SELECT YOUR LANGUAGE:    ENGLISH    or   INDONESIAN

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے

اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر)

مرکزی صفحہ  تعارف  حضرت عیسی  کرشمہ قدرت  الحجرالأسود  تعلیمات  دینِ الٰہی  پروگرام  تصانیف  ویڈیو  رابطہ    

 

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھرشاہی مدظلہ العالی

کا تکونی مسجد حیدرآباد میں خطاب اور سوالات کے جوابات (1992)۔


آعوذبا اﷲ من الشیطن الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
 

عزیز ساتھیو السلامُ علیکم!
 

اِس محلے میں آنا ہمارا مقصد کوئی سیاست نہیں ہے، کسی کی مخالفت نہیں ہے، کوئی فتنہ نہیں ہے، کوئی حکومت پر نُکتہ چینی نہیں ہے۔ ہر گھر میں، ہرمحلے میں، ہر شہر میں اہل دل ہوتے ہیں۔ ٲن اہل دلوں کو نکالنا ہمارا مقصد ہے اور دلوں کی آواز دلوں تک پہنچانا مقصود ہے۔

حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو طرح کا علم تھا۔ ایک زبان والوں کے لیے اور ایک دل والوں کے لیے۔ زبان والے علم کو ظاہری علم بولتے ہیں اور دل والے علم کو باطنی علم بولتے ہیں۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جن لوگوں نے صرف ظاہر پہ قناعت کری أنہی میں کوئی خوارج ہوئے اور کوئی مُنافق ہوئے، اور جن لوگوں نے وہ دل والا بھی علم حاصل کیا وہ تو صحابِیِِ یا رسول اللہ کہلائے اور ولیوں سے اعلیٰ مقام بھی حاصل کر کے چلے گئے۔

آج علم ظاہر کی انتہا ہو گئی جب انتہا ہو گئی۔ وہ لوگ خوارج، منافق ہو گئے تھے۔ اور یہ لوگ 72 فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔ اب ضرورت اِس بات کی ہے کہ جس علم سے وہ صحابِیِِ یا رسول اللہ کہلائے تھے۔ وہ علم آج کے نوجوانوں کے دلوں میں بھی ہونا چاہیے۔

وہ علم کتابوں میں نہیں ملتا، حدیث شریف میں نہیں ملتا، مسجدوں میں نہیں ملتا۔ قرآن مجید میں صرف أس کا اشارہ ہے۔ کہ خضر علیہ السلام کو علم لدنی تھا۔ وہ علم تو نہیں ہے۔ اشارہ ہے! حدیث شریف قرآن مجید کی تشریحات ہیں۔ حدیث شریف میں بھی اِشارے ہیں ۔

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے دو علم حاصل ہوئے۔ ایک تمھیں بتا دیا۔ اگر دوسرا بتاؤں تو تم مجھے قتل کر دو۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ حدیث شریف میں بھی نہیں ہے۔

اور ایک اور واقعہ ہے۔ ایک دفعہ مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اﷲ علیہ بازار سے گزر رہے تھے۔ لوگ با ادب کھڑے ہو گئے۔ أس وقت جو بھی عالم ہوتا تھا۔ عالم حق ہی ہوتا تھا۔ لوگ أن کی تعظیم کرتے۔ لیکن ایک آدمی پھٹے، پرانے کپڑے پہنے ہوئے۔ ایک کونے پہ کھڑا اکڑا ہوا تھا۔ آپ نے أس کو گھورا کہ باقی تعظیم کر رہے ہیں۔ اور اِس کی حالت کیا ہے اور یہ اکڑا ہوا ہے۔ أس کو گھورا اور چلے گئے۔ أس آدمی کو بھی غصّہ آگیا۔ کہ ٹھیک ہے لوگ تمھاری تعظیم کر رہے ہیں اور میں نے بھی اپنی تعظیم تم سے ہی کروانی ہے۔ مولانا صاحب اپنے مکتب میں چلے گئے۔ پیچھے پیچھے وہ شخص بھی چلا گیا۔ جب گیا تو وہ بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ مطالعہ کر رہے تھے۔ أس نے سلام کیا، اور کتابوں کو دیکھا۔ تو پوچھتا ہے کہ "ایں چیست؟" وہ برہم ہو کے کہتے ہیں "ایں آں عِلم است کہ تو نمی دانی" کہ یہ وہ علم ہے جس کو تو نہیں جانتا۔ أس نے أن کے پیٹ پہ نظر ڈالی۔ أن کو بیت الخلاء کی حاجت ہو گئی۔ وہ چلے گئے لیٹرین میں۔ أس نے وہ کتابیں أٹھائیں اور پانی کے حوض میں پھینک دیں۔ جب وہ واپس آئے تو دیکھا کتابیں ہی نہیں ہیں۔ تو پوچھنے لگے میری یہاں کتابیں تھیں کدھر گئیں؟ أس آدمی نے کہا میں نے تو وہ پانی کے حوض میں ڈال دیں۔ کہ تو نے تو بڑا ظلم کیا، میرے بڑے قیمتی نسخے تھے کاغذی، بڑے دور دور سے میں نے حاصل کیے تھے۔ وہ تو سارے ختم ہو گئے ہونگے۔ أنھوں نے کہا ناراض کیوں ہوتے ہو میں ابھی نکالتا ہوں۔ جب پانی سے نکالیں تو وہ أسی طرح خشک تھیں۔ اب مولانا صاحب پوچھتے ہیں کہ "ایں چیست؟" وہ کہتا ہے "ایں آں عِلم است کہ تو نمی دانی" کہ یہ وہ علم ہے جس کو تم نہیں جانتے۔ اِس کا مطلب ہے کہ یہ وہ علم باطنی تھا۔ کیونکہ حدیث شریف بھی مولانا صاحب جانتے تھے۔ قرآن مجید بھی جانتے تھے۔ تو پھر وہ کوئی اور علم تھا جس کے متعلق کہا تھا کہ یہ وہ علم ہے جس کو تم نہیں جانتے۔ اب وہ علم پھر کہاں ہے؟

لوگوں نے سوچا حدیث شریف اور قرآن مجید کے علاوہ کہاں علم ہو سکتا ہے۔ قرآن مجید میں صرف أن تین الفاظوں میں أس باطنی علم کی ابتداء ہے۔ وہ جو "الم" ہے۔ تم کہتے ہو حروف مقطعات! آگے چلو، چھوڑ دیا تم نے۔ لیکن وہ "الم" وہی باطنی کی ابتداء ہے۔ "الف" سے اللہ اللہ کا ذکر کر یا "ل" سے "لاالہ الا اللہ" کا ذکر کر یا "م" سے "محمد رسول اللہ" کا ذکر کر۔ اگر تو ذکوریت میں نہیں ہے۔ پھر ٹھیک ہے تو قرآن مجید پڑھتا رہ۔

اور جو لوگ ذکوریت میں ہیں۔ أن کو قرآن مجید فرماتا ہے کہ أن کو نور سے ہدایت ہے۔

اور جو ذکوریت میں نہیں ہیں۔ أن کو پھر قرآن مجید سے ہدایت ہے۔ اب وہ باطنی علم کیا ہے؟ سخی سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں میں کسی مدرسے میں نہیں پڑھا لیکن میں نے قرآن مجید کا پہلا لفظ الف، الف سے اﷲ اﷲ کرتا رہا۔ کئی سال تک اللہ اللہ کرتا رہا۔ اللہ اللہ میری نس نس میں چلا گیا۔ اﷲ اﷲ سے میرا سینہ منور ہو گیا۔

جب سینہ منور ہو گیا تو جسطرح ظاہری علم کے لیے سفید کاغذ چاہیے اِسطرح اِس باطنی علم کے لیے سفید سینہ چاہیے۔ میرا سینہ جب سفید ہو گیا تو مجھے حضور پاک نے سینے سے لگا لیا۔ جب سینے سے لگایا تو وہ باطنی اور ظاہری علم میرے سینے میں خود بخود ہی آ گئے۔

آپ فرماتے ہیں وہ علم میرے سینے میں آ گئے۔ لیکن چونکہ میں لکھا پڑھا نہیں تھا۔ وہ علم میرے سینے میں آ گئے۔ لیکن لکھا پڑھا نہیں تھا۔ میں لکھا پڑھا نہیں سکتا تھا۔ پھر میں نے کیا، کیا ۔ کہ میں وہ بولتا رہتا اور کاتب وہ لکھتے رہتے۔ حتیٰ کہ میں نے وہ کتاب "نور الھُدی" بھی اِسی طریقے سے لکھوا دی۔ اور اور کئی کتابیں بھی اِسی طریقے سے لکھوا دیں۔ اب وہ علم باطنی وہ کیا ہے؟ یہ تو "الف" سے اللہ اللہ کیا۔ لیکن اللہ اللہ کیسے کیا؟ زبان سے اللہ اللہ کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ أنھوں نے اگر اللہ اللہ کیا تو وہ دل سے کیا۔ تو دل سے اللہ اللہ کیسے ہوتی ہے؟

لوگ کہتے ہیں ہم نے دیکھا ہے دل، گوشت کا لوتھڑا ہےِ۔ یہ اللہ اللہ کیسے کرتا ہے؟ لوگ کہتے ہیں یہ درویشوں کا خیال ہے۔ اگر تم اِس کو حقیقت سمجھو یقین کرؤ تمھیں اِس کے بغیر نید ہی نہ آئے۔ لیکن تم کہتے ہو کہ یہ درویشوں کا خیال ہے۔ درویش کہتے ہیں کہ یہ زبان یہ بھی گوشت کا لوتھڑا ہے۔ یہ اﷲ اﷲ کیسے کرتی ہے؟ اِس گوشت کو اللہ اللہ کرانے کے لیے ایک مخلوق ہے۔ جو سینے کے درمیان ہے۔ أسکا نام ہے لطیفہ اخفا۔ وہ مخلوق اِس کے ذریعے بولتی ہے۔ یہ گوشت کا لوتھڑا أس کا ذریعہ ہے۔ اگر کسی کی وہ مخلوق ختم ہو جائے ڈاکٹر کہتے ہیں زبان تو ٹھیک پتہ نہیں بولتا کیوں نہیں ہے؟
 

انسانوں اور جانوروں میں اِنہی مخلوقوں کا فرق ہے۔

زبانیں جانوروں کی بھی ہیں۔ اگر صرف زبانوں کی بات ہوتی تو وہ بھی کچھ نہ کچھ بولتے توتلا سا ہی بولتے۔ بولتے تو سہی۔ یہ مخلوق لطیفہ یہ اخفا یہ آزاد ہے۔ تمھارے اِس ڈھانچے میں سات مخلوقیں بند ہیں۔ حدیث شریف گواہ ہے جن کے نام ہیں۔ لطیفہ قلب، لطیفہ سّری، روح، خفی، اخفا، اناّ، نفس۔ سات اِس ڈھانچے میں بند ہیں۔ نو أن کے خلیفے ہیں جن کو جُسے بولتے ہیں۔ نو اور سات سولہ مخلوقیں اِس ڈھانچے کے اندر بند ہیں۔

وہ جو گوشت کا لوتھڑا ہے جسکو دل بولتے ہیں ٲسکے ساتھ بھی ایک مخلوق ہے جس کا نام ہے لطیفہ قلب۔ ایک لاکھ ستّر ہزار جالوں کے اندر بند ہے۔ اگر کوئی شخص ٲس کو بھی آزاد کرا لے تو جسطرح یہ زبان اﷲ اﷲ کرتی ہے۔ اِسطرح وہ، وہ لوتھڑا بھی اﷲ اﷲ کرتا ہے۔ وہ مخلوق أس کو اللہ اللہ کراتی ہے۔ جب یہ زبان اللہ اللہ کرتی ہے تو أس میں جنبش پیدا ہوتی ہے۔ جب وہ گوشت کا لوتھڑا اللہ اللہ کرتا ہے تو أس میں بھی جنبش پیدا ہوتی ہے۔ جب ذکر اللہ سے گوشت کے لوتھڑے میں جنبش پیدا ہو جائے تو عرش معلیٰ کو بھی جنبش ہوتی ہے۔ تو فرشتے پوچھتے ہیں اے اللہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا ایک خاکی بندہ جس پہ انکارئے سجدہ ہو تھا۔ آج وہ نہیں آج أس کا دل میرے ذکر میں مصروف ہے۔ أس وقت فرشتے کہتے ہیں کاش ہم بھی اِس طرح کے انسان ہوتے، ہمارے اندر بھی ایسے دل ہوتے ہم بھی تیرے عرش کو ہلاتے۔

