|
SELECT YOUR LANGUAGE: ENGLISH or INDONESIAN |
||
![]() |
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے |
![]() |
|
اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر) |
||
|
مرکزی صفحہ تعارف حضرت عیسی کرشمہ قدرت الحجرالأسود تعلیمات دینِ الٰہی پروگرام تصانیف ویڈیو رابطہ |
||
اسمِ اعظم کانفرنساپریل 1996 موچی دروازہ لاہور
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
عزیز
ساتھیو! اسلام علیکم آپ کے اس شہر میں اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ آنا ہوا آنے کا مقصد کوئی سیاست نہیں ہے کسی فرقے کی دل آزاری نہیں ہے کوئی حکومت پر نکتہ چینی نہیں ہے ہر شہر میں، ہر محلے میں، ہر گھر میں کچھ دل والے ہوتے ہیں اُنکو نکالنا مقصد ہے اور دل کی آواز اُن کے دلوں میں پہنچانا مقصود۔
حضرت علی
رضی اللہ تعالٰی فرماتے ہیں
کہ تیرے اندر اک جہان بند ہے تجھے اس کی خبر نہیں اور
واقعی اگر تمہیں پتہ چل جائے کہ تمہارے اندر کیا ہے تو تم سب دُنیا داری
چھوڑ کے جنگلوں میں اللہ اللہ کیلئے چلے جاﺅ اب
انسان ابتداء کیا ہے اور انتہا کیا ہے ایک دن اللہ تعالیٰ کو خیال آیا میں دیکھوں تو سہی کہ میری صورت کیسی ہے خیال آنا ہی تھا کہ سامنے عکس پڑا
وہ عکس روح بن گئی اللہ اُس
پہ عاشق اور وہ اللہ پہ عاشق۔ خود عشق، خود عاشق، خود معشوق
پھر
اُس روح کی تعظیم کیلئے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان بنائے حورو ملائک
سجائے حدیث
شریف میں ہے کہ اے حبیب
صلیٰ اللہ علیہ وسلم، اے حبیب صلیٰ
اللہ علیہ وسلم اگر آپکو پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو
میں یہ زمین و آسمان ہی نہ بناتا پھر
آپ کو دنیا میں ظاہر کرنے کیلئے آدم
علیہ سلام کو بنایا گیا پاک مٹی سے بنایا اُس
میں روح ڈالی پھر اُس روح کی امداد کیلئے کچھ اور مخلوقیں ڈالیں جن کو
لطائف کہتے ہیں حدیث شریف میں باقاعدہ اُن کے نام ہیں قلب، روح، سری، خفی،
اخفیٰ، انا، نفس۔ اُس میں ایک صفلی مخلوق بھی آگئی
جس کیلئے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اُس کے ساتھ ایک شیطان جن بھی
پیدا ہوتا ہے
اصحابہ نے پوچھا آپ کے
ساتھ بھی پیدا ہوا تھا آپ نے فرمایا پیدا ضرور ہوا تھا لیکن وہ میری صحبت
سے مسلمان ہو گیا
اُس کیلئے بلھے شاہ نے
فرمایا اس نفس پلیت نے پلیت کیتا
اساں منڈھوں پلیت نہ سی۔
اب جو
لوگ حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے اُن کے نفس پاک ہو گئے اور جو آپ سے دور
رہے وہ آپ کے زمانے میں ہی کوئی منافق ہوا، اور کوئی خوارج ہوا آپ کے
زمانے کے بعد جن لوگوں نے اِسی طریقے سے نفسوں کو پاک کیا وہی داتا صاحب بنے، وہی خواجہ صاحب بنے اب یہ دین اور فرقے کیسے بنے
آدم
علیہ سلام کو جو کلمہ ملا وہ لا الہ اللہ ھو آدم صفی اللہ آپ کی اولاد یہ کلمہ
پڑھتی قابیل کے قتل کے بعد آپ کی اولاد دو ٹولوں میں تقسیم ہو گئی مذہب
سے باغی ہو گئے انہوں نے براو راست ،اک ٹولے نے براہ راست اللہ سے رابطہ
کرنے کی کوشش کری اور بجائے صفی اللہ کے ایشور اللہ کہنا شروع کر دیا وہ
نبوت سے کٹ گئے اور آج تک چھ ہزار (6000 ) سال ہو گئے آج تک وہ ایشور
اللہ ہی کا کلمہ پڑھ رہے ہیں لیکن وہ کافر ہی ہیں اور وہ جن لوگوں نے صفی
اللہ کا کلمہ پڑھا اُنہیں میں سے نبوت جاری رہی نبیوں کے بعد پھر اللہ
تعالیٰ نے ولی بھیجے جو لوگ ولیوں سے کٹ گئے وہ کافر تو نہ ہوئے لیکن اُن
کے نفس کافر ہی رہے ظاہر میں وہ عابد ،زاہد بن گئے ،پاک باز بن گئے لیکن
نفسوں کی وجہ سے حرص،تکبر کا شکار ہوگئے اور اُن سے 72 فرقے وجود میں آئے
اب اِس وقت 72 فرقے ہیں ہر فرقہ اپنے آپ کو صحیح کہتا ہے۔
اب جو نفسوں کی وجہ سے
فرقے بنے نفس تو شیطان ہے شیطان کی وجہ سے جو فرقے بنے وہ صحیح کیسے ہو
سکتے ہیں صحیح فرقہ نہیں ،کوئی بھی فرقہ صحیح نہیں حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے
میں فرقے نہیں ہوتے تھے صرف اُمتی ہوتے تھے ،صرف اُمتی ہوتے تھے اور
اُمتی وہ ہوتا ہے جس میں نور ہوتا ہے حضور
پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس میں نور ہے وہ میرا اُمتی ہے حدیث شریف میں بھی ہے
کہ قیامت کے دن امتوں کی پہچان نور سے ہو گی
جب
اُمتیوں سے نور نکلا سُنی، شیعہ، وہابی بنتا گیا اگر دوبارہ نور آجائے
کبھی نہیں کہیں گے میں سُنی ہوں، شیعہ ہوں، میں وہابی ہوں یہی کہیں گے بس
اُمتی ہوں تمہارا یا رسول اللہ
صلیٰ اللہ علیہ وسلم عالم
مولانا رومی فرماتے ہیں کہ کامل مرشد کے بغیر یہ نفس پاک نہیں ہو سکا آپ
نے عالموں کو بھی کہا کہ مولوی ہر گز نہ شد مولائے روم۔ تا غلامِ شمسِ
تبریزی نہ شُد کہ
مولوی کبھی بھی مولائے روم نہیں بن سکتا جب تک کسی تبریز کا غلام نہ ہو
مولوی کو اک علم ملا علم ظاہر ملا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ مجھے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے دو علم ملے ایک تمہیں بتا دیا اگر
دوسرا بتاﺅں
تم مجھے قتل کر دو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تین (3 ) علم ملے اک عام کیلئے ،زبان والوں
کیلئے اک دل والوں کیلئےاور اک صرف آنکھ والوں
کیلئے وہ میرے لئے ہے آگے جس کو میں چاہوں
اب
اخباروں میں پڑھتے رہتے ہیں کسی نہ کسی سیاست دان کا کہ درویشوں کی تعلیم
کو عام کرو جب علماء کسی حکومت کے پیچھے لگ جاتے ہیں تو حکومت کہتی ہے کہ
ولیوں کی تعلیم کو عام کرو لیکن حکومت کو بھی کوئی پتہ نہیں کی ولیوں کی
تعلیم کیا ہوتی ہے وہ پھر علماء کے پاس ہی جاتے ہیں کہ بتاﺅ ولیوں کی
تعلیم کیا ہے وہ کہتے ہیں شریعت ہی ہے ،سب کچھ شریعت ہی ہے پھر وہ شریعت
کو اپنا لیتے ہیں تو اپنے آپ کو ولی سمجھنا شروع ہو جاتے ہیں اور جن کے
