SELECT YOUR LANGUAGE:    ENGLISH    or   INDONESIAN

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے

اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر)

مرکزی صفحہ  تعارف  حضرت عیسی  کرشمہ قدرت  الحجرالأسود  تعلیمات  دینِ الٰہی  پروگرام  تصانیف  ویڈیو  رابطہ    

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھرشاہی مدظلہ العالی 

کا آرام باغ میں عظيم الشان اجتماع سے روحانی خطاب۔


آعوذبااﷲ من الشیطن الرجیم۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
 

عزیز ساتھیو السلامُ علیکمُ:۔

غالبٔا پچھلے سال اِسی جگہ خطاب کا موقع ملا۔ اِس مرتبہ آنے کا مقصد کوئی سیاست نہیں ہے۔ کسی فرقے کی دِل آزاری نہیں ہے۔ کوئی حکومت پر نُکتہ چینی نہیں ہے۔ ہر شہر میں، ہر مُحّلے میں، ہر گھر میں کچھ دل والے ہوتے ہیں۔ اُنکو نکالنا مقصد ہے، اور دل کی آواز دلوں تک پہچانا مقصود۔
 

حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو طرح کا علم تھا۔ ایک زبان والوں کے لیے۔اور ایک دل والوں کے لیے۔ جن لوگوں نے صرف زبانی علم پر قناعت کری، اُنھی میں سے کوئی خوارج ہوا اور کوئی منافق ہوا۔ آج وہی لوگ 72 فرقوں میں تقسیم ہو گئے اور جن لوگوں نے دل والا علم بھی حاصل کیا وہ تو ایک صحابی یا رسُول اﷲ کہلائے اور ولیّوں سے بھی اعلی مقام حاصل کر کے چلے گئے۔

وہ جو زبان والا علم ہے أس کو شریعت کہتے ہیں۔ أس کا تعلق دین سے ہے۔ اور دین کا تعلق جنت سے ہے۔ تو جنت کے رستے میں بہتر ڈاکوں ہیں۔ ایک کہتا ہے أدھر جاتا ہے رستہ،۔ دوسرا کہتا ہے أدھر جاتا ، تیسرا کہتا ہے أدھر جاتا۔ اور لوگ أسی دین میں ہی بھٹک رہے ہیں۔ اور وہ جو دل والا رستہ ہے وہ جنت کو نہیں جاتا ہے وہ سیدھا اللہ کو جاتا ہے۔ اور جو اللہ کو جاتا ہے أس میں کوئی فرقہ نہیں ہے۔ وہ ایک ہی ہے سیدھا رستہ۔ لیکن لوگ أس رستے کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ أس رستے کو چھوڑ کے 72 فرقوں میں تقسیم ہوئے۔

اب سُنی بھی، شیعہ بھی، وہابی بھی یہ سارے فرقے ہیں ۔ سارے کہتے ہیں ہم صحیح ہیں۔
ہماری نظروں میں کوئی بھی صحیح نہیں ہے۔ صحیح وہ ہیں جس سے یہ نکلے ہیں۔
 

جس سے سُنی، شیعہ ، وہابی نکلا۔ وہ صحیح ہیں۔ یہ کہاں صحیح ہیں۔ یہ کس سے نکلا ہے؟ یہ أمت سے نکلا ہے۔ یہ أمت سے نکلا ہے۔ اور أمت کی پہچان جس میں نور ہو گا وہ میری أمت ہے۔ قیامت کے دن أمتوں کی پہچان نور سے ہو گی۔ اور جوں جوں اُمتی میں سے نور نکلتا گیا۔ اؤ فرقہ بنتا گیا۔ سُنی، شیعہ، وہابی بنتا گیا۔ اور یقین کرؤ اگر اِن سنیوں، شیعوں، وہابیوں میں دوبارہ نور آ جائے۔ تو پھر نہیں کہیں گے میں سُنی ہوں، میں شیعہ ہوں، میں وہابی ہوں۔ کہیں گے، بس اُمتی ہوں تُمھارا یا رسُول اﷲ ۔

اب وہ نماز روزہ، تلاوت ہو رہا ہے سب۔ اِس کا تعلق دین سے ہے۔ تو پھر وہ اللہ کو رستہ کون سا جاتا ہے؟ اللہ کو رستہ نور سے جاتا ہے۔ اور نوربنتا کیسے ہے؟ نور کا کوئی دین کوئی نہیں ہے۔ نور کا دین صرف عشق ہے۔

انگریز اِس ملک میں آیا۔ وہ کہنے لگا کہ یہ تُمھارے دریا ہیں ان میں بجلی ہے۔ ہم نے کہا بیوقوف بناتا ہے۔ ہم اِس میں نہاتے ہیں۔ اِس میں جانور بھی ہیں۔ اگر بجلی ہو تو اِن کو بھی پکڑتی۔ بعد میں اُسی انگریز نے اِس دریا سے بجلی بنا کر دیکھائی۔ ہمارے اکابر نے کہا ہے کہ قرآن مجید میں نور ہے۔

ایک سکّھ بولا کہ میں تمھارا جاسوس رہ کر آیا۔ میں تمھارے بچوں کو قرآن پڑھتا تھا نمازیں پڑھتا تھا۔ اگر قرآن میں نور ہوتا تو میں منور کیوں نہیں ہوا؟ عیسائی بولا کہ میں شب وروز قرآن کا مطالعہ کرتا ہوں۔ نوری میں بھی کوئی نہیں ہوا۔ میں بھی شب و روز تُمھارے قرآن کا مطالعہ کرتا ہوں نُوری میں بھی کوئی نہیں ہوا۔ اؤ ہم نے کہا تم نے دل سے نہیں پڑھا۔ وہ کہنے لگا ٹھیک ہے ہم نے دل سے نہیں پڑھا اؤ تمھارے مُسلمان تو دل سے پڑھتے ہیں نا، تو سارے مسلمان قرآن پڑھنے والے نوری کیوں نہیں ہوئے؟ ایک دوسرئے کو کافر منافق کیوں کہتے ہیں؟ کیا جواب تھا جی۔

جس طرح دریا سے بجلی بنانے کا کسی کو پتہ ہے۔ اِسطرح قرآن سے بھی نور بنانے کا کسی کسی کو پتہ ہے۔ جب پانی پانی سے ٹکڑاتا ہے تو بجلی بنتی ہے۔ پتھر پتھر سے ٹکراتا ہے چنگاری، لوہا لوہے سے ٹکڑاتا ہے چنگاری۔ اور قرآن کی آیتیں جب آیتوں سے ٹکراتیں ہے تو نُور بنتا ہے، نا۔

کچھ عامل حضرات ہیں۔ چلو سورۃ المزمل کا عامل ہی سہی وہ سورۃ المزمل کو بار بار تکرار کرتا ہے، بار بار تکرار کرتا ہے۔ أس تکرار سے نور بنتا ہے اور وہ نُور۔ جو مخلوقیں قابو کرتا أن کی غذا بن جاتی ہے۔ لیکن وہ نور باہر ہی باہر۔ اندر نہیں جاتا ہے کچھ لوگ ہیں أنھوں نے تسبیح کے ذریعے نور حاصل کرنے کی کوشش کری۔ اؤ تسبیح ٹِک ٹِک أس کے ساتھ أنھوں اﷲاﷲ ملایا۔ جب اللہ اللہ ملایا أس کی تکرار سے اﷲ اﷲ کی تکرار سے نور بننا شروع ہو گیا۔ لیکن وہ نور أنگلیوں میں اندر وہ بھی نہیں گیا۔

اِسطرح کی تمھارے اندر ایک تسبیح ہے وہ بھی چوبیس گھنٹے ٹِک ٹِک، ٹِک ٹِک کر رہی ہے۔ جب أس ٹِک ٹِک کے ساتھ اللہ اللہ ملاتے ہیں پھر جب وہ اللہ اللہ أس سے رگڑ کھاتا ہے۔ پھر أس سے نور بنتا ہے، اور وہ نور باہر نہیں جاتا أنگلیوں میں نہیں جاتا۔ وہ سیدھا خون میں جاتا ہے، خون سے پھر وہ نسّوں میں جاتا ہے نسّوں سے پھروہ روح میں آتا ہے۔ پھر وہ روح اﷲاﷲ کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ اور روح قبر میں بھی اﷲاﷲ کرتی رہے گی اور یومِ محشر میں بھی اﷲاﷲ کرتی رہے گی ۔ جب ہر وقت اللہ اللہ شروع ہو جاتی ہے۔ تو پھر وہ نور اِس دل میں اکھٹا ہو جاتا ہے۔ جب وہ نور اِس دل میں اکھٹا ہو جاتا ہے۔

ایک حدیث شریف میں ہے کہ یہ ظاہر باطن کا عکس ہے۔ ظاہر میں بجلی کا نظام ہے۔ باطن میں نور کا نظام ہے۔

