|
SELECT YOUR LANGUAGE: ENGLISH or INDONESIAN |
||
![]() |
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے |
![]() |
|
اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر) |
||
|
مرکزی صفحہ تعارف حضرت عیسی کرشمہ قدرت الحجرالأسود تعلیمات دینِ الٰہی پروگرام تصانیف ویڈیو رابطہ |
||
|
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھرشاہی مدظلہ العالی
کا مسجد نور ایمان ٹرسٹ اثناء عشری
ناظم آباد کراچی میں خطاب۔
امام بارگاہ نور ایمان
ٹاسٹ اثناء عشری میں سیدنا ریاض احمد گوھرشاہی مدظلہ العالی کے خطاب
سے پہلے علامہ عباس کمبلی کی ابتدائیہ تقریر کا متن۔
آگ لگے اِن شعلوں کو بجھانے کی کوشش کریں۔ أس آگ کو
دبانے کی کوشش کریں اور کوشش کریں کہ آپس میں بھائی چارا رہے، اتحاد رہے،
اتفاق رہے۔ مسلمان مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ آیئے اتحاد کے نعرے بہت لگے
اور بہت دنوں سے لگ رہے ہیں لیکن أن کا نتیجہ اب تک ہم نے نہیں دیکھا۔
رسول اکرم
صلیٰ اللہ علیہ وسلم
نے اپنی زندگی میں دو مرتبہ ایک بار مکی دور میں، ایک بار مدنی دور میں
اتحاد کی بات نہیں کی بلکہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا۔ ایک
دوسرے کا بھائی بنایا۔ ایک دوسرے کی میراث میں شریک کیا۔ آئیے اِس ملک کو
بچانا ہے اِس ملت کو بچانا ہے تو اتحاد کو چھوڑ کے اخوت کی بات کریں۔ ایک
دوسرے کو اپنا بھائی سمجھیں اور أس کی جان و مال کو اپنا جان و مال
سمجھیں۔ یہی صورت ہے کہ کشتی کو ہم کسی طرح سے اتحاد، اتفاق اور اخوت کے
ساتھ پار لگا سکتے ہیں اور پھر آخر میں ایک بات کہوں گا۔ اور چند اِشارے
دے کر بات ختم کروں گا۔
ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ
بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ
أَحْسَنُ
بلاؤ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت کے ساتھ میٹھی
میٹھی باتوں سے بلاؤ۔ دلائل سے بلاؤ، براہین سے بلاؤ۔ تقریر کے فتوؤں سے
نہ بلاؤ۔ تقریر کے فتوؤں سے نہیں۔ جبر سے نہیں، طاقت سے نہیں۔ دلیل سے
برہان کے ساتھ بلاؤ۔ پیار اور محبت سے دعوت دؤ۔ جبر نہ کرؤ، جبر نہ کرؤ۔
اگر تمھاری دعوت پر کوئی لبیک نہیں کہہ رہا۔ تو أسے اپنے مسلک پہ رہنے دؤ۔
اپنے عقیدے پہ رہنے دؤ وہ بھی جیے تم بھی جیو۔ وہ اپنے عقیدے پہ رہے، تم
اپنے عقیدے پہ رہو۔ کوئی یہودی بھی اسلامی مملکت میں ہے تو أسے جینے کا
حق ہے۔ کوئی عیسائی بھی ہے تو أسے جینے کا حق ہے۔ اور اپنے عقیدے پر جینے
کا حق ہے۔ کسی یہودی پہ بھی جبر نہیں ہو سکتا۔ کسی عیسائی پر بھی جبر
نہیں ہو سکتا اور اِس لیے جبر نہیں ہو سکتا کہ وہ تمھارا عقیدہ قبول نہیں
کر رہا ہے۔ نہیں، نہیں! اور
اگر کوئی تم ہی میں کلمہ گو ہو کے فتنہ برپا کرے تو پھر
أس فتنے کی سزا قتل ہے۔ أس فتنے کی ضرور سزا قتل ہے۔
اعوذبااللہ من
الشیطن الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم عزیز ساتھیو السلامُ علیکم! حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو طرح کے لوگ تھے، دو طرح کا علم تھا۔ ایک شریعت زبان والوں کے لیے، ایک طریقت دل والوں کے لیے۔ آپ کے زمانے میں جن لوگوں نے صرف زبانی علم پر ہی قناعت کری۔ صرف شریعیت پر ہی قناعت کری أن ہی میں کوئی خوارج ہوا اور کوئی مُنافق ہوا اور آپ کے زمانے میں جن لوگوں نے وہ دل والا علم بھی حاصل کیا وہ تو صحابی یا رسول اللہ کہلائے اور ولیوں سے بھی اعلیٰ مقام بھی حاصل کر کے چلے گئے۔اور آج اِس زمانے میں یہ سارے فرقے شریعت میں ہی ہیں نا۔ وہ دل والے علم کو چھوڑ گئے نا۔ بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے نا۔ کیوں تقسیم ہوئے۔ أس دل والے علم کو چھوڑا تب تقسیم ہوئے۔ اب وہ دل والا علم کیا ہے؟ زبانی علم تو ہر کوئی جانتا ہے۔ دل والے علم کے لیے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ نے فرمایا مجھے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو علم حاصل ہوئے۔ ایک تمھیں بتا دیا۔ اگر دوسرا بتاؤں تم مجھے قتل کر دؤ ۔ حضرت ابرا ہیم بن ادھم فرماتے ہیں کہ میں نے سّتر مرتبہ اﷲ کا دیدار کیا ہے۔ ایک سو بیس مسلئے وہ دل والے اللہ سے سیکھے چار لوگوں کو بتائے سب نے انکار کر دیا۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے تین علم حاصل کیے ایک عام لوگوں کے لیے، اِک خاص کے لیے، اِک صرف میرے لیے۔ہمیں ایک شیعہ عالم ملا وہ کہنے لگا کہ چالیس پارے ہیں۔ ہم نے کہا ہم نے تو تیس سُنے ہیں، تیس ہی پڑھے ہیں۔ وہ کہنے لگا ہیں، دس اور ہیں۔ ہم نے کہا بتاؤ، لاکھ دو لاکھ لے لو ہم کو وہ لا کے دؤ۔ وہ کہنے لگا کہ وہ قیمت سے نہیں ملتے، وہ محنت سے نہیں ملتے، وہ قسمت سے ملتے ہیں۔ اور جن کو وہ مل جاتے ہیں وہ داتا صاحب اور خواجہ صاحب بن جاتے ہیں۔ ہم نے کہا یہ عالم صاحب خواہ مخواہ ہم کو ألجھا رہیں ہیں، دس پارے تو ہے ہی نہیں ہیں۔ آخر ایک دن ہوا کہ اللہ نے توفیق دی۔ ہم جنگلوں میں چلے گئے۔ لال شہباز قلندر کے دربار پہ آئے۔ یہاں أنھوں نے اللہ اللہ سیکھایا۔ دل کا اللہ اللہ سیکھایا۔ دل سے اللہ اللہ کرنا شروع کر دیا۔
جب دل سے اللہ
اللہ شروع کر دیا۔ تو باطنی مخلوقات سامنے آگئیں اور وہ دس پارے بھی
سامنے آگئے۔ جب وہ دس پارے سامنے آگئے دیکھا کہ وہ قرآن اور یہ اور۔
پھر أن میں موازنہ کیا کہ
اِس میں فرق کیا ہے۔ جس کے لیے ابوہرہرہ نے فرمایا تھا کہ تم مجھے قتل
کر دؤ۔
