SELECT YOUR LANGUAGE:    ENGLISH    or   INDONESIAN

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے

اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر)

مرکزی صفحہ  تعارف  حضرت عیسی  کرشمہ قدرت  الحجرالأسود  تعلیمات  دینِ الٰہی  پروگرام  تصانیف  ویڈیو  رابطہ    

حضور قبلہء عالم سیدنا سرکار ریاض احمد گوھر شاہی مدظلہ العالیٰ
کا گُجر خان میں خطاب


 

اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم
 

 

، عزیز ساتھیو! السلام علیکم

 

اس سے پہلے بہت خطاب ہو چکے۔ وہ جو سُنے تو ذاکر ین نے سنے۔ اب میں چاہتا ھوں کہ اپنی آواز اپنی برادری میں بھی پہنچاؤں۔ اپنے علاقے کے لوگوں کو بھی پہنچاؤں کیونکہ میں اِن کے ساتھ پڑھتا رہا کھیلتا رہا۔ جب میں اِن کے ساتھ کھیلتا تھا پڑھتا تھا۔ اِن کے ساتھ گناہوں میں تھا تو یہ مجھ سے بڑا پیا ر کرتے تھے۔ جب میں پھر جنگلوں میں چلا گیا توبہ تائب کی گناہوں کی معافی مانگی کوئ اللہ کا کرم ہوا تو مڑ کر آیا تو یہ سارے مجھ سے بیزار ہو گے۔  اب میں چاہتاہوں کہ اِن کو وہ بھی بتاؤں جو کچھ تم کو بتایا ہے۔ شروعات میں، میں نے اپنے آپ کو بہت چھپانے کی کوشش کری۔ میں نے کوئ زاکروں کو خط نہیں لکھےتم کو بلایا نہیں تم خود میرےپیچھے لگے۔ جب دیکھا کہ اب چھپنے سے چھپ نہیں سکتا۔ تب چاہا اِن تک بھی اپنی آواز پہنچاؤں۔ ہمارے علاقے میں زیادہ زور جو ہے نا وہ عالموں کا ہے۔ جسطرح عالم کہتا ہے اُسطرح ہماری عوام کرتی ہے۔ کیونکہ عالم  ہر زمانے میں ہوتا ہے ولی کبھی کبھی ہوتا ہے۔ اور اِس ہمارے اس علاقے میں جوولی آئےبھی تو وہ شریعت کے ولی تھے، نا طریقت کے تھے نا حقیقت کے تھے۔ اِس وجہ سے ہمارے علاقے کے لوگ شریعت تک ہی محدود ہیں۔ اِس آگے کچھ نہیں جانتے اور کچھ نا جاننے کی وجہ سے وہ ہم سے دُور ہو گے بلکہ وہ ہمارے دشمن ہو گے۔
 

حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالی کی طرف سے تین علم حاصل ہوئے۔ ایک عام کے لیے ایک خاص کے لیے ایک صرف میرے لیے۔ وہ جو  علم صرف اُ ن ہی کے لیے تھا پتہ نہیں اُن کو کیا ہوا وہ علم ہم کو دے دیا۔
 

 

جب شا ہ منصور پر فتویٰ لگا۔تو عُلماء نے کہا کہ تن سے گردن جدا کرؤ۔ تو کہنے لگے میرا کیا قصور ہے۔ میں خود تھوڑی بول رہا ہوں وہ جو اُس نے مجھے علم دے دیا ہے،میرے اندر سنبھالا ہی نہیں جاتا۔ اب مُجھ میں اگر اتنا ظرف نہیں تھا تومُجھ کو اُس نے علم کیوں دیا۔ کہا اب  یہ اللہ پے بھی الزام لگاتا ہے۔ واجب القتل ہی ہے۔ اب کوئ ہمارا بھی وہ ہی سا حال ہے۔ ہم سے بھی وہ راز اب پوشیدہ نہیں  رہ رہے، پوشیدہ نہیں رہے۔ تو ہم پہ بھی واجب القتل کے فتوے لگنے شروع ہو گے۔ اب وہ تھوڑا سا علم  کیا ہے۔ ظاہری علم کتابوں میں ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔ حدیثوں میں ہے۔ اب ہمارے عُلماء نے پورا قرآن مجید پڑھ لیا۔ وہ کہتا ہے  اِس سے آگے اور کیا ہے۔ بھئ اگر اِس سے آگے اور کچھ نہیں ہے۔ تو غوث پاک نے بھی، قلندرپاک نے بھی او خواجہ صاحب نے بھی تو قرآن پاک پڑھا تھا نا، اس سے آگے پھر کہتے ہیں نا اس سے آگے کیا؟ اس سے آگے پھر جنگلوں میں کیوں چلے گے؟ جنگلوں میں کوئی اور علم تھا نا۔  یہاں مولوی پڑھاتے ہیں وہاں حضور پاکﷺ پڑھاتے ہیں۔ یہاں کا غذ پر پڑھتے ہیں وہاں دل پر لکھتے ہیں۔ اب وہ علم کیا ہے؟ وہ بہت کم لوگوں کی سمجھ آتا ہے۔ اللہ کرئے اِن کی بھی سمجھ میں آجائے۔ ہم اپنا فرض ادا ءکر دیں گے  آگے اِنکی قسمت۔ وہ علم یہ ہےوہ اصلی علم ہے ۔ یہ جو تمھارے پاس ہے نا یہ نقلی علم ہے۔ یہ تمھارا جسم نقل ہے اصل تو اسمیں روح ہےنا وہ اصلی روحوں کا علم ہے نا۔ اِس جسم کو مر جا نا ہے نا روح کو مرنا ہی نہیں ہے نا۔ اب وہ علم کیا ہے؟ اللہ تعالی نے جب اِنسان کو دُنیا میں بھیجا۔ اُسکے اندر ايک ٹیلفون لگایا سب کے اندر ٹیلفون لگا دیا۔ کہ اگر کسی کو بھی ضرورت پڑی مجھ سے بات چیت کرنے کی اس ٹیلفون کے ذریعے بات چیت کر لے گا۔ اب وہ ٹیلفون ہر  آدمی میں لگا ہوا ہے۔ جسطرح ظاہری ٹیلفون کو بجلی چاہیے اِسطرح اِس ٹیلفون کو نور چاہیے۔ بجلی کی لہریں یہاں سے اُٹھیں گی امریکہ بات ہوگی۔ اگر وہ نور ہو گا اندر تو یہاں سے لہریں اُٹھیں گئی تو عرش معٰلی میں بات ہوگی نا۔ وہ نور صرف مومنوں کے لیے ہے مُسلمانوں کے لیے نہیں ہے۔ ہر فرقے والا اپنے آپ کو مومن سمجھتا ہے۔ سورۃ الحجرات میں مومن کی تشریح ہے"اعراب نے کہا ہم ایمان لے آئےاللہ تعالی نے فرمایا نہیں ان کو کہو صرف اسلام لائے مومن تب بنوں گے جب نور تمھارے دل میں اُترے گا"۔ جب دل میں نور اُترے گا تب مومن بنوں گے نا۔


