|
SELECT YOUR LANGUAGE: ENGLISH or INDONESIAN |
||
![]() |
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے |
![]() |
|
اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر) |
||
|
مرکزی صفحہ تعارف حضرت عیسی کرشمہ قدرت الحجرالأسود تعلیمات دینِ الٰہی پروگرام تصانیف ویڈیو رابطہ |
||
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی مدظلہ العالیکا 12 مئی 1996 کو آزاد کشمیر (شاہدرہ) میں خطاب کا مکمل متن۔
اعوذ با اللہ من الشیطان
ا لر جیم- بسم اللہ ا لرحمن
ا لر حیم
عزیز
ساتھیو، السلا و علیکم
آپ کے
اس علاقے میں پہلی دفعہ ہی آنا ہوا آنے کا مقصد کوئی سیاست نہیں ہے کسی
فرقے کی دل آزاری نہیں ہے کوئی حکومت پر نکتہ چینی نہیں ہے ہرشہرمیں، ہر
محلے میں، ہر گھر میں کچھ دل والے ہوتے ہیں اُن دل والوں کو نکالنا مقصد
ہے اور دل کی آواز اُن کے ضمیر تک پہنچانا مقصود ہے
حضور پاک کے زمانے میں
دو طرح کا علم تھا، اک زبان والوں کیلئے جسکو شریعت کہتے ہیں اور اک دل
والوں کیلئے جسکو طریقت کہتے ہیں۔
آپ کے زمانے میں جن
لوگوں نے صرف زبانی علم پہ قنات کری اُنہی میں سے کوئی خوارج ہوا، کوئی
منافق ہوا اور جن لوگوں نے
وہ دل والا علم بھی حاصل
کیا وہ تو اصحابی یا رسول اللہ کہلائے اور ولیوں سے بھی اعلیٰ مقام حاصل
کرکے چلے گئے۔
اب وہ
جو زبان والا علم ہے اُسکو تو ہر کوئی جانتا ہے وہ علماء کے پاس ہے مالکی،
شافعی، حملی، حنفی یہ سارے شریعت میں ہیں اور وہ جو دل والا علم ہے وہ
اولیاء کے پاس ہے چشتی، نقشبندی، قادری، سہروردی یہ ولیوں کے پاس علم آیا
علماء نے نماز سکھائی اللہ کے حضور کھڑا کر دیا اس جسم کو اور ولیوں نے
وہ جو جسم کے اندر کی روحیں ہیں اللہ تک پہنچا دیں اب جب چونکہ عالم
نزدیک نزدیک ہوتے ہیں روز اُن سے پالا پڑتا ہے پانچ وقت پالا پڑتا ہے اِس
وجہ سے ہر آدمی اُن کی تعلیم جانتا ہے اور ولی کبھی کبھی آتے ہیں بڑے دور
ہوتے ہیں کسی کسی سے ملتے ہیں اِسی وجہ سے اُنکی تعلیم بہت ہی نایاب ہوتی
ہے جب وہ ولیوں کی تعلیم گئی صرف ظاہری تعلیم آگئی اُس نے 72 فرقے بنا
دیئے مسلمانوں میں انتشار اور نفرتیں پیدا کر دیں اب ہم کہتے ہیں کہ
مسلمانوں کو چاہیے ناں وہ اصلی فرقے کی تلاش کریں ناں وہ اصلی فرقہ کون
سا تھا ہر فرقہ اپنے آپ کو صحیح کہتا ہے مناظرے کرائے مباحثے کرائے اپنے
آپ کو صحیح کہتے ہیں نہ یہ جیتے نہ وہ جیتے گا پھر سچا کون سا ہے اس وقت
شیعہ ہے، سُنی ہے، وہابی ہے کتنے فرقے ہیں ان سب کو سُنی، شیعہ، وہابی،
دیوبندی، پرویزی سب کو کھڑا کردو انکے اندرجھانک کے دیکھو نہ اندر سے
سارے ہی کالے ہیں تو پھر وہ صحیح کون سا ہو گا جو صحیح ہو گا وہ کالا تو
نہیں ہوگا ناں
حضور
پاک کے زمانے میں نہ سُنی تھا، نہ شیعہ تھا، نہ وہابی تھا حضور پاکﷺ کے
زمانے میں اُمتی تھا اُمتی وہ ہوتا ہے حضور پاکﷺ فرماتے ہیں اُمتی وہ
ہوتا ہے جس میں اللہ کا نور ہوتا ہے حدیث شریف میں بھی ہے کہ قیامت کے دن
امتوں کی پہچان نور سے ہو گی وہ اُمتی تھے آج کوئی فرقہ کہتا ہے اپنے
آپکو امتی کوئی نہیں کہتا کیسے کہہ دیں یارا نور ہی نہیں ہے تو کیسے کہہ
دیں اُمتیوں میں نور تھا جب وہ نور نکلتا گیا سُنی، شیعہ، وہابی بنتا گیا
یہ اگر تمہارے اندر دوبارہ وہ نور آجائے تو کبھی نہیں کہو گئے میں سُنی
ہوں، میں شیعہ ہوں، میں وہابی ہوں یہی کہو گئے بس اُمتی ہوں تمہارا یا
رسول اللہﷺ تمہارے لئے یہی کافی ہے اب لوگ سوچتے ہیں ضرور اپنے آب و
اجداد سے سُنا ہو گا کہ یہ دل اللہ اللہ کرتے ہیں سُنا ہوگا اکثر کہتے
ہیں کرتے تھے اب نہیں کر سکتے اکثر کہتے ہیں یہ خیال ہی ہے یہ دل گوشت کا
لوتھڑا ہے یہ اللہ اللہ کیسے کرتا ہے اگر تمہیں یقین ہو جائے کہ یہ گوشت
کا لوتھڑا واقعی اللہ اللہ کرسکتا ہے یقین کرو تمہیں اِس کے بغیر چین ہی
نہ آئے اِس کے بغیر نیند ہی نہ آئے لیکن تم کہتے ہو کہ نہیں یہ خیال ہے ہم نے زبان دیکھی ہے، دل دیکھا ہے گوشت
کا لوتھڑا ہے درویش کہتے
ہیں یہ جو زبان ہے یہ بھی تو گوشت کا لوتھڑا ہے یہ اللہ اللہ کیسے کرتی ہے؟ اگر یہ گوشت کا لوتھڑا اللہ اللہ کر
سکتا ہے وہ دل گوشت کا
لوتھڑا وہ بھی اللہ اللہ کر سکتا ہے
اس جسم
کے اندر کچھ مخلوقیں ہیں یہ اِسی طرح جسم تھا مٹی کا بنا دیا گیا جب وہ
مخلوقیں ڈالیں کسی کا کام سوچنے کیلئے، کسی کا دیکھنے کیلئے، کسی کا
سونگھنے کیلئے، کسی کا چلنے کیلئے ایک مخلوق کا کام صرف اللہ اللہ کرنے
کیلئے حدیث
شریف میں اُن مخلوقوں کے نام ہیں قلب، روح، سری، خفی، اخفیٰ، انا، نفس یہ
تمہارے سینے میں مخلوقیں ہیں اور جب یہ مخلوقیں چلی جاتی ہیں تم ختم ہو
جاتے ہو جب وہ آتی ہیں تو تم چلنا پھرنا شروع کر دیتے ہو اک مخلوق ہے
جسکا نام ہے اخفیٰ جس طرح جن فرشتے مخوق ہیں اِس طرح وہ بھی مخلوقیں ہیں اک مخلوق ہے جسکا نام ہے اخفیٰ وہ سینے کے درمیان میں ہے وہ مخلوق بولتی ہے اِس گوشت کے لوتھڑے کے ذریعے اگر کسی میں وہ مخلوق اخفیٰ نہ ہو ڈاکٹر کہتے ہیں زبان تو صحیح
ہے یہ بولتا کیوں
نہیں ہے؟ انسانوں اور جانوروں میں اِن مخلوقوں کا فرق ہے اگر یہ مخلوقیں جانوروں میں ہوں تو وہ بھی کچھ نہ کچھ بولیں نہ او توتلہ ہی بولیں زبان تو اُنکی بھی ہے ناں اب اِس زبان کو بلوانے کیلئے اخفیٰ ہے اور وہ جو اندر گوشت کا لوتھڑا ہے عربی میں اُسکو فواد بولتے ہیں اور جو اُس کے ساتھ مخلوق ہے اُس کو قلب بولتے ہیں صرف فرق یہ ہے کہ اخفیٰ آزاد ہے اور قلب ایک لاکھ اسی ہزار(180000) جھالوں کے اندر بند ہے اگر کوئی شخص قلب کو بھی جگا لے تو جس طرح یہ زبان اللہ اللہ کرتی ہے اُسی طرح وہ دل بھی اللہ اللہ کرتا ہے لیکن اُس قلب کو جگائے کیسے یہی تو اک راز ہے اگر کوئی شخص انڈے کی خاصیت سے بے خبر ہے اُسے کہا جائے یہ ہوا میں اڑے گا چوں چوں کرے گا۔ تو کہے گا تو غلط کہتا ہے نہ اِسکی ٹانگیں ہیں نہ پر ہیں ،نہ زبان ہے تو کہتا ہے یہ چوں چوں کرے گا یہ ہوا میں اُڑے گا میں روز اِسکو توڑ کے کھاتا ہوں اِس میں کچھ نہیں ہے یہ تمہاری عبرت کیلئے ہے اُسکا نام ہے بیضہ اور تمہارے اندر تصوف نے کہا بیضہ ناسوتی ہے اُس کے اندر اک مرغ بند ہے اور اِس کے اندر ایک مرغِ لاہوتی بند ہے اُسکو ظاہری گرمی کی ضرورت ہے اِسکو اللہ ھو کی ضربوں کی ہے اُس کو مرغی چاہیے اور اِسکو مرشد چاہیے مرغی کیا کرے گی اُسکے حساب سے اُسکو گرمی پہنچائے گی جب دیکھے گی کہ زیادہ ہیٹ آگئی تو اُٹھ کے چلی جائے گی پھر آکے بیٹھ جائے گی اور مرشد کیا کرے گا کہ تیرے سینے کے حساب سے اللہ کا نور پہنچائے گا اب جب وہ انڈہ پھٹے گا اُسکو کوئی نہیں سکھائے گا بغیر سیکھے سکھائےچوں چوں کرے گا کیوں اُسکی فطرت ہےاور جب یہ پھٹے گا تو بغیر سیکھے سکھائےاللہ اللہ کرے گا کیوں اللہ اللہ اِسکی فطرت ہے
اب تم
اللہ اللہ نہیں کر رہے تمہارے اندر جو مخلوق جاگ اُٹھی ہے ناں وہ اللہ
اللہ کر رہی ہے یہاں پھر دو طرح کی تسبی ہے اک تمہاری تسبی ہے جو بازاروں
میں بکتی ہے ٹِک،ٹِک،ٹِک اندر تسبی لگی ہوئی ہے وہ اُس مخلوق کی تسبی ہے
اب تم اُس مخلوق کے اُستاد ہوگئے کہ تیری تسبی تو تیرے اندر ہے اب تو اِس