أن پارؤں نے جواب دیا کہ اگر
تو اللہ سے بات چیت کر رہا ہو۔ اللہ کے دیدار میں ہو تو۔ نماز کا وقت
آجائے۔ تو تو دیدار چھوڑ کے نماز پڑھنا شروع کر دے۔ تو گناہ ہی کیا نا
تو نے۔
پھر اِس پورے قرآن نے کہا کہ تو روزے رکھ۔ اگر ذرا سا بھی پانی تیرے اندر چلا گیا۔ تیرا روزہ ٹوٹ جائے گا۔ جب أن دس پاروں سے پوچھا۔ تو وہ کہنے لگے تو بھلے دن کو کھاتا پیتا رہ تیرا روزہ ہی نہیں ٹوٹے گا۔ پھر بھئی اِس کا کیا مطلب اِس کا کیا مطلب؟ أن دس پارؤں نے جواب دیا۔ اگر تیرا نفس پاک ہو جائے۔ تو روزے نفس پاک کرنے کے لیے ہی ہوتے ہیں نا۔ اگر تیرا نفس پاک ہے۔ تو کھا یا نہیں کھا، تو تو سدّا بہار روزے دار ہی ہے۔
ہر وقت کا روزے دار ہے تو۔
اگر تیرا نفس مُطمئنہ ہو جائے تو۔
سخی سلطان فرماتے ہیں کہ اگر اِن سلطانوں کو اللہ کہا جائے تب بھی غلط نہیں ہے، روا ہے۔ اگر اِن سلطانوں کو اللہ کہا جائے۔ تو جن کے ذریعے سلطان بنے۔ تو پھر أن کا مرتبہ کیا ہو گا۔ یہ راہِ طریقت حضرت علی رضی اللہ تعالٰی کے بغیر کوئی چل سکتا ہی نہیں ہے۔ اہل سنت کہتے ہیں کہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ درجہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی کا ہے۔ ہم مانتے ہیں شریعت میں أن کا درجہ ہے۔ لیکن طریقت میں تو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی کا درجہ ہے نا۔ آگے اللہ تک پہنچانے والا جو رستہ ہے وہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی کے ذریعے ہی پہنچتا ہے نا فقر حضرت علی رضی اللہ تعالٰی کے ذریعے ہی چلتا ہے نا۔ ایک دفعہ ہم لال باغ میں بیٹھے تو کچھ ملنگ آئے۔ منہ میں سگریٹ تھے، چرسیں تھیں۔ ہمارے پاس سے گزرے بڑی ہمیں نفرت ہوئی۔ تھوڑا سا آگے گئے۔ أنھوں نے یا علی کے نعرے لگائے۔ قسم ہے رب کی جب أنھوں نے یا علی کے نعرئے لگائے۔ تو میں نے دیکھا ہے کہ وہ ساری جگہ نورانی منور ہو گئی۔ تو میں سوچنے لگا کہ یہ بھنگ، چرس پینے والے اِن کی زبانوں میں اتنی تاثیر۔ تو ہم جو قرآن نمازیں پڑھنے والے ہیں ہم تو بڑے دور ہیں۔ یہ راز کیا ہے؟ تو آواز آئی نہیں یہ اِن کی زبانوں میں تاثیر نہیں ہے۔ یہ جس کا نام لے رہے ہیں أس کے نام میں تاثیر ہے۔ أن دس پارؤں میں ایک عبارت جو ہم نے پڑھی۔ ہم نے آج تک وہ کسی کو نہیں بتائی۔ کہ لوگ سمجھ نہیں سکیں گے۔ خواہ مخواہ ہمارے خلاف ہو جائیں گے۔ ہم نے سُنیوں کو بھی نہیں بتائیٍ تو شیعوں کو بھی نہیں بتائی۔ آج کیونکہ دونوں اکھٹے ہو گئے ہیں نا۔ اب سوچا اِن کو بتا ہی دؤ۔ أس میں لکھا ہوا تھا۔ أن دس پاروں میں لکھا ہوا تھا۔ ایک دفعہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگھوٹی حضرت علی رضی اللہ تعالٰی کو دے دی۔ انگھوٹی حضرت علی رضی اللہ تعالٰی کو پہنا دی۔ أنھوں نے پہن لی۔ کچھ عرصہ بعد جب آپ معراج پے گئے تو دیکھا وہی انگھوٹی اللہ کے ہاتھوں میں پہنی ہوئی تھی۔ اب ہم نہیں سمجھ سکتے کہ وہ راز کیا تھا۔ نہ ہی اِس کے اوپر کوئ بحث کر سکتے ہیں۔ نہ ہی سمجھ سکتے ہیں کہ وہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی کی انگھوٹی اللہ کے ہاتھوں میں کیسے چلی گئی۔ اب وہ جو دس پارے ہیں ۔ اب أس کی بھی تشریح ضروری ہے۔
وہ دس پارے کیا ہیں؟ یہ جو قرآن آیا۔ یہ کوئی پارؤں کی شکل میں نہیں آیا۔
کبھی تھوڑا کبھی زیادہ، اِسی طرح 23 سال میں جو ہے نا یہ پورا ہوا۔ اِس
کے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی نے ہر روز ایک پڑھنے کے لیے اک حصّہ
کیا۔ اِس پورے کے تیس حصّے بنا دئیے۔ آپ دیکھیں گے کسی جگہ ایک پارہ ختم
نہیں ہو رہا۔ تو وہ أس کو پارہ بنا دیا گیا ۔ مضمون ختم نہیں ہو رہا اور
پارہ بنا دیا گیا۔ اِس کے تیس حصّے بنا دئیے گئے۔
یہ تیس پارے
عام لوگوں کے لیے۔ اِس کے لیے سفید کاغذ لانا پڑتا ہے۔
اور وہ دس سپارے خاص لوگوں کے لیے۔ أس کے لیے سفید دل لانا پڑتا ہے۔ اب أس علم کی تشریح کرتے ہیں کہ وہ علم کیا ہے۔ یقین کرؤ کہ اگر تمھارے پاس وہ علم آجائے تو تم کافروں کو بھی یہودیوں کو سب کو ایک کر لو۔ جب وہ تم سے علم چلا گیا تو تم مسلمان ہی بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے نا۔ یہ جو ڈھانچہ ہے یہ جو جسم ہے۔ یہ مٹی کا بنا ہوا ہے۔ اِس جسم کے اندر سات مخلوقیں ہیں۔ روحیں ہیں! باقاعدہ حدیث شریف میں أن کے نام ہیں قلب، روح، سّری، خفی، اخفا، اناّ نفس۔ یہ مخلوقیں ہیں۔ کسی کا کام دیکھنے کے لیے، کسی کا چلنے کے لیے، کسی کا بولنے کی لیے، کسی کا صرف اللہ اللہ کرنے کے لیے۔ اِن مخلوقوں کے آگئے اور نائب ہیں أن کو جُسّے کہتے ہیں۔ أن کا قرآن مجید میں نام ہے قلبِ سلیم، قلبِ منیب، قلبِ شہید، نفس امارہ، لوامہ، ملائمہ، مطمئنہ نو جسٰے ہیں۔ سات مخلوقیں تمھارے اِس ڈھانچے میں بند ہیں۔ ایک مخلوق ہے جو شیطانی ہے۔ أس کو نفس بولتے ہیں۔ بلھے شاہ نے فرمایا اِس نفس پلیت نے پلیت کیتا آساں منڈھوں پلیت نہ سےوہ جو نفس تمھارے اندر آیا تو تم پلیت ہوئے نا۔ ورنہ یہ تمھاری مٹی بنائی گئی، مٹی سے یہ جسم بنایا گیا نا وہ ناپاک نہیں تھا نا۔ وہ اندر جو روحیں ہیں وہ ناپاک نہیں تھیں نا۔ وہ جب نفس آیا تب تم ناپاک ہوئے نا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اِس انسان کو بڑے دور بھیجا۔ اِسی انسان میں سے اللہ نے اِن سے رابطہ بھی کرنا تھا۔ رابطہ کیا بھی نا۔ تو اِن میں ایک ٹیلیفون لگا کے بھیجا۔ کہ اگر أس کو مجھ سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہو گی۔ تو یہ ٹیلیفون آن کر لے گا۔ اب وہ ٹیلیفون کیا ہے۔ وہ ٹیلیفون تمھارا دل ہے۔ اب جس طرح یہ زبان اللہ اللہ کرتی ہے۔ اِسی طرح وہ دل بھی اللہ اللہ کرسکتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں۔ یہ درویشوں کا خیال ہے ہم نے دل دیکھا ہے، گوشت کا لوتھڑا ہےِ۔وہ اللہ اللہ کیسے کرتا ہے۔ تو درویش کہتے ہیں کہ یہ زبان یہ بھی تو گوشت کا لوتھڑا ہے ۔ یہ اﷲ اﷲ کیسے کرتی ہے۔ یہ گوشت دو جبڑوں کے درمیان لٹکا ہوا ہے۔ اور وہ گوشت دو پسلیوں کے درمیان لٹکا ہوا ہے۔ اِس گوشت میں طاقت نہیں ہے اللہ اللہ کرے۔ وہ ایک مخلوق ہے۔ وہ اِس کو اللہ اللہ کراتی ہے۔ وہ مخلوق سینے کے سنٹر میں ہے۔ أس کا نام ہے اخفا ہے۔۔وہ اللہ اللہ کرتی ہے۔ اِس گوشت کے لوتھڑے کے ذریعے۔ اگر کسی میں وہ مخلوق نہ ہو تو ڈاکٹر کہتے ہیں زبان تو صحیح ہے یہ بولتا کیوں نہیں ہے۔ انسانوں اور جانوروں میں اِن مخلوقوں کا فرق ہے۔ اگر یہ مخلوق جانوروں میں ہوتی ۔ أس کی بھی زبان ہے نا۔ وہ بھی تو کچھ نہ کچھ بولتے نا توتلا ہی بول لیتے۔ جس طرح اِس زبان کو بولوانے کے لیے اخفا ہے اور وہ جو دل گوشت کا لوتھڑا ہے۔ عربی میں أس کو "فواد" کہتے ہیں۔ اور وہ جو مخلوق ہے أس کے ساتھ أس کو قلب کہتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ اخفا آزاد ہے اور قلب ایک لاکھ اسّی ہزار جالوں کے اندر بند ہے۔ اگر کوئی ٲس قلب کو بھی آزاد کرا لے تو جسطرح یہ زبان اﷲ اﷲ کرتی ہے۔ اِسطرح وہ گوشت کا لوتھڑا دل بھی اﷲ اﷲ کرتا ہے۔اب وہ آزاد کیسے ہو۔ اگرکوئی شخص انڈے کی ضاصیت سے بے خبر ہے۔ أسے کہا جائے یہ ہوا میں أڑے گا یہ چوں چوں کرے گا۔ وہ کہے گا، غلط کہتا ہے۔ میں روز اِس کو توڑ کے دیکھتا ہوں کچھ بھی نہیں ہے اِس میں۔ أسکا نام بیضہ ہے، تصّوف نے تمھارے کو کہا تمھارے اندر بیضہ ناسوتی ہے۔ ٲس میں اِک چوزہ بند ہے اور أس مین ایک فرشتہ بند ہے۔ أس کو ظاہری گرمی کی ضرورت ہے۔ اور اِس کو اللہ ھو کی ضربوں کی ضرورت ہے۔ أس کو مرغی چاہیے اور اِس کو مرشد چاہیے۔ اگر مرغی نہیں ہو گی تو بے کار ہو جائے گا۔ جس طرح تمھارا دین اسلام بے کار ہو گیا۔ مرغی کیا کرے گی أس کے حساب سے أس کو گرمی پہنچائے گی۔ اور مرشد أس کے سینے کے حساب سے أس میں اللہ کا نور پہنچائے گا۔ اور جب وہ پھٹے گا أس کو کوئی نہیں سکھائے گا۔ بغیر سیکھے سکھائے چوں چوں چوں کرے گا۔ کیوں؟ اُسکی فطرت ہے نا۔ اور جب یہ پھٹے گا تو بغیر سیکھے سکھائے اﷲ اﷲ کرے گا ، نا۔ اﷲ اﷲ اسکی فطرت ہے۔اب یہاں سے پھر دوطرح کی تسبیح ہے۔ ایک تمھاری تسبیح جو بازارؤں میں بکتی ہے اور اِک وہ تسبیح وہ تمھارے اندر چلتی ہے۔ وہ بھی ٹک ٹک کرتی ہے نا۔ اب تم أس کے أستاد ہو گئے کہ تیری تسبیح یہ ہے۔ یہ تیرے دل کی ڈھڑکن ہے اِس کے ساتھ اللہ اللہ ملا۔ اب اِس تسبیح سے اللہ اللہ کیوں ملاتے ہیں۔ اللہ کو ایک دفعہ کہہ لینا، مان لینا کافی ہے نا۔ یہ گھڑی گھڑی اللہ اللہ کیوں کرتے ہیں۔ جسطرح پتھر پتھر سے ٹکڑاتا ہے شعلہ أٹھتا ہے۔ لوہا لوہے سے ٹکراتا ہے چنگاری أٹھتی ہے۔ پانی پانی سے ٹکراتا ہے بجلی بنتی ہے۔ اﷲ اﷲ سے ٹکراتا تو نور بنتا ہے نا۔ اب وہ نور بنا نا۔ لیکن وہ نور أنگلیوں میں اندر تو نہیں گیا نا۔ یہ اگر کام آیا تو یوم محشر میں کام آئے گا نا۔ یہاں تو کوئی کام نہیں ہے نا۔ جب اﷲ اﷲ تیرے دل کی ڈھڑکنیں پکاریں گی اللہ اللہ۔ تو پھر وہ جو نور بنے گا، نا۔ وہ تیرے اندر جائے گا نا۔ وہ تیرے خون میں جائے گا نا۔ خون سے ہوتا ہوا تیری نسّوں میں جائے گا نا۔ نسّوں سے ہوتا ہوا تیری روح تک پہنچ جائے گا نا۔ تو تیری روح بیدار ہو کے وہ اللہ اللہ کرنا شروع کر دے گی۔ پھر تو سوتا رہے گا روح اللہ اللہ کرتی رہے گی۔ تو قبر میں چلا جائے گا وہاں بھی اللہ اور یوم محشر تک اللہ اللہ ہوتی رہے گی۔ جب اِس جسم میں اللہ اللہ ہوتی رہے گی۔ وہ جو پھر نور بنے گا وہ کدھر جائے گا۔ وہ تیرے دل میں اکھٹا ہو جائے گا۔ تیرے دل میں نور اکھٹا ہو جائے گا۔ اب تو نماز پڑھتا ہے نا یہ ہی کہتا ہے میں نماز پڑھنے گیا۔ سراسر غلط ہے۔ قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ نماز پڑھ۔ أس میں لکھا ہے نماز قائم کر۔اؤ تو نماز پڑھتا ہے۔ اندر تو قائم ہوتی نہیں ہے نا۔ اندر تو نفس ناپاک ہے نا، کتا ہے نا اندر۔ تو نماز کیسے ٹھہرے؟ اب تو نے نماز پڑھی ہے۔ جب تو پڑھ رہا تھا أس وقت مومن تھا۔ جب تو فارغ ہوا تو پھر وہی ہیرا پھیری۔ جب تیرے اندر نور آئے گا۔ جس طرح میگنیٹ ہے۔ سؤیاں پھینکو نسبت ہے۔ اؤ چھوٹی چھوٹی سؤیاں پھینکو تو وہ میگنیٹ أن کو کھینچ لیتا ہے۔ نسبت ہے نا۔ جب تیرے اندر نور آجائے گا۔ پھر تو نماز پڑھے گا۔ تو نماز کا نور تیرے اندر۔ پھر تو تلاوت کرے گا۔ تو تلاوت کا نور تیرے اندر۔ پھر تو نماز پڑھتے وقت بھی مومن، تو سوتے وقت بھی مومن۔ تو کاروبار میں بھی مومن۔ اِس زبان کا تصّرف ہے یہاں بولتے ہیں۔ ایک آلہ اِدھر ہے ایک آلہ أدھر ہے۔ اؤ بی۔ بی ۔ سی والے سنتے ہیں۔ اور اس دل کا تصّرف ہے یہاں گونجتا ہے عرش مُعلی والے سنتے ہیں۔ تیری نماز کو یہ دل عرش معلیٰ میں پہنچائے گا۔ وہ نماز مومن کا معراج ہے۔ مومن کا! مسلمان کا نہیں۔اور مومن کی تشریح ہے سورة الحجرات میں ہے "اعراب نے کہا ہم اِیمان لے آئے،اﷲ تعالٰی نے فرمایا، نہیں کہو صرف اِسلام لائے مومن تب بنو گے جب نُور تیرے دل ميں اُترے گا"۔ جب دلوں میں نور اُترے گا، پھر تم مومن ہو گے نا ابھی تو مومن نہیں ہو ابھی تو مسلمان ہو۔ ایک دوسرے سے لڑتے ہو۔ تو مومن جب بن جاؤ گے تو پھر لڑؤ گے نہیں۔ مومن سارے بھائی بھائی ہوتے ہیں۔ مسلمان کیا ہوتا ہے؟ کلمہ زبان سے پڑھتا ہے۔ زبان مسلمان ہو گئی لیکن دل میں کا ہوتا ہے۔ دل میں شیطان ہوتا ہے۔ یہ بات نمازی کو بڑی بری لگتی ہے کہ یہ کہتا ہے تیرے دل میں شیطان ہے۔ اور ہم اِس کا ثبوت دیتے ہیں۔ جب تو نماز پڑھتا ہے تجھے وسوسے کیوں آتے ہیں۔ اؤ تو تو اللہ کے حضور میں کھڑا ہے۔ تجھے وسوسے کیوں آتے ہیں؟ اؤ تیرے دل میں شیطان ہے تب وسوسے آتے ہیں۔ وہی شیطان تجھے فرقہ بندی میں مبتلا کیے ہوئے ہے نا۔بايزيد بسطامى جنگل میں گئے جب باقی عبادت کرتے تو
