SELECT YOUR LANGUAGE:    ENGLISH    or   INDONESIAN

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے

اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر)

مرکزی صفحہ  تعارف  حضرت عیسی  کرشمہ قدرت  الحجرالأسود  تعلیمات  دینِ الٰہی  پروگرام  تصانیف  ویڈیو  رابطہ    

 

الگوہر کانفرنس

 

23 June 1996 St. Georges Hall, Bradford

 

 

اعوذ بااللہ من الشیطن الرجیم      بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

 

عزیز ساتھیو اسلام علیکم !۔حضرت علی ؓ فرماتے ہیں تیرے اندر اک جہان بند ہے تجھے اسکی خبر نہیں سخی سلطان باھو ؒ فرماتے ہیں کہ تیرے اس دل میں چودہ (14)طبق سما سکتے ہیں با یزید بسطامی ؒ نے فرمایا کہ تیرے اندر اللہ بھی سما سکتا ہے (اللہ) اب چودہ (14 )۔کہ مجھے تین علم حاصل ہوئے اک عام لوگوں کیلئے ،اک میرے ولیوں کیلئے ،اک صرف میرے لئے یا پھر امام مہدی ؑ کیلئے (اللہ) جب توریت اتری تو موسیٰ ؑ اُس کے عالم ہوئے پوری توریت پڑھی اُسمیں لکھا تھا کہ اب تمہارا دین مکمل ہو گیا اب موسیٰ ؑ سوچنے لگے کہ اس کے آگے تو دین نہیں ہے اس کے آگے تو کوئی علم ہی نہیں ہے تو کیا مجھ سے بھی بڑھ کر کوئی ہو سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں اُس دریا کی طرف چلے جاؤ وہاں گئے تو خضر ؑملے جنہوں نے کشتی بھی توڑی اور بچے کو بھی مارا جب اُس کا راز بتایا تو موسیٰ ؑ کہنے لگے میں تواس علم سے بے خبر ہی ہوں اب خضر ؑسے کسی نے پوچھا کہ آپ سے بھی زیادہ کسی کے پاس علم ہے فرمانے لگے ایک دفعہ میں دریا میں جا رہا تھا تو دیکھا ایک آدمی سو رہا تھا میں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ کا ولی ہے میں نے اُس کو جگایا وہ اُٹھ کے بیٹھا کہنے لگا کیوں ،میں نے کہا میں تھکا ہوا ہوں اُٹھ میری خدمت کر ہاتھ ،پاؤں دبا وہ کہنے لگا جا اپنا کام کر میں نے سمجھا شاید اِسکو میرا پتہ نہیں چل سکا کہ میں خضر ؑ ہوں ۔میں نقیب اولیاءہوں میں نے اُسے کہا اگر تو میری خدمت نہیں کرے گا ابھی میں بستی والوں کو بولوں گا کہ یہ اللہ کا ولی ہے وہ تیرے پیچھے لگ جائیں گے۔اُس نے کہا ٹھیک ہے جب وہ میرے پیچھے لگ جائیں گے تو میں اُن کو بولوں گا کہ یہی خضر ؑ ہے وہ تیرے پیچھے لگ جائیں گے اب خضر ؑ کہتے ہیں کہ تجھے کیسے پتہ چل گیا کہ میرا نام خضر ؑ ہے اب وہ کہنے لگا کہ تم ہی بتاؤ کہ میرا نام کیا ہے خضر ؑ کہتے ہیں کہ میں نے سارا علم لڑایا لیکن اُس آدمی کا کوئی پتہ ہی نہیں چلا آخر اللہ کی طرف میں راغب ہوا کہ یہ آدمی میری سمجھ میں نہیں آرہا جبکہ میں نقیب اولیاءہوں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو اُن کا نقیب اولیاءہے جو مجھے چاہتے ہیں یہ آدمی اُن لوگوں میں سے ہے جن کو میں چاہتا ہوں (اللہ) بہتر ہے تو اس سے دُعا کرا فرماتے ہیں تین ،چار دن کے بعد پھر وہ آدمی مجھے ملا پھر میں نے اُس سے پوچھا کہ آیا تجھ سے بھی کوئی زیادہ علم جانتا ہے اس سے تو انتہا ہوگی ۔اُس نے کہا نہیں اک شخص اس اُمت میں آئے گا جہاں میرے علم کی انتہا ہے وہاں اُس کے علم کی ابتدا ہو گی (اللہ) وہ کہنے لگا کہ تمہارا علم سب مذاہب کو ایک نہیں کر سکتا اور اُس کا علم سب مذاہب کو ایک کر دیگا سب مذاہب کو ایک پلیٹ فارم پر لے آئے گا۔