کے ساتھ اللہ اللہ ملا اب کبھی ملی، کبھی ہٹی، کبھی ملی، کبھی ہٹی تین
سال کے بعد اتنا پختہ ہوگئی کہ تم ڈٹ کر سوتے رہے اور اللہ اللہ ہوتی رہی
اب پھر وہ نور کیسے بنتا ہے کیونکہ جس میں نور ہے وہ اُمتی ہے ناں اب وہ
نور کیسے بنتا ہے
اک سکھ
نے کہا کہ تمہارے اکابر کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں نور ہے ہم نے کہا اِس
میں شک نہیں کہنے لگا میں تمہاری جاسوس رہ کر آیا ہوں میں نمازیں بھی
پڑھاتا تھا قرآن کی بہت سی آئتیں میں نے رٹی ہوئی تھیں میں تو بارہ، تیرہ
سال رہ کے آیا میں تو نوری کوئی نہیں ہوا اک عیسائی پاس بیٹھا تھا کہنے
لگا میں شب و روز تمہارے قرآن کا مطالعہ کرتا ہوں نوری میں بھی کوئی نہیں
ہوا ہم نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ تم نے دل سے نہیں پڑھا تو وہ کہنے لگے
ٹھیک ہے ہم نے دل سے نہیں پڑھا یہ جو تمہارے مسلمان ہیں وہ تو دل سے
پڑھتے ہیں ناں تو وہ نوری کیوں نہیں ہوئے بھئی بڑی معقول بات کی تھی ناں
اگر دل سے پڑھتے وہ بھی ہیں ناں تو پھر وہ نوری کیوں نہیں ہوئے اِس قرآن
مجید میں واقع نور ہے جس میں نور ہے وہ حضور پاکﷺ کے سینے مبارک میں ہے
وہ سینہ جس سینے سے ٹکراتا ہے وہ بھی نوری ہو جاتا ہے اور یہ جو قرآن
مجید ہے یہ کتاب پریس سے ہو کے آیا ہے اِس سے نور بنانا پڑتا ہے اُس نور بنانے کا ہم لوگوں کو پتہ نہیں ہے جن کو پتہ ہے وہ
تو ولی اللہ بن گئے اب اُسکا طریقہ کیا ہے نور بنانے کا اب آپ تسبی پڑھتے ہیں اللہ اللہ تو بغیر ٹِک،ٹِک کے بھی تو اللہ اللہ ہو سکتی ہے ناں او ٹِک ٹِک کے ساتھ اللہ اللہ کیوں کرتے ہیں وہ ہمارے اکابر نے کیوں بتایا جسطرح بادل آپس میں ٹکراتے ہیں تو بجلی بنتی ہے پتھر ٹکراتے ہیں تو چنگاری اُٹھتی ہے اللہ اللہ سے ٹکراتا ہے تو نور بنتا ہے ناں لیکن وہ جو نور بنا وہ تو انگلیوں میں ناں اندر تو نہیں ہے ناں کچھ لوگ قرآن پڑھتے ہیں ،اللہ اللہ زبان سے کرتے ہیں نور بنتا ہے اندر وہ بھی نہیں جاتا وہ باہر ہی ناں بھئی اگر اندر جائے تو سارے قرآن پڑھنے والے نوری نہ ہوں سارے نوری ہوں گے تو فرقہ بازی ختم ہی نہ ہوجائے اب اِسی طرح جو ٹِک ،ٹِک اندر ہو رہی ہے اُس ٹِک،ٹِک کے ساتھ اللہ اللہ یہ زبان نہیں کر سکتی وہ جو مخلوق جاگی ہے ناں وہ اُس کے ساتھ اللہ اللہ کر رہی ہے جب وہ دل کی دھڑکن کے ساتھ اللہ اللہ کا رگڑا لگا تو پھر وہ نور بنا ناں دودھ، دودھ ہی ہے رگڑا لگتا ہے تو مکھن بنتا ہے او ذکر،ذکر ہی ہے رگڑا لگتا ہے تو نور بنتا ہے ناں جب وہ رگڑا لگا ناں اللہ اللہ کا پھر وہ جو نور بنا ناں نہ وہ انگلیوں میں نہ باہر سیدھا خون میں چلا گیاناں تو خون سے ہوتا ہوا تمہاری نسوں میں چلا گیا نسوں سے ہوتا ہوا تمہاری روحوں تک پہنچ گیا ناں روحوں تک پہنچا تو وہ بھی بیدار ہونگی اُنہوں نے بھی اللہ اللہ کرنا شروع کردی پھر تم سوتے رہنا وہ اللہ اللہ کرتی رہیں گی تو مر بھی گیا قبر میں بھی اللہ اللہ یومِ محشر میں بھی اللہ اللہ جب ہر وقت وہ اللہ اللہ کرتی رہیں گی تو اللہ اللہ کا نور اس دل میں اکٹھا ہو جائے گا یہ اُس کا ہیڈ کورٹر ہے یہ جنریٹر اکھٹا ہوگیا ایک حدیث شریف میں ہے کہ نماز مومن کی معراج ہے مسلمان کا نہیں ہے مومنکا مسلمان ساری عمر ٹکریں لگائے مومن نہیں بن سکتاکیونکہ سورة حجرات میں مومن کی تشریح ہے اعراب نے کہا ہم ایمان لے آئےاللہ تعالیٰ نے کہا نہیں اِنکو کہو صرف اسلام لائےمومن تب بنو گے جب نور تمہارے دل میں اترے گا
پھر تو
مومن بنے گا ناں پھر تیری نماز معراج کیسے ہو گئی ابھی تیری نماز معراج
نہیں ہے تیری نماز کیلئے قرآن فرماتا ہے اُن نمازیوں کیلئے تباہی ہے جو
نماز حقیقت سے بے خبر ہیں اُنکی نماز دکھاوا ہے وہ کیسے دکھاوا ہے اللہ
تعالیٰ نے حضور پاکﷺ کو فرمایا قل ھو اللہ ھو احد کہہ دیجئے اللہ ایک ہے
آپﷺ نے آمین کہا آپ نے لوگوں کو کہا کہہ دو اللہ ایک ہے جنہوں نے آمین
کہا وہ مسلمان، جنہوں نے نہیں مانا وہ کافر، جنہوں نے حیل وحجت کری وہ
منافق اب مسلمان کس کو کہتا ہے کہہ دے اللہ ایک ہے بھئی تو تو جانتا ہے
اللہ ایک ہے گھڑی گھڑی کس کو کہتا ہے اللہ ایک ہے بلھے شاہ فرماتے ہیں اک نقطے وچ گل مکدی ایہہ
او
تم اپنے دل کو کہتے ہو کہہ دے اللہ ایک ہے دل جواب دیتا ہے گھر وچ آٹا ای
کوئی نئیں نہیں نہ مانتا حیل وحجت کرتا ہے ناں پھر کہتے ہو اللہ
الصمد اللہ بے نیاز ہے دل کہتا ہے نئیں بیوی بیمار ہے لم یلد ولم یلد دل
کہتا ہے ڈیوٹی سے لیٹ ہو گیا ہے چل
کافروں کی زبان اقرار
نہیں کرتی منافقوں کے دل تصدیق نہیں کرتے اور فاسقوں کے جسم عمل نہیں
کرتے بتاﺅ تمہارا دل تو منافق تھا
بڑے
خشوع خضوع سے مسجد میں نماز پڑھ رہا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نئیں نہ
میں اِسکی داڑھی کو دیکھتا ہوں نہ میں اِس کے سجدے کو دیکھتا ہوں۔ میں
اِسکے قلب اور نیت کو دیکھتا ہوں جس کو دُنیا دیکھتی ہے اُس میں ہوشیار
ہے جس کو اللہ دیکھتا ہے اُس میں کارو بار ہے یہ نماز صورت ہے جس کو ہر
فرقے والا پڑھتا ہے اِس نماز کا کوئی اعتبار نہیں اس نماز کا کوئی اعتبار
نہیں ہے بلھے شاہ فرماتے ہیں کہ تیرا دل کھڈائے منڈے کڑیاں۔ کیتی
رب نال وی
چار سو ویسی
یہ تو
مسلمان تھا ہرفرقے والااس کو پڑھتا ہے وہ جاسوس بھی یہی پڑھ کے گیا اب وہ
جو نماز مومن کا معراج ہے صرف مومن پڑھدا مسلمان نہیں پڑھ سکتا وہ معراج
کیسے بنتی ہے جو بھی انسان آیا اللہ تعالیٰ نے اُس میں ٹیلیفون لگا دیا
بھئی اتنا دور جو بھیجا اگر اسکو رابطے کی مجھ سے ضرورت پڑی اُس نے ٹیلی
فون لگا دیئے لیکن جس طرح ٹیلی فون لگا ہوا ہے یہاں ٹیلیفون پڑا ہوا ہے
اِس کو بجلی کی ضرورت ہے اگر بجلی ہے تو یہاں سے موبائل پڑا ہوا ہے تو
بجلی کی لہریں یہاں سے اُٹھیں گی سیدھا امریکہ چلی جائیں گی اگر تیرے
اندر نور ہے تو پھر نور کی لہریں یہاں سے اُٹھیں گی تو سیدھی عرش معلی پہ
چلی جائیں گی جب حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم اوپر پہنچے شبِ معراج میں اللہ تعالیٰ نے تحفے دیئے یہ اپنی امت کو دے دینا کیوں اُس کو نمازوں کی کیا ضرورت ہے اگر تم کوئی بھی نماز نہ پڑھو تب بھی وہ اللہ ہی ہے ناں اُسکی شان گھٹتی تو نہیں ہے ناں پھر اُسکو نمازوں کی کیا ضرورت ہے یہ تحفے ہیں جیسے دربار پہ جاتے ہیں پھول لے جاتے ہیں وہ دربار والا کھاتا تو نہیں ہے ناں یہ عقیدتی تحفے ہیں اِس وجہ سے یہ تحفے دیئے کہ اپنی امت کو دے دینا وہ پانچ وقت یہ تحفے مجھ کو بھیجیں گے جب میرے پاس بھی تحفے آئیں گے ناں پھر میں اُنکو یاد رہوں گا وہ مجھے یاد رہیں گے اب وہ تحفے نیچے آگئے ناں تو جب تک حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم تھے تو پیچھے اس امام کے آگے ٹیلیفون لگا ہوا تھا وہ تحفے اوپر چلے گئے ناں اب تمہارا ٹیلیفون والا امام ہی کوئی نہیں ہے ناں اب تو تم اوپر کیسے جاﺅ جس گھر میں ٹیلیفون لگا ہوا ہے تو پھر اُس ٹیلیفون کے ذریعے وہ تحفہ اوپر جاتا ہے جب وہ تحفہ اوپر جاتا ہے تو پھر وہ مومن کا معراج بنتا ہے یہ مومن ہے اِس کے آگے ولایت بھی ہے وہ تمہارے اندر ہے ولی جو آتے ہیں آسمانوں سے تو نہیں گرتے ہیں ناں ہم تم ہی ہیں
