SELECT YOUR LANGUAGE:    ENGLISH    or   INDONESIAN

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے

اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر)

مرکزی صفحہ  تعارف  حضرت عیسی  کرشمہ قدرت  الحجرالأسود  تعلیمات  دینِ الٰہی  پروگرام  تصانیف  ویڈیو  رابطہ    

بسم اللہ الرحمن الرحیم
 

 

سالانہ جشن گیارہویں شریف 1999

 

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھرشاہی مدظلہ العالی نے کوٹری شریف میں  منعقدہ سال 1999
 

کے سالانہ جشن گیارہویں شریف کے اجتماع سے خطاب کرتے  ہوئے فرمایا:
 


عزیز ساتھیو! السلام علیکم۔


جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ عرصہ بیس سال سے انجمن کے پیٹ فارم پر اولیاء عظام کی تعلیم کا پرچار کیا جارہا ہے، اسی تعلیم سے آج لاکھوں حضرات جن کا تعلق مختلف قوموں مختلف فرقوں حتیٰ کہ مختلف مذہبوں سے ہے،اسی رسی میں منسلک ہو گئے ہیں۔ جس کے لئے ارشاد باری ہے کہ اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، یہ رسی والے مختلف مذاہب کے باوجود ایک دوسرے کو بھائی بھائی سمجھنا شروع ہو گئے، بلکہ آج اس محفل میں بھی کئی غیر مسلم موجود ہیں، اس فقرے پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ


 

”اﷲ کی پہچان کے لئے روحا نیت سیکھو، خواہ تمہارا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو"

 

کہتے ہیں کہ اسلام کے بغیر روحانیت کیسے سیکھی جا سکتی ہے۔ در حقیقت روحانیت کا تعلق مذہب سے نہیں بلکہ روحوں کی طاقت کو اجا گر کرنا ہے، کچھ لو گ چاند ،سورج حتیٰ کہ شمع کی روشنی اپنے اندر جذب کر کے کئی قسم کی صلاحیت پیدا کر لیتے ہیں جیسا کہ ٹیلی پیتھی، ہپناٹزم یا مسمریزم وغیرہ لیکن ان کا تعلق صرف مخلوق سے ہی ہوتا ہے۔ اس کے ذریعہ رب تک نہیں پہنچ سکتا اور کچھ لوگ اﷲ کے نام کی روشنی اپنے جسموں میں جذب کرتے ہیں۔ دل کی دھڑکنوں کے ساتھ اﷲ اﷲ ملاتے ہیں، پھر اﷲ اﷲ کا نور خون سے سرائیت کرتا ہوا روحوں تک پہنچتا ہے پھر روحیں نور کی طاقت سے صلاحیت پیدا کر لیتی ہے پھر خواب، مراقبے یا مکاشفے کی صورت میں انہیں رحمانی آگاہی ہونا شروع ہو جاتی ہے اور مختلف مقامات پر طیر سیر کے لئے پہنچ جاتی ہیں پھر وہ مقام شنید سے نکل کر مقام دید م یں چلی جاتی ہیں پھر وہ دیکھ لیتی ہیں کہ کونسا نبی ہے جس کے آگے سب نبی ولی جھکے ہوئے ہیں پھر وہ بھی اس کے آگے جھک جاتی ہیں۔
 

فرعون یا س کے درباریوں نے موسیٰ علیہ السلام کو نہ پہچانا لیکن جادو کی صلاحیت رکھنے والے ہی موسیٰ ؑ کو پہچان کر ان پر ایمان لے آئے تھے۔


بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ گوہر شاہی نے نبوت کا اعلان کر دیا بلکہ اسی بناءپر ٹنڈو آدم نے ایک مولوی کی درخواست پر 295/ABC کا چالان دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا ہوا ہے، جب کہ ان کے پاس تحریر اً کوئی بھی ثبوت نہیں۔کچھ اخبار والوں نے یہ شیطانی کری تھی جس کے بعد میں ان ہی اخبارات نے تردید بھی شائع کردی تھی۔ جو لوگ بلا تحقیق یا دانستہ کسی پر کفر کا غلط بہتان لگا دیتے ہیں وہ خود کفر کے زمرے میں آجاتے ہیں کافر بے ایمان کو بولتے ہیں غیبت، بہتان، حرص و حسد اور بخل وغیرہ سے ان کے بھی ایمان خارج ہو جاتے ہیں۔ زندگی میں کی ہوئی نیکیاں چھن جاتی ہیں۔ جس کی انہیں بھی خبر نہیں ہوتی اور آخر میں سب نیکیاں برباد کر کے شیطان کی طرح لعنتی ہو جاتے ہیں۔
 

 

ایک واقعہ ہے " بایزید بسطامیؒ کو پتہ چلا کہ ایک عالم ان کی برائی کر رہا ہے آپ نے اس کا کچھ وظیفہ مقرر کر دیا وہ وظیفہ بھی لیتا رہا اور آپ کی برائی کرتا رہا ایک دن اس کی بیوی نے کہا کہ نمک حرامی نہ کر یا ان کی برائی چھوڑ یا وظیفہ چھوڑ ،اس دن کے بعد اس نے بایزید کی تعریف کرنا شروع کردی، جب آپ کو پتہ چلا کہ اب وہ تعریف کر رہا ہے تو آپ نے وظیفہ بند کردیا پھر وہ عالم بایزیدؒ کے دربار میں حاضر ہوا کہ جب میں آپ کی برائی کرتا تھا اس وقت آپ مجھے وظیفہ دیتے تھے لیکن جب تعریف کرنا شروع کی تو آپ نے وظیفہ بند کر دیا۔آپ نے فرمایا اس وقت تو میرا مزدور تھا۔ تیری ناحق برائی سے میرے گناہ جلتے۔اس کی جگہ تیر نیکیاں آجاتیں میں اس کے عوض تجھے معاوضہ دیتا۔اب تجھے کس چیز کا معاوضہ دوں۔

 

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ گوہر شاہی نے امام مہدی کا اعلان کر دیا ہے بلکہ پچھلے دنوں ریگز انٹر نیشنل لندن کی طرف سے بھی جنگ لندن میں مہدی کا اعلان ہوا۔ یہ خیال ان لوگوں کے اپنے ہیں جو انہوں نے اپنے مشاہدات و تجربات کی روشنی میں بیان کئے۔ صحیح بھی ہو سکتے ہیں اور نظروں کا دھوکہ بھی ہو سکتا ہے بہر حال اس کا جواب وہی دے سکتے ہیں۔ میں نے خود کو کبھی امام مہدی نہیں سمجھا نہ کبھی ایسا اعلان کیا ہے بلکہ لوگوں کا امام مہدی کی نشانیاں بتاتا رہتا ہوں کہ جس طرح حضور پاک کی پشت پر کلمے کے ساتھ مہر نبوت تھی اسی طرح امام مہدی کی پشت پر کلمے کے ساتھ مہر مہدیت ہو گی لیکن جب چاند، سورج، حجرا اسود، شیو مندر، امام باگاہوں اور کئی مساجد میں تصویروں کی تصدیق ہوئی تو مجھے بھی شک گذرا کہ ہو سکتا ہے اﷲ تعالیٰ یہ مرتبہ مجھے ہی نواز دے کیونکہ کئی ایسے واقعات سامنے تھے کہ چور اور ڈاکو بھی راتوں رات ولی بن گئے حمتی یقین تب ہو گا جب اس کی طرف سے کوئی الہام ہو اور ظاہری باطنی ولی اس کی تصدیق کریں۔

 

لوگ کہتے ہیں کہ گوہر شاہی نے چاند اور حجرا اسود پر تصاویر کا دعویٰ کیا یہ دعویٰ میں نے نہیں بلکہ یہ دعویٰ رب کی طرف سے ہوا ہے جس کی میں تائید کر رہا ہوں اور لوگوں کو بھی کہتا ہوں کہ تم اس کی تحقیق کرو۔

