|
SELECT YOUR LANGUAGE: ENGLISH or INDONESIAN |
||
![]() |
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے |
![]() |
|
اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر) |
||
|
مرکزی صفحہ تعارف حضرت عیسی کرشمہ قدرت الحجرالأسود تعلیمات دینِ الٰہی پروگرام تصانیف ویڈیو رابطہ |
||
|
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھرشاہی مدظلہ العالی کا لاہور میں روحانی خطاب آعوذبااﷲمن الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
(اس خطاب کے متن کا
ابتدائی حصہ میسر نہیں ہے۔ جس
کے لئے ہم معازرت خواہ ہیں) بیعت کا ٓاختیار صرف ولیّ کو ہے۔ اور ولیّ وہ ہوتا ہے، ولیّ اﷲ۔ اِس کا مطلب ہے اﷲ کا دوست۔اگر تمھاری کسی سے دوستی
ہے، أس سے بات چیت بھی ہو أسکو
دیکھا ہوا ہو تب
تم أس کے دوست ہو نا۔ نہ بات چیت ہے، نہ دیکھا ہوا ہو کہتے
ہو میں اﷲ کا دوست ہوں۔ یہ دوستی نہیں ہے۔ جس
طرح جھوٹی نبوت کا دعویدار کافر ہو جاتا ہے۔ أس کو ماننے والے بھی کافر
ہو جاتے ہیں۔ اِسطرح جھوٹی ولایّت کا دعویدار کفر کے نزدیک پہنچ جاتا
ہے نا۔ اور أس کو ماننے والے کمبخت اور بے نصیب ہی رہتے ہیں نا۔ بھئی
وہ جو کافر ہے وہ اپنے لیے ہے نا اپنی أس نے اپنی عاقبت خراب کر دی۔ اِس
نے ہزاروں لوگوں کی زندگیاں خراب کر دی نا۔ ایک آدمی میں سولہ مخلوقیں،
ہزار مُرید، سولہ ہزار، یہ سولہ
ہزار مخلوقوں کا قاتل ہے نا۔ اب یہ شعور أمت میں بھی ہونا چاہیے نا۔ ضروری ہے نا ہر آدمی اپنے پیر کو ولیّ سمجھتا ہے نا تب أس سے بیعت ہوتا ہے نا۔ اگر أس کا پیر ولیّ ہے تب بھی أس کو نہیں پتہ، نہیں ولیّ ہے تب بھی أس کو نہیں پتہ۔ ضروری ہے کہ اپنے پیر کا پتہ ہونا چاہیے کہ ولیّ ہے بھی ہے یا نہیں نا۔ لیکن تمھیں پہچان نہیں ہے نا۔چور کو چور کو پہچانتا ہے نا۔ ولیّ کو ولیّ کو پہچانتا ہے۔لاہور کا چور وہاں بیٹھا دو پشاور کا چور وہاں بیٹھا دو۔ آپس میں جانتے نہیں ہیں۔ اُنکی نظریں ٹکرائیں گی۔ وہ سمجھ جائے گا میرا پیٹی بھائی ہے، حقیقت ہے۔ اِک ولیّ اِدھر، اِک ولیّ أدھر أن کے دل ٹکرائیں گے نا جب تمھارے دل میں اﷲ اﷲ آئے گا نا، اﷲ اﷲ کا نور آئے گا۔ تمھارا ذکر قلب جاری ہو گا۔ اﷲ اﷲ اﷲ اﷲ شروع ہو جائے گی۔ پھر تم داتا صاحب چلے جانا، نا۔ وہاں بھی اللہ ہے یہاں بھی اللہ ہے رقت پیدا ہو جائے گی۔ اﷲ اﷲ میں تیزی ہو جائے گی۔ ایک حدیث شریف میں ہے کہ ولیّ کی پہچان جس کی محفل میں اﷲ اﷲ شروع ہو جائے۔ بھئی تیرے دل میں اﷲ اﷲ تھی نا، أس پاس گیا اور تیز ہو گئ، پہچان ہو گئ نا۔ آگے کسی اور کے دربار پر چلے جانا بابا فرید پے چلے جانا وہاں بھی اللہ یہاں بھی اللہ رقت پیدا ہو جائے گی نا۔ شناخت ہو گی نا پھر تم اپنے مرشد کے پاس چلے جانا جو بات داتا صاحب، یا بابا فرید پے ہوئی تھی اگر مرشد کے پاس جانے سے ہوتی ہے۔ پھر تیرا مرشد کامل ہی ہے۔ پھر تو جیسا بھی ہے آپے لاسی سارا ھو۔ اؤ تیری نسبت ہو گئ نا، تو جب تیری نسبت ہو گئ۔ ایک حدیث شریف میں ہے کہ کچھ لوگ یوم محشر میں چمک رہے ہونگے۔ نبی بھی چمک رہیں ہونگے، یہ کون سا نبی یہ فلاں نبی، فلاں نبی۔ یہ کون سا نبی، یہ نبی نہیں یہ ولیّ تھا لوگ کہیں گے شائد ہمارے زمانے میں ہو۔ جا کے پہچان لیں گے، اک کہے گا اے اﷲ میں نے اِسکو وضو کروایا تھا چلو بخش دیا۔ دوسرا کے کہے گا کہ اے اﷲ میں نے اِس کو کپڑا پہنایا تھا چلو بخش دیا۔ اور جو کہیں گے اے اﷲ ہم تھے ہی اِسی کے ۔ کہے گا نا جدھر یہ جاتا ہے اِس کو لے جاؤ۔یہ مرشد کامل ہوتا ہے نا۔