اِدھرموبائل فون پڑا ہے کوئی تاریں نہیں ہیں۔ یہاں سے بجلی کی لہریں اُٹھتی ہیں، امریکہ پہنچتی ہیں۔ اگر بجلی کی لہریں یہاں سے، امریکہ پہنچتی ہیں تو نور کی لہریں کہاں پہنچیں گیں۔ اور نور کی لہریں یہاں سے أٹھیں گیں تو عرش معٰلی میں پہنچے گیں۔ اب تمھارا کُنیکشن عرش معلیٰ تک ہو گیا۔ یہ ٹیلی فون تمھارا نوری ٹیلیفون عرش معلیٰ سے لگ گیا۔ لیکن اب بات وہاں پہنچانی ہے نا۔ بات بھی ضروری ہے۔ جب حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم شب معراج میں گئے اﷲ تعالیٰ نے یہ نمازیں تحفے دیئے کہ یہ اپنی اُمت کو دے دینا۔ یہ أمت تحفے مجھے بھیجیں گی۔ میں اُنکو یاد رہوں گا وہ مجھے یاد رہیں گے۔ اب وہ تحفے نیچے آ گئے۔

اب نمازوں کو أوپر بھیجنے کا جو زریعہ ہے۔ وہی نُوری ٹیلیفون ہے۔ اور جس کے پاس وہ نوری ٹیلیفون نہیں ہے۔ أس کی نماز صورت ہے۔ وہ کبھی بھی أوپر نہیں جا سکتی۔ اور جس کے پاس وہ ٹیلیفون ہے۔ وہ ٹیلیفون أس نماز کو عرش معلیٰ میں پہنچاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نماز مومن کا معراج ہے۔

اب جس طرح مغرب کی طرف مقناطیسی پہاڑ ہیں۔ یہاں ایک قطب نما ہے۔ أس کا تعلق ہے أن سے۔ أس کو کسی بھی شہر میں لے جاؤ۔ أس کا رخ مغرب کی طرف ہی ہو گا اور جس میں اللہ کا نور ہو گا۔ وہ خواہ دیوبندی ہو، مرزائ ہو، شیعہ ہو، وہابی ہو۔ أس کا رخ اﷲ کی طرف ہی ہو گا۔ جب اﷲ کی طرف رخ ہو گیا۔ تو جدھر اللہ أدھر وہ۔ ایسی اگر دو رکعاتیں بھی پوری زندگی میں مل جائیں۔ وہ اِن ہزارؤں رکعاتوں سے بہتر۔ وہ کہتے ہیں کہ یوم محشر کہ جان گداز بود اولين پرسشِ نماز بود. یوم محشر میں سب سے پہلے نماز کا پوچھا جائے گا۔ اؤ کس نماز کا پوچھا جائے گا۔ جو أوپر جاتی تھی أس کا پوچھیں گے نا۔ جو جاتی نہیں تھی أس کا کون پوچھے گا۔ یہ مومن کی معراج جاتی تھی۔ اتنا عرصہ تیری نماز أوپر آتی رہی اتنا عرصہ کیوں نہیں آئی۔

اب لوگ کہتے ہیں کہ یہ درویشوں کا خیال ہے کہ یہ دل اللہ اللہ کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ہم نے دل دیکھا ہے ، گوشت کا لوتھڑا ہےِ۔ اؤ گوشت کا لوتھڑا کیسے اللہ اللہ کرتا ہے؟ ہم کہتے ہیں یہ زبان یہ بھی تو گوشت کا لوتھڑا ہے نا۔ یہ اﷲ اﷲ کیسے کرتی ہے؟ یہ دو جبڑوں کے درمیان لٹکی ہوئی ہے اور وہ دو پسلیوں کے درمیان لٹکا ہوا ہے۔ یہ بھی گوشت اور وہ بھی گوشت۔

جب اﷲ تعالی نے یہ جسم بنایا اس میں روح ڈالی، اور کچھ اور چیزیں بھی جنکو لطائف کہتے ہیں۔ وہ بھی اِس جسم میں ڈال لیں۔ کوئی سونگھنے کے لیے، کوئی دیکھنے کے لیے، کوئی بولنے کی لیے، کوئی چلنے کے لیے۔ أن کی ڈیوٹیاں لگا دیں۔ ایک مخلوق جس کا نام لطیفۂ اخفا۔ وہ سینے کے درمیان میں ہے۔ وہ بولتا ہے اِس گوشت کے لوتھڑے کے ذریعے۔ وہ جو اخفا ہے، وہ اِس زبان کے ذریعے، زبان أس کا ذریعہ ہے اگر وہ اخفا نہ ہو تو ڈاکٹر کہتے ہیں زبان تو صحیح ہے،یہ بولتا کیوں نہیں ہے ۔ وہ جو اخفا ہے وہ آزاد ہے۔

اِسطرح وہ جو گوشت کا لوتھڑا دل ہے ٲسکو بولوانے کے لیے بھی ایک مخلوق ہے۔ گوشت کے لوتھڑے کو عربی میں "فواد" کہتے ہیں۔ اور وہ جو مخلوق ہے أس کو قلب کہتے ہیں۔ ۔ فرق یہ ہے کہ اخفا آزاد ہے اور وہ قلب ایک لاکھ اسّی ہزار جالوں کے اندر بند ہے۔ اگر کوئی شخص ٲس قلب کو بھی آزاد کرا لے تو جسطرح یہ زبان اﷲ اﷲ کرتی ہے۔ اِسطرح وہ گوشت کا لوتھڑا دل بھی اﷲ اﷲ کرتا ہے۔

لیکن وہ آزاد کیسے ہو؟ وہ تو ایک لاکھ اسّی ہزار جالوں کے اندر جکڑا ہوا ہے۔ اگر کوئی شخص انڈے کی خاصیت سے بے خبر ہے، أسے کہا جائے یہ ہوا میں أڑے گا۔ چوں چوں کرے گا وہ کہے گا غلط کہتا ہے نہ اسکے پر ہیں، نہ زبان ہے نہ ٹانگیں ہیں تو کہتا ہے ہوا میں أڑئے گا۔ وہ بیضہ ہے تمھارے اندر بیضہ ناسوتی ہے۔ ٲس میں ایک مرغ بند ہے۔ اِس میں ایک مرغ لاہوتی بند ہے۔ أسکو ظاہری گرمی کی ضرورت ہے۔ اِسکو اﷲ ھو کی ضربوں کی ضرورت ہے۔ ٲسکو مُرغی چاہیے اور اِس کو مُرشد چاہیے۔ مُرغی کیا کرے گی ٲسکے حساب سے ٲسکو گرمی پہنچائے گی اور مُرشد ٲس سینے کے حساب سے أس میں اﷲ کا نور پہنچائے گا۔ جب وہ انڈا پھٹے گا۔ أسے کوئی نہیں سیکھائے گا بغیر سیکھے سیکھائے چوں چوں کرے گا۔ کیوں چوں چوں اُسکی فطرت ہے اور جب یہ پھٹے گا تو بغیر سیکھے سیکھائے اﷲ اﷲ کہے گا۔ اﷲ اﷲ اِس کی فطرت ہے۔ أس وقت آدمی دیکھے گا کہ میں اﷲ اﷲ نہیں کر رہا۔ میرے اندر سے کوئی مخلوق اﷲ اﷲ کر رہی ہے ۔ اب آدمی أس کا أستاد بن جائے گا۔ کہ تیری تسبیح یہ ہے جو اندر ٹک ٹک ہو رہی۔ زبان کی تسبیح یہ أنگلیوں والی ہے۔ اور دل کی تسبیح وہ اندر ہے۔اب وہ أس ٹک ٹک کے ساتھ اللہ اللہ ملانا شروع کر دے گی أس کی تسبیح ہے۔ کبھی ملے گی، کبھی ہٹے گی، کبھی ملے گی، کبھی ہٹے گی تین سال تک اتنی پختہ ہو جائے گی کہ وہ ڈٹ کے سوتا رہے گا اور اﷲ اﷲ ہوتی رہے گی۔

أس وقت سلطان صاحب فرماتے ہیں  کچھ جاگدئے سوتے ھو، کچھ سوتے جاگدئے ھو

کچھ لوگ ایسے ہیں جو جاگ کر عبادت کرتے ہیں لیکن سوئے ہوں میں شامل اور کچھ لوگ بستروں پر سو رہے ہیں اُن کے دل اللہ اللہ کررہے ہیں

حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم سوتے ہیں ہمارے دل نہیں سوتے ہیں

جب کسی کے دل اللہ اللہ میں لگ جائے۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں اگر کسی کا دل ایک دفعہ اللہ کہے أسےساڈھے تین کروڑ اللہ اللہ کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ تیرے اندر ساڈھے تین کروڑ نسیں ہیں دل نے ایک دفعہ اللہ کری ساڈھے تین کروڑ نسیں گونج أٹھیں۔ سلطان صاحب فرماتے ہیں 72 ہزار اور ثواب ملتا ہے اگر کسی کا دل ایک دفعہ اللہ کہے تو۔ یہ جو مسّام ہیں جہاں سے پسینہ آتا ہے یہ 72 ہزار ہوتے ہیں دل نے ایک دفعہ اللہ ھو کرا 72 ہزار دفعہ آوازیں یہاں سے بھی گونجیں۔