اگر تم کو فضیلت ہے تو اِس دل سے فضیلت ہے۔ 
 

کیا وجہ ہے کہ فرشتے ہزارؤں سال سے عبادت کر رہے ہیں۔ کئی جنات ایسے ہیں جو اصحابہ جن ہیں۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے بیعت ہیں ابھی تک موجود ہیں۔ تم چالیس، پچاس سال میں أن سے کیسے بازی لے کے جا سکتے ہو۔ اگر بازی لے کر جاتے ہو تو اِس دل سے۔

اب وہ جو لطیفہ قلب ہے۔ وہ ایک لاکھ ستر ہزار جالوں کے اندر بند ہے۔
جب تک وہ آزاد نہیں ہو گا تو یہ مقام حاصل نہیں ہو گا۔ اب وہ آزاد کیسے ہوتا ہے؟

کسی شخص نے انڈا نہ دیکھا ہو أسے کہا جائے یہ ہوا میں أڑے گا، یہ چوں چوں کرے گا۔ وہ کہے گا کہ تو غلط کہتا ہے۔ نہ اسکی ٹانگیں ہیں، نہ پر ہیں، نہ زبان ہے۔ توڑ کے دیکھتا ہوں کچھ نہیں اور تو کہتا ہے یہ ہوا میں أڑے گا۔ وہ ایک نقل ہے أسکا نام بیضہ ہے تمھارے اندر بیضہِ ناسوتی ہے۔ ٲسکے اندر ایک چوزہ بند ہے اور تمھارے اندر ایک فرشتہ بند ہے۔ ٲس کے ٲوپر تین چھلکے ہیں۔ اِس کے اوپر ایک لاکھ اسّی ہزار جالے ہیں۔ أس کو ظاہری گرمی کی ضرورت ہے اور اِس کو اللہ ھو کی ضربوں کی ضرورت ہے۔ ٲسکے لیے مُرغی چاہیے اور اِس کے لیے مُرشد چاہیے۔

یہ کوئی قصّے کہانی کی بات نہیں یہ حقیقت ہے۔ یہ جو بات کر رہا ہوں یہ ایک تعلیم ہے۔ یہ ایک علم ہے۔

یہ علم حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے سینے مبارک سے نکلا ہوا ہے۔ اور اسی علم کے لیے ہمیں بھی حکم ہے کہ اِس کو عام کرؤ۔
کوئی واجب القتل کہے، کوئی کافر کہے، کچھ بھی کہے۔ ہم نے اِس علم کو عام ہی کرنا ہے۔

اب جب أس انڈے سے وہ چوزہ نکلتا ہے، جوں ہی نکلتا ہے۔ أس کو کوئی سیکھاتا نہیں ہے، بغیر سیکھے سیکھائے وہ چوں چوں کرتا ہے۔ اُسکی فطرت ہے۔ اور جب یہ بیضہ پھٹتا ہے۔ پھر اِس سے جب وہ فرشتہ نکلتا ہے تو بغیر سیکھے سیکھائے اﷲ اﷲ کرتا اسکی فطرت ہے اﷲ اﷲ۔

اُس وقت وہ آدمی دیکھتا ہے۔ میں تو اﷲ اﷲ نہیں کر رہا میرے اندر کون اﷲ اﷲ کر رہا ہے۔ أس کی آواز بالکل بچوں کی طرح ہوتی ہے۔

اب آدمی اُس کا اُستاد بن جاتا ہے۔ أس کو صرف اللہ اللہ کرنا آتا ہے۔ أس کو اور کچھ نہیں آتا۔ آدمی أس کا أستاد بن گیا۔ یہاں سے دوطرح کی تسبیح چلتی ہے۔ ایک پتھر کی تسبیح جو بازارؤں میں بکتی ہے۔ اور ایک دل کی تسبیح جو خواص کے لیے ہے۔ وہ پتھر کی تسبیح کا کیا کام ہے؟ وہ کرتی ہے ٹک زبان کرتی ہے اللہ، وہ کرتی ہے ٹک زبان کرتی ہے اللہ۔ وہ تسبیح بھی باہر جو زبان سے اللہ اللہ ہو رہی ہے وہ بھی باہر۔ اب ایک دفعہ اللہ کہہ لینا کافی ہے۔ یہ گھڑی گھڑی اللہ اللہ کیوں کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ایک دفعہ أس کو مان لو گھڑی گھڑی تم اللہ اللہ کیوں کرتے ہو؟ جسطرح بادل آپس میں ٹکڑاتے ہیں تو بجلی پیدا ہوتی ہے۔ اِسطرح جب اﷲ اﷲ آپس میں ٹکڑاتے ہیں تو نور بنتا ہے۔ لیکن وہ نور! تسبیح بھی باہر، دھیان بھی باہر اور وہ جو نور بنا وہ بھی باہر۔ أسی طرح کی ٹک ٹک تمھارے اندر ہو رہی ہے۔ تم أس لطیفہ قلب کے أستاد ہو گئے اب تم نے ٲس کو کہا کہ تیری تسبیح یہ ٹک ٹک ہے۔ اب أس نے وہ دل کی ڈھڑکن کے ساتھ اللہ اللہ کرنا شروع کر دی۔ تم نے أس کے ساتھ ملائی ۔ تین سال تک أس کے ساتھ اللہ اللہ ملاتے رہے۔ کبھی ملی کبھی ہٹی کبھی ملی کبھی ہٹی۔ تین سال کے بعد وہ اتنا پختہ ہو گئی کہ تم ڈٹ کے سوتے رہے اور وہ اﷲ اﷲ کرتا رہا۔

سخی سلطان باھو فرماتے ہیں کجھ جاگدؤں ستے ھو کجھ ستیؤں جاگدے ھو

کچھ لوگ ایسے ہیں جو جاگ کر ساری رات عبادت کرتے ہیں لیکن سوئے ہوں میں شامل اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو بستروں پر سو رہے ہیں اُن کے دل اللہ اللہ کر رہے ہیں۔

حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم سوتے ہیں ہمارے دل نہیں سوتے۔


اب أس ٹک ٹک کا کیا کام ہے؟ وہ جو اندر ہو رہی ہے۔ أس ٹک ٹک کا کام ہے کہ خون کو آگے دھکیلنا پھر آگے دھکیلنا، نس نس میں پہچانا۔ پھر خون واپس آ جاتا ہے دل میں، پھر وہ ٹک ٹکیں أس کو نس نس مین بھیجتیں ہیں۔ اب أن ٹک ٹکوں کے ساتھ اللہ اللہ مل گیا۔ اب وہ اللہ اللہ أن ٹک ٹکوں کے ذریعے نس نس میں چلا جاتا ہے۔ پورے لہو میں چلا جاتا ہے۔ اب جب تک لہو کو نکالو گے نہیں اللہ اللہ أس جسم سے نکلے گا نہیں۔

جب اللہ اللہ نس نس میں چلا گیا أس وقت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں تو ایک دفعہ اللہ کرے گا تجھے ساڈھے تین کروڑ اللہ اللہ کرنے کا ثواب ملے گا۔ فرماتے ہیں کیسے ملے گا کہ تیرے اندر ساڈھے تین کروڑ نسیں ہیں دل نے ایک دفعہ اللہ کری ساڈھے تین کروڑ نسیں گونج أٹھیں۔ سخی سلطان باھو فرماتے ہیں 72 ہزار اور ثواب ملتا ہے اگر اِک دفعہ دل اللہ کہے تو۔ کہ یہ جو مسّام ہیں جہاں سے پسینہ آتا ہے یہ 72 ہزار ہوتے ہیں دل نے ایک دفعہ اللہ کری 72 ہزار آوازیں یہاں سے بھی گونجیں۔

پھر علامہ اقبال نے فرمایا پھر خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟
 
فرمایا کہ ہے خودی کو کر بلند اتنا اور خودی کا مطلب سمجھایا خودی کا سّر نہاں لاالااللہ 
 

تو لاالااللہ کا اتنا ذکر کر لوگ کہیں مجنوں ہو گیا اور منافق کہیں ریا کار ہے۔

پھر کسی شاعر نے بھی کہہ دیا گناہ گار پہنچے درِ پاک پر زاہد و پارسا دیکھتے رہ گئے۔
 
بھئی وہ زاہد و پارسا کیسے دیکھتے رہ گئے؟ اور وہ گناہ گار کیسے پہنچ گئے؟ 

جب زاہد و پارسا کوئی نیکی کرتے ہیں۔ تو أن کی کتاب میں وہ نیکی درج ہو جاتی ہے۔ لیکن أس نیکی کے ساتھ تھوڑا سا تکبر بھی آ جاتا ہے۔ جو سینے میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ یہاں علم باطن کام آتا ہے۔ لیکن وہاں صرف زہد ہے، علم باطن نہیں ہے۔ پھر نیکی کری، پھر وہ کتاب میں لکھی گئی اور تھوڑا سا تکبر دل میں آگیا۔ حتیٰ کہ ایک دن ایسا ہوا کہ کتاب نیکیوں سے بھر گئی، أدھر وہ دل تکبر سے بھر گیا۔ جب تکبر سے بھر گیا تو اُسکے کے دوست بھی ہیں بخل ہے، حسد ہے، حّرص ہے، وہ بھی أس میں آ گئے۔ اللہ تعالی کبھی کبھی اپنے بندؤں کو دیکھتا ہے۔ جب أس زاہد پے نطر پڑی وہ فائلوں کو نہیں دیکھتا ہے، فائلوں تو فرشتوں کا کام ہے۔ أس نے دل کو دیکھا! جب دل کو دیکھا تو وہ تکبر سے بھرا ہوا ہے، بالکل سیّاہ پایا۔ اللہ تعالی اُس سے بیزار ہوگیا۔ جب اللہ تعالی اُس سے بیزار ہوگیا۔ تو أس کی ساری نیکیاں برباد ہو گئیں۔

أدھر وہ گناہ گار کیسے پہنچ گئے۔ أنھوں نے وہ عمل اکثیر اِسم ذات کا نسخہ حاصل کر لیا۔ جب کوئی گناہ گار گناہ کرتا ہے تو أس کی کتاب پر بھی گناہ لکھا گیا، اُسکے دل پہ بھی ایک دھبہ لگا دیا۔ حتیٰ کہ کیا ہوا کہ أس کی کتاب بھی گناہوں سے بھر گئی اور اور اُسکا دل بھی گناہوں سے کالا ہو گیا۔ اب أس نے وہ عمل اکثیر اللہ ھو کا سیکھ لیا۔

حدیث شریف میں ہے کہ ہر چیز کو صاف کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی ہتھیار ہے، دل کو صاف کرنے کے لیے ذکر اللہ ہے۔

أس نے اللہ اللہ شروع کر دی۔ جب اللہ اللہ کرنا شروع کر دی۔ أس کے دل کی صفائی ہونا شروع ہو گئی اور ایک دن ایسا ہوا کہ اللہ کے نور سے أس کا دل صاف شفاف ہو گیا۔ جب صاف شفاف ہو گیا۔ وہ کتاب کو صحیح نہیں کر سکا لیکن اپنے دل کو أس نے صاف کر لیا۔ پھر رب نے کبھی أس کو بھی دیکھا۔ جب أس کو دیکھا تو أس کے بھی دل کو دیکھا۔ جب دل کو دیکھا تو أس پہ مہربان ہو گیا۔ جب أس پہ مہربان ہو گیا تو وہ فائل لکھی کی لکھی رہ گئی۔

اور جب کوئی شخص اللہ اللہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہت ہی غنی ہے۔ اور أس کا دل بھی غنی ہو جاتا ہے۔

اور جو شخص اللہ اللہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہت ہی سخی ہے اور وہ بھی سخی ہو جاتا ہے۔

جب وہ سخی ہو جاتا ہے۔ کسی ولیٰ نے شیطان سے پوچھا کہ تیرا بہترِین دوست کون ہے؟ وہ کہنے لگا کنجوس عابد۔ کہ وہ کیسے؟ کہ اُسکی عبادت کو اُسکی کنجوسی رائیگاں کر دیتی ہے۔ اور تیرا دشمن کون ہے سب سے بڑا؟ تو شیطان کہنے لگا گناہ گار سخی۔ کہا وہ کسطرح؟ کہ اُسکی سخاوت اُسکے گناہوں کو جلا دیتی ہے۔ اِس طریقے سے گناہ گار پہنچے درے پاک پر زاہد و پارسا دیکھتے رہ گے۔