اگر تیرا مرشد کامل ہے تو پھر ٹھیک ہے نا۔ اب تم سنتے ہو اکثر جمعے کے خطابوں میں کہ جس میں عشق نہیں اﷲ، رسول کا عشق محبت، نہیں أس کا ایمان مکمل نہیں۔ سنتے ہو نا۔ بات بھی صیحیح ہے نا۔ لیکن سننے کے بعد، آیا سننے کے بعد تمھارا ایمان مکمل ہوا۔ تم میں عشق آیا۔ کوئ نہیں آیا نا۔ بھئی تمھیں دؤائی کا پتہ بتاتے ہیں نا۔ دؤائی تو نہیں دیتے ہیں نا۔ جب تک دؤائی اندر نہیں جائے گی تمھارے اندر عشق کیسے آئے گا۔جب تمھارے دل میں اﷲ اﷲ شروع ہو جائے گی۔ کوئی بھی چیز دل ميں آ جائے اُس سے محبت ہو جاتی ہے نا، یہ جو کہتے ہیں کہ ہم محبت کرتے ہیں وہ مکار ہیں۔ محبت کی نہیں جاتی ہے، محبت ہو جاتی ہے۔ زبان میں ہم کرتے ہیں دل میں دنیا بسائی ہوئی ہے۔ یہ مکّاری ہے۔ جب تیرے دل میں اﷲ اﷲ شروع ہو جائے گی، تو تیرے دل میں اﷲ کی محبت پیدا ہو جائے گی۔ خود بخود۔جب تیرے دل میں اﷲ کی محبت پیدا ہو جائے گی۔ اﷲ تعالٰی کسی کا احسان لیتا نہیں ہے۔ اﷲ جو ہوا۔ اُسکے لیے ایک روپیہ خرچ کرؤ، وہ دس روپے لُوٹا دیتا ہے نا۔ بھئی احسان مانے تو کیوں نو روپے فالتو دے۔ تھوڑی سی ایک نیکی کرؤ دس نیکیوں کا ثواب دے دیتا ہے نا۔ تھوڑی سی محبت کرؤ، دس گنا زیادہ محبت کر لیتا ہے نا۔ اور جس سے اﷲ محبت کرتا ہے پھر ایک دن اُس کو دیکھتا ہے، سرسری نظر سے نہیں دیکھتا بڑے پیار سے دیکھتا ہے۔ پھر جس دن اﷲ نے تمھیں پیار سے دیکھا محبت کٹ گئی عشق آ گیا نا۔ اور پھر میں تیرا اور تو میرا۔پھر تو جس فرقے سے بھی ہے، جس مذہب سے بھی ہے۔ تو علامّہ اقبال فرماتے ہیں کہ "گر ہو عشق تو کفر بھی مسلمانی"
کہ اگر تیرے
اندر عشق آ گیا تو کفر بھی ہے مسلمانی نا۔
پھر فرماتے ہیں "گر ہو نہ تو مسلم بھی ہے کافر و رندیق"
اور أس کا ثبوت ہے نا کہ
مسلمان ایک دوسرئے کو کافر و رندیق ہی کہہ رہے ہیں نا۔ اؤ عشق نہیں
ہے تب کہہ رہے ہیں نا۔
اِس وقت تم کہتے ہو کہ ہم
سب سے افضل أمت ہیں کہتے
ہو نا۔ ہمیں تم بتاؤ شکلوں سے أمت ہو۔ شکلوں سے یہودی
جو ہیں نا وہ تم سے خوبصورت ہے۔ پیسے سے عیسائی تم سے آگے ہے۔ اور صحت
سے جان سے مرہٹا
تم سے آگے ہے۔ پھر
تم میں کون سی فضیلت ہے۔
کیوں جی اؤ مسلمان کا نہیں کہا أمت کا کہا، مسلمان کو کہاں دیدار ہوتا ہے۔ وہ أمت کو ہوتا ہے نا۔ایک میرا حبیب اور اُسکی
اُمت۔ موسیٰ علیہ اسلام کو جلال آیا میں نبی ہو کے ایک امتی کے برابر
نہیں دے جلوہ دیکھی جائے گی جلوہ پڑا تو موسیٰ علیہ اسلام بے ہوش ہو