سب کے اندر
ولایت کا راز ہے جو بھی بچہ اس دُنیا میں آیا اگر کافر کا بچہ ہے تو وہ بھی ولایت کا راز لے کر آیا کیا خبر مسلمان ہو جائے توبہ
کر لے اور تاریخ گواہ
ہے کہ کافروں کے بچے مسلمان ہوئے اور بڑے بڑے ولی بنے اگر کافروں کے بچے ولی بن سکتے ہیں تو کیا مسلمانوں کے
بچے ولی نہیں بن سکتے
وہ
ولایت کا راز کیا ہے تم نے دیکھا ہو گا کہ رات کو سوتے ہو دوسرے شہر میں
گھومتے ہو تم تو نہیں ہوتے لیکن تمہارے اندر کی اک مخلوق ہوتی ہے جسکو
نفس بولتے ہیں وہ شیطانی محفلوں میں گھومتی رہتی ہے مڑ کے جسم میں داخل
ہوجاتی ہے اِسی قسم کی اور بھی تمہارے اندر روحیں ہیں ناں او لطائف ہیں
ست (7) لطائف ہیں جب اُنکو اللہ کا نور ملتا ہے نور سے اُنکی پرورش ہونا
شروع ہو جاتی ہے ناں جب نور سے پرورش ہوتی ہے پھر تم دیکھتے ہو رات کو سو
رہے ہو تو حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں اُن مخلوقوں کے ذریعے جب وہ طاقتور ہو
جاتی ہیں تو پھر وہ مخلوقیں کون سی ہیں جب حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم شبِ معراج میں گئے تو بیت المقدس میں جانے سے پہلے نماز پڑھائی
وہ جو پہلے نماز پڑھائی
کسکو نماز پڑھائی؟ ولیوں اور نبیوں کی ارواح کو اوپر جب گئے تو پھر جو نماز ملی وہ کس کیلئے ملی؟
وہ نفسانی لوگوں کیلئے
تاکہ وہ اِس نماز کے ذریعے پاک ہوں اور اُس نماز میں شامل ہوں آج بھی اگر کوئی اپنے آپ کو پاک کر لے تو پھر اپنی روح
کو تیار کر لے تو پھر وہ
اُس نماز میں شامل ہو جاتا ہے
یہ
شریعت محمدی ہے حضور پاک کا یہاں جو جسم مبارک ہے ناں آپ کو یہاں کہتے
ہیں محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم آپ کے جسم مبارک کا نام محمد
صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہے اور شریعت محمدی اُسکو کہتے
ہیں اور وہ جو آپ کی روح مبارک ہے ناں اُس کا نام احمد ہے کوئی روح اُنکی
روح تک چلی جائے تو شریعت احمدی کہلاتی ہے اوپر آپ کا نام احمد ہے تو پھر
جب تم اللہ تعالیٰ کے روبرو ہوجانا تو وہاں مقام محمود ہے وہاں حضور پاک
کو محمود کہتے ہیں بھٹ
شاہ کہتے ہیں نماز روزہ کم سُٹو او رستہ کوئی دوجہ نماز
روزہ کام اچھا ہے لیکن وہ رستہ جو ہے کوئی دوسرا ہے نماز روزہ جنت کو
پہنچاتا ہے اللہ کو نہیں پہنچاتا اللہ کیلئے رستہ کوئی دوسرا ہے ہم نے
پہاڑوں میں لوگوں کو دیکھا تسبیاں بڑی بڑی لگی ہوئی ہیں اللہ اللہ کر ہے
ہیں عبادت خوب کر رہے ہیں اللہ ملا کوئی نہیں غاروں میں دیکھا اللہ ملا
کوئی نئیں مسجدوں میں دیکھا تیس، چالیس سال ہوگئے ہیں نمازیں پڑھ رہے ہیں
کہ کوئی اللہ ملا؟ کوئی نئیں تو پھر اللہ کس کو ملا اللہ اُنکو ملا جنہوں
نے اپنے دل میں ڈھونڈا ناں اللہ اُنکو ملا ناں کیونکہ اللہ کا تعلق دلوں
سے ہے اب جو تم نمازیں پڑھ رہے ہو ناں اِن تعلق تو جنت سے ہے ناں اور ہم تم کو ثبوت دیتے ہیں ناں ڈیرھ نمازیں پڑھی ہونگی ناں، تسبیحاتات پڑھی ہونگیتہجد بھی پڑھے ہونگے لیکن جب دُعا مانگی ہو گی تو یہی کہا ہوگا اے اللہ مجھے جنت دے بھئی جنت کیلئے کیا تب جنت مانگی ناںخیال کرو کبھی بھی تو نے کہا اے اللہ مجھے تو چاہیے؟ کبھی بھی نہیں کہا کیونکہ اللہکیلئے تم نے عمل ہی نہیں کیا جب تم دل میں اللہ اللہ شروع کرو گے ناں وہ رستہ اللہ کوجاتا ہے ناں جب دل میں اللہ آئے گا تو کبھی بھی نہیں کہو گے اے اللہ مجھے جنت چاہیےاے اللہ مجھے تو چاہیےتو جب اللہ مل گیا ناں تو اپنے پاس تو نہیں بٹھائے گاناں جنت میں ہی بھیجے گاناں بن مانگے جنت ملے گی ناں بہت سے فرقے ہیں وہ کہتے ہیں رب کا دیدار نہیں ہو سکتا بہت سے کہتے ہیں رب کا دیدار ہو سکتا ہے حضور پاکﷺ کو جو ہوا اِس جسم سے ہوا باقی جو ولیوں کو ہوتا ہے اُن کے اندر جو مخلوقیں ہیں اُنکے ذریعے ہوتا ہے تمہارے اندر اللہ نے جوسیارے لگائے ہوئے ہیں اُس نے سات (7) آسمان بنائے ہر آسمان سے اک اک مخلوق پکڑ کے اس تمہارے ڈھانچے میں ڈال دی پتہ نہیں اِسکو ملکوت میں جانے کا شوق ہو اپنے قلب کو تیار کرے گا ملکوت کی تیر، سیر کرے گا ہو سکتا ہے جبروت میں جانے کا شوق ہو پھر لطیفہ روح کو طاقتور کرے گا جبروت میں چلے جائے گا ہو سکتا ہے اِسکو اللہ کو دیکھنے کا شوق ہو ہو سکتا ہے اِسکو اللہ کو دیکھنے کا شوق ہو تو وہ لطیفہ انا کو طاقتور کرے گا اللہ تک پہنچ جائے گا جب کوئی ان مخلوقوں کو تیار کرتا ہے یہ جو لطیفہ انا دماغ میں ہے اُس کا ذکر یا ھو ہے یا ھو سے وہ تیار ہوجاتا ہے وہ بالکل فرشتہ بن جاتا ہے اُس وقت آدمی سوچتا ہے دیکھیں اوپر کیا ہو رہا ہے آدمی سوچتا ہے وہ اوپر پرواز کر جاتا ہے وہ اُسکا محتاج ہے فرشتے روکتے ہیں نہیں رُکتا کہتے ہیںجو کچھ بھی ہے بیت المعمور سے آگے جل جائے گا کیونکہ فرشتے بیت المعمور سے آگے نہیں جا سکتے اور وہ بیت المعمور سے بھی آگے چلا جاتا ہےوہاں پر پہنچ جاتا ہے جہاں رب کی ذات ہے اُس وقت فرشتے کہتے ہیں کہ واقع انسان اشرف المخلوقات ہے اُس وقت اشرف المخلوقات ہے اب نہیں
جب
وہاں پہنچتا ہے بڑی محنت سے ،بڑی قربانی دے کے پہنچتا ہے ناں پتہ نہیں
کتنا عرصہ اُس نے تیاری میں لگائے باری (12) سال تو کم از کم لگتے ہی ہیں
ناں یہ جو لوگ جنگلوں میں چلے گئے نمازیں تو گھر میں بھی پڑھ سکتے تھے
ناں پھر جنگلوں میں کیوں گئے اپنی مخلوقوں کو تیار کرنے کیلئے گئے پھر جب
رب کے حضور پہنچ جاتا ہے پھر اک دوسرے کو بڑے پیار سے دیکھتے ہیں پھر
اللہ فرماتا ہے میں تجھے دیکھ لوں تو مجھے دیکھ لے بڑے پیار سے دیکھتے
ہیں پھر اللہ کا جو نقشہ ہے اُسکی آنکھوں کے ذریعے اُس کے دل میں جاتا ہے
پھر جب اُس کے دل میں جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اب تو نیچے چلا
جا اب جو تجھے دیکھ لے وہ مجھے دیکھ لے اِسکو
بولتے ہیں کامل مرشد اِسی کا دیدار مینوں لکھ کروڑاں حجاں اور اِسی مرشد
کی بیعت ہوتی ہے جو اللہ تک پہنچاتا ہے اور جو بکتے ہیں اِسی مرشد کیلئے
بکتے ہیں
اب رہا
سوال ہمارے علاقے میں کیا ہم جہاں بھی گھومتے ہیں وہاں گدھی نشین بھی ہیں
،سجادہ نشین بھی ہیں سارے مرشد بنے ہوئے ہیں ناں اب جو مرشد ہم نے پکڑا
وہ تو اللہ کیلئے پکڑا ناں یہ جسم تو اللہ کو نہیں جاتا ناں وہ تو جسم کے
اندر کی چیزیں اللہ کو جاتی ہیں ناں اُسکو اِن کو پہنچانا آئے نہ تو کتنا
بڑا مجرم ہے بیعت کا حق صرف ولی کو ہے جس طرح کوئی بنی نہیں ہے نبوت کا
دعویٰ کرتا ہے کافر ،ماننے والے بھی کافر تو کوئی ولی نہیں ہے تو اپنے آپ
کو ولی سمجھتا ہے تو کفر کے نزدیک پہنچ جاتا ہے کافر تو اپنے لیے تھا ناں
اور اِس نے تو ہزاروں لوگوں کی زندگیاں برباد کردی ناں وہ نایاب چیزیں وہ
نایاب سیارے جنکے ذریعے آدمی کو اللہ تک پہنچنا تھا اُس نے اُنکو پھنسا
کے برباد کر دیا ناں وہ اِسکا جواب نہیں دے سکے گا دوسری طرف ہمارا عالم فرقہ آگیا ایک طرف تو گدھی نشینوں نے اور سجادہ نشینوں نے ہمارے اندر کو برباد کر دیا اور دوسری طرف عالم فرقہ آگیا اُنہوں نے ہمارے ایمان کو ہی برباد
کر دیا اور
72 فرقوں میں تقسیم کر دیا
