|
SELECT YOUR LANGUAGE: ENGLISH or INDONESIAN |
||
![]() |
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے |
![]() |
|
اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر) |
||
|
مرکزی صفحہ تعارف حضرت عیسی کرشمہ قدرت الحجرالأسود تعلیمات دینِ الٰہی پروگرام تصانیف ویڈیو رابطہ |
||
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھرشاہی مدظلہ العالیکی کراچی میں طالبینِِِِِِِِِ حق کے ساتھ روحانی نشست 5-4-1996۔
اعوذبااللہ من الشیطن
الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ان چیروں کے اوپر روشنی ڈال
دیں نا کیونکہ جب یہ سمجھ میں نہیں آتی نا تو لوگ وایلا کرتے ہیں۔ جو
آتے ہیں وہ سمجھ جاتے ہیں، جو آتے نہیں ہیں وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ جب ہم کسی
عالم کے پاس جاتے ہیں کہ کوئی ہم
کو اللہ کا رستہ دکھاؤ تو وہ کہتا ہے کہ شریعت اپناؤ یہی کہتا ہے نا۔ تو
بات سہی ہے۔ سُنی عالم کے پاس جائیں گے تو وہ بھی کہے گا شریعت اپناؤ۔ دیوبندی
کے پاس جاتے ہیں وہ بھی کہتا ہے شریعت
اپناؤ۔ حتیٰ کہ مرزئی بھی کہتا
ہے شریعت اپناؤ۔ سارے فرقے والے کہتے ہیں شریعت اپناؤ۔ پھر ہم کہتے ہیں
اگر شریعت پوری کرنے سے جنت ملتی ہے اللہ ملتا ہے تو پھر یہ اتنے فرقے کون
سے ہیں؟ پھر کس
فرقے میں جا کے شریعت اپنائیں؟ جبکہ
ہر فرقے میں شریعت ہےتو پھر وہ کہتے ہیں کہ شریعت حقا ہو سچی شریعت ہو۔ اب
سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ وہ
سچی شریعت کون سی ہے۔ یہی کہتے
ہیں نا؟ اؤ سچی شریعت کون سی ہے؟ تمہاری بھی ڈاڑھی ہے، دیوبندی
کی بھی ڈاڑھی ہے، پرویزی کی
بھی ڈاڑھی ہے، وہ بھی نماز
پڑھتا ہے تم بھی نماز پڑھتے ہو، وہ
بھی شریعت میں ہے تم
بھی شریعت میں، اندر سے وہ
بھی خالی اندر
سے تو بھی خالی۔ سب گدوں پہ
سوار ہیں صرف ذبانوں کا فرق ہے۔ اب
وہ جو شریعت حقا ہے جس کو کہتے
ہیں شریعت حقا حقیقی شریعت وہ کونسی ہے؟ ایک
تو ہم نے سنا ہے کہ شریعت محمدی ہے جانتے ہو نا۔ کبھی یہ بھی سنا ہو گا کہ
شریعت احمدی بھی ہے ضرور کسی کتاب میں پڑھا ہوگا کہ شریعت احمدی بھی ہے۔ اب یہاں شریعت محمدی ہے اور وہ جو اوپر ہے نا جہاں روحیں رہتی ہیں ملکوت ہے وہاں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو احمد کے نام سے پکارتے ہیں۔ وہاں شریعت احمدی ہے۔ اب وہاں تو تم نہیں جا سکتے نا جو وہاں پہنچ گیا وہ شریعت احمدی میں چلا گیا۔ وہ شریعت حقیقی ہے نا۔تو وہاں کیسے جاؤ گے؟ تم
نہیں جا سکتے آسمانوں میں تم کیسے جاؤ گے؟ وہ جو تمہارے اندر روحیں ہیں وہ
جائیں گی نا۔ جب تم روحوں کو
طاقتور کرو گے تو وہ روحیں وہاں جائیں گی۔ یہاں
بھی حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نماز
پڑھاتے تھے، پڑھاتے ہیں اور