گئےَ۔ اور حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے طفیل وہ اِسم اِس اُمت کو ملاتب اِسکو فضیلت ہے نا۔ایک حدیث شریف میں ہےکہ قیامت کے دن اُمتوں کی پہچان نور سے ہو گی۔ یہ "یا رحمانُ" سے چمک رہے ہیں موسٰی علیہ السلام کی اُمت۔ یہ"یا ودؤدو" سے چمک رہے ہیں داؤد علیہ السلام کی اُمت اور یہ جو اﷲ ھو سے چمک رہے ہیں یہی حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہے نا ۔ یہ تمھارا نشان ہے نا اور جس دن سے تم نے اس اﷲ ھو کو چھوڑا۔ بھئی اِس سینے میں دو چیزیں آ سکتیں ہیں۔ یا اﷲ اگر اﷲ نہیں ہے تو پھر شیطان۔ یہ تمھیں ماننا پڑئے گا۔بھلے تم باہر سے کتنے
بھی نمازی ہو جاؤ، کتنی بھی داڑھیاں ہو جائیں، کتنا بھی علم ہو جائے
اگر تمھارئے اندر اﷲ نہیں ہے پھر شیطان ہے۔ اِسکا ہم تمھیں ثبوت دیتے
ہیں۔ نمازی کو بڑا یہ سن کے بڑا آگ لگتی ہے۔ یہ کہتا ہے میرے اندر
شیطان ہے۔ اور میں کہتا ہوں کہ جب تو نماز پڑھتا ہے تو تجھے وسوسے دل
میں کیوں آتے ہیں۔ بھئی تو، تو اﷲ کے حضور میں کھڑا ہے نا۔ اؤ تو پھر جو
سوچنا بھی نہیں چاہتا وہ پچھلے وسوسے تیری طرف
آتے ہیں۔ تیرے دل میں شیطان ہے تب
ہی آتے ہیں۔ اب وہ جب تک وہ شیطان نکلے گا نہیں۔ اِس وقت سارے جو کلمہ منہ سے زبان سے پڑھتے ہیں۔ سارے کہتے ہیں اسلامی ممالک زبان سے ایک ہے نا دل سے تو ایک نہیں ہے۔ دل سے ایک دوسرے کو کافر منافق ہی سمجھتے ہیں نا۔ کیونکہ زبان سے ایک ہے زبانی کلمہ پڑھتے ہیں نا اور جب تمھارے دلوں نے بھی کلمہ پڑھ لیا۔ أنھوں نے بھی اﷲ اﷲ کرنا شروع کر دی۔ پھر زبان سے بھی ایک اور دل سے بھی ایک۔أس وقت یہ فرقہ واریت ختم ہو گی نا۔ أس سے پہلے تو نہیں ہو سکتی ہے نا۔أس وقت تم مومن بن جاؤ گے نا۔ تو مومن سارے بھائی بھائی ہوتے ہیں نا۔اب اِس کا بتاتے ہیں کہ
اِس اﷲ کو اندر لے کے جانے کا طریقہ کیا ہے۔ مجھے
ایک نیوی کا کپتن ملا تو کہنے لگا پانچ، چھ سال ہو گئے۔ میں کاغذ پے اﷲ
لکھتا ہوں پتہ نہیں کتنی دفعہ میں نے لکھا اور لکھ کے میں
سمندر میں ڈالتا گیا۔ لیکن مجھے اﷲ نہیں ملا میں نے کہا تو نے سمندر
میں ڈالا نا۔ دل میں تو
نہیں ڈالا نا۔ أس
کو دل میں ڈال نا۔ کہ وہ
کیسے؟ بس یہی ایک راز ہے نا۔ نہ سمجھ آئے تو بہت مشکل ہے۔ تو سمجھ آئے
تو بڑا ہی آسان ہے نا۔
جسطرح کاغذ سے آنکھوں نے کھینچ لیا۔ اِسطرح دل آنکھوں سے کھینچ لیتا
ہے نا۔
پولیس کی مہر لگی ہے پولیس والا
اﷲ لکھا گیا، اﷲ والا۔
جب وہ سورج کی طرح چمک أٹھے۔ اب تو بے خوف ہو جا۔ اب تو قبر میں بھی چلا جا بڑی شان و شوکت سے جا۔فرشتے آئیں گے پوچھیں گے
بتا تیرا رب کون ہے پہلا سوال۔ بس کفن کو پیچھے کر، دیکھ
اﷲ چمک رہا ہے۔ اؤ یقین کر اُنکی جرات نہیں ہے کہ دوسرا سوال پوچھیں۔ اے
بندہٴ خدا آرام سے
سو جا، تو جان اور تیرا رب
جانے۔ ہمیں تو شرم آتی ہے تجھ سے کیا پوچھیں۔ تو، تو کوئی اﷲ والا ہی
ہے۔ آج تمھاری گاڑی اﷲ کی طرف چل پڑی اِس کو طریقت بولتے ہیں نا۔اب اِس گاڑی کو پٹرول چاہیے نا۔ پھر نمازیں، روزئے یہ پٹرول ہے۔ پٹرول ڈالتا جا اور گاڑی چلتی جائے گی یہ طریقت ہےنا۔پھر گاڑی چلتے چلتے پھر وہاں جب پہنچ جاتی ہے۔ أس کو حقیقت بولتے ہیں نا حقیقت کا تعلق اِن نظروں سے ہے نا۔
ہمارا جو اختلاف
علماء سے بس یہی ہے۔ علماء کہتے ہیں سب کچھ شریعت میں ہے۔
وہ کہتے ہیں طریقیت بھی شریعت میں ہے، حقیقت بھی، معرفت بھی شریعت میں ہے۔