عالم
کی بھی تین قسمیں ہیں ناں اک عالمِ ربانی ہے۔ عالمِ ربانی وہ ہوتا ہے جب
اُس کا اندر منور ہو گیا ناں نور آگیا ناں تو پھر وہ مقناطیس لگ گیا ناں
جس طرح مقناطیس پڑا ہے چھوٹی چھوٹی سویاں پھینکتے ہیں وہ پکڑتا جاتا ہے
ناں کھینچتا جاتا ہے ناں تعلق ہے ناں اُس سے اِسی طرح جب یہاں نور کا
گولا آجاتا ہے کسی کے بھی نور کا گولا آجائے عام ہے یا عالم ہے جب عالم
کے دل میں نور کا گولا آجاتا ہے ناں تو پھر وہ نماز پڑھتا ہے ناں تو اُس
کا نور بھی اندر جاتا ہے ناں تو پھر وہ قرآن پڑھتا ہے ناں تو اُسکا بھی
نور اندر جاتا ہے ناں تو پھر کہتے ہیں قاری نظر
آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن اب قرآن مجید کو آپ دیکھیں کہیں بھی نہیں لکھا نماز پڑھ وہاں یہی لکھا ہے نماز قائم کر
وہ لوگ نمازیں پڑھتے تھے اللہ نے فرمایا
نمازیں قائم کرو نماز پڑھے گا ساری عمر مسلمان ہی رہے گا نماز قائم کرے گا تو عالم باعمل بنے گا تو مومن بنے گا نماز پڑھنا کیا ہوتا ہے سارے نماز پڑھتے ہو ناں پڑتھے ہو۔ کتاب پڑھ رہے تھے بند کری ختم ہو گیا ناں اِس کو ختم کیوں کرتا ہے قائم کر ناں نماز کو اپنے اندر بسا لے تیرا اندر منور ہو گیا تو تیرے اندر پھر نماز قائم رہے گی ناں اب نور اندر ہی نہیں گیا تو قائم کیا پڑھی۔ پڑھی قائم نہیں ہوئی اللہ نے کہا قائم کر اسکو نور اپنے اندر قائم کر پھر قرآن پڑھا تو اُس کا نور بھی اندر گیا ناں ایسے عالم کی توہین دین اسلام کی توہین ہے اگر کوئی ایسا عالم ہے ناں اُسکی توہین دین اسلام کی توہین ہے ایسے ہی عالموں نے کافروں کو مسلمان بنایا ناں حضور پاک فرماتے ہیں ناں ایسے عالموں کیلئے کہ بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہیں اچھا یہ تو عالم ہو گیا ناں باعمل اِس کو عالمِ ربانی کہتے ہیں اِس نے تو ہم کو دین سیکھایا، کافروں کو مسلمان بنایا
اور وہ
پھر دوسرا عالم اُس نے کافروں کو مسلمان نہیں بنا سکا او مسلمانوں میں
فرقے بنائے ناں مسلمانوں کو کافر کہا ناں وہ دوسرا عالم اِس کے سینے میں
قرآن اُس کے ہاتھوں میں قرآن اِس کے سینے میں قرآن ہے اور عالمِ سُو کے
ہاتھوں میں قرآن ہے او سارا دن رات پڑھتا رہتا ہے قرآن لیکن قرآن ہی نہیں
جاتا ہے ناں وہ اند گئے تو اُس کو ہدایت دے ناں قرآن خود فرماتا ہے ۔ھدی
المتقین۔ میں ہدایت کرتا ہوں پاکوں کو او
جو پاک تھا ناں عالم اُسکو تو ہدایت ہو گئی ناں لوگوں کیلئے بھی ہدایت بن
گیا ناں یہ تو پاک ہی نہیں تھا قرآن اِس کے اندر ہی نہیں گیا ناں قرآن
اِس کے ہاتھوں میں ہے ناں بھئی ساری عمر لگا رہ قرآن ہاتھوں میں ہی ہے
ناں یہ ولی نہیں بن سکا وہ عالم باعمل پتہ نہیں کیا کیا بن گیا محبت ہوگئی محبت کا تعلق اِس دل سے ہے زبان سے نہیں جو زبان سے کہتے ہیںوہ ریا کار ہیں۔ محبت کی نہیں جاتی محبت ہو جاتی ہےجب وہ اللہ اللہ کرتے ہیں تو دل میں اللہ کی محبت ہوجاتی ہے جب دل میں اللہ کی محبت آجاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کسی کے احسان لیتا نہیں ہے اک روپیہ خرچ کرو دس روپے لٹاتا ہے اِک نیکی کرو دس نیکیوں کا ثواب دیتا ہے او تھوڑی سی محبت کرو دس گناہ زیادہ محبت کرتا ہے جس سے اللہ محبت کرتا ہے اُسکواک دن دیکھتا ہے بڑے پیار سے دیکھتا ہے جس دن اللہ نے تم کو دیکھ لیا پھر محبت ختم ہو گئی پھر عشق آگیا تو پھر میں تیرا اور تو میرا علامہ اقبال نے فرمایا گر ہو عشق تو کفر بھی ہے مسلمانیاگر تیرے اندر اللہ کا عشق آجائے تو کفر میں مسلمان بن جاتا ہے ناںاگر عشق نہیں ہے تو پھر آگے فرماتے ہیں کہ مسلم بھی ہے کافرو زندیق علامہ اقبال نے کہا۔ تم ایک دوسرے کو کافر وزندیق کہتے ہو ناں
اب یہ
جو اللہ اللہ اِس اُمت کو ملا باقی اُمتوں کے نبی بھی ترستے موسیٰ
علیہ سلام یا
رحمن کا ذکر کرتے تھے عیسیٰ
علیہ سلام یا قدوس کا سلمان
علیہ سلام یا وہاب کا داﺅد
علیہ سلام یا
ودود کا باقی نبی اپنے اولمرسل کا کلمہ پڑھتے تھے اک دن موسیٰ
علیہ سلام نے کہا
اے اللہ دیدار دے جواب آیا تاب نہیں ہے کہنے لگے کسی میں تاب ہو گی جواب
آیا اک میرا حبیب اور اُسکی اُمت اُمت کا کہا مسلمان کا نہیں کہا اک میرا
حبیب اور اُسکی اُمت موسیٰ
علیہ سلام کو جلال آگیا میں نبی ہو کے اُمتی کے برابر
نہیں جلوہ دے دیکھی جائے گی جلوہ پڑا موسیٰ
علیہ سلام بیہوش ہو گئے کیا وجہ ہے کہ
موسیٰ علیہ سلام اِس دنیا میں کوہ طور پہ بیہوش ہوئے حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم سامنے جا کے
مسکرا رہے ہیں موسیٰ
علیہ سلام کے جسم میں یا رحمن کا صفاتی نور تھا وہ ذات کی
تاب نہ لا سکے حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک میں اسمِ ذات کا ذاتی نور تھا ذات
ذات کے سامنے جاکے مسکرائے وہ حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے طفیل وہ اسم اِس اُمت کو ملا
تب اِس کو فضیلت ہوئی ،تب اِسکو فضیلت ہوئی ناں اک حدیث شریف میں ہے قیامت کے دن اُمتوں کی پہچان نور سے ہوگی یہ یا رحمن سے چمک رہے ہیں موسیٰ علیہ سلام کی اُمت یہ یا ودود سے چمک رہے ہیں داؤدعلیہ سلام کی اُمت اور یہ جو اللہ ھو سے چمک رہے ہیں یہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی اُمت
تو پھر جو اِس نور کے بغیر بیٹھے ہونگے تو پھر بھاویں سُنی ہے، بھاویں شیعہ ہے، تے بھاویں وہابی ہے تو پھر تو جاسوس ہی ہے ناں بنی اسرائیل کے نبی ترستے رہے اِس اُمت کے ولی کہتے ہیں ہم نے اللہ کا دیدار کیا حضرت امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ میں نے نناوے(99) مرتبہ اللہ کو دیکھا ہے ،حضرت ابراہیم بن ادم علیہ سلام فرماتے ہیں کہ میں نے ستر (70) مرتبہ رب کا دیدار کیا ہے ،سخی سلطان باھو فرماتے ہیں کہ جب چاہوں اللہ کو دیکھ لوں یہ ہے اُمت کی شان ایک دن عیسیٰ علیہ سلام نے کہا اے اللہ مجھے بڑا شوق ہے تجھے دیکھنے کا اللہ نے کہا موسیٰ علیہ سلام کا حال نہیں دیکھا دیکھا ہوا تھا سہم گئے تو پھر تیرا دیدار کیسے ہو گا اِس کیلئے تجھے میرے حبیب کا اُمتی بننا پڑے گا عیسیٰ علیہ سلام نے کہا مجھے منظور ہے زندہ اُٹھایا گیا پھر اُنکو اب مہدی آئیں گے عیسیٰ اُن سے بیعت ہونگے اُمتی بنیں گےپھر اُنکو دیدار ہو گا
دیکھو
اُمتی کی کیا شان ہے علماء کیلئے عالمِ ربانی کیلئے حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
کہ بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہونگے کیونکہ نہ اُن نبیوں کو دیدار نہ
اِن عالموں کو دیدار او ولیوں کیلئے کہا کہ میرے ولیوں پہ بنی اسرائیل کے
نبی بھی رشک کریں گے جس دن عیسیٰ
علیہ سلام نے آکے امام مہدی
علیہ سلام سے بیعت کر لی
سارے نبی رشک نہیں کریں گے حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے بعد جو درجہ ہے نبوت میں وہ
عیسیٰ علیہ سلام کا ہے تو وہی آکے بیعت ہو گئے اب وہ اسمِ ذات آتا کیسے ہے طریقہ
