|
SELECT YOUR LANGUAGE: ENGLISH or INDONESIAN |
||
![]() |
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے |
![]() |
|
اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر) |
||
|
مرکزی صفحہ تعارف حضرت عیسی کرشمہ قدرت الحجرالأسود تعلیمات دینِ الٰہی پروگرام تصانیف ویڈیو رابطہ |
||
غوثیہ کانفرنس 15 اکتوبر1992درگاہ سخی عبدالوہاب شاہ جیلانی حیدرآباد
اعوذبااللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
عزیز
ساتھیو اسلام علیکم یہ حیدرآباد میرا شہر ہے بارہ ،چودہ سال سے میں یہاں مقیم ہوں لیکن آج پہلی دفعہ مجھے اسٹیج پہ آنے کا اتفاق ہوا اسٹیج پہ آنے کا مقصد کوئی سیاست نہیں ہے، کوئی فتنہ نہیں ہے، کوئی کسی کی مخالفت نہیں ہے ہر شہر میں دل والے ہوتے ہیں اُن دل والوں کو نکالنا مقصود ہے اور دل کی آواز دلوں تک پہچانا مقصد ہے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو (2) طرح کا علم تھا ایک زبان والوں کیلئے اور ایک دل والوں کیلئے جن لوگوں نے وہ صرف زبانی علم سیکھا اُنہی میں سے کوئی خوارج ہوا، کوئی منافق ہوا اور جن لوگوں نے وہ باطنی علم دل والا علم بھی سیکھا وہ تو اصحابی یا رسول کہلائے اور ولیوں سے بھی اعلیٰ مقام حاصل کرکے چلے گئے ظاہری علم کتابوں میں ہے حدیث شریف میں ہے ہر علماء کے پاس مسجد میں موجود ہے لیکن وہ باطنی علم نہ مسجدوں میں ملتا ہے نہ حدیثوں میں ملتا ہے۔ قرآن مجید میں صرف تین الفاظ ہیں باطنی علم کے قرآن مجید میں صرف تین الفاظ ہیں۔باقی سب علم شریعت ہے اور وہ تین الفاظ کیا ہیں جن کو تم کہتے ہو حروف مقطعات۔تم کہتے ہو حروف مقطعات آگے چلو ۔آگے تو ظاہر ہی ظاہر ہے۔سلطان صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے کسی مدرسے سے نہیں پڑھا قرآنِ مجید کا پہلا لفظ لے لیا الف سے اللہ اللہ کرتا رہا اور اللہ اللہ کرنے سے میرا سینہ منور ہوگیا جب سینہ منور ہو گیا تو اِسمیں ظاہری اور باطنی علوم خود بخود ہی آگئے وہ باطنی علم حدیث شریف میں بھی نہیں ہے قرآن مجید کی تشریح حدیث شریف میں ہے لیکن باطنی علم حدیث شریف میں بھی نہیں ہے حدیث شریف میں صرف اشارہ ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی فرماتے ہیں مجھے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے دو علم حاصل ہوئے ایک تمہیں بتا دیا اگر دوسرا بتاﺅں تو تم مجھے قتل کر دو۔اِس کا مطلب ہے کہ وہ حدیث شریف میں بھی نہیں ہے تو پھر وہ باطنی علم کہاں ہے کبھی سوچا وہ بہت ہی ناپید ہے وہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک میں ہے اور وہ سینہ بہ سینہ مستحق لوگوں کو ملتا ہے جس طرح ظاہری علم کیلئے سفید کاغذ چاہیے اِسی طرح باطنی علم کیلئے سفید سینہ چاہیے۔ اب وہ باطنی علم کیا ہے لوگ کہتے ہیں درویشوں کا خیال ہے کہ یہ دل اللہ اللہ کرتا ہے وہ کہتے ہیں ہم نے دل دیکھا ہے یہ گوشت کا لوتھڑا ہے اِس کی زبان ہی نہیں ہے تو یہ کہاں سے اللہ اللہ کرتا ہے؟ یہی کہتے ہوناں اور ہم کہتے ہیں یہ زبان ،یہ بھی گوشت کا ایک لوتھڑا ہے یہ اللہ اللہ کیسے کرتی ہے؟ یہ دو جبڑوں کے درمیان لٹکا ہوا ہے اور وہ دو پسلیوں کے درمیان لٹکا ہوا ہے۔ اس کو اللہ اللہ کرانے کیلئے اک مخلوق ہے جس کا نام ہے لطیفہ اخفیٰ وہ سینے کےدرمیان میں ہے۔اگر کسی کی وہ مخلوق ختم ہو جائے تو ڈاکٹر کہتے ہیں زبان تو ٹھیک ہے پتہ نہیںبولتا کیوں نہیں ہے۔انسانوں اور جانوروںمیں اِن مخلوقوں کا فرق ہے زبانوں کا فرق نہیں ہے زبانیں ایک ہی جیسی ہیں اگر یہ مخلوق جانوروں میں بھی ہوتی تو وہ بھی کچھ توتلا سا ہی بول لیتے کچھ نہ کچھ تو بولتے ہی ناں اب یہ جو مخلوق لطیفہ اخفیٰ ہے اُس کے ذریعے زبان بات کرتی ہے وہ آزاد ہے اِسی طرح کی اک اور مخلوق ہے جس کا نام لطیفہ قلب وہ اُس گوشت کے لوتھڑے کے ساتھ موجود ہے اگر کوئی شخص اُس کو بھی آزاد کرا لے تو جس طرح یہ زبان اللہ اللہ کرتی ہے اُس طرح وہ دل اللہ اللہ کرتا ہے۔ یہ زبان جب اللہ اللہ کرتی ہے تو جنبش میں آتی ہے اسی طرح وہ گوشت کا لوتھڑا جب اللہ اللہ کرتا ہے تو دل کوجنبش ہوتی ہےجب دل کو جنبش ہوتی ہے اُدھر عرش معلی کو جنبش ہوتی ہے فرشتے پوچھتے ہیں اللہ یہ کیا ہو رہا ہے اللہ تعالیٰفرماتا ہے میرا ایک خاکی بندہ جس پہ انکارِ سجدہ ہوا تھا آج وہ نہیں آج اُس کا دل میرے ذکر میں مصروف ہےفرشتے کہتے ہیں کاش ہم بھی اِس طرح کے انسان ہوتے ہمارے اندر بھی ایسا دل ہوتا ہم بھی تیرے عرش معلی کو ہلاتے
اگر تم
کو فضیلت ہے فرشتوں اور جنوں سے تو اِس دل سے فضیلت ہے۔ کیا
وجہ ہے کہ تم دس، بیس، تیس سال میں اُن سے بازی لے جاتے ہو وہ ہزاروں سال
کی عبادت پیچھے رہ جاتی ہے وہ
کہتے ہیں کاش اگر ہم میں یہ دل ہوتا ہم حضرت انسان کو ایک قدم آگے نہ
جانے دیتے اب یہ تو
پتہ چل گیا کہ اگر وہ مخلوق جس کا نام لطیفہ قلب ہے اُس کی شکل فرشتوں کی