پھر علامہ اقبال نے فرمایا پھر خدا بندے سے خود پو چھے بتا تیری رضا کیا ہے

فرماتے ہیں خودی کو کر بلند اتنا اور خودی کا مطلب سمجھایا خودی کا سّر نہاں "لاالااللہ" تو"لاالااللہ" کا اتنا ذکر کر کہ لوگ کہیں کہ مجنوں اور منافق کہیں ریا کار۔

  ایک اور شاعر بول أٹھا۔ أس نے کہا گناہ گار پہنچے در پاک پر زاہد و پارسا دیکھتے رہ گئے۔
بھئی یہ کون سا توک ہے کہ زاہد و پارسا دیکھتے رہ جائیں، اور گناہ گار در پاک پر پہنچ جائیں۔ 

جب کوئی زاہدو پارسا نیکی کرتا ہے۔ تو کرامََا کاتبین اُسکی فائل پہ نیکی لکھتے ہیں۔ اؤ نیکیاں کرتا، نمازیں پڑھتا ہے۔ أس کی فائل پر لکھتے رہتے ہیں۔ أدھر أس کا دل خالی ہے۔ أس دل میں تھوڑا سا تکبر آ جاتا ہے۔ أدھر فائل نیکیوں سے بھر گئی۔ أدھر دل تکبر سے بھر گیا۔ جب تکبر آتا ہے تو اُسکے کے بھی دوست حّرص ہے، حسد ہے، بخل ہے۔ وہ بھی أس دل میں آ جاتے ہیں اب اللہ تعالی کبھی کبھی اِس مخلوق کو دیکھتا ہے۔ وہ داڑھیوں کو نہیں دیکھتا، وہ فا ئلوں کو نہیں دیکھتا، وہ دلوں کو دیکھتا ہے جب اُس عابد زاہد کا دل دیکھا تکبر سے بھرا پایا اللہ تعالی اُس سے بیزار ہوگیا۔

أدھر وہ جو گناہ گار تھا وہ درئے پاک پر کیسے پہنچ گیا۔ أس نے جب گناہ کیا تو وہ فائل پہ گناہ لکھا دیا کرامََا کاتبین نے اور ایک دھبہ اُسکے دل پر لگا دیا۔ کیا ہوا کہ گناہوں سے فائل بھی بھر گئی اور اور اُسکا دل بھی سیّاہ ہو گیا۔ جب فائل پہ لکھا تو دل پر دھبّہ کیوں لگایا وہ اِس وجہ سے کہ اگر کسی نبی، ولیّ کو ضرورت پڑی تو فائل بھیج دیں گے۔ اگر اللہ کو ضرورت پڑی دیکھنے کی تو وہ دل کو دیکھ لے گا۔ وہ گناہ گار وہ عاجز تھا۔ وہ کسی ولیّ کی چوکھٹ پر جا جھکا۔ عابد زاہد تو نہیں جھکتا ہے۔ وہ تو نماز پڑھتا ہے۔ اللہ کے حضور کھڑا ہوتا ہے تو سر تان کے کھڑا ہوتا ہے۔ أس وقت بھی نہیں جھکتا ہے۔ جب وہ کسی ولیّ کی چوکھٹ پر جھکا۔ تو ولیّ نے أس کو وہ نسخہ بتا دیا۔ جس سے دل صاف ہو جاتے ہیں ۔ وہ اللہ اللہ کرتا رہا اللہ اللہ سے اُسکا دل صاف ہو گیا۔ وہ فائل کو نہیں مٹا سکا فائل کالی کی کالی ہے۔ لیکن دل أس کا چمک اُٹھا۔

جب اللہ تعالی نےدیکھا تو اُسکے بھی دل کو دیکھا، چمکتا ہوا دل دیکھا تو اللہ تعالی اُس پہ مہربان ہو گیا۔

اور اللہ اللہ کرنے والوں میں ایک اور خاصیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک دن حضرت عیٰسی نے شیطان سے پوچھا کہ تیرا سب سے بہترِین دوست کون ہے؟ أس نے کہا کنجوس عابد، کنجوس عابد۔ کہ وہ کیسے؟ کہ اُسکی عبادت کو اُسکی کنجوسی رائیگاں کر دیتی ہے۔ اور دیکھ لوں تم عابد و ذاہدؤں کا حال، گھر والوں سے پوچھو ابّا جی کے متعلق کیا بتاتے ہو کہیں گے بڑے نمازی ہیں بڑے اچھے ہیں لیکن دل کے بڑئے کھنڈے ہیں۔ یہ ہی کہیں گے نا۔

اور شیطان سے پھر پوچھا عیٰسی علیہ السلام نے تیرا سب سے زیادہ بڑا دشمن کون ہے؟ اُس نے کہا گناہ گار سخی۔ کہا وہ کیسے؟ کہ اُسکی سخاوت اُسکے گنا ہو ں کو جلا دیتی ہے۔

جب کوئی یہاں تک پہنچ جاتا ہے۔ أس کا نفس بھی پاک ہو جاتا ہے أس کو نور بولتے ہیں ۔ اب یہ نور ہو گیا۔ اگر وہ عالم بھی ہے۔ قرآن بھی پڑھتا ہے ۔ تو پھر وہ نور العٰلٰی نور ہو گیا۔ أس وقت وہ قرآن کے قابل ہوا۔ قرآن مجید فرماتا ہے"ھدی اللمتقین" ہدایت کرتا ہے پاکوں کو۔ اب وہ پاک ہو گیا۔ اب أس کو بھی ہدایت ہوئی اور أس کے ذریعے ہزاروں لوگوں کو بھی ہدایت ہوئی۔ اور أسی نے کافروں کو مُسلمان بنایا۔ أسی عالم نے اور أس عالم کی توہین دِین اسلام کی توہین ہے، أس کی توہین دِین اسلام کی توہین ہے۔

حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں أس عالم کے لیے کہ میرے عالم بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہیں۔

اور جن لوگوں نے پاک ہوئے بغیر قرآن سے ہدایت پانےکی کوشش کری وہ تو گمراہ ہو گئے۔ ایک حدیث شریف میں ہے کہ کچھ لوگ قرآن پڑھتے ہیں قرآن أن کے أوپر لعنت کرتا ہے۔ اور جنھوں پاک ہونے کے بغیر قرآن سے ہدایت پانے کی کوشش کری۔ عالم اسلام أن کو لعنتی کہتا ہے اور کافر ہی کہتا ہے نا۔ وہ بھی تو قرآن سے ہدایت پا رہے تھے نا۔

اور وہ جو عالم أن کے لیے حدیث ہے کہ جاہل عالم سے ڈرؤ اور بچو۔ اصحابہ نے نے پوچھا عالم بھی اور جاہل بھی؟ کہ جسکی زبان عالم اور دل سیاہ یعنی جاہل ہو۔ وہ عالم کافروں کو مسلمان نہیں بنا سکتے۔ مسلمانوں کو کافر کہہ سکتے ہیں ۔ یہ جو انتشار مسلمانوں میں پھیلایا نا۔ یہ أنہی عالموں نے پھیلایا

مجدد صاحب فرماتے ہیں مکتوبات شریف میں کہ مقتدی کو چاہیے کہ پہلے ذکر اللہ کرے۔ قرآن اُن لوگوں کے پڑھنے کے قابل نہیں، جنکے نفس کتے ہیں۔ ۔فرمایا ہے کہ جب نفس پاک ہو جائے پھر قرآن پڑھے۔ أس وقت ایک لمحہ فِکریہ سو سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ أس وقت پھر وہ ہدایت بن گیا نا اپنے لیے بھی اور لوگوں کے لیے بھی۔ اب یہ مقام تو مومن کا ہو گیا۔اِس کے بعد پھر ولایّت شروع ہو جاتی ہے۔

تو ولیّ کوئی آسمانوں سے نہیں آتے۔ یہ ولیّ جتنے بھی یہاں بیٹھے ہیں سب کے اندر وہ ولایّت کا نسخہ موجود ہے۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ رات کو سوتے ہو دوسرے شہر میں گھومتے ہو۔ تم نہیں ہوتے لیکن تمھارے اندر کی کوئی مخلوق ہوتی ہے۔ وہ ایک مخلوق ہے، نفس ہے شیطانی مخلوق ہے۔ وہ شیطانی محفلوں میں گھومتی رہتی ہے۔ أس میں طاقت ہے۔ کیونکہ بچہ شروع میں نماز روزہ تو کرتا نہیں ہے۔ أس کا نفس طاقت ور ہو جاتا ہے۔ اب جب تمھارے اندر وہ نور گیا۔ تمھاری روحیں بھی طاقتور ہونا شروع ہو گئیں۔ تو پھر خواب میں وہ روحیں بھی نکلنا شروع ہو گئی نا۔ تو پھر تم خواب میں دیکھا کہ حضور پاک کے گرد منڈلا رہے ہو، خانہ کبعہ کا طواف کا رہے ہو۔ بارہ سال لگتے ہیں أن کو بارہ سال میں مکمل جوان ہو جاتیں ہیں۔ اب سونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب تم نے سوچا کہ دیکھیں حضور پاک کیا کررہے ہیں، تم نے سوچا وہ اس سینے سے نکلیں اور حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں۔