شیطان ایک کونے میں کھڑا ہنستا رہتا۔ جب وہ اللہ ھو کی ضربیں لگاتے۔ دل
میں اللہ کو بسانے کی کوشش کرتے۔ تو شیطان قریب آتا ان کو ستاتا۔ روشن
ضمیر ہو گئے تھے۔ ایک دن ڈنڈا لے کے اُسکے پیچھے بھاگے، آج اِس کو مارؤں
گا۔ آواز آئی کہ اے بايزيد یہ ڈنڈوں سے نہیں مرتا، یہ اللہ کے نور سے
جلتا ہے تو اتنا ذکر کر اتنا ذکر کر کہ تو نور العلیٰ نور ہو جائے۔ جب
بايزيد بسطامى نور العلیٰ نور ہو گے تو دل سے کیا أس شہر سے ہی شیطان نکل
گیا۔ اب تم سارے ہی کہتے ہو، حکومت بھی کہتی ہے
ہمارے علماء بھی کہتے ہیں سارے ایک ہو۔ کیسے ایک ہو؟ جب تک تیرے اندر شیطان ہے تجھے ایک ہونے تھوڑی دیتا ہے۔بھئی اگر تو سنی ہے تو سنیوں
میں فرقے بنا دے گا۔ شیعہ ہو جائے گا تو شیعوں میں بھی فرقے بنا دے گا۔
تو وہ تجھے ایک نہیں ہونے دے گا۔ تو ایک ہونے کے لیے تو پہلے أس کو نکال۔
اِس دل میں یا شیطان ہو گا، شیطان یا اللہ ہو گا۔ اللہ کو بسا۔ جب تیرے
دل میں چوبیس گھنٹے اللہ اللہ شروع ہو جائے گی نا۔ اِس کو بولتے ہیں قلب
جاری ہو گیا۔ تیری روحیں تیرا دل اللہ اللہ کرنا شروع کر دیں گی نا۔ تو
پھر اِس دل میں شیطان نہیں رہے گا نا۔ پھر اللہ ہی رہ جائے گا نا۔ پھر
اللہ نے ہر مخلوق کو بنایا ہے نا۔ اؤ مسلمانون سے کیا وہ تو ہر مخلوق سے
محبت کرتا ہے وہ تو ایک چیونٹی سے محبت کرتا ہے نا۔ تو پھر تیرے دل میں
وہ وصف پیدا ہو جائے گا نا، جو اللہ کی صفات میں سے ہے نا فرقہ واریت أس
وقت ختم ہو گی نا۔ اب جب یہ تیری دل کی آواز أوپر پہنچنا شروع ہو جائے گی
تو پھر مومن بنے گا۔ تیری نماز أوپر ہو گی۔ آواز جا رہی ہے۔ أس وقت بلھے شاہ نے فرمایا ہے لوکی پانج ویلے، عاشق ہر ویلے، لوکی مسیتی، عاشق قدماںجب تو قدموں تک پہنچ گیا نا۔ تو مرتبہ تجھے مل گیا نا۔ اب یہاں پھر دو طرح کی شریعیت ہے۔ ایک شریعیت محمدی۔ ایک شریعیت احمدی ہے۔ تم شریعیت محمدی کے واقف ہو۔ اور وہ دس سپارے شریعیت احمدی کے سکھاتے ہیں۔ ہوسکتا ہے تم نے سنا ہو یا نہ سنا ہو وہ شریعیت احمدی کیا ہے۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا جو جسم مبارک ہے أس کا نام محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہے۔ آپ کی جو روح ہے أس کا نام احمد ہے۔ آپ کی جو اخفا ہے أس کا نام حامد ہے۔ آپ کی جو سر والی مخلوق انّا ہے أس کا نام محمود ہے نا۔
اؤ شریعیت احمدی پہلے کی ہے۔
شریعیت محمدی بعد میں رائج ہوئی ہے۔
جب حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم معراج میں گئے۔ معراج میں جانے سے پہلے بیت المقدس میں آپ نے نماز پڑھائی تھی۔ جس میں سب ولیّوں، نبیوں کی ارواح شامل تھیں۔ وہ نماز پڑھا کے أوپر گئے تھے نا۔ جب یہ نماز پہلے پڑھتے تھے۔ تو أوپر کون سی نماز ملی پھر؟ یہ شریعیت احمدی جس کے لیے آپ نے کہا تھا۔ کہ میں اِس دنیا میں آنے سے پہلے بھی نبی تھا۔ آج بھی اگر کسی کی روح اِس قابل ہو جائے تو أس کو وہی شریعیت احمدی، وہی نماز مل سکتی ہے جو بیت المقدس میں پڑھائی گئی تھی۔ آپ جب أوپر گئے وہ جو نماز ملی اِن کو پاک کرنے کے لیے ملی۔ وہ جو نماز پڑھا کر گئے وہ أن کے لیے تھی جو پاک ہی تھے۔ وہ نماز کہاں ہوتی ہے؟ وہ بیت المعمور میں ہوتی ہے۔اِس نماز کا اعتبار نہیں ہے قبول ہوئی ہے کہ نہیں یا ہوئی۔ کوئ اعتبار ہے؟ أس پر شک کرنا بھی کفر ہے۔ أس پے شک کرنا بھی کفر ہے، کیونکہ أس نماز کو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم پڑھاتے ہیں اور أس وقت تک سر ہی نہیں أٹھاتے جب تک اللہ جواب نہ دے لبیک یا عبدی۔ اللہ جواب دیتا ہے لبیک یا عبدی۔ تب پھر سر أٹھاتے ہیں نا۔ تو جس میں اللہ خود جواب دے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نماز پڑھائیں تو أس کے أوپر شک کون کر سکتا ہے۔اب یہ تو بات نماز کی ہو گئی۔ تو پھر وہ جو آگے أن پارؤں میں لکھا ہوا تھا۔ ُاس مقام پے نماز پڑھنا گناہ ہے۔ تو وہ کون سا مقام ہے؟ جب یہ مخلوقیں اِس جسم سے نکلتیں ہیں۔ سب سے پہلے جسم میں باری باری ذکر کرتیں ہیں۔ کوئی ادھر اللہ اللہ، کوئی اِدھر، کوئی اِدھر، کوئی اِدھر۔ تو پھر جب یہ اکھٹی کرتیں ہیں تو پھر یہی کبعہ، یہی مسجد، یہی گل و گلزار جنت ہے۔پھر وہ نور کی طاقت سے یہ اِس سینے سے نکلتیں ہیں باہر۔ جب سینے سے نکلتیں ہیں تو کوئی حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، کوئی خانہ کبعہ میں، کوئی حضرت علی کے پاس، کوئی غوث پاک کے پاس۔ یہ اِن کے مقام ہیں کہیں بھی چلی جاتیں ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے بندہ سوچتا ہے دیکھیں أوپر کیا ہو رہا ہے۔ سوچتا ہے دیکھیں أوپر کیا ہو رہا ہے۔ایک مخلوق ہے جو دماغ میں ہے ُاس کا نام ہے انا۔ وہ اِس دماغ سے نکلتی ہے تو سیدھی أوپر پرواز کر جاتی ہے۔ فرشتے روکتے ہیں وہ نہیں روکتی۔ فرشتے کہتے ہیں چلو جو کچھ بھی ہے۔ بیت المعمور سے آگے جل جائے گا۔ کیونکہ فرشتے بیت المعمور سے آگے نہیں جا سکتے اور یہ وہاں پہنچ جاتیں ہیں۔ جہاں رب کی ذات ہے ظاہری جسم سے حضور پاکﷺ وہاں پہنچے اور ان مخلوقوں سے ولیّ وہاں پہنچتے ہیں۔ عورتیں نہیں پہنچ سکیں أس مقام تک عورتیں صرف بات چیت کر سکتیں ہیں۔ لیکن صرف حضرت فاطمہ الزہرہ ہیں جنھوں نے رب کا دیدار کیا ہے۔ باقی کوئی عورت رب کے دیدار میں نہیں جا سکی، بات چیت تک پہنچ سکی۔ جب یہ مخلوقیں پھر أوپر جاتیں ہیں، بڑے دور سے گئیں نا، بڑی محنت کر کے گئیں نا۔ ،تو پھر ایک دوسرے کو پیار سے دیکھتے ہیں، ایک دوسرے کو پیار سے دیکھتے ہیں۔ پھر اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے میں تجھے دیکھ لوں تو مجھے دیکھ لے۔ وہ دیکھتے ہیں۔ پھر وہ جو اللہ تعالیٰ کا نقشہ ہے۔ أس مخلوق کے ذریعے أس کے سینے میں آتا ہے۔ جب أس کے سینے میں آتا ہے۔ پھر اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے اب تو نیچے چلا جا،اب جو تجھے لے وہ مجھے دیکھ لے۔پھر أس وقت سخی سلطان باھو نے فرمایا أس ولیٰ کے لیے۔ أس مرشد کے لیے "مرشد دا دیدار باھو مینوں لکھ کروڑاں حجاں ھو"۔مجھے کبعے میں جا کے اﷲ نہیں ملا۔ أس مرشد کا دیدار ہی میرے لیے لاکھ کڑؤڑوں حجوں کا ثواب بن گیا نا۔ یہ ہوتا ہے کامل مرشد۔ اب جو لوگ اللہ کے لیے بیعت کرتے ہیں۔ أن کے لیے ایسے ہی مرشد تلاش ہونا چاہیے نا۔ اب لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر نہیں ہے ہمارا مرشد کامل ہے یا ناقص۔ تلاش میں ہیں لیکن خبر نہیں ہے۔ خبر کیوں نہیں ہے ؟ پہلے زمانے میں کوئی کہتا کہ میں ولیٰ ہوں۔ روشن ضمیر ہوتے پہچان جاتے نا۔ اب غلطی تمھاری ہے تم روشن ضمیر رہے ہی نہیں نا۔مرزا غلام احمد نے کہا نبی ہے۔ تم لوگوں نے کہا ہو گا، مان لیا نا۔ روشن ضمیری ختم ہو گئی نا۔اِس وقت ضروری ہے کہ تم سب سے پہلے روشن ضمیر بن جاؤ۔
اپنے دل کی ڈھڑکنوں کو اللہ اللہ میں لگاؤ۔ جب وہ اللہ اللہ کا نور اِس
دل میں اکھٹا ہو جائے گا۔ چور کو چور پہنچانتا ہے۔ نور کو نور پہنچانتا
ہے۔ جب تم داتا صاحب کے دربار پہ جانا وہاں بھی اللہ یہاں بھی اللہ۔
ڈھڑکن تیز ہو جائے گی۔ رقت پیدا ہو جائے گی۔ پھر خواجہ صاحب کے دربار پہ
جانا وہاں بھی اللہ یہاں بھی اللہ۔ پھر جب تم کسی کامل کے سامنے جاؤ گے
نا۔ تو حدیث شریف جس کی محفل میں اللہ اللہ شروع ہو جائے۔ بس تمھارے لیے
وہ شناخت بن جائے گی۔ وہ ہی ہے مرشد جو تمھیں اللہ تک لے کر جائے گا۔
ورنہ تمھاری بھی زندگی بے کار اور وہ بھی بہت سخت روسیاہ۔ کیونکہ اگر
کوئی نبی نہیں ہے تو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو کافر کہتے ہو نا۔ اگر ولیٰ
نہیں ہے تو ولیٰ کا دعویٰ کرتا ہے تو کفر کے نزدیک پہنچ جاتا ہے نا۔ أس
کو ماننے والے کافر اور اس کو ماننے والے کم بخت اور بے نصیب۔ تمھارے دلوں میں شیطان ہے اور کہتے ہو کہ ہمیں حُبّ رسول ہے، حُبّ اللہ ہے، حُبّ علی ہے، اِس کا کوئی مقصد نہیں۔اب تمھارے دل میں محبت کیسے آئے گی؟ سارے کہتے ہیں کہ جب تک محبت نہ ہو کام نہیں بنتا۔ تو محبت کیسے آئے گی۔ جب یہ تمھارے دل کی ڈھڑکنیں اللہ اللہ پکاریں گی۔ ہر وقت اللہ اللہ، ہر وقت اللہ اللہ تو کوئی بھی چیز دل میں بس جائے أس سے محبت ہو جاتی ہے نا۔
جب تمھارے دل میں اللہ کی محبت ہو گئی تو پھر جن لوگوں سے اللہ محبت کرتا ہے پھر تمھارے دلوں میں أن سے بھی محبت ہو گی نا۔ پھر کسی کی روح حضرت علی کی طرف، تو کسی کی پنجتن کی طرف، تو کسی کی اصحابہ کی طرف، تو کسی کی رسول کی طرف۔ وہ محبت اصلی ہے نا۔ سچی محبت سے اللہ محبت کرتا ہے۔ پھر أن کو دیکھتا بھی ہے نا۔ سرسری نہیں دیکھتا پھر بڑے پیار سے دیکھتا ہے۔ اور جس دن اللہ نے پیار سے دیکھا وہ محبت بھی گئی پھر عشق آ گیا نا۔ تو پھر جب عشق آ گیا تو پھر میں تیرا اور تو میرا۔
أس وقت علامہ اقبال نے فرمایا گر ہو عشق تو کفر بھی ہے مسلمانی آج مسلمان ایک دوسرے کو کافر و رندیق ہی سمجھ رہے ہیں نا۔ تب ہی ایک دوسرے کی مسجدوں کے اوپر حملے کر رہے ہیں نا۔ نماز پڑھنا آسان ہے، رؤزے رکھنا آسان ہے، تہجد پڑھنا بھی آسان ہے۔ ساری رات اللہ کی یاد میں جاگنا بھی آسان ہے لیکن اللہ کو دل میں بسانا بڑا ہی مشکل ہے۔ أس کو اِس دل میں لانا بہت ہی مشکل ہے۔ اب تم نے اتنے سال نمازیں بھی پڑھی ہونگی، تہجد بھی پڑھی ہونگی کیا کیا وظیفے بھی پڑھے ہونگے۔ لیکن تمھارے دل میں اللہ نہیں ہے۔ تم نے جب دُعا مانگی ہو گی تو یہ ہی مانگی ہو گی۔ اے اللہ مجھے جنت دے۔ یہ ہی مانگی ہو گی نا۔ تمھیں اپنی زندگی میں یاد ہے کہ کبھی تم نے کہا ہو کہ اے اللہ مجھے تو چاہئے۔ کبھی بھی نہیں کہا۔ کیونکہ اللہ کا تعلق دل سے ہے۔ تمھارے دل سے آواز ہی نہیں نکلتی ہے۔ جب تمھارے دل میں اللہ بس جائے گا۔ تو کبھی نہیں کہو گے مجھے جنت چاہیے۔ یہ ہی کہو گے ائے اللہ مجھے تو چاہیے۔ پھر جب اللہ مل گیا تو خود بخود ہی بن مانگے کسی جنت میں بھیج دے گا۔اب اللہ کو اندر لانے کا طریقہ ہے۔ ہم ہندؤں میں بھی گئے، سکھّوں میں بھی گئے۔ سب نے کہا ہے کہ جب تک اللہ من میں نہ آئے نا، سب کچھ فضول ہے۔ أنھوں نے کہا فرقے کیا، أنھوں نے کہا یہ مذہب ہی فضول ہیں۔ اگر کسی کے اندر اللہ نہیں ہے تو زبان طوطا ہے تو طوطا تو ساری عمر اللہ اللہ کرتا رہے تو طوطا ہی رہتا ہے۔ جب تک اللہ اندر من میں نہ آئے یہی ایک نسخہ ہے۔ یہ ہی ایک نسخہ روحانیت ہے۔ اب وہ اللہ من میں کیسے آتا ہے؟ أس کو اپنے اندر جذب کرنا ہے۔أس کے لیےروزانہ66 مرتبہ کاغذ کے أوپر "اللہ"