اگر منجانب اﷲ ہے تو اس کو جھٹلانا کفر ہے

 

اور اگر ہم ان نشانیوں کا ثبوت پیش نہ کر سکیں تو ہر قسم کی سزا کے لئے تیار ہیں۔ تحقیق کے بعد لوگ کہتے ہیں کہ جب حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی شبیہ نہیں آئی تو کسی اور کی کیسے آسکتی ہے ہو سکتا ہے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ہی اپنے کسی فرزند کی تصویر لگا دی ہو کہ اس کے ذریعے عشق و محبت کی تعلیم حاصل کرو۔ جیسے حضورصلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ہی تعلیم سکھا کر وپری دنیا اور مذاہب کے لئے مامور کیا ہوا ہے ۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تصویر حرام ہے جس طرح عام لوگوں کو غصہ آئے تو حرام ہے لیکن ولی نبی یا اﷲ کو غصہ آئے تو حرام نہیں کہہ سکتے بلکہ جلال کہتے ہیں اسی طرح عام لوگوں کی بنائی ہوئی تصویر حرام ہو سکتی ہیں لیکن سلیمان ؑ کے ہاتھوں کی بنائی ہوئی تصویریں جو تابوت سکینہ میںموجود ہیں آپ انہیں بھی حرام نہیں کہہ سکتے تو پھر اگر اﷲ کوئی تصویر بنادے تو اس پر اعتراض نادانی ہے جب کہ وہ مصور بھی ہے اور ہر چیز پر قادر بھی۔ حدیثوں میں بھی ہے کہ قبر میں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی شبیہ دکھائی جائے گی۔ جب کہ شبیہ تصویر کا ہی دوسرانام ہے۔


 

اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ امام مہدی دنیا میں کسی جگہ موجود ہیں دجال کے متعلق یہ قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں کہ امریکہ دجال ہے لیکن حدیثوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ مہدی اور دجال کی جنگ بھی ہو گی۔اگر ان کے مطابق امریکہ دجال ہے تو پھر روس امام مہدی ہو گا
 

 

میں چاہتا ہوں اپنے علم کی روشنی میں امام مہدی کو متعارف کراؤں 
 

کیونکہ صدیوں سے جہاں مومنوں کو ان کا انتظار ہے اسی طرح دجالئے بھی ان کے لئے قتل کے لئے بے قرار ہیں۔


 

پہلے ذرا دجالیوں کی تشریح آپ کو بتاتا ہوں جو شخص کہے کہ امام مہدی میرے زمانے میں آجائے تو میں اس کی ٹانگیں توڑ دو اور جو ملک کہے اگر واقعی امام مہدی آجائے اور جو اسے قتل کرے میں اسے بے شمار انعام دوں کیونکہ حدیثوں کے مطابق انہیں شبہ ہے کہ امام مہدی ان سے سلطنت چھین لے گا حکومت پاکستان نے بھی یہ قانون بنایا ہوا ہے کہ اگر کوئی مہدی کا اعلان کرے تو اسے جیل میں بند کر دیا جائے اگر واقعی امام مہدی پاکستان میں آگیا تو پھر ان کا استقبال جیل کی دال سے ہی ہو گا۔ حکومت نے یہ قانون کیسے پاس کیا جب کہ ہر فرقے کے مطابق امام مہدی کو دنیا میں آنا ہے۔ حکومت کے مطابق کہ یہ قانون جھوٹے مہدیوں کے لئے ہے تو پھر سچے مہدی کی حکومت کے پاس کیا پہچان ہے۔ اگر آج حکومت اس قانون کو ختم کرے تو کل ہی پورے ثبوت اور حدیثوں کی روشنی میں امام مہدی کو دنیا میں روشناس کر اسکتا ہوں ورنہ ایک دنیا خود ہی پہچان لے گی۔

 

مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید

 

 

حدیثوں میں ہے کہ امام مہدی کی والدہ کا نام آمنہ اور باپ کا نام عبداﷲ ہو گا۔اس کے دو جواب ہیں- ایک منطقی ہے دوسرا فلسفی ۔

اسی حدیث میں کہ دجال گدھے پر بیٹھ کر آئے گا اور ایک آنکھ سے کانا ہوگا۔ 
 

اب اگر واقعی وہ گدے پر چڑھ کر آئے گا اور کانا ہو گا، ہم تو پہچان لیں گے نا کہ یہی دجال ہے۔ہم کہتے ہیں کہ جس کے ہزاروں پیروکار ہوں گے، کیا اس کو کوئ کار نہیں دے گا؟ اگر اس نے یہاں سے اسلام اباد جانا ہو تو گدھے پر کب پہنچے گا؟ جبکہ یہ کاروں اور ہوائ جہازوں کا زمانہ ہے۔
 

 

پھر وہ کہتے ہیں ‘نہیں‘ جب یہ زمانہ ختم ہو جاے گا، سائنس کا، تو پھر وہ آئے گا۔ اس وقت دجال گدھے پہ بیٹھے گا۔

 اور ہم کہتے ہیں کہ اگریہ زمانہ ختم ہو جاے گا، کاریں بھی نہیں ہوں گی، اگر گدے ہونگے تو گھوڑے بھی تو ہونگے نا۔
 

تو وہ گھوڑے پہ کیوں نہیں بیٹھے گا؟ جواس سے اعٰی سواری ہے۔


 

پھر کہتے ہیں یہ کوئ اشارہ ہو گا۔ اشارہ یہ ہو گا کہ گدھا ایک شیطان ہے۔
 

دجال شیطان پوری کی طاقت رکھے گا اور ایک انکھ سے محروم کا مطلب وہ ایک علم یعنی باطنی علم سے محروم ہو گا۔ 
 

اور ہم کہتے ہیں کہ اگر وہ ایک اشارہ ہے تو پھر یہ بھی اشارہ ہو سکتا ہے نا کہ امام مہدی کی ماں کا نام آمنہ یعنی مومنہ ہو گی
 

اور باپ کا نام عبداﷲ یعنی اﷲ کی عبادت کرنے والا ہو گا۔


 

یہ تو منطقی ہے جس کا عام لوگ زکر کرتے بھی ہیں۔ یہ فصول بھی ہے۔ جو اصلی روحانی طور پر ہے میں آپ کو بتاتا ہوں۔ پتا نہں سمجھ میں آئے کہ نہ آئے۔
 
قرآن میں ارضی و سماوی روحوں کا ذکر آیا ہے۔ ارضی روحیں اس دنیا میں پتھروں، درختوں اور حیوانوں میں ہوتی ہیں جن کا یوم محشر سے کوئی تعلق نہیں۔ سماوی روحیں آسمانوں سے تعلق رکھتی ہیں جیسے فرشتے، ارواح اور لطائف وغیرہ۔ جب ارضی و سماوی روحیں اس جسم میں اکٹھی ہوتی ہیں تو تب انسان بنتا ہے۔ جب پیٹ میں نطفہ پڑتا ہے تو خون کو اکٹھا کرنے کے لئے روح جمادی پڑتی ہے پھر روح نباتاتی کے ذریعے بچہ پیٹ میں بڑھتا ہے پھر روح حیوانی آتی ہے تو بچہ پیٹ میں حرکت کرنا شروع کردیتا ہے۔ پیدائش کے بعد روح انسانی لطائف کے ساتھ آتی ہے جس کے ذریعے بچہ چیخنا چلانا شروع کر دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ اگر بچہ پیدائش سے تھوڑی دیر پہلے ہی مر جائے تو اس کا جنازہ نہیں ہوتا کہ وہ ابھی حیوان تھا۔ پیدائش کے بعد تھوڑی دیر زندہ رہنے کے بعد اگر مر جائے تو اس کا جنازہ ضروری ہے کہ انسان بن گیا تھا۔ مرنے کے بعد سماوی روح آسمان پر چلی جاتی ہے جو ایک ہی جسم کے لئے مخصوص تھی لیکن وہ ارضی ارواح دوسرے میں پھر تیسرے میں حتیٰ کہ کئی عرصہ تک دوسروں جسموں میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ خاندانوں میں فطرت کا اثر ان روحوں کی وجہ سے ہوتا ہے جب کہ خاندانی بیماری کا تعلق خون سے ہوتا ہے۔عام لوگوں کی ارضی ارواح ایک دوسرے جسم میں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ پاکیزہ لوگوں کی ارواح پاکیزہ جسموں میں داخل ہوتی رہتی ہے۔
 

