|
SELECT YOUR LANGUAGE: ENGLISH or INDONESIAN |
||
![]() |
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے |
![]() |
|
اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر) |
||
|
مرکزی صفحہ تعارف حضرت عیسی کرشمہ قدرت الحجرالأسود تعلیمات دینِ الٰہی پروگرام تصانیف ویڈیو رابطہ |
||
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھرشاہی مدظلہ العالیکی کراچی میں طالبینِِِِِِِِِ حق کے ساتھ روحانی نشست 6-4-1996۔
اعوذبااللہ من
الشیطن الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم تھوڑا سا ذکر کی تشریح کریں گے پہلے۔ اک ذکر ہے آدمی سانس سے کرتا ہے، تمکو بولیں ابھی کر لو گے۔ یہ عمل میں ہے جو آدمی خود کام کر سکتا ہے نا وہ عمل میں ہے۔ ایک ذکر ہے لوگ تسبیح سے کرتے ہیں آپ کو بولیں ابھی کر لیں گے۔ ایک ذکر زبان تالو پہ لگا کہ کرتے ہیں وہ بھی ابھی کر لیں گے یہ سارےعمل میں ہیں۔ ضربوں سے ذکر ابھی کر لیں گے اللہ ھو کی ضربیں بھی ابھی لگا لیں گے۔ چار ضربی بھی آٹھہ ضربی بھی۔ ایک ذکر ایسا ہے جس کو آپ نہیں کر سکتے، جب تک اللہ نہیں چاہے گا۔ اُس کو ذکر قلبی بولتے ہیں اور وہ اگر ذکر شروع ہو جائے، اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ تو جس کا ذکر اللہ کی مرضی سے شروع ہو جائے تو پھر وہ شک کرے تو پھر وہ کافر ہے۔نہیں سمجھے! وہ ذکر کون سا ہے جو اللہ کی رضا سے ہوتا ہے؟ جو تم نہیں کر سکتے اگر میں آپکو بولوں دل کی دھڑکنوں کے ساتھ اللہ اللہ ملا۔ آپ کبھی نہیں ملا سکیں گے۔ میں آپکو بولوں تو سوتا رہ تیرے اندر سے اللہ اللہ کی آواز آئے۔ تو کبھی بھی نہیں ہو گا نا۔ جب تک وہ نہیں چاہے گا۔ یہ گارنٹی ہے اگر ذکر قلب جاری ہو جائے تو یہ گارنٹی ہے کہ تو بہشتی ہو ہی گیا ہے۔اگر حج منظور ہو جائے تو گارنٹی ہے کہ تیرے پچھلے گناہ معاف ہو گئے، گارنٹی ہے نا۔ یہ تو کئی حجوں سے زیادہ رُتبہ رکھتا ہے۔ اگر ذکر قلب جاری ہو جائے تو پہلے اللہ تعالیٰ تیرے پچھلے گناہ معاف کرے گا، پاک صاف کرے گا اور پھر تیرا یہ قلب جاری ہوگا نا۔ پھر جو آئندہ گناہ ہوں گے۔ حج میں تو یہ ہے نا کہ پچھلے گناہ معاف کر دئیے لیکن جو آئندہ ہوں گے اُس کے لیے پھر اگلے سال جانا پڑے گا نا۔ حاجی گھڑی گھڑی کیوں جاتے ہیں؟ پھر اگلے سال ہوتے ہیں پھر چلے جاتے ہیں، پھر کرتے ہیں پھر چلے جاتے ہیں۔ لیکن جب قلب تیرے جاری ہوگیا پھر جو تجھ سے گناہ اگر ہوئے نا، اتفاقاً ہوئے یا جیسے بھی ہوئے نا تو وہ جو اللہ اللہ ہے نا وہ اُن کو مٹاتا رہے گا نا۔ کیونکہ اللہ اللہ جو ہو رہی ہے اندر۔ اللہ اللہ ان کا کفارہ کرتا رہے گا اور اُس وقت تک اللہ اللہ کفارہ کرے گا جب تک تو پاک صاف ہو جائے گا۔ پھر جب تو پاک صاف ہو جائے گا۔ تیرا دل صاف ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیھکتا ہے، داڑھیوں کو نہیں دیکھتا، داڑھیاں تو سب کی ہیں نا۔ وہ کہتا میں سجدوں کو بھی نہیں دیکھتا، سجدے تو سارے فرقے والے کرتے ہیں نا۔ وہ کہتا میں قلبوں کو دیکھتا ہوں۔ جب تیرا دل صاف ہو جائے گا نا۔ تو اللہ کی نظر تیرے دل پڑے گی نا۔ جب تیرے دل پہ اللہ کی نظر پڑھ گئی تو تو اللہ والا ہو گیا۔ اللہ کو جو پانے کا راز ہے نا وہ دل ہے۔جنت کو جو پانے کا راز ہے نا وہ زبان ہے، وہ اعمال ہیں۔ اچھے اعمال کرؤ جنت میں چلے جاؤ جنت میں جاؤ گے نا۔ اللہ کے پاس تو نہیں جاؤ گے نا۔ اور اللہ کو پانے کے لیے یہ دل ہے، جب تمہارے دل میں اللہ اللہ ہو گی۔ وہ پہلے تمہارا تعلق اعمال سے ہے ایمان سے نہیں ہے۔ جب تمہارے دل میں اللہ شروع ہو جائے گی، تمہارے دل میں نور آئے گا۔ پھر تم ایماندار بنوگے نا، پھر تمہارا تعلق مومنوں سے ہوگا نا۔ مومن بننے کے بعد پھر اللہ تعالیٰ تمہیں کو دیکھا کرے گا، تمہاری آواز اللہ تک پہچنا کرے گی۔ تو پھر تمہارے دل میں اللہ کی محبت ہو گئی پھر اللہ تم سے محبت کرے گا۔ یہ تو لازمی ہے۔ اُس کے لیے ایک روپیہ خرچ کرو، وہ دس روپے دیتا ہے ۔ایک نیکی کرؤ دس نیکیوں کا ثواب دیتا ہے تھوڑی سی محبت کرؤ دس گنا زیادہ محبت کرتا ہے۔ جس سے محبت کرے گا اس کو بڑے پیار سے دیکھے گا۔
جس دن اللہ نے تمہیں پیار سے دیکھ لیا پھر وہ محبت نہیں پھر وہ عشق
کا مقام ہے۔ پھر علامہ اقبال فرماتے ہیں اگر ہو عشق تو کافری بھی ہے مسلمانی۔اگر تجھے اللہ کا عشق ہو جائے تو اگر تو کافر بھی ہے تو بھی مسلمان ہی ہے نا۔ یہ دو علم ہیں ایک علم ظاہر ہے جس کا تعلق اس جسم سے ہے اک علم باطن ہے جس کا تعلق تمہارے اندر سے ہے۔ یہ علم ظاہر ہر کوئی حاصل کر سکتا ہے اس قید کی نہیں ہے لیکن ہر کوئی حاصل کرنے کے بعد بہتر فرقوں میں تقسیم بھی ہو سکتا ہے، گستاخ بھی ہو سکتا ہے۔ وہ جوعلم ہے جو اندر کا علم ہے اُس کی جتنی بھی انتہا ہو گی وہ گستاخ نہیں ہوگا وہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا عاشق ہو گا۔ تو یہ جسم حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی شان کو نہیں دیکھ سکتا، پہنچ ہی نہیں سکتا وہاں۔ کیا شان کو دیکھے گا۔ اور وہ اندر کی چیزیں اگر منور ہوگئیں تو سیدھے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ہونگی نا۔ پھر اُن کا پتہ چلے گا کہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کیا ہیں بشر ہیں یا نور ہیں۔ اب اس علم سے تم گمراہ بھی ہو سکتے ہو۔۷۲ فرقوں میں تبدیل بھی ہو گئے ہو ظاہری علم سے لیکن اگر تمہارے اندر وہ تمہاری روحیں اگر وہ علم حاصل کر لیں تو تم کبھی بھی نہیں گمراہ ہو سکتے۔