لکھتے ہیں ۔أس کو لکھتے ہیں فجر کی نماز کے بعد یا جب بھی وقت ملے۔
چھیساٹھ مرتبہ لکھتے ہیں۔ جس طرح سات سو چھیاسی کو "بسم اللہ" سے نسبت ہے۔
اِسطرح چھیساٹھ کو اسم اللہ سے نسبت ہے، آپ تھوڑے دن لکھتے ہیں، ایک دن
آتا ہے۔ جو کاغذ پہ لکھتے تھے، نا وہ آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جاتا ہے۔ جب یہ اللہ دل میں جذب ہوتا ہے۔ أس وقت دل کی ڈھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ ٹک ٹک، ٹک، ٹک وہ دل کی تسبیح چل پڑتی ہے۔ أس تسبیح کے ساتھ اللہ ھو ملاتے ہیں۔ ایک کے ساتھ اﷲ، ایک ساتھ ھو۔ ایک کے ساتھ اﷲ ایک ساتھ ھو۔ گھڑی گھڑی اِسطرح کرتے ہیں وہ دل کی ڈھڑکنیں اللہ ھو میں تبدیل ہو جاتیں ہیں۔رات سونے لگو اِس انگلی کو قلم خیال کرؤ۔ تصّور سےدل کے اوپراﷲ لکھتے لکھتے سو جاؤ۔ اِسی میں نید آ جائے۔ صبح أٹھو وضو ہو یا نہیں ہو۔ دل کا وضو پانی سے نہیں ہوتا۔ ذکر خفی کرتے رہو۔ جب تک دل کی ڈھڑکنیں اللہ اللہ نہ کریں۔ أس کو ذکر خفی کہتے ہیں۔ جب دل کی ڈھڑکنیں اللہ اللہ پکارتیں ہیں، یہ ذکر قلبی ہے۔ آج تمھارا پہلا قدم طریقت میں آ گیا۔ آج تمھاری گاڑی اللہ کی طرف چل پڑی۔ کیونکہ طریقت کا تعلق اِس دل سے ہے۔ پھر اللہ اللہ کرتے کرتے پھر اللہ تک پہنچ جاتا ہے أس کو حقیقت کہتے ہیں۔ حقیقت کا تعلق اِن نظروں سے ہے۔اب ہمارے علماء کیا کہتے ہیں۔ شریعیت پوری کر۔ دیکھا
ہے داڑھی ہو گئی ہے دو چار نمازیں پڑھتا ہے۔ اب آگئے پہنچاؤ علی کی طرف۔
اب یہ ہے کہ تو اب سیاست میں آ جا۔ أس بیچارے کو سیاست میں لے آّتے ہیں۔
کچھ عرصے بعد پانچ چھ سال أس کے ضائع کر دئیے نا۔ اگر کرسی ملی تو مولوی
صاحب کو ملی۔ أس بیچارے کا کیا ہوا۔ أس کو کیا ملا۔ پھر وہ کہتا ہے مولوی
صاحب حاصل تو کچھ نہیں ہوا۔ کہ اب شہادت میں چلا جا۔ کیا؟ کہ تو أس پہ
حملہ کر وہ تجھ پہ حملہ کرے۔ یا شہید ہو جائے گا یا غازی ہو جائے گا۔
اِسطرح نوجوانوں کی عمریں برباد کر رہا ہے ۔ آساں نچ کے یار منایا اے۔ بڑی حیرانی ہوئی کہ نچ کے یار کیسے منتا ہے؟ پھر کہنے لگےاتھے نچنا وی عبادت بن جاندا اےکہ بلھے شاہ یہ کیا فرمایا؟ کہنے لگے بلھا خوب نچیا خوب نچیا دل دیاں دھڑکنا ابھریاں ڈھرکناں نال فیر اللہ اللہ ملایا۔ جس ویلے اللہ اللہ ملایا۔ تے فیر اللہ وی من گیا نا۔ اؤ میری نچنا نیت اے سی کہ اللہ منے۔ عملوں کا درومدار نیتوں پہ ہے نا۔ ہون توسی پاؤئیں نچو، تے پاؤئیں کبڈی کھیلو۔ تے قلندر پاک نے وی نچایا تے امیر کلال نے کبڈی کھیلائی ۔ تے پاؤئیں ورزش کرؤ۔ دل دیاں دھڑکناں اؤبھرن۔ أنھاں ڈھڑکناں نال اللہ ھو ملاؤ۔ یہ ایک راز ہے۔ اے جس کی اللہ چاہ سی۔ یہ جس کا اللہ چاہے گا أس کے دل کی ڈھڑکن اللہ اللہ میں لگ جائے گی۔ جن کے دل کی ڈھڑکن اللہ اللہ میں لگ جائے۔ وہ سمجھو اب اللہ کا دوست ہو گیا۔ "فذکرونی اذکرکم" أس نے نہیں کہا کہ تو نماز پڑھ میں نماز پڑھوں گا۔ تو رؤزے رکھ میں رؤزے رکھوں گا۔ أس نے کہا تو میرا ذکر کر میں تیرا ذکر کرؤں گا۔ اور لازمی ہے کہ جس کے دل میں اللہ اللہ شروع ہو گئی۔ أس کے دل میں اللہ کی محبت ہو ہی جائے گی۔جب أس کے دل میں اللہ کی محبت ہو گی۔ تو اللہ کو أس سے ستّر گنّا زیادہ محبت کرنی پڑے گی۔یہ اِس کا طریقہ ہے۔ اِس کے لیے اجازت ہوتی ہے۔ اجازت
کیا ہوتی ہے؟ آپ یہاں تحجد پڑھتے رہیں ۔ شیطان ایک کونے پہ کھڑا ہستا
رہتا ہے تھکتا رہ تیرا دل تو میرے ہاتھ میں ہے۔ جب جی چاہوں گا موڑ دؤں
گا اور تمہیں شکایت ہو گی میں تحجد گزار تھا، مجھے کیا ہو گیا کہ میں
فرض نماز نہیں پڑھ سکتا تو شیطان نے دل موڑ دیا نا۔ جب کوئی شخص اِس دل
میں اﷲ بسانے کی کوشش کرتا ہے۔ شیطان سوچتا ہے۔ اگر اﷲ اِس کے اندر چلا
گیا ۔یہ تو گیا نا۔ ہمارے ہاتھوں سے گیا۔
ایک دفعہ مجدد صاحب نے دیکھا باطنی مخلوق اُنکو سجدہ
کر رہی ہے۔ یہ جنات، فرشتے بڑے پریشان ہوئے سجدہ تو انسان کو جائز ہی
نہیں ہے یہ مجھے سجدہ کیوں کر رہیں ہیں۔ آواز آئی گبھراؤ نہیں یہ تمہیں
سجدہ نہیں کر رہے وہ جو تمھارے اندر خانہ کعبہ بس گیا نا ۔ یہ أس کو سجدہ
کر رہے ہیں۔ سوال: آپ فرماتے ہیں ولیٰ وہ جس نے رب کا دیدار کیا ہو یا رب سے ہم کلام ہوا ہو۔ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی ہے؟ جواب: ولیٰ اللہ أس کو بولتے ہیں۔ ولیٰ کا مطلب ہے دوست، اللہ، اللہ کا دوست۔ اگر میری کسی سے دوستی ہے تو أس کو دیکھا ہوا ہو أس سے بات چیت ہو تب دوستی ہے نا۔ ولیٰ اللہ! نہ اللہ کو دیکھا ہے نہ أس سے بات چیت کری ہے، پھر أس کی دوستی کیا ہے؟
أسی کو ولیٰ اللہ کہتے ہیں۔ اگر رب سے بات چیت بھی
نہیں ہے، دیدار بھی نہیں ہے۔ تو وہ ولیٰ اللہ نہیں ہے۔ مومن ہے، نیکوکار
ہے، عابد ہے۔ ولیٰ اللہ نہیں ہو سکتا۔ أس میں یہ تھا کہ جس طرح حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی پشت کے أوپر مہر نبوت تھی، اِسی طرح مہدی علیہ السلام کی پشت کے أوپر مہر مہدیت ہو گی۔جو کہے گا میں امام مہدی ہوں وہ دیکھ لینا،بھئی جو کہے گا میں امام مہدی ہوں وہ پشت دکھانی پڑے گی نا اس کو۔ مہر کو دیکھ کے تسلیم کر لیں گے۔ اِس کے لیے یہ ہے کہ آپ کسی فرقے یا کسی مذہب سے ہیں مجھے اِس سے مطلب نہیں ہے۔ آپ دوزخ میں جائیں یا بہشت میں جائیں۔ مجھے اِس سے بھی مطلب نہیں ہے۔ ایک اللہ کا حکم ہے جو تم کو پہنچا دیا۔ اب اگر پریکٹس کرؤ گے تو ہم تمھارے ساتھ ہیں۔ نہیں کرؤ گے تو ہمیں پرواہ کوئی نہیں ہے، ہاں حقیقت ہے۔اتنا ضرور ہو گا کہ اگر تیرے دل میں بھی اللہ ہے تو أس کے دل میں بھی اللہ۔ اب بہتر فرقے ہیں نا۔، تو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کون سا فرقہ تھا۔ نہ سُنی نہ شیعہ۔ تھے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں؟ نہ سُنی تھا، نہ شیعہ تھا، نہ وہابی تھا، کون تھا حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں؟ صرف أمتی تھا حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں أمتی وہ ہے جس میں نور ہوتا ہے۔