أس وقت بلھے شاہ نے فرمایا ہے کہ لوکی پانج ویلے، عاشق ہر ویلے، لوکی مسیتی، عاشق قدماں

جو لوگ پانچ وقت رب کو یاد کرتے ہیں أن کی انتہا نماز مسجد ہے باجماعت ہو جائیں گے اور کیا کریں گے۔ اور جو اِس کے ساتھ ہر وقت اﷲ اﷲ کرتے ہیں۔ وہ رو حضور پاک کے قدموں میں پہنچ جاتے ہیں۔ قدموں میں پہنچ گئے نوازے تو گئے۔

اب تم نے سوچا دیکھیں اوپر کیا ہو رہا ہے، تم نے سوچا یہ چیزیں اوپر پرواز کر گئیں۔ فرشتے نے روکا نہیں روکی، کہنے لگے چلوجو کچھ بھی ہے بیعت المعمورسے آگے جل جائے گا۔ وہاں فرشتے بھی نہیں جا سکتے۔ اور یہ بیعت المعمورسے بھی آگے چلیں گئیں، وہاں پہنچ گئیں جہاں رب کی ذات ہے۔ ظاہری جسم سے حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے اور اِن مخلوقوں سے ولیّ وہاں پہنچتے ہیں۔

جب کوئی وہاں پہنچ جاتا ہے ۔پھر اﷲ تعالٰی أس کو کہتا ہے۔ میں تجھے دیکھ لوں تو مجھے دیکھ لے ۔ پھر ایک دوسرے کو بڑے پیار سے دیکھتے ہیں۔ پھر اللہ کا نقشہ أس کی آنکھوں میں آتا ہے۔أس کی آنکھوں سے أس کے دل میں جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ اب تو نیچے چلا جا اب جو تجھے دیکھ لے وہ مجھے دیکھ لے۔

اِسکو بولتے ہیں مُرشد کامل پھر اِس کے لئے پھر سلطان صاحب نے فرمایا ہے مرشد دا دیدار باھو مینوں لکھ کروڑاں حجاں ھو۔ پھر اگر ایسا مرشد مل جائے تو سلطان صاحب فرماتے ہیں پھر آپے لاسی سارا ھو۔ اب فرشتوں کو پتہ لگتا ہے کہ فلاں بندہ کے دل میں اﷲ کا نقشہ آگیا ہے۔ وہ ہزاروں سال سے عبادت کر رہے ہیں۔ وہ اﷲ کو نہیں دیکھ سکتے۔ تو پھر  وہ نیچے بندہ سو رہا ہوتا ہے اور قطار در قطار اُسکو دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔ قطار در قطار پھر اُسکو نہیں دیکھ رہے ہوتے۔ وہ أس کے اندر جو اللہ کا نقشہ آیا ہے۔ اُسکو دیکھ رہے ہیں۔ اب پھر کیا ہوتا ہے کچھ عرصے بعد وہ بندہ مر جاتا ہے۔

مرنا تو سب کو ہی ہے نا۔ مر جاتا ہے۔ اب جو أس کی باقی مخلوقیں تھیں ۔ وہ ولیّ بن کے دربار میں بیٹھ جاتیں ہیں۔

غوث پاک کی ایک وقت میں 9 آدمیوں نے دعوت پکائی 9 کے گھر جا کر کھانا کھایا نا۔ سنا ہو گا نا! غوث پاک کا جسم مُبارک مسجد میں مؤذن کے پاس اور وہ جسم کے اندر کی چیزیں اُدھر جا کر کھانا کھا رہیں تھیں۔ اگر کھانا کھایا ہو گا۔ اُٹھیں بھی ہو گیں، بیٹھی بھی ہو گیں، باتیں بھی کری ہوں گیں ۔ اور جس میں أٹھنے، بیٹھنے باتوں کی طاقت ہے۔ نماز میں بھی یہی کچھ ہے ۔ہو سکتا ہے اُنکی نماز خانہ کبعہ ميں ہوتی ہو۔

اور وہ جو کہتے ہیں کہ درویش کی نماز عرش مُعلٰی میں ہوتی ہے۔

ہمارے عُلماء بڑے پریشان ہوتے ہیں ميں تو دیوار سے اوپر نہیں چڑھ سکتا یہ عرش مُعلٰی میں کیسے پہنچ گیا۔ اؤ یہ جسم عرش مُعلٰی میں نہیں جاتا ہے۔ وہ جسم کے اندر کی چیزیں عرش مُعلٰی میں جاتیں ہیں نا۔ جب وہ وہاں جا کے نمازیں پڑھتیں ہیں۔ أس وقت تک سر نہیں أٹھاتیں ہیں۔ جب تک اللہ نہیں کہے لبيك يا عبدي۔ 

اب بہت سے لوگ ہیں۔ غوث پاک کی گیارھویں مناتے ہیں۔ عقیدت رکھتے ہیں۔ اپنت آپ کو غوث پاک کا مرید سمجھتے ہیں۔ بڑی غلط فہمی ہے۔ مرید کا تو بہت أونچا مقام ہے۔ محب ہو، معتقد ہو، مرید نہیں ہو سکتے۔ غوث پاک کا مرید کبھی بھی دوزخ میں نہیں جائے گا۔ آپ نے 70 مرتبہ اﷲ سے وعدہ لیا ہے، کہ میرا مُرید اِیمان کے بغیر نہیں جائے گا۔ فرماتے ہیں میرا مُرید کون ہو گا؟۔ میرا مُرید وہ ہو گا، جو ذاکر ہو گا ۔ پھر "بہشت الاسرار" میں لکھتے ہیں میں ذاکر اُس کو مانتا ہوں نا جسکا دل اﷲ اﷲ کرے ، ورنہ زبانی طورطوطا بھی اﷲ اﷲ کر سکتا ہے۔ کیا طوطا اﷲ اﷲ کرئے تو غوث پاک کا مُرید ہو جائے گا۔ جن لوگوں کوغوث پاک زمانے ميں ذکر قلبی عطاء ہوئے وہ غوث پاک کےاصلی مُرید، آپ کے زمانے کے بعد خواہ کسی طریقے سے بھی آپکو ذکر قلبی عطاء ہوجائے آپ غوث پاک کے داخلی مُرید ہو جاتے ہیں۔

أدھر اﷲ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ جس کا مرتے وقت زبان پر کلمہ ہو گا، بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائے گا۔

آدمی کہتا ہے کلمہ تو پڑھ لوں گا۔ لیکن ہزارؤں میں کسی ایک کو مرتے وقت کلمہ نصیب ہوتا ہے۔ کہ مر بھی رہا ہو اور کلمہ بھی پڑھ رہا ہو۔ لیکن جو غوث پاک کے مرید ہیں۔ وہ ذاکر قلبی ہیں وہ مر بھی رہے تھے أن کے دل اﷲ اﷲ کر بھی رہے تھے۔ حتیٰ کہ وہ مر بھی گئے اور مرنے کے بعد ڈیڑھ سکینڈ تک دل اﷲ اﷲ کرتے رہے۔ پہلے جان نکلتی ہے تو بعد میں دل کی ڈھڑکن بند ہوتی ہے۔

اﷲ تعالٰی کے ننانوئے نام ہیں ۔ 98 صفاتی ہیں۔ ایک ذاتی ہے۔ ایک لاکھ چوبیس،ہزار پیغمبر، نبی صفاتی اسماء والے مِل کر بھی اِسم ذات والے کو نہیں پہنچ سکے۔

ایک دن موسٰی علیہ السلام نے کہا کہ اے اﷲ دیدار دے۔ جواب آیا تاب نہیں ہے۔ کہنے لگے کسی میں تاب ہو گی۔ جواب آیا اِک میرا حبیب اور اُسکی اُمت تو موسٰی علیہ السلام کو جلال آ گیا کہ میں نبی ہو کے اُمتی کے برابر نہیں، جلوہ دے، دیکھی جائے گی۔ جلوہ پڑا موسٰی علیہ السلام بے ہوش ہو گئے۔ اب کیا وجہ ہے۔ کہ موسٰی علیہ السلام اِس دنیا میں کوہ طور میں بے ہوش ہوئے۔ اور حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سامنے جا کر مُسکرا رہیں ہیں۔ موسٰی علیہ السلام کے جسم میں "یا رحمانُ" کا صفاتی نور تھا۔ وہ ذات کی تاب نہ لا سکے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے جسم مُبارک میں اِسم ذات کا ذاتی نورتھا۔ ذات، ذات کے سامنے مُسکرائے۔

اور حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے طُفیل وہ اِسم اِس اُمت کو مِلا تب اِس کو فضیلت ہوئی۔ اور أمت اِس سے ڈرتی ہے یا محروم  ہے۔

ایک حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن اُمتوں کی پہچان نور سے ہو گی ۔ یہ"یا رحمانُ" سے چمک رہے ہیں موسٰی علیہ السلام کی اُمت،۔ یہ "یا قدوسُ" سے چمک رہیں ہیں عیسٰی علیہ السلام کی اُمت اور یہ جو اﷲ ھو سے چمک رہے ہیں یہی حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہے۔