بھی بتا دیں ہو سکتا ہے کوئی اہلِ دل ہو سخی سلطان باھو نے ایک کتاب لکھی اُس کا نام ہے نور الھُدیٰ وہ سمجھ میں نہیں آتی ایک دن اُن سے ملاقات ہو ہی گئی پوچھا آپ نے یہ کتاب لکھ دی تو کسی کو سمجھ نہیں آتی ہے ہزاروں لوگ پڑھتے ہیں کہتے ہیں ہماری تو سمجھ میں آتی ہی نہیں ہے تو کہنے لگے ٹھیک ہے ہزاروں کی سمجھ میں نہ آئے ہزار سال تک نہ آئے،ہزار سال کےبعد اگرکسی اک کی بھی سمجھ میں آگئی ناںتو وہ ہزاروں کو سمجھا دے گا ناں تو میری محنت پوری ہو جائے گی ناں
ہمیں
ایک کیپٹن ملا کہنے لگا مجھے بڑی تگ ودو ہے اللہ کی میں روزانہ کئی ہزار
دفعہ کاغذ پہ اللہ لکھتا ہوں اُسکو سمندر میں ڈالتا رہتا ہوں لیکن کئی
سال ہوگئے ہیں مجھے تو رب کا کوئی نام ونشان ہی نہیں ملا بھئی رب تو دل
میں ہے تو سمندر میں ڈالتا رہا او لکھ لکھ کے تو سمندر میں ڈالتا رہا دل
میں ڈالتا۔ دل میں کیسے ڈالوں یہی نکتہ ہے اگر سمجھ میں آگیا تو اب یہ
اللہ دل میں کیسے جاتا ہے دل میں جائے گا تو بات بنے گی ناں اِسکو روزانہ
66 مرتبہ سٹھ چھ چھیاسٹھ کاغذ کے اوپر لکھتے ہیں خوشخط کرکے لکھو ،فجر کی
نماز کے بعد لکھو ورنہ جب بھی آپکو موقعہ میسر آئے دن میں بھلا کئی دفعہ
لکھو ہانچ، چھ، سات دفعہ لیکن جب بھی لکھو بڑے پیار سے لکھو کیا خبر تم
لکھ رہے ہو تو وہ دیکھ رہا ہو اُسی میں کام ہو جائے نقطہ نواز ہے آپ
تھوڑے دن لکھیں گے ایک دن آئے گا آپ جو کاغذ پہ لکھتے تھے وہ تمہاری
آنکھوں میں تیرنا شروع ہوجائے گا کاغذ سے آنکھوں میں آگیا تصور قائم ہو
گیا اِس کو ابھی تصور بولتے ہیں جب آنکھوں میں تصور آنا شروع ہو جائے پھر
لکھنا بند کر دیں آنکھوں سے پھر توجہ سے اُسکو دل کے اوپر اتاریں تو پھر
اگر اللہ نے چاہا تو جو آپ کاغذ پہ لکھتے تھے وہ دل پہ لکھا نظر آئے گا
اُس وقت دل کی دھڑکن تیز ہو جائے گی ٹِک،ٹِک،ٹِک اُس ٹِک،ٹِک کے ساتھ
اللہ ھو ملائیں اک کے ساتھ اللہ اک کے ساتھ ھو وہ دل کی تسبی چل پڑی جب
یہاں لکھا نظر آئے گا ۔یہ پولیس کی مہر لگی پولیس وال،یہ اللہ لکھا گیا
اللہ والا رات کو سونے لگیں اِس اُنگلی کو قلم خیال کریں تصور سے دل کے
اوپر اللہ لکھتے لکھتے سو جائیں اِسی میں نیند آجائے کیونکہ سوتے وقت جو
نیت ہوتی ہے خواب میں بھی وہی کچھ ہوتا ہے اللہ ھو پڑھتے پڑھتے سو گئے
اور خواب میں بھی اللہ ھو پڑھتے رہے ہم چکوال میں کنٹین کرتے کچھ کنڈیکٹر ،بسوں کے کنڈیکٹر ہمارے پاس کنٹین
میں سو جاتے خراٹے لے
رہے ہوتے ہم اُنکو دیکھتے خوب مزے سے خراٹے لے رہے ہیں لیکن کہہ رہے ہیں لاہور پنڈی،لاہور پنڈی لاہور
سے آتے پنڈی وہ یہی
خواب دیکھتے رہتے ناں تو جب تمہارا خیال اللہ کی طرف ہو گا سوتے میں بھی تو جاگتے میں بھی ۔کام کاج میں بھی تو گھر والے کہیں گے تو تو اللہ ھو کر رہا تھا تم کہو گے میں تو سو رہا تھا صبح اٹھیں وضو ہے یا نہیں ذکر خفی کرتے رہیں جب تک دل کی دھڑکن سے نہیں ملتا اُسکو ذکر خفی کہتے ہیں ذکر خفی کوئی منزل نہیں ہے عبادت ہے جس دن تمہارے دل کی دھڑکنوں نے اللہ اللہ پکارنا شروع کر دیا آج تمہاری منزل جو ناں چل پڑی ناں اِسکو طریقت کہتے ہے ناں طریقت کا تعلق اِس دل سے ہے ناں آج تمہاری گاڑی اللہ کی طرف چل پڑی اب اس گاڑی کو پٹرول کی ضرورت ہے اب پھر نمازیں پڑھو روزے رکھو وہ اُسکا پٹرول تو پھر وہ گاڑی پہنچے گی ناں تو پھر جب وہ گاڑی اللہ اللہ کرتے اللہ تک پہنچ جائے گی تو اُس کو حقیقت کہتے ہے ناں حقیقت کا تعلق اِن نظروں سے ہے اب یہاں ایک سوال ہے ہمارے علماء کو بہت برا لگتا ہے لیکن ہمیں کوئی ان سے دشمنی نہیں ہے نا ہی پیروں سے کوئی دشمنی ہے یہ تو اللہ کا حکم ہے ہم بیان کر رہے ہیں چاہے کسی کو صحیح لگے چاہے کسی کو برا لگے یہاں ہم جدھر بھی گئے ہمارے علماء نے کہا یہ سب کچھ شریعت میں ہے اُنہوں نے کہا طریقت بھی شریعت میں ہے ،حقیقت بھی شریعت میں ہے، معرفت بھی شریعت میں ہم ناروے میں گئے تو وہاں ایک بورڈ لگا ہوا تھا اُس پہ لکھا ہوا ہے کہ اس سے آگے دُنیا نہیں ہےاگر کوئی دنیا کا جستجو والا ہوا تو وہاں جاکے ٹھہر جائے گا ناں آگے دنیا ہی نہیںمیں جاکے کیا کروں گااِسی طرح اگر کوئی اللہ کا طالب ہوا تو یہاں شریعت میں ساکن ہو جائے گا ناں کہ شریعت سے آگے تو کچھ بھی نہیں تو میں کیا کروں آگے جاکے
یہ کیوں نہیں کہا کہ یہ دل بھی اللہ اللہ کرتے ہیں. دل
والے بھی ہوتے ہیں ،آنکھیں بھی اللہ کو دیکھتی ہیں ،آنکھوں والے بھی ہوتے
ہیں یہ کوئی اس پہ اعتراض کرتا ناں یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں رہبانیت
نہیں ہے ،اسلام میں رہبانیت نہیں ہے تو غوث پاک
رضی اللہ تعالٰی کیا اسلام میں نہیں تھے
،تو خواجہ صاحب اسلام میں نہیں تھے او کئی کئی سال جنگلوں میں رہے ناں
او شریعت جنگلوں میں تو نہیں ہوتی ہے ناں شریعت تو شہروں میں ہوتی ہے ،مدرسوں
میں، مسجدوں میں ہوتی ہے ناں توجنگلوں میں پھروہ کیوں چلے گئے تھے وہ
کوئی دوسرا علم تھا وہ طریقت، حقیقت، معرفت کا علم تھا تو مڑکے آئےتو بڑے
بڑے ولی کامل بن کے آئے ناں
جب وہ
دل کی دھڑکن پھر اللہ اللہ پکارتی ہیں تو کوئی لوگ ہیں جن کے دل کی
دھڑکنیں کم ہوتی ہیں اُن کیلئے پھر اولیاء نے کچھ طریقے نکالے ہیں قلندر
پاک اُن کے پاس لوگ جاتے وہ کہتے چلو ناچیں۔ وہ ناچ آج تک موجود ہے نچاتے
اُنکو میں ایک دفعہ سہون میں گیا وہاں کچھ آدمی اُس وقت اللہ ھو پہ ناچتے
تھے اب دما دم مست قلندر پہ ناچتے ہیں دو آدمی میرے سامنے بیہوش ہوئے
ناچتے ،ناچتے بیہوش ہوگئے ایک پہ میں پانی ڈالنے لگا ایک اور ساتھ آدمی
تھا دانت اُس کے بالکل کسے ہوئے ہیں بند ہیں پانی بھی اندر نہیں جا رہا
دل سے آواز آرہی ہے دما دم مست قلندر ہم نے سوچا اس زمانے میں دما دم مست
قلندر کرتے ہیں او دلوں سے دما دم مست قلندر کی آواز آتی ہے تو اُس زمانے
میں تو اللہ ھو سے ناچا کرتے تھے تو اُس وقت اندر سے اللہ ھو کی آوازیں
آتی ہونگی ناں
تو بلھے شاہ نے
فرمایا اساں نچ کے یار منایا تو
پوچھا ناچ میں کیا یار مانتا
ہے پتہ لگا نچے نچے خوب نچے دل کی دھڑکنیں ابھریں دھڑکنوں کے ساتھ اللہ اللہ ملیا تب
پھر
یار منیا
امیر کلال کبڈی
کھیلاتے وہ کبڈی کھیل رہے تھے بہاﺅالدین نقشبند بہت بڑے عالم تھے پہنچ
گئے فیض کیلئے۔ پوچھا امیر کلال کہاں ہے وہ تو کبڈی کھیل رہے ہیں کہ
ولی تو کبڈی نہیں کھیل سکتا میں تو خواہ مخواہ ادھر آگیا واپس جانے لگے
زمین نے روک لیا بعد میں وہی خواجہ بہاﺅالدین نقشبند اُنکے ساتھ کبڈی
کھیلے اتنے بڑے ولی بنے او کبڈی میں کیا راز تھا؟ خوب دوڑاتے جب دل کی
دھڑکنیں ابھرتیں کہتے اب کبڈی کو چھوڑو ان کے ساتھ اللہ اللہ ملاﺅ ایک اور آسان طریقہ ہے وہ ضربیں لگاتے ہیں اللہ ھو،اللہ ھو اب کچھ لوگ اللہ ھو کی ضربیں لگاتے ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں شور مچاتے ہیں صحیح کہتے ہیں اگر تو اللہ ھو کی ضربیں لگا کر گھر چلا جاتا ہے تو شور مچا کر گیا ناں اُس سے بہتر تھا تو دل میں اُسکو یاد کر لیتا ۔اُنکو پتہ ہی نہیں ہے یہ ضربیں کیوں لگاتے ہیں یہ اللہ ھو اللہ ھو جب لگاتے ہیں ناں گھنٹہ بھر تو وہی کبڈی والی پوزیشن پیدا ہو جاتی ہے بھئی دل دھڑکنا شروع ہو جاتا ہے پھر اُس دل کی دھڑکن کے ساتھ اللہ ھو ملاتے ہیں ناں وہ کہتے ہیں کہ کسانی آدھی ولایت ہے وہ کس طرح؟ آگے بیل چل رہا ہے پیچھے وہ بھیچل رہا ہے وہ سارا دن چل رہا ہےبیل کا دل بھی دھڑکنا شروع ہو گیا اُس کا بھی دل دھڑکنا شروع ہو گیا اب اُس دھڑکن کے ساتھ اللہ اللہ ملائے تو آدھی ولایت ہے ناںورنہ جس طرح اُسکا دل دھڑک رہا ہے اِسی طرح اِس کا دل دھڑک رہا ہے