تم کبھی بھی نہیں کہہ سکتے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم ختم ہو گئے ہیں فوت ہو گئے ہیں کیونکہ تم تو اُنکو قدموں میں بیٹھو گے جا کے۔ پھر کیسے کہو گے وہ فوت ہو گئے ہیں۔ اب لوگ کہتے ہیں، کوئی کہتا ہے چلے گئے، کوئی کہتا ہے ہیں۔ نا اس نے دیکھا نا اُس نے دیکھا، دونوں برابر ہی ہیں نا۔ اس علم کا یہ ہے کہ اس کی جو ابتداٴ ہے اس میں شک نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت ساری دوائیاں بھیجی ہیں بوٹیاں بھیجی ہیں یہ ٹیکے اُن بوٹیوں سے نکلے ہیں نا۔ اگر آپ کو ٹیکا مل جائے تو بوٹیاں ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے۔ اسی طرح پورا قرآن مجید جو ہے اُس کا جو عرق ہے نا وہ کلمہ شریف ہے۔ تو کلمہ شریف کا جو عرق ہے نا وہ اسم ذات ہے۔ پورا قرآن مجید اللہ میں بند ہے اور یقین کرؤ کہ قرآن کی تلاوت کرنے والا۔ یہ علما قرآن کی تلاوت کرتے ہیں نا۔ دن رات کرتے ہیں حافظ بھی ہو جاتے ہیں نا لیکن وہ جو اللہ اللہ کرنے والا وہ اُس سے بڑھ جاتا ہے نا۔ وہ تلاوت کرنے والا ولی نہیں بن سکتا وہ اللہ اللہ کرنے والا ولی بن جاتا ہے اُسکی وجہ کیا ہے؟ کہ پورے قرآن کا عرق اسم ذات میں ہے نا۔قرآن مجید وہ ہدایت ہے، کتاب
سے ہدایت ہے۔ اسم ذات نور سے ہدایت ہے۔ وہ لوگوں کو قرآن سے ہدایت ہوتی
ہے نا وہ ڈرتے ہیں نا قرآن اُن کو ڈراتا ہے نا۔ ڈرتے ہیں نا۔ تو یہ اسم
اللہ یہ ڈراتا نہیں ہے یہ اللہ کی طرف لے جاتا ہے نا۔ جب اللہ کی طرف
لے جاتا ہے اللہ کی محبت ہو جاتی ہے تو جو کام اللہ کو پسند نہیں ہے وہ
کرتا ہی نہیں ہے۔ اُس نے ڈریا نا، اس
نے اللہ کی محبت کی وجہ سے وہ کام چھوڑ دئے نا۔ اُس کے لیے بزرگوں نے فرمایا ہے جو دم غافل سو دم کافرتو تلاوت کر رہا تھا نماز پڑھ رہا تھا مسلمان نظر آتا تھا نا۔ اب تو فارغ بیھٹا ہے اب تو تجھھ میں تو کافروں میں کیا فرق ہے وہ بھی بُت تو بھی بُت۔ فرق یہ ہونا چاہیے کہ وہ بت ہے اور تیرے اندر اللہ اللہ ہو رہی ہے۔ اس کے لیے پھر قرآن مجید نے فرمایا اُٹھتے بیٹھتے حتیٰ کروٹیں لیتے میرا ذکر کر۔یہاں تک فرمایا خریدوفروخت میں بھی اس سے غافل نہ رہ۔جب تیرے انرر چوبیس گھنٹے اللہ اللہ شروع ہو جائے گی۔ یہ جو دُنیا ہے یہ ہماری دُنیا نہیں تھی۔ آدم علیہ السلام کو اوپر جگہ ملی تھی ملکوت میں۔ یہاں جن رہتے تھے، شیطان رہتے تھے، ابلیس کی قوم رہتی تھی یہاں۔ اب جب آدمی یہاں آیا، اس دُنیا میں جو ہوا تھی اُس میں نار، اس مٹی میں بھی نار۔ اُن جنوں کے مزاج کے مطابق۔ اب آپ نار میں آ گئے ہیں۔ اب آپ کوئی گناہ نہیں کریں دن رات سوتے رہیں، وہ نار تو آپ کے اندر جائے گی نا۔ بھئ جو اس کی تاثیر ہے وہ تو تمہارے اندر جائے گی نا۔ جب وہ تمہارے اندر جائے گی تو تمہاری روحیں جو ہیں نا وہ بھی ناری ہو جائیں گی نا۔ وہ بھی شیطان ہو جائیں گی بغیرگناہ کے ہی شیطان ہو جائیں گی۔ اُسکو اللہ نے فرمایا ہر وقت ذکر کر جب تیرے اندر اللہ اللہ شروع ہو جائے گا نا۔ پھر نار اندر آئے گی وہ اللہ اللہ اُس کو کاٹ دے گا۔ پھر اندر آئے گی اللہ اللہ اُس کو کاٹ دے گا۔ تو تیری روح ناری نہیں ہوگی بلکہ نوری ہوجائے گی۔ جب تیری روح نوری ہو گئی اس میں نور کی طاقت ہو گئی، تو پھر تیری نماز حضورپا کﷺ کے پیچھے ہوا کرے گی نا۔ وہ بھی نمازیں پڑھتے ہیں نا۔ وہ تیری نمازیں حضور پاکﷺ کے پیچھے ہوا کریں گی۔ یہ نماز تیری مرنے کے بعد ختم ہو جائے گی اور وہ مرنے کے بعد بھی برقرار رہے گی۔شب معراج میں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم موسیٰ علیہ السلام کی قبر پہ سے گذرے دیکھا موسیٰ علیہ السلام قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ اوپر پہنچے آسمان میں دیکھا وہاں بھی موجود ہیں۔ اگر کوئی شخص ان نوری چیزوں کو نور کر لے تو اُن کا تعلق اُن نوریوں سے ہو جاتا ہے۔ اگر ان کو نوری نہ بنائے تو پھر ناری ہو جاتی ہیں ان کا تعلق پھر شیطانوں سے ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے یہ ہے کہ یہ اسم اللہ ایسی چیز ہے قرآن، نماز سے آپ اُس وقت مُستفید ہو سکتے ہیں جب تم پاک ہو جاؤ تو۔ قرآن فرماتا ہے "ھدی اللمتقین" میں ہدایت کرتا ہوں پاکوں کو۔پہلے پاک ہو جاؤ پھر تجھے اُس سے ہدایت ہو گی نا۔ اگر پاک نہیں ہے اندر سے تو پھر تجھے ہداہت کیا ہو گی پھر تو تو فرقے بنا دے گا نا۔ قرآن پڑھنے والوں نے بہتر فرقے بنا دیے نا۔ بلکہ ایک دوسرے کو کافر تک کہہ دیا نا۔ یہودی تک کہہ دیا نا۔ اس قرآن سے ہدایت پانے کے لیے تو سب سے پہلے پاک ہو جا اپنے نفس کو پاک کر۔ جب اللہ اللہ تیرے اندر جائے گا تو تیری بیماری گناہوں کی بیماری باہر آئے گی۔ پھر تیری روحیں بھی منور ہو جائیں گی اور تیرا نفس بھی پاک ہو جائے گا۔ پھر تیرے اندر دل میں نور اکھٹا ہو جائے گا۔ وہ میگنٹ ﴿مقناطیس﴾ ہے پھر دل نور میں، پھر تو تلاوت کرے گا اُس کا نور دل میں، نماز پڑھے گا اُس کا نور دل میں۔ اُس وقت تجھے قرآن ہدایت دئے گا نا۔ مجدد صاحب نے فرمایا مقتدی کو چاہیے کہ پہلے ذکر اللہ کرے، منتہی کو چاہیے پھر قرآن پڑھے، قرآن اُن لوگوں کے پڑھنے کے قابل نہیں جن کے اندر کُتے ہیں۔جب نفس پاک ہو جاتا ہے پھر ایک لمحہ فکریہ سو سال کی عبادت سے بہتر ہے۔پھر وہ قرآن اندر أترتا ہے نا۔ اب تو اندر نہیں جاتا ہے نا۔ اِس کے لیے اِس وقت اندازہ لگایا ہے کہ پانچ پرسنٹ مسلمانوں میں لوگ ہیں جو نماز پڑھتے ہیں۔ اندازہ لگایا ہے محلے میں دیکھ لو، خود کو دیکھ لو۔ کوئی پانچ پرسنٹ ہیں جو نماز پرھتے ہیں، باقی پچانوے پرسنٹ نماز کوئی نہیں پڑھتے ہیں نا۔ نہیں پڑھتے ہیں نا! کوئی کہتا ہے مجھے فرصت نہیں ہے۔ کوئی کہتا ہے میرا دل نہیں چاہتا ہے۔ یہی بات ہے نا۔ اب پھر وہ بلکل حیوانوں کی مانند ہوئے نا۔ اب کوئی ایک چیز تو ان پاس ہونی چاہیے نا اللہ کو یاد کرنے کے لیے۔ اللہ کو یاد کرنے کے لیے یا نماز ہے یا أس کا ذکر ہے۔ نہ أس کا ذکر ہے نہ أس کی نماز ہے پھر وہ حیوان ہے نا۔ اب یہ جو ذکر ہے ذکرِ قلبی باقی ذکر چھوٹ جاتے ہیں یہ ذکرِ قلبی نہیں چھوٹتا ہے۔ ایک دفعہ یہ دل کی ڈھڑکن کے ساتھ مل جائے تو۔ اِک دفعہ یہ روحیں اِس کو قبول کر لیں تو۔ پھر روحیں تھکتی نہیں ہیں، زبان تھک جاتی ہے وہ دل نہیں تھکتا ہے وہ کہتا ہے اور مزید اور زیادہ اور زیادہ ایک دفعہ اِس دل کی ڈھڑکن کے ساتھ ملا لے، اندر کی مخلوق کو جگا لے۔ اتنی محنت کرے بس أس کے بعد سوتا رہے اللہ اللہ ہوتی رہے گی۔ کام کاج کرتا رہے اللہ اللہ ہوتی رہے گی۔ اگر پھر نماز پڑھی تو وہ سونے پہ سہاگا ہے نا۔ اگر نہ پڑھی تو أس پہلی حالت سے تو بہتر ہے نا۔ بھئی پہلی حالت سے تو بہتر ہے نا۔ جب اللہ اللہ کرتا رہے گا اللہ رسول کی محبت أس میں آجائے گی نا۔پھر ایک واقعہ! حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے
زمانے میں ایک شرابی کو لے آئے کہ اِس نے شراب پیا۔ آپ نے کہا کہ اِس
کو کوڑے مارو اور أس سے مزاق بھی
کیا۔ دوبارہ پھر لے آئے أس کو، اِس
نے دوبارہ شراب پی۔ آپ
صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے
پہلے سے زیادہ أس سے محبت کری۔ تو کہا اِس کو کوڑے مارؤ۔ انھوں نے کہا
کہ یہ لعنتی ہے بار بار آ جاتا ہے۔ حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا اِس کو لعنتی نہ کہو یہ اللہ اور أس کے حبیب سے محبت کرتا ہے۔
جو بھی اللہ اور أس کے حبیب سے محبت کرے وہ دوزخی نہیں ہو سکتا یہی بات
ہے نا۔ جب تیرے اندر اللہ
اللہ شروع ہو گئی تو اللہ سے محبت ہو گئی۔ تو پھر تو دوزخی تو نہیں ہو
سکتا ہے۔ جنتی تو ہے نا۔ در جوانی توبہ کردن شیوہِ پیغمبریجن لوگوں نے جوانی میں توبہ کری وہی شیوہ پیغمبری ہے نااب ہر آدمی مجبور ہے کہ میں یہ گناہ چھوڑ نہیں سکتا۔ چاہتا ہے کہ میں نشہ چھوڑ دؤں، نہیں چھوڑ سکتا۔ کئی ایسے گناہ میں ملوث ہیں أس گناہ کو نہیں چھوڑ سکتے۔ وہ چاہتے ہیں چھوڑؤں لیکن وہ اتنی عادت ہو گئی ہے چھٹتے ہی نہیں ہیں۔ پھر وہ کیا کرے؟ ہر گناہ کی بیماری کا کوئی نہ کوئی علاج ہوتا ہے۔ یہ تمھارے اندر جو گناہ ہیں اِن کا علاج اللہ اللہ ہے۔ اب تم جو بھی تمھارا فعل ہے ہمیں اِس سے مطلب نہیں۔ ہمیں مطلب ہے تو اللہ اللہ کر۔ جب اللہ اللہ تیرے اندر جائے گا۔ اؤ تیرا فعل باہر نکلنا شروع ہو جائے گا۔ وہ خود بخود ہی نکلنا شروع ہو جائے گا نا۔ اور ایک دن آئے گا ۔جب اللہ اللہ مکمل ہو جائے گا تو تیرے سب گناہ ختم ہو گئے، باہر ہو گئے۔ پھر جو تجھے عادت تھی نا وہ خود بخود ہی ہی ختم ہو جائے گی۔ پھر تو شراب پیتا ہے نا تو پھر تجھے ألٹی آئے گی نا۔ پھر جو بھی گناہ کرتا ہے تجھے خود ہی أس سے نفرت ہو گی نا۔ أس وقت تو تدبیر سوچے گا گناہوں سے بچنے کے لیے۔