وہاں بھی نمازیں پڑھاتے ہیں۔ وہاں بھی شریعت ہے وہاں جب تمہاری روحیں با جماعت نماز پڑھیں گی تو وہ شریعت حقا ہے نا۔وہ صرف اُسی کو میسر آتی ہیں جس کو اللہ چاہتا ہے وہ سب کو میسر نہیں آتی ہے۔وہی شریعت ہے اگر میسر آجائے تو جنتی ہی جنتی ہے، اللہ ہی والا ہے۔ اب چونکہ اُس شریعت کا تعلق روحوں سے ہے یہ جسم نہیں جا سکتا، روحیں جاتی ہیں۔ اب روحوں کو طاقتور کرنا ہے نا۔ اس شریعت کے لیے جنگل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر تو نے نمار روزہ کرنا ہے تو گھر میں بیٹھ کر کر نا۔ جنگل میں کیوں جاتا ہے۔ اُس شریعت کے لیے ہمارے سارے بزرگ جنگلوں میں گئے نا۔ گئے نا سارے گئے نا! داتا صاحب بھی گئے، خواجہ صاحب گئے، غوث پاک گئے سارے جنگلوں میں اُس شریعت کے لیے گئے نا۔ اس شریعت میں اس جسم کو خوب کھلاتے ہیں نا۔ اُس شریعت میں اس جسم کو بھوکا رکھتے ہیں نا۔ وہ جو اندر کی چیزیں ہیں اُن کو طاقت پہنچاتے ہیں اور اُن کو طاقت نور کی پہنچاتے ہیں پھر جو وہ منور ہو جاتی ہیں۔اب وہ نور کیسے آتا ہے؟ یہاں
یہ جو شریعت یہ تسبیح سکھاتی
ہے ٹک ٹک کے ساتھ اللہ کر۔ تو بُلھے شاہ فرماتے ہیں ہم اس تسبیح سے ڈرتے ہیں اس تسبیح سے ڈرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم اس نماز سے بھی ڈرتے ہیں یہ تو نقلی نماز ہے یہ ہر کوئی پڑھ لیتا ہے۔جب یہ تسبیح ٹک ٹک کرتی ہے اس کے ساتھ اللہ اللہ ملائیں۔ وہ اللہ اللہ کے ٹکراؤ سے نور بنتا ہے لیکن اُنگلیوں میں نا اندر تو نہیں ہے نا۔ بعض لوگ بیٹھ کے ہلکا کرتے ہیں اللہ ھو اللہ ھو کرتے ہیں وہ بھی نور بنتا ہے وہ زبان سے باہر ہے نا اندر تو وہ بھی نہیں ہے نا، روحیں تمہاری تو اندر ہیں۔ جب تمہارے اندر! اندر بھی اللہ نے تسبیح لگائی ہے وہ ٹک ٹک ٹک کرتی ہے، جب اُس ٹک ٹک کے ساتھ اللہ ملاتے ہیں نا تو پھر جو اللہ اللہ کا رگڑا لگتا ہے نا، تو وہ جو نور بنتا ہے نا، سیدھا خون میں جاتا ہے کیونکہ اندر اللہ اللہ ہو رہی ہے، اندر رگڑا لگا رہا ہے جب اندر نور خون میں جاتا ہے خون سے ہوتا ہوا پھر سب نسوں میں چلا جاتا ہے پھر جو تمہاری روحیں ہے نا وہ نسوں کے اندر ہیں پھر وہ نور ان نسوں میں پہنچ جاتا ہے، جب نسوں میں پہنچتا ہے تو پھر وہ بیدار ہوتیں ہیں پھر وہ اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ پھر جب وہ اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتی ہیں پھر چوبیس گھنٹے اللہ اللہ، چوبیس گھنٹے اللہ اللہ، پھر اللہ اللہ کا نور اس دل میں جمع ہو جاتا ہے، جب اس دل میں جمع ہو جاتا ہے اب تم سوتے رہنا وہ روحیں اپنی اللہ اللہ کرتی رہیں گی اور دل بھی اللہ اللہ کرتا رہے گا۔ اب تمہیں اللہ نے اس شریعت والے کو نہیں کہا کہ ہر وقت میرا ذکر کر، تجھے نہیں کہا تو شریعت محمدی میں ہے، شریعت احمدی والے کو کہا ہے ہر وقت ذکر کر اُٹھتے بیھٹتے حتیٰ کہ کروٹیں لیتے بھی میرا ذکر کر۔ قران میں کچھ باتیں عام لوگوں کے لیے ہیں اور کچھ خاص کے لیے ہیں۔ وہ خاص کو کہا ہے ہر وقت میرا ذکر کر۔تو کام کاج کر اس جسم کو کہا ہے تو کام کاج کر کام کاج کرے گا، پھر سوئے گا، اس کے بچے بھی ہیں اور وہ جو اندر ہے ایک دفعہ تو اُس کو جگا لے، تجھے نیند آتی ہے نا اُس کو تو نیند نہیں آتی ہے نا۔ تیرے بچے ہیں نا اُس کے بچے تو نہیں ہیں نا۔ اک دفعہ تو اُس کو جگا لے پھر جب نور اندر جائے گا نا تو اُسکی غذا نور ہے نا۔ اب وہ تمہارے اندر روحیں چمٹی ہوئی ہیں باہر نہیں نکلتی ہیں۔ اک شیطانی باہر نکلتی ہے جو خواب میں باہر جاتی ہے، شیطانوں میں گھوم کے واپس آ جاتی ہے، وہ شیطانی روح ہے اُس کو نفس بولتے ہیں۔ اب وہ اللہ کے نور سے تمہارے اندر کی جو روحیں وہ بھی طاقتور ہوں گی، اتنی طاقتور ہو گئی جس طرح وہ نفس نکلتا ہے، نفس نکلتا ہے شیطانوں میں نکلتا ہے۔ جب یہ نوری ہو جاتی ہیں یہ سینے سے نکلتی ہیں تو نوریوں کے پاس جاتی ہیں سیدھی حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں۔ اُس وقت بلھے شاہ نے فرمایا لوکی پنج ویلے تے عاشق ہر ویلے لوکی مسیتی تے عاشق قدماںپھر حضو ر پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے
قدموں میں پھر اُس کو وہاں سے اجازت ہوتی ہے۔ اب
یہ شریعت احمدی میں اس کو بھیج دو۔ پھر وہاں
اوپر بھی شریعت ہے۔ پھر اوپر
جا کہ نماز پڑھتی ہیں حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ
وسلم نماز
پڑھاتے ہیں۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم وہ جو نماز پڑھاتے ہیں اُسکو نماز َعشق بولتے ہیں۔
وہ تو آدم
علیہ السلام سے پہلے کی وہ نماز چل رہی ہے۔ حضور پاک صلیٰ
اللہ علیہ وسلم فرماتے
ہیں میں اُس وقت بھی نبی تھا جب آدم علیہ السلام کو بنایا جا رہا تھا۔
آدم علیہ السلام سے پہلے وہ نماز چل رہی ہے اور اُس کا ثبوت ہے۔ جب حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم شب معراج میں گئے تو اُس نماز کا وقت ہو گیا آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے وہ نماز بیت المقدس میں پڑھائی۔ سب نبیوں کی روحوں کو وہ نماز بیت المقدس میں پڑھائی نا۔ حکم ہوا کہ چلو یہیں بیت المقدس میں ہی نماز پڑھا لو وہ نماز اوپر بیت المعمور میں ہوا کرتی تھی۔ اب رہا سوال کہ اُس نماز کے بعد حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم اوپر گئے نا تو وہ جو نماز ملی وہ کس کے لیے ملی؟ وہ اُمت کے لیے ملی کیونکہ وہ بعد میں اوپر گئے نا یہ نماز پڑھا کے گئے نا تو پھر وہ نماز کس کے لیے ملی؟ وہ اُمت کے لیے ملی وہ شریعت ِمحمدی کہلائی جو پہلی پڑھتے تھے وہ شریعت احمدی ہے۔ پھر یہ تمہاری روحیں جب اوپر جائیں گی وہاں بیت العمور میں اُن کی نماز ہوتی ہے۔ وہ سر ہی نہیں اٹھایں گی جب تک اللہ جواب ہی نا دے سبحان ربی الاعلی، سبحان ربی الاعلی پھر جواب آئے گا لبیک یا عبدی پھر وہ سر اٹھائیں گے نا۔ وہ نماز ہے جس میں اللہ جواب دے گا کہ میں نے تجھے قبول کر لیا۔ اب اُس کے لیے ضروری نہیں ہے کس فرقے کا ہے۔ اُس کے لیے ضروری بھی نہیں ہے کوئ ہندو ہے، سکھ ہے، عیسائی ہے، اُس کے لیے یہ بھی ضروری نہیں ہے بس اللہ کا بھیجا ہوا بندہ ہے جس کے اندر وہ روحیں باہر نکل کے چلی گئیں۔ ہر وقت اللہ اللہ کرنے سے اُن میں اللہ کا عشق پیدا ہو جائے گا تو وہ روحیں جب جائیں گی تو وہیں جا کے نمازیں پڑھیں گی نا خواہ کوئ بھی ہے۔ بھئی جس نے بھی اپنی روح کو جگایا لیا خواہ کسی بھی فرقے سے ہے نا وہ وہیں جا کے نماز پڑھے گا نا تو پھر نہیں کہے گا میں سنی، میں شییہ، میں وہابی، بس اُمتی ہوں تمہارا یا رسول اللہ۔ جب اُس میں عشق آ جائے گا ہر وقت اللہ اللہ کرنے سے کوئی بھی شخص اللہ کرتا ہے کوئی بھی شخص اُس کے دل میں اللہ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ جب اُس کے دل میں اللہ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے پھر اللہ اُس سے محبت کرتا ہے۔ ایک دن اُس کو دیکھتا ہے۔
جس دن اللہ نے اُس کو دیکھا
پھر محبت نہیں پھر عشق کا مقام ہے نا۔
نماز دوسری طرف ہے یہ عشق دوسری طرف ہے۔ نماز روز کم سٹھو یہ رستہ دوجو۔یہ جب کسی میں بھی عشق آ جائے اللہ اللہ کرنے سے اگر سکھ، ہندو میں بھی اللہ اللہ کرنے سے عشق آ جائے تو پھر علامہ اقبال نے فرمایا ہے”اگر ہو عشق تو کافری بھی ہے مسلمانی“ اگر تیرے اندر عشق آ گیا ہے تو کافر ہے پھر بھی مسلمان ہی ہے نا۔ اگر عشق نہ ہو تو پھر علامہ اقبال فرماتے ہیں پھر ”مسلمان بھی کافر تو زندیق ہے“ کیونکہ اُس کے اندر تو پھر کافر ہی ہے نا۔یہ دوسرا رستہ ہے جس کو لوگ سمجھ نہیں سکتے اور واویلا مچاتے ہیں۔ ہم کوئی نماز کے منکر نہیں ہیں۔ نماز کا منکر کافر ہے۔ ہم کہتے ہیں وہ نماز حاصل کرو نا اُس شریعت ِاحمدی میں جاؤ نا۔ اور اُس کے لیے ثبوت ہے۔ یہ کہتے ہیں سب کچھ اسی شریعت میں ہے یہی کہتے ہیں نا؟ ہم کہتے ہیں کہ اگر سب کچھ اسی میں ہے تو پھر ہمارے بزرگ جنگلوں میں کیوں گئے تھے؟ پھر وہ اُس کے لیے گئے نا، ہم کہتے ہیں تم بھی تو نکلو نا۔ چلو جنگلوں میں نہیں گھروں میں ہی کچھ نہ کچھ تو کرو نا۔ جب تمہارے اندر وہ روحیں موجود ہیں جو وہاں جا کے نمازیں پڑھ سکتیں ہیں تو اُن روحوں کو تیار کرو نا۔یہ نماز تم دس
بیس چالیں پچاس سو سال پڑھ لو گے۔ مر گئے تو ختم ہو گئی نا تمہاری کاپی بند
ہوگئی نا۔ وہ نماز تم کو نصیب
آگئی تو پھر وہ روحیں تو مرتی ہی نہیں ہیں، وہ تو قیامت
تک ہی وہ نمازیں پڑھتی رہیں گی نا۔ قیامت تک تمہارا درجہ کیا ہوگا اور اُس
کے لیے حدیث شریف میں ہے کہ
کسی مومن کا کسی
مقام پے رُک جانا حرام ہے۔
اگر تو اس شریعت میں ہے تو اُس شریعت میں جا۔ نا۔ جب اُس شریعت میں جائے گا اُس میں اللہ ملتا
ہے۔ اس میں جنت ملتی ہے، اُس شریعت
میں جب جائے گا تو
رستے میں کسی جگہ بھی مارا گیا تو تیرا نام شہیدوں میں ہے نا۔ توجو