ایک دن عیسٰی علیہ السلام کہہ بیٹھے اے اﷲ مجھے بھی ، بڑی طلب ہے ،تجھے دیکھوں۔ اللہ نے کہا تو نے موسٰی کا حال نہیں دیکھا؟ ڈر گئے تو پھر کیسے دیدار ہو گا ہو گا بھی نہیں؟ کہ دیدار تو میرے حبیب کو اور أس کی أمتی ہو گا۔

عیسٰی علیہ السلام نے کہا کہ اے اللہ میں نبوت کو چھوڑتا ہوں تو مجھے أمتی ہی بنا دینا۔ اؤ یہ أمت جس کی نبیوں نے خواہش کری۔ یہ وہ أمت ہے۔ اور اِس أمت کو فضیلت اِسم ذات سے ہے۔ پھر عیسٰی علیہ السلام آئیں گئے۔ مہدی علیہ السلام سے بیعت ہونگے، اُمتی بنیں گے، پھر أن کو اِسم ذات ملے گا۔ پھر اُنکو اللہ کا دیدارہو گا۔ اللہ کا دیدار أن کو پھر ہو گا۔

اب ایک ذرا غور کی بات ہے۔ سننے والی ہے۔ بہت سے لوگ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کوئی منافق ہو گیا کوئی خوارج ہو گیا ۔ خوارج کون تھا۔ وہ آج بھی ہے۔ وہ آج بھی ہے۔ خوارج کہتا تھا کہ میں ساری بات مانوں گا۔ تہجد پڑھوں گا تسبیحاں روزے ۔ جو کچھ کہیں گے کرؤں گا، لیکن سود کا کاروبار نہیں چھوڑوں گا۔ وہ آج تک سود کا کاروبار کرتا ہے۔ وہ خوارج ہے۔ خوارج کی کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ لیکن اپنے آپ کو وہ أمتی سمجھتا ہے۔ سمجھتا اپنے آپ کو أمتی ہے۔ دوسرے منافق، آپ کے زمانے میں منافق تھے۔ أنھوں نے مسجد ضرار بنا لی ۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے وہ گرائی۔ أس دن سے أن کو حضور پاک سے بغض ہے وہ لوگ آج بھی موجود ہیں ۔ وہ کہتے ہیں بس أن کی اتنی تعظیم کرؤ جتنے بڑئے بھائی کی ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں ہماری طرح انسان تھے نا۔ بس ایک ڈاکیے کی حثیت ہے۔ اللہ اور ہمارے درمیان ڈاک لاتے تھے۔ وہ لوگ آج بھی موجود ہیں۔ ہم نے دیکھے ہیں۔ نہ خوارج کی عبادت نہ منافق کی عبادت لیکن دونوں اپنے آپ کو أمتی سمجھتے ہیں۔ اب تم بھی تو اپنے آپ کو أمتی سمجھتے ہو نا۔ وہ تو خارج ہی ہو گئے لیکن حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا باقیوں کے لیے کہ جھوٹا میرا أمتی نہیں۔ اب بتاؤ تم جھوٹ سے بھی بڑے بڑے کارنامے کر جاتے ہو۔ اب تمھیں کوئی ثبوت نہیں ہے تم منافق ہو، خوارج ہو یا أمتی۔ کوئی ثبوت نہیں نا۔ جسطرح أن کے پاس کوئی ثبوت نہیں ۔

اب جو تمھارا ورثہ ہے وہ اللہ تعالیٰ نے اِس دنیا میں بھیج دیا ہے۔ أس کا تمھیں طریقہ بتائیں گے۔ اگر وہ تمھیں تمھارا ورثہ مل گیا۔ تمھارے اندر اللہ اللہ شروع ہو گیا۔ تو تم أمتی ہو۔ اگر کوشش کے باوجود تمھارے اندر اللہ اللہ نہیں جاتا پھر یا منافق ہو یا خوارج۔

باقی کوئی بھی آپ صفاتی ذکر کریں نا "یا رحمانُ" کا ذکر کریں أس کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ بھئی "یا رحمانُ" سے کریں گے أس کے رحم تک پہنچیں گے نا۔ وہ تو جانوروں پر بھی رحم کرتا ہے۔ تم پہ کیا تو کیا ۔ "یا رزاقُ" کا ذکر کریں گے تو أس کے رزق تک پہنچیں گے نا۔ باطنی رزق تک پہنچ جائیں گئے تو وہ تو کیڑوں کو پتھر میں بھی رزق دیتا ہے۔ تمھیں رزق دے دیا تو کیا۔

لیکن جب اللہ اللہ کرؤ گے۔ تو اللہ کی طرف جاؤ گے نا۔ اللہ اللہ کرنے سے اللہ کی طرف جانے کے لیے أس کی اجازت ضروری ہے۔ جن لوگوں نے بغیر اجازت کے اللہ کو پہنچنے کی کوشش کری۔ وہ تو بہت برے پھنس گئے۔ وہ ہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں اللہ ھو جلا دیتا ہے۔ یہ جنگلوں میں کرنے کا ہے۔

اجازت کیا ہے۔ آپ یہاں تحجد پڑھیں ۔ شیطان ایک کونے پہ کھڑا ہستا رہتا ہے اؤ کہتا ہے تھکتا رہ تیرا دل تو میرے ہاتھ میں ہے ۔ جو اللہ کا رستہ ہے وہ تو میرے ہاتھ میں ہے تو تھکتا رہ جب جی چاہوں گا موڑ دؤں گا اور تمھیں ایک دن شکایت ہو گی میں بڑا تحجد گزار تھا، مجھے کیا ہو گیا میں فرض نماز نہیں پڑھ سکتا۔ تو شیطان نے دل موڑ دیا نا۔ جب کوئی شخص اِس دل میں اﷲ اللہ بسانے کی کوشش کرتا ہے۔ شیطان سوچتا ہے اگر یہ اﷲ اِس کے دل میں چلا گیا۔ اِس کا دل منور ہو گیا تو یہ ساری عمر کے لیے میرے ہاتھوں سے گیا۔ کیونکہ اللہ اللہ کرنے سے کسی دل میں اللہ کا نام آ جاتا ہے۔ 

خواجہ بہاؤالدین نقشبندی لوگوں کے دلوں پر لفظ اللہ نقش کرتے۔ لوگوں کو نظر آتا تب آپ کو نقش بندی کہتے ہیں نا۔
 
قرآن مجید فرماتا ہے کچھ لوگ ایسے ہیں جنکے دلوں پر ایمان لکھ دیا۔ وہ اﷲ ایمان ہے۔ 

کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہر وقت اللہ اللہ کرتے ہیں ۔ أنکے دلوں پہ مدینہ شریف آجاتا ہے۔ پھر وہ کہیں بھی ہیں مدینے میں ہیں۔

کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہر وقت اللہ اللہ کرتے ہیں أنکے دل پہ خانہ کبعہ آجاتا ہے۔

جب رابعہ بصری کے دل پہ خانہ کعبہ آیا۔ اُس کبعے کو حکم ہوا کہ جا جا کے اُس کا طواف کر، اؤتیری بنیاد ابراہیم علیہ السلام نے رکھی ہے۔ گارے مٹی سے بنایا۔ اور اِسکو میں نے اپنے نور سے بنایا۔ یہاں کچھ لوگ کہتے ہیں نہیں وہ اصلی کعبہ نہیں ہو سکتا مثالی کعبہ ہو گا۔ کہتے ہیں نا۔ اگر وہ مثالی کعبہ تھا تو پھر تخت بلقیس بھی مثالی ہو گا۔ اگر تخت بلقیس اصلی تھا تو پھر یہ خانہ کعبہ بھی اصلی ہے۔

آدھی رات کو حضرت ابراہیم بن ادھم خانہ کعبہ میں پہنچے دیکھتے ہیں۔ لوگ سو رہے ہیں خانہ کعبہ ہی نہیں ہے۔ بڑے پریشان ہوئے قیامت آنے والی ہے شائد اللہ تعالی نے کبعہ کو اٹھا لیا آواز آئی پریشان مت ہو وہ ایک بوڑھیا کا طواف کرنے گیا ہے۔ اِدھر شمال کی طرف چلے جاؤ۔ جب شمال کی طرف جاتے ہیں تو رابعہ بصری بیٹھی ہوئی ہیں۔ تو کبعہ انکا طواف کر رہا ہے۔

ایک دن مجدد صاحب نے دیکھا کہ باطنی مخلوق جن، فرشتے اُنکو سجدہ کر رہئے ہیں۔ بڑے گھبرائے۔ کہیں استدراج تو نہیں ہو گیا۔ آواز آئی گبھراؤ نہیں یہ تمہیں سجدہ نہیں کر رہے وہ جو تمھارے اندر خانہ کعبہ بس گیا ہے۔ یہ أس کو سجدہ کر رہے ہیں۔ یہ اُس کو سجدہ کر رہے ہیں جو خانہ کعبہ بس گیا ہے۔
 