جب کوئی شخص نسّوں نسّوں میں نور کو پہنچا لیتا ہے۔ أس کے اندر ریڈ جمز بھی ہوتے ہیں جنکو سرخ جراثیم بولتے ہیں۔ وہ بھی اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ أس وقت أس کو کہتے ہیں کہ یہ نور ہو گیا ہے۔ یہ اب نور ہو گیا ہے۔ لیکن اگر أس وقت کوئی عالم بھی ہے۔ أس کو کہتے ہیں یہ نور العٰلٰی نور ہو گیا ہے۔

اور أنھی عالموں کے لیے حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میرے عالم بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہیں۔

أن کی توہین ذرا سی بھی توہین دین اسلام کی توہین ہے۔ أن عالموں نے کافروں کو مسلمان بنایا۔ أنھی لوگوں نے کافروں کو مسلمان بنایا۔

لیکن جو اِس علم باطن کے بغیر اللہ اللہ کے بغیر عالم ہیں۔ أن کو عالم سُو کہتے ہیں۔ 
 
أن کے لیے حدیث ہے کہ جاہل عالم سے ڈرؤ اور بچو۔ اصحابہ اکرام نے پوچھا عالم بھی اور جاہل بھی؟ کہ جسکی زبان عالم اور دل سیاہ یعنی جاہل ہو۔ 

أن عالموں نے کافروں کو مسلمان بنایا۔ یہ کسی کافر کو مسلمان نہیں بنا سکتا لیکن مسلمان کو کافر کہہ سکتا ہے۔ جہاں کہیں فتنہ أٹھا أن عالم نے جا کے أس فتنے کو مٹایا۔ یہ فتنہ مٹا نہیں سکتا ہے روز ایک فتنہ کھڑا کر دیتا ہے۔

وہ جو پہلا درجہ تھا وہ مسلمان کا تھا۔ وہ جو تسبیح پڑھتا تھا وہ مسلمان تھا۔ مسلمان! اور وہ جو جس کے دل میں نور چلا گیا وہ مومن تھا۔ مسلمان اور مومن میں فرق ہے۔

سورة الحجرات میں ہے۔ اعراب نے کہا ہم اِیمان لے آئے، اﷲ تعالٰی نے فرمایا، نہیں! اِنکو کہو صرف اِسلام لائے مومن تب بنو گے جب نُور تمھارے دل ميں اُترے گا۔

مسلمانوں میں بہتر فرقے ہیں۔ ایک دوسرے کو کافر منافق کہتے ہیں۔ لیکن مومن تو سارے بھائی بھائی ہیں۔ مومن نہیں کہتا کہ میں سُنی ہوں، میں شیعہ ہوں، میں وہابی ہوں۔ مومن کہتا ہے بس أمتی ہوں تمھارا یا رسول اللہ۔ کہ بس تمھارا أمتی ہوں۔ اور کچھ نہیں ہوں۔

اِس کے آگے پھر ولایّت شروع ہو جاتی ہے۔ یہ ولیّ لوگ کوئی آسمانوں سے نہیں آتے ہیں ۔ یہ تمھارے اندر ہی ولایّت ہے۔ ایک راز ہے۔ جس کسی نے اِس راز کو حاصل کر لیا وہ اللہ کو پا گیا۔ جو بھی بچہ خواہ کافر کا ہے یا مسلم کا ہے اِس دنیا میں آیا۔ ولایّت کا راز لے کے آیا۔ اگر کافر کا بچہ آیا وہ بھی ولایّت کا راز لے کر آیا کہ پتہ نہیں کب مسلمان ہو جائے۔ اور وہ راز سیکھ لے اور ولیّ بن جائے اور تاریخ گواہ ہے کہ کافروں کے بچے بھی مسلمان ہو کے ولی بنے۔

آپ نے دیکھا ہو گا رات کو گھر میں سوتے ہو۔ لیکن کسی دوسرے شہر میں خواب میں گھومتے ہو۔ اکثر لوگوں کو خواب آتے ہیں۔ تم تو نہیں ہوتے ہو، تم تو سو رہے ہوتے ہو، لیکن تمھارے اندر کی کوئی چیز ہوتی ہے۔ جس کو کہتے ہیں لطیفہ نفس وہ ہر کسی کی آزاد ہے۔ وہ شیطانی محفلوں میں گھومتی رہتی ہے اب وہ تمھارے اندر باقی مخلوقیں ہیں وہ نسوں میں چمٹی ہوئی ہیں۔ أن میں جان نہیں ہے۔ اب تم نے اللہ اللہ کا نور أن تک پہنچایا۔ اُن کی غذا گوشت روٹی نہیں ہے۔ أن کی غذا اللہ کا نور ہے۔ اللہ کے نور سے اندر وہ حرکت میں آئیں۔ أن میں جان آئی۔ جب أن میں جان آئی، أدھر تم کو خواب تبدیل ہونے شروع گئے، خواب میں دیکھا کہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے روضے کے گرد منڈلا رہے ہو۔ خواب میں دیکھا کہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہو اور ولیوّں کے درباروں کی طرف تمھارا رخ ہو گیا ہے۔ بارہ سال لگتے ہیں، اللہ اللہ کے نور سے اُن کی اندر پرورش ہو رہی ہے۔ جو مخلوقیں ہیں أن کی پرورش ہو رہی ہے، بارہ سال لگتے ہیں۔ بارہ سال میں وہ بالکل بالغ ہو جاتیں ہیں۔ جب بالغ ہو جاتی ہیں اُس وقت سونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب تم نے سوچا ہے دیکھیں حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کیا کر رہے ہیں، تم نے سوچا وہ اس سینے سے نکل کر حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں۔

بلھے شاہ فرماتے ہیں کہ لوکی پانج ویلے، عاشق ہر ویلے، لوکی مسیتی، عاشق قدماں

جو لوگ پانچ وقت رب کو یاد کرتے ہیں ۔ نماز بھی رب کی یاد ہے۔ أن کی انتہاء مسجد ہے باجماعت ہو جائیں گے اور کیا کریں گے۔ لیکن وہ لوگ جو اِس کے ساتھ ہر وقت اللہ اللہ بھی کرتے ہیں وہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں پہنچ جائیں گئے۔ قدموں میں پہنچ گئے نوازے تو گئے۔

اب تم نے سوچا دیکھیں اوپر کیا ہو رہا ہے۔ تم نے سوچا وہ سینے سے نکل کر أوپر پرواز کر گئیں فرشتوں نے روکا نہیں روکیں۔ کہنے لگے چلو جو کچھ بھی ہے۔ بیت المعمور سے آگے جل جائے گا۔ یہ بیت المعمور سے بھی آگے چلی گئیں وہاں پہنچ گئیں جہاں رب کی ذات ہے۔ ظاہری جسم سے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے اور ان مخلوقوں کے ذریعے ولیّ وہاں پہنچتے ہیں۔ 

اُس وقت فرشتوں نے کہا کہ واقعی انسان اشرف المخلوقا ت ہے۔ اُس وقت کہا اس وقت نہیں کہتے ہیں۔

اسکے بعد کیا ہوا کہ تم مر گئےَ۔ ہمارا عقیدہ ہے، اہل سنت کا، کہ مرنے کے بعد سب کی روحیں آسمانوں پہ چلی جاتی ہیں۔ خواہ نبی ہیں، خواہ ولیّ ہیں۔ یہ ہی عقیدہ ہے نا۔ تو پھر کھبی سوچا ہے اگر یہ روحیں سب کی أوپر چلی جاتیں ہیں۔ تو پھر اِن درباروں میں کیا ہے۔ دربار والے کی بھی روح آسمان پہ چلی گئی، برزخ میں چلی گئی۔ لیکن وہ جو اضافی مخلوقیں تھیں وہ ولیّ بن کے دربار پہ بیٹھ گیئں، نماز پڑھتیں ہیں، ذکر کرتیں ہیں، لوگوں کو فیض پہنچاتیں ہیں اور قیامت تک اِن کا ثواب اِس کی روح کو ملتا رہے گا۔

شب معراج میں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم موسیٰ علیہ اسلام کی قبر سے گزرے۔ دیکھا موسیٰ علیہ السلام قبر نماز پڑھ رہے ہیں۔ فورٔا أوپر پہنچے دیکھا موسیٰ علیہ السلام وہاں بھی موجود ہیں۔

مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ میں نے آپ کو فلاں دن خانہ کعبہ میں دیکھا۔ فرمانے لگے میں تو نہیں گیا۔ دوسرے نے کہا اُسی دن حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے روضے پہ دیکھا۔ کہ میں نہیں گیا۔ تیسرے نے کہا اُسی دن غوث پاک کے روضے پہ دیکھا۔ فرمانے لگے میں نہیں گیا۔ تو لوگوں نے پوچھا پھر کہا تھا؟ فرمانے لگے میرا اندر تھا۔ یہ اندر جتنے بھی یہاں موجود ہیں۔ سب کے اندر وہ اندر موجود ہے۔ اگر تم أس اندر کو سولہ میں سے ایک مخلوق کو بھی جگا لو تو تم مر کے بھی زندہ ہو۔ اگر تم نے اپنی زندگی میں ہی وہ مخلوقیں ختم کر لیں۔ چالیس سال کے بعد وہ مخلوقیں ختم ہونا شروع ہو جاتیں ہیں۔ اگر تم نے زندگی میں مخلوقیں ختم کرنا شروع کر دیں۔ تو تم زندہ ہی مردہ ہو۔ زندہ بھی ہو اور أدھر مردہ ہو۔

اور چالیس سال کا کیا ہے۔ راہِ عام اور راہِ خاص اِس میں فرق ہے۔ پندرہ سال کے بعد تو کتاب کھلتی ہے۔ جو تم اعمال کرؤ گے۔ پندرہ سال کے بعد درج ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اِس سے پہلے کوئی کتاب نہیں ہوتی ہے بچے کی۔ أس کے بعد کیا کرتا ہے کہ بچہ کچھ عرصہ پڑھتا رہتا ہے۔ ایف اے کیا، بی اے کیا کافی عمر ہو گئی۔ پھر أس نے کاروبار کیا۔ اگر نماز پڑھی تو گھر والوں نے کہا خیر ہے۔ اگر داڑھی رکھ لی وہ کہنے لگے یہ تو بڈھوں کا کام ہے۔ تو تو ابھی جوان ہے۔ اگر پھر أس نے اللہ ھو کرنا شروع کر دیا۔ تو گھر والوں کو آگ لگ گئی۔ یہ تو بالکل ہی بڈھوں کا کام ہے۔ تو ابھی جوان ہے۔ پھر أس نے شادی کری۔ ایک دو بچے ہو گئے۔ ذہن میں یہ ہی ہے کہ میں ابھی جوان ہوں۔ بڈھا ہونگا تو کر لوں گا۔ دو چار بال سفید ہو گئے۔ سب سے پہلے بیوی نے پوچھا کہ تیرے بال چیٹے ہو گئے۔ کہنے لگا میں تو ابھی جوان ہی ہوں نزلے سے ہو گئے۔ نزلے سے ہو گئے۔ ویسے تو میں جوان ہی ہوں۔ کیونکہ ذہن میں چھایا ہوا ہے جوان ہوں۔

أدھر مولانا رومی نے کہا چالیس سال عمرِ عزیزمِ گزشت مزاجِ تو طفلی نہ رکھ۔ اے میرے عزیز تیری عمر تو چالیس سال ہو گئی۔ تو ابھی بچہ ہی ہے۔ أدھر فرشتوں کو حکم ہوتا ہے۔ کہ کوئی بھی شخص جب چالیس سال کا ہو جائے۔ تو أس کی کتاب لے کے آنا تاکہ میں أس کو نوازؤں۔ جب کتاب جاتی ہے تو وہاں لکھا ہے میں تو ابھی جوان ہی ہوں۔ بس أس کا راہِ خاص ختم ہو گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے کہ بیس سال اور مہلت دو۔ جب یہ ساٹھ سال کا ہو جائے تو پھر اِس کی کتاب لے کے آنا۔ شاید اب یہ پتھر کی تسبیح کا آسرا لے لے۔

اگر کوئی شخص ساٹھ سال تک بھی کچھ نہ کرے تو اللہ تعالیٰ أس سے بیزار ہو جاتا ہے۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم أس کو أمت سے ہی خارج کر دیتے ہیں۔ یہ چالیس سال کا راز ہے۔ 