 

یہ جو نماز کا ہے یہ مُسلمانوں کی نماز معراج نہیں ہے مومن کی نما ز معراج ہے۔ پہلے مومن بنے گا پھر تمھارا ٹیلفون آن ہو گا پھر تو مومن بنے گا، نا پھر تیری نماز اُوپر جائے گی نا۔ اب وہ تیرے اندر ٹیلفون کیسے ہوگا  اورتجھے اصلی نماز کيسے ملے گی وہ اصلی نماز ایسی ہے کہ تیرئے مرنے کے بعد بھی قیامت تک ہوتی رہے گی۔ اب نور حاصل کرنے کے کچھ طریقے ہیں یا حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم تم کو سینے سے لگا لیں وہ سینے کا نور تمھارے سینے میں چلا گیا نوری ہو گیا۔ ہر کسی کو تو سینے سے نہیں لگاتے  ہیں نا۔ یا پھر ايک اور طریقہ ہے۔ جو ہر آدمی کے لیے ہے۔ جسطرح بادل آپس میں ٹکراتے ہیں تو بجلی بنتی ہے لوہا لوہے سے ٹکراتا ہے تو چنگاری اٹھتی ہے۔ اللہ اللہ سے ٹکراتا ہے۔ تو نور بنتا ہے۔ اب یہ گھڑی گھڑی تسبیح سے کیوں کرتے ہیں اللہ اللہ اُس ٹِک ٹِک کے ساتھ اللہ اللہ کیوں ملاتے ہیں بغیر ٹِک ٹِک کے بھی تو اللہ اللہ ہوسکتی ہے نا۔ وہ ٹِک ٹِک اُس کے ساتھ اللہ اللہ ملاتے ہیں پھر جب وہ رگڑا لگتا ہے تو پھر وہ نور بنتا ہے نا لیکن وہ نور انگلیوں میں رہتا ہے نا اندر تو نہیں جاتا ہے نا۔ کچھ لوگ زبان سے ضربوں سے اللہ اللہ کرتے ہیں وہ بھی نور بنتا ہے لیکن وہ بھی باہر ہی ہے نا اندر وہ بھی نہیں جاتا ہے۔ اللہ تعالی نے اِسطرح کی تسبیح تمھارے اندر لگا دی ہے۔ مجھے جنگل میں ايک بوڑھیا  ملی کہنے لگی کہ تیرے گھر میں ایک بازار لگے گا۔ بازارئے مُصطفیٰ ہوگا۔ جسکا خریدار جو ہے نا اللہ خود ہو گا۔ میں نے کہا یہ مجزوبہ قسم کی ہے مستانی سی ہے ویسے ہی کہ رہئ ہے۔ لیکن پھر دیکھا کہ واقعی ہی آج وہ بازارئے مُصطفیٰ لگا جس کا اللہ خود ہی خریدار ہے۔ کیونکہ اللہ کہاں ملتا ہے ہم نے پہاڑوں میں لوگوں کو دیکھا پہاڑوں میں بھی رہئے۔ وہاں بھی لوگوں نے تسبیحاں لٹکا ئیں ہوئی ہیں اللہ اللہ کر رہے ہیں، کتنے سال ہو گے، دس، بارہ سال ہو گے اللہ ملا، نام و نشان ہی کوئی نہیں ہے دوسروں کو دیکھا جنگلوں میں لگے ہوئے ہیں غاروں ميں۔ او کتنے سال ہو گے بیس، تیس، چالیس، سال ہو گے اللہ ملا، ُاس کا تونام و نشان ہی نہیں ہے اؤ تیسرے فرقوں کو دیکھا ہے، پانچوں وقت مسجد کی دوڑ لگائے ہوئے ہیں۔ تیس، چالیس ہو گے، بڈھے ہو گے، پوچھا  اللہ ملا ُاس کا تو نام و نشان ہی کوئی نہیں۔ جن لوگوں نے اللہ کو دلوں میں ڈھونڈا، انھوں نے اللہ کو پایا نا۔ تو جنھوں نے پھر دلوں میں نہیں ڈھونڈ سکے نا، تو وہ نہ مسجدوں میں پا سکے نہ جنگلوں میں پا سکے۔ اب اللہ نے وہ تمھارے اندر تسبیح لگا ئی ہے وہ بھی کرتی ہے ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک پھر اُن لوگوں نے اس ٹِک ٹِک کے ساتھ اللہ اللہ ملا دیا۔ پھر جب اُس ٹِک ٹِک کے ساتھ اللہ اللہ ملا۔ پھر اللہ اللہ کا رگڑا لگا۔ دودھ، دودھ ہی ہے جب تک رگڑا نہیں لگے مکھن نہیں بنتا۔ ذکر ۔ ذکر ہی ہے جب تک رگڑا نہ لگے نور نہیں بنتا۔ پھر جب وہ رگڑا لگا۔ پھر وہ اندر نور بنا ,نا۔ پھر وہ نور انگلیوں میں نہیں گیا، باہر نہیں گیا، سیدھا خون میں چلا گیا نا۔ جب وہ خون میں گیا تو خون سے ہوتے ہو ئے نسوں میں چلا گیا نا، تو نسوں میں پھر بیماری چلی جائے تو نکلتی تو نہیں نا  پھروہ۔ پھر اﷲ وڑ گیا نکلے گا نہیں نا۔ نسوں سے نکلتا ہوا۔ تمھاری جو روح ہے نا، وہ تمھارے اندرہے نسوں میں ہے نا وہ نور نسوں تک پہنچ گیا نا روحوں تک پہنچ گیا نا، جب روحوں تک پہنچا تو روحیں بیدار ہوئیں۔ اُنہوں نے اللہ اللہ کرنا شروع کر دیا۔ پھر تم سوتے رہے۔ اور وہ اللہ اللہ کرتیں  رہیں۔