شیطان کو پتہ ہے۔ کہ حضرت انسان یہاں تک پہنچ سکتا ہے۔

اُس کے پاس ہندؤ فوج ہے جناّت کی۔ حکم دیتا ہے جاؤ اِسکو برباد کرؤ ، تباہ کرؤ، کچھ بھی کرؤ۔ یہ اﷲ ھو اِس کے دل میں نہ جائے۔ اب تمھارے پاس تو ایک جن بھی نہیں ہے جو اُسکا مقابلہ کرؤ۔ لیکن جہاں سے اِس کی اجازت ہوتی ہے۔ اﷲ تعالٰی اُنکو بھی ایک رحمانی فوج دیتا ہے۔ اؤ شیطانی فوج تم پہ ٹوٹ پڑی اور وہ رحمانی فوج شیطانوں پہ ٹوٹ پڑی۔ اور رحمانی فوج اُس وقت تک تمھارا ساتھ دے گی جب تک تمھارے اندر رحمان جاگ نہیں اُٹھتے۔ پھر جب تمھارے اندر وہ رحمان جاگ أٹھیں گے۔ پھر بندہ نہیں، بندہ نواز بن گئے، پھرغریب نہیں، غریب نواز بن گئے۔

یقین کرؤ تمھارے اندر سات سیّارے ہیں۔ نو أن کے خلیفے ہیں۔ أن کو جسے بولتے ہیں۔ اِن سیّاروں کو لطائف بولتے ہیں۔ سولہ مخلوقیں تمھارے اندر ہیں۔ سات جہاں ہیں۔ ہر جہاں سے ایک ایک مخلوق اللہ تعالیٰ نے تمھارے اندر ڈال دی۔ کہ پتہ نہیں اِس کو کس جہان کی سیر کا شوق ہو۔

اگر تو ملکوت کی سیر کرنا چاہتا ہے۔ تو اِس ۔قلب کو طاقت ور کر اللہ کے ذکر سے۔
اگر جبروت میں جانا چاہتا ہے تو روح کو طاقت ور کر۔ 

اگر تو وہاں جانا چاہتا ہے جہاں اللہ کی ذات ہے۔ لطیفہ انا کو طاقت ور کر۔

اؤ تب ہی علامہ اقبال نے فرمایا ہے کہ محبت مجھے أن جوانوں سے ہے ستاروں پے جو ڈالتے ہیں کمند۔

یہ ہاتھ ستاروں پہ نہیں جا سکتے۔ وہ مخلوقیں ستاروں کو جاتیں ہیں۔ 
جب ستاروں کو پہنچ جاتیں ہیں۔ تو علامہ اقبال نے پھر فرمایا ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔
کہ یہ أس سے آگے بھی جا سکتیں ہیں۔ اور آگے بھی جا سکتیں ہیں۔ 

یہ اِس کی اجازت ہے۔ اور اِس کا طریقہ بھی ہوتا ہے۔ اِس کا طریقہ کیا ہے؟ یہ أن ہی کے دل کو بھائے گا۔ جو اللہ اللہ کرنے والے۔ روزانہ کاغذ پہ کالی پنسل سے 66 مرتبہ اﷲ لکھیں۔ ساٹھ چھ چھیاسٹھ مرتبہ فجرکی نماز کے بعد اچھا وقت ہے ورنہ جب بھی آپکو وقت ملے۔ آپ تھوڑے دن لکھیں گے۔ آپ جو کاغذ پر لکھتے تھے، وہ آنکھوں پہ تیرنا شروع ہو جائے گا۔ اب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ مسمیرزم ہے۔ یہ مسمیرزم نہیں، مسمیرزم اِسی سے نکلا ہے۔ مسمیرزم والے کیا کرتے ہیں سورج کی روشنی یا شمع کی روشنی کو آنکھوں میں لاتے ہیں۔ اُس کی طاقت سے شیشے کے گلاس پہ نظر ڈالتے ہیں، وہ کریک ہو جاتا ہے۔ دل کے أوپر ایک لاکھ، اسّی ہزار جالیں ہیں۔ وہ روشنی سورج کی یا شمع کی روشنی اُن جالوں کو توڑ نہیں سکتی۔ جب یہ اﷲ آنکھوں میں آتا ہے۔ اﷲ کو آنکھوں سے دل میں لے کے جاتے ہیں۔ تو پھر وہ لفظ اللہ میں اتنی طاقت ہے۔ أن جالوں کو توڑتا تاڑاتا دل کے اوپر جا کے بیٹھ جاتا ہے۔ جب دل کے اوپر جا کے بیٹھ جاتا ہے اُس وقت دل کی ڈھرکن تیز ہو جاتی ہے ٹک ٹک۔ پھر اَس ٹک ٹک کے ساتھ پھر اﷲ ھو مِلائیں۔ جس دن تمھاری وہ ٹک ٹک اللہ اللہ میں شروع ہو گئی۔ أس دن طریقت میں پہلا قدم ہے۔

وہ کہتے ہیں نا کہ شریعت پھر طریقت ہوتی ہے۔جس دن تمھاری دل کی ڈھڑکنوں نے نے اللہ اللہ کرنا شروع کر دیا۔ وہ طریقت میں پہلا قدم ہے۔ شریعت کا تعلق اِس زبان سے ہے۔ اور طریقت کا تعلق اِس دل سے ہے۔ اور جب وہ اللہ اللہ کرتے کرتے اللہ تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر وہ حقیقت ہے۔ حقیقت کا تعلق اِن نظروں سے ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ جب أس کو نواز دیتا ہے مرتبہ۔ پھر وہ معرفت ہے نا۔ کہ معرفت أس کو بولتے ہیں۔

تو ہمارے اکابر کہتے ہیں کہ طریقیت حقیقت، معرفت، سب کچھ شریعیت میں ہے۔ 
نہیں شریعیت اور ہے، طریقیت اور ہے، حقیقت اور ہے، معرفت اور ہے۔

رات سونے لگیں انگلی کو قلم خیال کریں۔ دل کے اوپر تصّور سے اﷲ لکھتے لکھتے سو جائیں۔ اِسی میں نید آ جائے۔ آدھی رات کے وقت اِس دنیا میں کچھ فرشتے آتے ہیں۔ ہر آدمی کے پاس کراما کاتبین سے پوچھتے ہیں۔ بتاؤ اس کا آخری عمل کیا تھا؟ جب یہ سونے لگا تھا؟ صبح پتہ نہیں اِسکی جان ہے یا نہیں۔ بھئی یہ عشاء کی نماز پڑھ کے سویا تھا۔ دعا دیتے ہیں اﷲ تعالیٰ اِس کو خوش رکھے اور یہ؟ درود شریف پڑھ کے سویا تھا۔ اﷲ تعالیٰ اِس کو بھی خوش رکھے۔ اور یہ؟ آیتہ الکرسی پڑھ کے سویا تھا کہتے ہیں آیتہ الکرسی لاج رکھنا أس کی حفاظت کرنا۔ اور یہ؟ یہ اﷲ ھو پڑھتے پڑھتے أسی مستیّ میں سو گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں خاموش آہستہ بات کرؤ شاید اس کی یاد میں آنکھ لگ گئی ہو۔ صبح اُٹھیں وضو ہے یا نہیں پرواہ نہیں دل کا وضو پانی سے نہیں ہوتا۔ سارا دن پانی میں پڑیں رہیں پانی تو دل میں جائے گا نہیں، تو دل کا وضو کیسے ہو گا؟۔

جب وہ اﷲ کا نور اِس دل میں آتا ہے۔ وہ اِس کو دھوتا ہے۔ اُسکو بولتے ہیں۔ "وضو کرلے شوق شراباں دا"

ذکر خفی کرتے رہیں۔ جب تک دل کی ڈھڑکن سے نہيں مِلتا اُسکو ذکر خفی کہتے ہیں۔ ذکر خفی عبادت ہے، منزل نہیں ہے۔ جب وہ دل کی ڈھڑکنوں سے مل جاتے ہیں اﷲ اﷲ تو پھر وہ تمھاری منزل چل پڑی پھر وہ منزل۔ وہ جو کہتے ہیں کہ اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو۔ وہ یہ رسّی ہے۔ اللہ اللہ کرتے کرتے اللہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ نور کی رسّی ہے۔ 

ایک جگہ ہے قرآن مجید میں اللہ جس کو چاہے ہدایت دے۔ جس کو چاہے گمراہ کرے۔ کچھ لوگ سوچتے ہیں ہم جب چاہیں نماز پڑھ لیں جب چاہیں چھوڑ دیں اِس میں اللہ نے کیا کہا۔ جس کو اللہ چاہیے ہدایت دے۔ اؤ ہدایت کا تعلق نمازؤں سے نہیں ہے۔ بھئی اگر نمازؤں میں ہدایت ہو، تو سارے نمازی ایک نہ ہو۔ اؤ ہدایت کا تعلق داڑھیوں سے بھی نہیں ہے۔ ہدایت کا تعلق دلوں سے ہے۔

اگر اللہ تعالیٰ نے تم کو ہدایت دینا چاہی۔ تو تمھارے دل اللہ اللہ میں لگ جائیں گے۔ کیونکہ باقی کام تمھارے اختیار میں ہیں۔ دل کی اللہ اللہ یہ تمھارے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ جس کو اللہ چاہیے گا، أس کا دل اللہ اللہ کرے گا۔