 

جبکہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی ارضی ارواح کو

صر ف امام مہدی علیہ سلام کے جسم کے لئے رو کا گیا تھا  
 


جس طرح حضور پاک کے پورے جسم کو آمنہ کا لال کہہ سکتے ہیں اس طرح جسم کے کسی حصے یعنی ہاتھ وغیرہ کو بھی آمنہ کا لال کہہ سکتے ہیں۔جس طرح حضور پاک کی روح کوبھی آمنہ کا لال کہہ سکتے ہیں اس طرح روح کے کسی بھی دوسرے حصے کو آمنہ کا لال کہہ سکتے ہیں۔ چونکہ روح کا وہی دوسرا حصہ امام مہدی کے جسم میں ہوگا جس کی وجہ سے ان کی ماں کا نام آمنہ اور باپ کا نام عبداﷲ بھی ہوسکے گا۔
 

 

مہدی کو تلاش کرواگر کوئی ساری عمر عبادت کرتا رہے آخر میں امام مہدی کی مخالفت کری تو وہ بلیمبا عور جو دعائے مستجاب بھی تھا اصحاب کہف کے کتے کی شکل میں دوزخ میں جائے گا اگر کوئی ساری عمر کتوں کی طرح زندگی بسر کرتا رہا لیکن آخر میں مہدی کا ساتھ دے دیا تو وہ کتے سے حضرت قطمیر بن کر بیلم با عور کی شکل میں جنت میں جائے گا۔

 

اکثر کہتے ہیں کہ اگر امام مہدی پاکستان میں موجود ہے تو جیلوں سے کیوں ڈرتا ہے۔ اعلان کیوں نہیں کرتا جس طرح اس وقت حضور گھر میں اذان دیتے رہے جب تک حضرت عمر نہیں ملے۔ مصلحتاً اپنے بستر پر حضرت علی کو سلا کر مدینہ کی طرف ہجرت بھی کی۔ اسی طرح امام مہدی بھی مصلحتاً خاموش ہے۔ کیونکہ وہ اعلان کرے یا نہ کرے جیل میں رہے ،شہر میں رہے یا گوشہ نشیں، آخر وہی امام مہدی ہیں جو رب کی طرف سے ہے۔


 

ایک حدیث کے مطابق عام خیال ہے کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا کیونکہ اس وقت دوردور تک دیئے جل رہے ہوں گے 
 

اس کا مقصد دور دور تک دل چمک رہے ہوں گے
 

 

ایک اور حدیث کے مطابق وہ نیا دین بنائیں گے یا دین میں تجدید کریں گے 
 

دونوں حالتوں میں انہیں علماءکی سازشوں اور فتوؤں کا مقابلہ بھی کرنا ہو گا۔جب تک علماء ان کو پہچان نہ لیں گے۔


 

ایک حدیث کے مطابق وہ لوگوں کو بے مانگے بے شمار دولت دیں گے وہ باطنی دولت کی طرف اشارہ تھا۔

یعنی ان کا فیض بقول سلطان باہو: چہ مسلم چہ کافر چے زندہ چہ مردہ سب کے لئے ہو گا
 


 