جسطرح وہ مرغی کا انڈا، یہ عبرت کے لیے آیا ہے اِس دنیا میں۔ چالیس دن تک أس کو کوئی گرمی نہ پہنچاؤ، سالم رہ سکتا ہے۔ چالیس دن کے بعد وہ ضائع ہو جاتا ہے۔ پھر آپ أس کو ہزار مرغیوں کے پاس لے کے جائیں، بے کار ہے۔ اِسطرح وہ جو تمھاری مخلوق ہے جس کا نام ہے لطیفہِ قلب جس نے تمھارے اندر اللہ اللہ کرنا ہے، وہ چالیس سال تک وہ بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ اگر چالیس سال تک آپ نے أس کو اللہ ھو کی ضربیں نہ لگائیں، اللہ ھو کا نور نہ پہنچایا تو وہ ختم ہو جاتا ہے۔ جب وہ وہ ختم ہو جاتا ہے۔

پھرعلامّہ اقبال فرماتے ہیں نہ تیری ضرب کاری نہ میری ضرب کاری

پھر آپ ہزار ولیّوں کے پاس چلے جائیں وہ چیز بیدار نہیں ہو سکتی ہے۔ أس کے لیے پھر کرامت ہی ہے۔ ایسے بھی اللہ تعالیٰ نے ولیٰ بھیجے ہیں کرامت والے۔ اگر انڈا خراب ہے! ٹھیک ہے تو ہر مرغی أس سے بچہ نکال سکتی ہے۔ کرامت تو یہ ہے کہ خراب ہے پھر بھی مرغی بچہ نکالے۔ بھئی کرامت تو یہ ہے نا۔ اور جو سخی سلطان باھو جیسے آتے ہیں۔ أنھوں نے کہا تو جیسا بھی ہے۔ کافر ہے، مسلمان ہے، چے زندہ ہے، چے مردہ ہے۔ جیتا ہے یا مر گیا۔ آ ادھر۔

وہ جو کامل ذات ہوتے ہیں۔ وہ مردہ دلوں کو بھی جگا دیتے ہیں۔

غوث پاک کی ایک وقت میں نو آدمیوں نے دعوت پکائی سنا ہو گا۔ جبرائیل علیہ السلام کی کبھی نہیں سنا ہے کہ دو جبرائیل بن گئے یا دو میکائیل بن گئے۔ کبھی نہیں سنا۔ کسی جن کا بھی نہیں سنا ہے کہ وہ دو بن گئے یا چار بن گئے۔ لیکن غوث پاک کی ایک وقت میں نو آدمیوں نے دعوت پکائی۔ نو کے گھر جا کر کھانا کھایا۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ لیکن جو آپ کو ماننے اور چاہنے والے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ایسا ضرور ہوا ہے۔ پتہ اُن کو بھی نہیں کیسے ہوا ہے۔ غوث پاک کا جسم مبارک مسجد میں مَوذن کے پاس تھا۔ اور وہ جسم کے اندر کی چیزیں أدھر جا کر کھانا کھا رہی تھیں۔ اگر اُنھوں نے کھانا کھایا ہو گا باتیں بھی کری ہوں گی، اُٹھیں بھی ہوں گی، بیٹھیں بھی ہوں گی اور جس میں اٹھنے، بیٹھنے باتوں کی طاقت ہے، نماز میں بھی یہی کچھ ہے۔ ہو سکتا ہے اُن کی نماز خانہ کعبہ میں ہوتی ہو اور وہ جو کہتے ہیں کہ درویش کی نماز عرشِ مُعلی میں ہوتی ہو۔ کہتے ہیں نا۔ کیسے ہوتی ہے۔ یہ جسم عرش معلیٰ میں نہیں جاتا وہ جسم کے اندر کی چیزیں عرشِ معلیٰ میں جاتی ہیں۔ تو ثواب کس کو ملے گا؟ جس کی وہ ہیں۔

اب غوث پاک کا جسم مبارک مسجد میں تھا تو وہ آزاد تھیں نا۔ اگر وہی جسم مبارک قبر میں چلا گیا۔ تب بھی وہ آزاد ہی ہیں نا۔ اور آج تک وہ لوگوں کو فیض پہنچا رہیں ہیں نا۔ لوگوں کو ملتیں ہیں، لوگوں کو فیض پہنچاتیں ہیں، لوگوں کو ولیّ بناتیں ہیں ۔ تو فیض! ثواب کس کو؟ جناب غوث پاک کو۔

اور یہ علم ظاہر اور علم باطن۔ ایک کو شریعیت بولتے ہیں اور ایک کو طریقت بولتے ہیں۔ شریعت، طریقت دونوں دین اسلام کے پر ہیں، دو پر ہیں۔ لوگ ایک پر سے أڑنا چاہتے ہیں۔ ایک پر سے کبھی پرواز نہیں کر سکیں گے۔ اللہ اللہ کرنے والے اگر شریعت میں نہیں تو وہیں پھرپھڑا رہے ہیں۔ اگر شریعت والے اللہ اللہ میں نہیں تو وہ وہیں پھڑپھڑا رہے ہیں۔

اِن کے بغیر نمازیں بھی کوئی نہیں۔ ایک حدیث شریف ہے "لاصلوۃ الا بالحضور القلب" دل کی حاضری کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ ہمارے اکثر عالم کہتے ہیں کہ یہ کسی کا قول ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ نہیں یہ ضیعف حدیث ہے۔ سخی سلطان باھو نے لکھا کہ یہ ایک مستند حدیث ہے۔ چالیس حدیثیں أنھوں نے مستند قرار دیں اور اِس کو بھی أن میں شامل کیا۔ اِس کا مطلب ہے دل کی حاضری کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ لوگ کہتے ہیں ہم دل سے ہی تو نماز پڑھتے ہیں سردی میں جاتے ہیں، گرمی میں جاتے ہیں، دل سے نہیں پڑھتے تو کیا پڑھتے ہیں۔ اور ہم کہتے ہیں کہ تمھیں أس دل کی خبر نہیں۔ جس کے لیے "لاصلوۃ الا بالحضور القلب" ہے۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ آپ کا کوئی ساتھی یا ہمسایہ بیس، پچیس سال آپ کے ساتھ گرمی، سردی میں مسجد میں جاتا رہا۔ دل سے ہی جاتا رہا نا۔ بیس، پچیس سال کے بعد پتہ چلا کہ وہ غیر مُقلد ہو گیا ہے۔ ایسے ہوں گے کئی ہونگے اگر اُسکی ایک نماز بھی قبول ہوتی تو وہ غیر مقلد کیوں ہوتا۔ اِس کا مطلب ہے کہ اگر أس کی ایک نماز بھی قبول نہیں ہوئی تب وہ غیر مقلد کیوں ہوا۔

کیونکہ وہ دل کی حاضری کے بغیر نمازیں پڑھتا تھا۔ اور تم بھی دل کی حاضری کے بغیر نمازیں پڑھ رہے ہو۔

اگر وہ بیس، پچیس سال کے بعد ہوگیا تو کیا بعید ہے تم تیس، چالیس سال کے بعد ہو جاؤ۔ تمھاری ہی طرح تھا نا۔

اﷲ تعالی نے حضور پاک کو فرمایا "قل ھو اللہ احد" کہہ دییجئے اللہ ایک ہے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے امین کہا۔ آپ نے لوگوں کو کہا کہہ دو اللہ ایک ہے۔ جنھوں نے آمین کہا مسلمان ہوئے۔ جنھوں نے نہیں مانا وہ کافر۔ جنھوں نے حیل وحجت کری وہ منافق۔

اب مسلمان کس کو کہتا ہے کہہ دے اللہ ایک ہے۔ جب بھی نماز میں کھڑئے ہوتے ہو۔ کہتے ہو کہہ دے اللہ ایک ہے۔ تم تو جانتے ہو پھر کس کو کہتے ہو؟ کہہ دے اللہ ایک ہے۔

تم اپنے دل کو کہتے ہو کہہ دے اللہ ایک ہے۔ وہ جواب دیتا ہے گھر میں آٹا ہی کوئی نہیں ہے۔ حیل و حجت کرتا ہے نا۔ پھر کہتے ہو اللہ الصمد اللہ بے نیاز ہے۔ وہ کہتا ہے نہیں بیوی بیمار ہے، حیل و حجت کرتا ہے مانتا ہی نہیں ہے۔ پھر کہتے ہو لم یلد ولم یولد۔ دل کہتا ہے ڈیوٹی سے لیٹ ہو گیا ہے چل۔

کافروں کی زبان اقرار نہیں کرتی، منافقوں کے دل تصدیق نہیں کرتے اور فاسقوں کے جسم عمل نہیں کرتے بتاؤ تمھارا دل تو منافق تھا۔ تو مُنافق دل کی نماز کیسے ہو گی۔ لگا رہ ساری عمر۔ اِس نماز کو صورت بولتے ہیں۔ اس نماز کے لیے قرآن مجید فرماتا ہے أن نمازیوں کے لیے تباہی ہے جو نماز حقیقت سے بے خبر ہیں۔ أن کی نماز دکھوا ہے۔

دکھوا کیسے ہے یہ نماز؟ بڑے خشوع و خضوع سے مسجد میں کھڑا ہے نماز پڑھ رہا ہے۔ لوگ دیکھ رہے ہیں نماز پڑھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نہ عملوں کو دیکھتا ہوں، نہ شکلوں کو، نہ تیری داڑھی کو دیکھتا ہوں، نہ تیرے سجدے کو۔ میں تیرے قلب اور نیت کو دیکھتا ہوں۔ جس کو اللہ دیکھتا ہے أس میں بیوی بچے اور کاروبار۔ جس کو دنیا دیکھتی ہے أس میں اٹینشن کھڑا ہوا ہے۔ یہ نماز دکھوا ہے۔

اور یہ نماز تباہی بھی ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے تباہی بھی ہے۔ تباہی کیسے ہے؟ نماز پڑھی تو تکبر آیا نا۔ أس کو نکالنے والی چیز ہی کوئی نہیں ہے۔ لوگوں نے کہا کہ پانچ وقت کا نمازی ہے اور تکبر آیا۔ کسی نے کہا تہجد بھی پڑھتا ہے اور تکبر آیا۔ ایک دن بے نمازی کو دیکھا بڑی حقارت سے دیکھا کہ میں تجھ سے بہتر ہوں.

یہ نہیں پتہ کہ ''تکبر عزازیل راخوارکرد'' نمازیں وہ بھی پڑھتا تھا تکبر نے أس کو خوار کیا نا۔

ایک حدیث شریف میں ہے کہ جس سینے میں ذرا بھی تکبر اور بخل ہے وہ جنت کے قابل ہی نہیں۔ اور أس کا سینہ تو تکبر اور بخل سے بھر گیا۔ جب سینہ تکبر، بخل سے بھر گیا اب سوچنے لگا کہ میرے جیسا آدمی اِس دُنیا میں تو کوئی نطر نہیں آ رہا۔ حضور پاک کو لوگ کہتے ہیں۔ ساری سُنتیں اپناؤ۔ أس نے ساری سُنتیں اپنا لیں۔ پھر سوچنے لگا کہ اب مجھ میں تو حضور پاک میں کیا فرق رہا وہ بھی تو میری طرح بشر ہی ہیں۔ جب یہاں تک پہنچا أسکا ایمان بھی چلا گیا۔ وہ نمازیں أس کو تباہی کی طرف لے گئی۔ یہ نماز صورت ہے۔
اِس کے بعد پھر نماز حقیقت شروع ہوتی ہے۔ نماز حقیقت کے لیے مجدد الف ثانی فرماتے ہیں عام لوگوں کی نماز صورت اور خاصان خدا کی نماز حقیقت۔ آپ فرماتے ہیں ہر آدمی کو چاہیے! مکتوبات شریف میں لکھتے ہیں۔ ہر آدمی کو چاہیے کہ نماز حقیقت کی تلاش کرے۔ نماز حقیقت کے لیے تمھارے کچھ پہلے ارکان ہیں جن کو تم نے فراموش کر دیا۔

تمھارے قرآن مجید کی پہلی ترتیب، پہلا لفظ الف"اللہ" ہی ہے۔ الف"اللہ" ہی ہے تمھارا پہلا رُکن اسلام کا۔