اگر کوئی اﷲ کا طالب ہوا تو یہیں پھنس جائے گا نا۔ اؤ کیوں نہیں کہا کہ طریقت بھی ہوتی ہے۔ اگر تمھارئے پاس نہیں ہے۔ تو طریقت والوں کے پاس بھیجو نا۔ حقیقت بھی ہوتی ہے، معرفت بھی ہوتی ہے۔ فناء، بقا، لقا بہت ساری منزلیں ہیں توعبور کر نا، تو نے بجائے فناء، بقا کے أس کو سیاست میں لگا دیا أس کی عمر ہی برباد کر دی نا۔ ہمیں اختلاف ہے تو یہ اختلاف ہے۔ کہ تم نوجوانوں کو ادھر روحانیت میں لگاؤ نا، سیاست میں نہیں لگاؤ۔بھئی سیاست تو عیاری ہے نا۔ یہ
تو دنیا داروں کا کام ہے نا۔ تم کو
تو زیب نہیں دیتی نا۔ اِس
میں تو کہنا پڑتا ہے نا صبح کہتے ہیں کہ حکومت عورت نہیں کر سکتی نا تو شام
میں کہنا پڑتا ہے جب پیسے ملتے ہیں یا دباؤ پڑتا ہے۔ عورت حکمرانی
کر سکتی ہے نا۔ یہ تم کو
تو زیب نہیں دیتی نا۔ اتھے نچنا وی عبادت بن جاندا اےہم کہتے تھے نچنا تو حرام
ہے تو بلھے شاہ کہتے ہیں کہ عبادت بن جاندا ہے ۔ پھر جب پتہ
لگا تو کہا سچ ہی کہا۔ بلھے شاہ فرماندے نیں میں نچیا خوب نچیا دل دیاں
دھڑکناں ابھریاں نچن نال
انھاں دل دیاں ڈھرکناں نال میں فیر اللہ اللہ ملایا۔ جب اللہ اللہ
ملایا تے فیر اللہ وی من گیا نا۔
وہ خوب ڈوڑاتے جب دل کی
ڈھرکنیں أبھرتیں کہتے اب کبڈی کو چھوڑو اب اِن کے ساتھ اﷲاﷲ ملاؤ۔
لال شہباز قلندر نچاتے۔ آج تک وہاں جو عام آدمی کرے أسکو ناچ بولتے ہیں۔ ولیّ کرے تو دھمال بولتے ہیں۔ بات تو ایک ہی ہے نا۔ آج تک وہاں لوگ دھمال کرتے ہیں۔ میں ایک دفعہ گیا تو لوگ نچ رہے تو کہہ رہے، دماں دم مست قلندر، دماں دم مست قلندر، دو آدمی بے ہوش ہو گئے کہتے کہتے۔ ایک کو میں پانی میں ڈالنے لگا یقین کریں دانت أس کے بالکل بند ہیں۔ دانت بند ہیں پانی بھی اندر نہیں ہو رہا۔ تو دل سے آواز آ رہی ہے دماں دم مست قلندر، دماں دم مست قلندر۔ اب تو دماں دم مست قلندر کہتے ہیں نا۔ أس وقت تو اﷲ ھو سے دھمالیں کرتے تھے نا۔ تو پھر اگر دماں دم مست قلندر آ سکتا ہے تو پھر اﷲ ھو اندر نہیں آتا ہو گا۔
اب ایک اور بھی طریقہ ہے اس کے علاوہ کہ کچھ لوگ بیٹھ کر ضربیں لگاتے
ہیں اﷲ ھو، اﷲ ھو جب دل کی ڈھڑکنیں أبھریں
پھر أس کے ساتھ اﷲ ھو ملایئں۔ اب کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں کے
اوپر ہے نا۔ نچہ ڈھڑکن
أبھرنے کے لیے اس میں اﷲاﷲ ملانے کے لیے یہ عبادت ہوئ نا۔ اگر دل
ڈھڑکتا ہے أس کے ساتھ اﷲاﷲ ملتا ہے تو بعض دفعہ گرمی لگتی ہے۔ کیونکہ
اﷲ ھو جلالی بھی ہے جب گرمی لگے تو درؤد شریف پڑھیں وہ اُس کو ٹھنڈا کر دے
گا۔ پھر آپ اﷲ کا ذکر کریں پھر گرمی لگے پھر درؤد شریف پڑھیں وہ اُس کو
ٹھنڈا کر دے گا۔ یہ اِس کا طریقہ ہے۔ کوئی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اللہ کرتے ہیں أنکے دلوں پہ اللہ نقش ہو جاتا ہے۔
قرآن مجید فرماتا ہے کچھ لوگ جنکے دلوں پر ایمان لکھ دیا ۔ یہ لفظ
اﷲ ایمان ہے نا۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ اللہ کرتے رہتے ہیں تو أنکے دلوں پہ مدینہ شریف آ جاتا ہے۔وہ خدا بھی نہیں اور جدا بھی نہیں پھر وہ کہیں بھی ہے مدینے میں ہیں ۔