یہ تو
ہو گیا اِس کا طریقہ اب اِس کی اجازت بھی ہوتی ہے اجازت کیا ہوتی ہے آپ
یہاں سارا دن ،رات تہجد پڑھتے رہیں نمازیں پڑھتے رہیں شیطان ایک کونے پہ
کھڑا ہنستا رہتا ہے کیوں ؟ تیرا دل تو میرے ہاتھ میں ہے جب جی چاہے گا
موڑ دوں گا اور تمہیں ایک دن شکایت ہو گی میں بڑا تہجد گزار تھا مجھے کیا
ہو گیا ہے میں اب فرض نماز بھی نہیں پڑھ سکتا شیطان نے دل موڑ دیا ناں جب
کوئی دل کی عبادت میں لگتا ہے شیطان سوچتا ہے اگر یہ اللہ اللہ اِس کے
اندر چلا گیا یہ تو ساری عمر کیلئے میرے ہاتھوں سے گیا
بایزید
بسطامی جوانی کے ایام میں جنگل میں چلے گئے جب باقی عبادت کرتے تو
شیطان دیکھتا رہتا لیکن جب وہ اللہ ھو کی ضربیں لگاتے ناں تو قریب آکر
اُنکو ستاتا وہ صاحبِ نظر تھے ایک دن ڈنڈا لے کے اُس کے پیچھے بھاگے کہ
آج اِس کو ماروں گا آواز آئی اے بایزید یہ ڈنڈوں سے نہیں مرتا یہ اللہ کے
نور سے جلتا ہے تو اتنا ذکر کر اتنا ذکر کر کہ نور علیٰ نور ہو جائے تو
جب بایزید بسطامی نور علیٰ نور ہو گئے تو شہر بسطام سے جادو گر ہی چلے
گئے شیطان کو پتہ ہے کہ اللہ اللہ کرنے سے کسی کے دل پہ اللہ لکھا جاتا
ہے خواجہ بہاﺅالدین نقشبندی کو نقشبند کیوں کہتے ہیں لوگوں کے دلوں پہ لفظ اللہ نقش کر دیتے تھےقرآن بھی فرماتا ہے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جن کے دلوں پہ اللہایمان نقش ہو جاتا ہے ناں
کچھ
لوگ ایسے ہیں جو ہر وقت اللہ اللہ کرتے ہیں اُن کے دل میں مدینہ پاک
آجاتا ہے کیونکہ وہ خدا بھی نہیں تو جدا بھی نئیں پھر وہ کہیں بھی ہے
مدینے میں ہے کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہر وقت اللہ اللہ کرتے ہیں اُن کے دلوں
پہ خانہ کعبہ آجاتا ہے ایک دن دیکھا مجدد الف ثانی نے دیکھا یہ جن
فرشتے اُنکو سجدہ کر رہے ہیں تو بڑے پریشان ہوئے کہ یہ استدراج تو نہیں
ہو گیا یہ انسان کو سجدہ جائز ہی نہیں یہ مجھے کیوں سجدہ کر رہے ہیں آواز
آئی گھبراﺅ نہیں یہ تمہیں سجدہ نہیں کر رہے وہ جو تمہارے اندر خانہ کعبہ
بس گیا ہے آس کو سجدہ کر رہے ہیں جب رابعہ بصری کے دل پہ خانہ کعبہ آیا
اُس کعبے کو حکم ہوا جا جاکے اُس کعبے کا طواف کر او تجھے ابراہیم
علیہ سلام نے
گارے مٹی سے بنایا اِس کو میں نے اپنے نور سے بنایا او تب مولانا رومی نے کہا کہ اک دل جس میں کعبہ بس جائے اُس ہزار کعبوں سے بہتر ہے اُس کو
ابراہیم علیہ سلام نے بنایا اِس کو اللہ نے اپنے نور سے بنایا جب کعبہ بس جاتا ہے
ابھی مکمل نہیں ہے تو اُس کو آدھی قلندر بولتے ہیں جی بولتے ہو نہ آدھی
قلندر ہے تو خانے میں کعبہ بسا تھا توکعبہ اُس کا طواف بھی کرتا تھا تو
پھر بھی بولتے ہیں آدھی قلندر ہے تو
پھر وہ پورا قلندر کون ہے؟ آدھی
قلندر یہ ہے کہ وہ رب کا دیدار نہیں کر سکیں وہ رب سے بات چیت کر سکیں
عورت جو ہے ناں وہ رب کا دیدار نہیں کر سکتی کتنی بڑی اونچی ولیا ہو جائے
رب سے بات چیت کر لیتی ہے وہ جو دوسرے بھی ہیں پورے قلندر وہ رب سے بات
چیت بھی کرتے ہیں رب کو دیکھتے بھی ہیں وہ رب کا نقشہ اُن کے اندر آتا ہے
ناں تو پھر اُن کیلئے ہے ناں میں اُنکی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا
ہے میں اُس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے
اب دینِ
اسلام اک پرندے کی مانند ہے پرندے کے دو پر ہوتے ہیں بہت سے لوگ ہیں جو
اک پر سے اُڑنے کی کوشش کرتے ہیں نہیں اُڑ سکتے وہ صرف نماز ہی پڑھتے ہیں
زبان سے سب کچھ کرتے ہیں دن رات لگے رہتے ہیں او چالیس، پچاس، سٹھ، سو
سال ہوگئے تو ابھی نمازی ہی ہے ناں کوئی مسجد میں پھڑ پھڑا رہا ہے ناں
اوپر تک تو کوئی نہیں پہنچا ناں دوسرے لوگ وہ دیکھے جنہوں نے نمازیں چھوڑ
دیں دلوں سے اللہ اللہ کرنا شروع کر دیا وہ جنگلوں میں پڑے ہوئے ہیں ناں
رب کو وہ بھی کوئی نہیں پہنچے ناں رب کو وہی پہنچے ناں جنہوں نے نمازیں
بھی پڑھیں اور دلوں سے اللہ اللہ بھی کیا رب کو تو وہی پہنچے ناں یہ دو
پر ہیں اس وقت ہر آدمی صراطِ مستقیم کی تلاش میں ہے او پانچ منٹ میں پتہ
چل جائے گا کوئی بھی نہیں کہے گا غلط کہتا ہے صراطِ مستقیم کیا ہے حقیقت
ہے کئی سالوں سے الجھے ہوئے ہو ناں صراطِ مستقیم کیا ہے یہ دیوبندی، یہ
مرزائی، یہ وہابی، یہ سُنی، شیعہ ابھی دس منٹ میں تم سارے گردنیں ہلاؤ گے
کہ صحیح کہتا ہے اگر کوئی کافر ہے، ہندو ہے وہ بھی کہے گا صحیح کہتا ہے.
اک وہ
لوگ ہیں جن کے ظاہر بھی خراب ہیں باطن بھی خراب ہیں نہ کوئی ظاہر میں
نماز روزہ ہے نہ کوئی دل میں اللہ اللہ ہے وہ بھلے سُنی ہے، بھلے شیعہ ہے
تے بھلے وہابی صراطِ مستقیم نہیں ہے وہ صراطِ مستقیم نہیں ہے نام تم نے
رکھے ہوئے ہیں ناں بات صراطِ مستقیم کی ہے ناں
دوسرے
وہ لوگ ہیں جن کے ظاہر خراب ہیں باطن اللہ اللہ کر رہے ہیں ایسے لوگ بھی
ہیں دھنکہ شریف ہے ناں اُدھر ظاہر میں کوئی نماز روزہ نہیں ہے ناں دل
اللہ اللہ کر رہا ہے ناں جس کو ڈنڈا مارتے ہیں فیض ہو جاتا ہے لیکن اگر
اُن کی کوئی نقل کرے تو زندیق ہو جاتا ہے ناں بھئی اگر اُن کی نقل کرو
گئے تو زندیق ہو جاؤ گے ناں تو صراطِ مستقیم وہ بھی کوئی نہیں بھئی وہ تو
بے نظیر کو ڈنڈے مارتے ہیں تم ڈنڈے مار کر دکھاؤ ناں اُن کی نقل کرے گا
تو زندیق ہو جائے گا ناں تو صراطِ مستقیم وہ بھی نہیں ہے ناں
تیسرے
وہ لوگ ہیں جن کے ظاہر درست اور باطن سیاہ ہمارے علماء اورعابد زاہد ظاہر
میں تسبیاں نمازیں سب کچھ ہے اندر کالے ہیں اندر کچھ بھی نہیں ہے اِس دل
میں اللہ ہوتا ہے اللہ نہ ہو تو پھر شیطان ہوتا ہے پھر صراطِ مستقیم یہ
بھی نہیں ہے ناں اگر صراطِ مستقیم ہوتا تو 72 فرقے کیوں بنتے او اِنہی
لوگوں نے بنائے ناں انہی داڑھیوں والوں نے بنائے ناں نمازیوں نے بنائے
ناں تو پھر صراطِ مستقیم میں ہوتے تو سارے اسطرح ہوتے تو پھر صراطِ مستقیم کیا ہے؟ ظاہر بھی درست باطن بھی درست ظاہر میں بھی نماز روزہ کرو اور دل بھی اللہ اللہ کرے زبان بھی پاک اور دل بھی پاک یہ صراطِ مستقیم ہے کہیں سے بھی حاصل ہو جائے ہم یہ نہیں کہتے! کہیں سے بھی
حاصل ہو جائے یہی صراطِ