اورجب دل اﷲ اﷲ میں لگ جا ئے گا۔ کوئی بھی چیز دل ميں بیٹھ جائے اُس سے محبت ہو جاتی ہے۔ دل میں اﷲ اﷲ آ گیا اللہ سے محبت ہو گئی۔ یہ محبت جو کہتے ہیں ہمیں اللہ، رسول سے محبت ہے۔ زبان سے کہتے ہیں وہ مکار ہیں۔

محبت کی نہیں جاتی، محبت ہو جاتی ہے۔ آپ نے نہیں زبان سے نہیں کہنا دل میں محبت ہو جائے گی نا۔

جب تمھارے دل میں اﷲ کی محبت ہو جائے گی۔ اﷲ تعالٰی کسی کا احسان اپنے أوپر لیتا نہیں ہے۔ اُسکے لیے ایک روپیہ خرچ کرؤ، دس روپے لُوٹا دیتا ہے ایک نیکی کرؤ دس نیکیوں کا ثواب دے دیتا ہے نا۔ تھوڑی سی محبت کرؤ، دس گنا زیادہ محبت کر لیتا ہے۔ اور جس سے اﷲ محبت کر لیتا ہے ایک دن اُس کو دیکھتا ہے، پھر سرسری نہیں دیکھتا بڑے پیار سے دیکھتا ہے۔

اور جس دن اﷲ نے أس کو پیار سے دیکھا وہ عشق کا مقام ہے۔ پھر میں تیرا اور تو میرا۔

پھر جتھے عشق پہنچاوے، أیتھے ایمان کو بھی خبر کوئی نہیں ہے۔ 


بعض لوگ ہیں دل کی دھڑکنیں ہیں ہاتھ رکھیں گے۔ أس کے ساتھ اللہ اللہ ملا لیں گے۔ بعض ہیں أن کے دل کی دھڑکنیں خاموش ہیں۔ یہ تو دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ملانا ہے۔ تو جنکی دھڑکنیں خاموش ہیں وہ کیا کریں۔

لال شہباز قلندر  کے پاس لوگ جاتے۔ وہ کہتے چلو ناچیں۔ وہ آج تک موجود ہے جس کو دھمال بولتے ہیں۔ وہ خوب أن کو نچاتے۔ جب وہ ناچتے دل کی ڈھرکنیں أبھرتیں کہتے اب اِن کے ساتھ اﷲاللہ ملاؤ۔

امیر کلاں بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں۔ بہاؤ الدین نقشبندی رحمتہ اﷲ بہت بڑے عالم تھے۔ تو وہ أن کی شہرت سن کے چلے گئے أن کے گاؤں میں پوچھا امیر کلاں کہاں ہیں گاؤں والوں سے۔ أنھوں نے کہا وہ ایک لفنگا سا آدمی ہے۔ کہ اب آیا أس کو دیکھتے چلوں۔ پتہ کیا کہاں ہیں کہ وہ کبڈی کھیل رہے ہیں۔ کہا کہ ولّی کام کیا کبڈی سے۔ اور وہ بیزار ہو کے واپس جانے لگے۔ اؤ زمین نے أن کو پکڑ لیا۔ بعد میں وہی بہاؤ الدین نقشبندی رحمتہ اﷲ أن کے ساتھ کبڈی کھیلے اتنے بڑے ولّی بنے۔ أس کبڈی میں کیا راز تھا۔ وہ خوب ڈوڑتے، خوب دوڑاتے۔ دل کی ڈھڑکنیں أبھرتیں۔ کہتے اب کبڈی کو چھوڑوں اب اِس کے ساتھ اﷲاللہ ملاؤ۔

اب چونکے کبڈی کھیلنا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اور دھمال بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اور ایک اور طریقہ ہے۔ جہاں یہ لوگ ضربیں لگاتے ہیں اﷲ ھو اﷲ ھو، گھنٹہ، آدھا گھنٹہ ضربیں لگائیں گے۔ وہی پوزیشن پیدا ہو جائے گی جو کبڈی میں ہوتی ہے۔ دل کی ڈھرکنیں أبھرئیں گئیں أن ڈھڑکنوں کے ساتھ اﷲ ھو ملاؤ۔ اب آپ خواہ سڑھیوں پہ چڑھیں، خواہ کبڈی کھیلیں، خواہ ضربیں لگائیں۔ مقصد ہے کہ دل کی دھڑکنوں کو أبھرنا۔ دل کی ڈھرکنیں أبھرئیں پھرأِن کے ساتھ اﷲ ھو ملائیں۔ یہ اِس کا طریقہ ہے۔

اگر اللہ ھو کہنے سے کچھ جلال پیدا ہو جائے۔ گرمی برداشت نہ ہوئے تو درود شریف پڑھیں۔ تو درود شریف اِسکو ٹھنڈا کر دے گا۔ اصحابہ اکرام فرماتے ہیں ہم پہ جب کوئی مصیبت آتی ہم درود شریف پڑھتے۔ اَس سے پہلے وہ کیا کرتے ہر وقت ذکر اللہ ہی کرتے۔ جب ذکر الہی کم ہو جاتا۔ یا خیال آتا  دنیا کو چھوڑوں تو پھر وہ دروشریف پڑھتے وہ أن کو نارمل کر دیتا یہ اسکا طریقہ اور یہ اِس کی اجازت ہے۔ یہ جو طریقہ میں نے بتایا اجازت کا یہ تو یہاں کی اجازت ہے۔ ایک اجازت اس کی اصلی جو اجازت ہے۔ وہ أوپر سے ہوتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے ہوتی ہے۔ وہ کیسے؟

جب کسی کو ذکر دیا جاتا ہے۔ ذکر قلب اُس کے حلیے کو فرشتے بیت المعمور میں لے جاتے ہیں۔ بیت المعمور کی مخلوق سے اللہ تعالیٰ خود کلام کرتا ہے۔ دکھتا نہیں ہے باتیں کرتا ہے پوچھتا ہے۔ اِسکو کون لے آیا؟ پھر جہاں سے وہ ذکر عطاء ہوا تھا میں لے آیا۔ اؤ اتنے گندے مندے کو کیوں لے آیا؟ اؤ میں اس کو صاف کر لوں گا۔ اچھا پھر کیوں لایا؟ کہ تیرا دوست بنانے کیلےَ۔ اب اگر اُس کی مرضی ہوئی تو کہے گا نہیں مجھے یہ دوست نہیں چاہیے۔ اب آپ ہزار کاملین کے پاس جائیں کچھ بھی نہیں۔ اؤ أس نے منظور ہی نہیں کیا۔ اگر اُس کی مرضی ہوئی تو کہے گا اچھا اِسکا ضامن کون ہے؟ دوست کو آزمایا جاتا ہے نا۔ میں نے اپنے پیارے حبیب کو بھی نہیں چھوڑا۔ تو جب میں اس کو آزماؤں گا تو یہ تو بھاگ جائے گا۔ اِسکی ضامنت کون دئے گا؟ پھر اُس وقت غوث پاک کام آتے ہیں۔ یہ میرے نام سے جیتا مرتا ہے۔ کہ میں اسے کب سے جانتا ہوں۔ غوث پاک اِس کی ضمانت د یتے ہیں اچھا اب گواہی کون دے گا؟ پھر جن دو درباروں پہ جاتا تھا۔ پھر وہ گواہی دیتے ہیں۔ کہ پکا سُنی ہے ہم اِسکو جانتے ہیں۔ اچھا پھرتصدیق کون کرے گا؟ پھر حضور پاک تصدیق کرتے ہیں۔ پھر حکم ہوتا ہے۔ اِس کا قلب جاری ہو جائے۔ پھر وہ کہتا تھا کہ میں رات کو سویا ہوا تھا میرے اندر سے اللہ اللہ کا شور شروع ہو گیا۔ یہ ذکر قلب ہے۔ جب وہاں سے ضمانت بھی ہو گئی، تصدیقیں بھی ہو گئیں تو پھر أس کو خطرہ کس چیز کا۔ پھر وہ "لاخوف علیھم ولاھم یحزنون

پھر جب وہ شخص قبر میں جائے گا۔ غوث پاک نے فرمایا کہ میرا مُرید ایمان کے بغیر نہیں جائے گا۔ قبر میں چلا جائے گا فرشتے آ جائیں گے حساب کتاب کے لیے۔ سب سے پہلے پوچھیں گے بتا تیرا رب کون ہے۔ خاموش رہنا۔ دوبارہ پھر پوچھیں گے۔ اؤ کیوں نہیں بتاتے بتا تیرا رب کون ہے؟ پھر بھی تم خاموش رہنا ۔ أن کو ستانا۔ اؤ تیسری دفعہ پھر پوچھیں گے، گونگا تو نہیں ہے ۔ کیوں نہیں بتاتا تیرا کون ہے ؟ اؤ کفن پیچھے ہٹانا اﷲ لکھا ہوا دیکھ لے۔ پھر کیا جرات ہے کہ تم سے اگلا سوال پوچھیں۔ وہ کہیں گے تو جان تیرا اللہ جانے السلام علیکم ہم تو جا رہیں ہیں۔ پھر کیا ہو گا پھر ایک اور فرشتہ آ جائے گا۔ أس کا نام امان ہے۔ اب أس نے روح کو لے کر جانا أوپر أن کے لکھے کے مطابق۔ اب أنھوں کچھ لکھا ہی کوئی نہیں۔ وہ کفن پر لکھ کر جاتے ہیں ریماکس فیل ہے یا پاس ہے ۔ وہاں کچھ لکھا ہی نہیں۔ وہ روح کو دیکھتے ہیں۔ لے جاتے ہیں أوپر۔ روح اللہ کے نور سے چمک رہی ہے۔ وہ سیدھے رضوان کے پاس لے جاتے ہیں اِسکو بہشت میں داخل کر۔ وہ کہتا ہے اِس کا حساب کتاب لا۔ وہ کہتا ہے یہ چمک دمک ہی اِسکا حساب کتاب ہے۔ اِس طریقے سے وہ بغیر حساب کتاب کے وہ جنت میں جائے گا۔