 

“سلطان صاحب فرماتے ہیں کجھ جاگدؤں ستے ھو کجھ ستیؤں جاگدے ھو

 

کچھ لوگ ایسے ہیں جو جاگ کر ساری رات عبادت کرتے ہیں۔ لیکن سوئے ہوئےمیں شامل اور کچھ لوگ بستروں پر سورہے ہیں اور اُن کے دل اللہ اللہ کرتے ہیں۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہم سوتے ہیں ہمارے دل نہیں سوتے۔ حضرت علی نے کچھ اور فرما دیا۔ اُن کا یہ ہی کہنا ہے کہ : مُرشد کا دیدار باہو مینوں لکھ کروڑاں حجاں ھو۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم سوتے ہیں ہمارے دل نہیں سوتے۔ حضرت علی فرماتے ہیں ہم سوتے ہیں ہماری آنکھیں نہیں سوتیں۔ ہم سوتے ہیں پھر بھی ہماری آنکھیں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا دیدار کرتی ہیں۔ اب پھر کیا ہوا کہ تم قبر میں چلے گے نا، تو وہاں بھی روح اللہ اللہ کرتی رہی نا، پھر یوم محشر میں چلے گے تو وہاں بھی اللہ اللہ کرتی رہی نا، جانا تو اُس روح کو اُدھر ہے نا اِس روح نے اللہ اللہ کی نا حدیث شریف میں ہے کہ جو اِدھر اندھے وہ اُدھر بھی اندھے۔ اگر تو نے اِدھر اللہ اللہ نہیں سیکھی تو اُدھر اللہ اللہ کیا کرے گا تو قیامت تک جب اللہ اللہ ہوتی رہے گی تو تیرا مرتبہ اتنا بلند ہو جائے گا نا۔ یہ تو اللہ اللہ کا فیض ہے نا۔ اُسکے بعد جو اللہ اللہ کا نور ہے وہ جو تمھارے اندر رُوحیں ہے نا اُنکی نور سے پرورش شروع ہو گی نا، تمھاری غذا گوشت روٹی کی ہے وہ جو تمھارے اندر روحیں ہیں نا اُنکی غذا نور ہے نا، کچھ لوگوں نے ان کو نار دی وہ جادوگر ہو گے، کچھ لوگوں نے نور دیا وہ نوری ہو گے، ولی ہو گے۔ جب وہ نوری غذا دی تو نوری غذا سے ان میں طاقت آئی۔ جب اُن میں طاقت آئی تمھارے اندر کچھ مخلوقیں ہیں۔ سات لطائف ہیں مخلوقیں ہیں نو جسے ہیں۔ سولہ مخلوقیں اِس ڈھانچے میں بند ہیں۔ ایک مخلوق ہے جس کا تعلق شیطانوں سے ہے۔ تم رات کو گھر میں سوتے ہو وہ تمھارے جسم سے نکلتی ہے تو شیطان ہے گھوم پھر کر مڑ کے  آ جاتی ہیں، اب تمھاری وہ نوری چیزیں نور سے، طاقتور پکڑ گیں۔ اب تم نے خواب میں دیکھا حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے روضے کے گرد منڈلا رہا ہوں، خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہوں۔ کچھ عرصے بعد دیکھا  جب وہ اور طاقت پکڑ گیں نا اب سونے کی ضرورت نہیں۔ تم نے صرف سوچا  دیکھیں حضور پاک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم کیا کر رہے ہیں۔ تم نے سوچاوہ اس سینے سے نکلیں اور حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں۔ جب یہ روحیں  حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں پہنچ جاتیں ہیں تو پھر وہاں سلسلہ ہے تم نے پڑھا ہو گا۔ کسی نے پڑھا ہو گا، آپ عارفانہ کلام تھے کسی نے پڑھا ہو گا  معارفانہ ہے، ولیوں کی بھی قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک عارف ہوتا ہے ایک معارف ہوتا ہے۔ تم کو تو یہ بھی نہیں پتا کہ عارف کیا ہے؟ اور معارف کیا ہے؟۔ کلام عارف شریعت کا بہت پابند ہوتا ہے تو معارف کو اصلی شریعت ملتی ہے  نا۔اب وہ اصلی شریعت کیا ہے؟ نقلی شریعت میں گڑ بڑ ہے، فتنہ ہے، 72 فرقے ہیں نفرتیں ہیں ایک دوسرے سے اصلی شریعت میں نفرتیں نہیں ہیں ایک دوسرے سے محبتیں ہیں۔ اچھا عارف کیا ہے؟ کوئی بھی شخص اِس میں ضروری نہیں کہ وہ عبادت کر رہا ہو۔ بھلے وہ چور ہی ہو بھلے ابو بکر حواری کی طرح ڈاکو ہی ہو۔ شرط یہ ہے کہ جس کے اوپر ، جسم کے اوپر اللہ تعالیٰ کی تجلی ڈال دے ۔ جس پر بھی تجلی ڈال دے خواہ کوئی بھی ہے اُسکا جسم ولی بن جائے گا۔ پھر جسم ولی ہو گیا نا۔ پہلے ڈاکو تھا اب تو ڈاکو نہیں ہے نا ۔ جب پھر چور گیا تھا نا غوث پاک کے گھر میں تو مڑ کے آ یاتھا رات ورات ولی بن کے آیا تھا نا۔ اُسکے لوگوں نے نہ مانا تھا نا  اُسکو،نہ علاقے کے لوگوں نے مانا تھا  نہ برادری  کے لوگوں نے مانا تھا جب مرنے کےبعد ُانہوں نے کہا کہ ولی تھا۔ زندگی میں کہنے لگے کہ چور تھا ۔ ہم کیسے اِسکو مانیں ۔کیونکہ علاقہ اور برادری اُس کو ماضی کے کو دیکھتی ہے کہ کیا تھا یہ؟ لیکن اِحباب اُسکے حال کو دیکھتے ہیں کہ اِس وقت کیا ہے؟ اور اللہ تعالی اُسکے مستقبل کو دیکھتا ہے کہ آگے کیا ہو گا ؟۔ یہاں سے علاقے اور برادری مار کھا جاتے ہیں ۔ اب اِس کا جسم ولی ہو گیا، جسم کے اُوپر تجلی پڑی ۔ اِسکا جسم حضور پاکﷺ کی محفل میں تھا کیونکہ اِسکا جسم سے ولی ہے دوسرا کیا اسکو معارف بولتے ہیں۔ اُسکے جسم پر تجلی نہیں پڑتی ۔ وہ اندر اپنی روحوں کو تیار کرتا ہے۔ جسم میں خطرہ ہو سکتا ہے تجلی پڑئےمر ہی جائے ، ہو سکتا ہے  معذور بھی ہو جائے یہ خطرہ ہے۔ پھر وہ کیا کرتا ہے وہ اپنے جسم کو سلامت رکھتا ہے ۔ اپنی روحوں کو جو ہے نا وہ اُن کو تیا ر کرتا ہے۔ نوری طاقت سے اُن کو تیار کرتا ہے سب لطیفوں ، جسوّں کو کھڑا کر دیتا ہے  پھر اسکے اوپر تجلی پڑتی ہے، کسی روح کے اوپر تجلی پڑتی ہے، اسکی روح وہ روح ولی ہو جاتی ہے اگر وہ مر بھی جائے تو اس کیا پرواہ۔ وہ سولہ میں سے ایک مر بھی گیا تو کیا اِسکو۔ اب چونکہ اُسکی روح پر تجلی پڑی نا اُسکی روح ولی ہو گی نا۔ اب اُسکا جسم حضور پاکﷺ کی محفل میں نہیں جاتا اِتنے میں وہ دیکھتا ہے دور سے دیکھتا ہے کہ کتنے خوش نصیب ہیں جسم سمیت حضور پاکﷺ کی محفل میں۔ اتنے میں حضور پاک ﷺکسی سے بات کرتے ہیں ۔ تو وہ ظاہری جسم والے پوچھتے ہیں  آپ کِس سے بات کررہے ہیں؟ ہمیں تو نظر نہیں آ رہا ۔ فرماتے ہیں میں اُس سے بات کر رہا ہوں جسکا جسم دنیا میں اور روح  میرے پاس ہے۔ اُس وقت وہ رشک کرتے ہیں کتنا خوش نصیب ہے دنیا میں بھی بیٹھا ہو اہے اور حضور پاکﷺ کے پاس بھی ہے۔ اُسکے بعد پھر نماز کا وقت آجاتا ہے حکم ہوتا ہے یہ جو ظاہری جسم والے ہیں ظاہر کے ساتھ نماز پڑھیں ورنہ ولایت سلب ہو جائے گی۔ اور وہ جو معارف ہوتا ہے اُسکی نماز اُس روحانی لطیفے کے ذریعے حضور پاکﷺ کے پیچھے ہوتی ہے۔ اور وہ نماز یہاں نہیں ہوتی ہے وہ نماز بیعت المعمور میں ہوتی ہے۔ اوراُس وقت تک سر ہی نہیں اٹھاتے جب تک اللہ جواب نہ دے لبیک یا عبدی ۔ جب اللہ جواب دیتا تو پھر وہ سر اٹھاتے نا۔ اُسکو روحانی نماز بھی بولتے ہیں ۔ بتاؤں اُسکی نماز افضل ہے یا اِسکی نماز۔ اور وہ جو روحانی نماز ہے یہ نماز بعد میں آئی۔ وہ نماز آدم علیہ السلام سے شروع ہے وہ روحانی نماز ۔ جب حضور پاک ﷺشب معراج میں گے تو سب سے پہلے بیت المقدس میں وہ نماز پڑھائی ، ولیوں ، نبیوں ، کی روحوں کو پڑھائی نا۔ پھر اوپرگئے تو دوسری نماز ملی نا۔ ولیوں اور نبیوں کی روحوں نے نماز وہ جوبیت المقدس میں پڑھائی تھی وہ تھی نا۔ اوپر عام لوگوں کے لیے نماز تھی وہ جو اوپر جا کر ملی تھی نا۔ وہ تھی نا۔ آج بھی اگر کوئی اپنی روحوں کو اِس قابل کرلے۔ تو اُس کو وہی نماز مل جاتی ہے، وہ جو بیت المقدس میں پڑھائی جاتی ہے۔ وہی نماز اصلی نماز ہے اِسکے بعد پھر ایک اور ہے جس میں نماز ہی نہیں ہے۔ 
 