مستقیم ہے اس وقت سارے اسلامی ممالک ہیں ایران بھی ،اعراق بھی، پاکستان زبان سے سارے کلمہ پڑھتے ہیں ناں زبان سے سارے ایک ہیں لیکن دل سے ایک نہیں ہیں ناں دلوں میں شیطان ہے اور شیطان کیا کرتا ہے بھائی کو بھائی سے لڑاتا ہے میاں کو بیوی سے لڑاتا ہے دل سے ایک دوسرے کو مسلمان نہیں مانتے کافر کہتے ہیں جب تمہارے دلوں نے بھی کلمہ پڑھ لیا تو پھر زبان سے بھی ایک اور دل سے بھی ایک اب تم کو اب اُس شیطان کو پتہ ہے یہاں تک کوئی شخص پہنچ سکتا ہے اُس کے پاس جنات فوج ہے حکم دیتا ہے جاﺅ اِسکو تباہ کرو برباد کرو کچھ بھی کرو یہ اللہ اس کے اندر نہ جائے ورنہ یہ تو گیا ناں تمہارے پاس تو کوئی ایک جن بھی نہیں ہے جو اُن کا مقابلہ کرو ایک جن بھی نہیں ہے جو اُن کا مقابلہ کرو پھر جہاں سے ان کی اجازت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اُنکو بھی ایک رحمانی فوج دیتا ہے او شیطانی فوج تم پہ ٹوٹ پڑی اور رحمانی فوج شیطانوں پہ ٹوٹ پڑی وہ رحمانی فوج اُس وقت تک تمہارا ساتھ دے گی جب تک تمہارے اندر رحمن جاگ نہیں اُٹھتے پھر بندہ نہیں رہے بندہ نواز بن گئے غریب نہیں رہے غریب نواز بن گئے بہت سے لوگ ہوں گے جن کے مرشد کامل ہونگے بہت سے لوگ ہوں گے جو ویسےپھسے ہوئے ہونگے ہر مرشد اپنے آپکو کامل ہی کہتا ہے ناں جو جس سے بیعت ہوااُسے کامل سمجھ کے بیعت ہوا ناں اگر تو وہ کامل ہے تو پھر تو جیسا بھی ہےآپے لیسی ساراں ھولیکن اگر وہ کامل نہیں ہے تو پھر تیری زندگی برباد ہو رہی ہے ناںاب ضروری ہے ناں کہ اپنے مرشد کے متعلق بھی پتہ ہو ناں کہ وہ کامل ہے یا نہیں ہے تصدیق ہونی چاہیے ناں اب سنیارا ہے وہ سونے کے لئے لینے کیلئے جاتا ہے ناں مار نہیں کھاتا اُس کے پاس کسوٹی ہے جب تمہارے اندر یہ اللہ اللہ شروع ہو جائے گا ،تمہارے دل میں اللہ اللہ شروع ہو جائے گی دل کی دھڑکن پکارے گی اللہ اللہ نور بنے گا بری امام چلے جانا وہاں بھی اللہ یہاں بھی اللہ، بادل آپس میں ٹکراتے ہیں تو رقعت بھی پیدا ہوتی ہے یہاں بھی اللہ ہے وہاں بھی اللہ اللہ آپس میں ٹکرائے تو رقعت پیدا ہو گی دل کا ذکر اور تیز ہو گیا سمجھ گیا یہ روحانی آدمی ہے آگے داتا صاحب چلے جانا وہاں بھی اللہ یہاں بھی اللہ تو سینے میں گڑ گڑاہٹ پیدا ہو گی ناں رقعت پیدا ہو جائے گی ناں تو سمجھ جاﺅ گے ناں کہ کوئی ولی کامل ہے پھر اپنے مرشد کے پاس چلے جانا جو داتا صاحب ،بری امام پہ بات ہوئی تھی مرشد کے پاس جانے سے ہوتی ہے تو ٹھیک ہے تمہاری خوش نصیبی ہے اگر گھڑی گھڑی تو اُس کے پاس جاتا ہے گھڑی گھڑی تو اُس کے پاس جاتا ہے پھر کچھ بھی نہیں ہوتا ہے پھر اِس کا مطلب ہے کچھ بھی نہیں ہے ناں تمہاری عمر برباد ہو رہی ہے ناں ضروری ہے کہ پہلے کسوٹی بن،ہو جائے تو پھر تم اُنکی تلاش میں نکلنا پھر جب بھی کبھی ملے گا ناں تو کامل مرشد ہی ملے گا سخی سلطان باھو فرماتے ہیں کہ ڈھونڈ، ڈھونڈ تو لُٹ جائےتیرا گھر بار لُٹ جائےمرنے سے تھوڑی دیر پہلے تجھے یہ چیز حاصل ہو جائے توبڑا سستا سودا ہے
تو
جہاں جائے گا ایمان سے جائے گا ناں او تیرے دل پہ اللہ لکھا گیا تو ایمان
سے جائے گا اِس کیلئے ہم تمہیں بیعت کرتے ہیں نہ کوئی نذرانہ مانگتے ہیں
اُس وقت تک تمہاری حفاظت کریں گے جب تک یہ تمہارے اندر رحمن جاگتا نہیں
ہے پھر تمہیں کہیں بھی کامل نظر آیا وہاں جا کے بیعت ہو جانا کہیں بھی
نظر آیا جو بھی ملے گا پھر صحیح ملے گا ناں یہ چشتی، نقشبندی، قادری،
سہروردی یہ سلسلے ہیں لیکن ہمارے لوگوں میں کچھ یہ ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ
چشتی تھا ہمارا دادا باپ بھی چشتی میں بھی چشتی میرا بیٹا بھی چشتی۔ ہم
چشتی کیوں چھوڑیں ناں یہی کہتے ہو ناں لیکن چکر یہ ہے کہ یہ چار گاڑیاں
ہیں ناں
پہلے نو (9) گاڑیاں تھیں پانچ پنکچر ہو گئیں اب چار رہ گئیں ہیں اب چار
میں سے اک جو ہے ناں وہ بھی کٹ گئی سہروردی بھی کٹ گیا
وہ صرف
نعت خوانی میں لگ گیا ذکر کو اُس نے چھوڑ دیا اب یہ گاڑیاں سٹارٹ کبھی
چشتیوں کی گاڑی سٹارٹ ہوتی ہے ،تو کبھی نقشبندیوں کی سٹارٹ ہوتی ہے کبھی
قادریوں کی سٹارٹ ہوتی ہے باری باری ناں ایک دم تو سٹارٹ نہیں ہوتی ناں
باری باری اللہ کی طرف جاتی ہیں ناں اگر تجھے اللہ کو پہنچنا ہے تو جو
سٹارٹ گاڑی ہے اُس میں جاکے بیٹھ جا ناں بھئی وہ تو ساری اللہ کی طرف سے
بھیجی ہوئی ہیں ناں تمہارے لئے بھیجی ہیں باری باری وہ چلتی ہیں ناں کسی
بھی سٹارٹ میں جاکے بیٹھ جا کوئی جرم تو نہیں ہے ناں ہاں اگر تیری گاڑی
چل رہی ہے ناں تو پھر اُترنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر وہ جرم ہے اگر کسی
کا دل اللہ اللہ کر رہا ہے اُسکو اجازت لینے کی ضرورت نہیں اُس کا مرشد
کامل تھا تب اُس کے اندر اللہ اللہ ہوئی ہے ناں اگر کسی کے اندر اللہ
اللہ نہیں ہے تو اُس کا مطلب اُ سکی گاڑی چلی نہیں ہے ناں تو چلتی ہوئی
گاڑی میں جا کے بیٹھ جائے ہمیں تم سے جو لالچ ہے اک لالچ ہے ہم اپنے خرچے
پہ ادھر آئے ہیں خرچے پہ جائیں گے پھر کیوں ہم جگہ جگہ جاتے ہیں یورپ تک
جاتے ہیں تھوڑی سی لالچ ہے ہم کو او حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو بھی وہ لالچ تھی اِس
وجہ سے آپ کو حریصاً بھی کہا گیا ہے لوگ پوچھتے ہیں حریص کیوں کہا گیا اب
دیکھو ناں تم اللہ کو جاو دوزخ میں جاﺅ بہشت میں جاﺅ ہمیں کیا پرواہ ہم
نے تو جو پانا تھا پا لیا ناں جس طرح گاڑی کسی کی لینے والا اور بیچنے
والا اور بیچ میں ایک ایجنٹ ہے ،ایجنٹ ہے ناں وہ ایک کو راضی کرتا ہے پھر
دوسرے کو راضی کرتا ہے دونوں کو راضی کرتا ہے گاڑی اُس کی نہیں ہے وہ
اُدھر بھی باتیں کرتا ہے اُدھر بھی بیچارہ باتیں کرتا ہے پتہ نہیں کتنے
گھنٹے لگاتا ہے جب گاڑی بک جاتی ہے اُس کو اُدھر سے بھی کمیشن ملتا ہے
اِدھر سے بھی کمیشن ملتا ہے وہی حساب ہمارا ہے اب ہم تم کو راضی کر رہے
ہیں ناں پھر اُسکو راضی کریں گے اللہ اللہ شروع ہو گا ناں اُس کا ہم کو
کمیشن ملے گا ناں وہ بھی دیگا ناں تمہارا کمیشن بھی ہم کو ملے گا ہم کو
یہ لالچ ہے بس اُس اللہ اللہ سے ہمارے مراتب جو ہیں ناں وہ بڑتے ہیں
کیونکہ تم کو تم نے جتنا ذکر کیا جس نے تم کو سیکھایا دو درجہ اُسکو ملے
گا دو گناہ اور جس نے اور جس نے اُسکو سیکھایا چار گناہ اُس کو ملے گا جس
نے اُس کو سیکھایا آٹھ گناہ اُس کو ملے گا یہ دس گناہ تک جاتا ہے
اب جو
میں نے باتیں کری ہیں کسی صاحب کو اُس پہ اعتراض ہو تو پوچھ سکتا ہے کوئی
میں نے بات کری ہو کسی کی سمجھ نہ آئی ہو ،اعتراض ہو تو پوچھ سکتا ہے اُس
کے بعد پھر ذکر لیں اپنی قسمت آزمائیں بات کی ہے ناں ابھی دُعا کریں گے
جس کام کیلئے کریں گے ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ پورا کردے کام تو نکلتے
رہتے ہیں ناں کام تو نکلتے رہتے ہیں پھر کیا کرو گے اللہ تعالیٰ فرماتا
ہے فاذ کرونی اذکروکم تو مجھے یاد کر میں تجھے یاد کروں گا جب تیرے اندر
اللہ اللہ شروع ہو جائے گی زبان سے نہیں او دل سے اللہ اللہ شروع ہو جائے
گی اس دل کی پہنچ جو ہے ناں زبان کی پہنچ امریکہ ہے دل کی پہنچ عرش معلی
ہے اور تیری اللہ اللہ جو ہے ناں وہ عرش معلی میں گونجنا شروع ہو جائے گی
تو نہیں جائے گا تیری آوز جائے گی اللہ اللہ اس آوز کو اللہ خود سُنے گا
اب وہ کہتا ہے تو مجھے
یاد کر میں تجھے یاد کروں گا سارے اللہ اللہ کر رہے ہیں ناں وہ کیا سب کا