اسی وقت کے لئے شاید قرآن میں آیا ہے کہ جب تم کسی معاملے میں پریشان ہو جاؤ تو اہل ذکر سے پوچھ لینا اہل ذکر کون ہوتے ہیں ۔غوث پاک فرماتے ہیں کہ میرا مرید ذاکر اﷲ ہوگا۔ میں اس کو ذاکر مانتا ہوں جس کا دل اﷲ اﷲ کرے ورنہ زبانی ذکر تو طوطا بھی کرلیتا ہے۔


 

دل کے ذکر سے دل کی صفائی دل میں چمک اور پھر دل میں نور پیدا ہوتا ہے ھپر وہی دل اﷲ تعالیٰ کے الہام اور رحمانی دلیل اور اشاروں کے قابل ہو جاتا ہے پھر خو دبخود ور کا رخ نور کی طرف اور پہچان ہو جاتی ہے۔

 


 

ہم نے عرصہ بیس سال کی محنت سے لاکھوں سرفروشوں کو قلبی ذکر سکھایا۔ جس کے ذریعے وہ گناہوں کو ترک کر کے عشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور عشق اﷲ میں داخل ہوئے۔ ہزاروں محفل حضوری صلیٰ اللہ علیہ وسلم تک جا پہنچے، ہزاروں اﷲ سے واصل ہوئے ہر کسی کے بس میں نہیں کہ وہ اﷲ تک رسائی حاصل کر لے کیونکہ اس میں شریعت کے ساتھ ساتھ ترک گناہ اور رزق حلال ضروری ہیں۔ جلالی و جمالی، پرہیز، ورد و ظائف اور ذکر سلطانی بھی کرنے پڑتے ہیں
 

 

لیکن یقین کرو کہ اگر کوئی امام مہدی سے واصل ہو گیا تو پھر اﷲ دور نہیں ہے
 

کاملین کی نسبت اور محبت ہی کتے کو حضرت قطمیر بنا دیتی ہے جبکہ کتے کا بھی نہ کوئی مذہب تھا اورنہ ہی اس نے کوئی عبادت کری تھی۔


 

ایک اور اہم بات کہ حکومت پاکستان نے اپنے نمائندے مختلف ایجنسیوں کی صورت میں ملک بھر میں پھیلائے ہوئے تاکہ انتشار کو روکنے میں امن پیدا کرنے کی تدابیر مذہب دشمن اور ملک دشمنوں کی صحیح صحیح رپورٹ سے حکومت کو آگاہ کریں، لیکن تجربہ ہوا ہے کہ یہ ایجنسیوں والے اکثر غلط رپورٹیں بھیجتے رہتے ہیں۔ فرقہ واریت کی وجہ سے پارٹی بھی بن جاتے ہیں۔ خود قتل کراکے دوسروں پر ڈال کر فتنہ کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں شرپسندی کی صورت میں بجائے رکاوٹ کرنے کے تماشہ بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے عوام حکومت سے نفرت کرنے لگتی ہے۔ ان بگڑتے ہوئے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں تمام ایجنسیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ مذہبی یا ملکی فریضہ سمجھ کر تمام فرقوں کے سر براہوں سے میری ملاقات کسی جگہ پر کرائیں اگر میری تعلیم میں کوئی ایسی بات ہے جس سے دین اسلام کو نقصان ہے یا ولیوں کی تعلیم سے باہر ہے تو میں اسے چھوڑنے کے لئے تیار ہوں بصورت دیگر غلط پرو پیگنڈہ یا غلط رپورٹیں امت مسلمہ میں خونریزی کا شکار ہو سکتی ہیں جس کا علم حکومت کو بھی ہے۔

 

آخر میں دعا ہے کہ آج کی اس محفل کے صدقے میں جو کہ محبوب ربانی کی ہے اﷲ تعالیٰ مہدی علیہ سلام کو پہچاننے اور ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے


 

© 1998-2010 All Faith Spiritual Movement Intl'
admin@theallfaith.com