|
SELECT YOUR LANGUAGE: ENGLISH or INDONESIAN |
||
![]() |
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے |
![]() |
|
اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر) |
||
|
مرکزی صفحہ تعارف حضرت عیسی کرشمہ قدرت الحجرالأسود تعلیمات دینِ الٰہی پروگرام تصانیف ویڈیو رابطہ |
||
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھرشاہی مدظلہ العالی
کی دُبئی میں طالبینِِِِِِِِِ
حق کے ساتھ روحانی نشست۔
آعوذبااﷲمن الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
جسطرح اﷲ تعالی کا جسم ہے، آگے بال ہیں۔ اسطرح یہ جو اﷲ کے سارے بال ہی ہیں۔ یہ ولّی ہیں۔ ایک کو کھینچا سب کو تکلیف ہوئی نا۔ یہاں یہ ولّی علیحدہ علیحدہ ہیں۔ یہ قادری ہے، چیشتی ہے یہ سہروردی ہے۔ وہاں نہیں کہتے ہیں کہ چیشتی ہے، یہ قادری۔ وہاں کہتے ہیں سارے اﷲ کے دوست ہیں۔ اولّیا اﷲ، اﷲ کے دوست۔اِس وجہ سے آدمی بکے
بھلے دس سال بعد بکے۔ بکے ولّی کے آگے بکے۔ ابھی آپ جا کے بک گئے،
ڈارھی دیکھ کے بک گئے۔
وہ بھی ناقص، تم بھی
ناقص۔ نہ وہ کسی مرتبے میں ہے! جب وہ مرتبے میں نہیں ہے تو
تم کس مرتبے میں پہنچو گے؟ اِس سے بہتر نہیں کہ
تم پہلے اپنے آپ کو جوہری بنا
لو۔ کسوٹی آجائے تمھارے پاس۔ اب سونا لینے
کے لیے جاؤ نقلی لے آؤ گے۔ لیکن جب تم کسوٹی
سیکھ لو گے، پھر تو نقلی
نہیں لاؤ گے نا۔ پھر دس سال بعد بھی لاؤ
گے تو اصلی ہی لآؤ گے نا۔ أس کی کسوٹی یہی ہے کہ تمھارے دل میں اﷲ
اﷲ گونجنا شروع ہو جائے۔ پھر ولّی کی پہچان بڑی آسان ہے۔ اگر اﷲ اﷲ
نہیں پھر تو تم ولّی کو پہچان نہیں سکتے۔ اور ہو سکتا ہے تمھارے گھر
میں ہی ولّی ہو تم أس کو نہ پہچان سکو۔ اعتبار أس وقت ہو گا جب یہ دل أن نمازوں کے ساتھ ہو گا۔دل کے بغیر نماز جو ہے نا، کافر جاسوس نے بھی پڑھی ہے، پڑھائی بھی ہے۔ مولوی بن کے آئے کئی جاسوس پکڑے گئے۔ سکھ جاسوس جو یہاں مسجدوں میں امام تھے۔ زبان سے نماز انہوں نے بھی پڑھائی ہے نا۔ دل أن کے بھی کالے، یہ مسلمان کھڑا ہے اِسکا بھی کالا ہے۔ تو کیا ہے! فرق کیا ہے؟ فرق اتنا ہے کہ ایک دجال کے گدھے پے بیٹھا ہوا ہے اور ایک عیسٰی علیہ السلام کے گدھے پے بیٹھا ہوا ہے۔ دونوں گدھے ہیں، اندر سے دونوں گدھے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ یہ کہتا ہے میں مسلمان ہوں اور وہ کہتا ہے کہ میں کافر ہوں۔ لیکن حساب کتاب دونوں کا ایک ہی ہے۔ انھی کے لیے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "صبح کو مسلمان ہوں گے رات کو کافر ہوں گے"۔ وہ ان کے لیے کہا نا۔اِس تعلیم کا ہمیں اعلان ہے، حکم ہے، اِس کو عام کرو۔جس کو ہم چائیں گے،
أس کے دل میں چلی جائے گی یہ تعلیم۔ نکلے گی ہی نہیں۔
پھر بھلے گھر والے، مولوی أس کو نکالنے کی کوشش کریں کبھی بھی نہیں نکلے
گی نہیں۔ لیکن وہ سُنیں گے تو
جائے گی نا، بھئی سُنیں گے تو
جائے گی نا۔ سُنیں گے نہیں
تو کیسے جائے گی أس کے اندر۔ بس تم أن کو سُناؤں آگے کا ہمارا کام
ہے، جسکو چاہنا أسکو
نکالنا۔ نہیں! ہر ایک کے
لیے نہیں ہے جس کو رب چاہے گا۔ ہر کسی کے لیے! چوبیس گھنٹے آپ لگے