نام لے لے کے پکارے گا؟ آوازوں سے مانوس ہے لیکن اک آواز غمگین ہے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتا ہے اِس کو کیا ہو گیا فرشتے کہتے ہیں یا اللہ اس پہ یہ مصیبت آن پڑیاللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اِسکو غم زدہ دیکھنا نہیں چاہتا او اُس نے ہاتھ بھی نہیں اُٹھائےاور اُس کا کام ہو گیاتو یہ دُعا کرو یہاں بھی کام آئے آگے بھی کام آئے جس وقت تو مرے گا تو فرشتے آجائیں گے آکے پوچھیں گے بتا تیرا رب کون ہے سب سے پہلے پوچھیں گے بتا تیرا رب کون ہے تو کفن پیچھے ہٹانا اللہ لکھا ہوا دیکھ لیں گے او اُن کو جرات نہیں ہے تم کو دوسرا سوال پوچھیں یہ کام سیکھ لے ادھر بھی کام آئے تو اُدھر بھی کام آئے اور ساری عمر کیلئے دُعا بھی بن جائے جب تونے یہاں اللہ اللہ سیکھی ناں تیرا جسم ختم ہو گیا ناں لیکن اگر تیری روح نے اللہ اللہ سیکھی ناں تو روح تو ختم نہیں ہو گی ناں وہ تو قیامت تک ہی تیری اللہ اللہ ۔او قیامت تک تیرا مرتبہ کتنا بلند ہو جائے گا حدیث میں ہے جو یہاں اندھے ہیں وہاں بھی اندھے ہیں تونے یہاں اللہ اللہ نہیں سیکھی ناں تو وہاں تو وہ روح جائے گی ناں تو تو نہیں جائے گا ناں تو وہاں بھی اندھا ہے ناں۔
سوال: سرکار اک سوال ہے کہ مردوں کیلئے ذکر کا حکم ہے مومن ہیں عورتوں کیلئے بھی ایسا کوئی حکم ہے عورتیں جو مومن ہیں ذکر کریں؟ سرکار شاہ صاحب: عورتوں کیلئے بھی ہے ذکر کرنے والے عورتیں اور ذکر کرنے والے مرد اللہ تعالیٰ نے بھیجے ہیں تمام ۔۔۔۔۔۔دونوں کیلئے ہے الذاکرین والذاکرات اور یہ جو مخلوقیں ہیں ناں یہ تو سب کے اندر ہیں عورت ہو یا مرد ہو یہ جو مخلوقیں ،لطائف ہیں ناں یہ سب کے اندر ہیں اور یہ جو تمہارے لطائف انسان ہیں تمہارے اندر اک آیت میں ہے اُٹھتے،بیٹھتے،کروٹیں لیتے ہوئے بھی میرا ذکر کر تو اُدھر یہ بھی ہے کی شادیاں بھی کر کارو بار بھی کر ہر ویلے میرا ذکر بھی کر آدمی اُلجھن میں پڑ گیا بڑا سوچا لوگون نے کہنے لگے پھر ایسا ہو گا اُٹھنے لگے یہ آیت پڑھ بیٹھنے لگے یہ آیت پڑھ ،سونے لگے یہ آیت پڑھ، کاروبارکرنے کیلئے یہ آیت پڑھ یہی سمجھا ہو گا ناں نہیں اُس نے کہا تو کاروبار بھی کر میرا ذکر بھی کر اُس نے کہا تو اُس انسان کو ایک دفعہ جگا لے پھر تو کام کاج کرنا تیرے بچے اُس کے بچے تو نہیں ہیں ناں تو کام کاج کرنا وہ اللہ اللہ کرے گا ،تو سونا وہ اللہ اللہ کرے گا ،تو خریدو فروخت کرنا وہ اللہ اللہ کرے گا تجھے نیند آتی ہے اُسے تو نیند نہیں آتی ہے ناں
وہ انسان سب کے اندر
ہے جو بھی اُن کو جگا لے گا خواہ عورت یا مرد تو پھر وہ سارے انسان جب
جاگ جاتے ہیں
ناں تو ست(7) اک تے نو (9) اک ست کے باقاعدہ قرآن میں اور حدیث میں نام ہیں اُن کے روح، قلب، سری، خفی، اخفیٰ، انا، نفس یہ ست (7) لطائف ہیں نو (9) جُسے ہیں اُن کے بھی قرآن مجید میں نام ہیں قلبِ سلیم، قلبِ منیب، قلبِ شہید، نفس امارہ، لوامہ، ملائمہ، مطمئنہیہ اُن کے نام ہیں یہ سب مخلوقیں ہیں تمہارے اندر اک وقت میں غوث پاک رضی اللہ تعالٰی کی نو (9) آدمیوں نے دعوت پکائی اک وقت میں پکائی آدمی سوچتا ہے نو (9) جگہ پہ کیسے چلے گئے او جسم نہیں گیا جسم کے اندر کی جو چیزیں ہیں وہ گئیں ناں اگر ایک وقت میں نو (9) گھر میں کھانا کھایا اُٹھی بھی ہونگی، بیٹھی بھی ہونگی، باتیں بھی کری ہونگی، تو جس میں اُٹھنے بیٹھنے باتوں کی طاقت ہے تو نماز میں یہی کچھ ہے ناں وہ کہتے ہیں درویش کی نماز عرش معلی میں ہوتی ہے وہ جسم عرش معلی میں نہیں جاتا جسم کے اندر کی چیزیں عرش معلی میں جاتی ہیں تو ثواب کس کو ملتا ہے جن کی ہوں اک دفعہ لوگوں نے کہا مجدد صاحب کو میں نے آپ کو فلاں دن خانے کعبے میں دیکھا فرمانے لگے میں نہیں گیادوسرے نے کہا اُسی دن حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے روضے پہ دیکھا میں نہیں گیاتیسرے نے کہا اُسی دن غوث پاک رضی اللہ تعالٰی کے روضے پہ دیکھا فرمانے لگے میں نہیں گیاتو لوگوں نے پوچھا پھر کیا تھا؟ فرمانے لگے میرا اندر تھااور
جب حضور پاک صلیٰ
اللہ علیہ وسلم موسیٰ علیہ سلام کی قبر سے گزرے تو موسیٰ
علیہ سلام قبر میں نماز پڑ رہے
تھے ناں تو اوپر پہنچے تو وہاں بھی موجود تھے ناں تو کیا تھا یہی چیزیں
تھی ناں اب جو تم درباروں میں جاتے ہو کوئی فیض ہوتا ہے تب ہی جاتے ہو
ناں اب اس میں فیض کیا ہے فیض زندہ سے ہوتا ہے مردے سے فیض نہیں ہوتا
زندہ کے پاس جاﺅ اُسکی تعظیم کرو اب رہا سوال اُس نے اپنے ان انسانوں کو
زندہ کر لیا ناں اصل تو یہ ہیں ناں یہ تو نقل ہے یہ تو مٹی ہو جائے گا
اُس نے اپنے اصلی انسانوں کو زندہ کر لیا بھئی جو اوپر بیت المعمور میں
چلا جاتا ہے ،یہاں سے خانے کعبے میں چلا جاتا ہے اُس نے اپنی مخلوقوں کو
زندہ کر لیا وہ قبر میں چلا گیا اُس کی مخلوقیں قبر میں بیٹھ کے اللہ
اللہ کر رہی ہیں نمازیں بھی پڑھ رہی ہیں لوگوں کو فیض بھی پہنچا رہی ہیں
تو وہ مردہ کدھر ہے صرف تم دیکھ نہیں سکتے ناں ہیں تو زندہ کھاتا پیتا ہے
نماز پڑھتا ہے ذکر کرتا ہے یہ تو شرک نہیں ہے ناں۔ شرک ہے؟ ہاں شرک یہ ہے
جس نے یہ کام نہیں سیکھا اِن کو نہیں جگایا تو یہ چیزیں اُس کے اندر ہی
ختم ہو گی ناں جب مر گیا یا ہڈیاں رہ گئیں یا پتھر رہ گیا ناں اور تو کچھ
نہیں ہے ناں اُن ہڈیوں اور پتھروں کی تعظیم شرک ہے ناں ہڈیوں
اور پتھروں کی تعظیم شرک ہے زندہ کی تعظیم شرک نہیں ولی اللہ زندہ ہیں
ناں وہ تو شرک کوئی نہیں
ہے ناں تو جو کہتے ہیں ختم ہوگئے تو اُن کے تو اپنے ہی ختم ہوگئے ناں ختم
ہو گیا حقیقت ہے۔ اعلیٰ حضرت نے صلواة سلام میں لکھا او بیٹھ کے پڑھنے لگے ناں او پڑھ ہی رہے تھےکہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہو گئے ناں ۔ تو وہ کیسے کہیں حاضر ناظر نہیں ہیں؟
اب یہ
کہ وہ طریقہ اختیار کرو ناں جس سے پتہ لگے ناں کہ یہ حاضر ناظر ہیں یا
نہیں وہ طریقہ، کیونکہ تمہارا جسم تو نہیں جائے گا ناں تو جسم کے اندر کی
چیزیں جائیں گی ناں یہ
عمل سیکھو ناں اس کو علمِ لدنی بھی کہتے ہیں علمِ طریقت بھی کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھی مدرسے سے فارغ ہے وہ بھی مدرسے سے فارغ ہے پھر سو ۔۔۔۔۔۔۔عالم
ربانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو،چار ،پانچ دن میں اللہ اللہ شروع ہو گیا اُس کا
کرم ہو گیا
فاذکرونی
اذکروکم تم میرا ذکر کر میں تیرا ذکر کروں گا
ذکر اُسی کا کیا جاتا
ہے جس سے دوستی ہو جائے اگر
کوشش کے باوجود تیرے اندر اللہ اللہ نہیں جمتا تو تیرے پہ اللہ کا کوئی
کرم نہیں ہے اگر کرم ہوتا تو تم کو اپنے نام لیواﺅں میں لیتا پھر کار
بنگلہ دیتا تو پھر کرم ہی کرم ہے ،پھر کرم ہے ۔اپنے آپ کو آزمانے کا
راستہ کہ میں کیا ہوں میرا مرشد کیا ہے ،اور مجھ پہ رب کتنا مہربان ہے
یہی ایک کسوٹی ہے
یہ
جو تم کو طریقہ بتایا یہ زیادہ سے زیادہ سات دن میں پتہ چل جائے گا کہ
تم کیا ہو اگر تمہارے اندر اللہ اللہ شروع ہو گئی اللہ کا حکم ہو گیا
گارنٹی ہو گئی اگر اللہ اللہ نہیں ہوتا پھر کوئی گارنٹی نہیں ہے یہی ایک کسوٹی ہے اِس کیلئے جو ذکر لینا چاہیں اُن کو یہاں سے گزاریں۔
*****اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو
******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو***** اگر آپ بھی ذکر کی لینا چاہتے ہیں تو امام مہدی ریاض احمد گوھرشاہی کی شبیہ مبارک کوپورے چاند پر دیکھتے ہوئے
تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔
|
|
© 1998-2010 All Faith Spiritual
Movement Intl' |