طرح ہے اگر وہ جاگ اُٹھے تب یہ بات میسر ہوتی ہے لیکن وہ جاگے کیسے؟ اگر کسی شخص نے انڈہ نہ دیکھا ہو اُسے کہا جائے یہ ہوا میں اُڑے گا یہ چوں چوں کرے گا کہے گا تو غلط کہتا ہے نہ اِس کی ٹانگیں ہیں نہ زبان ہے نہ پر ہے کیسے یہ ہوا میں اُڑے گا کیسے چوں،چوں کرے گا اُس کا نام بیضہ ہے تمہارے بیضے کی نقل ہے تمہارے اندر بیضہ ناسوتی ہے اُس کے اوپر تین چھلکے ہیں اور تمہارے سینے والے کے اندر اک لکھ اسی ہزار (180000) جالے ہیں اُس کو ظاہری گرمی کی ضرورت ہے اور اِس کو اللہ ھو کی ضربوں کی ضرورت ہے اُس کو مرغی چاہیے اور اِس کو مرشد چاہیے اُس کے اندر اک چوزہ بند ہے دکھتا نہیں ہے لیکن چوزہ بند ہے اور اِس کے اندر اک فرشتہ بند ہے جب گرمی سے وہ چوزہ پھٹتا ہے اُس کو کوئی سکھاتا نہیں ہے بغیر سیکھے سکھائے چوں چوں کرتا ہے اُسکی فطرت ہے اور جب یہ پھٹتا ہے تو بغیر سیکھے سکھائے اللہ اللہ کرتا ہے اُس وقت آدمی دیکھتا ہے کہ میرے اندر کون سی مخلوق جاگ اُٹھی جو اللہ اللہ کررہی ہے یہاں سے پھر دو طرح کی تسبیح چلتی ہے اک زبان والوں کی اور اک دل والوں کی زبان والوں کی تسبیح کیا کرتی ہے وہ کرتی ہے ٹِک زبان کرتی ہے اللہ وہ کرتی ہے ٹِک زبان کرتی ہے یعنی اُس کا کام صرف ٹِک،ٹِک کرنا ہے اب تسبیح بھی باہر اللہ اللہ بھی باہر اور جو تمہارا دھیان وہ بھی باہر اک دفعہ اللہ کہہ لینا کافی ہے گھڑی، گھڑی اللہ اللہ کیوں کرتے ہیں بھئی ایک دفعہ دل سے کہہ لینا کافی ہے ناں گھڑی،گھڑی کیوں کرتے ہیں جس طرح بادل آپس میں ٹکراتے ہیں تو بجلی بنتی ہے اِسی طرح لفظ اللہ اللہ آپس میں ٹکراتے ہیں تو نور بنتا ہے اب تمہارا دھیان بھی باہر اور وہ جو نور بن رہا ہے وہ بھی باہر ، یہ عبادت ضرور ہے لیکن یہ روحانیت نہیں ہے یہ عام لوگوں کی تسبیح ہے اور خاص کی تسبیح کیا ہے اُسی طرح کی ٹِک،ٹِک تمہارے اندر ہو رہی ہے اب وہ جو چیز بیدار ہو چکی اب آدمی اُسکا اُستاد بن جاتا ہے اب اُس کو کہتا ہے کہ تیری تسبیح یہ ٹِک،ٹِک ہے اس کے ساتھ اللہ اللہ کر تین سال تک اِس کے ساتھ اللہ اللہ ملاتا ہے کبھی ملتی ہے ،کبھی ہٹتی ہے ،کبھی ملتی ہے کبھی ہٹتی ہے اور تین سال کے بعد اتنا پختہ ہو جاتی ہے کہ وہ ڈٹ کر سوتا ہے اور اُس کا دل اللہ اللہ کرتا ہے۔ سخی سلطان باھو فرماتے ہیں کجھ جاگدیاں سُتے ھو تاں کجھ سُتیاں جاگدے ھوکچھ لوگ ایسے ہیں جو جاگ کر ساری رات عبادت کرتے ہیں لیکن وہ سوئے ہوﺅں میںشامل اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو بستروں پہ سو رہے ہیں اُن کے دل اللہ اللہ کر رہے ہیں۔حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم سوتے ہیں ہمارے دل نہیں سوتے۔اب یہ مرتبہ تو مل گیا وہ جو مخلوق ہے اس قسم کی تمہارے اندر ست (7 ) مخلوقیں ہیں حدیث شریف میں باقاعدہ اُن کے نام ہیں اُن کو لطائف بولتے ہیں نو (9 ) اُن کے خلیفہ ہیں جن کو جُسے بولتے ہیں اِس تمہارے ڈھانچے میں سولہ (16 ) مخلوقیں ہیں ایک تم ہو سترہ (17) اور وہ مخلوقیں تمہاری نسوں میں چمٹی ہوئی ہیں اُن میں جان نہیں ہے اب اللہ اللہ کا نور نسوں میں جانا شروع ہو گیا نسوں میں کیسے جانا شروع ہوا اُن ٹِک،ٹِکوں کا کیا کام ہے کہ وہ خون کو آگے دھکیلتی ہیں ،پھر خون کو آگے دھکیلتی ہیں خون نس،نس میں جاتا ہے پھر دل میں آتا ہے پھر وہ ٹِک،ٹِکیں اُسے نس،نس میں بھیجتی ہیں اب اُن ٹِک، ٹِکوں کے ساتھ اللہ اللہ مل گیا، اُن ٹِک،ٹِکوں کے ساتھ اللہ اللہ مل گیا اب وہ اللہ اللہ اُن ٹِک، ٹِکوں کے ذریعے نس،نس میں چلا جاتا ہے پورے خون میں اللہ اللہ چلا جاتا ہے جب نس، نس میں اللہ اللہ چلا جاتا ہے اُس وقت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں تو اک دفعہ اللہ اللہ کرے گا تجھے ساڑھے تین کروڑ (35000000) دفعہ اللہ اللہکرنے کا ثواب ملے گا فرماتے ہیںکیسے ملے گا؟ کہ تیرے اندر ساڑھے تین کروڑ (35000000) نسیں ہیں دل نے اک دفعہ اللہ کری ساڑھے تینکروڑ (35000000) نسیں گونج اُٹھیں۔سخی سلطان باھو فرماتے ہیں تجھے 72 ہزار اور ثواب ملے گا اگر دل اک دفعہ اللہ کہے تو کیسے ملے گا؟یہ جو مسام ہیں جہاں سے پسینہ آتا ہے یہ 72 ہزار ہوتے ہیں دل نے اک دفعہ اللہ کری 72 ہزار آوازیں یہاں سےبھی گونجیں۔پھر علامہ اقبال نے فرمایا پھر خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے - فرماتے ہیں خودی کو کر بلند اتنااور خودی کا مطلب سمجھایا کہ خودی کا سرنہاں لا الہ الا اللہ تو لا الہ الا اللہ کا اتنا ذکر کر لوگ کہیں مجنوں ہو گیا منافق کہیں ریاکار ہے۔وہ جو پہلا درجہ تھا وہ مسلمان کا تھا اُس میں 72 فرقے ہیں ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں اور یہ جو درجہ ہے یہ مومن کا ہے سورة حجرات میں ہے اعراب نے کہا ہم ایمان لے آئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں اِن سے کہو صرف اسلام لائے مومن تب بنو گے جب نور تمہارے دل میں اُترے گا مومن نہیں کہتا میں سُنی ہوں، میں شیعہ ہوں اُمتی کہتا ہے بس اُمتی ہوں تمہارا یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم- اگر یہاں تک کوئی عام آدمی پہنچ جائے اُس کو کہتے ہیں کہ یہ نور ہے اگر کوئی عالم یہاں تک پہنچ جائے اُس کو کہتے ہیں یہ نور علیٰ نور ہے- اُنہی عالموں کیلئے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کی میرے عالم بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہونگے اور واقعی اُنکی توہین دین اسلام کی توہین ہے اُنہی لوگوں نے کافروں کو مسلمان بنایا جہاں کوئی فتنہ اُٹھا فوراً جاکے مٹایا اور جو اِس علم باطن دل کے علم کے بغیر عالم ہیں اُن کو عالم سُو کہتے ہیں وہ کافروں کو مسلمان نہیں بنا سکتے ، مسلمانوں کو کافر کہہ سکتے ہیں اُنہوں نے فتنہ مٹایا اور یہ روز ایک فتنہ کھڑا کر دیتے ہیں۔ اِسی طرح مسلمانوں کی نماز اور مومن کی نماز اور، اور ولی کی نماز اور اِس کے بعد کیا ہوتا ہے کہ ولایت شروع ہو جاتی ہے یہ ولی لوگ آسمانوں سے نہیں آتے ہیں جو بھی بچہ اِس دنیا میں آیا خواہ کافر کا بچہ ہوا وہ ولایت کا راز لے کے آیا کہ شاید کبھی بھی مسلمان ہو جائے اور وہ ولایت کا راز استعمال کرے تو ولی بن جائے اور تاریخ گواہ ہے کہ کافروں کے بچے بھی ولی بن گئے مسلمان ہوئے اور ولی بن گئےوہ ولایت کا راز کیا ہے تم نے دیکھا ہو گا کہ رات کو یہاں سوتے ہو دوسرے شہر میں گھومتے ہو تم نہیں ہوتے تمہارے اندر کی کوئی چیز ہوتی ہے وہ تمہارا نفس ہے جو ہر کسی کا آزاد ہے اب تمہارے اندر وہ جو نسوں میں چمٹی ہوئی جو مخلوقیں ہیں اب اُن کو بھی نور ملنا شروع ہو گیا وہ بھی اندر بیدار ہو گئیں اُن میں بھی جان آگئی اب تم نے خواب میں دیکھا حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے روضے کے گرد منڈلا رہے ہو خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہو اب تمہارا رخ تبدیل ہو گیا بارہ (12 ) سال لگے وہ جو کہتے ہیں فلاں ولی نے بارہ (12) سال کا چلہ کیا گیارہ (11) کا کیوں نہیں کیا ،تیرہ (13) کا کیوں نہیں کیا ،دس (10) کا کیوں نہیں کیا جس طرح اٹھارہ(18) سال کی عمر میں بچہ بالغ ہو جاتا ہے اِسی طرح بارہ (12) سال کی عمر میں وہ مخلوق بالغ ہو جاتی ہے اُن کی غذا گوشت روٹی نہیں ہے اُن کی غذا اللہ کا نور ہے اللہ کے نور سے بارہ (12) سال میں وہ بالغ ہو گئیں اب سونے کی ضرورت نہیں ہے اب تم نے سوچا دیکھیں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کیا کر رہے ہیں تم نے سوچا اور وہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں
او بلھے شاہ فر ماتے ہیں کہ لوکی پنج ویلے ،عاشق ہر ویلے۔ لوکی مسیتی،عاشق قدماں کہ جو لوگ پانچ وقت رب کو یاد کرتے ہیں نماز بھی رب کی یاد ہے اُن کی انتہا مسجد ہے باجماعت ہو جائیں گے اور کیا کریں گے لیکن جو لوگ اُس کے ساتھ ہر وقت اللہ اللہ کرتے ہیں وہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے
قدموں میں پہنچ جائیں گے او قدموں میں پہنچ گئے نوازے تو
گئے۔ اب تم اِن مخلوقوںکے اُستاد ہو اُن کا تعلق تمہاری سوچ سے ہو گیا اب تم نے سوچا دیکھیں اوپر کیا ہو رہا ہے تم نے سوچا وہ اوپر پرواز کر گئیں فرشتوں نے روکا نہیں رکیں کہنے لگے جو کچھ بھی ہے بیت المعمور سے آگے جل جائے گا اور وہ بیت المعمور سے بھی آگے چلی گئیں وہ پہنچ گئیں جہاں رب کی ذات ہے، ظاہری جسم سے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے اور ان مخلوقوں سے ولی وہاں پہنچتے ہیں اُس وقت فرشتوں نے کہا کہ واقعی انسان اشرف المخلوقات ہے اُس وقت کہا اِس وقت نہیں کہا اُس کے بعد کیا ہوا کہ تم مر گئے، مرنا تو سب کو ہے ہمارا عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد سب کی روحیں آسمانوں پہ چلی جاتی ہیں ولیوں، نبیوں کی روحیں بھی آسمانوں پہ چلی جاتی ہیں پھر کبھی سوچا پھر اِن درباروں میں کیا ہے جب اِن کی رو ح بھی اوپر چلی گئیں پھر درباروں میں کیا ہے وہ جو اضافی مخلوقیں تھیں روح اُنکی بھی اوپر چلی گئی وہ اضافی روحیں ولی بن کے دربار پہ بیٹھ گئیں لوگوں کو فیض پہنچاتی ،ذکر کرتیں ،نماز پڑھتیں اور قیامت تک اُن کا ثواب اُن کی روح کو ملتا رہے گا۔ شب معراج میں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم موسیٰ علیہ سلام کی قبر سے گزرےدیکھا موسیٰ علیہ سلام قبر میں نماز پڑھ رہے ہیںآپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم فوراً اوپر پہنچے دیکھا موسیٰ علیہ سلام وہاں بھی موجود ہیںمجدد الف ثانی سے کسی نے پوچھا کہ میں نے آپکو فلاں دن خانے کعبے میں دیکھا فرمانے لگے میں نہیں گیا دوسرے نے کہا اُسی دن حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے روضے پہ دیکھا کہ میں نہیں گیا تیسرے نے کہا اُسی دن غوث پاک رضی اللہ تعالٰی کے روضے پہ دیکھا کہ میں نہیں گیا لوگوں نے پوچھا پھر کیا تھا کہ میرا اندر تھا جتنے بھی یہاں بیٹھے ہیں وہ اندر اِن سب کے اندر موجود ہے۔ اگر تم اُن میں سے اک کو بھی زندہ کر لو تو تم مر کے بھی زندہ ہو اگر تم نے اُن مخلوقوں کو اپنی زندگی میں ہی ختم کر لیاپھر چالیس (40 )سال کے بعد ختم ہونا شروع ہو جاتی ہیں اگر زندگی میں ہی ختم کر دیا تو تم زندہ ہی مردہ ہو۔غوث پاک رضی اللہ تعالٰی کی ایک وقت میں نو (9 ) آدمیوں نے دعوت پکائی سُنا ہو گا نو (9 ) کے ہی گھر جاکے کھانا کھایا کچھ لوگ تو کہتے ہیں ایسا ہو ہی نہیں سکتا لیکن جو آپ کو ماننے، چاہنے والے ہیں وہ کہتے ہیں ایسا ضرور ہوا لیکن اُن کو بھی نہیں پتہ کہ کیسے ہوا غوث پاک رضی اللہ تعالٰی کا جسم مبارک مسجد میں موذن کے پاس تھا اور وہ جسم کے اندر کی چیزیں اُدھر جاکے کھانا کھا رہی تھیں اگر انہوں نے کھانا کھایا ہو گا اُٹھی بھی ہوں گی ،بیٹھی بھی ہوں گی ،باتیں بھی کری ہوں گی اور جس میں اُٹھنے بیٹھنے اور باتوں کی طاقت ہے نماز میں یہی کچھ ہے ہو سکتا ہے اُن کی نماز خانہ کعبہ میں ہوتی ہو اور وہ جو کہتے ہیں کہ درویش کی نماز عرش معلی میں ہوتی ہے کہتے ہیں ناں یہ جسم نہیں جاتا وہ جسم کا اندر جاتا ہے اب وہ غوث پاک رضی اللہ تعالٰی کاجسم خواہ مسجد میں تھا وہ اندر کی مخلوقیں آزاد تھیں خواہ آپ کا جسم مبارک قبر میں چلا گیا تب بھی وہ چیزیں آزاد ہیں اور آج تک لوگوں کو فیض پہنچا رہی ہیں۔ یقین کرو علم باطن کے بغیر علم ظاہر بھی کوئی نہیں۔ یہ مذہب اسلام کے دو (2 ) پر ہیں ایک پر سے پرندہ اُڑ نہیں سکتا۔نماز تین (3 ) قسم کی ہے ایک نماز صورت ہے ایک نماز حقیقت ہے ایک نماز عشق ہے نماز صورت ہر آدمی پڑھ سکتا ہے اسکو پڑھنا کوئی کمال نہیں ہے بہتر (72 ) فرقے والے بھی نماز صورت پڑھتے ہیں سکھ جاسوس بھی نماز صورت پڑھا کر چلے گئے اور جسکو سکھ جاسوس بھی پڑھ لیتا ہے اس نماز کا کیا اعتبار ہے نماز صورت کیا ہے قرآن مجید فرماتا ہے اُن نمازیوں کیلئے تباہی ہے جو نماز حقیقت سے بے خبر ہے اُنکی نماز دکھاوا ہے اللہ تعالیٰ نے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو فرمایا قُل ھو اللہ احد کہہ دیجئے اللہ ایک ہے آپ نے آمین کہا آپ نے لوگوں کو کہا کہہ دو اللہ ایک ہے جنہوں نے آمین کہا مسلمان ہوئے جنہوں نے نہیں مانا کافر رہے جنہوں نے حیل وحجت کری منافق ہوئے۔ اب جب تم پڑھتے ہو تم کس کو کہتے؟ ہو روز کہتے ہو کہ دو اللہ ایک ہےتم اپنے دل کو کہتے ہو کہدے اللہ ایک ہے وہ جواب دیتا ہے گھرمیں آٹا ای نہیں ہے پھر کہتے ہو، اللہ الصمد اللہ بے نیاز ہے وہ کہتا ہے بیوی بیمار ہے- منافقت کر رہا ہے ناں مان ہی نہیں رہا پھر تم نے کہا لم یلد ولم یُلد اُس نے کہا ڈیوٹی سو لیٹ ہو گیا ہے چل۔ کافروں کی زبان اقرار نہیں کرتی منافقوں کے دل تصدیق نہیں کرتے اور فاسقوں کے جسم عمل نہیں کرتے بتاﺅ تمہارا دل تو منافق تھا اب منافق دل کی نماز کیسے ہوگی۔
قرآن مجید فرماتا ہے یہ نماز دکھاوا ہے دکھاوا کیسے ہے خشوع خضوع سے مسجد میں کھڑا ہے لوگ کہہ رہے ہیں کہ بڑے خشوع خضوع سے نماز پڑھ رہا ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نہ عملوں کو دیکھتا ہوں نہ شکلوں کو نہ تیری داڑھی کو دیکھتا ہوں نہ تیرے سجدے کو میں تیرے قلب اور نیت کو دیکھتا ہوں جس کو اللہ دیکھتا ہے اُس میں دُنیا ہے، شیطانی خیال کاروبار اورجسکو دُنیا دیکھتی ہے اس میں اٹینشن کھڑا ہوا ہے یہ نماز دکھاوا ہے بھلے آپ گھر میں اکیلے پڑھیں پھر بھی یہ نماز دکھاوا ہے یہ نماز تباہی بھی ہے قرآن مجید فرماتا ہے کہ تباہی ہے تباہی کیسے پانچ وقت کا نمازی تھا ایک نیکی فائل پر لکھ دی گئی لیکن تھوڑا سا تکبر دل میں بھی آیا کہ میں نے جماعت سے نماز پڑھی دل خالی ہے نیکیاں کر رہا ہے فائل میں لکھی جا رہی ہیں نیکیاں لیکن دل میں تکبر، حرص، حسد آیا پھر کیا ہوا ایک دن فائل نیکیوں سے بھر گئی لیکن وہ سینہ تکبر،حرص،حسد سے بھی بھر گیا جب اللہ تعالیٰ نے دیکھنا چاہا وہ فائل کو نہیں دیکھتا ہے وہ دلوں کو دیکھتا ہے دلوں میں تکبر ،حسد بھرا ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس سے بیزار ہو جاتا ہے۔ جب اُس سینے میں تکبر آیا تہجد بھی پڑھتا ہے لوگوں نے کہا۔ ا ور تکبر آیا ایک دن بے نمازی کو دیکھا بڑی حقارت سے دیکھا کہ میں تجھ سے بہتر ہوںاس وقت علم باطن کام آتا ہے ورنہ اُس کا ایمان ہی چلا جاتا ہے علم باطن کیسے کام آتا ہے جب وہ تکبر سینے میں آتا ہے تو سینے میں اللہ اللہ ہو رہی ہوتی ہے اُس تکبر کو باہر پھینک دیتی ہے پھر تکبر آتا ہے سینے میں وہ اللہ اللہ ہورہی ہے وہ اُس تکبر کو باہر پھینک دیتی ہے اور وہ سینہ محفوظ رہتا ہے اُدھر جب تکبر کی انتہا ہو گئی بے نمازی کو دیکھا بڑی حقارت سے دیکھا کہ میں تجھ سے بہتر ہوں اور یہ نہیں پتہ کہ تکبر عزازیل را خوار کرد۔ عزرازیل کو تکبر نے ہی خوار کیااب سوچنے لگا اس وقت روئے زمین پر میرے جیسا کوئی آدمی نہیں لیکن کہتے ہیں کہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم افضل البشر ہیں اب اُس نے ساری سُنتیں اپنا لیں ساری سُنتیں جب اپنائیں اب کہنے لگا اب مجھ میں اور حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم میں کیا فرق رہا میرے بڑے بھائی کی طرح ہیں جب یہاں تک پہنچا تو اُس کا ایمان ہی چلا گیا وہ نمازیں اُس کا ایمان ہی لے گئیں اسکو نماز صورت بولتے ہیں۔ اب نماز حقیقت کیا ہے جس کیلئے مجدد صاحب فرماتے ہیں کہخاصانِ خداکی نماز حقیقت ہے۔عام لوگوں کی نماز صورت ہے فرماتے ہیں ہر شخص کو چاہیے کہ نماز حقیقت کیتلاش کرے۔نماز حقیقت کیلئے تمہیں سب سے پہلی سُنتوں کو اپنانا پڑے گا تمہارا پہلا رکن وہ بھی کلمہ ہے کلمہ افضل الذکر کلمہ ذکر میں ہے اور ذکر کیلئے حکم ہے اُٹھتے، بیٹھتے حتیٰ کہ کروٹیں لیتے میرا ذکر کر تمہارا قرآن مجید کا پہلا لفظ الف ہی ہے اور الف سے اللہ ہی ہے کہ اللہ ای اللہ کر تمہاری جو پہلی سُنت ہے وہ جو مسلمان ہوئے تھے نمازیں تو بعد بھی اُتریں بھئی کئی سال بعد شبِ معراج میں نمازیں اُتریں اُس سے پہلے وہ لوگ کیا کرتے تھے ہر وقت ذکر الہیٰ کرتے تھے ہر وقت ذکر الہیٰ سے اُن کے سینے منور ہو گئے جب نمازیں اُتریں وہ سیدھی سینوں میں گئیں حلقوں میں نہیں اٹکی سیدھے سینوں میں گئیں۔ اس کیلئے تمہیں سب سے پہلے اللہ اللہ سیکھنی ہو گی دل کی دھڑکنوں کو اللہ اللہمیں لگانا ہو گاپھر کوشش کرو گے کہ میں کام کاج کرتا رہوں اور اللہ اللہ ہوتی رہے اسکو بولتے ہیں دست کار میں دل یار میں - پھر کوشش کرو گے کوئی اخبار رسالہ پڑھتا رہوں اسمیں بھی کامیابی ہو جائے گی پھر کوشش کرو گے کہ نماز پڑھتا رہوں اور اللہ اللہ ہوتی رہے اُس وقت زبان کہے گی کہہ دے اللہ ایک ہے دل کہے گا اللہ اللہ زبان کہے گی اللہ الصمد دل کہے گا اللہ اللہ زبان اقرار کر رہی ہے دل تصدیق کررہا ہے اور جسم عمل کر رہا ہے زبان ذکر مفصل میں ہے اور دل ذکر مجمل میں- زبان دلیل سے منوا رہی ہے کہ کہہ دے اللہ ایک ہے اور دل بغیر دلیل کے مان رہا ہے کہا اللہ ای اللہ- زبان کا تصرف ہے کہ بی بی سی سے بولتے ہیں یہاں سُنتے ہیں اور دل کا تصرف ہے کہ یہاں گونجتا ہے عرش معلی والے سُنتے ہیں۔ تمہاری زبان کو یہ دل عرش معلی میں پہنچائے گا وہ نماز مومن کا معراج ہے۔