پہلا رُکن کلمہ ہے۔ اور کلمہ طیب! حدیث شریف افضل ذکر کلمہ طیب۔ کلمہ طیّب ذکر میں ہے۔ اور ذکر کے لیے حکم "اُٹھتے، بیٹھتے، حتیٰ کہ کروٹیں لیتے میرا ذکر کرؤ"۔ تمھاری سب سے پہلی جو سنت ہے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی وہ غار حرّا ہے۔ تو غار حرّا میں آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کیا کرنے جاتے تھے سو تو نہیں جاتے تھے۔ وہاں اللہ کا ذکر کرتے تھے۔ تمھاری پہلی مسلمانی اللہ کا ذکر ہے۔ 

نمازیں تو کئی سال کے بعد نازل ہوئیں ۔ مسلمان ہو گئے تھے۔ یہ تو شب معراج میں کئی سال بعد أتریں۔ أس سے پہلے مسلمان کیا کرتے تھے۔ ہر وقت ذکر اللہ الٰہی کرتے تھے۔ ہر وقت ذکر اللہ الٰہی کرتے۔ ذکر الٰہی سے أن کے سینے منور ہو گئے۔ جب سینے منور ہو گئے۔ أس وقت پھر نمازیں أتریں۔ پھر وہ نمازیں حلقوں میں نہیں رہیں ۔ وہ سیدھی سینوں میں گئیں۔

نماز حقیقت کے لیے تمھیں سب سے پہلے اللہ اللہ سیکھنی ہو گی۔ دل کی دھڑکنوں میں اللہ اللہ کو بسانا ہو گا۔

پھر تم کوشش کرو گے کام کاج کرتا رہوں اللہ اللہ ہوتی رہے اسکو بولتے ہیں دست کار میں دل یار میں۔ کامیابی ہوجائے گی۔ پھر کوشش کرو گے کہ اخبار رسالہ پڑھتا رہوں، اللہ اللہ ہوتی رہے۔ پانچ دس دن میں کامیابی ہوجائے گی۔ اخبار رسالہ بھی پڑھو گے، اللہ اللہ بھی ہوتی رہے گی۔ پھر کوشش کرؤ گے نماز پڑھتا رہوں اوراللہ اللہ ہوتی رہے، اس وقت زبان کہے گی کہہ دے اللہ ایک ہے دل کہے گا اللہ اللہ۔ زبان کہے گی"اللہ الصمد" دل کہے گا اللہ اللہ۔ "لم یلد ولم یولد" دل کہے گا اللہ اللہ۔ زبان اقرار کر رہی ہے دل تصدیق کر رہا ہے اور جسم عمل کر رہا ہے۔ زبان ذکر مفصل میں ہے اور دل ذکر مجمل میں ہے۔ زبان دلیل سے منوا رہی ہے کہ کہہ دے اللہ ایک ہے دل بغیر دلیل کے مان رہا ہے کہ اللہ ہی اللہ۔ زبان کا تصرف ہے ۔ امریکہ سے بولتے ہو یہاں سنتا ہو۔ یہ زبان کا کمال ہے اور أس دل کا کمال ہے یہاں گونجتا ہے عرش معلیٰ والے سنتے یہں۔

تمھاری اس نماز کو یہ دل عرش معلیٰ میں پہنچائے گا وہ نماز مومن کا معراج ہے۔

اِسکے بعد پھر ولیٰ کی نماز شروع ہو جاتی ہے۔ جس کو بولتے ہیں نماز عشق ۔

ایک دفعہ مجدد الف ثانی رحمتہ علیہ مسجد میں گئے دیکھا ایک آدمی سو رہا ہے۔ سوچا شاید نماز پڑھ کے سویا ہو گا۔ پھر گئے سو رہا ہے۔ آپ عصر سے مغرب تک مسجد میں رہتے۔ مغرب کی ازان ہو رہی ہے اور وہ سو رہا ہے ۔آپ فورٔا أٹھے برہم ہوئے۔ جگایا اٹھ یا نماز پڑھ یا مسجد سے نکل جا۔ فوراً اٹھا، وضو کیا، جماعت کھڑی ہونے والی تھی۔ بلند آواز سے کہا امام صاحب روک جائیں، امام صاحب روک گئے۔ أس نے نیتی دور کعت سُنت وقت فجر دیکھتے ہیں فجر کا سماں ہو گیا۔ پھر اُس نے ظہر کی نماز پڑھی پھر ظہر کا سماں ہو گیا، جماعت والے دیکھتے ہی رہ گئے۔ پھر أس نے عصر کی نماز پڑھی۔ راوی لکھتا ہے سورج لوٹ آیا ۔اُس وقت اُس نے کہا مجدد صاحب آپ تو صاحب نظر تھے بہتر تھا مجھے جگانے سے پہلے میرا حال دیکھتے میں تو اسی کے پاس تھا جس کی تم نمازیں پڑھتے ہو۔

اب یہ جس اِسم ذات کی بات کری۔ یہ کسی نبی کو نہیں ملا۔ بنی اسرائیل کے سارے نبی ترستے رہے۔ کہ یہ ہم کو اِسم ذات ملے۔ کسی نبی کونہیں ملا۔ اگر ملا تو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو ملا۔ اور حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے اِس اُمت کو ملا تب اِسکو فضیلت ہوئی۔

موسی علیہ السلام "یا رحمانُ" کا ذکر کرتے، صفاتی اِسم۔ عیٰسی علیہ السلام"یا قدوس" کا، سلیمان علیہ السلام"یا وہاب" کا، داؤد علیہ السلام "یا ودؤدؤ" کا۔ باقی نبی اپنے اُولولعزم مُرسل کا کلمہ پڑھتے۔

ایک دن موسیٰ علیہ اسلام نے کہا اے اللہ دیدار دے۔ جواب آیا تاب نہیں ہے۔ سوچنے لگے کسی میں تاب ہو گی۔ جواب آیا ایک میرا حبیب اور اُسکی اُمت۔ موسیٰ علیہ السلام کو جلال آ گیا کہ میں نبی ہو کے امتی کے برابر نہیں جلوہ دے دیکھی جائے گی جلوہ پڑا اور موسیٰ علیہ اسلام بے ہوش ہو گئےَ۔ یہ تو سارے مانتے ہو نا۔ اب کی وجہ ہے کہ موسی علیہ السلام اس دنیا میں کوہ طور میں بے ہوش ہوئے۔ اورحضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم سامنے جا کر مسکرا رہے ہیں۔ کیا وجہ تھی؟

موسی علیہ السلام کے جسم میں یا رحمان کا صفاتی نور تھا وہ ذات کی تاب نہ لا سکا۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے جسم میں اسم ذات کا ذاتی نور تھا۔ ذات ذات کے سامنے مُسکرایا اور حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے طفیل وہ اِسم اِس اُمت کو ملا تب اِسکو فضیلت ہوئی۔ اور أمت تو اس ڈرتی ہے یا محروم ہے۔

فضائیہ سب سے اعلیٰ ہے لڑنے میں۔ کیوں اعلیٰ ہے؟ کیونکہ وہ جہاز سے لڑتی ہے۔ اگر أس سے وہ جہاز چھین جائے تو۔ وہ بندوق والا أس سے بہتر ہے۔ اگر تم سے اِسم ذات چلا گیا تو تم سے وہ یا رحمانُ والے بہتر ہیں۔ ایک حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن اُمتوں کی پہچان نور سے ہو گی ۔ یہ "یا رحمانُ" سے چمک رہے ہیں موسٰی علیہ السلام کی اُمت۔ یہ "یا ودؤدو" سے چمک رہیں ہیں داؤد علیہ السلام کی اُمت

اور یہ جو اﷲ ھو سے چمک رہے ہیں یہ حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہے۔ یہ تمھارا نشان ہے۔

حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ اِسم ذات نو اصحابہ اکرام کو ملا۔ جنھوں نے سلسلہ چلایا۔ یہ چستی، نقشبندی، قادری أسی میں آتے ہیں۔ نو اصحابہ اکرام سے پھر یہ بارہ اماموں کو ملا جو وقت کے غوث تھے۔ بارہ اماموں سے لے کے پھر یہ غوث پاک کو دے دیا تب آپ غوث اعظم کہلائے۔ اِس وقت اِسم ذات غوث پاک کے پاس ہے۔ اور غوث پاک تک پہنچنے کے لیے کسی کا مرید ہونا پڑتا ہے۔

اور یہ اِسم أس وقت تک غوث پاک کے پاس رہے گا۔ جب تک مہدی علیہ السلام نہیں آتے۔

غوث پاک فرماتے ہیں اے میرے مرید میرا ہاتھ بہت بڑا ہے۔ فرماتے ہیں کہ میرا مرید ایک دفعہ ہو گیا۔ جیسا بھی ہے، مرتے وقت ایمان سے ہی جائے گا۔ آپ فرماتے ہیں میرا مُرید کون ہو گا۔ میرا مُرید وہی ہو گا جو ذاکر ہو گا پھر فرماتے ہیں "بہشت الاسرار" کہ میں ذاکر أسی کو مانتا ہو جس کا دل اﷲ اﷲ کرے۔ ورنہ یہ زبانی طور پہ تو طوطا بھی اﷲ اﷲ کر لیتا ہے۔ أدھر حدیث شریف کہ جس کا مرتے وقت زبان پہ کلمہ ہو گا بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائے گا۔ حدیث اور آپ کا قول ٹکڑا گیا۔ آپ نے ستر مرتبہ اللہ سے وعدہ لیا ہے کہ میرا مُرید ایمان کے بغیر کبھی نہیں جائے گا۔

لوگ کہتے ہیں ہم کو کلمہ تو آتا ہی ہے۔ مرتے وقت پڑھ لیں گے۔ لیکن یہ أن کو نہیں پتہ کہ مرنے سے پہلے ہی زبان بند ہو جائے گی۔
 ہزاروں میں کسی ایک کا سُنتے ہیں کہ مر بھی رہا تھا اور کلمہ بھی پڑھ رہا تھا۔

حضرت امام رازی ایک بزرگ گزرے ہیں۔ بہت بڑے عالم تھے۔ أنھوں نے اپنی زبان کو کلمے سے تر کیا ہوا تھا۔ سوتے رہتے تھے زبان کلمہ پڑھتی رہتی تھی۔ لیکن جب وہ باتوں میں لگتے تو زبان أدھر لگ جاتی۔ موت کا وقت آیا۔ شیطان نے سوچا کہ ہیں تو یہ جنتی لیکن یہ کلمہ پڑھتے جایئں گے بغیر حساب کتاب کے جاییں گے۔ چلو اتنا تو کر دؤں کہ حساب کتاب تو ان کا ہو۔ وہ آیا، آ کر پوچھنے لگا بتاؤ تم نے رب کو کیسے مانا، کوئی دلیل دؤ۔ ایک دلیل دی أس نے کہا نہیں، کوئی اور 99 دلیلیں دیں۔ أس کا مقصد تھا کہ دلیلیلوں میں ہی اِنکی جان نکل جائے کلمہ نہ پڑھ سکیں۔ اُدھر حضرت نجم کُبرا دیکھ رہے تھے دور سے ہی پانی کا چھینٹا مارا اور کہا اے نادان تو کہہ دے کہ میں نے بغیر دلیل کے ہی رب کو مانا، اور کلمہ پڑھ۔ اور تین دفعہ تکرار کری، روح پرواز کر گئی۔ تو شیطان نے ایسے لوگوں کو بھی نہیں چھوڑا پریشان کرنے کے لیے۔ تو عام آدمی کیا کہتا ہے کہ میں کلمہ پڑھ لوں گا۔ لیکن وہ لوگ جن کے دل اﷲ اﷲ کر رہے تھے۔ وہ مر بھی رہے تھے! شیطان کا تصرف اس زبان پر ہے۔ زبان عالم ناسوت میں ہے۔ دل کا تعلق عالم ناسوت سے نہیں ہے۔ دل کا تعلق عالم مالکوت سے ہے۔ کیونکہ شیطان کا تصرف زبان پہ ہے۔ دل پر نہیں ۔ یہ تو عالم مالکوت سے اِس کا ٹکراؤ ہو گیا۔ اب وہ مر بھی رہے تھے اور اﷲ اﷲ کر بھی رہے تھے، حتیٰ کہ مر بھی گئے اور مرنے کے بعد بھی ڈیڑھ سکینڈ تک اﷲ اﷲ کرتے رہے۔، حدیث شریف میں زبان کہا ہے۔ وہ بھی گوشت کا لوتھڑا ہے، یہ بھی گوشت کا لوتھڑا ہے۔ أس لوتھڑئے کو اس سے ستّر گنا زیادہ فضیلت ہے۔

