SELECT YOUR LANGUAGE:    ENGLISH    or   INDONESIAN

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے

اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر)

مرکزی صفحہ  تعارف  حضرت عیسی  کرشمہ قدرت  الحجرالأسود  تعلیمات  دینِ الٰہی  پروگرام  تصانیف  ویڈیو  رابطہ    

حق کی آواز

 

 

( الفاظ کی اہمیت )

حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالی کی زبان اقدس سے نکلے ہوئے الفاظ جن کو سن کر ہزارؤں بھٹکے ہوئے نوجوان راہ راست پر آئے۔ اِن ہی الفاظ کو یکجاء کر کے کتابی شکل دی گئی ہے۔ لہذا واصف علی واصف کی الفاظ کی اہمیت کے بارے میں تحریر پڑھیں۔

 

ہر خیال اپنے مخصوص پیرہن میں آتا ہے۔ یہ پیرہن الفاظ سے بنتا ہے خیال نازل فرمانے والے نے الفاظ نازل فرمائے الفاظ ہی کے دم سے انسان کو جانوروں سے ممتاز بنایا گیا۔ الفاظ سے مضمون اور مضامین سے الفاظ کے رشتوں کا علم ہی انسان کو مصنّف بناتا ہے دنیا میں اصل قوت الفاظ کی ہے۔ اِس کائنات کی ابتداء ایک لفظ امر کا " کُن " کے لفظ میں ایک مکمل کائنات، ایک مکمل نظام، ایک مکمل داستان پنہاں تھی۔ یہ ایک لفظ تھا کہ جس کی اطاعت میں ہر شی عمل پیرا ہے۔ یہ لفظ کا عجیب کرشمہ  تھا کہ نہ ہوتے سے ہوتا ہو گیا۔ عدم سے وجود  کا سفر " کُن" سے شروع ہوا اور وجود سے عدم تک سفر بھی اسی لفظ کی تاثیر کا حصّہ یہی ہے۔ الفاظ  کی اطاعت قدم قدم پر عیاں ہوتی ہے۔ قوموں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے الفاظ کا تازیانہ ہی کافی ہے۔ قومی اور ملّی شعراء کا کمال الفاظ کے دم سے ہے۔ الفاظ خون میں حرکت پیدا کرتے ہیں۔ غلامی آزادی میں بدل جاتی ہے انسان کے عمل کی اصلاح ہو جاتی ہے، الفاظ ہی أمید کے چراغ روشن کرتے ہیں اور الفاظ ہی مایوسی کی تاریکیاں پیدا کرتے ہیں محبت ایک جذبہ ہے، ایک خواہش ہے، کسی کے قریب ہونے کی، محبت خاموشی بھی ہو سکتی ہے، لیکن الفاظ محبت کو کچھ اور ہی چاشنی اور رنگ عطاء کر دیتے ہیں ۔ محبت کرنا اپنی جگہ اور محبت کی تعبیر میں ڈوبا ہوا شعر کچھ اور ہی جلوہ ہے، محبت اتنی قابل محبت نہیں ہوتی جتنا اسے الفاظ بنا دیتے ہیں۔

 

الفاظ ہمارے تعلقات کو استقامت بخشتے ہیں۔ کلمہ پڑھنے سے مسلمان ہونے والا  زندگی بھر مسلمان رہتا ہے۔ اگر اسلام کا مفہوم سمجھ میں نہ بھی آئے تو بھی مسلمان ہی رہتا ہے۔ کلمہ پڑھنے سے مُہر ثبّات لگ جاتی ہے۔ ہم الفاظ کی دنیا میں رہتے ہیں الفاظ ہمارا کردار ہیں۔

 

الفاظ کانوں کے راستے دل پر اثر کرتے ہیں اور دل پر اثر کرنے کے بعد اعضاء و جوارح پر عمل کا حکم نازل ہوتا ہے اور یوں انسان کا کردار بنتا رہتا ہے۔ اچھے الفاظ پر کچھ خرچ نہیں ہوتا لیکن اچھے الفاظ سے بہت کچھ حاصل ہوتا ہے الفاظ خوشبو کی طرح ماحول کو معطر کرتے ہیں۔

 

ہر سماج اور گروہ کے الفاظ الگ الگ ترتیب رکھتے ہیں۔ آپ کسی کے الفاظ یا گفتگو سن کر یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ کس پیشے سے تعلق رکھتا ہے بازار میں بیٹھنے والے بازاری زبان استعمال کرتے ہیں، دارلعلوم کے لوگ اور ہی زبان استعمال کرتے ہیں، علماء کی زبان اور ہے، حکماء کی زبان اور ہے، اسی طرح جہلاء کی زبان اور ہے۔ دل سے نکلی ہوئی بات دلوں میں داخل ہوتی ہے، کہ سامع یہ کہہ أتھتا ہے کہ میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے، بولنے والے کا سوز الفاظ میں سوز پیدا کر دیتا ہے

    " مقدس الفاظ کو منّزہ زبان میسرہ نہ ہو تو لفظ اپنی تاثیر کھو بیٹھتا ہے"

 

                                       ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  " کہ اگر اِس قرآن کو پہاڑ پہ نازل کیا جاتا تو وہ بھی خسیت اللہ سے لرزنے لگ جاتا"

 

آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ قرآن پڑھا جاتا ہے اور سُننے والے ٹس سے مس نہیں ہوتے صادق کلام کے لیے صادق زبان چاہیے الفاظ حقیقت ہیں، الفاظ امانت ہیں، الفاظ دولت ہیں، الفاظ طاقت ہیں، انھیں ضائع نہ کیا جائے، انھیں رائیگاں نہ ہونے دیا جائے۔

                       ( حرف حرف حقیقت ۔ واصف علی واصف صفحہ نمبر 9 تا 15 )

 

 

1998-2010 All Faith Spiritual Movement Intl'
admin@theallfaith.com