 

ایک مقام ایسا ہے ، جہاں نماز نہ پڑھنا کفر ہے۔ بھئی نماز نہ پڑھنا کفر ہے نا۔ پھر وہ مقام ایسا ہے جہاں نماز پڑھنا کفر ہے ۔ وہ کون سا وقت ہے۔ فرض کیا تو اللہ سے باتیں کر رہا ہے۔ بڑے رازونیاز کی باتیں ہو رہی ہیں نیچے نماز کا وقت آگیا مولوی صاحب نے اذان دی ۔ اگر تو نے وہ باتیں چھوڑ کر اللہ سے وہ مولوی صاحب کے پیچھے نماز پڑھنا شروع کر دی تو کفر کیا نا۔ او نماز بھی اُسکی ہے نا، جسکی تو نے نماز پڑھی اُسکی کی ہے نا یہ ایسا مقام ہے۔ اور یہ باتیں ایسی ہیں جو عوام الناس کی سمجھ نہیں آتیں ہیں ۔ لیکن مجبوری ہے نا، خو د بخود نکل جاتے ہیں نا۔ اب نہیں اللہ چاہتا ہے ۔ اِن باتوں کو زیادہ تر لوگوں کو اعتراض نہیں ہوتا ہے ۔ لیکن جوہمارے علماء ہیں  وہ ہمارے پیچھے لگ جاتے ہیں۔
 