پاس کچھ علم بھی ہوتا ہے وہ تو بہت بڑا ولی بن جاتا ہے وہ تو اتنا بڑا
ولی سمجھتا ہے اپنے آپکو کہ حقیقی ولیوں کے اوپر کیچڑ اچھا لنا شروع
کردیتا ہے
خواجہ صاحب اور غوث
پاک رضی اللہ تعالٰی بھی اُنکی زد میں آئے حضرت حسین
رضی اللہ تعالٰی پر جو شہادت کے فتوے لگے اِن میں
بھی اُن کا ہاتھ تھا عبادت نہ کرنا اتنا بڑا جرم نہیں جتنے بڑے جرم کسی
اللہ کے ولی کو ستانا ہے اللہ اور اُس کیلئے کسی شاعر نے کہا ہے مسجد
ٹادے ،مندر ٹادے ،ٹادے جو کجھ ٹینڈا۔ اک بندے دا دل نہ ٹاویں رب دلاں وچ
ریندا ان لوگوں کے دلوں میں اللہ رہتا ہے بلیم باعور بہت بڑا عالم تھا ،بہت
بڑا عابد تھا دعائے مستجاب بھی تھا لیکن موسیٰ
علیہ سلام کی ناراضگی کی وجہ سے وہ
اصحابہ کہف کے کُتے کی شکل دوزخ میں جائے گا اصحابہ کہف کا کُتا وہ ولیوں
کا دوست تھا اُن سے محبت کرتا تھا نمازیں
نہیں پڑھتا تھا صرف اُن
کی صحبت میں غار میں بیٹھا رہا وہ بلیم باعور کی شکل میں جنت میں جائے گا
ابلیس نے آدم
علیہ سلام سے حسد کیا اور وہ لعنتی ہو گیا
اب یہ
نفس پاک کیسے ہوتے ہیں اک سکھ نے کہا کہ تمہارے اکابر کہتے ہیں کہ قرآن
میں نور ہے وہ کہنے لگا میں تمہارا جاسوس رہ کے آیا میں تمہارے بچوں کو
قرآن پڑھاتا تھا میں تو مسلمانوں کو نمازیں بھی پڑھاتا تھا میں نے کچھ
سورتیں بھی یاد کی ہوئی تھیں اگر قرآن میں نور ہوتا تو میں نوری کیوں نہ
ہوا فوراً اک عیسائی بولا کہ میں بھی شب و روز تمہارے قرآن کا مطالعہ
کرتا ہوں نوری میں بھی کوئی نہیں ہوا ہم نے کہا تم لوگوں نے دل سے نہیں
پڑھا وہ کہنے لگے ٹھیک ہے ہم نے دل سے نہیں پڑھا تمہارے مسلمان تو دل سے
پڑھتے ہیں نہ وہ نوری کیوں نہیں ہوئے وہ اک دوسرے کو کافر منافق کیوں
کہتے ہیں کیا جواب تھا اُس کا وہ جو نوری قرآن مجید ہے وہ حضور پاک ﷺ کے
سینے مبارک میں ہے وہ نوری الفاظ سے ہے وہ سینہ جس سینے سے ٹکرایا وہ بھی
نوری ہو گیا اور یہ قرآن مجید ہے یہ کالے الفاظوں میں لکھا ہوا ہے یہ صرف
الفاظ ہیں اِن سے نور بنانا پڑتا ہے یہ صرف الفاظ ہیں ۔اب نور کیسے بنایا
جاتا ہے جس طرح لوہا ،لوہے سے ٹکراتا ہے چنگاری اُٹھتی ہے پانی،پانی سے
ٹکراتا ہے بجلی بنتی ہے قرآن کی آئتیں جب آئتوں سے ٹکراتی ہیں تو نور
بنتا ہے ناں اب تم نے تو کبھی آئیتوں کو آئیتوں سے ٹکرایا نہیں ہو گا
اورجن لوگوں نے ٹکرایا وہ عامل بن گئے اب کچھ لوگ تسبیح کرتے ہیں تسبیح
کے ساتھ اللہ اللہ کرتے ہیں بغیر تسبیح کے بھی اللہ اللہ کیا جا سکتا ہے
وہ تسبیح کے ساتھ اللہ اللہ کیوں کرتے ہیں وہ ٹِک،ٹِک کے ساتھ اللہ اللہ
ملاتے ہیں اک سو اک (101 ) دفعہ جب اللہ اللہ ملتا ہے تو معمولی سی نور
کی چنگاری اُٹھتی ہے وہ دس (10 ) بیس (20 ) دفعہ اللہ اللہ کرتے ہیں تو
پوچھتے ہیں کہ بھائی کیا حال ہے تو تسلسل ٹوٹ گیا ناں وہ تو مکمل اک سو
اک (101 ) دفعہ تسبیح چلے تو نور کی معمولی سی چنگاری اُ ٹھتی ہے وہ جو
نور بنتا ہے وہ انگلیوں میں اب جو زبان سے عبادت کرتے ہیں اللہ اللہ کرتے
ہیں تلاوت کرتے ہیں وہ بھی نور بنتا ہے زبان کے باہر اندر نہیں جاتا اسی
طرح کی تسبیح تمہارے اندر ہے جس طرح یہ ٹِک،ٹِک کرتی ہے اِسی طرح تمہارے
اندر ٹِک،ٹِک ہو رہی ہے وہ جو ٹِک،ٹِک اندر ہے اُس کے ساتھ اللہ اللہ
ملاتے ہیں جب اُس کے ساتھ اللہ اللہ ملتا ہے پھر وہ جو اللہ اللہ کا رگڑا
لگتاہے تو پھر وہ نور بنتا ہے وہ نور پھر انتریوں میں نہیں ،باہر نہیں وہ
نور سیدھا خون میں چلا جاتا ہے خون سے پھر وہ نور نسوں میں چلا جاتا ہے
نسوں سے ہوتا ہوا وہ روحوں تک پہنچ جاتا ہے پھر وہ روحیں بیدار ہو کے
اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتی ہیں پھر جب وہ نس،نس میں نور جاتا ہے وہ جو
نفس ہے وہ ناف میں ہے وہ نور اِسکو چاروں طرف سے گھیر لیتا ہے اِس کو
باہر سے جو غذا آتی ہے وہ نور کی گرمی سے جل جاتی ہے وہ نفس امارہ تھا
اُس کی شکل کُتے کی طرح تھی پھر نور سے اُسکی شکل بیل کی طرح ہو جاتی ہے
پھر وہ نور کی زیادتی سے اسکی شکل بکرے کی طرح ہو جاتی ہے پھر نور سے
اُسکی شکل اُس انسان کی طرح ہو جاتی ہے پھر وہ انسان نماز پڑھتا ہے ساتھ
وہ بھی نماز پڑھتا ہے وہ ذکر میں جھومتا ہے وہ بھی ساتھ ذکر کرتا ہے پھر
اُسکو پکڑ کر حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محفل میں لے جاتے ہیں اُس
وقت حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلماور حاضرین عش ،عش کر اُٹھتے ہیں آفرین ہے اِس کے اوپر اور
اِس کے مرشد کے اوپر کُتے کو پاک کیا انسان بنایا اور محفل میں لے آیا اُس
وقت حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم اُسکو کوئی مرتبہ عطا کر دیتے ہیں
مجدد صاحب فرماتے ہیں کہ مقتدی کو چاہیے کہ پہلے اللہ کا ذکر کرے پھر
منتہی کو چاہیے کہ قرآن پڑھے فرماتے ہیں کہ قرآن اُن لوگوں کے قابل نہیں جن کے نفس کُتے ہیں جب نفس پاک ہو جائے تو پھر قرآن پڑھے
تو پھر وہ قرآن پڑھے پھر وہ قرآن اُس
کے اندر اُترے گا پھر اک لمحہ فکریہ سو(100) سال کی عبادت سے بہتر ہے پھر قرآن فرماتا ہے ھد اللمتقین میں ہدایت کرتا ہوں پاکوں کو
حدیث ہے کہ جاہل عالم سے
ڈرو اور بچو اصحابہ نے پوچھا عالم بھی اور جاہل بھی کہ جس کی زبان عالم
اور دل سیاہ یعنی جاہل ہو
یہ
عالموں کا مقام ہے اِس کے آگے مومن کا مقام ہے اب مومن کا مقام کیا ہے جب
اُس کے اندر اللہ اللہ شروع ہو گئی اللہ کا نور اُس کے دل میں اکھٹا ہو
گیا ایک حدیث شریف میں ہے کہ یہ جو ظاہر ہے یہ باطن کا عکس ہے ظاہر میں
بجلی کا نظام ہے باطن میں نور کا نظام ہے یہاں موبائل فون پڑا ہے بجلی کی
لہریں اُٹھتی ہیں امریکہ بات ہوتی ہے اور اگر کہیں نور ہو تو نور کی