اؤ یقین کرؤ کہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو نمازوں کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ آپ تو فرماتے ہیں میں تو أس وقت بھی نبی تھا ۔ آدم علیہ السلام کو بنایا ہی نہیں گیا تھا۔ میں دنیا میں آنے سے پہلے بھی نبی تھا۔ نمازیں أترنے سے پہلے بھی نبی ہی تھے نا۔تو پھر نمازوں کی کیا ضرورت تھی۔ یہ أمت کے لیے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے پڑھیں۔ اگر آپ منگل کو نہ پڑھتے تو آپ سنت بنا لیتے نا۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے سخت بیماری کی حالت میں نمازیں پڑھیں۔ اؤ کل اِن کو نزلہ زکام ہو گا تو کہیں گے۔ ہم تو بیمار ہیں نا۔ ورنہ أن کو نمازوں کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ تمھارے لیے سارے کام أنھوں نے کیے۔ اب رابعہ بصری کے دل پہ خانہ کعبہ آیا۔ تو پھر بھی أن کو آدھا قلندر بولتے ہیں نا۔ تو پھر پورا قلندر کون ہوتا ہے۔ بھئی جس کو کبعہ طواف کرتا ہے وہ بھی آدھا قلندر ہے۔ تو پھر پورا قلندر کون ہوا؟اؤ جس کے دل میں اﷲ کا نقشہ آ جاتا ہے۔ تو پھر أس کے دل میں اﷲ آ گیا نا۔أسی کے لیے پھر حدیث شریف میں ہے۔ کہ میں أسکے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے میں أسکی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے۔ شیطان کو پتہ ہے کہ یہاں تک حضرت انسان پہنچ سکتا ہے۔ أس کے پاس شیطانی فوج ہے جنات کی حکم دیتا ہے جا اِس کو تباہ کر برباد کر کچھ بھی کر یہ اﷲ اِس کے اندر نہ جائے۔ اب تمھارے پاس تو ایک جن بھی نہیں ہے نا۔ تو تم أس کا مقابلہ کیسے کرؤ گے۔ جہاں سے اِس کی اجازت ہوتی ہے۔ اﷲ تعالٰی اُنکو بھی ایک رحمانی فوج دیتا ہے نا۔ اؤ شیطانی فوج تم پہ ٹوٹ پڑی اور رحمانی فوج شیطانوں پہ ٹوٹ پڑی نا۔ اور رحمانی فوج اُس وقت تک تمھارا ساتھ دئے گی جب تک تمھارے اندر رحمان جاگ نہیں اُٹھتے۔ پھر بندہ نہیں رہے بندہ نواز بن گئے۔ پھر غریب نہیں رہے غریب نواز بن گئے۔ اب ہم تمھاری أس وقت تک حفاظت کریں گے۔
بیعت بھی نہیں کریں گے۔
نذرانہ بھی نہیں لیں گے۔أس وقت تک حفاظت کریں گے۔ جب تک تمھارا اندر
جاگ نہیں أٹھتا۔
پھر جب وہ اندر جاگ أٹھے گا تو خود ہی کسی کامل کو ڈھونڈ لے گا، نا۔ ہماری محنت پوری ہو جائے گی نا۔ اِس کے
لیے اگر کسی کا کوئی مُرشد ہے ہمیں اِس سے
بھی مطلب نہیں۔ مُرشد نہیں ہے اِس سے
بھی مطلب نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمھارا اندر چمک أٹھے بس۔ تمھاری روح
چمک أٹھے تمھاری روح بیدار ہو جائے۔ تو جب بیدار ہو گی تو خود ہی اپنا
مسکن ڈھونڈ ہی لے گی۔ فذکرونی اذکرکم تو میرا ذکر کر میں تیرا ذکر کرؤں گا۔
ذکر أسی کا کیا جاتا ہے جس
سے دوستی ہو جائے۔ اگر کوشش کے باوجود اﷲاﷲ نہیں ہوتا ہے تو تمھارے
أوپر اﷲ کا کوئی کرم نہیں۔ کرم ہوتا تو تم کو اپنے نام لیواؤں میں
لیتا۔ پھر اگر کار بنگلہ دیا تو پھر وہ کرم ہے نا، پھر کرم ہے کرم ہے
نا۔ یہ کرم ہے۔ اپنے آپ کو آزمانے کا راز میں کیا ہوں۔ میرے اوپر اﷲ
کتنا مہربان ہے۔ اور میرا مرشد کیا ہے یہی ایک کسوٹی ہے بس۔