ہم کہتے ہیں کہ علماء ایک ایسا عالم ہے جسکو عالم ربانی کہتے ہیں ۔ اُسکی توہین دین اسلام کی توہین ہے ۔  ہم اُس کے خادم ہیں ۔ دین اُسی نے پھیلایا ہے۔ ایک عالم ہے جو عالم سُو ہے ۔ اب وہ عالم ربانی اور عالم سُو میں کیا فرق ہے؟ کچھ تو فرق ہو گا نا، عالم سو بھی پڑھتا ہے ، وہ بھی پڑھتا ہے وہ بھی قرآن پڑھتا ہے ۔ وہ بھی پڑھتا ہے وہ بھی مدرسے سے فارغ ہے وہ بھی مدرسے سے فارغ ہے۔ پھر سُو اور ربانی میں کیا فرق ہے؟ عالم ربانی نے کیا کیا؟ اُس نے سب سے پہلے اپنا سینہ منور کیا ۔ جب سینہ منور کیا دل کو پاک کیا ،اُسکے اند مقناطیس لگا ۔ تو نور کا مقنا طیس لگا اُسکے اندر نور آیا ۔ جسطرح مقناطیس سوئی سے نسبت رکھتا ہے ۔ چھوٹی چھوٹی سوئیں پھینکووہ مقنا طیس سے چمٹ جاتی ہیں۔ جب نور آجاتا ہے تو پھر جب وہ نماز پڑھتے ہیں اُسکا نور بھی اندر قرآن پڑھتے ہیں تو اُسکا بھی نور اندر ۔ اُس عالم ربانی نے جب قرآن پڑھا تو وہ قرآن  پھراندر گیا نا۔ قرآن خود فرماتا ہے۔


 

ھُدی اللمتقین میں ہدایت کرتا ہوں پاکوں کو نا۔ پاک ہوا تو قرآن اُسکے اندر گیا نا۔

 پھر علامہ اقبال نے فرمایا قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن یہ عالم ربانی ہے نا۔

 

اب پھر وہ عالم سو کیا ہے؟ وہ بھی قرآن پڑھتا ہے لیکن اندر سے تووہ پاک نہیں ہے نا۔  اُسکا حساب اب اِسطرح ہے کہ جسطرح دوائی کی بوتل ہاتھوں میں لے لی۔ سارا پتہ ہے دوائی کا کہ کسطرح لینی ہے کیا کیا فائدئے ہیں۔ اُسکے ہاتھوں میں ہے اُسکو سارا پڑھ لیا اُس نے کہ اِسکو کس طریقے سے استعمال کرنا لیکن دوائی تب فائدہ دے گی جب معدے میں جائے گی تو نا، اگر ہاتھوں میں بوتل پکڑی ہے تو کیا فائدہ دے گی اِسکے ہاتھوں میں قرآن ہے اُسکے دل میں نہیں اترتا ہے نا تو اُسکو کیا فائدہ دے گا۔ اُسکو عالم سو کہتے ہیں جسکے ہاتھوں میں قرآن ہوتا ہے۔


یہاں پر تیسرا عالم بھی ہے اُس سارا قرآن پڑھ لیا سمجھ گیا اب مجھے اور ضرورت نہیں ہے۔ اس نے بند کر کے بغلوں میں رکھ لیا ۔ اِس سے آگے کیا ہے اس سے آگے کرسی ہے تم سیاست میں۔ وہ قرآن پڑھنے والا نا، اُس نے پڑھنا چھوڑ دیا  نا، تو سیاست میں لگ گیا نا، تو کرسی کے پیچھے لگ گیا نا، تو اسکے لیے بھلے شاہ نے فرمایا نا کھا کے سار مُکر گئے جنہاں دے بغل وچ قرآن وہ صبح کہنے لگے  بے نظیر کافر ہے شام کو پیسے مل گے کہنے لگے میں نے کب کہا تھا ؟۔ اب مکر گے نا۔


 اب جب وہ تمھاری اب روحیں وہاں نمازیں پڑھنا شروع کر دیں ، مومن کی صرف آواز جاتی ہے اُس ٹیلفون کے زریعے  اُس میں بھی اگر نور ہواتو صرف آواز جاتی ہے بیت المعمور میں۔ ولی جو ہے نا۔ وہ خود جاتا ہے اُس کی روح جاتی ہے۔ پھر آگے ایک اور ولی ہے اس کو کُبٰرا ولی  بولتے ہیں عاشق بولتے ہیں۔ اُس نے کیا کرنا ہوتا  ہے نا کہ اُس نے ایک مخلوقوں میں سے ایک مخلوق  دماغ میں مخلوق ہے جسکا نام ہے انا جس سے لوگ حافظ بن جاتے ہیں وہ یا ھو کا ذکر انا کو دیتا ہے وہ یا ھو کے ذکر سے اُسکی مخلوق بہت طاقت ور ہو جاتی ہے ۔ پھر وہ سوچتا ہے دیکھیں اوپر کیا ہو رہا ہے ۔ وہ مخلوق اوپر پرواز کر جاتی ہے ۔ فرشتے روکتے ہیں ،نہیں رکتی کہتے ہیں جو کچھ بھی ہے بیت المعمور سے آگے جل جاے گا۔ وہ بیعت  المعمور سے بھی آگے چلی جاتی ہے وہاں پہنچ جاتی ہے جہاں رب کی ذات ہے۔

ظاہری جسم سے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچیں اور اِن مخلوقوں سے ولی وہاں پہنچتے ہیں۔
 

 

پھر جب کوئی ولی وہاں پہنچ جاتا ہے پھر ایک دوسرے کو پیار سے دیکھتے ہیں وہ بڑے دور سے آیا نا۔ بڑی محنت کر کے آیا نا۔ پتہ نہیں کتنی  قربانی دے کر آیا نا۔ ولی کی تو سب سے پہلے دیدار کی منزل ہوتی ہے۔ اُسکے لیے حکم ہوتا ہے کہ چالیس دن نہ کھائے گا نہ پیئے گا ۔ پھر مر گیا یا اللہ کا دیدار کرگیا کئی مر بھی گئے اور کئی دیدار بھی کر گئے ۔ پھر اللہ  تو دیکھتا ہے نا، کہ قربانی دے کے یہاں پہنچا نا، ایک دوسرے کو پھر پیار سے دیکھتے ہیں نا، پھر اللہ تعالی فرماتا ہے نا، میں تجھے دیکھ لو تو مجھے دیکھ لے پھر اللہ کا جو نقشہ ہے وہ اُسکی آنکھوں سے اُسکے دل میں آتا ہے نا، جب اُسکے دل میں آتا ہے پھر اللہ تعالی فرماتا ہے اب تو نیچے چلا جا، اب جو تجھے دیکھ لے وہ مجھے دیکھ لے۔ اب جو تجھے دیکھ لے وہ مجھے دیکھ لے ۔ پھر اُسکو کہتے ہیں مرشد کامل اُسکے لیے سلطان صاحب نے فرمایا مُرشد کا دیدار باہو مینوں لکھ کروڑاں حجاں ھو پھر وہ مرشد! خانہ کعبہ میں جا کے پتہ نہیں کہ تو دوزخی ہے یا بہشتی ہے کوئی اعتبار ہے۔ تو جسکا دیدار ہی لاکھ کروڑوں کا حجاں ہوتو وہ جائے تو بھئی لاکھ کروڑوں حجاں ہے نا۔ ثواب ہے نا۔ اُسکا پھر حساب کیا ہو گا؟ اُسکے لیے پھر اللہ تعالی فرماتا ہے، میں اُسکی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے، میں اُسکے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے ۔ تو جب اُسکی زبان بن گیا۔
 