لہریں اُٹھیں گی تو وہ کہاں پہنچیں گی تمہارے اندر اللہ تعالیٰ نے اک
ٹیلی فون بنا دیا ہے یہ دل ٹیلیفون ہے لیکن اِس میں پاور نہیں ہے ،اس میں
پاور نہیں ہے اِسمیں جب نور کی پاور آتی ہے تو اِس کا کنکشن عرش معلی سے
ہوتا ہے ناں جب حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم معراج میں گئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو تحفہ
نمازیں دیں کہ اپنی اُمت کو یہ تحفے دے دینا وہ پانچ وقت مجھے یاد کریں
گے میں اُن کو یاد کروں گا اب وہ تحفے نیچے آگئے وہ نمازیں تحفے اللہ
کیلئے۔ اب وہی تحفے کسی کی نمازِ صورت بن گئے اور کسی کی نمازِ حقیقت بن
گئے اللہ تعالیٰ نے حضور پاک ﷺ کو فرمایا قُل ھو اللہ احد کہہ دیجئے اللہ
ایک ہے آپ نے آمین کہا حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کہا کہہ دو اللہ ایک ہے
جنہوں نے آمین کہا مسلمان ہوئے ،جنہوں نے نہیں مانا کافر،جنہوں نے حیل
وحجت کری منافق ۔اب مسلمان کس کو کہتا ہے کہہ دے اللہ ایک ہے روز کہتا ہے
گھڑی،گھڑی کہتا ہے دھیرے،دھیرے کہتا ہے کہہ دے اللہ ایک ہے یہی اک نقطہ
ہے اک نقطے وچ گل مکدی اے ۔۔۔۔۔۔اللہ
وہ اپنے دل کو کہتا ہے کہہ دے اللہ ایک ہے دل جواب دیتا ہے کر وچ آٹا ای کوئی نئیں پھر کہتا ہے اللہ الصمد دل کہتا ہے بیوی بیمار ہے لم یلد و لم یُلد دل کہتا ہے ڈیوٹی سے لیٹ ہو گیا ہے چل یہاں بلھے شاہ نے فرمایا کہ تیرا دل کھڈاوے منڈے کڑیاں ۔ تے کیتی اللہ نال وی چار سو وی تو اللہ سے بھی چار سو بیسی کر رہا ہے کافروں کی زبان اقرار نہیں کرتی ،منافقوں کے دل تصدیق نہیں کرتے اور فاسقوں کے جسم عمل نہیں کرتے بتاﺅ تمہارا دل تو منافق تھا۔
مجدد صاحب فرماتے
ہیں کہ ہر آدمی کی نمازصورت ہے خاصانِ خدا کی نماز حقیقت ہے فرماتے ہیں
کہ ہر آدمی کو چاہیے کہ نماز حقیقت کو تلاش کرے
نماز حقیقت کیا ہے اُس کیلئے سب سے پہلے اللہ اللہ سیکھنی ہو گی یہ تمہارا پہلا رکن ہے پہلا رکن کلمہ طیب حدیث شریف میں ہے افضل الذکر کلمہ طیب ۔ قرآن مجید اُٹھتے،بیٹھتے حتیٰ کہ کروٹیں لیتے میرا ذکر کر خرید وفروخت میں بھی اِس سے غافل نہ رہ تمہارا یہ قرآن کا پہلا لفظ بھی ہے ا ل م تم نے کہا حروف مقطعات کیوں؟ ا سے اللہ ،اللہ کر اگر اِس کی جلالت سے ڈرتا ہے تو ل سے لا الہ الاللہ ہی پڑھ اگراس کی بھی توفیق نہیں تو م سے محمد رسول اللہ ہی پڑھ اِسی سے پا لے گا اگر اِن کی توفیق نہیں ہے پھر کتاب میں لگا رہ کتاب پتہ نہیں تجھے گمراہ کرے یا ہدایت دے
جب
تمہاری دھڑکنیں اللہ ،اللہ پکاریں گی ،نس،نس میں اللہ ،اللہ جائے گا پھر
تم کوشش کرو گے کام کاج کرتا رہوں اللہ ،اللہ ہوتی رہے اِس کو بولتے ہیں
دست کار میں دل یار میں پھر کوشش کرو گے اخبار ،رسالہ پڑھتا رہوں اللہ ،اللہ
ہوتی رہے کامیابی ہو جائے گی پھر کوشش کرو گے نماز پڑھتا رہوں اللہ ،اللہ
ہوتی رہے اُس وقت زبان کہے گی کہہ دے اللہ ایک ہے دل کہے گا اللہ ای اللہ
اللہ الصمد دل کہے گا اللہ ای اللہ اب زبان اقرار کر رہی ہے دل تصدیق کر
رہا ہے اور جسم عمل کر رہا ہے زبان ذکر مفصل میں ہے اور دل ذکر مجمل میں
ہے زبان دلیل سے منوا رہی ہے کہ کہہ دے اللہ ایک ہے دل بغیر دلیل کے مان
رہا ہے کہ اللہ ای اللہ زبان کا تصرف کہ یہاں بولتے ہو امریکہ والے سنتے
ہیں اور دل کا تصرف یہاں گونجتا ہے عرش معلی والے سنتے ہیں وہ جو تمہارے
اندر نور اکھٹا ہو گا وہ عشق تمہاری نماز کو عرش معلی میں پہنچائے گا پھر
تم نماز پڑھو گے وہ بھی عرش معلی میں تلاوت کرو گے وہ بھی عرش معلی میں
حتیٰ کہ تم بات کرو گے وہ بھی عرش معلی میں اب یہ مومن کا درجہ ہے اس کے
بعد پھر ولایت شروع ہو جاتی ہے اب ولایت کیا ہے جب ہر وقت اللہ اللہ ہوتی
ہے نس،نس میں جاتی ہے تمہارے اندر جو روحیں ہیں وہ بھی اللہ اللہ کرنا
شروع کر دیتی ہیں پھر جب وہ اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتی ہیں
پھر یہی مسجد ،یہی کعبہ،یہی
گل گلزارِ جنت ہے اُن
کیلئے یہی پھر مسجد بن جاتی ہے یہی گل گلزارِ جنت بن جاتی ہے
اللہ اللہ کے نور سے اُن کی پرورش ہونا شروع ہو جاتی ہے وہ اِس جسم میں طاقتور ہو جاتی ہیں نور کی طاقت سے۔ تم نے خواب میں دیکھا ہو گا کہ دوسرے شہر میں گھومتے ہو وہ تمہارے اندر کی مخلوق ہے شیطانی مخلوق ہے نفس ہے وہ شیطانوں میں گھومتا رہتا ہے اب باقی مخلوقیں بھی جاگ اُٹھیں نورانی طاقت سے تم نے سوچا حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کیا کر رہے ہیں وہ اِس سینے سے نکلیں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں۔ اُس وقت بلھے شاہ نے فرمایا کہ لوکی پنج ویلے عاشق ہر ویلے۔لوکی مسیتی عاشق قدماں جو لوگ پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں وہ بھی رب کی یاد ہے اُن کی انتہا مسجد ہے اور جو لوگ اُس کے ساتھ ہر وقت اللہ اللہ کرتے ہیں وہ تو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں پہنچ جاتے ہیں قدموں میں پہنچ گئے نوازے تو گئے۔
جب حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم شبِ معراج میں گئے شب
معراج میں اوپر جانے سے پہلے جو آپ نے بیت المقدس میں نبیوں اور ولیوں کی
ارواح کو نماز پڑھائی
وہ کون
سی تھی وہ تو پہلے کی نماز تھی ناں پھر اوپر گئے وہ جو نماز ملی وہ کون
سی تھی وہ اِن لوگوں کیلئے ملی وہ شریعت محمدی کہلائی ناں ۔اس کے اوپر
پھر مقام محمود ہے اُس کے اوپر حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو محمود کہتے ہیں مقام محمود
پر جب کوئی پہنچ جاتا ہے تو اُس کی منزل پوری ہو جاتی ہے پھر بندہ اور
اللہ ایک دوسرے سے بے پردہ ہو جاتے ہیں آمنے سامنے ہو جاتے ہیں وہاں