گوجرانوالہ میں ایک انگریز نے سوال کیا کہ میں مسلمان تو ہو جاﺅں نماز
بھی پڑھوں سارے عیب بھی چھوڑ دوں شرابیں بھی چھوڑ دوں لیکن ایک بات میری
سمجھ میں نہیں آتی کہ تمہارے علماء کہتے ہیں کہ پھر بھی پتہ نہیں کہ تو
دوزخی ہے کہ بہشتی گارنٹی نہیں دیتے ہیں کہنے لگا جس مذہب کی گارنٹی نہیں
اسکا مطلب وہ مذہب کمزور ہے صحیح کہا اُس نے ہم کہتے ہیں کہ مذہب اسلام
گارنٹی ہی گارنٹی ہے اگر یہ طریقہ استعمال کرو تو پانچ ،سات دن میں اُس
کو پتہ چل جاتا ہے کہ وہ کیا ہے اگر اللہ اللہ شروع نہیں ہوتی ہے تو اُس
کی گارنٹی ہی کوئی نہیں۔
اللہ
تعالیٰ کے نناوے (99 ) نام ہیں اٹھانوے (98 ) صفاتی ہیں آپ کتاب سے لے کے
فیض حاصل کر سکتے ہیں لیکن اسم ذات کتاب سے پڑھ کے فیض حاصل نہیں کر سکتے
جن لوگوں نے کتابوں سے پڑھ کے اسم ذات کو اپنے اندر سمانے کی کوشش کری وہ
جل گئے۔ پاگل ہو گئے،تباہ ہو گئے وہ اسکی تاب کی برداشت ہی نہیں لا سکے
یہ سخت جلالی ہے جلا دیتا ہے لیکن اسکے بغیر گزارا نہیں ہے یہ تمہاری
پہچان ہی اسم ذات ہے جس طرح ہر آدمی کی خواہش ہے کہ مجھے کوئی ایسا سورة
مزمل یا سورة جن کا وظیفہ مل جائے کہ میں اسکا چلہ کر لوں تاکہ میں خوش
حال ہو جاﺅں لیکن اُس کیلئے اُس کو اجازت لینی پڑتی ہے کسی عامل سے یا تو
اجازت ملتی نہیں ہے جن لوگوں کواجازت مل گئی واقعی وہ خوشحال ہو گئے اگر
اُن سورتوں کیلئے اجازت لینا ضروری ہے تو اسم ذات جس میں ساری سورتیں بند
ہیں کیا اس کیلئے اجازت ضروری نہیں ہو گی اُن کیلئے کسی عامل کی اجازت ہے
اور اس کیلئے کسی کامل کی اجازت درکار ہے عامل بھی وہ جب پھنسے بلائے
فوراً پہنچ جائے کامل بھی وہ جب پھنسے بلائے فوراً پہنچ جائے۔
اجازت
کیا ہے آپ یہاں تہجد پڑھتے رہیں ساری رات پڑھتے رہیں شیطان ایک کونے پہ
کھڑا ہنستا رہتا ہے کہ تھکتا رہ تیرا دل تو میرے ہاتھ میں ہے جب جی چاہوں
گا موڑ دونگا اور تمہیں ایک دن شکائت ہوئی میں بڑا تہجد گزار تھا مجھے
کیا ہوا میں تو فرض نماز بھی نہیں پڑھ سکتا وہ شیطان نے دل موڑ دیا جب
کوئی شخص اسم اللہ کو دل میں بسانے کی کوشش کرتا ہے شیطان سوچتا ہے اگر
یہ لفظ اللہ اسکے اندر چلا گیا اسکا دل منور ہو گیا تو یہ آدمی ساری عمر
کیلئے میرے ہاتھوں سے گیا۔
بایزید
بسطامی جنگل میں چلے گئے جب دوسری عبادت کرتے شیطان اُن کو دیکھتا رہتا
لیکن جب اسم اللہ کی ضربیں لگاتے تو قریب آکے اُن کو ستاتا- ایک دن اُن کو
بڑا غصہ آیا ڈنڈا لے کے اُس کے پیچھے بھاگے آواز آئی اے بایزید یہ ڈنڈوں
سے نہیں مرتا یہ اللہ کے نور سے جلتا ہے اتنا ذکرکر ،اتنا ذکرکر کہ تو
نور العلیٰ نور ہو جائے- جب بایزید بسطامی نور علی نور ہو گئے تو شہر
بسطام سے جادو گر ہی چلے گئے کہ اب ہمارا عمل یہاں اثر نہیں کرتا جب کوئی
شخص اسکو اندر بسانے کی کوشش کرتا ہے شیطان کے پاس ہندو جنات کی فوج ہے
بمعہ اسلحہ- قرآن مجید گواہ ہے
-حکم دیتا ہے جاﺅ اسکو برباد کرو تباہ کرو
کچھ بھی کرو یہ لفظ اللہ اسکے اندر نہ جائے وہ آئیں گے تمہیں ستائیں گے
باز نہیں آئے بیمار کر دینگے باز نہیں آئے پاگل کرکے چلے جائیں گے جب ہوش
آئے گا یہی کہو گے خبردار اللہ ھو مت کرنا اس سے لوگ پاگل ہو جاتے ہیں
اسی سے ڈرتے ہو ناں لیکن جہاں سے اسکی اجازت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اُن کو
بھی ایک روحانی فوج دیتا ہے اُس وقت تک تمہارا ساتھ دے گی جب تک تمہارے
اندر رحمن جاگ نہیں اُٹھتا پھر تم بندہ نہیں رہے بندہ نواز بن گئے غریب
نہیں رہے غریب نواز بن گئے یہ اِسکی اجازت ہے۔ اب اسکا تھوڑا سا طریقہ بھی بتا دیں ہو سکتا ہے کوئی اہل دل ہوں- روزانہ چھیاسٹھ (66 )مرتبہ سفید کاغذ پر کالی پنسل سے لفظ اللہ لکھیں جسطرح سات سو چھیاسی (786 ) کو بسم اللہ سے نسبت ہے اسی طرح چھیاسٹھ (66) کو اسم اللہ سے نسبت ہے آپ تھوڑے دن لکھیں گے ایک دن آئے گا جو آپ کاغذ پہ لکھتے تھے وہ آپ کی آنکھوں پہ تیرنا شروع ہو جائے گا جب آنکھوں پہ تیرنا شروع ہو جائے پھر لکھنا بند کر دیں، آنکھوں سے پھر اُس کو دل کے اوپر اتارنے کی کوشش کریں- اگر اللہ نے چاہا تو جو کاغذ پہ لکھتے تھے وہ دل پہ لکھا نظر آئے گا اُسی وقت دل کی دھڑکن تیز ہو جائے گی ٹِک،ٹِک،ٹِک اُس ٹِک،ٹِک کے ساتھ اللہ ھو ملائیں بار بار ایسا کریں گے رب نے چاہا دل کی دھڑکنیں اللہ اللہ میں تبدیل ہو جائیں گی- رات کو سونے لگیں انگلی کو قلم خیال کرکے دل کے اوپر اللہ لکھتے لکھتے سو جائیں اسی میں نیند آجائے- آدھی رات کے وقت اس دُنیا میں روزانہ ستر ہزار (70000 ) فرشتہ آتا ہے سب سے پہلے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے روضے پہ حاضری دیتا ہے، اُس کو دوبارہ نہیں موقع ملتا ایک ہی دفعہ آئے گا، حاضری کے بعد پھر اُن لوگوں کو ڈھونڈتا ہے جن کا تعلق حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ہے اُنکی لسٹیں اُن کے پاس ہوتی ہیں