 

تو ہندؤں نے کہا تھا ہندو راجے کا بیٹا مر گیا  بخارمیں تو شاہ شمس سبز واری چلے گے تو انہوں نے کہا اُٹھ اللہ کے حکم سے وہ نہیں اٹھا۔ اُس وقت اللہ نے کہا تیری زبان میری زبان ہی ہے تو کیوں نہیں کہتا میرے حکم سے اٹھ؟ اُس وقت انہو ں نے کہا اُٹھ میرے حکم سے بچہ زندہ ہو گیا۔
 

 

اب ہمارے علاقے میں یہ ہے ۔ ایک رسم ہے ٹھیک ہے وہ ولی تو ہو گا، نا، دادا یا پردادا آگے اولاد تو ولی نہیں ہے نا، بیعت صرف ولی کو حق ہے نا، ولی کے بغیر بیعت ہوتی ہی نہیں ہے،اگر آپ کرتے ہیں تب بھی نہیں ہوتی ہے نا،۔ سلطان صاحب فرماتے ہیں کہ جو شخص دنیا کی خاطر بیعت ہو یا دنیا کے لیے بیعت کرے تو دونوں حرام ہیں۔ بیعت تو صرف اللہ کے لیے ہے نا، اللہ کی بیعت تو پھر اللہ والے کے لیے ہو گی نا، جسکا اللہ سے تعلق ہو گا نا، جسےاللہ سے تعلق ہی کوئی نہیں وہ قیامت تک ایسے ہی رہے گا۔ آجکل ہمارے ہاں بہت گدی نشین ہو گے ہیں نا، اگر نبی کا بیٹا نبی نہیں سو سکتا نا، تو ولی کا بیٹا ولی کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر ان گدی نشینوں  کوسجدا نشینوں کو پتا چل جائے میرے خیال میں حقیقت ان کے دل میں چلی جائے تو گدیاں چھوڑ کے بھاگ ہی جائیں گے۔ بیعت کا مقصد ہے اپنے آپ کو بیچ ڈالنا مقصد یہ ہے تو تو نمازوں کے لیے کیوں بکتا ہے، نمازیں تو یوں بھی پڑھ سکتا ہے، داڑھی کے لیے کیوں بکتا ہے حفظ کے لیے توکیوں بکتا ہے۔ اُس کام کےلیے بکتا ہے  ناجو تیرے بس میں نہیں ہے۔ بھئی بکنے کے بعد تیرا نفس و مال اُسکا ہو گیا نا، تو پھر تو اپنا نفس و مال اُ سکے حوالے کیوں کرتا ہے؟کسی اہم چیز کے لیے کرتا ہے جو تیرے بس میں نہیں ہے۔ تیرے بس میں نہیں ہے کہ تو یہاں سوتا رہے اور حضور پاکﷺ کے قدموں میں ۔ تیرے بس میں نہیں ہے کہ تو یہاں سوتا رہے تیرا دل اللہ اللہ کرتا رہے۔ اِس کام کے لیے بکا جاتا ہے نا، اگر بک کر بھی یہ چیز حاصل نہیں ہوئی تو، تو بہت ہی بے نصیب ہے، یا تو، تو ناقص ہے یا تو پھر تیرا مرشد ناقص ہے، دونوں میں سے کسی میں نقص ہے نا، اب ولی اللہ کس کو بولتے ہیں ۔ 
 

ولی اللہ بولتے ہیں جو اللہ کا دوست ہوتا ہے تو دوست کو دوست سے بات چیت ضروری ہے،اور دیدار ضروری ہے نا۔
 

ہمارے علاقے میں  بلکہ اکثر علاقوں میں گھومتے ہیں دیکھا ہے کہ تاریخ لکھنے والے اپنے آپ کو ولی کہتے ہیں ۔ اب یہاں نیا رواج شروع ہو گیا کہ ہمارے مولوی اپنے آپ کو ولی کہتے ہیں اور لوگوں کو پھنسا لیا۔ لیکن ولی کے لیے شرط ہے رب کا دیدار رب کے ہم کلام ہو تب وہ ولی ہے۔ ورنہ جسطرح نبوت کا دعویدار جھوٹا کافر اسطرح ولایت کا جھوٹا دعویدار کفر کے نزدیک ہے پہنچ جاتا ہے نا۔ دنیا میں اِس سے بڑا گناہ کوئی نہیں ہے، اللہ کو تو نے نہیں  تو جانا تھا نا، اللہ کو تو تیرے اندر  کی مخلوقوں نے جانا تھا نا، اُسکو تم کو پہنچانا ہی نہیں آیا نا، وہ مخلوقیں اندر ہی ضائع ہو گیں نا، وہ سولہ مخلوقوں کا قتل ہے، وہ سولہ مخلوقوں کا قتل ہے نا ۔ اگر ہزار مرید ہیں تو سولہ ہزار مُریدوں  کا قتل ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ یہ لوگ ہمارے پیچھے لگ گے  نا، کہ تو ایسی باتیں کیوں کرتا ہے لیکن حقیقت ہے۔
 

 

ہم گے یورپ میں گے تو کچھ علماء ہمارے پیچھے لگ گے ۔ کیونکہ اُن کو رپورٹ مل چکی تھی کہ بڑا خطرناک آدمی آ رہا ہے۔ اسکو مسجد میں نہیں گھسنے  دینا۔ بحث ہو گئی بتاؤں یہاں تو بیت کرنے کے لیے آیا ہے کہا نہیں۔ یہاں پیسے لینے کوئ نطرانہ لینے آیا ہے کہانہیں کوئ سیاست کرنے آیا ہے۔ کہا نہیں ، تیرا دماغ خراب ہے کہا نہیں تو پھر کیوں آیا ہے؟ اللہ رسول کا حکم ہے کہ ہم کو وہ دیکھا ۔ کہنے لگا کہ اللہ رسول کا حکم ہے تو ہم کو وہ دیکھا ہم نے کہا ہم دیکھا نے کے لیے تیار ہیں ۔ ہم تم کو ذکر قلب دیتے ہیں ذکر قلب اللہ کی رضا کے بغیر کسی کا نہیں چلتا۔ ہم تم کو ذکر قلب دیتے ہیں اگر تمھارے اندر اللہ اللہ شروع ہوگی تو اللہ کا حکم ہے نا۔ جو باتیں کرتے ہیں نا اللہ کے حکم سے کر رہے ہیں ۔


 

 اب بہت سے لوگ ہیں جو درباروں کو مانتے ہیں بہت سے ہیں جو کہتے ہیں  خالی ہیں یہاں جانا شرک ہے۔ اب اِس روح کا میں نے ذکر کیا ہے۔ اب وہ اوپر اللہ کا دیدار بھی کر کے آگی۔ اب وہ حضور پاک ﷺکے پیچھے نمازیں بھی پڑھتی ہیں، جسم تو اِسکا ادھر ہے نا۔ اب جسم اِسکا ادھر ہے سو رہا ہے، بیٹھا ہے یا مر گیا۔ اُس کے لیے تو برابر ہے ایک ہی نا، تو اُسکے مرنے کے بعد وہی جو چیزیں ہیں نا اُس کی قبر میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرتی ہیں نا، وہ لوگوں کو فیض پہنچاتی ہیں اور قیامت تک پہنچاتی رہتی ہیں اب وہ کیسے مر گے وہ جسم مرا نا۔ اصل تو اُسی طرح ہے  نا۔ اب وہ جو کہتے ہیں کہ درباروں میں کچھ نہیں ہے انھوں نے وہ راز سیکھا ہی نہیں ہے۔ ان کے جو بڑے بڑے ہیں انہوں نے اپنی روح کا راز ہی نہیں سیکھا۔ اُن کے اندر مخلوقیں ہیں وہ انکی زندگی میں ہی ختم ہو گیں۔ اُن کی اصلی روح اوپر چلی گئی۔ جسم قبر میں چلا گیا اب اُس قبر میں کیا ہے ہڈیاں ہیں اور پتھر ہیں نا۔ ہڈیوں اور پتھر کی تعظیم کرناشرک ہے نا۔بھئی اگر ہڈیوں اور پتھر کی تعظیم کرئے گا تو شرک ہے نا تو وہ صیح کہتے ہیں اُن میں ہڈیاں اور پتھر ہی ہیں نا۔ اِدھر ہڈیا ں پتھر تو نہیں ہیں نا۔ ادھر تو وہ مخلوقیں بیٹھی ہیں نا۔ اور انہی کے لیے اللہ فرماتا ہے کہ میری ایک مخلوق ہے جسکو میرے سواء کوئی نہیں جانتا۔ تیرے اندر ہیں تو بھی نہیں جانتا ہے اور جب وہی مخلوق جب نور ی ہو جاتی ہے تو نوری ہاتھوں سے جب دعا مانگتی ہے تو اللہ تعالی اُن کی دعا قبول کرتا ہے۔
 

 

اس وقت کتنے فرقے ہو گے ہیں۔ 72 پتہ نہیں  72 سے زیادہ ہیں۔ ہر فرقہ اپنے آپ کو صحیح کہتا ہے۔ میں نے جب یہ کچھ علم حاصل کیا تو حیدرآباد میں ا ٓ گیا۔ میرا تعلق ہی اہل سنت سے تھا تو میں کیا کہتا کہ اہل سنت سب  سے بہتر ہیں۔ اچھا کہ کچھ فرقے والوں کو میں نے کہا کہ اعلیٰ حضرت نے کافر کہا ہے ہماری رو سے بھی یہ کافر ہی ہیں، کچھ عرصے کے  بعد ہمیں وہ ایسا کوئی کشف دے گیا کہ سب لوگوں کا اندر ہم کو نظر آنا شروع ہو گیا ۔سُنی آتے  ہمارے پاس بیٹھے دیکھتے ہیں اُن کے دل سیاہ اند ر کالا دیوبندی کو دیکھا کالا، شیعہ کو دیکھا کالا، وہابی کو دیکھا کالا، ہم نے کہا کہ یہ تو سارے برابر ہیں ادھر سنی شیعہ کیا؟ ہم جس کو اہل سنت کہتے ہیں وہ بھی ہم کو کالے نظر آتے ہیں پھر وہ اپنے مسجدوں میں گے اپنے علماء کے پاس گے کہ یہ تو  تو چیٹے ہونگے نا دیکھا تو وہ بھی کالے شیعوں کے راہبرؤں کو دیکھا تو کالے دیوبندیوں راہبرؤں کو دیکھا کالے بتاؤ پھر راز کیا ہے پھر حقیقت کس میں ہے ہم  تو یہ ہی سمجھتے ہیں کہ دنیا میں حقیقت ہی نہیں رہی۔ بھئی جب سب کالے ہو گے تو حقیقت کیا ہے؟
 

 

پھر پتہ چلا کہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ سنی تھا، نہ شیعہ تھا، نہ وہابی۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صرف اُمتی تھے۔  اوراُمتی وہ ہوتے ہیں حضور پاک ﷺفرماتے ہیں اُمتی وہ ہے جس میں نور ہے۔ حدیث شریف میں بھی ہے کہ قیامت کے دن امتیوں کی پہچان نور سے ہو گی۔
 