رہیں ساری عمر لگے رہیں نہیں اور جس کے لیے ہو گی وہ دور سے سُنے گا۔ کہے
گا لبیک۔ یہ بات ہے نا۔ اِس کو ہم
بار بار اِس وجہ سے کہتے
ہیں کہ یہ اﷲ
کا حکم ہے تاکہ اﷲ کی طرف سے ہم کو بھی
پکڑ نہ ہو کہ تو نے میرا
نام بیچ میں کیوں نہیں لیا۔ بھئی تو خود کہتا رہا تو میرا
نام لیتا شاید میرے نام سے ہی میری طرف لوٹ آتے۔ یہ تو کو جنگلوں میں ملا کرتا تھا۔ اب شہروں میں گھرؤں میں مل رہا ہے پھر بھی تم لوگ نخرے کرتے ہو۔ یہ حقیقت ہے نا۔ تو پھر یقین کرؤ کہ بات سُننے کے بعد اگر تم نے عمل کیا، نہ ہوا پھر تو خیر ہے بچت ہو گئی۔ تم نے عمل کیا لیکن نہیں ہوسکتا، نہیں ہوسکا۔ تم تو مجرم نہیں ہوئے نا۔ کہ تم نے عمل کیا تھا، لیکن نہیں ہو سکا۔ لیکن عمل ہی نہیں کیا اِسکو ویسے ہی سمجھا۔ پھر جب تم نے کبھی کسی وقت بھی نماز پڑھی نا۔ وہ نماز تمھارے لیے مصیبت بن جائے گی۔ پھر جب تم نے کہا دیکھا مجھ کو سیدھی راہ أس کو بڑا غصّہ آئے گا۔ بھئی جب کہو گے دیکھا مجھ کو سیدھی راہ۔ یہ تو چھوڑ دیا جو سیدھا راستہ تھا۔ پھر کہتا ہے سیدھا راستہ دیکھا۔ أس کوغصّہ نہیں آئے گا۔ تیرے پاس میں نے ایک بندہ بھیجا تھا سیدھے راستے کے لیے تو، تو نے أس کو جھٹلا دیا۔ اب کہتا ہے سیدھا راستہ دیکھا کتنا مکار ہے۔ تب ترجیح نہیں دی سیدھے راستے کو اب کہتا ہے سیدھا راستہ دیکھا زبانی زبانی أس وجہ سے جن لوگوں نے یہ بات سُنی ہے۔ چلو پریکٹس تو کر ہی لیں نا۔ یہ کہ ہم نے کیا تھا نہیں ہو سکا ہم کیا کرتے؟ ہم نے کیا تو تھا نا۔ اگر کریں گے بھی نہیں تو نماز پڑھنے کے مستحق نہیں ہیں یہ لوگ۔ پھر وہی ہے"فويل للمصلّين" أن نمازیوں کے لیے تباہی ہے جو نماز حقیقت سے بے خبر ہیں۔ یہ نماز حقیقت بنتی ہے۔ یہ أن لوگوں کے لیے ہے جن کو نماز حقیقت سیکھائی گئی تھی لیکن أنھوں نے سیکھی نہیں تھی۔ پھر وہی نماز پڑھتے ہیں أنکے لیے تباہی ہے۔
۔یہ جو تھے
نا یہ روحانی سلسلے یہ نو تھے۔ جو یہ ذکر
فکر کو باطن کو
پھیلاتے ہیں۔ نو یہ سلسلے
تھے۔ اِن میں سے پھر وہ کٹتے، کٹتے پھر جب
علماء کا ظہور ہوا نا زیادہ یہ کم ہوتے رہے علماء نے أدھر لگا دیا۔
وہ کم ہوتے ہوتے یہ پھر چار رہ گئے۔ اب یہ تین رہ گئے ہیں۔
اب یہ کم ہو گئے ہیں بڑھے نہیں ہیں لیکن وہ جو فرقے تھے نا۔ وہ بڑھ
گے وہ بہتر، تہتر ہو گئے۔ اب یہ کم ہو گئے، اب یہ تین رہ گئے۔ یہ
چیشتی، نقشبندی، قادری!... سہروردی بھی
کٹ گئے۔ یہ ابھی اِس
زمانے میں کٹا ہے سہروردی۔
پہلے سہروردی ذکر بھی کرتا تھا "یا ودؤدو" کا "یا ودؤدو" کے
بعد پھر اﷲ ھو میں
آتا۔ اب اس نے کیا کیا کہ ذکر فکر چھوڑ
کے صرف نعت خوانی میں لگ
گیا۔ نعت خوانی میں عشق تھا۔ اِن کا نعت خوانی تھا! جسطرح چیشتی میں
پہلے وہ قوالی تھی۔ أس کے بعد پھر ذکر۔ چیشتی
آج بھی کرتے ہیں قوالی کرتے ہیں، درود شریف پڑھتے ہیں ذکر بھی کرتے
ہیں۔ لیکن سہروردی اب صرف
نعت خوانی میں لگ گئے۔ اِس وجہ سے یہ کٹ گئے۔ تین رہ گئے۔