أس کو پھر نفس لوامہ بولتے ہیں نا۔ تو اِس کا طریقہ یہ ہے کہ روزانہ چھیاسٹھ مرتبہ جس طرح یہ لکھا ہوا ہے۔ کاغذ پہ اللہ لکھو تھوڑے دن لکھو گے جو کاغذ پہ لکھتے تھے وہ آنکھوں میں آجائیگا۔ آنکھوں سےتوجہ سے دل کے اوپر اتارؤ۔ وہ آنکھوں سے دل میں چلا جائے گا۔ اُس وقت دل کی دھڑکن تیز ہو جائے گی ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک اُس کے ساتھ اللہ اللہ ملاؤ۔ رات کو سونے لگو اُنگلی کو قلم خیال کرؤ۔ دل کے أو پر تصّور سے اللہ لکھتے لکھتے سو جاؤ اسی میں ننید آجائے۔ صبح أٹھو وضو ہے یا نہیں پرواہ نہیں دل کا وضو پانی سے نہیں ہوتا ہے۔ جب تک تمھاری دل کی دھڑکنیں کے ساتھ اللہ اللہ نہیں ملتا۔ وہ ذکر ہے وہ کوئی منزل نہیں ہے۔ جب دل کی دھڑکن کے ساتھ اللہ اللہ ملتی ہے اب تمھارا طریقت میں پہلا قدم ہے نا۔ آج تمہاری گاڑی اللہ کی طرف چل پڑی۔ اب پھر یہ نماز روزہ أس کے پٹرول ہیں۔ اب گاڑی چل رہی ہے پٹرول ڈالتا رہ چلتی رہے گی۔ خوب ایکسیلیٹر دبا پھر أس کا۔ تو پھر وہ گاڑی اللہ اللہ کرتے کرتے پھر اللہ تک پہنچ جاتی ہے۔ أس کو حقیقت کہتے ہیں نا۔ طریقت کا تعلق اِس دل سے ہے اور حقیقت کا تعلق اِن نظروں سے ہے نا۔ وہ أس کے پاس پہنچ جاتا ہے نا۔ یہ تمھارے اندر خزانے ہیں سیّارے ہیں جو اللہ تک پہنچ سکتے ہیں، أن کو پہنچاؤ تو۔ وہ تمھارے محتاج ہیں انتظار کر رہے ہیں ۔ کہ ہم میں نور بھرے تاکہ ہم اوپر جائیں۔اِس وقت سُنی شیعہ وہابی سب لڑ رہے ہیں نا۔ ایک دوسرے کو کافر کہہ رہیں ہیں۔ سچا کون ہے؟ وہ کہتا ہے شیعہ کہتا ہے میں صحیح ہوں۔ سُنی کہتا ہے میں صحیح ہوں، دیوبندی کہتا ہے میں صحیح ہوں۔ سارے صحیح ہی کہتے ہیں۔ صحیح کون ہے؟ اللہ کی نظروں میں تو کوئی بھی صحیح نہیں ہے۔ اللہ کی نظروں میں وہ صحیح ہے جس میں نور ہے۔جس میں نور ہے جس میں اللہ کی محبت ہے وہ صحیح ہے۔خواہ وہ کوئی بھی ہو جس میں بھی آجائے۔ وہ صحیح۔ اِس کے لیے اب جو ذکر لینا چاہتے ہیں ذکر لیں اور اپنی قسمت آزمائیں۔ آنکھیں بند کریں پڑھیں اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو چلیں جی بس
اللہ ھو*****اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو
تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔
|
|
|
© 1998-2010 All Faith Spiritual
Movement Intl' |