اُسکی منزل پوری ہو جاتی ہے جب اُس منزل پہ غوث پاک
رضی اللہ تعالٰی پہنچے انہوں نے کہا
اس منزل پہ پہنچ کے بھی کسی نے عبادت کری تو اُس نے کفرانِ نعمت کیا غوث
پاک رضی اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ مقام محمود پہ رب کے سامنے جاکے پھر بھی کسی نے نماز
پڑھی تو اُس نے کفرانِ نعمت کیا اِسی بات کے اوپر غوث پاک
رضی اللہ تعالٰی پہ کفر کے
فتوے لگے کفر کے فتوے لگے تھے اِسی
بات کے اوپر ۔لوگ کہتے تھے کہ نماز حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو معاف نہیں ہے تو ولیوں
کو کیسے معاف ہو گئی یہی کہتے ہیں ناں بھئی حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو نماز کی کیا
ضرورت تھی آپ تو نمازوں سے پہلے بھی نبی تھے آپ تو کہتے ہیں میں تو اُس
وقت بھی نبی تھا جب آدم
علیہ سلام کو بنایا ہی نہیں گیا تھا آپ نے نماز پڑھی اُمت
کیلئے پڑھی اگر آپ نماز نہ پڑھتے فرض کیا منگل کو ہی نہ پڑھتے اُمت اسکو
سنت بنا لیتی ناں آپ نے سخت بیماری کی حالت میں بھی نمازیں پڑھیں ناں وہ
اس وجہ سے پڑھی کہ کل اُمتیوں کو نزلہ،زکام ہو گا تو یہ کہیں گے ہم بھی
بیمار ہیں یہ بھی نماز چھوڑ دیں گے آپ حج کوگئے آپ کو کعبے جانے کی ضرورت
نہیں تھی جب کعبہ رابعہ بصری کے پاس آسکتا ہے تو آپ کے پاس نہیں آسکتا
تھا آپ کعبے کا کعبہ تھے لیکن اگر آپ کعبے کو نہ جاتے آج جو لوگ کہتے ہیں
کہ ہم حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم جیسے ہیں تو وہ کیسے کعبے کو جاتے وہ کہتے خود تو گئے
نہیں ہم کو کہہ کے چلے گئے جب اس مقام پہ کوئی پہنچ جاتا ہے ظاہری جسم سے
حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم پہنچے اور یہ جو اندر کی مخلوقیں ہیں اِس سے ولی وہاں پہنچتے
ہیں جب وہاں پہنچتے ہیں تو اک دوسرے کو پیار سے دیکھتے ہیں بڑے دور سے
آیا ،بڑی محنت کرکے آیا ،بڑی جان کی بازی لگا کے پہنچا ناں پھر اللہ تعالیٰ اُسکو بڑے پیار سے دیکھتا ہے پھر اللہ فرماتا ہے میں تجھے دیکھ لوں تو مجھے دیکھ لے اک دوسرے کو پیار سے دیکھتے ہیں
پھر وہ اللہ کا نقشہ اُس
کی آنکھوں میں آتا ہے آنکھوں سے اُس کے دل میں جاتا ہے جب دل میں چلا
جاتا ہے
تو اللہ تعالیٰ فرماتا
ہے اب تو نیچے چلا جا اب جو تجھے دیکھ لے وہ مجھے دیکھ لے اِس کو کہتے ہیں کامل مرشد اس کیلئے سخی سلطان باھو نے فرمایا مرشد دا دیدار اے باھو مینوں لکھ کروڑاں حجاں ھو اور اسی کاملین کیلئے حضرت ابو زر غفاری کی حدیث ہے کہ یومِ محشر میں یہ بھی چمک رہے ہونگے لوگ پوچھیں گے یہ کون سا نبی ہے آواز آئے گی نبی نہیں ولی تھا آپ پہچان جائیں گے ایک کہے گا اے اللہ میں نے اِس کو وضو کرایا تھا چلو بخش دو ،اور دوسرا کہے گا میں نے اِسکو کھانا کھلایا تھا چلو بخش دو ،اور تیسرا کہے گا میں نے اِس کو کپڑا پہنایا تھا چلو اِس کو بھی بخش دو اور کچھ کہیں گے اے اللہ ہم تو تھے ہی اِسی کے پھر اللہ کہے گا کہ جدھر یہ جاتا ہے تم بھی اُدھر چلے جاﺅ اللہ اب جو بیعت ہوتی ہے بیعت ولی کی ہوتی ہے اب ہمارے زمانے میں رسم کا رواج ہے لوگ دنیا کیلئے بیعت ہوتے ہیں
سخی سلطان باھوفرما تے
ہیں کہ اگرکوئی دنیا کیلئے بیعت ہو یا کوئی بیعت کرے تو دونوں حرام ہیں
بیعت اللہ کیلئے ہوتی ہےاوراللہ کے ولی سے ہوتی ہے اب ہمارے ہاں رواج ہے کوئی دادا ولی تھا ناں آگے اولاد تو ولی نہیں ہے ناں وہ رسم چلتی آرہی ہے صدیاں ہو گئی وہ رسم چل رہی ہے وہ بیعت ہونے والے بھی خالی ،بیعت کرنے والے بھی خالی دونوں خالی ہیں ناں بیعت صرف ولی کی ہوتی ہے اگر ولی نہیں ہے تو بیعت کرتا ہے یہ سلسلہ کیسے خراب ہوا وہ گدی نشین،سجادہ نشین بیعت کرنا شروع کر دی اصلیت نہ اُسکو پتہ نہ بیعت ہونے والے کو پتہ پھر ہمارے عالموں نے دیکھا کہ یہ جو گدھی نشین ہیں اندر سے تو خالی ہیں اِن کے پاس علم بھی نہیں ہے اگر یہ بیعت کر سکتے ہیں تو ہم بیعت نہیں کرسکتے ؟ہمارے پاس تو علم ہے انہوں نے بیعت کرنا شروع کر دی پھر ہمارے مفتیوں نے دیکھا کہ یہ جو عالم ہیں ہمارے شاگرد ہیں اگر یہ بیعت کر سکتے ہیں تو ہم بیعت نہیں کر سکتے وہ پھر انہوں نے بیعت کرنا شروع کر دی پھر وہ تعویز لکھنے والوں نے دیکھا کہ ہمارے ذریعے لوگوں کو فیض ہو رہا ہے اگر یہ لوگ بیعت کر سکتے ہیں تو ہم بیعت نہیں کر سکتے پھر انہوں نے بھی بیعت کرنا شروع کر دی اس طریقے سے یہ سلسلہ خراب ہو رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نناوے (99) نام ہیں سارے جانتے ہیں اٹھانوے (98) صفاتی ہیں اک ذاتی ہے ایک لاکھ چوبیس ہزار (124000)نبی صفاتی اسماء والے مل کر بھی اسمِ ذات والے کو نہیں پہنچ سکتے یہ اگر اسمِ ذات ملا تو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو ملا حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے طفیل اس اُمت کو ملا باقی نبی صفاتی اسماء کا ذکر کرتے موسیٰ علیہ سلام یا رحمن کا ،عیسیٰ علیہ سلام یا قدوس کا ،سلمان علیہ سلام یا وھاب کا ، داﺅد علیہ سلام یا ودود کا اور باقی نبی اپنے اولعزم مرسل کا کلمہ پڑھتے۔
اک دن
موسیٰ علیہ سلام نے کہا اے اللہ دیدار دے جواب آیا تاب نہیں ہے کہنے لگے کسی میں
تاب ہوگی جواب آیا اک میرا حبیب
صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور اُس کی اُمت موسیٰ
علیہ سلام کو جلال آگیا
میں نبی ہو کر اُمت کے برابر نہیں جلوہ دے دیکھی جائے گی جلوہ پڑا موسیٰ
علیہ سلام بیہوش ہو گئے اب کیا وجہ ہے کہ موسیٰ
علیہ سلام اس دنیا میں کوہ طور پہ بیہوش
ہوئے اور حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم سامنے جاکے مسکرا رہے ہیں موسیٰ
علیہ سلام کے جسم میں یا رحمن
کا صفاتی نور تھا وہ ذات کی تاب نہ لا سکا حضور پاک
صلیٰ
اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک میں
اسمِ ذات کا ذاتی نور تھا ذات، ذات کے سامنے مسکرائے اور حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے
طفیل وہ اسم اس اُمت کو ملا تب اسکو فضیلت ہوئی وہ نبی دیدار کو ترستے
رہے اور یہ ولی کہتے ہیں ہم دیدار کرتے ہیں اب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ
دیدار خواب میں ہوتا ہوگا خواب
میں ہوتا ہے جن کا لطیفہ انا کے ذریعے دیدار ہوتا ہے وہ واقعی خواب میں ہوتا ہےکچھ ولی ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ جُسہ توفیق الہیٰ دیتا ہے اُن کو مراقبے اور کشف کے عالم میں دیدار ہوتا ہےاور کچھ ولی ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ طفلِ نوری دیتا ہے اُنکو ہوش وحواس میں ،اُن کو ہوش وحواس میں دیدار ہوتا ہے
سخی
سلطان باھو فرماتے ہیں یہ اُن لوگوں تمہیں سے ہیں کہتے ہیں ہم جب
چاہیں اللہ کو دیکھ لیں کہتے ہیں جب ہم بولتے ہیں
مخلوق سمجھتی ہے ہم سے
بات کرنے لگا ہے ،فرشتے کہتے ہیں ہم سے بات کرنے لگا ہے اور اللہ کہتا ہے
مجھ سے بات کرنے لگا ہے
اک دن
عیسیٰ علیہ سلام بول اُٹھے اے اللہ مجھے بڑا شوق ہے تجھے دیکھنے کا اللہ نے
فرمایا تونے موسیٰ
علیہ سلام کا حال نہیں دیکھا۔ حال دیکھا ہوا تھا پریشان ہو گئے
پھر تیرا دیدار کیسے ہوگا اللہ تعالیٰ نے فرمایا تجھے میرے حبیب کا اُمتی
بننا پڑے گا
اب مہدی علیہ سلام آئیں گے عیسیٰ علیہ سلام اُن سے بیعت ہونگے پھر اُن میں اسم ذات کا نور آئے
گا پھر اُن کو اللہ کا دیدار ہوگا۔
وہ جس
کیلئے بنی اسرائیل کے نبی ترستے رہے وہ چیز تم کو حاصل ہوئی جس سے تم
ڈرتے ہو اب کتنے مذہب ہیں کوئی پتہ ہے اللہ کا مذہب کیا ہے کسی کو نہیں
پتہ ناں وہ کس مذہب کے ساتھ ہیں توریت میں کچھ اور مذہب ہے ،زبور والوں
کیلئے کچھ اور مذہب ہے،انجیل والوں کیلئے کچھ اور مذہب اور قرآن کا کچھ
اور مذہب اُس کا اپنا مذہب کیا ہے یہی اک نقطہ ہے ناں یہ اک نقطہ ہے اکبر
بادشاہ نے کسی کتاب میں سن لیا تھا کہ دین الہیٰ آئے گا وہ دین الہیٰ کو
سمجھ نہیں سکا اُس نے دین اکبری بنا دیا اب دین الہیٰ کیا ہے دین الہیٰ کو ہر مذہب تسلیم کرتا ہے دین، مذہب، دین الہیٰ میں ہے چہ مسلم، چہ کافر، چہ زندہ، چہ مردہاللہ کا دین عشق ہے- اللہ کادین عشق ہے اور کوئی بھی جب اُس کے دین میں چلا جاتا ہےتو پھر اگر وہ کافر بھی ہے تو علامہ اقبال فرماتے ہیں گر ہو عشق تو کفر بھی ہے مسلمانی
محبت کی نہیں جاتی محبت
ہو جاتی ہے پھر ہم کہتے ہیں ہم کو محبت ہے وہ مکار ہیں محبت کا تعلق زبان
سے نہیں محبت کا تعلق دل سے ہے
جب اُس
کے دل میں اللہ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے تو اللہ کسی کا احسان لیتا نہیں
ہے اُس کیلئے ایک روپیہ خرچ کرو دس روپے لوٹاتا ہے اک نیکی کرو دس نیکیوں
کا ثواب دیتا ہے تھوڑی سی محبت کرو دس گناہ زیادہ محبت کرتا ہے ناں اور
جس سے اللہ محبت کرتا ہے اُسے اک دن وہ دیکھتا ہے سرسری نظر سے نہیں
دیکھتا بڑے پیار سے دیکھتا ہے اور جس دن اللہ نے اُس کو پیار سے دیکھ لیا
پھر محبت گئی پھر عشق آگیا پھر میں تیرا اور تو میرا اب جو اللہ اللہ یہ
اندر آتا کیسے ہے اندر آئے تو بات ہے ناں یہ اندر آتا کیسے ہے اِس کے کچھ
طریقے ہیں جو بھی اللہ کا شوقین ہے اللہ کو اندر لانے کا اللہ تو کہتا ہے طالب بے آ طالب بے آ جلدی آ جلدی آ۔
لیکن
تیرے پاس طریقہ ہو گا تو اِس کیلئے روزانہ چھیاسٹھ (66 ) مرتبہ کاغذ کے
اوپر اللہ لکھتے ہیں فجر کی نماز کے بعد بہت اچھا وقت ہے لیکن اگر وہ وقت
میسر نہ آئے تو دن میں کسی بھی وقت کئی بار اللہ لکھو لیکن جب بھی لکھو
چھیا سٹھ (66) مرتبہ لکھو یہ اک عمل بن جائے گا آپ تھوڑے دن لکھیں گے اک
وقت ایسا آئے گا آپ جو کاغذ پہ لکھتے تھے وہ آپ کی آنکھوں میں تیرنا شروع
ہو جائے گا جب آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے پھر لکھنا بند کر دیں
آنکھوں سے توجہ سے پھر اِس کو دل کے اوپر اتارنے کی کوشش کریں اور اک وقت
آئے گا جو کاغذ پہ لکھتے تھے وہ آنکھوں پہ تیرنا وہ دل کے اوپر لکھا
نظرآئے گا یہ پولیس کی مہر لگی پولیس والا۔اللہ لکھا گیا اللہ والا اُس
وقت تمہارے دل کی دھڑکنیں تیز ہو جائیں گی ٹِک،ٹِک،ٹِک،ٹِک اب اُس کے
ساتھ اللہ ھو ملانے کی کوشش کریں اک کے ساتھ اللہ اک کے ساتھ ھو وہ کالا
سا درج ہو گا اب وہ جو اللہ ھو کا رگڑا لگے گا وہ سفید ہونا شروع ہو جائے
گا اور اک دن ایسا آئے گا کہ وہ بالکل سورج کی طرح اس سینے میں چمک رہا
ہو گا جب وہ سورج کی طرح چمک اُٹھے اب تو بے خوف اور بے فکر ہو جا اب قبر
میں بھی چلا جا تو بڑی شان و شوکت سے جا منکر نکیر آئیں گے سب سے پہلے
پوچھیں گے بتا تیرا رب کون ہے ڈر نہیں اُن سے خاموش رہ اُن کو ستا وہ
دوبارہ پوچھیں گے بتا تیرا رب کون ہے خاموش وہ پھر پوچھیں گے گونگا تو
نہیں ہے بتا تیرا رب کون ہے کفن پیچھے ہٹا یہ دیکھا لفظ اللہ لکھا ہوا ہے
اُن کو جرات نہیں پڑے گی کہ تم سے دوسرے سوال کریں اے بندہ خدا آرام سے
سو جا تو جان اور تیرا رب جانے ہمیں تو شرم آتی ہے تجھ سے کیا سوال
پوچھیں رات کو سونے لگیں اس انگلی کو قلم خیال کریں تصور سے دل کے اوپر
اللہ لکھتے،لکھتے سو جائیں اسی میں نیند آجائے اس دنیا میں آدھی رات کے
وقت خاص فرشتے آتے ہیں کراماً کاتبین سے ہر آدمی کے بارے پوچھتے ہیں بتاﺅ
اس کا آخری عمل کیا تھا جب یہ سونے لگا تھا صبح پتہ نہیں اس کی جان ہے یا
نہیں ہے کہ یہ نماز پڑھ کے سویا تھا عشاء کی دُعا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ
اِس کو خوش رکھے اور یہ آیت الکرسی پڑھ کے سویا تھا آیت الکرسی کی لاج