اور أن میں وہ جو تہتر ہیں أن میں ایک فرقہ صحیح ہو گا، مانتے ہو نا؟ سارے تو صیحیح نہیں ہو سکتے نا بہتر أس کے مخالف ہو جائیں گے۔ بہتر أس کے خلاف ہو جائیں گے نا۔ حتٰی کہ اہل سنت یہ بھی ایک فرقہ ہے۔ اہل سنت یہ بھی أس کے خلاف ہو جائیں گے۔ اور وہ ایک اﷲ سب کے أوپر بھاری رہے گا۔ وہ اکیلا فرقہ ہے جو سب کے أوپر بھاری رہے گا۔ ہمیں اس بات کی سمجھ نہیں آئی آج تک یہ جو علماء ہیں یہ مخالفت کس چیز کی کرتے ہیں۔ اب جو یہ علماء ہیں مخالفت کس چیز کی کرتے ہیں۔ بھئی یہ ہے نا کہ نماز روزہ کرؤ سب کچھ کرؤ۔ یہی عقیدہ ہے یہ ایک اضافی چیز ہے، ٹک ٹک اس کے ساتھ اﷲاﷲ ہوتی رہے ہر وقت۔ اِس میں مخالفت کی کیا وجہ ہے؟ کوئی غلط بات ہے تو بتایں۔ خواہ تسبیح سے آپ اﷲ اﷲ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ تسبیح سےاﷲ اﷲ کرتے رہیں گناہ تو نہیں ہے۔ جب تک آپ کی مرضی ہے کریں۔ گناہ نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ وہ تسبیح کو چھوڑ کر اندر تسبیح بنا لیتے ہیں۔ اِس میں وضو کی ضرورت ہے۔ یہ تسبیح چل پڑی چلتے پھرتے کرتا رہو گے بات وہی ہے اﷲاﷲ نا۔ اِس کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔ اور اتنی بڑی مخالفت کرتے ہیں کہ کافر تک کہہ دیتے ہیں۔ مسلمان وہ ہے۔ ابھی جو اس کے بغیر مسلمان ہے وہ آدھا، کچا مسلمان ہے پکا مسلمان نہیں ہے۔ وہی غیر مقلد ہو سکتا ہے۔ جو اس کے ساتھ مسلمان ہوتا ہے وہ غیر مقلد نہیں ہو سکتا۔ وہ پکا مسلمان ہو جاتا ہے۔ اب دیکھیں نا! کلمہ، جس طرح یہ زبان کلمہ پڑھتی ہے یہ بھی کلمہ پڑھتا ہے۔ کیسے پڑھتا ہے؟ لوگ سوچتے ہیں کہ بڑا مشکل ہے۔ سب سے پہلے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ جو زبان کی ٹک ٹک ہے أس کے ساتھ کہتا ہے امّا پھر أن ٹک ٹکوں سے ملا کے کہتا ہے امّاں دودھ امّاں دودھ دے۔ پھر أنھی ٹک ٹکوں سے کہتا ہے۔ نعتیں بھی پڑھتا ہے، باتیں بھی کرتا ہے۔ وہ ہی ٹک ٹکیں ہیں نا۔ اسطرح دل کی ٹک ٹک ہے ٹک ٹک ٹک ٹک سب سے پہلے أس کے ساتھ ملاتا ہے اﷲاﷲ اﷲاﷲ۔ کیونکہ وہ ٹک ٹک اک دم کلمہ پڑھ نہیں سکتی ہے۔ جسطرح یہ زبان بچے کی اک دم باتیں نہیں کر سکتی ہے۔ اسطرح وہ ٹک ٹک ایک دم کلمہ نہیں پڑھ سکتی۔ پہلے وہ ٹک ٹک کے ساتھ اﷲاﷲ پھر اﷲھو اﷲھو پھر وہی ٹک ٹکیں ہیں "لاالا الہ الا اﷲ" پھر أن ٹک ٹکوں سے ملتا ہے"لاالا الہ الا اﷲ"۔ پھر وہ ہی ٹک ٹکیں کرتیں ہیں "لاالا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ" أس وقت کہتے ہیں کہ اب یہ صحیح مسلمان ہوا ہے دل سے۔ جسطرح یہ زبان پڑھتی ہے ٹک ٹکوں سے اسطرح یہ دل بھی ٹک ٹکوں سے پڑھتا ہے نا۔ أس وقت فرشتے کہتے ہیں کہ اب یہ ہمارا بندہ ہو گیا ہے۔ اب یہ ناسوتی ہے پھر وہ ملکوت ہو جاتا ہے۔ پھر جس طرح ان ٹک ٹکوں سے نعتیں پڑھتا ہے۔ پھر وہ ٹک ٹکیں! کل بھی بندہ بتا رہا تھا یہیں "میں نماز پڑھتا ہوں دل بھی ساتھ نماز پڑھتا ہے، قرآن پڑھتا ہے"۔ وہ وہی ہے نا۔ اس کا ایک نہیں کئی لوگ بتاتے ہیں۔ وہ صحیح ہے غلط تو نہیں ہے۔ لوگ کر رہے ہیں تقریر کرتا ہے، نعتیں پڑھتا ہے آواز آتی ہے۔ بعض آدمی کہتے ہیں میں تو تلاوت جانتا ہی نہیں یہ کون سی آیت پڑھ رہا ہے۔ بعض دفعہ ایسی نعتیں پڑھتا ہے جو أس نے سنی بھی نہیں ہوتیں ہیں۔ پھر أس کا تعلق پھر ملکوتیوں سے ہو گیا نا۔ پھر أوپر جو حوریں ملائک نعتیں پڑھتے یہ بھی وہاں سے سن کے یہ بھی پڑھنا شروع کر دیتا ہے نا۔ یہ محفلیں پھر أسکو اچھی نہیں لگتیں۔ اِن محفلوں میں تو کتے ہوتے ہیں نا۔ یہ تو أوپر سے سنتا ہے۔ وہ جو پڑھتے ہیں یہ بھی پڑھتا ہے۔ پھر آدمی کہتا ہے ایسی نعت تو میں نے سنی ہی نہیں یہ کہاں سے آگئی۔ یہاں تک وہ پہنچ سکتا ہے۔ وہ پنڑی میں ایک ہے کیا نام ہے۔ سرائےعالمگیر کا ہے پیڈی میں ملازمت کرتا ہے۔۔۔۔۔۔الیاس۔ أس نے تہجد پڑھنا شروع کر دی، أس کے پاس ٹائم، گھڑی وغیرہ نہیں تھی۔ تھا بھی غریب آدمی۔ سوچنے لگا کہ اب کوئی مجھے! گھر والوں کو بولا سحری کے وقت جگا دینا کوئی اٹھا ہی نہں گھر والا۔ دوسرے دن پریشان چلو اب أٹھوں گا أس کو پھر نید آگئی سحری کے وقت۔ اندر سے اذان کی آواز آئی۔ آدھی آواز آئی آدھی آواز آ رہی تھی دیکھا کون اذان دے رہا ہے؟ اندر دیکھا دل اذان دے رہا ہے۔ أٹھا اور جا کے تہجد کی نماز پڑھی۔ یہ دل یہاں تک پہنچتا ہے نا۔ جسطرح اس میں روانی آ جاتی ہے اسطرح دل میں روانی آ جاتی ہے۔ پھر آپ نماز پڑھیں گے وہ نماز پڑھے گا۔ تلاوت کریں گے وہ تلاوت کرے گا۔ جو کام آپ کریں گے ساتھ یہ بھی لگ جائے گا۔ پھر وہ آپ کی نماز کے ساتھ ہو گا نا۔ دل بھی پڑھا رہا ہے اور زبان بھی پڑھ رہی ہے۔ پھر أس وقت صداقت ہو گی۔ جو زبان میں ہے وہ دل میں ہے۔ اب تو صداقت نہیں ہے۔ زبان میں اﷲ ہے اور دل میں دنیا ہے۔ یہ صداقت نہیں ہے یہ منافقت ہے۔مصبیت ہے یہ باتیں لڑکوں
کو صحیح سمجھ میں آ
جاتی ہیں، أن کے دلوں میں چلی جاتیں ہیں۔
لیکن جو ابّا جی ہوتے
ہیں نا أن
کے دل جو نہیں
ہوتے أن کے دل میں جائیں
کدھر یہ؟ أن کو پھر غصّہ
آتا ہے کہ میرا بچہ أدھر لگ گیا میں نے تو اس سے دنیاوی کام لینا ہے۔ اگر
یہ أدھر لگ گیا تو میرے
کام سے گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جوان طبقہ جو ہے نا وہ زیادہ آتا ہے بڈھا
طبقہ نہیں آتا کیونکہ بڈھے کے اندر وہ چیز جو اﷲ کو پکڑنے والی ہے نا وہ
ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے لیے تو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ علم حاصل کرؤ چین تک کیوں نا جانا پڑے۔ اس علم کے لیے، وہ علم تو ہر مسجد میں مل جاتا ہے۔ وہ اس علم کے لیے ہے۔اب دیکھیں نا کہ آپ روزی کی تلاش میں پاکستان سے یہاں آگئے ہیں۔ اﷲ کی تلاش کے لیے اتنا تو کہیں نہیں گئے نا۔ اﷲ کے لیے اس سے زیادہ جانا پڑتا ہے نا۔ زیادہ جاتے تب تو بات تھی نا۔ أس کے لیے کہیں نہیں گئے۔ روزی کے لیے آ گئے۔ اﷲ کے لیے کہیں نہیں گئے۔ سنا بھی ہو گا کہ فلاں! فلاں جگہ کوئی بزرگ ہے۔ سنا ہو گا ضرور لیکن گئے کوئی نہیں وہاں پے۔ سنا ہو گا گمگول شریف میں کوئی بزرگ ہے۔ لیکن گئے تو کوئی نہیں وہاں پے روزی کے لیے ادھر آگئے نا۔ اِس کا مطلب ہے کہ تم نے روزی کو ترجیح دی نا اﷲ کو ترجیح نہیں دی نا۔اب نفس کیا کہتا ہے؟ کہتا
کہ ٹھیک ہے اْدھر بزرگ ہیں۔ لیکن اگر قسمت میں ہوا تو یہیں مل
جائے گا۔ یہی کہتا ہے نا؟ قسمت
میں ہوا تو یہیں مل
جائے گا۔ اگر قسمت میں روزی ہوتی تو وہیں پاکستان
میں مل جاتی نا۔ تو أس کے لیے یہاں کیوں آئے؟ اْس