گجرانوالا میں ایک انگریز نے سوال کیا میں مسلمان تو ہو جاؤں۔ شرابیں بھی چھوڑ دوں گا، نمازیں بھی پڑھوں گا جو کہو گے میں کرؤں گا۔ ایک بات مجھے سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ اگر مجھے سمجھا دو تو۔ کیا؟ کہ تم گارنٹی نہیں دیتے۔ میں مسلمان بھی ہو جاؤں پھر بھی تم بہشت کی گارنٹی نہیں دیتے ہو۔ میں تمھارے سب علماء کے پاس پھرا وہ کہتے ہیں ہمیں اپنی گارنٹی نہیں، تیری گارنٹی کیا دیں۔ وہ کہنے لگا جس چیز کی گارنٹی نہیں ہوتی وہ کمزور ہے۔ تمھارے مذہب کی گارنٹی نہیں تمھارا مذہب کمزور ہے۔ أس کو پتہ نہیں تھا کہ مذہب اسلام گارنٹی ہی گارنٹی ہے سالوں کی بات نہیں مہینوں کی بات نہیں دنوں میں تمھیں پتہ چل جائے گا تم کیا ہو۔
اگر تم
یہ اندر اﷲ کو بسا کے دیکھو تو تمھارے اندر یہ روحیں بے چین ہیں۔
وہ روحیں بے چین ہیں ہمارے
اندر کسی طریقے سے اﷲ آئے ہم اس کو پکڑیں تو
تم اﷲاﷲ باہر ہی پھینکتے رہتے ہو۔ نماز پڑھی تو نور
باہر، قرآن پڑھا تو نور
باہر اﷲاﷲ کری تو وہ بھی باہر۔ اندر جائے تو پتہ چلے کہ تم
کیا ہو۔ اِس کے لیے جو کچھ پوچھنا چاہتے ہیں پوچھیں اِس کے بعد ذکر لیں
اور اپنی قسمت آزمائیں۔ اگر اﷲاﷲ شروع ہو گیا تو
دُعا دے دینا ورنہ جیسے ہو ویسے تو ہو رہو گے نا۔
اتنا ضرور بتائیں گے۔ کہ جب حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے چاند کو
دو ٹکرئے کیا تھا۔ تو کچھ
لوگوں نے کہا تھا یہ جادو ہے۔
حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا چاند پہ جادو نہیں ہو سکتا۔ اتنا ہمارا ایمان ہے کہ جادو نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی کہے کہ یہ جادو
ہے۔ تو پھر وہ حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم
کے زمانے میں بھی جادو تھا نا۔ پھر وہ لوگ پھر برحق
کہتے ہیں نا۔ پھر وہ برحق کہیں
گے نا کہ پھر
صحیح ہے یہ جادو
ہے۔ یہ جادو ہے تو وہ بھی جادو تھا۔ أس
معجزے کا انکار ہو جائے گا نا۔ جتنی تم نے اپنی طاقت سیاست میں لگائی۔ اؤ یقین کرؤ اگر روحانیت میں لگاتے نا تو کہیں کے کہیں پہنچ جاتے۔وہ جو روحانیت والے عالم
ربانی تھے نا جب کہیں جاتے
تو وقت کے بادشاہ بھی کھڑئے ہو جاتے۔ اک جاتا پورا بازار کھڑا ہو جاتا عالم
صاحب آ رہے ہیں۔ اب تم سارے مل کے بھی جاؤ نا تو کوئی کھڑا نہیں ہو گا
نا۔ اؤ کیوں
کھڑا نہیں ہو گا اس سیاست نے تم کو خراب کر دیا نا۔ سیاست ہے ہی بے
ایمانی ہے۔ اس نے
تم کو بے
ایمان کر دیا۔ حضور پاک کی سیاست أس نے کافروں
کو بھی، یہودیوں کو بھی، مسلمانوں کو بھی ایک پلیٹ فارم پر لائے اور
تمھاری سیاست مسلمانوں کے بھی تفرقے کر رہی ہے نا۔
تو ہمارا بس یہی ہے
کہ یہ جو نوجوان ہیں جن کے دلوں میں وہ چیز ہے جس کے ذریعے اﷲ تک پہنچ
سکتے ہیں۔ اس کی طرف ان کو
لے کے جاؤ نا۔ بھئی جو
کرسی ملی گئ تو مولوی صاحب کو ملی نا تمھارا کیا ہوا۔ کیا ہوا تمھارا۔
ویسے ہی ہو نا۔ اگر"الف" سے ہی اﷲاﷲ کرتے
رہتے تو کچھ پا جاتے۔ اور نہیں تو دل کی صفائی تو ہو ہی جاتی نا ۔ امام ابو حضرت امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے99 دفعہ اﷲ کو دیکھا ہے۔ابراہیم بن اودھم نے فرماتے ہیں کہ میں 70 مرتبہ اﷲ کا دیدار کیا ہے۔اور سلطان صاحب کی کتاب میں ہے نا وہ بھی پڑھ کر دیکھ لو۔ جب چاہوں اﷲ کو دیکھ لوں۔