 

 اب جب توریت اُتری تو اللہ تعالیٰ نے توریت اُتار دی عام لوگوں کیلئے اُس میں قوانین بنا دیئے تو پھر وہ زبور کیوں اُتاری ؟۔جب توریت میں فرقہ بازی شروع ہو گئی کئی فرقے بن گئے تو پھر زبور آئی ناں تو پھر جب زبور اُتاری تو انجیل کیوں آئی جب زبور کے ٹکڑے ہوئے ،فرقے بنے تو پھر انجیل بھیج دی پھر جب انجیل تھی تو قرآن کیوں آیا جب انجیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب جب قرآن میں فرقہ بازی شروع ہو گئی بہتر (72 ) فرقے بن گئے تو اب کوئی نبی بھی نہیں آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور علم بھیج دیا اللہ تعالیٰ نے ایک اپنا دین بھیجا وہ اُس نے اپنے خاص لوگوں کیلئے رکھا ہوا تھا تھوڑا تھوڑا دیتا تھا سب کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی خاص داتا صاحب ؒ بن گئے اب اللہ کا دین نہ توریت ہے ،نہ زبور ہے ،نہ انجیل ہے ،نہ قرآن ہے اللہ کادین عشق ہے اللہ نے سب سے پہلے اپنے محبوب سے عشق کیا ۔خود عاشق،خود معشوق،خود وہ عشق اُس کا دین ہو گیا اب وہ عشق کیا ہے اب اُس کیلئے ضروری نہیں ہے کہ کوئی کس مذہب سے ہے ،کوئی کس فرقے سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نہ مذہب ہے ،نہ فرقہ ہے اللہ تعالیٰ کا مذہب عشق ہے اب وہ جو عشق ہوتا کیسے ہے ہمیں ایک نیوی کا آدمی ملا وہ کہنے لگا کہ میں روزانہ کئی ہزار دفعہ اللہ کاغذ پہ لکھتا ہوں لکھ اور اُس کو سمندر میں ڈالتا ہوں لیکن مجھے اللہ ملا نہیں او پوچھا تو سمندر میں ڈالتا تھا ناں اللہ کو اندر لے کے آتا ناں وہ کہنے لگا کیا میں اسکو کھا جاتا کہ نہیں اک طریقہ ہے اللہ سے عشق کرنے کا اک طریقہ ہے اللہ کو اپنے دل میں بسانا پڑتا ہے اب آدمی سوچتا ہے کہ اللہ دل میں کیسے آئے گا ہر فرقے والا کوئی تسبیح کرتا ہے ہمارے مسلمان اللہ اللہ کرتے ہے وہ جو اللہ اللہ کرتے ہیں تسبیح سے کوئی بھی چیز آپس میں رگڑا کھا تی ہے پتھر پتھر سے رگڑا کھاتا ہے چنگاری اُٹھتی ہے لوہا لوہے سے رگڑکھاتا ہے چنگاری اُٹھتی ہے اللہ اللہ سے ٹکر کھاتا ہے تو نور بنتا ہے لیکن وہ نور انگلیوں میں ہے ناں اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو زبان سے اللہ اللہ کرتے ہیں قرآن پڑھتے ہیں نماز پڑھتے ہیں وہ بھی نور بنتا ہے وہ باہر ہے ناں اندر تو نہیں ہے ناں اسی طرح کی تمہارے اندر اللہ نے اک تسبیح بنائی ہوئی ہے وہ بھی کرتی ہے ٹِک،ٹِک،ٹِک وہ جو دل کی دھڑکن ہے جب اُس دل کی دھڑکن کیساتھ اللہ اللہ ملاتے ہیں پھر جو اندر رگڑا لگتا ہے دودھ،دودھ ہی ہے جب تک رگڑا نہیں لگے مکھن نہیں بنتا ۔ذکر ذکر ہی ہے کوئی منزل نہیں ہے جب تک اُس کا رگڑا نہیں لگے تو نور نہیں بنتا پھر جو نور بنتا ہے وہ اندر ہی اندر بنتا ہے وہ جو دل کی دھڑکن والا نور ہے وہ سیدھا خون میں چلا جاتا ہے ناں باہر نہیں جاتا خون میں جاتا ہے خون سے ہو کے وہ نسوں میں چلا جاتا ہے تو نسوں سے ہو کے تمہاری روحوں تک پہنچ جاتا ہے ناں جب وہ اللہ کا نور اِن روحوں میں پہنچتا ہے تو روحیں بیدار ہو جاتی ہیں ناں جب وہ بیدار ہو جاتی ہیں تو پھر وہ اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتی ہیں پھر تم سوتے رہوگے اللہ اللہ ہوتی رہے گی قبر میں چلے جاؤ گے وہاں بھی اللہ اللہ ہوتی رہے گی حتیٰ کہ یومِ محشر میں بھی جاکے اللہ اللہ ہوتی رہے گی ناں جب اسمیں ،دل میں اللہ اللہ شروع ہو جائے گی اللہ کا نور اس دل میں آجائے گا اللہ تعالیٰ نے انسان کو بڑی دور بھیجا ہے لیکن اُس سے رابطہ کرنے کے ذریعے اُس کا دل اُس کا ٹیلیفون بنا دیا کہ جب اسکو ضرورت پڑے گی مجھ سے بات چیت کر لے گا ٹیلیفون کو آن(On ) کر لے گا جتنے بھی یہاں موجود ہیں سب کے اندر وہ ٹیلیفون ہے جسطرح ظاہری میں موبائل ہیں اُس وقت تک وہ کام نہیں کرتا جب تک اُس میں بجلی نہ ہو اسی طرح یہ جو ٹیلیفون ہے اُس وقت تک کام نہیں کرتا جب تک اسمیں نور نہ ہو بجلی کی لہریں یہاں سے اُٹھتی ہیں امریکہ بات ہوتی ہے اگر کسی میں نور آجائے تو اُس کی لہریں یہاں سے اُٹھتی ہیں عرش معلی میں جاکے بات ہوتی ہے بجلی کی رفتار ایک منٹ میں ایک لاکھ بانوے ہزار (192000 ) میل ہے اور نور کی رفتار ایک منٹ میں چھ کروڑ (60000000 ) میل ہے اب جب تیرے اندر ٹیلیفون لگ گیا پھر تونے نماز پڑھی وہ نماز اِس ٹیلیفون کے ذریعے عرش معلی میں پہنچی ناں تونے تلاوت کری وہ تلاوت عرش معلی میں پہنچی ناں حتیٰ کہ تونے بات کری وہ بات بھی عرش معلی میں پہنچ گئی ناں اسکو بولتے ہیں کہ نماز مومن کا معراج ہے۔