وقت بھی کہتے نا کہ قسمت میں ہے تو یہاں ملے
گی وہاں جانے کی کیا ضرورت ہے۔ اِس کو اپنا دوست ابھی بنایا نہیں ہے لیکن بنانا چاہتا ہے دوست۔ تو پھر یہ اگر أس کے دوست کے پاس نہیں جائے گا۔ تو پھر أسکو غصّہ آئے گا میں اِسکو دوست بنانا چاہتا ہوں اپنے دوست کے ذریعے تو أس سے چڑتا ہے میں تجھے کیسے دوست قبول کرؤں۔ وہ تو تجھے سے پہلے کا دوست ہے میرا۔
ایک یہودی تھا أس نے ایک حدیث سُنی کہ مومن کی فراست سے ڈر وہ اﷲ کے نور سے ديكهتا ہے۔أس نے کہا اِن مسلمانوں
کو آزمائیں۔ نیچے یہودیوں والا لباس أوپر مسلمانوں والا لباس۔ سب
شیخوں سے جا کے ملا۔ اِس حدیث کا مقصد کیا ہے؟ کسی
نے کیا بتایا، کسی نے کیا بتایا چلتا چلتا مولانا شبلی رحمتہ علیہ کے
پاس پہنچا۔ اِس حدیث کا مطلب بتائیں۔ أنھوں نے کہا کہ اِس حدیث کا
مقصد ہے کہ وہ یہودیوں والا لباس أتار تو مسلمان ہو جا۔ کہنے لگا کہ
میں تو آپ کو پہچان گیا آپ صحیح ہیں۔ اب میرا یہ تھا کہ جو مجھے
صحیح بتائے گا میں مسلمان بھی ہو جاؤں گا۔
مسلمان بھی ہوتا ہوں
لیکن مجھے یہ بتائیں کہ جن لوگوں سے میں مل کر آیا أن کو میرا پتہ
نہیں چل سکا۔ تو کیا سارے جھوٹے تھے؟ أس
وقت جھوٹے ہوتے ہی نہیں تھے۔ کہا جھوٹا کوئی نہیں تھا صرف تیرا نصیبا
میرے پاس تھا۔ وہ تجھے ٹالتے رہے، ٹالتے رہے، ٹال ٹال کر تو یہاں تک
پہنچ گیا۔ یہ نصیبا بھی ہوتا
ہے نا۔ جہاں نصیبا ہوتا ہے، وہاں سے أس کو حاصل ہو جاتا ہے۔ تو پھر
لوگوں میں یہ ہوتا ہے کہ میں أسکے پاس گیا أس کے پاس گیا قناعت کر کے
بیٹھ جاتے ہیں کچھ بھی نہیں۔ لیکن نصیبا ہی
شاہد أدھر نہ ہو ڈھونڈ
کیا خبر تیرا نصیبا کہاں ہے۔ ہم جو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ادنٰی سے خادم ہیں وہ لوگوں کے دلوں کو زندہ کر دیتے ہیں۔ وہ قیامت تک مریں گے ہی نہیں۔اب بتاؤ وہ بہتر ہے یا
یہ بہتر ہے؟ یہ بہتر ہے
قیامت تک مریں گے ہی نہیں۔ وہ تو
مر گیا بیچ میں۔۔ اور جن کے قلب زندہ ہو جاتے ہیں وہ قیامت تک پھر
مرتے ہی نہیں ہیں۔ قیامت تک اﷲاﷲ کرتے رہتے ہیں بس ایک دفعہ یہ زندہ
ہو جائے سہی خواہ
کسی طریقے سے ہو جائے۔ خواہ بُلھے شاہ نے فرمایا: نہیں وہ ایسا تھا کہ حضرت امام حسن عسکری أن کے بیٹے تھے، حضرت امام نقی أن کا ایک بیٹا تھا أس کا نام تھا محمد مہدی وہ أس وقت غائب ہو گئے تھے۔ محمد مہدی کوئی حملہ ہوا تھا أن کے أوپر تو وہ چھپ گئے تھے۔ وہ دوبارہ ملے ہی نہیں۔ اب شیعوں کا مقصد ہے کہ وہی محمد مہدی واپس آئیں گے۔ لیکن وہ نہیں، وہ تو گیا ختم ہو گیا سلسلہ۔اب وہ اِسی انتظار میں
ہیں نہ وہ آ ئیں گے نہ وہ کسی مہدی کو مانئیں گے۔ یہ أن کے لئے
شیطانی دھوکہ ہو گا نا۔ جو اصلی مہدی آئیں گے۔ وہ تو جسطرح دُنیا
والے آرہے ہیں اِسطرح وہ
آیئں گے۔ اگر اصلی مہدی اِسطرح نہ آئیں، تولید
ہو کر نہ آئیں، پیدائش
میں نہ آئیں تو پھر بھی لوگ أن کو نہیں مانیں گے۔ کہ یہ
پتہ نہیں کون آ گیا، کدھر
سے آ گیا؟ وہ اسی دنیا
میں سے آیئں گے، پیٹ میں سے آئیں گے نا وہ
پھر أنکو نہیں مانیں گے۔ وہ أنھی کے انتظار میں ہیں کہ وہی امام مہدی