پھر ہم نے سوچا یار یہ سنی، شیعہ، وہابی ہیں امتی کون سا فرقہ ہے۔ ہم  کو ملا ہی نہیں اُمتی فرقہ ہے بھی ہے کہ نہیں۔ اب 72,73 فرقوں میں کسی فرقے کا نام امتی ہے؟ پھر ہم نے کہا کہ یار اُمتیوں کا فرقہ بھی بننا چاہیے نا۔ ہم نے سوچا کہ اُمتیوں کا فرقہ بننا چاہیے نا تو پھر ہم نے اس کی جدوجہد اند ر ہی اندر کرنا شروع کر دی۔ لیکن یہ کہ مولانہ لوگ ہم کو تاڑیں کہ یہ کوئی نیا فرقہ بنا رہا ہے۔ وہ سمجھ گیا نا کہ یہ کوئی نیا فرقہ بنا رہا ہے تو ہم بھی کہتے ہیں نا کہ امتی تو وہی ہے نا جس میں نور آتا ہے نا۔ جن میں نور تھا وہ امتی تھے نا باقی جو تھے وہ خوارج تھے نا۔ تم نے ایک حدیث  میں پڑھا ہو گا کہ خوارج بھی ہوتے تھے، منافق بھی ہوتے تھے۔ جن میں نور نہیں تھا وہ خوارج تھے نا۔ آ ج ہم کو یہ سارے خوارج ہی نظر آئے اگر اِن کے دل میں دوبارہ وہ نور آجائے نہیں کہیں گے میں سُنی ہوں، شیعہ ہوں، وہابی ہوں، یہ ہی کہیں گے کہ بس امتی ہوں تمھارا یا رسول اللہ ۔

 

ایک حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن اُمتوں کی پہچان نور سے ہو گی۔ اور جس چیز سے نور بنتا ہے اس چیز کو ان لوگوں نے چھوڑ ہی دیا نا۔ موسی علیہ السلام کی امت یا رحمان کا ذکر کرتی تھی، عیسی علیہ السلام یا قدوس سلیمان علیہ السلام یا وہاب ، داؤد علیہ السلام یا ودؤدؤ۔

 

 ایک دن موسی علیہ السلام نے کہا اے اللہ دیدار دے جواب آیا تاب نہیں ہے کہنے لگے کسی میں تاب ہو گی۔ ایک میرا حبیب اور اُسکی امت، امت کا مسلمان کا نہیں کہا ۔ مسلمان میں فتنہ ہے ُامت میں کوئ فتنہ ہے نہیں وہ مومن ہیں ۔مومن سارے بھائی بھائی اب موسی علیہ اسلام کہنے لگے میں نبی ہو کے امتی کے برابر بھی نہیں جلوہ دئے دیکھی جائے گی۔ جلوہ پڑا موسی علیہ السلام بے ہوش ہو گے۔ اب کیا وجہ ہے کہ موسی علیہ السلام اس دنیا میں کوہ طور میں بے ہوش ہوئے۔ حضور پاک سامنے جا کر مسکرا رہے ہیں۔ موسی علیہ اسلام کے جسم میں یا رحمان کا صفاتی نور تھا وہ ذات کی تاب نہ لا سکے۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک میں اسم ذات کا ذاتی نور تھا۔ جب موسی علیہ السلام کو ہوش آیا تو کہنے لگے کاش مجھے امت محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ہی پیدا کیا ہوتا۔ نبی ہو کے بھی انہوں نے کہا۔


ایک دن عیسی علیہ السلام کہ اٹھے۔ اے اللہ مجھے بڑا اشتیاق ہے تجھے دیکھنے کا۔ اللہ نے کہا کہ تو نے موسی کا حال نہیں دیکھا حال دیکھا ہو تھا نا سہم گے نا۔ تو پھر کہنے لگے کہ پھر دیدار کیسے ہو گا  کہ اسکے لیے تجھے میرے حبیب کا اُمتی بننا پڑے گا ۔ امت کی کتنی شان ہے ۔عیسی علیہ السلام نے کہا اے اللہ نبوت سنبھال ۔ مجھے نبوت نہیں چاہیے جس میں اللہ کا دیدار نا ہو۔ امتی بنا دے نا جس سے دیدار ہو ۔عیٰسی علیہ السلام کو اٹھا لیا گیا زندہ اٹھا لیا گیا
 

اب مہدی علیہ السلام آئیں گے عیٰسی علیہ السلام ان سے بیعت ہوں گے وہ امتی بنیں گے پھر ان کو دیدار ہو گا نا۔


اب سنا ہے عیٰسی علیہ السلام کے بعد ادریس علیہ السلام جو ہیں نا وہ بھی بہشت میں زندہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عیٰسی تو جا پھر بعد میں بھی اُمتی بننے آؤں گا۔ تو جا میں بھی اُمتی بننے آؤں گا ۔ بتاؤ وہ نبی ہو کے اُمتی کی خواہش کری اور تم اُمتی تھے، اُمتی سے نکل کر خوارج ہو گے۔ اور وہ چیز جس کے لیے بنی اِسرائیل کے نبیوں نے خواہش کری وہ تم کو نصیب ہے۔ وہ دیدار کو ترسے رہے یہ ولی کہتے ہیں  ہم دیدار کرتے ہیں۔ ابو حنیفہ نے کہا کہ میں نے ۹۹ دفعہ اللہ کو دیکھا ۔ ابرہیم بن اودھم فرماتے ہیں کہ میں نے ۷۰ دفعہ اللہ کو دیکھا ہے سلطان صاحب فرماتے ہیں جب جی چاہوں اللہ کو دیکھ لوں۔
 

 

اگر تم کو فضیلت ہے اُمتی کو فضیلت ہے اُمتی تب بنو گے جب تمھارے اندر نور آئے گا، اب جب تمھارے اندر سے نور نکل گیا نا۔ تو فرقوں میں بٹ گے نا۔ ایک دوسرے کو کافر منافق کہتے ہو نا۔ وہ جو نور ہے وہی نور تمھارے اندر عشق پیدا کرتا ہے نا۔ اگر تمھارے اندر نور آجائے تو تمھارے اندر عشق آ گیا نا اللہ کا۔ اللہ کا عشق آگیا تو علامہ اقبال فرماتے ہیں گر ہو عشق تو کفر بھی ہے مسلمانی۔ اگر تو کچھ بھی ہے تو تیرے اندر عشق ہے نا تو کفر میں مسلمانی ہے نا۔ آگے لکھتے ہیں کہ گر نہ ہو تو مسلم بھی ہے کافر و زنیدیق۔ اسکا ثبوت بھی ہے نا کہ مسلمان ایک دوسرے کا کافر زنیدیق ہی کہہ رہے ہیں نا۔ اب اس کے لیے یہ کہ جن لوگوں کو ذکر کی اجازت لینی ہو گی نا۔ تھوڑا سا ترسائیں گے اُن کو وہاں آنا پڑے گا۔

 

© 1998-2010 All Faith Spiritual Movement Intl'
admin@theallfaith.com