رکھنا اور اس کی حفاظت کرنا اور یہ درود پڑھ کے سویا تھا اللہ تعالیٰ
اسکو بھی خوش رکھے اور
یہ اللہ ھو پڑھتے ،پڑھتے اُسی کی مستی میں سو گیا تھا پھر فرشتے کہتے ہیں
خاموش آہستہ بات کرو شاید اُس کی یاد میں آنکھ لگ گئی ہو اور ہو سکتا ہے
ساری رات تمہاری اللہ تعالیٰ عبادت میں شامل کر دے کیونکہ جو سوتے وقت
نیت ہوتی ہے خواب میں بھی وہی کچھ ہوتا ہے اللہ ھو پڑھتے،پڑھتے سو گئے
اور خواب میں بھی اللہ ھو کرتے رہے
صبح
اُٹھیں وضو ہے یا نہیں ہے پرواہ نہیں دل کا وضو پانی سے نہیں ہوتا ذکر
خفی کرتے رہیں ذکرخفی کوئی منزل نہیںہے جب دل کی دھڑکنوں سے اللہ اللہ مل
جائے تو وہ ذکر قلبی ہے ناں جس دن تمہارے دل کی دھڑکنیں اللہ اللہ پکاریں
آج تمہارا طریقت میں پہلا قدم ہے آج تمہاری منزل جاری ہو گئی جب دل کی
دھڑکنوں نے اللہ اللہ پکارا یہ طریقت ہے اللہ اللہ کرتے،کرتے جب اللہ تک
پہنچ جاتا ہے تو یہ حقیقت ہے ناں حقیقت کا تعلق ان نظروں سے ہے ہمارے
علماء کہتے ہیں وہ عالمِ ربانی نہیں کہتے وہ خاموش ہیں عالمِ سُو کہتے
ہیں کہ سب کچھ شریعت میں ہے وہ کہتے ہیں کہ سب کچھ شریعت میں ہے اب طریقت
کو بھی شریعت میں،حقیقت کو بھی،اللہ کے دیدار کو بھی شریعت میں ہم ناروے
میں گئے تو وہاں ایک تختی لگی ہوئی ہے وہاں لکھا ہوا ہے کہ اِس سے آگے
دنیا نہیں ہے اگر کوئی دنیا کا مہم جو ہو تو وہاں جا کے ساکن ہو جائے گا
ناں جب تم نے کہا کہ سب کچھ شریعت ہے تو اللہ کا طالب ہو گا تو وہ شریعت میں ہی پھنس جائے گاناںکیوں نہیں کہا کہ آگے طریقت بھی ہے،حقیقت بھی ہے،معرفت بھی ہے،دیدار بھی ہےسخی سلطان باھو نے اپنی کتاب نور الھدیٰ میں لکھا کہ یہ علماء اللہ کے رستے میں راہزن ہیں
ہم سوچتے تھے کہ یہ کیا
لکھ دیا یہ ہم کو نمازیں پڑھاتے ہیں قرآن بھی انہوں نے پڑھایا تو سلطان
صاحب کہتے ہیں کہ یہ راہزن ہیں یہ ایک ہی بات پہ پکڑے گئے جب اُنہوں نے
کہا کہ سب کچھ شریعت میں ہے یہ ایسی بات پہ پکڑے گئے اللہ۔ اب
جو اللہ کا طالب تھا اُس نے کہا شریعت تو میں نے پوری کر لی اللہ تو مجھے
نہیں ملا انہوں نے کہا کہ پھر تو ایسا کر کہ سیاست میں چلا جا حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے بھی سیاست کری تھی اُس کو سیاست میں لے آئے صبح کہنے لگے کہ عورت
حکمرانی نہیں کر سکتی شام کو کہنے لگے کہ عورت حکمرانی کر سکتی ہے اور
لوگوں نے پوچھا کہ مولوی صاحب یہ آپ نے کیا کہہ دیا کہنے لگے یہی تو
سیاست ہے ،یہی تو سیاست ہے اب وہ سیاست میں بھی پانچ،چھ سال اُس کے ساتھ
لگے رہے ملا تو کچھ بھی نہیں کہ مولوی صاحب اللہ تو نہیں ملا اب کیا کریں
اب جہاد کر کہ وہ کیسے کریں وہ مسجد والے یا رسول اللہ
صلیٰ اللہ علیہ وسلم نہیں کہتے تو
اُن کو مار وہ تجھے ماریں گے یہ جہاد ہو گیا مسلمانوں کو آپس میں لڑا دیا
ناں اب اگر سیٹ ملی تو مولوی صاحب کو ملی ناں یہ جو پانچ،چھ سال اُن کے
ساتھ لگے رہے اُن کو کیا ہوا اگر یہ پانچ،چھ سال اللہ ،اللہ میں گزارتے
میٹرک نہیں پاس کرتے کوئی الف،ب اللہ ،اللہ ہی سیکھ لیتے ناں اللہ ،اللہ
کا ثواب ہی مل جاتا ناں اب کچھ لوگ جن کے دل کی دھڑکنیں ہیں وہ تو اُس کے
ساتھ اللہ اللہ ملا لیں گے تو جن کی دھڑکنیں خاموش ہو گئیں وہ کیا کریں
ان کیلئے کچھ طریقے ہیں جو ظاہر میں معیوب ہیں لیکن وہ بڑے بہترین طریقے
ہیں
امیر کلال کے پاس لوگ جاتے فیض کیلئے کہتے چلو کبڈی کھیلو لوگ کہتے ہم تو فیض کیلئے آئے بولتے ہمارا فیض کبڈی
میں ہے
اُن کو خوب دوڑاتے جب
دل کی دھڑکنیں اُبھرتیں کہتے اب کبڈی کو چھوڑو اب ان دھڑکنوں کے ساتھ
اللہ اللہ ملاﺅ
لعل شہباز قلندر کے پاس لوگ جاتے
کہتے چلو ناچیں وہ کہتے ہم تو فیض کیلئے آئے کہ ہمارا فیض ناچنے میں ہے
وہ ناچ آج تک مشہور ہے جس کو دھمال
بولتے ہیں وہ لوگ نچتے خوب نچتے
ہم نے
وہاں خود دیکھا ہے اُس وقت اللہ ھو سے نچتے اب دما دم مست قلندر سے نچتے
ہیں وہاں دیکھا ہے کہ کچھ لوگ دمادم مست قلندر سے ناچ رہے ہیں اُس میں دو
آدمی بیہوش ہوگئے ناچتے،ناچتے۔ایک کو میں پانی پلانے کیلئے گیا دوسرے کو
دوسرے پلانے کیلئے لگ گئے پانی پلا رہا تھا زبان بند تھی دانت کسے ہوئے
تھے اندر سے آواز آرہی تھی دمادم مست قلندر ،دمادم مست قلندر اور سوچا اس
وقت دمادم مست قلندر سے قلبوں سے آواز آرہی ہے اُس وقت تو یہ اللہ ھو سے
ناچتے تھے اُس وقت اِن کے دلوں سے اللہ ھو کی آواز آتی ہو گی ناں اب ایک
اور آسان طریقہ ہے اُس میں نہ کبڈی کھیلنی پڑتی ہے نہ ناچنا پڑتا ہے
یہ اللہ ھو کی ضربیں
لگائیں گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹہ جب اللہ ھو کی ضربیں لگائیں گے تو وہی پوزیشن
پیدا ہو جائے گی
جو کبڈی سے ہوتی ہے
دل کی دھڑکنیں ابھریں گی اُس دھڑکن کے ساتھ اللہ ھو ملائیں جب یہ رگڑا لگے گا گرمی بھی آئے گی اگر گرمی لگے تو درود شریف پڑھیں وہ اِس کوٹھنڈا کر دے گا پھر اللہ ھو کا ذکر کریں پھر گرمی لگتی ہے پھر وہ اسکو ٹھنڈا کر دے گا اب اسکی اجازت بھی ہوتی ہے کوئی بھی عمل جو فرائض کے علاوہ ہے اُسکی اجازت ضروری ہے ۔اُس کی اجازت ضروری ہے اجازت کیا ہوتی ہے آپ یہاں تہجد پڑھتے ہیں کام تو بڑا اچھا کر رہے ہیں لیکن شیطان ایک کونے پہ کھڑا ہنستا رہتا ہے او تھکتا رہ تیرا دل تو میرے ہاتھ میں ہے ناں جب جی چاہوں گا ناںاِس کو موڑ لوں گا اور تمہیں ایک دن شکایت ہو گی میں بڑا تہجد گزار تھا مجھے پتہ نہیں کیا ہو گیا اب فرض نماز نہیں پڑھ سکتا وہ شیطان نے دل موڑ دیا ناں جب کوئی شخص اس دل میں اللہ کو بسانے کی کوشش کرتا ہے شیطان کے پاس جنات کی ہندو فوج ہے حکم دیتا ہے جا اِس کو برباد کر ،تباہ کر،کچھ بھی کر یہ اللہ اِس کے اندر نہ جائے ورنہ یہ ساری عمر کیلئے ہمارے ہاتھوں سے گیا کوئی لوگ ہیں جو اللہ اللہ کرتے ہیں اُن