ظاہر ہونگے۔ سوال: سرکار اگر کوئی خواب وغیرہ آئے تو وہاں پے تو انسان کا اپنا اختیار نہیں ہے؟ جواب: دسترس نہیں ہے نا۔ سوال: سرکار بتا سکتے ہیں خواب؟ جواب: میرا مقصد ہے کہ اگر کوئی خواب ایسا ہے کہ جس میں کوئی روحانیت ہے۔ تو کسی کو بتانے سے اپنی بزرگی جتلاتا ہے تو نہ بتائے نا۔ لوگ کہیں أس کو اچھا خواب آیا اچھا آدمی ہے۔ تو پھر دوبارہ ایسے خواب آتے نہیں ہیں۔ اگر اِن رازؤں کو چھپا کے رکھیں نا تو پھر یہ بڑھتے رہتیں ہیں نا۔ ورنہ لوٹ جاتا ہے آدمی۔ اگر تمھارے پاس پیسہ ہو۔ بڑے بڑے ہار ڈالوں کوئی اِدھر سے کھینچ کر لے جائے گا۔ کوئی أدھر سے کھینچ کر لے جائے گا۔ لوٹ جاؤ گے نا۔ لیکن اگر أس کو سنبھال کے رکھو گے نا تو پھر وہ ہو سکتا ہے کہ مذید ترقی کر جائے۔ اِس لیے لوگوں کو کشف ہوتے ہیں، خواب آتے ہیں۔ پھر رہ نہیں سکتے وہ بتاتے ہیں وہ لوٹ جاتے ہیں پھر۔ بھئی یہ راز ہیں اﷲ کے راز ہیں نا۔ اِسکا مطلب ہے کہ آپ رازؤں کو سنبھال نہیں سکتے تو پھر آپ کو راز دینے کی کیا ضرورت ہے۔ أس نے آپ کو ایک راز دیا ہے آپ کے لیے دیا ہے آپ لوگوں کو بیان کر رہے ہیں کہ لوگ مجھے بزرگ سمجھیں گے۔ میری عزت کریں گے۔ وہ لوٹ گیا تو دوبارہ وہ راز آپ کو ملے گا نہیں ۔ سوال: سرکار دُبئی میں ایک بچہ ہے ہم لوگوں کے ساتھ زکر بھی کیا۔ تو اس کے بعد اس کی یہ کیفت ہو گئی کہ وہ کہتا ہے مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میرے جسم سے کوئی چیز نکلتی ہے اور میں پیچھے مڑ کے دیکھتا ہوں تو مجھے اپنا جسم بے ہوش پڑا ہوا نظر آتا ہے۔ اور آسمانوں پے میں جاتا ہوں۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔ ۔؟ جواب: بھئی صیحیح کہتا ہو گا۔ اﷲ کا بندہ ہو گا۔ ذکر دلاؤ ایسے لوگوں کو۔۔۔۔۔۔ لیکن ایسے آدمی کو ذکر دلاؤ۔ سرکار ہم نے بڑی کوشش کی ہے أس بچے کے لیے ۔ ہم بڑا پیار أس سے کرتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں سُنت تب کام آتی ہے یہ ایک اداء ہے تب کام آتی ہے جب یار دیکھ رہا ہو تو۔بھئی رب دیکھ رہا ہو تب یہ سُنتیں داڑھیاں کام آتی ہیں۔ وہ نہیں دیکھتا تو پھر کافروں کی اتنی بڑی بڑی داڑھیاں ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ میں تو دلوں کو دیکھتا ہوں، جب دل صاف ہو جائیں گے وہ دلوں کو دیکھا گا، پھر اِن داڑھیوں کا فائدہ ہے نا پھر امامے کا فائدہ ہو گا نا۔ اب یہ کہتے ہیں تو باتیں خراب لگتی ہیں ہماری کہ شاہد ہماری یہ کاٹ کر رہا ہے اس وجہ سے یہ ہمارے سخت خلاف ہو گئے۔ کہ ہم سُنتوں کا کام کر رہے ہیں اور یہ أس کی کاٹ کر رہا ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ ہم داڑھی کے یا تمھارے امامے کے خلاف نہیں ہے۔ لیکن جس وقت تم أس کے مجاز ہو جاؤ قابل أس وقت تم پہنو أس وقت پہنو۔ أس سے پہلے پہننا دھوکہ ہے۔
حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم
نے چالیس سال بعد آپ نے اعلان کیا تھا۔ چالیس سال کی عمر میں اس
لئے لوگوں کا خیال ہے۔
سوال: (مہدی
علیہ السلام) حکومت بھی کرئیں چالیس