لوگ اللہ کے رستے میں مارے جائیں اُن کو مردہ مت کہو وہ شہیدوں
میں چلا جاتا ہے نا۔
وہ شہید ہے وہ ہر کسی کو میسر نہیں ہے۔ وہ جو بات ہے نا ہر کسی کو مسیر نہیں ہے نا لیکن کیا خبر کس کے نصیبے میں ہے اپنی قسمت آزما کے دیکھے نا۔اُس کا طریقہ ہے۔ وہ جس کو
اللہ چاہتا ہے اُسی کو میسر ہوگی۔ ہم جس کو چاہیں وہ نہیں جس کو اللہ چاہے
گا۔ ہم وہ طریقہ
بتا سکتے ہیں کہ اس طریقے سے پتہ چل جائے گا۔ ایک دفعہ غوث پاک جنگل میں
گئے دل نہیں لگا واپس جانے لگے ایک گٹھڑی تھی وہ گر گئی۔ آگے پیچھے دیکھا
کوئی بھی نہیں۔ گٹھڑی اٹھائی
پھر چل پڑے۔ آگے جا کے خود گر گئے۔ آگے
پیچھے دیکھا کوئی بھی نہیں، پریشان
ہوئے کس نے گرا دیا؟ آواز
آئی گھبراو نہیں واپس بغداد
شہر میں چلے جاؤ۔ آپ فرماتے
میرا بغداد شہر میں کیا کام؟ کہ میرے کچھ بندے ہیں جو تمہارے ذریعے مجھ تک
پہنچیں گے۔ یہ اللہ کے ہی بندے
ہوں گے جن کو اللہ نے پہلے ہی سلیکٹ کیا ہو گا اُن طریقہ بتائیں گے وہ اُس
طریقے سے چل پڑیں گے۔ اور وہ طریقہ کیا ہے۔ اس کو روزانہ کوئی بھی
مذہب سے ہے کوئی بھی فرقے سے
ہے اس سے مطلب نہیں ہے۔ مقصد
ہے اللہ کو پانا۔ جب اللہ
مل گیا تو جدھر
اللہ اُدھر وہ ہو جائے گا نا۔ اب اُس کا جو پانے رستہ ہے وہ دل ہے۔ یہ ٹیلی فون ہے تمہارے اندر لگا دیا ہے اُس نے۔یہاں ٹیلی فون پڑا ہے بجلی ہو گی تو کام کرے گا ورنہ بے کار ہے۔ اس دُنیا میں نظام بجلی کا ہے اُس دُنیا میں نظام نور کا ہے۔ تمہارے اندر ٹیلی فون ہے اس میں پاور نہیں ہے تو بے کار ہے۔ جب اس میں نور آ ئے گا! اس ٹیلی فون یہاں سے اٹھے گا تو امریکہ بات ہو گی تو یہ ٹیلی فون یہاں سے چلے گا اُس کو اوپر پہنچائے گا نا اللہ تک۔ اب تو تمہاری نماز اوپر جاتی ہی کوئی نہیں ہے نا۔ یہیں ٹکریں ہیں نا۔ پھر تلاوت کرؤ گے تو تمہاری نماز یہ ٹیلی فون اوپر پہنچائے گا نا۔ وہ نماز مومن کی معراج ہے نا۔ حتیٰ کہ تم بات کرؤ گے تو وہ اوپر جائے گی نا۔ تو ٹیلی فون جو لگ گیا۔اب اُس ٹیلی فون کے لیے روزانہ چھیاسٹھ مرتبہ سفید کاغذ پر کالی پینسل سے اللہ لکھو۔ تھوڑے دن لکھو گے ایک وقت آئے گا جو کاغذ پہ لکھتے تھے وہ آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائیگا۔ آنکھوں میں آجائے لکھنا بند کر دو۔ آنکھوں سے توجہ سے دل کے اوپر اتارؤ۔ تو پھر وہی جو کاغذ پہ لکھتے تھے وہ دل پہ لکھا نظر آئے گا۔ پولیس کی مہر لگی پولیس والا۔ بھلے کچی پینسل سے لکھ دو، اللہ لکھا گیا اللہ والا ہے۔ اُس وقت تمہارے دل کی دھڑکن تیز ہو جائے گی ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک اُس ٹِک ٹِک کے ساتھ اللہ ھو ملاؤ، ایک کے ساتھ اللہ ایک کے ساتھ ھو۔ گھڑی گھڑی ایسا کرؤ گے تو دل کی دھڑکنیں اللہ ھو میں تبدیل ہوجائیں گی۔ رات کو سونے لگو تو اُنگلی کو قلم خیال کرؤ۔ تصّور سے دل کے اوپر اللہ لکھتے سو جاؤ اسی میں ننید آجائے۔ صبح وضو ہے یا نہیں دل کا وضو پانی سے نہیں ہوتا۔ آفس جا رہے ہیں، ڈیوٹی جا رہے ہیں، ذکرِ خفی کرتے رہیں۔ جب تمہارے دل کی دھڑکنیں اللہ اللہ کرنا شروع کر دیں۔ یہ تمہارا طریقت میں پہلا قدم ہے نا، آج تمہاری گاڑی اللہ کی طرف چل پڑی۔ اب کچھ لوگ ہوں گے جن کے دل کی دھڑکنیں ہاتھ رکھیں گے، دھڑکنیں محسوس ہوں گی۔ کچھ لوگ ہوں گے جن کے دل کی دھڑکنیں محسوس ہی نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگ ہوں گے وہ پھر کیا کریں؟۔ جبکہ دل کی دھڑکن کے ساتھ اللہ اللہ ملانا ہے۔ اُن کے لیے کچھ بزرگوں نے طریقے اختیار کیے ہیں۔ لال شہباز قلندر نچاتے تھے نچو۔ وہ دھمال آج بھی موجود ہے سیون میں جاؤ نچتے ہیں نا۔ لیکن اب کرتے ہیں دم دم مست قلندر اُس وقت کرتے تھے اللہ ھو اللہ ھو۔ وہ نچتے دل دھڑکنیں اُبھرتی کہتے ہیں اب ناچ کو چھوڑؤ اب اس کے ساتھ اللہ اللہ ملاو۔ امیر کلال کبڈی کھلاتے ہیں۔ لوگ کبڈی کھیلتے دوڑتے دل کی دھڑکنیں اُبھرتی کہتے اب دھڑکنوں کے ساتھ اللہ اللہ ملاو بس کبڈی کو چھوڑؤ۔ ایک اور آسان طریقہ ہے یہ کچھ لوگ بیٹھ کے ضربیں لگاتے ہیں اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو۔ گھنٹہ آدھ گھنٹہ ضربیں لگائیں تو وہی کبڈی والی پوزیشن پیدا ہو جائے گی دل دھڑکنا شروع ہو جائے گا اُس دل کی دھڑکن کے ساتھ اللہ ھو ملاؤ۔ اب دیکھیں کہ دل کی دھڑکن کے ساتھ جب اللہ اللہ ملتا ہے تو گرمی آتی ہے۔ ضرور ہے جب اندر رگڑا لگے گا گرمی تو آئے گی ہی۔ جب گرمی لگے تو درؤد شریف پڑھیں وہ اُس کو ٹھنڈا کر دے گا۔ پھر اللہ ہو پڑھیں گرمی آئے پھر درؤد شریف پڑھیں اُس کو ٹھنڈا کر دے گا۔ یہ اس کا طریقہ ہے۔ اس کے لیے اجازت ہوتی ہے۔ اجازت ضروری ہے ۔اجازت کا مطلب ہے تم مجھے دیکھو میں تمہیں دیکھوں۔ باقی تم بھلے کسی! تمہارا کوئی پِیر ہے یا نہیں ہمیں اس سے مطلب نہیں۔ ہم نے تو تمہاری تم ہمیں! تم سے مطلب نہیں ہے ہمیں۔ تمہارا پیر ہے جب تم سے مطلب ہی نہیں ہے ہمیں تو پھر کیا؟ ہمیں تمہاری روح سے مطلب ہے نا، نہیں سمجھے؟ ہم نے اُس کو کھیچنا ہے اُس کو تیار کر کے اوپر پہنچانا ہے نا۔ جب وہ اوپر چلی ہی جائے گی تو تم سے مطلب تمہارے مرنے کے بعد ختم ہو جائے گا، اگر رکھا تو۔ أس سے مطلب تو قیامت تک رہے گا۔ ہمارا مطلب تمہاری اس روح سے ہے۔ اس کے لیے ذکر لیں اور اپنی قسمت آزمائیں۔اگر اللہ اللہ شروع ہو گیا تو سمجھ لینا اب اللہ نے مجھے
قبول کر لیا پھر جان بھی جاتی ہے جانے دے اس کو نہ چھوڑ۔ کیونکہ جان کو تو
ویسے بھی جانا ہے۔ اگر کوشش کرؤ بسا لو اگر نہیں ہوتا تو سمجھ لو کہ اللہ
قبول نہیں کر رہا۔ اگر قبول نہیں کر رہا ہے تو پھر کوئی اور طریقہ اختیار
کریں گے اُس کو ماننے کا۔
اللہ ھو*****اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو
تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔
|
|
© 1998-2010 All Faith Spiritual
Movement Intl' |