اب بغیر حساب کتاب کے جنت میں کیسے جایئں گا؟ قبر میں چلا گیا مُنکر نکیر آ گئے وہ تین سو ساٹھ سوال کے جواب پوچھتے ہیں۔ پہلا سوال بتا تیرا رب کون ہے؟ وہ خاموش ہے، کفن پیچھے ہٹاتا ہے لفظ اﷲ چمک رہا ہے۔ فرشتے کہتے ہیں اے بندہِ خدا آرام سے سو جا۔ ہمیں تو شرم آتا ہے تجھ سے کیا پوچھیں۔ چپ کر کے واپس چلے جاتے ہیں۔ پھر ایک اور فرشتہ آ تا ہے جس کا نام امان ہے، وہ روح کو نکالتا ہے۔ أس کا کام ہے روح کو برزخ میں پہنچانا لکھے کے مطابق۔ لیکن وہاں تو کچھ لکھا ہوا ہی نہیں ہے۔ روح کو پکڑتا ہے، وہ اِسم اللہ کے نور سے چمک رہی ہوتی ہے۔ پھر رضوان کے پاس لے جاتا ہے، اِسکو بہشت میں داخل کر۔ رضوان کہتا ہے اِس کا حساب کتاب لا، وہ کہتا ہے یہ چمک دمک ہی اِسکا حساب کتاب ہے۔ اِس طریقے سے وہ شخص بغیر حساب کتاب کے وہ جنت میں جائے گا۔

اب بہت سے لوگوں کی خواہش ہوتی ہے۔ کہ ہمیں کوئی ایسا وظیفہ یا عمل مل جائے۔ جس سے ہمارے کاروبار چمک أٹھیں۔ ہمارا شہرت ہو جائے، رزق میں ترقی ہو جائے۔ اور وہ کسی عامل کی تلاش میں ہیں۔ کونکہ أن وظیفوں کے لیے کسی عامل کی اجازت ضروری ہے۔ خواہ سورۃ جّن کا وظیفہ ہو، یا سورۃ المزمل کا ہو، سورۃ مُلک کا ہو۔ جن لوگوں نے وہ وظیفے حاصل کر لیے کسی عامل سے، واقعی وہ قرآن مجید کی برکت سے خوشحال ہو گئے۔ اب جب أن سورتوں کے لیے عامل کی اجازت ضروری ہے۔ تو اِسم ذات جس میں ساری سورتیں بند ہیں۔ کیا أس کے لیے اجازت ضروری نہیں ہو گی؟

أس سورۃ کے لیے عامل کی اجازت چاہیے اور اِسم ذات کے لیے کسی کامل کی اجازت چاہیے۔ عامل بھی ایسا جب پھنسے آواز دے تو فورٔا پہنچے۔ اور کامل بھی ایسا ، پھنسے آواز دے تو فورٔا پہنچے۔

اِس اِسم ذات کی باقاعدہ اجازت ہوتی ہے۔ باقی صفاتی اسماء کتاب سے لے کر بھی فیض حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں نے اِسم ذات کو کتاب سے لے کر فیض حاصل کرنے کی کوشش کری۔ وہی پاگل ہوئے وہی برباد ہوئے۔ وہ اِس کی تاب بھی نہ برداشت کر سکے۔ تب لوگ اِس سے محروم ہیں کہتے ہیں یہ سخت جلالی ہے۔ اِس کے نزدیک مت جاؤ، یہی کہتے ہیں نا۔ لیکن اِس کے بغیر گزارا ہی نہیں ہے۔

یہ ہی تمھاری پہچان ہے۔ اور تم کہتے ہو کہ اِس کے نذدیک ہی مت جاؤ۔ یہ پاگل کر دیتا ہے۔

اِس کی اجازت ہے۔ اجازت کیا ہے؟ آپ یہاں تحجد پڑھتے رہیں۔ کام بڑا اچھا کر رہیں ہیں۔ لیکن شیطان ایک کونے پہ کھڑا ہستا رہتا ہے۔ کیوں ہنستا ہے؟ کہ تیرا دل تو میرے ہاتھ میں ہے، جب جی چاہوں گا موڑ دؤں گا اور تمھیں شکایت ہوئی میں بڑا تحجد گزار تھا مجھے کیا ہو گیا میں فرض نماز بھی نہیں پڑھ سکتا تو شیطان نے دل موڑ دیا نا۔

بايزيد بسطامى جنگل میں گئے جب باقی عبادت کرتے۔ شیطان دیکھتا رہتا لیکن جب اِسم اللہ کی ضربیں لگاتے اللہ ھو کو بسانے کی کوشش کرتے۔ شیطان قریب آکے أن کو ستاتا۔ وہ صاحب کشف تھے۔ ایک دن اُن کو بڑا غصہ آیا ڈنڈا لے کر اُسکے پیچھے بھاگے آج اِس کو مارؤں گا۔ آواز آئی کہ اے بايزيد یہ ڈنڈوں سے نہیں مرتا یہ اللہ کے نور سے جلتا ہے تو اتنا ذکر کر اتنا ذکر کر کہ تو نور العلیٰ نور ہو جائے۔ جب بايزيد بسطامى نور العلیٰ نور ہو گئے تو شہر بسطام سے جادوگر بھی چلے گے اب ہمارا یہاں عمل اثر نہیں کرتا۔

جب کوئی شخص اِسم اللہ کو اپنے دل میں بسانے کی کوشش کرتا ہے۔ شیطان کا قبضہ ہوتا ہے أس دل کے أوپر۔ وہ سوچتا ہے اگر اِسم اﷲ اِس کے دل میں چلا گیا، یہ شخص ساری عمر کے لیے میرے ہاتھوں سے گیا۔ شیطان کے پاس لشکر ہیں فوج کے بمعہ اسلحہ، جنات کے لشکر ہیں۔ قرآن مجید گواہ ہے۔ حکم دیتا ہے جاؤ اِسکو برباد کرؤ، تباہ کرؤ، کچھ بھی کرؤ یہ لفظ اﷲ اِس کے دل میں نہ جائے۔ اب تمھارے پاس تو ایک جن بھی نہیں ہے جو اُنکا مقابلہ کرؤ۔ وہ آیئں گے تمھیں ستائیں گے۔ باز نہیں آئے، بیمار کریں گے۔ باز نہیں آئے، پاگل بھی کر کے چلے جائیں گے۔ جب ہوش آئے گا تو یہی کہو گے خبردار اﷲ ھو مت کرنا اِس سے لوگ پاگل ہو جاتے ہیں۔ لیکن جہاں سے اِس کی اجازت ہوتی ہے۔ اﷲ تعالٰی اُنکو بھی ایک رحمانی فوج دیتا ہے۔ وہ شیطانی فوج تم پہ ٹوٹ پڑی اور وہ رحمانی فوج شیطانوں پہ ٹوٹ پڑی اور وہ رحمانی فوج اُس وقت تک تمھارا ساتھ دے گی جب تک تمھارے اندر رحمان جاگ نہیں اُٹھتا۔ پھر تم بندہ نہیں رہے بندہ نواز بن گئے، غریب نہیں رہے غریب نواز بن گئے۔ یہ اِس کی اجازت ہے۔

اِس کا پھر طریقہ بھی ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کوئی صاحب دل ہو۔ کسی کے دل میں یہ بات چلی جائے ہمارا مقصد حل ہو جائے۔

روزانہ66 مرتبہ ساٹھ چھ چھیاسٹھ مرتبہ سفید کاغذ پر کالی پنسل سے لفظ اﷲ لکھیں۔ فجر کی نماز کے بعد لکھیں تو بہت اچھا وقت ہے ورنہ جب بھی آپ کو فرصت ہو باوضو۔ چھیساٹھ مرتبہ لفظ اللہ لکھیں۔ پیار سے لکھیں، کہیں وہ بھی دیکھ رہا ہو، دیکھے تو پیار سے ہی دیکھے۔ تھوڑے دن آپ لکھیں گے ایک دن ایسا آئے گا۔ جو آپ کاغذ پر لکھتے تھے وہ آپ کی آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے گا۔

آنکھوں میں کشش ہے، کھینچ لیتیں ہیں۔ آنکھوں سے زیادہ دل میں کشش ہے۔ 

جب آنکھوں میں نظر آئے تو لکھنا بند کر دیں۔ آنکھوں سے پھر أسکو دل میں أتارنے کی کوشش کریں رب نے چاہا جو کاغذ پر لکھتے تھے دل پر لکھا ہوا نظر آئے گا۔ أس وقت دل کی ڈھڑکن تیز ہو جائے گی۔ أس دھڑکن کے ساتھ اﷲھو ملایں۔

قرآن مجید فرماتا ہے کہ کچھ لوگ ہیں جن کے دلوں پہ ایمان لکھ دیا۔ لفظ اللہ ایمان ہی ایمان ہے۔

رات سونے لگیں انگلی کو قلم خیال کر کے دل کے اوپر اﷲ لکھتے لکھتے سو جایئں۔ اِسی کی مستی میں نید آ جائے۔ اِس دنیا میں روزنہ ستر ہزار فرشتہ آتا ہے۔ سب سے پہلے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے روضے کی حاضری دیتا ہے۔ جو ایک وقت آئے گا دوبارہ نہیں آ سکے گا۔ پھر وہ أن لوگوں کو ڈھونڈتا ہے، جن کا تعلق حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ہے۔

ہر آدمی کا یہ گمان ہے کہ بڑا اﷲ کا کرم ہے۔ کیوں؟ کار بنگلہ ہے کرم نہیں تو اور کیا ہے۔ اور دوسرے سے پوچھتے ہیں کیا حال ہے؟ کہ بڑا ہی اﷲ کا کرم ہے۔ کیوں؟ غریب خاندان سے تھا اتنا بڑا آفسر ہو گیا کرم نہیں تو اور کیا ہے۔ اور تیسرے سے پوچھتے ہیں کیا حال ہے؟ کہ بڑا ہی اﷲ کا کرم ہے۔ کہ کیوں؟ اتنا بڈھا ہوں، اتنی صحت ہے کرم نہیں تو اور کیا۔ یہی کرم سمجھتے ہو نا۔ اور ہم کہتے ہیں کہ اگر تم اِسکو کرم سمجھتے ہو تو یہ چیزیں کافروں کے پاس بھی ہیں۔ جو کافروں کو دیں وہ تم کو دیں تمھارے پہ کیا کرم ہوا۔ بھئی کیا کرم ہوا تمھارئے پہ؟ یہ کیا پہچان ہے۔ اگر تم دیکھنا چاہو کہ واقعی ہی تمھارے پہ کرم ہے یا نہیں۔ ذکر اللہ میں لگ جاؤ دو، چار، پانچ، چھ، سات دن میں اندر سے اﷲاﷲ شروع ہوگئی أس کا کرم ہو گیا۔

فذکرونی اذکرکم تو میرا ذکر کر میں تیرا ذکر کروں گا۔ ذکر أسی کا کیا جاتا ہے جس سے دوستی ہو جائے۔ اگر کوشش کے باوجود اﷲاﷲ نہیں جمتا ہے۔ ألٹا وحشت ہوتی ہے۔ ألٹا اللہ اللہ کرنے والوں کو مسجدوں سے نکال دیتے ہو پھر تو تمھارے پہ رب کا کوئی کرم نہیں ہے۔ رب کا کرم ہوتا تو ضرور تم کو اپنے نام لیواؤں میں لیتا۔ اپنے آپ کو پہچاننے کا راز کہ میں کیا ہوں، رب مجھ پہ کتنا مہربان ہے۔ میرا مرشد کیا ہے، یہ ہی ایک کسوٹی ہے۔ یہ ہی ایک کسوٹی ہے۔

گجرانوالا میں ایک انگریز نے سوال کیا میں مسلمان تو ہو جاؤں۔ سارے عیب چھوڑ دؤں، سب نمازیں بھی پڑھوں گا۔ لیکن ایک بات اگر تم مجھے گارنٹی دؤ تو۔ کہ وہ کیا؟ کہ تمھارے علماء کہتے ہیں کہ مسلمان بھی ہو جا، نمازیں بھی پڑھ، پھر بھی گارنٹی نہیں ہے کہ تو دوزخی ہے یا بہشتی ہے۔ وہ کہتا ہے گارنٹی پھر بھی نہیں دیتے۔ وہ کہتا ہے وہ مذہب پھر کمزور ہوا نا جس کی گارنٹی نہیں۔ آج اگر گارنٹی ہوتی تو بہتر فرقوں میں کیوں تقسیم ہوتے۔ ہم کہتے ہیں مذہب اسلام گارنٹی ہی گارنٹی ہے۔