گے؟ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے بعد جو اس وقت جو مرتبہ ہے وہ حضرت ابوبکر صدیق کا ہے۔ اس وقت جو مرتبہ ہے۔ جب مہدی علیہ السلام آئیں گے تو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے بعد مہدی علیہ السلام کا مرتبہ ہو گا۔ تب أن کو علیہ السلام کے نام سے پکارا گیا، کیونکہ علیہ السلام تو نبوت میں ہوتی ہے۔ اب وہ چونکہ اگر نبوت ختم نہ ہوتی وہ نبی ہی ہوتے۔
وہ سب کے لیے ہدایت نہیں۔ وہ سب کو ہدایت نہیں دیتا مصیبت تو یہ ہے نا۔ اگر سب کو ہدایت دے تو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو ہی بالکل ہی شعاعیں نکلنا شروع ہو جاتیں۔ تو ہر کوئی دیکھ کر ایمان لے آتا۔ لیکن أس نے نہیں چاہا نا۔ جنکو چاہا! جنکو نہیں چاہا أنھوں نے قمر، چاند کو دو ٹکرے دیکھا پھر بھی نہیں مانے۔ اور جنھوں نے چاہا وہ سن کر بھی ایمان لے آئے۔بلکہ ہم سیون گئے نا تو وہاں کچھ لوگوں نے ولیّوں کی بنائی ہوئی تھی۔ کہ ولیّ ہم أس کو تسلیم کریں گے۔ کیا کس کو؟ کہ جو نہ کھائے گا، نہ پیئے گا، ہم أس کو ولّی تسلیم کریں گے۔ اگر ایسے وقت میں نہ ایسا آدمی نہ آئے گا نہ أس کو مانئیں گے۔ وہ کہنے لگے پیشاب وغیرہ ہم بھی کرتے ہیں تو وہ بھی کرے تو ولیّ کیا ہوا۔ أنہوں نے لوگوں کے زہنوں میں یہ بات ڈالی ہوئی ہے۔ اسی طرح شیعوں نے أن کے زہنوں میں یہ بات ڈالی ہوئی ہے۔ ایسے لوگ ہیں نا جو محروم رہیں گے نا۔ أن (مہدی علیہ السلام) کا کنٹرول ہو گا نا أن کا لوگوں دلوں پے۔ أن کا مومنوں کے دلوں پر ہو گا اور جو دجّال ہے أس کا فاسقوں کے دلوں پے ہو گا۔ وہ أدھر چلیں جائیں گے وہ أدھر چلیں جائیں گے۔
وہ گدھے پر سوار ہو گا، پوری شیطانی طاقت أس میں آجائے گی، أس کا مقصد یہ ہے۔ اور ایک آنکھ سے کانا ہو گا یعنی وہ باطنی علم سے محروم ہو گا۔ وہ ظاہری علم سے بھر پور ہو گا اور باطنی علم سے محروم ہو گا۔وہ کوئی شیطان نہیں ہو گا یہ تمھارے مولویوں کی طرح کوئی ہو گا۔ جو بڑا مولوی ہو گا وہ اپنے آپ کو دجّال کہے گا۔ تو تب ہی پچاس ہزار علماء أس کی بیعت کریں گے نا۔ بھئی اگر وہ فاسق، فاجر ہو شیطانی ہو تو أس کے پاس کون جائے گا؟لیکن یقین کرؤ کہ فاسق، فاجر وہ اتنا بڑا شیطان نہیں ہے۔ بڑا شیطان کون ہے۔ اگر کوئی لڑکا شرارتیں کرتا ہے لوگ کہتے ہیں کہ بہت شیطان ہے۔ کہتے ہیں نا۔ شرارتیں کرتا ہے نہیں شیطان کی یہ خاصیت تو نہیں ہے۔ جو اصلی شیطان ہے نا وہ تو بہت بڑا نمازی تھا۔ وہ بھی اصلی شیطان کا أس میں پاور ہو گا نا۔ وہ بھی اِسطرح ہو گا۔ پکا نمازی ہو گا سب سُنتیں ونتیں جانتا ہو گا۔ بس اندر سے وہ شیطان کی طرح کھوٹا ہو گا۔ باہر سے أس کی طرح عبادت گزار ہو گا۔ یہ ہی وجہ ہے یہ جو لوگ ہیں علماء قسم کے لوگ أس کی طرف چلے جائیں گے نا۔بھئی اگر وہ شیطان ہی ہو شیطانیاں کرتا ہو تو کون أس کی طرف مسلمان کون جائے گا۔ اور وہ عالم، عالم کیسے جائے گا أس کی طرف؟ وہ علم میں اِن عالموں سے زیادہ ہو گا نا۔ تب یہ أس کو اپنا أستاد مانئیں گے نا۔ اِن کے ہر مسلئے کا جواب اِن کو بتائے گا۔ اصلی شیطان ہو گا۔ اگر بچے کو کہہ دیں کہ شیطانیاں کرتا ہے، یہ شیطان ہے۔ نہیں یہ نقلی ہے بیچارہ۔ اصلی شیطان کی شرط ہے نمازی بھی ہو، تہجد گزار بھی ہو، سارے مسلے جانتا بھی ہو۔ اندر سے کالا ہو وہ اصلی شیطان ہوتا ہے۔ اندر أس میں تکبر ہو یہ اصلی شیطان کی نشانی ہے نا۔تو لوگ أن کو کہتے ہیں