 

 اِس وقت ہر آدمی اپنے آپکو مومن ہی سمجھتا ہے نہیں مومن کی سورة حجرات میں تشریح ہے اعراب نے کہا ہم ایمان لے آئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں اِنکو کہو صرف اسلام لائے مومن تب بنو گے جب نور تمہارے دل میں اُترے گا جب دل میں نور اُترے گا تب تم مومن بنو گے ناں اب قرآن مجید وہ بھی فرماتا ہے میں ہدایت ضرور ہوں لیکن میں ہدایت ہوں متقیوں کیلئے ھد ی اللمتقین میں اُن لوگوں کیلئے ہدایت ہوں جو پاک ہو چکے ہیں جن لوگوں کے اندر نور گیا وہ اندر سے پاک ہوئے پھر اُنہوں نے قرآن پڑھا تو قرآن اُنکے اندر گیا ناں جسطرح وہ مقناطیس ہے لوہے کو سوئیوں کو نسبت ہے پھینکو وہ کھینچ لیتا ہے نسبت ہے ناں اِسی طرح جب تمہارے اندر نور آئے گا ناں تو وہ ایک مقناطیس بن جائے گا ناں تم نماز پڑھو گے تو اُس کا نور بھی اندر ،اگر قرآن پڑھو گے تو اسکا بھی نور بھی اندر ہے ناں یہ تو مومن ہو گیا ناں اب یہ مومن کی معراج نماز بن گئی ناں کہ مومن کی آواز وہاں جاتی ہے ناں ٹیلیفون کے ذریعے وہاں بات جاتی ہے ناں خود تو نہیں جاتا ہے ناں اُس کے بعد جب وہ تمہارے اندر روحیں اللہ اللہ کرتی ہیں اللہ اللہ کے نور سے اُن میں پرورش ہونا شروع ہو جاتی ہے اللہ اللہ کے نور سے اُن میں طاقت آجاتی ہے یہ تمہارے اندر ست (7 ) روحیں ہیں نو (9 ) اُن کے خلیفے ہیں سولہ (16 ) مخلوقیں تمہارے ڈھانچے میں بند ہیں اک مخلوق ہے اُس کو نفس بولتے ہیں وہ شیطانی مخلوق ہے بلھے شاہ ؒ نے فرمایا اس نفس نے ، اس نفس پلیت نے پلیت کیتا ،اساں منڈھوں پلیت نہ سی ،باقی مخلوقیں علوی ہیں نہ نوری ہیں نہ ناری ہیں جب یہ نفس اس کے اندر آیا یہ جسم ناپاک ہو گیا ناں جب یہ جسم ناپاک ہو گیا تب پاک چیز اسکے اندر کیسے اُترے گی اب وہی نفس ہے اُس میں طاقت ہے شیطانی طاقت ہے تم رات کو سوتے ہو خواب میں وہ باہر نکل جاتا ہے اس دنیامیں گھوم کے،شیطانوں میں گھوم کے پھر واپس آجاتا ہے اِسی طرح تمہاری جو دوسری روحیں ہیں جب اُن میں نور کی طاقت آتی ہے تو وہ نور کے ذریعے اس جسم سے نکلتی ہیں ناں پھر جب اس جسم سے نکل ،نکلتی ہیں وہ شیطان،شیطانوں میں جاتا ہے تو نور نوریوں میں جاتا ہے جب یہ تمہاری مخلوق روح نکلے گی نوریوں میں جائے گی اُس وقت دیکھ لے گی ناں