اؤ پانچ، سات دن میں پتہ چل جاتا ہے کہ تم کیا ہو۔ یہ نسخہ استعمال کر کے دیکھو۔ اگر اللہ اللہ شروع ہو گئی تو اللہ کا کرم ہو گیا۔ گارنٹی ہی گارنٹی ہے۔ اور اگر اللہ اللہ شروع نہیں ہوتی تو تمھاری کوئی گارنٹی نہیں۔

اور! اِس اللہ اللہ کا کیا فائدہ ہے۔ ایک اور فائدہ ہے، بہت زبردست فائدہ ہے۔ جس سے لوگ ولیّ بن جاتے ہیں۔ آپ دیکھیں آپ کا کوئی دوست امریکہ میں بیٹھا ہے۔ آپ أس کو چالیس دن دل سے یاد کریں یقین کریں أس کا خط آ جائے گا۔

دل کو دل سے راہ ہے۔ 
 

اب جب آپ اللہ تعالیٰ کو دل کی گہرائیوں سے یاد کریں گے۔ وہ تو کئی دوستوں اور کئی ماؤں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔ ہر وقت اللہ اللہ کریں گے،  ہر وقت اللہ اللہ کریں گے، اللہ اللہ کرنے سے آپ کے دل میں اللہ کی محبت ہو جائے گی۔ جب اللہ کی محبت ہو جائے گی۔ پھر ایک وقت آئے گا۔ سال میں آئے، دو سال میں آئے، دس سال میں آئے۔ آئے گا ضرور۔ پھر وہ اللہ دیکھے گا کہ یہ کون بندہ ہے۔ کب سے اللہ اللہ کر رہا ہے، دیکھوں تو سہی۔

پھر جب أس نے جب ایک دفعہ دیکھا۔ تو پھر وہ محبت نہیں رہی، پھر وہ عشق کا مقام ہے۔ پھر وہ کہتا ہے میں تیرا تو میرا۔ جب رب سے محبت ہو گئی، رب سے عشق ہو گیا، تو رب کے حبیب سے بھی عشق ہو گیا۔ کیونکہ وہ خدا بھی نہیں اور جدا بھی نہیں۔ جب رب کے حبیب سے عشق ہو گیا۔ تو سب ولیّوں سے عشق ہو گیا۔

ہم چاہتے ہیں کہ اللہ اللہ سے تمھارے دلوں میں اللہ اور أس کے حبیب اور ولیّوں سے محبت پیدا ہو۔

لیکن جب ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔ اِسی طرح داڑھیوں والے تمھارے پاس آ جائیں گے۔ وسوسوں کے زریعے اللہ اللہ کو نکالنے کی کوشش کریں گے۔ دلوں میں وسوسے ڈالیں گے۔ وسوسوں کا مقصد یہ ہی ہو گا کہ اِن دلوں سے اللہ اللہ نکالو۔ پھر تم یہ سوچ لینا کہ وسوسے کون ڈالتا ہے۔ "قل اعوذ برب النّاس" پڑھ لینا۔ پتہ چل جائے گا کہ وسوسے کون ڈالتا ہے۔ یا خناس، یا جن، یا أن کی طرح کے جو لوگ ہوتے ہیں۔ اِس وجہ سے جو لوگ ذکر لینا چاہتے ہیں۔ أن کے دل میں اگر کوئی سوال ہو تو ذکر لینے سے پہلے دلوں کی صفائی کر لیں۔ اگر کوئی سوال ہے ہمارے متعلق یا لٹریچر کے متعلق، تو پوچھ لیں۔ ہم نے ایک لٹریچر لکھا روحانی سفر کے نام پہ۔ وہ ہمارے بچپن کے واقعات تھے، کچھ خوابیں تھیں، کچھ ظاہر تھے۔ بہت سے لوگ ہمارے حمایتی ہیں، بہت سے لوگ ہمارے مخالف ہیں۔ بہت سے عالماء بھی ہمارے مخالف ہیں، اور بہت سے عالماء ہمارے حمایتی بھی ہیں۔

وہ جو مخالف علماء تھے أنھوں نے أس کتاب میں سے چند سطریں لیں، أن کو آگے پیچھے کر کے أس کے مفہوم بدل لیے۔ فتویٰ لگا کر پمفلٹ تقسیم کر دیئے۔ ہم پنجاب میں گئے،جدھر بھی گئے۔ وہ پمفلٹ لوگ سامنے لے آتے ہیں ۔ لوگوں کو یہی کہا بہتر یہی ہے کہ تم وہ کتاب خود پڑھ لو۔ روحانی سفر سٹال پے موجود ہے، خود پڑھ لو۔ لوگوں نے وہ کتابیں پڑھیں پھر وہ أن علماء کے پاس گئے۔ کہ اِن کتابوں میں تو ایسی بات نہیں ہے کہ واجب القتل کے فتوی لگا دیئے۔ اب وہ کہنے لگے کہ یہ دوسرے ایڈیشن ہیں، وہ پہلے ایڈیشن اِن لوگوں نے چھپا لیے ہیں۔ اور ہم کہتے ہیں کہ اگر واقعی ہم نے چھپا لیے ہیں تو جن سے تم نے اکتباس لیے وہ تو تمھارے پاس ہونگے نا۔ وہی دیکھاؤ۔

وہ اِس طریقے سے تم لوگوں کو پریشان کریں گے۔ اِس لیے بہتر ہے کہ جو ذکر لے پہلے دل کی صفائی کرے۔ أس کے بعد ذکر لے۔ ذکر لینے کے بعد کبھی نہیں کہے گا کہ مجھے ذرا بھی جلال آیا۔ کہے گا کہ میں چوبیس گھنٹے اللہ ھو کرتا ہوں مجھے تو ذرا بھی جلال نہیں آتا ہے۔ کچھ لوگ جلالی ہوتے ہیں، کچھ جمالی ہوتے ہیں۔ جلالی لوگوں کو یہ ضرور ہو گا۔ جب اللہ اللہ کریں گے۔ تو تھوڑا سا غصّہ آئے گا۔ جب غصّہ آئے پھر وہ کیا کریں۔ پھر وہ دروؤد شریف پڑھیں، درؤد شریف أن کے غصّے کو ٹھنڈا کر دے گا۔

اصحابہ اکرام فرماتے جب ہم پہ مصیبت آتی ہم دروؤد شریف پڑھتے۔ أس سے پہلے کیا کرتے؟ ہر وقت ذکر اللہ کرتے۔

ہر وقت ذکر اللہ کرتے۔ جب دل گھٹنے کو ہوتا درؤدشریف پڑھتے، جب ذکر بند ہونے کو ہوتا درؤد شریف پڑھتے، جب غصّے آتے درؤد شریف پڑھتے۔ وہ أن کو ٹھنڈا کر دیتا۔ اب کسی کا کوئی سوال ہو تو بتائیں۔

سوال: سوال ہے جی کہ جو لوگ اپنے نبی کو عطاء کیے گئے اِسم کا ذکر نہیں کرتے۔ کیا وہ بروز قیامت اِس أمت میں شامل کیے جائیں گے یا نہیں؟
جواب: اِس کا جواب یہی ہے جی۔ ہمارا تو ایمان ہے کہ جو بھی شخص کلمہ پڑھتا ہے، بھلے کتنا بڑا گناہگار ہو۔ بس منافق نہ ہو، گستاخ نہ ہو۔ کتنا ہی بڑا گناہگار ہے، کلمہ پڑھتا ہے وہ حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے بخشا ہی جائے گا۔ یہ ہمارا ایمان ہے۔ أس کے گناہ کی سزا شاید اِس دنیا میں ہی دے دی جائے أس کو۔ اگر پھر بھی زیادہ ہیں تو قبر میں دے دی جائے گی، تاکہ وہاں سرخرو ہو۔ اگر پھر بھی زیادہ ہیں، کچھ عرصہ جہنم میں رکھ کے وہ سزا دے دی جائے گی۔ لیکن جانا أس کو جنت میں ہی ہے۔ اب رہا سوال جنت میں تو وہ چلا گیا۔ أدھر جنت کے سات درجے ہیں۔ جنت کے سات درجے ہیں۔ ایک سے ایک اعلیٰ ہے۔

تمھارے اندر سات مخلوقیں ہیں۔ ہر ایک مخلوق کا تعلق ایک ایک جنت سے ہے۔

سب سے ادنیٰ عبادت! سب سے ادنیٰ عبادت اِس قلب کی ہے۔ اور قلب کا تعلق خُلد سے ہے، جو سب سے ادنیٰ جنت ہے أس سے ہے۔ یہ قلب والوں کے لیے خلد ہے۔ اب جنات ہیں، اصحابہ جن ہیں، ولیٰ جن ہیں لیکن وہ جنت میں نہیں جا سکتے۔ کیونکہ جنت تو قلب والوں کے لیے ہے۔ أن میں وہ قلب ہے ہی نہیں ہے۔ جنت کے باہر أن کو مکان ملیں گے۔ جنت کے باہر رہیں گے۔ لیکن اب جو شخص جنت میں خلد میں چلا گیا۔ دوزخ سے بچ گیا۔ أدھر قرآن مجید فرماتا ہے "کیا ان لوگوں نے سمجھ رکھا ہے ہم انکو نیکوکاروں کے برابر رکھ دیں گے" اب وہ جو قلب کا عبادت کرنے والا تھا وہ خلد کا حقدار ہے۔ اسکو خلد مل گئی، خلد کی حوریں مل گئیں، خلد کے مکان مل گئے۔ اور یہ جو کچھ بھی نہیں کرتا تھا یہ بھی اسی طرح بخشا گیا تو یہ اسکا جا کے غلام بن کے رہے گا۔ کتنا پچھتائے گا کاش یہ قلب مجھ میں تھا اگر میں بھی اسکی عبادت کرتا آج اس جیسا ہو جاتا۔ غلاموں کو تو حوریں نہیں ملتیں۔

ایک حدیث شریف ہے کہ جنتیوں کو اگر افسوس ہو گا جنت میں جا کے۔ بھئی جنت میں چلے گئے، پھر کیا افسوس ہے؟ "جنتیوں کو جنت میں جا کے جو افسوس ہو گا وہ یہی ہو گا، کہ دنیا میں جو لمحہ بغیر ذکر اللہ کے گزرا

جو ذکر نہیں کرتا تھا۔ أس کو یہ افسوس ہو گا، کاش میں ذکر کرتا اِن جیسا ہو جاتا۔ اور قلب والے کہیں گے کاش میں روح کا ذکر کرتا ایک درجہ اور ہو جاتا، دارالسلام میں چلا جاتا۔ روح والا کہے گا کاش میں سرّی کی عبادت کرتا ایک درجہ اور دارالقرار میں چلا جاتا۔ ہر جنت والے پچھتائیں گئے۔ اور آخری والا کہے گا کاش میں انآ کی عبادت کرتا تو میں فردوس میں چلا جاتا۔

یہ جنتوں کے درجوں کے لیے تمھارے اندر سات مخلوقیں ہیں اور باقاعدہ أن مخلوقوں کی تربیت ہے۔ أن کے ذکر علیحدہ ہیں۔ کسی کا "یا اللہ" کسی کا "یا حیّ یا قیّوم" کسی کا "یا واحد" کسی کا "یا احد" کسی کا "یا ھو" کسی کا "کلمہ شریف" یہ أن کے ذکر ہیں۔

اب انسان کے دماغ پہ ایک پردہ ہے جسکو حجاب اکبر بولتے ہیں۔ آپ کو کہا جائے آپ مری چلیں گے۔ دو مہینے کیلئے چلے جائیں تو آپ بندوبست کریں گے کھانے پینے کا پہننے کا کمبل کا کہ کہیں مجھے وہاں تکلیف نہ ہو لیکن جہاں ساری عمر کیلئے جانا ہے وہاں کیلئے کوئی بندوبست ہی نہیں ہے۔ وہاں دو مہنیے کے لیے جا رہے ہیں تو واپس آجائیں گے۔ وہاں سے واپس ہی نہیں آنا، أس کے لیے کوئی بندوبست ہی نہیں ہے۔ یہ دماغ پے ایک حجاب اکبر ہے وہ کب پھٹتا ہے؟ جب آدمی مرنے لگتا ہے۔ جب مرنے لگتا ہے۔ تو وہ شیطان کا حجاب وہ شیطان ہٹا دیتا ہے۔ أس وقت وہ آدمی کہتا ہے کاش اب مجھے موقعہ ملے۔ میں کچھ کر کے دکھاؤں۔ اب تو موت کا وقت ہے۔ اب تو کیا کرئے گا۔