پھر وہ لسٹیں لےکے وہاں پہنچ جاتے ہیں ،کراماً کاتبین سے پوچھتے ہیں بتاﺅ اسکا آخری عمل کیا تھا- جب یہ سونے لگا تھا یہ عشاء کی نماز پڑھ کے سویا تھا، دُعا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اسکو اور خوش رکھے، اور اسکا، یہ درود شریف پڑھ کے سویا تھا اللہ تعالیٰ اسکو بھی خوش رکھے، اور اسکا، یہ ایک مسکین کو کھانا کھلا کے سویا تھا اللہ تعالیٰ اسکو بھی خوش رکھے، اور اسکا یہ اللہ ھو پڑھتے پڑھتے اُسی کی مستی میں سو گیا تھا تو کہتے ہیں خاموش آہستہ بات کرو شاید اُس کی یاد میں آنکھ لگ گئی ہو اور ہو سکتا ہے ساری رات تمہاری اللہ تعالیٰ عبادت میں شامل کر دے کیونکہ سوتے وقت جو نیت ہوتی ہے خواب میں بھی وہی کچھ ہوتا ہے اللہ ھو پڑھتے پڑھتے سو گئے اور خواب میں بھی اللہ ھو پڑھتے رہے صبح ،صبح اُٹھیں کارو بار کیلئے جا رہے ہیں یا آفس میں جا رہے ہیں ذکر خفی کرتے رہیں۔ ذکر خفی اور ہے اور ذکر قلبی اور ہے جب تک دل کی دھڑکنوں کیساتھ ذکر نہیں ملتا اُس کو ذکر خفی کہتے ہیںذکر خفی اور ہے اور ذکر قلبی اور ہے وضو ہو یا نہ ہو آپ دل کو وضو کیسے دیں گے سارا دن پانی میں پڑے رہیں دل میں تو پانی جائے گا نہیں جب وہ اللہ کا نور اس سینے میں آجائے گا وہ اس دل کو دھو ڈالے گا اسکو بولتے ہیں وضو کرلے شوق شراباں دا اور وہ وضو گھڑی گھڑی نہیں کرتے ہیں وہ زندگی میں ایک بار ہی کافی ہے آپ نے سنا ہو گا یا پڑھا ہو گا کہ کچھ بزرگوں کے پاس لوگ جاتے وہ کہتے کہ چلو یہ دیوار بناﺅ وہ سارا دن دیوار بناتے شام کو کہتے گرا دو پھر دیوار بناتے دوسرے دن پھر شام کو کہتے گرا دو اسمیں بزرگ کا کیا فائدہ یا جو دیوار بناتا اُس کاکیا فائدہ جب وہ دیوار بناتا گراتا اُس کے دل پہ ہاتھ رکھ کے دیکھتے رہتے جب دیکھتے اب اسکے دل کی دھڑکنیں ابھر گئیں پھر کہتے اب دیواروں کو چھوڑو ان دھڑکنوں کیساتھ اللہ اللہ ملاﺅ۔ امیر کلال ایک بزرگ گزرے ہیں بہت بڑے بزرگ تھے جب دیکھتے بیس ۔پچیس آدمی اکٹھے ہو گئے کہتے چلو کبڈی کھیلیں لوگ کہتے ہم تو فیض کیلئے آئے بولتے ہمارا فیض کبڈی میں ہے کچھ لوگ تو بیزار ہو کے چلے جاتے اور کچھ ساتھ کبڈی کھیلتے ۔کبڈی کھیل رہے تھے بہاﺅالدین نقشبندی بہت بڑے عالم تھے فیض لینے کیلئے بڑے دور دراز سے آئے پوچھا کہاں ہیں کہ وہ کبڈی کھیل رہے ہیںکہا ولی تو کبھی کبڈی نہیں کھیلتا بیزار ہو کے جانے لگے زمین نے روک لیا بعد میں وہیخواجہ بہاﺅالدین نقشبندی اُن کیساتھ کبڈی کھیل کے اتنے بڑے ولی ہوئے۔
لیکن
وہ کبڈی کیوں کھیلتے تھے اس میں کیا راز تھا اُن کو دوڑاتے خوب دوڑاتے جب
دل کی دھڑکنیں اُبھرتی تو کہتے اب ان کیساتھ اللہ ھو ملاﺅ دھڑکنوں کیساتھ
اب اللہ ھو ملاﺅ اب کبڈی کو چھوڑو، وہ تو چلو بعد کی باتیں ہیں پتہ نہیں
قصے ہیں لوگ کہتے ہیں پتہ نہیں قصے ہیں یا کہانیاں ہیں ابھی یہاں آپ سہون
شریف گئے وہاں یہ ایک دھمال ہے اب لوگ کہتے ہیں دمادم مست قلندراُس
کیساتھ دھمال کرتے ہیں اُس وقت قلندر پاک بھی دھمال کرتے تھے اور اللہ
ھو کا ساتھ ذکر کراتے تھے اُس وقت کی پوزیشن کیا ہو گی لیکن اس وقت کی
پوزیشن جو ہم نے دیکھی دیکھا ہے کہ کئی دفعہ لوگ دھمال کرتے کرتے دمادم
مست قلندر کہتے کہتے بیہوش ہو جاتے کچھ لوگ بیہوش ہوجاتے ہیںاور کچھ
لوگوں کی بیہوشی کی حالت میں سُنا زبانوں سے سُنا دمادم مست قلندر اور
کچھ لوگوں کے دلوں سے سُنا دمادم مست قلندر اگر اس وقت یہ حالت ہو گی اُس
وقت ضرور اُنکے دلوں میں اللہ ھو جاتا ہو گا اس وقت یہ طریقے ذرا معیوب
سمجھے جاتے ہیں دھمال کبڈی دیواریں بنانا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ایک اور بہترین طریقہ ہے کہ جہاں یہ اللہ ھو کی ضربیں لگاتے ہیں گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ آپ اللہ ھو کی ضرب لگائیں گے تو وہی پوزیشن پیدا ہو جائے گی جو کبڈی سے ہوتی ہے وہی دل دھڑکنا شروع ہو جائے گا تو دل دھڑکے تو ان دھڑکنوں کیساتھ اللہ ھو ملائیں بار بار ایسا کریں گے رب نے چاہا تو دل کی دھڑکنیں اللہ اللہ میں تبدیل ہو جائیں گی کچھ جسم ہیں جلالی ہیں کچھ جسم ہیں جمالی ہیں اگر ذکر سے جسم میں گرمی آئے پہلے تو اُس کو برداشت کریں کیونکہ گرمی کے بغیر کوئی چیز پکتی نہیں ہے نہ ہی فصل پکتی ہے نہ ہی ترکاری پکتی ہے اور نہ ہی تمہارا سینہ پکتا ہے لیکن جب ترکاری جلنے کو ہوتی ہے تو اُس کے اوپر پانی ڈالتے ہیں فصل جلنے کو ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے اسی طرح جب یہ سینہ جلنے کو ہو تو درود شریف پڑھیں درود شریف اسکو ٹھنڈا کر دیگا اصحابہ اکرام فرماتے ہیں کہ ہم پر جب مصیبت آتی ہم درود شریف پڑتھے اس سے پہلے کیا کرتے ہر وقت ذکر الہیٰمیں رہتےلیکن جب دل گھٹنے کو ہوتا گرمی آتی خیال آتا کہ گھر کو چھوڑو جنگل میں جاﺅ درود شریف پڑھتے وہ اُن کو ٹھنڈا کر دیتا زبانی عبادت میں سب سے افضل درود شریف ہے لیکن جب ذکر قلبی عطا ہو جائے تو درود شریف اُس کا وسیلہ بن جاتا ہے- ہم پنجاب میں گئے جس شہر میں گئے پتہ چلا کہ تمہارے خلاف فتوے نکلے ہوئے ہیں ہمارے دوست بھی بہت ہیں دشمن بھی بہت ہیں بہت سے علماء ہیں جو ہمارے حق میں ہیں اور بہت سے علماء ہیں جو ہمارے مخالف ہیں اُن مخالف علماﺅں نے ہماری کتاب میں سے کچھ سطریں آگے پیچھے کرکے کچھ خوابوں کو ظاہر میں لیا اور فتوے لکھ ڈالے لوگوں نے فتوے دیکھائے ہم نے کہا کہ یہ کتابیں لے جاﺅ جاکے پڑھ لو خود ہی انصاف کر لو کتابیں لے گئے پڑھیں اُن علماء کے پاس گئے کہ ان میں تو کوئی ایسی بات نہیں ہے تم نے اتنے بڑے فتوے ڈال دیئے وہ کہنے لگے کہ وہ پہلے ایڈیشن تھے انہوں نے وہ چھپا لیے یہ دوسرے ایڈیشن ہیں وہ انہوں نے چھپا لیے ہیں ہم کہتے ہیں اگر وہ ایڈیشن ہم نے چھپا لیے ہیں لیکن جن سے تم نے اقتباس لیے ہیں وہ تو تمہارے پاس ہی ہونگے ناں وہی انکو دکھاﺅ بھئی وہ تو تمہارے پاس ہی ہیں ناں وہی دکھاﺅ اس وجہ سے ذکر لینے سے پہلے اگر کسی کے دل میں کوئی ایسا سوال ہو ان فتوﺅں کے متعلق وہ دل صاف کر لے اُس کے بعد پھر ذکر لے انشاءاللہ اسکی حفاظت اُس وقت تک کریں گے جب تک اُس کا اندر جاگ نہیں اُٹھتا ہم تمہیں نہ ہی بیعت کرتے ہیں ، نہ ہی کوئی نذرانہ مانگتے ہیں بس ایک فیض حاصل ہوا تھا ہم چاہتے ہیں کہ باقی مسلمان بھائی بھی اس سے مستفید ہو جائیں بہت سے لوگ ہیں جو کسی سلسلے سے ہونگے کہیں سے بیعت ہونگے ہمیں اس سے سروکار نہیں ہے۔
بیعت اپنی جگہ فیض اپنی جگہ لال
شہباز قلندر، ابراہیم قادری مروندی سے بیعت تھے لیکن فیض صدرالدین سے حاصل کیا
وہاں سے چلے ملتان آگئے بہاﺅالدین
ذکریا ملتانی سے پھر فیض حاصل کیا سیرابی نہ ہوئی پوری تو پھر دہلی چلے
گئے پھر بو علی قلندر سے فیض حاصل کیا پھر جب مڑ کے آئے تو سب کے سردار ہو گئے۔
اس لیے
فیض حاصل کرنا کوئی ممانت نہیں ہے آپ نو (9 ) جگہ سے طالب ہو سکتے ہیں
پیرو مرشد آپ کے وہی-
بعض لوگ ہونگے جن کو فیض ہو گا کہیں سے تھوڑا بہت فیض بھی ہو سکتا ہے
لیکن اگر ایک لائٹ جل رہی ہے اُس کو منور کر رہی ہے اگر ایک اور لائٹ جل
جائے تو شاید اہل محلہ کو بھی منور کر دے تو جو لوگ ذکر لینا چاہتے ہیں
اگر دل میں ہے کوئی سوال تو پوچھ لیں اُس کے بعد ذکر لیں انشاءاللہ دل کی
دھڑکنیں اللہ اللہ کریں گی یہ ایک تجربہ کر لیں ۔۔۔۔۔ تم نہیں کر سکتے
دوسرے لوگ کر سکتے ہیں کسی اور کو کرنا ہو بولوجی سوال عام لوگ ذاکر نہیں
عام لوگ۔
سوال :یہ بات کسی نے لکھی ہے کہ غوث پاک رضی اللہ تعالٰی نے رفع یدین کیا تھا یا نہیں؟
جواب :
یہ بات اس طرح ہے کہ یہ کوئی مولوی عبدالقادر تھا جیلان شہر میں اُس نے
ایک کتاب لکھی جس کا نام تھا غنیت الطالبین وہ کتاب چھپ گئی وہ اُس وقت
ہندوستان تھا ہندوستان میں بھی آئی یہاں کے پبلشروں نے کہا کہ اگر اسکے
اوپر شیخ عبد القادر لکھ دیا جائے تو یہ بہت ہی چلے گی اُن لوگوں نے اُس
کتاب کے اوپر شیخ عبدالقادر جیلانی لکھ دیا تھا حالانکہ غوث پاک
رضی اللہ تعالٰی نے
کوئی کتاب نہیں لکھی آپ صرف واعظ فرماتے تھے تو کاتب لکھ لیتے اُن کے
دوسروں کے نام وہ کتابیں غوث پاک
رضی اللہ تعالٰی نے کوئی کتاب نہیں لکھی باقی رہا سوال
رفع یدین کا اگر غوث پاک
رضی اللہ تعالٰی ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے تو سارے ولی ہاتھ
چھوڑ کر نمازیں پڑھتے کیونکہ سب ولی اُنکی نقل کرتے وہ جو شخص تھا مولوی
عبدالقادر وہ رفع یدین کرتا تھا اس وجہ سے یہ رواج ہو گیا ہے لیکن ابھی
بھی کوئی شخص وہ رفع یدین نہیں کرتا سارے غوث پاک
رضی اللہ تعالٰی کے ماننے والے ہیں تو
کوئی نہیں کرتا۔
ہاں جی جن کو ذکر لینا ہے یا ذکر کی اجازت لینا ہے، ہیں جی تم ذاکر لوگ نہیں، عام لوگوں کو- ہاں بتائیں کیا بولتے ہیں رہا سوال اس وقت ولیوں کی پہچان کوئی نہیں ہے ہزاروں مرشد ہیں ناں ہر کسی کے مرشد ہیں، ولی تو کسی ایک کا ہو گا ناں یہ سب تو ولی نہیں ہوتے- ہمارے علاقے میں یہ رسم ہے اس ملک میں کہ دادا ولی تھا ہمارے دادا اُس سے بیعت وہ چلا گیا اُس کے بیٹے سے ہمارے باپ اُس کے بیٹے سے ہم اُس کے بیٹے سے ہماری اولاد، یہ رسم ہے ناں یہ رسم غلط ہے- ولایت وراثت نہیں ہے اگر وراثت ہوتی تو نبوت ہوتی ہر نبی کا نیٹا نبی ہوتا ناں جب نبوت وراثت نہیں ہے تو ولایت کیسے وراثت ہے- بیعت بکنے کو بولتے ہیں لیکن بکے تو ولی کے آگے بکے ناں وہی خرید سکتا ہے ناں ،جب عام آدمی خرید ہی نہیں سکتا اُس کو چلا ہی نہیں سکتا تو اُس کی بیعت کیا ہوئی- اب لوگ سوچتے ہیں کہ یہ اُس سے نسبت ہے وہ ہم کو کہتا ہے کہ ہم نے تمہیں اس دربار کے حوالے کر دیا یہی کہتے ہیں ناں اگر ہم نے درباروں سے ہی فیض حاصل کرنا ہے تو ہمارے لیے آقا صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا دربار کافی نہیں پھر آقا صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو ولی بھیجنے کی کیا ضرورت تھی- اب لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ بھی نماز پڑھتا ہے ولی اسکا باپ وہ بھی نماز پڑھتا ہے اسکی بھی داڑھی ہے اسکی بھی داڑھی ہے یہ بھی اچھا آدمی ہے تو ولایت میں اور اُن میں فرق کیا ہے۔
جب کسی کو اللہ تعالیٰ نوازتا ہے تو اُس کے اوپر تجلی ڈالتا ہے، جو موسیٰ علیہ سلام کے اوپر پڑی تھی ہو سکتا ہے وہ ہلاک ہو جائے ہونے دو ہو سکتا ہے اسکے شیشہ عقل جائے اُسکو مجذوب بولتے ہیں، ہو سکتا ہے برقرار رہے اُس کو محبوب بولتے ہیں- اگر برقرار رہا تو اللہ تعالیٰ روزانہ اسکو پانچ سو (500 ) مرتبہ دیکھتا ہے، ایک دفعہ اسکو دیکھتا ہے اسکے سات (7 ) گناہ کبیرا جلتے ہیں اب اسکے گناہ کیا ہوتے ہیں اسکے پاس بیٹھنے والوں کے گناہ جلنا شروع ہو جاتے ہیں- حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہر وقت نظر رحمت ،ہر وقت اللہ دیکھتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محفل میں بیٹھنے والے بغیر وظیفوں اور چلوں کے ولیوں سے بھی اعلیٰ مقام حاصل کرکے چلے گئے جب اصحابہ کہف کے اوپر وہ نظر رحمت پڑی تو وہاں کوئی شخص نہیں تھا صرف ایک کُتا تھا بھئی اس کُتے نے کیا نمازیں پڑھی تھیں صرف ایک کُتا تھا وہ حضرت قطمیر بن گیا۔