شیطان۔ یہ شیطان ہے تو اپنے لیے ہے نا بھئی اور وہ جو شیطان ہے وہ تو
ساری دنیا کو گمراہ کر
دیتا ہے نا۔ وہ تو سب
کے لیے ہے نا۔ یہ تو سب کو گمراہ کر دیتا ہے نا۔ یہ جو بہت، تہتر
فرقے بنائے أنھی شیطانوں نے بنائے نا۔ أن جواریوں نے،
چرسیوں نے تو نہیں
بنائے۔ وہ تو اپنے لیے تھے مر گئے، مر گئے۔ وہ مر گئے پھر بھی أن کے
فرقے جاری ہیں۔ اصلی شیطان وہ ہو گا۔ مہدی علیہ السلام کو یہ طاقت دی جائے گی کہ ہوا میں أڑ کے جا سکو أسے بھی یہ طاقت دی جائے گی۔ پھر یہ ہے کہ اہل ایمان ہیں دل والے ہی ہیں جو مہدی علیہ السلام کو پہچانے گے۔ ورنہ زیادہ اہل ظاہر أدھر چلے جائیں گے۔ کیونکہ وہ بھی أڑتا ہے، وہ بھی أڑتا ہے، وہ بھی صلب کرتا ہے، وہ بھی صلب کرتا ہے۔ وہ بھی نماز پڑھتا ہے، وہ بھی نماز پڑھتا ہے۔ أسکی بھی داڑھی ہے، أسکی بھی داڑھی ہے۔
آنے ہی والا ہے۔ اگر تیسری جنگ ہو گی تو أنھی لوگوں کے لیے ہو گی۔ أنھی کو ظاہر کرنے کے لیے ہو گی۔ پہلے عالم گیر جنگ ہو گی، لوگ تھوڑے رہ جائیں گے پھر یہ مسلئہ أٹھے گا۔
سوال: سرکار
یہ دجّال جو ہے یہ
شیطان کا آخری حربا ہو
گا یا اس کے بعد بھی؟
جواب: نہیں یہ آخری حربا ہے۔ سوال: عیسٰی علیہ السلام! سرکار، امام مہدی علیہ السلام کے لیے أتریں گے؟ جواب: امام مہدی پریشان ہو کر چلے جائیں گے، وہ أن کو پریشان کرئے گا۔ پھر عیسٰی علیہ السلام أن کی مدد کے لیے آئیں گے۔ پھر أن کو کہیں گے چلو کیونکہ سارے مسلمان تو أس کی طرف چلے جائیں گے۔ جن کے أوپر أنکو توقع تھی وہ أدھر چلے جائیں گے دجّال کی طرف۔ پھر وہ چھوڑ جائیں گے۔ سوال: سرکار ذاکرین جو ہیں؟ جواب: ذاکرین أن کو پہچانے گے، یہ أن کو پہچان لیں گے۔ کیونکہ أن میں بھی اﷲ اﷲ ہو گی اِن بھی اﷲ اﷲ۔ وہ بھی خالی ہیں، وہ بھی خالی ہے۔ خالی خالیوں کے ساتھ لگ جائیں گے۔ اﷲ اﷲ والے أدھر لگیں گے جدھر اﷲ ہے۔ یہ جو لوگوں کو کشف وغیرہ دیئے جاتے ہیں نا یہ یہی وجوہات ہیں۔ کہ مہدی علیہ السلام کو پہچاننے میں آسانی ہو جائے گی۔ کشف کی وجہ سے آسانی ہو جائے گی ۔ قلب کی وجہ سے آسانی ہو جائے گی۔
پھر جو وقت کے ولیّ ہیں وہ اِس
کی تصدیق کریں گے۔ لیکن جتنے بھی وقت کے ولیّ ہیں أن کے سب کے
مخالف ہیں تمھارے علما لوگ۔ جو گمگول شریف والے ہیں، أن کے
بھی مخالف ہیں علما لوگ۔ وہ جس کی تصدیق کریں گے أس کی یہ نفی کریں
گے ۔ یہ أمت پے بڑا امتحان ہو گا، بڑی پریشانی ہو گی۔ ابھی کئی ولیّ
کہتے ہیں کہ یہ جو ذاکرین سرفروش ہیں یہ مہدی علیہ السلام کی فوج
تیار کی جا رہی ہے۔ کئی جگہ ذاکر گئے نا تو ولیّوں نے کہا، کہ أن
کی فوج تیار کی جا رہی ہے۔
اللہ ھو*****اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو
اگر آپ بھی ذکر کی لینا
چاہتے ہیں تو امام
مہدی ریاض
احمد گوھرشاہی کی شبیہ مبارک کوپورے
چاند پر دیکھتے ہوئے تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔
|
|
© 1998-2010 All Faith Spiritual
Movement Intl' |