تو یہ چھوٹا سا معمولی سا
دعویٰ ہے۔
فصیل بن ایاز وہ بھی ڈاکو تھے نا راتوں رات ولیّ بن گئے نا۔حضرت ابو بکر حواری ڈاکہ
ڈالنے کے لیے گئے رات کو حضرت ابوبکر صدیق نے أن کو بیعت
کیا نا۔ سر کے أوپر ٹوپی رکھی نا جب أٹھے تو ٹوپی موجود تھی نا۔ تو
راتوں رات ولیّ بن گئے نا۔ تو ولایت کے لیے جس کو اﷲ چاہ لے۔
یہ اﷲ کا کرم ہے جس کے أوپر ہو جائے۔ ولایت
داڑھیوں کی، نمازوں کی
محتاج نہیں ہے۔ أس چیز کو پکڑؤ جو سب سے اہم ہے۔اﷲ کو پکڑؤ، اﷲ کے دین کو پکڑؤ نا۔اگر کوئ دیوبندی ہوا تو
پہلے سنی ہو گا پھر ہوا نا۔
تو سنی تھا اﷲ نہیں ملا تب دیوبندی ہو گیا نا۔ اگر
اﷲ ملتا تو کیوں جاتا أدھر۔ وہ پھر شیعہ
ہو گیا اﷲ نہیں ملا تب
شیعہ ہوا نا۔ وہ اپنے
طریقے سے ڈھونڈ رہا ہے، وہ اپنے طریقے سے ڈھونڈ رہا ہے وہ اپنے طریقے
سے ڈھونڈ رہا ہے۔ حالانکہ ہم نے ہندؤں کو بھی دیکھا۔ وہ بھی اﷲ کو
ڈھونڈ رہے ہیں ۔ بتوں کے ذریعے ڈھونڈ رہیں ہے نا۔ لیکن اب پتہ چلے کہ
اﷲ ملتا کیسے ہے اور اﷲ کا دین کون سا ہے؟ توریت میں کچھ اور دین ہے،
زبور میں کچھ اور دین ہے، انجیل میں میں کچھ اور دین ہے، قرآن میں کچھ
اور دین ہے پھر
اﷲ کا دین کیا ہے؟ کبھی سوچا ہے؟ اﷲ نے سب سے پہلے اپنے محبوب سے عشق کیا ہے۔ وہی أس کا دین بن گیا۔
تو خود عشق، خود
عاشق، تو خود معشوق۔
پھر وہی ہے نا گر
ہو عشق تو کفر بھی ہے مسلمانی
اب سیاست کو چھوڑو اب عشق کو پکڑؤ۔ عشق کی طرف جاؤ نا۔
اور عشق ایسا ہے ہر کسی کے لیے ہے۔ عشق میں جو بھی فرقہ تیرا پرواہ نہیں، جو بھی مذہب تیرا پرواہ نہیں۔ ایک دفعہ أس کا عاشق ہو جا نا۔جب وہ گرؤ نانک سکھّوں کو
اپنی تعلیم دیتا۔ آخر میں کیا ہوا کہ ایک درویش ٹکر گیا۔
کہ تعلیم تیری صحیح ہے۔ دل بھی تیرا کچھ صاف لگتا ہے۔ لیکن اِس میں اگر اﷲاﷲ
آ جائے تو تیرے اندر عشق
بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
أس نے کہا کہ میں اﷲاﷲ پڑھ لوں گا لیکن "محمد رسول اﷲ" نہیں پڑھوں گا۔
أس نے کہا ٹھیک ہے تو اﷲاﷲ ہی پڑھ سہی۔ وہ اﷲاﷲ دل میں اﷲاﷲ ہی پڑھتا
رہا ایک ہاتھ تسبیح، ایک ہاتھ مالا۔ نہ ہندؤ، نہ مسلمان۔ آخر کیا ہوا
وہ مر گیا سکھّوں نے کہا ہمارا، مسلمانوں نے کہا ہمارا۔ کیونکہ
مسلمانوں کو بھی أس میں کچھ روشنی نظر آرہی تھی نا۔ انگریز حکومت تھی
أنھوں نے کہا ایسا کرؤ لڑؤ نہیں۔ اِس کو چارپائی
پر لیٹا دؤ، چارپائی أٹھاتے ہیں۔ یہ جس طرف گر گیا أن کا۔ تو جب
چارپائی أٹھائی تو لاش ہی غائب ہو گئی۔ بھئی نہ وہ سکھّوں کا تو نہ مسلمانوں
کا۔ پھر کس کا؟ اﷲ
کا نا۔ اﷲ کی طرف چلا گیا
نا۔ اؤ سہلی سرکار تھے داڑھی منڈوتا تھے مظفرآباد والے۔ جب فوت ہوئے عالموں نے کہا کہ یہ بے دین تھا۔ ہم اِسکی نماز جنازہ نہيں پڑھایں گے ،اِسکی داڑھی نہیں تھی۔ أن کا ایک حلیفہ تھا۔ أس نے کہا کہ چلو خود ہی کوئی جنازہ پڑھ کے دفنا دیتے ہیں ۔ جب وہ کپڑا أٹھایا تو داڑھی موجود تھی۔ علماء نے کہا لگا لی ہو گی۔ گرم پانی کروایا صابن سے منہ دھلوایا لیکن وہ داڑھی آ گئی تھی نا۔ منجانب اﷲ تھی نا۔اگر کوئی کہے کہ کیسے ہو