کے دلوں پہ اللہ نقش ہو جاتا ہے قرآنِ مجید فرماتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے دلوں پہ ایمان لکھ دیا وہی اللہ نقش ہو گیا وہی ایمان ہو گیا
کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہر وقت
اللہ اللہ کرتے ہیں اُن کے دلوں پہ مدینہ شریف بس جاتا ہے
کیونکہ وہ خدا بھی نہیں اور
جدا بھی نہیں جب وہ مدینہ شریف بس جاتا ہے پھر وہ کہیں بھی ہے مدینے میں
ہے
اور کچھ لوگ ہیں ہر
وقت اللہ اللہ کرتے رہتے ہیں اُن کے دلوں پہ خانہ کعبہ آجاتا ہے ایک دفعہ مجدد صاحب نے دیکھا کہ باطنی مخلوق جن،فرشتے اُن کو سجدہ کر رہے ہیں بڑے پریشان ہوئے یہ سجدہ انسان کو جائز ہی نہیں یہ سجدہ کیوں کر رہے ہیں کہیں استدراج تو نہیں ہو گیا آواز آئی گھبراﺅ مت یہ تمہیں سجدہ نہیں کر رہے وہ جو تمہارے اندر خانہ کعبہ بس گیا ہے یہ اُس کو سجدہ کر رہے ہیں جب رابعہ بصری کے دل پہ خانہ کعبہ آیااُس کعبے کو حکم ہوا جا جاکے اِس کا طواف کر تجھے ابراہیم علیہ سلام نے گارے مٹی سے بنایا اِس کو میں نے اپنے نور سے بنایا اب کچھ لوگ کہتے ہیں کعبہ مثالی ہو گا مثالی کا مطلب اُس کی طرح بن گیا ہو گا اگر وہ کعبہ مثالی تھا تو تختِ بلقیس بھی مثالی ہو گا اگر تختِ بلقیس حقیقی تھا تو کعبہ بھی حقیقی آیا آدھی رات کا وقت ہے حضرت ابراہیم بن ادھم جاتے کعبے کو دیکھتے ہیں کعبہ ہی نہیں ہے لوگ سو رہے ہیں کعبہ ہی نہیں ہے سوچتے ہیں پتہ نہیں اللہ تعالیٰ نے اُٹھا لیا قیامت آنے والی ہے آواز آئی گھبراﺅ مت ایک بڑھیا کا طواف کرنے گیا ہوا ہے شمال کی طرف جاﺅ جب وہ شمال کی طرف جاتے ہیں دیکھتے ہیں کہ رابعہ بصری بیٹھی ہوئی ہے اور کعبہ اُن کا طواف کر رہا ہے اللہ اب کعبہ بس گیا منزل اُس سے بھی آگے ہے حضرت انسان کی۔
کعبہ بس گیا تو آدھی قلندر ہوئی
ناں پوری ولیاء پھر بھی نہیں ہوئیں پوری قلندر تو نہیں بنی ناں جو رب سے
بات کرے آدھا ولی ہوتا ہے حبل الورید کا مقام اِس سے آگے ہے وہ
جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اسکی شہ رگ کے نزدیک ہوں وہ جس کا نقشہ
اللہ کا نقشہ جس کے دل میں آتا ہے وہ حبل الورید ہے ناں اُس
کیلئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ناں میں اُس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ
بولتا ہے میں اُس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے جس نے اُس کو
کھانا کھلایا گویا مجھے کھانا کھلایا جس نے اُس کو کپڑا پہنایا گویا مجھے
کپڑا پہنایا شیطان کو پتہ ہے کہ حضرت انسان
ان مراتب میں سے کسی ایک میں پہنچ سکتا ہے اگر اس کے دل میں اللہ اُتر
گیا تو وہ حکم دیتا ہے جنات کو جاﺅ اِس کو برباد کرو ،کچھ بھی کرو یہ
اللہ اِس کے اندر نہ جائے تمہارے پاس تو ایک جن بھی نہیں ہے جو اُس کا
مقابلہ کرے وہ آئیں گے تم کو ستائیں گے بعض نہ آئے پاگل بھی کرکے جا سکتے
ہیں تب ہی لوگ کہتے ہیں کہ اللہ ھو سے پاگل ہو جاتے ہیں لیکن جہاں سے اِس
کی اجازت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اُن کو بھی اک رحمانی فوج دیتا ہے وہ
شیطانی فوج تم پہ ٹوٹ پڑی وہ رحمانی فوج شیطانوں پہ ٹوٹ پڑی وہ رحمانی
فوج اُس وقت تک تمہارا ساتھ دے گی جب تک تمہارے اندر رحمان جاگ نہیں
اُٹھتا پھر بندہ نہیں رہے بندہ نواز بن گئے غریب نہیں رہے غریب نواز بن
گئے پھر وہ غریب نہیں رہتا غریب نواز بن جاتا ہے اب ہم تمہیں نہ ہی بیعت
کرنے آئے ہیں نہ ہی کوئی نذرانہ لینے آئے ہیں
ہم یورپ میں گئے تو وہاں کچھ
علماء نے ہم کو گھیر لیا کہ تو ادھر تبلیغ کیلئے آیا ہم تھوڑے ہیں تبلیغ
کیلئے کیا تجھے ان میں پیسے چاہیں ہم نے کہا نہیں سیاست کرنے آیا کہ نہیں
،بیعت کرنے آیا کہ نہیں ،پھر کیوں آیا تیرا دماغ خراب ہے کہ نہیں ،او پھر
کیوں آیا کوئی مقصد بتا ہم نے کہا اللہ رسول
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے تو ہم کو اللہ
رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا حکم دکھا ہم نے کہا ہم دکھانے کیلئے تیار ہیں اس کیلئے
پانچ،سات دن چاہیں گے ناں میں تمہیں ذکر دیتا ہوں اگر تمہارے اندر سے
اللہ اللہ شروع ہو گیا تو اللہ رسول کا حکم ہی تھا ناں اب ہمیں مقصد
نہیں کہ تمہارا کوئی مرشد ہے یا نہیں ہمیں اس سے مقصد نہیں ہمیں مقصد ہے
کہ تمہارے اندر اللہ اللہ شروع ہو جائے کہیں سے بیعت ہو یا نہیں جو مرشد
والے ہیں یا بے مرشد ہیں ضروری ہے کہ اُن کے پاس کسوٹی ہو ناں مرشد کو
پرکھنے کی ہر آدمی اپنے مرشد کو غوث،قطب ہی سمجھتا ہے ناں جبکہ اس دنیا
میں اک غوث ہو تا ہے تین قطب ہوتے ہیں ۔جس طرف جاﺅ پتہ نہیں کتنے غوث اور
کتنے قطب جمع ،کتنے ابدال ہوتے ہیں اب پتہ نہیں کس کا مرشد کامل ہے کسی
اک کا ہی کامل ہو گا ناں اب اُس کے پاس پہچان کیا ہے اگر تو اُس کا مرشد
کامل ہے تو پھر وہ جیسا ہی ہے آپے لیسی ساراں ھو لیکن کامل ہو تب ناں اب
اُس کو یقین تو ہونا چاہیے ناں اُس کو پرکھ تو ہونی چاہیے ناں مرشد کامل
ہے یا نہیں اگر تمہیں ہیرے کی تلاش ہے سب سے پہلے تمہیں جوہری بننا پڑے گا پھر تم ہیرے کی تلاش میں نکلو ناں
جب تمہارے اندر یہ اللہ اللہ
ہونا شروع ہو جائے گا دل کی دھڑکنیں اللہ اللہ پکاریں گی پھر تمہیں نزدیک
ہیں داتا صاحب وہاں چلے جانا وہاں بھی اللہ یہاں بھی اللہ وہ رقعت پیدا
ہو جائے گی ٹکرائیں گے آپس میں اللہ اللہ او تیزی آجائے گی حدیث شریف میں
ہے کہ ولی کی پہچان جس کی محفل میں اللہ اللہ شروع ہو جائے اب اللہ اللہ
تو تھا ناں وہاں داتا صاحب جا کے اور تیز ہو گیا ثبوت ہو گیا کہ ولی
اللہ پھر وہ آگے بابا فرید کے پاس چلے جانا وہاں بھی اللہ یہاں بھی
اللہ ہے رقعت پیدا ہو جائے گی تیز ہو جائے گا ناں ثبوت ہو گیا ناں پھر