اب اِس کے لیے بہت سے لوگ ہونگے جو کہیں سے بیعت ہونگے ۔ ہمیں اِس سے مطلب نہیں ہے۔ بہت سے لوگ ہونگے جنکے مرشد کامل ہونگے۔ جو بہت سے لوگ ہونگے جنکے مرشد رسمی ہونگے۔ اب ہر آدمی اپنے مرشد کو کامل ہی سمجھتا ہے۔ تب أس سے بیعت ہوتا ہے نا۔ اگر تو أس کا مرشد کامل ہے۔ پھر تو خوش نصیبی ہے۔ کیا خبر کامل نہ ہو۔ پرکھیں نا أس کو جس طرح چور کو چور پہچانتا ہے۔ ولی کو ولی پہچانتا ہے۔ جب تمھارے دل میں اللہ کا نور آجائے گا۔ تو تم غازی بابا چلے جانا۔ یہاں بھی نور وہاں بھی نور۔ نور آپس میں ٹکرائے گا۔ رقت پیدا ہو جائے گی۔ سمجھ جاؤں گے کہ یہاں روحانی آدمی ہے۔ منگو پیر چلے جانا وہاں بھی اللہ یہاں بھی اللہ۔

ایک حدیث شریف میں ہے کہ ولیٰ کی پہچان جس کی محفل میں اللہ اللہ شروع ہو جائے۔

اللہ اللہ ٹکڑائیں گا سمجھ جاؤ گے کہ یہ بھی مرد کامل ہے۔ پھر تم اپنے مرشد کے پاس چلے جانا۔ جو بات غازی بابا کے ہوئی۔ مرشد کے پاس بھی جانے سے ہوتی ہے۔ پھر تو تمھارا مرشد کامل ہی ہے۔ 

 

 تو پھر آپے ہی لاسی سارا ھو!!! پھر أسی کا دیدار باھو مینوں لکھ کروڑاں حجاں ھو

اگر تو اُسکے پاس بار بار جانے سے، بار بار جانے سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ تو پھر وہ کامل نہیں ہے نا۔ پھر تو وہ ناقص ہے نا۔ پھر وہ بہت بڑا گناہگار ہے۔ یقین کرؤ وہ کافر سے بھی زیادہ گناہ گار ہے۔ کافر تو صرف اپنے لیے ہے نا۔ تمھارے اندر وہ چزیں تھیں جن کے ذریعے تم نے اللہ کو پہنچنا تھا۔ أس نے وہ برباد کر دیں۔ کافر نے تو یہ کام نہیں کیا نا۔ جن سے تمھارا رابطہ اللہ سے ہونا تھا۔ أن چیزوں کو أس نے ضائع کر دیا۔ وہ کافر سے بھی زیادہ مجرم ہو گیا۔

سلطان صاحب نے فرمایا کہ پھر چپ کر کے أس کو بوری میں بند کر دینا۔ اور جا کے دریا میں بہا دینا۔

کہ وہ سولہ مخلوقوں کا قاتل ہے۔ اگر ہزار أس کے مرید ہیں تو سولہ ہزار مریدؤں کا وہ قاتل ہے۔ اور وہ أن مخلوقوں کا قاتل ہے۔ جن کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری اِک مخلوق ہے۔ جس کو میرے سواء کوئی نہیں جانتا۔ یقین کرؤ وہ تمھارے اندر ہے۔ تم بھی نہیں جانتے تمھارے اندر کیا ہے۔ وہ مخلوق جب نوری ہو جاتی ہے۔ تو ننھے ننھے نوری ہاتھوں سے جب دُعا مانگتی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ أن کی دُعا قبول کرتا ہے۔

اگر کوئی نبی نہیں ہے نبوت کا دعویٰ کر بیٹھتا ہے۔ أس کو کہتے ہیں کافر۔ أس کے ماننے والے کو بھی کہتے ہیں کافر۔ اگر کوئی ولیٰ نہیں ہے اور ولایّت کا دعویٰ کر بیٹھتا ہے۔ أس کے نزدیک پہنچ گیا نا۔ أس کے ماننے والے کافر۔ اور اِس کو ماننے والے بے نصیب اور کم بخت۔ ضروری ہے کہ تم سب سے پہلے اپنے اندر کسّوٹی پیدا کرؤ۔ پھر دیکھؤ کہ تم کیا ہو، تمھارا مرشد کیا ہے۔ اور تمھارا اللہ تم پہ کتنا راضی۔

ہر آدمی کو یہ گمان ہے کہ اﷲ تعالیٰ میرے پر بڑا مہربان ہے۔ پوچھتے ہیں کہ بڑا ہی اللہ کا کرم ہے۔ کیوں؟ کار بنگلہ ہے کرم نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ یہی کہتے ہو نا اور دوسرے سے پوچھتے ہیں کیا حال ہے؟ کہ بڑا ہی کرم ہے۔ کیوں؟ غریب خاندان سے تھا اتنا بڑا آفسر بن گیا کرم نہیں تو اور کیا ہے اور تیسرے سے پوچھتے ہیں کیا حال ہے؟ کہ بڑا ہی کرم ہے۔ کیوں؟ اتنا بڈھا ہوں، اتنی صحت ہے کرم نہیں تو اور کیا ہے۔ اور ہم کہتے ہیں کہ اگر تم اِسکو کرم سمجھتے ہو تو یہ چیزیں کافروں کے پاس بھی ہیں۔ جو کافروں کو دیں وہ تم کو دیں تمھارے پہ کیا کرم کیا؟

اگر تم نے دیکھنا ہے کہ واقعی ہی تمھارے أوپر اﷲ کا کرم ہے۔ توأس کے ذکر میں لگ جاؤ دو، چار، پانچ چھ دن میں اندر اﷲاﷲ شروع ہو گئی أس کا کرم ہو گیا۔ "فذکرونی اذکرکم" تو میرا ذکر کر میں تیرا ذکر کروں گا۔ ذکر أسی کا کیا جاتا ہے جس سے دوستی ہو جائے ۔ اگر کوشش کے باوجود تمھارا دل اﷲاﷲ نہیں مانتا پھر تمھارے أوپر اﷲ کا کوئی کرم نہیں ہے۔ کرم ہوتا تو تم کو اپنے نام لیواؤں میں لیتا۔ پھر اگر کار بنگلہ دیا تو پھر کرم ہے کرم ہی کرم۔

اب اِس کے لیے کوئی بیعت نہیں ہے۔ کوئی نذرانہ نہیں ہے۔ یہ ایک فیض ہے۔
اگر تمھارے دلوں نے اِس کو تسلیم کر لیا۔ اللہ اللہ کرنا شروع کر دیا تو دُعا دے دینا۔


اگر تسلیم نہ کیا تو تم اپنے گھر ہم اپنے گھر۔ تمھارا کیا بگڑا۔ 


اتنی بات بتا دؤں جب لکھنے لگو دل کے أوپر اللہ لکھنے لگو۔ یہ خیال رکھو کہ میرا مرشد میری أنگلی کو پکڑے ہوئے ہے۔ بھئی اِس سے بڑا وقت تمھارے أوپر کون آئے گا۔ أس وقت مرشد کو پکارؤ کہ میرا مرشد میری انگلی کو پکڑ کر میرے دل پر اللہ لکھ رہا ہے۔ أس وقت تمھاری أنگلی کے سامنے جو بھی آ گیا وہ ہی تمھارا مرشد ہے۔

کیونکہ شخصیت کو پانا مقصد تو نہیں نا۔ مقصد تو اللہ کو پانا ہے نا۔ 

کسی سے بھی مل جائے۔ اگر دو آ جائیں أنگلی کے پاس تو پھر دونوں سے فیض دونوں مرشد۔ تمھیں آم سے مطلب ہے۔ اِن سے کیا مطلب ہے۔ اب اِس کے لیے جو لوگ ذکر لینا چاہیں ۔ ڈٹ کر لیں اور اپنی قسمت آزمائیں
 

اللہ ھو*****اللہ ھو*****اللہ ھو******

 

اگر آپ بھی ذکر کی لینا چاہتے ہیں تو امام مہدی ریاض احمد گوھرشاہی کی شبیہ مبارک کوپورے چاند پر دیکھتے ہوئے

تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔

© 1998-2010 All Faith Spiritual Movement Intl'
admin@theallfaith.com