سکتا ہے۔ اﷲ جو چاہے کر سکتا ہے ۔ تو کہتا ہے کیسے ہو سکتا ہے۔ تیرا
ایمان ہی چلا گیا، نا۔ وہ تو ہر
چیز پر قادر ہے نا۔ وہ چوروں کو قطب بنا دیتا ہے ڈاکوؤں کو ولیّ بنا
دیتا ہے۔ تو کہتا ہے نماز کے بغیر یہ نہیں
ہو سکتا ہے۔ تو ایمان
تیرا چلا جائے گا نا۔
تو اِس سے بہتر ہے کہ تو دل کے أوپر اﷲ کا تصّور کر۔ شیخ کو
سامنے جان یا سائڈ میں جان۔
ظاہر و باطن دین اسلام کے دو پر ہیں ایک زبان اور ایک دل لوگ اک پر سے أڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔جو ایک پر، چالیس ، پچاس
سال ہو گئے مسجد میں نمازیں پڑھ رہے ہیں نا۔ اﷲ کو تو
نہیں پہنچے نا۔ وہیں پھرپھڑا
رہے ہیں نا ایک پر ہے نا۔ اور دوسرے لوگوں کو دیکھا
ہے کہ نمازیں چھوڑ دیں اور جنگلوں میں اﷲ اﷲ کر رہے ہیں۔
أن کے دل اﷲ اﷲ کر رہے ہیں۔
لیکن نمازیں چھوڑیں وہ جنگلوں میں ہی گھوم رہے ہیں
نا۔ اﷲ أن کو بھی نہیں ملا نا۔ اﷲ أن کو ملا جنھوں نے نمازیں زبانوں سے
پڑھیں۔ اور دلوں سے اﷲ اﷲ کیا اﷲ تو أن
کو ملا، نا۔ یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں نا۔
اب تو کہے پانی بہتر ہے، یا روٹی بہتر ہے۔ تو دونوں
بہتر ہیں۔ دونوں ضروری
ہیں۔ تو نماز قائم کرنے کی لیے پھر ذکر ضروری ہے نا۔مجدد صاحب نے فرمایا مقتدی
کو چاہیے۔ مکتوبات شریف
میں آپ پڑھیں۔ مقتدی کو
چاہیے کہ پہلے اﷲ کا ذکر کرے فرمایا قرآن اُن لوگوں کے پڑھنے کے قابل
نہیں، جنکے نفس کتے ہیں۔ ۔فرمایا جب نفس پاک ہو جائے پھر قرآن پڑھے۔
پھر قرآن أس کے اندر أترئے گا،نا۔ پھر جب قرآن
أترئے گا تو نماز بھی تو قرآن ہی ہے نا۔ وہ بھی اندر ہی جائے گی نا۔ نماز روزہ کم سُٹو او رستہ کوئی دوجوتمھارا جو قرآن سنت ہے نا
وہ شہروں میں ہے۔ وہ علماء
کے حصّے میں آیا ہے۔
جو عشق ہے نا وہ درویشوں کے حصّے میں آیا۔ اِس کے لیے تمھارے جتنے بھی
اکابر ہیں قرآن سنت تو شہروں میں تھا نا وہ جنگلوں میں کیوں گئے۔
تمھارے داتا صاحب گئے، خواجہ صاحب گئے، غوث پاک گئے۔ عشق کے لیے گئے نا۔
تو جب أن میں عشق آیا۔ حدیث شریف میں اگر تو کسی کو عشق والے کو دیکھے
أس کے ساتھ مبالغہ، مباحثہ نہ کر کہ وہ اﷲ کے عشق میں ڈوبا ہوا ہے۔ تو رہا سوال ہم تو کہتے ہیں اگر تیرے اندر عشق نہیں ہے نا۔ تو تو بہت بڑا نمازی بھی ہو گیا تلاوت بھی کرتا ہے نا۔ تو عشق والے کو تو نہیں پہنچ سکتا۔ " جیتھے عشق پہنچاؤے أتھے ایمان کو بھی خبر نہیں ہے" جس جگہ عشق پہنچا دیتا ہے، ایمان والے بھی نہیں پہنچ سکتے۔ تو تو ابھی زبانی مسلمان ہے۔
سوال: اِس
میں لکھا ہے کہ ذکر خدا کرے ذکر مصطفٰی نہ کرے؟
ہم تو کہتے ہیں کہ
محبوب کا ذکر اﷲ کا ذکر، اﷲ کا ذکر محبوب کا ذکر۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے۔
جدا نہیں ہیں وہ۔
*****اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو
اگر آپ بھی ذکر کی لینا چاہتے ہیں تو امام مہدی ریاض احمد گوھرشاہی کی شبیہ مبارک کوپورے چاند پر دیکھتے ہوئے تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔
|
|
© 1998-2010 All Faith Spiritual
Movement Intl' |