جن میں نور تھا وہ أمتی تھے نا۔ تو جب وہ نور نکلتا گیا نا تو سُنی، شیعہ، وہابی بنتا گیا نا۔ یہی وجہ ہے نا۔ اب اگر تمھارے اندر دوبارہ نُور آجائے تو کبھی نہیں کہوں گے میں سُنی ہوں، میں شیعہ ہوں۔ یہی کہو گے، بس اُمتی ہوں تُمھارا یا رسُول اﷲ۔ پھر جب سارے ہی ہو گئے أمتی۔ سُنی، شیعہ، وہابی سارے أمتی ہو گئے۔ پھر جھگڑا کس چیز کا ہے۔ أمتی نور سے ہوتا ہے۔حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صرف تین فرقے تھے۔ یہ شائد آپ لوگوں کو برا لگے۔ ایک أمتی جس میں نور دل سے بھی، زبان سے بھی ایک وہ أمتی تھے۔ أنھی کے لیے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر أن سے کچھ غلطی ہوئی تو میں أن کی شفاعت کرؤں گا۔ أن کے لیے کہا ہے۔ تو دوسرے کون تھے۔ جن کے دل کالے تھے دل نہٰں مانتے تھے۔ زبانیں نمازیں پڑھتیں تھیں، زبانوں میں بڑے مومن تھے، دلوں سے کالے تھے۔ وہ منافق کہلاتے تھے نا۔ تو تیسرے کون تھے جو مسجدیں بھی چھوڑ کے چلے گئے تھے وہ خوارج کہلاتے تھے نا۔اب یا منافق ہے، تو یا خوارج ہے، تو یا أمتی ہے۔ اب خود ہی حساب لگا لو تم کیا ہو؟ أمتی بننے کے لیے تمھیں اپنے اندر نور پیدا کرنا پڑے گا۔ وہ نور جب تک اللہ اللہ کا ٹکراؤ نہیں ہو گا نا وہ نور تمھارے سینوں میں نہیں جائے گا۔ ہاں ہم مانتے ہیں کوئی بھی ولیٰ، حضرت امام حسین، پنجتن پاک، حضرت علی رضی اللہ تعالٰی، حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کسی کو بھی سینے سے لگا لیں تو وہ نور ہو گیا۔ لیکن وہ تو کسی کسی کے لیے ہے نا سب کے لیے تو نہیں ہے نا۔ اب باقی کیا کریں؟ باقی اپنی محنت کریں، اپنے اندر اللہ اللہ کو بسائیں نا۔ تو یہ ہی ہے اللہ اللہ کا جب رگڑا لگتا ہے۔ دل کی ڈھئڑکنوں کے ساتھ اللہ اللہ ملتا ہے تو پھر وہ نور بنتا ہے۔ أس سے وہ أمتی ہوتا ہے نا۔ سوال: پوچھتے ہیں جو اجازت لینا چاہیں؟ جواب: میری زبان کے ساتھ اللہ اللہ پڑھیں گے اجازت ہو جائے گی۔ سوال: سرکار یہ بھی بتا دیں ہم کون سے آدم کی أولاد ہیں؟ جواب: آخری آدم کی أولاد ہیں۔ اِس سے پہلے چودہ آدم ہو گزرے ہیں۔ جب اللہ تعالٰی نے آدم علیہ السلام کو بنایا تھا۔ تب فرشتوں نے کہا تھا نا یہ بھی دنیا میں جا کے فسق و رفجور پیدا کرے گا۔ أن آدموں کا حال دیکھا ہوا تھا تب کہا تھا نا ورنہ فرشتوں کو کیا پتہ یہ کیا بنا رہا ہے۔اور اِس سے پہلے یہ جو یونان ہے
جس کو أس وقت قالدہ بولتے تھے۔ یہاں ایک قوم تھی جو ہم سے پہلے آدم ہیں۔
یہ ہم نے أن پارؤں سے پڑھا اپنے طور سے نہیں کہہ رہے۔ أن دس پارؤں سے
پڑھا۔ أس قالدہ میں أن لوگوں کا اتنا علم تھا۔ أوپر جو اللہ تعالیٰ
فرشتوں کو حکم دیتا نا۔ أن کو نیچے پتہ چل جاتا۔ أس وقت جبرائیل علیہ
السلام نے کہا کہ اے اللہ اِن کا علم اتنا زیادہ ہو گیا ہے۔ کہ أوپر تو
جو ہم کو حکم دیتا ہے یہ اِن کو پتہ چل جاتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے
فرمایا چلو جاؤ اِن کا امتحان لو۔ جب حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں أس وقت بھی نبی تھا جب حضرت آدم علیہ السلام کو بنایا ہی نہیں گیا تھا۔ نبی تو پھر کسی قوم میں ہوتا ہے نا۔ اِس کا مطلب ہے پہلے بھی کوئی تھی نا۔ تب آپ نے کہا تھا میں أس وقت بھی نبی تھا۔
جواب: اِس کا مطلب ہے کہ ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے بعد اور کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ یہ جو خاتم أولیاء ہیں۔ کیونکہ مہدی علیہ السلام کو ابھی آنا ہے۔ یہ جو لکھنے والے ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ مہدی علیہ السلام بھی آئیں گے۔ تو پھر مہدی علیہ السلام أولیاء ہی ہونگے نا۔ ولیّوں میں سے ہونگے نا۔ مہدی علیہ السلام کو علیہ السلام کیوں کہا گیا۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نبی ہونگے۔ حضرت علی ولیٰ ہونگے۔ کیونکہ جتنی بھی ولایّت ہے حضرت علی کے ذریعے ہی ولیٰ بنیں گئے۔ ورنہ کوئی نہیں بنئے گا۔ تو پھر امام مہدی بیچ میں کیا ہیں وہ نہ نبی ہیں تو نہ ولیٰ ہیں۔ وہ ایک بیچ کا درجہ ہے نہ نبی ہیں نہ ولیٰ ہیں۔ علیہ السلام کیوں کہا گیا ہے؟
کہ
وہ ایک نبی کو بیعت کریں گے نا۔ تو عیسّی علیہ السلام کا پیر ہو جائے
گا۔ وہ علیہ السلام تو پھر ہو ہی گیا نا۔
کچھ لوگوں نے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو بھی مان لیا تھا کہ یہ نبی ہیں لیکن فائدہ تو أن کو ہوا نا۔ جنھوں نے أن کا ساتھ دیا۔ فائدہ تو أن کو ہوا نا۔ اب تمھیں فائدہ تب ہو گا۔ اگر کہہ رہے ہو آ گئے ہیں۔ أن کا ساتھ دؤ گے تمھیں فائدہ ہو گا۔ ساتھ دینے کے لیے تمھیں أن کی پہچان چاہیے۔ کیسے پہنچانو گے؟
ایک حدیث شریف میں ہے کہ
پچھتر ہزار علماء دجّال سے بیعت ہو جائیں گے۔ یہ بھی ہے نا۔
