ عشق پہنچا دیتا ہے، ایمان والے بھی نہیں پہنچ سکتے۔ تو تو ابھی زبانی مسلمان ہے۔

سوال: اِس میں لکھا ہے کہ ذکر خدا کرے ذکر مصطفٰی نہ کرے؟
جواب: میرا مطلب ہے کہ اس کی اپنی عقیدت ہے۔  اگر کسی نے کہا کہ میری زبان ذکر خدا یہ شعر کیسے ہے۔

خدا کا ذکر کرئے ذکر مصطفٰی نہ کرے
ہمارئے منہ میں ہو ایسی زبان خدا نہ کرے۔
جواب: میرا مطلب ہے،  یہ تو ہمارا عقیدہ ہے نا۔ ہر أمت اپنے نبی کو اِسطرح کہتی ہے۔ اور دوسرا ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ خدا بھی نہیں اور جدا بھی نہیں۔

ہم تو کہتے ہیں کہ محبوب کا ذکر اﷲ کا ذکر، اﷲ کا ذکر محبوب کا ذکر۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ جدا نہیں ہیں وہ۔ 


اِن کو کہیں کہ ذکر لو
 

 

*****اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو

اگر آپ بھی ذکر کی لینا چاہتے ہیں تو امام مہدی ریاض احمد گوھرشاہی کی شبیہ مبارک کوپورے چاند پر دیکھتے ہوئے

تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔

© 1998-2010 All Faith Spiritual Movement Intl'
admin@theallfaith.com