SELECT YOUR LANGUAGE:    ENGLISH    or   INDONESIAN

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے

اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر)

مرکزی صفحہ  تعارف  حضرت عیسی  کرشمہ قدرت  الحجرالأسود  تعلیمات  دینِ الٰہی  پروگرام  تصانیف  ویڈیو  رابطہ    

بیعت کی اقسام
 


پہلی قسم کی بیعت
 

 کسی کامل سے دست بیعت ہونے کے بعد فیض کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اس قسم میں صرف نسبت یا منسلک ہو نے سے خاص فیض نہیں ہوتا یہ سلسلہ ہر دور میںموجود ہوتا ہے لیکن اصل کا ملنا محال ہے۔جیسا کہ ایک شخص کو قادری ولایت ملی اور وہ غوث یا قطب ہوا۔اس کی وفات کے بعد اس کا لڑ کا گدی نشین ہوا پھر اس کا لڑکا اور یہ سلسلہ اس طرح چلتا رہا۔لیکن ضروری نہیں کہ باپ بھی غوث بیٹا بھی غوث حتیٰ کہ ساری نسل غوث ہی ہو کیو نکہ ولایت وراثت نہیں بلکہ خداداد ہے اور اس کامل کے خلفاءکی اولاد بھی نسل در نسل گدی نشین بن گئی اب یہ سارے قادری بزرگ ہی کہلائیں گے ان میں کئی وردو وظائف کے عامل اور کئی ظاہری عالم بھی ہونگے۔ لیکن خود کو فقیر کہلائیں گے۔جو کہ فقر کی بو سے بھی آشنا نہ ہونگے کوئی غوثیت اور کوئی قطبیت کے دعوے میں ہوگا پھر اصل کو ٹھکرائیں گے اور جھٹلائیں گے اس قسم کی ہزاروں گدیاں اور سجادے اور ہزاروں غوث وقطب ہر شہر میں ہر وقت ملیں گے۔


 

جبکہ ایک وقت میں ایک ہی غوث و تین قطب ہوتے ہیں ان لوگوں سے بیعت ہونا بیکار ہے اس بیعت سے بہتر تھا کہ کسی ولی کی صحبت میں ایک لمحہ گزار دیتا شاید اصحاب کہف کے کتے کی طرح صرف صحبت سے ہی حضرت قطمیر بن جاتا۔


 

 

یک زمانہ صحبت با اولیائ
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا


 

 

دوسری قسم کی بیعت

 

سلسلہ اویسہ کے کسی کامل سے ذاتی منسلک ہونے یا نسبت سے ہی فیض شروع ہو جاتا ہے لیکن یہ سلسلہ کبھی کبھی آتا ہے اس لئے اس کی شناخت بھی محال ہے۔ کامل چاہے اسے بیعت کرے ےا نہ کرے لیکن وہ اویسی بیعت میں آجاتا ہے اور طالب کہلاتاہے کامل کے ذمہ اور نظر میں اسوقت تک رہتا ہے۔ جب تک کامل اس کا رخ کسی دوسری طرف نہ پھیر دے۔


 

حضرت اویس قرنی کو بھی بغیر دست بیعت کے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے فیض تھا حضرت ابو بکر حواری کو بھی حضرت ابو بکر  سے اویسی فیض تھا۔ ان سے با قاعدہ سلسلہ حواریہ چلا با یزید بسطامی کو بھی حضرت امام جعفر صادق  سے اویسی فیض تھا ان سے بھی سلسلہ بسطامی چلا ۔سخی سلطان باہو کو بھی حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے اویسی فیض تھا۔ راہ سلوک میں کچھ منازل پانے کے بعد آپ اپنی والدہ کے بے حد اصرار پر حضرت عبد الر حمٰن سے بیعت ہوئے جس کی آپ کو ضرورت نہ تھی آپ لوگوں کو بھی بغیر دست بیعت کے فیض پہنچاتے اور نظروں سے مسلمان بناتے اور اللہ تک پہنچاتے ۔اگر کسی کو کسی کامل سے قلب اور سینے کا روحی فیض ہو جائے تو وہ خود بخود اس کے سلسلہ میں پیوست اور ولایت میں ضم ہو جاتا ہے۔

 

1998-2010 All Faith Spiritual Movement Intl'
admin@theallfaith.com