اپنے مرشد کے پاس چلے جانا اگر اُس کے پاس جانے سے جو بات داتا صاحب پہ
ہوئی تھی ،بابا فرید پہ ہوئی تھی جانے سے وہ بات ہوتی ہے پھر تمہارا مرشد کامل ہی ہے پھر اب پکا یقین ہو گیا اب اُس کا دامن نہیں چھوڑنا اب جان جاتی ہے تو جانے دےجان کو تو ویسے بھی جانا ہے اب اُس کا دامن نہیں چھوڑنا
اب بار بار اُس کے پاس جانا ہے
۔بار بار اُس کے پاس جاتا ہے کچھ بھی نہیں ہوتا ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ
بھی نہیں ہے ناں خواہ مخواہ تیری زندگی برباد کر رہا ہے ناں وہ تیرے اندر
کو خراب کر رہا ہے جس کے ذریعے تونے رب کو پانا تھا وہ اُس کو ضائع کر
رہا ہے اُس کیلئے سخی سلطان باھو نے فرمایا پھر تو ایسا کرنا چپ کرکے اُس کو بوری میں بند کر دے خوب پکے ٹانکے لگانا
اور دریا میں بہا دینا
تاکہ غوطے کھا کھا کے وہ مرے
کیونکہ پھر وہ اُن مخلوقوں کا
قاتل ہے اک آدمی میں سولہ (16 ) مخلوقیں ہوتی ہیں ہزار (1000) مرید ہیں
توسولہ ہزار (16000 )مخلوقوں کا قاتل ہے پھر قاتل کا بھی یہی علاج ہے اس
وقت ہر آدمی صراط مستقیم کی تلاش میں ہے جتنے بھی فرقے ہیں صراط مستقیم اگر
اُن کو سنیت میں خدا ملتا تو وہابی کیوں ہوتے اور وہابیت میں خدا ہوتا تو
شیعہ کیوں ہوتے ،کیوں ہوتے سارے صراط مستقیم کی تلاش میں ہیں اندر سے
مطمئن کوئی بھی نہیں ہے زبانی،زبانی عقیدے ہیں اندر سے مطمئن کوئی بھی
نہیں ہے صراط مستقیم دو منٹ میں پتہ چل جائے گا کہ صراط مستقیم کیا ہے ہر
فرقہ اِس کو تسلیم کرے گا جتنے بھی فرقے والے بیٹھے ہیں حتیٰ کہ اگر غیر
مذہب ہیں تو وہ بھی کہیں گے صحیح کہتا ہے
کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے ظاہر
بھی خراب،باطن بھی خراب بھلے وہ کہیں ہم عاشق رسول ہیں نہ ظاہر میں نماز
روزہ ہے نہ اُن کا دل اللہ اللہ کرتا ہے یہ صراط مستقیم میں نہیں ہے بھلا
کسی بھی فرقے سے ہو کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے ظاہر درست ہیں اور باطن خراب
ہیں وہ ہمارے عابد،زاہد لوگ ہیں اکثر عالم بھی ہیں اگر وہ صراط مستقیم
ہوتا تو 72 فرقے کیوں ہوتے انہی عابدوں،عالموں نے فرقے بنائے ناں صراط
مستقیم یہ بھی نہیں ہے تیسرے وہ لوگ جن کے ظاہر خراب اور باطن اللہ اللہ
کر رہے ہیں ظاہر میں کوئی نماز روزہ نہیں ہے لیکن دل اللہ اللہ کر رہے
ہیں وہ ہمارے مجذوب ہیں وہ اُن کیلئے صحیح ہے وہ اللہ کی راہ میں پاگل ہو
گئے پاگلوں کیلئے کوئی قانون نہیں ہوتا لیکن جو
نقل کرتا ہے زندیق ہو جاتا ہے جن کی نقل کرنے سے زندیق ہو جائے تو صراط
مستقیم وہ بھی کوئی نہیں ہے ۔ صراط
مستقیم ظاہر
بھی درست اور باطن بھی درست ظاہر بھی نماز روزہ ہو اور باطن بھی کچھ اللہ
اللہ کرے یہی صراط مستقیم ہے کہیں سے بھی حاصل ہو جائے ہر آدمی کہتا ہے اللہ تعالیٰ میرے پہ مہربان ہے ہر آدمی سے پوچھو کیا حال ہے بڑا اللہ کا کرم ہے کیوں کار،بنگلہ ہے کرم نہیں تو اور کیا ہے او دوسرے سے پوچھتے ہیں کیا حال ہے کہ بڑا ہی کرم ہے کیوں غریب خاندان سے تھا اتنا بڑا افسر ہو گیا کرم نہیں تو اور کیا او تیسرے سے پوچھتے ہیں کیا حال ہے بھئی اللہ کا کرم ہے کیوں اتنا بوڑھا ہوں اتنی صحت ہے کرم نہیں تو اور کیا ہے یہی کہتے ہیں ناں ہم کہتے ہیں کہ تم اِس کو کرم سمجھتے ہو تو یہ چیزیں کافروں کے پاس بھی ہیں جو کافروں کو دیں وہ تم کو دیں پھر تمہارے پہ کیا کرم ہوا اگر تم دیکھنا چاہتے ہو کہ واقعی تمہارے ہی اللہ کا کرم ہے تو اُس کے ذکر میں لگ جاﺅ دو،چار،پانچ،چھ دن میں اندر سے اللہ اللہ شروع ہو گئی تو اُس کا کرم ہو گیا
فاذکرونی اذکروکُم تو مجھے یاد
کر میں تجھے یاد کرتا ہوں
اگر کوشش کے باوجود اللہ اللہ
نہیں ہوتا ہے پھر اُس کا کوئی کرم نہیں اگر کرم ہوتا تو تم کو اپنے نام
لیواﺅں میں لیتا پھر اگر اللہ اللہ ہو گئی پھر اگر کار،بنگلہ دیا ،صحت دی
پھر کرم ہی کرم ہے اب اُس کیلئے کوئی بیعت،نذرانہ نہیں جو طریقہ بتایا
اُس پر عمل کریں اجازت لیں اگر اللہ اللہ شروع ہو گئی تو دعا دے دینا اگر
نہ شروع ہو تو تمہارا کیا بگڑا جیسے ہو ویسے تو رہو گے ناں جو پانچ،سات
دن اللہ اللہ کرو گے اُس کا ثواب تو مل جائے گا ناں
گوجرانوالہ میں ایک انگریز نے
سوال کیا اُس نے کہا میں مسلمان ہو جاﺅں اک شرط پر میں شراب بھی چھوڑ دوں
گا نمازیں بھی پڑھوں گا تہجد بھی پڑھوں گا جو کچھ کہو گے میں کروں گا
لیکن تمہارے علماءکہتے ہیں کہ گارنٹی پھر بھی کوئی نہیں دوزخی ہے یا جنتی
ہے کہنے لگا کہ جس مذہب میں گارنٹی نہیں ہے تو مذہب کمزور ہے ناں تو میں
اِس مذہب میں کیسے شامل ہو جاﺅں اور واقعی تم جتنے بھی بیٹھے ہو گارنٹی
کوئی نہیں دیتے ہو لیکن مذہب اسلام گارنٹی ہی گارنٹی ہے سالوں میں نہیں ،مہینوں
میں نہیں دنوں میں پتہ چل جاتا ہے کہ تو کیا ہے
اگر تیرے اندر اللہ اللہ
شروع ہو گئی وہ اللہ اللہ تیرے عمل سے نہیں ہو گی ،تیرے کسب سے نہیں ہو
گی اللہ کے کرم سے ہو گی
جب تیرے اندر اللہ اللہ شروع
ہو گئی تو گارنٹی تو ہو گئی ناں حج قبول ہوتا ہے اُس کے گناہ معاف ہوتے
ہیں
لیکن اگر کسی کا قلب اللہ
اللہ سے چل پڑے تو اُس کے سارے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں
یہ عمل کسب سے نہیں ہوتا یہ
اللہ کی رضا سے ہوتا ہے اس کیلئے ذکر لیں اور اپنی قسمت آزمائیں اعلان کر دیں جی جو ذکر لینا چاہیں وہ آگے آجائے۔
*****اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو*****
اگر آپ بھی ذکر کی لینا
چاہتے ہیں تو امام
مہدی ریاض احمد
گوھرشاہی کی شبیہ
مبارک کوپورے
چاند پر دیکھتے ہوئے تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔
|
|
© 1998-2010 All Faith Spiritual
Movement Intl' |