اب دجّال سے کیسے بیعت ہوں گے۔ اور امام مہدی کو کون لوگ پہچانے گے۔ جب دجّال کہے گا کہ میں امام مہدی ہوں۔ أمت کہے گی ہمیں پتہ نہیں چلتا۔ مولوی صاحب آپ جاؤ۔ کوئی مسلئے مسائل دیکھو واقعہی وہ مہدی ہیں یا نہیں۔ پھر مولوی صاحب چلے جائیں گے۔ سب مسلئوں کا جواب دجّال دے دے گا۔ کیونکہ وہ فرشتوں کا بھی قاضی تھا نا۔ سارے مسلے أس کو آتے ہیں نا۔ سب مسلوں کا جواب دے دے گا۔ أس کا دماغ مُطمئن ہو جائے گا نا! مولوی صاحب کا۔
اب رہ گیا دل! دل میں تو اللہ نہیں ہے مولوی صاحب کے
شیطان ہے۔ چھوٹا سا شیطان ہے جس نے فرقے بنا دئیے۔ اب اِس کے دل میں
چھوٹا سا شیطان ہے نا تو وہ دجّال میں تو بڑا شیطان ہو گا نا۔ دماغ تو
أس کا مُطمئن ہو گیا مسلئوں سے اور أس کے دل نے أس شیطان کو بھی قبول
کر لیا نا۔ وہ أس کا جاکے بیعت ہو گیا نا۔
جن کے دلوں میں نور ہو گا وہ بھلے چور ڈاکو سہی۔
دلوں میں نور ہو گا وہ جب نور کے سامنے جائیں گے تو نور کے
مطیع ہو جائیں گے
نا۔
کہیں ایسا نا ہو کہ بلیم باعور بہت بڑا عالم تھا بڑی عبادت کرتا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کی مخالفت کری وہ ایک کتے کی شکل میں دوزخ میں جائے گا۔ اور وہ أن کا کتا ہے اصحاب کہف کا کتا۔ وہ اصحاب کہف سے محبت کرتا تھا۔کوئی نمازیں بھی نہیں پڑھیں۔ صرف محبت کرتا تھا۔ سچی محبت تھی۔ وہ بلیم باعور کی شکل میں جنت میں جائے گا نا۔ اب تم وہ سچی محبت پیدا کرؤ۔ تو سچی محبت تب ہی ہو گی جب تمھارے دل میں اللہ اللہ آّئے گا۔ تب تمھارے دل میں اللہ کی محبت ہو گی نا۔ تو ولیّوں سے بھی ہو جائے گی۔ تو مہدی علیہ السلام بھی ہو جائے گی۔
اِس
کے بغیر تم مہدی علیہ السلام کو کبھی بھی نہیں پہچان سکو گے۔
اگر اہل شریعت نے بہتر فرقوں میں أمت کو تقسیم کر دیا ہے تو پھر طریقت کے مختلف سلسلے کیوں ہیں ۔ شریعیت عام تھی عام لوگوں کے لیے تھی قرآن مجید عام لوگوں کے لیے تھا۔ وہ دس پارے خاص خاص کے لیے۔ وہ صرف نو اصحابہ کو ملے تھے۔ وہ نو اصحابہ سے وہ نقشبندی، چیشتی، قادری، تو سہروردی چلے نا۔ اب أن میں سے بھی اب صرف تین رہ گئے ہیں چیشتی، نقشبندی، قادری ، سہروردی بھی کٹ گیا۔ سوال: آپ نے فرمایا یے کہ اللہ کو دل میں بسا کر انسان مومن بنتا ہے اور ولیٰ کامل کی نظر مومن بناتی ہے۔ یعنی اللہ کا زکر دل میں اثر کرتا ہے۔ تو کیا دل میں اللہ کا نور بھرنے کے بعد اندر شیطان قابو میں آ جائیں گے؟ جواب: یہ تو ضرور ہے جب دل اللہ دل میں چلا گیا تو جتنی بھی برائیاں ہیں وہ خود بخود ہی ختم ہو جاتیں ہیں۔ آپ جیسے بھی گناہ گار ہیں۔ جب آپ اللہ اللہ کریں گے! حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں شیطان تمھاری نسّوں میں دوڑتا رہتا ہے۔ جب وہ اللہ اللہ اندر جائے گا۔ اگر تو شرابی بھی ہے۔ تو اللہ اللہ اندر جائے گا تو شراب باہر آ جائے گی نا۔ تو کتنا بڑا پاپی بھی ہے، گناہگار بھی ہے۔ اللہ اللہ کرے گا تو تیرے گناہ باہر آئیں گے۔ تھوڑا وقت اور ہے تو اور بات کر لوں۔ جب کوئی شخص نماز وغیرہ پڑھتا ہے۔ أس کی فائل پر لکھتے ہیں نماز پڑھی نیکی لکھتے ہیں نا۔ أس کی نیکی فائل پہ لکھتے ہیں۔ تہجد گزار بھی ہے وہ بھی لکھتے ہیں۔ لیکن جب وہ نمازیں وغیرہ پڑھتا ہے نا تو دل میں تھوڑا سا تکبر بھی آ جاتا ہے نا۔ اور ایک دن کیا ہوتا ہے نمازوں سے فائل بھر گی۔ اور تکبر، حرص، بخل سے دل سیّاہ ہو گیا۔ جب دل سیّاہ ہو گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کبھی کبھی اِس مخلوق کو دیکھتا ہے نا۔ وہ فائلوں کو نہیں دیکھتا وہ دلوں کو دیکھتا ہے نا۔ اؤ فائلیں تو ولیّوں نبیوں کے لیے ہیں نا۔ اور دل یہ اللہ کے لیے ہے نا۔ بھئی جب وہ فائل پہ لکھتے ہیں تو دل پہ دھبہ کیوں لگاتے ہیں۔ ایک دھبہ أدھر لکھتے ہیں ایک دھبہ دل پہ لگاتے ہیں۔ وہ اس وجہ سے کہ اگر اللہ کو ضرورت پڑی تو وہ دل دیکھ لے گا نا کہ کتنا گناہ گار ہے۔ اب کیا ہوا أس کا دل جو ہے نا وہ سیّاہ کالا ہو گیا۔ أس نے وہ دل کو سفید کرنے والا سبق سیکھ لیا نا۔ حدیث شریف میں ہے کہ ہر چیز کا صاف کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی ہتھیار ہے۔ دل کو صاف کرنے کے لیے اللہ کا ذکر ہے۔أس نے اللہ اللہ سیکھ لیا۔ اللہ اللہ سے دل منور ہو گیا۔ صاف ہو گیا۔ چمک أٹھا۔ پھر جب اللہ نے دیکھا تو أس کی فائل کو نہیں دیکھا۔ اؤ چمکتے ہوئے دل کو دیکھا۔ أس پہ مہربان ہو گیا نا۔اب اگر تو گناہ گار بھی ہے۔ فائل تیری گناہوں سے بھری ہوئی بھی ہے۔ دل کو چمکا لے پھر تجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اور ایک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جسے چاہو گمراہ کرؤں جسے چاہو ہدایت دؤں۔ لوگ کہتے ہیں میں نماز پڑھ لی مجھے ہدایت ہو گئی۔ ہم کہتے ہیں ہدایت نمازؤں میں نہیں ہے۔ اگر نمازؤں میں ہدایت ہوتی۔ سارے نمازی ایک ہی ہوتے۔ بھئی اگر ہدایت کا تعلق داڑھیوں سے ہے تو سارے داڑھیوں والے ایک ہی ہوتے نا۔ ہدایت کا تعلق دلوں سے ہے۔ اگر تم کو اللہ نے ہدایت دی تو تمھارے دل اللہ اللہ میں لگ جائیں گے۔ اگر تو تمھارے دل اللہ اللہ میں نہیں لگ رہے۔ تو تمھیں کوئی ہدایت نہیں ہے۔ اگر ہدایت ہو گی تو تمھارے دل اللہ اللہ میں لگ جائیں گے۔
اللہ
ھو*****اللہ
ھو*****اللہ
ھو******اللہ
ھو*****اللہ
ھو******اللہ
ھو******اللہ
ھو
اگر آپ بھی
ذکر کی لینا چاہتے ہیں تو امام
مہدی ریاض احمد گوھرشاہی کی
شبیہ مبارک
کوپورے
چاند پر دیکھتے ہوئے تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔
|
||||
|
© 1998-2010 All Faith Spiritual
Movement Intl' |