یہاں حدیث شریف میں ہے کہ مرنے سے پہلے ہی مر جاؤ۔ وہ کس طرح؟ جب تم یہ ذکر کرؤ گے، سینے کے پانچ ذکر پھر ایک نفس کا ذکر ہے چھ، پھر ایک انا کا دماغ کا ذکر کرؤ گے۔ جس کا "یاھو" کا ذکر ہے۔ "یاھو" کی گرمی سے وہ پردہ پھٹ جائے گا۔ جیتے جی وہ پردہ پھٹ جائے گا۔ وہ مرتے وقت ہوش آیا۔ اب جیتے جی ہوش آگیا۔ أس وقت دنیا کے لیے کم اور آگے کے لیے زیادہ کرؤ گے۔ یہ حجاب اکبر۔

اور کوئی سوال جی۔

سوال: حدیث میں آتا ہے کہ جس آدمی نے خانہ کبعہ کی طرف منہ کر کے تھوکا تو أس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ یہ بات کہاں تک درست ہے۔ آپ وضاحت فرمائیں؟
جواب: یہ جو حدیث کی بات وہیں تھی ناں، خانہ کعبہ میں تھی یہاں تو نہیں تھی۔ کیونکہ یہاں تو نہیں کہی انہوں نے وہاں کہی تھی ناں۔ یہاں تو یہ ہے یہ مسجدیں ہیں نیچے قرآن مجید پڑھے ہیں لیکن اوپر پردہ ہے دوسری منزل ہے، وہاں بھی آپ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ یہاں سے خانے کعبے تک تو پتا نہیں کتنے پردے ہیں۔ جب خانے کعبے میں اگر کوئی ہو تو وہاں اسکی طرف منہ کر کے تھوکے گا تو واقع اسکی نماز نہیں ہوتی۔ اب یہاں تو پتا بھی نہیں چلتا کسی کو خانہ کعبہ کدھر ہے۔ اب یہاں تمہیں پتہ ہے خانہ کعبہ کدھر ہے، یہاں ادھر ہو جائے گا، وہاں ادھر ہو جائے گا۔

سوال: کئی جماعتیں علامّہ اقبال کو برا کہتیں ہیں اور شرابی بتاتے ہیں۔ جبکہ آپ کی انجمن کے لڑکےعلامّہ اقبال کو ولیٰ اللہ کہتے ہیں؟
جواب: ایک واقعہ ہے آپ چوتھی کلاس میں پڑھتے تھے۔ آپ کی والدہ فوت ہو چکیں تھیں۔ اِن کے والد دو بھائی تھے۔ اِن کے والد اِن کے لیے پراٹھے پکا کر رکھ دیتے۔ ایک، ایک، ایک اِس بھائی کے لیے، ایک أس بھائی کے لیے۔ کہ دوپہر کو آئیں گے وہ صبح کو ہی پکا کر رکھ دیتے کہ دوپہر کو آئیں گے، کھائیں گے۔ أس دن علامہّ اقبال آئے اِن کے پیچھے ایک کتیا جو تھی نا وہ بھی ہیچھے ہیچھے آ گئی۔ أنھوں نے دیکھا تو پہچان گئے کہ اِس میں کوئی مجبوری ہے، جو میرے پیچھے پیچھے آرہی ہے۔ تو کتے کو مجبوری بھوک کی ہو گی اور کیا مجبوری ہے۔ جب وہ اپنے چوبارے کے أوپر چڑھنے لگے تو وہ کتیا نیچے بیٹھ گئی۔ اور اِن کو بڑی حسّرت سے دیکھنے لگی۔ یہ أوپر گئے بھائی اور والد سے چوری جو اپنے حصّے کا پراٹھا تھا، آدھا کتیا کو ڈالا اور آدھا اپنے لیا رکھا کہ اس کو میں کھا لوں گا۔ لیکن وہ کتیا نے فورٔا کھا لیا۔ أس کے بعد بھی وہ آپ کو دیکھنا شروع ہو گئی حسّرت سے۔ آپ نے سمجھا زیادہ ہی بھوکی ہے، مجھ سے زیادہ بھوکی ہے۔ وہ اپنے حصّے کا بھی أس کو ڈال دیا۔ وہ تو کھا کے چلی گئی اور آپ سارا دن بھوکے رہے۔ والد کو بھی نہ بتائیں کہ وہ ماریں گے، سارا دن بھوکے رہے۔ پھر رات کو والد کو بشارت ہوئی کہ تمھارے بیٹے نے ایک ایسا کام کیا ہے جس سے ہم بہت خوش ہوئے۔ اور ہم اللہ تعالیٰ سے أس کو ولیٰ بنوائیں گے۔ یہ باقاعدہ ایک واقعہ ہے۔ یہ بچپن کا واقعہ ہے۔ پھر جوانی آپ کی جیسی بھی گزری۔

اِس کے بعد پھر ایک اور واقعہ ہے، جو آپ کا خادم تھا۔ جو آپ کی خدمت کرتا۔ وہ کافی بوڑھا ہو گیا۔ آپکے وصال کے بعد اس نے یہ بات بتائی۔ یہ بات عام ہے۔ أس نے بتائی کہ ایک رات میں نے دیکھا کہ آپ اکیلے ہوتے تھے لیکن أس وقت دیکھا کہ ایک بزگ بھی آپ کے پاس آئے ہیں۔ میں حیران ہوا کہ دروازہ تو میں ہی کھولتا ہوں یہ کدھر سے آگئے، بڑئے غور سے دیکھا۔ اب علامّہ اقبال فرماتے ہیں کہ جاؤ دو گلاس لسّی کے لے آؤ۔ میں کہتا ہوں اب ایک ڈیڑھ کا ٹائم ہے لسی اس وقت کہاں ملے گی، دوکانیں بہت دور دور ہیں۔ شہر سے بہت دور ہیں۔ أنھوں نے کہا نہیں تم لسّی لے کر آؤ۔ کہتے ہیں کہ میں جگ لے کے باہر نکلا۔ اب سوچنے لگا کہ لسّی کہاں سے ملے گی۔ سامنے گیا تو لائٹ جل رہی تھی۔ دیکھا تو وہاں ایک لسّی کی دوکان تھی۔ اب میں سوچنے لگا کہ یہاں روز آتا جاتا ہوں یہاں دوکان ہی نہیں تھی یہ ایک دم دوکان کیسے ہو گئی، کوئی گاہک بھی نہیں۔ میں أن کے پاس گیا لسّی تھی۔ لسّی دؤ۔ میں نے پانچ روپے کا نوٹ دیا۔ أنھوں نے کہا نہیں یہ واپس لے جاؤ ہمارا اقبال سے حساب چلتا ہے۔ کہتے ہیں، لسیّ دی أنھوں نے پی۔ وہ اندر باتیں کرتے رہے اور میں اِس تاک میں کہ وہ بزرگ باہر نکلیں گے تو أن کی قدم بوسی کرؤں گا۔ لیکن نہ میں نے دروازہ کھولا نہ ہی مجھے ان بزرگوں کا پتہ چلا کہ کب نکلے اور کب گئے۔ پھر وہ خادم کہتے ہیں کئی دنوں کے بعد میں أن کی خدمت کر رہا تھا۔ ہاتھ پاؤں دبا رہا تھا تو پھر میں نے پوچھا کہ ایک تجسس ہے اگر یہ حل کر دیں گے کہ اس دن وہ بزرگ کون تھے اور وہ لسّی والے کون تھے۔ کیونکہ أس کے بعد اور أس سے پہلے میں نے وہ لسّی کی دوکان ہی نہیں دیکھی۔ نہ بعد میں دیکھی نہ أس سے پہلے دیکھی۔ میرے دل میں یہی تجسّس ہے، آپ مجھے یہی بتا دیں بس۔ أس وقت أنھوں نے کہا وہ جو بزرگ آئے تھے وہ خواجہ صاحب تھے اور جب انہوں نے لسی کی فرمائش کری تو داتا صاحب نے لسی کی دوکان لگا لی۔ کہ انہوں نے لسی کی دوکاں لگا لی کہ میزبانی تو میرا کام ہے۔ یہ واقعات تو بڑئے مشہور ہیں۔

رہا سوال ہم تو أن کو ولیّ سمجھتے ہیں ۔ ٹھیک ہے وہ غوث، قطبوں میں نہیں تھے۔ لیکن وہ نقباء زنجباء میں ضرور تھے۔ نقباء زنجباء اپنے آپکو چھپائے رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے آپکو چھپایا ہوا تھا۔ ابدال تک اپنے آپ کو چھپاتے ہیں لیکن غوث، قطب ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ابدال تک کسی کو مرید نہیں کرتے غوث قطب مرید کرتے ہیں۔

ہاں جی اور کچھ!

یہ باتیں پوچھتے ہیں گھڑی گھڑی، پہلے بھی بتا چکے ہیں۔
سوال: آپ کن سے بیعت ہیں؟
جواب: پہلی بات ہے ہم تو سب سے پہلے گولڑہ شریف بیعت ہوئے انکے بچوں سے۔ جو وہاں کے ولیّ تھے پیر مہر علیشاہ أن کے بچوں سے بیعت ہوئے۔ لیکن ہمیں حاصل کچھ نہیں ہوا تو ہم نے وہ بیعت توڑ دی۔ دیول شریف سے بیعت ہوئے وہ بھی أن کے پوتوں سے۔ أن سے بھی حاصل کچھ نہیں ہوا تو ہم نے بیعت توڑ دی۔ تو پھر ہم کو جو کچھ ملا، بڑی سرکار کے ذریعے، داتا صاحب کے ذریعے، پھر سلطان صاحب کے ذریعے، پھر قلندر پاک کے ذریعے، غوث پاک سے۔ پھر غوث پاک نے ہمارا ہاتھ پھر حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں دے دیا۔ اب ہم کو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے بیعت کر ہی لیا ہے اور جو لوگ حیات النبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قائل ہیں وہ اس بیعت کا ضرور اقرار کریں گے کہ صحیح ہوئی ہے۔

اب لوگ کہتے ہیں کہ بیعت کے بغیر فیض نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں نا۔ بہت سے لوگ اِس اویسی بیعت کو مانتے بھی نہیں ہیں۔ اگر وہ مانتے نہیں ہیں وہ کہتے ہیں ظاہری بیعت ہو۔ اگر وہ فیض ہے اویسی فیض اویسی بیعت فیض ہے، تو فیض تب ہی ہے ناں کہ کہیں سے بیعت ہے تو فیض ہے۔ بھئی اگر فیض ہے تو کہیں سے بیعت ہے ناں۔
 

سخی سلطان باھو کو بھی حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے بیعت فرمایا تھا۔ آپ نے لکھا ہے دست بیعت کرد مارا مصطفےٰ کہ مجھے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے بیعت کر لیا ہے۔ یہ اویسی سلسلہ ہے۔

فقیر نور محمد کلاچوی والے ہیں۔ أن کو سلطان صاحب نے بیعت کیا ہے۔ وہ ظاہر میں کہیں سے بیعت نہیں ہوئے اور أنھوں نے لکھا ہے اپنی کتاب "عرفان" میں کہ میں سلطان صاحب سے بیعت ہو گیا۔ اب مجھے حاجت نہیں ہے کہ میں کسی اور کے پاس جاؤں۔ جب أنھوں نے سلطان صاحب کا لکھا ہے کہ مجھے حاجت نہیں ہے۔ تو ہم حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کیلئے کہتے ہیں ہم ہمیں کیا حاجت ہے کسی کے پاس جانے کی۔

 

اللہ ھو*****اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو


 

اگر آپ بھی ذکر کی لینا چاہتے ہیں تو امام مہدی ریاض احمد گوھرشاہی کی شبیہ مبارک کوپورے چاند پر دیکھتے ہوئے
 

تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔

دوسرا طریقہ یہ ہے

 

 

© 1998-2010 All Faith Spiritual Movement Intl'
admin@theallfaith.com