تو حدیث شریف میں ولی کی پہچان ہے کہ جس کی محفل میں بیٹھنے سے اللہ اللہ شروع ہو جائے
تمہاری اللہ اللہ ہو
رہی ہے اس کے پاس بیٹھو گے یہ اللہ اللہ مچلے گی، دھڑکنیں تیز ہو
جائیں گی رقت پیدا ہو جائے گی تم سمجھ جاﺅ گے یہ ولی ہے دربار ہی جاﺅ گے
ولی کی دربار پہ وہی رقت پیدا ہو جائے گی، دھڑکنیں خوب اللہ اللہ
کریں گیں- کسی ناقص کے پاس جاﺅ گے ان کو پرواہ ہی نہیں ہو گی سفلی کے پاس
جاﺅ گے یہ گھبرائیں گی گھٹن ہو گی تم سمجھ جاﺅ گے یہ سفلی ہے یہ
تمہاری پہچان ہے اس کیلئے تم پہلے جوہری بن جاﺅ پھر ولیوں کی تلاش میں
نکلنا پھر جب تمہیں کوئی ملا تو صحیح ملے گا کیونکہ چور
کو چور پہچانتا ہے اور ولی کو ولی پہچانتا ہے۔ اور دوسرا سکا اور کیا ہوتا ہے یہ جو ذکر ہے یہ ذکر کے ذریعے جب آپ کا دل ہر وقت اللہ اللہ کرتا رہے گا دل سے اللہ اللہ ہوتی رہے گی تو آپ کے دل میں اللہ کی محبت پیدا ہو جائے گی آپ کا کوئی دوست امریکہ میں ہے یا لندن میں بیٹھا ہے آپ اسکو دل سے چالیس دن یاد کریں یقین کریں دل کو دل سے راہ ہے اسکا خط آجائے گا اب آپ اللہ کو دل کی گہرائیوں سے یاد کر رہے ہیں اور کئی سال تک یاد کر رہے ہیں جب یاد کررہے ہیں تو وہ کئی دوستوں سے زیادہ مہربان ہے، اب لوگ سٹیج پہ کھڑے ہوتے ہیں کہتے ہیں ہم عاشقِ رسول ہیں ہم عاشقِ اللہ ہیں کہتے ہیں ناں، غلط دعوے ہیں عاشق تو تب بنتا ہے جب اُنکو دیکھا ہوا ہو، تو دیکھا ہی نہیں کہتا ہے میں عاشق ہوں یا تو دیکھا ہوا ہو یا اُن کے ناموں کو اپنے سینے میں بسالو جب وہ نام سینوں میں بس جائیں گے تو تمہیں اللہ سے محبت ہو جائے گی جب اللہ سے محبت ہو جائے گی ایک وقت آئے گا پھر جب اللہ بھی دیکھے گا یہ بندہ کب سے میرا نام لے رہا ہے فاذ کرونی اذ کرو کُم جب وہ دیکھے گا تو پھر عشق کا مقام ہے پھر وہ عشق کا مقام ہے پھر تمہیں اللہ سے عشق ہو گیا جب اللہ سے عشق ہو گیا تو اللہ کے حبیب صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے بھی ہو گیا وہ خدا نہیں اور جدا بھی نہیں اور جب اللہ کے حبیب صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ہو گیا تو سب ولیوں سے ہو گیا ہم چاہتے ہیں کہ تمہارے دلوں میں۔ ہمارا مقصد تمہیں بیعت کرنا نہیں ہے نذرانہ لینا نہیں ہے ہمارا مقصد ہے تمہارے دلوں میں اللہ اور اُس کےحبیب صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا ہولیکن کیا ہو گا ہم یہاں سے جائیں گے دو چار ،پانچ،چھ دن میں تم کو پھر کچھ آدمی ملیں گے وہ وسوسوں کے ذریعے اس محبت کو نکالنے کی کوشش کریں گے وسوسے ڈال کر کہیں گے کہ اللہ اللہ نہ کرے وسوسے ڈالیں گے پھر سوچ لینا کہ وسوسے کون ڈالتا ہے پھر سورة قُل اعوذ برب الناس پڑھ لینا، یا وسوسے یا خناس ڈالتا ہے یا جن ڈالتا ہے یا جنوں کی طرح کے جو لوگ ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اب ان کو ذکر دلانے کیلئے لے آئیں تھوڑی سی یہ بات کوسُن لیں مقصد یہ ہے کہ یہ بھی سُنتے ہیں کہ بیعت کے بغیر فیض نہیں ہوتا ناں اگر فیض ہے تو کہیں سے بیعت ہو گی تب ہی ہے ناں بھئی اگر بیعت کہیں سے بھی ہو گی تب ہی فیض ہے ناں اس میں شک نہیں کہ ہم کو ظاہری بیعت سے فیض نہیں ہوا ہم نے ایک دو جگہ بیعت کری تھی لیکن ہم کو فیض نہیں ہوا ہم کو اگر بیعت کیا تو ہم یہ بات اکثر بتاتے نہیں ہیں لیکن اس کا اب جواب دینا ہی پڑے گا ہم کو اگر بیعت کیا ہے تو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ہی بیعت کیا ہے اب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہتے ہیں بہت سے لوگ تیس فیصد (%30) اسکو مانتے ہیں کہ باطنی فیض ہو سکتی ہے ستر فیصد (%70) اسکو نہیں مانتے وہ کہتے ہیں ظاہری بیعت ہونی چاہیے۔
لیکن اس کے کچھ ثبوت ہیں جس طرح حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی وہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ملے بھی نہیں تھے انکی اُن سے باطنی فیض تھی ناں
بایزید بسطامی کو حضرت امام جعفر صادق سے بیعت ہے دو سو (200 ) سال کا فرق ہے باطنی فیض ہے ناں
اپنے سخی سلطان باھو وہ پہلے عبدا لرحمن صاحب سے بیعت ہوئے لیکن آخر میں اُن کو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے بیعت فرمایا ہے تب آپ نے کہا کہ دست بیعت کردمارا مصطفی
فقیر نور محمد کلاچی والے ہیں اُن کو ظاہری کہیں سے بیعت نہیں ہے
لیکن سلطان صاحب سے اُن کو فیض ہے اور وہ لکھتے ہیں کہ
مجھے سلطان صاحب سے فیض ہو گیا ہے اُن کی بیعت ہو گئی اب مجھے کوئی حاجت
نہیں رہی کہ میں دوسری ظاہری جا کے بیعت کروں
اگر
اُن کو حاجت نہیں ہے تو ہم کو تو حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے بیعت کیا اب ہم کو کیا
حاجت ہے۔
*****اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو*****
اگر آپ بھی ذکر کی لینا چاہتے ہیں تو امام مہدی ریاض احمد گوھرشاہی کی شبیہ مبارک کوپورے چاند پر دیکھتے ہوئے تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔
|
|
© 1998-2010 All Faith Spiritual
Movement Intl' |