کہ سارے نبی اور ولی کس کے آگے جھکے ہوئے ہیں وہ بھی وہاں جاکے جھک جائے گی ناں(اللہ) خواہ وہ روح کسی کی بھی ہے ،کسی بھی مذہب والے کی ہے ،کسی بھی فرقے والے کی ہے وہ روشن ضمیر ہو جائے گی ناں پھر اُس روح کی نماز ،اُس بندے کی نماز وہ کہتے ہیں ناں کہ درویش کی نماز عرش معلی میں ہوتی ہے وہی مخلوق عرش معلی میں جاتی ہے ناں حضور پاک ؐ کے پیچھے جاکے نمازیں پڑھتی ہیں ناں اب نمازیں بھی ،ایک ہے شریعت محمدی حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم  کا جسم کا جو نام ہے ناں محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم آپکی روح کا جو نام ہے ناں وہ احمد ہے آپ کی اس مخلوق اخفیٰ کا جو نام ہے ناں حامد ہے آپ کی مخلوق جو سر میں ہے اُس کا نام انا ہے اُسی کا نام محمود ہے شریعت محمدی تمہارے لئے ہے شریعت احمدی روحوں کیلئے ہے اور اُس کا ثبوت ہے جب حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم شب معراج میں گئے تو بیعت المقدس میں معراج میں جانے سے پہلے بیعت المقدس میں جو آپ نے نماز پڑھائی تھی اُس میں سب نبیوں ،ولیوں کی ارواح شامل تھیں ناں آج اگر تمہاری بھی روح اُسی طرح طاقت پکڑ لے تو تمہاری بھی روح اُن ولیوں نبیوں کی روح میں شامل ہو جائے گی ناں (اللہ) جب شامل ہو جائے گی تو جو اُنکی نماز ہے وہ بھی شریعت ہے وہ بھی جماعت سے نماز پڑھتے ہیں لیکن وہ اُس وقت تک سر نہیں اُٹھاتے ہیں جب تک اللہ جواب نہ دے وہ کبھی تو جلدی جواب دے دیتا ہے اور کبھی ساری رات ترساتا رہتا ہے اور جواب کیا دیتا ہے لبیک یا عبدی تب اپنا سر اُٹھاتے ہیں ناں ۔

 

اب رہا سوال کوئی بھی کسی مذہب سے نہیں ہے یہ نسخہ اُس کیلئے بھی ہے وہ اپنا للہ اللہ کرے ہر مذہب والا اللہ کو تو مانتا ہے ناں اگر کوئی بُت کو پوجتا ہے تو وہ اللہ کو حاصل کرنے کیلئے پوجتا ہے ناں صرف یہ ہے کہ کوئی گاڈ(God ) کہتا ہے ،کوئی رام کہتا ہے ،کوئی رحمان کہتا ہے ،کوئی اللہ کہتا ہے ،کوئی رب کہتا ہے ،کوئی پرماتما کہتا ہے اُس کا جو سریانی میں نام ہے سریانی میں جو اُس کا اپنا اصلی نام ہے ،کیونکہ جو اللہ کی زبان ہے وہ اُردویا فارسی یا عربی نہیں ہے اللہ کی زبان سریانی ہے سریانی میں اُسکو اللہ کہتے ہیں اور اُس کا ثبوت دیا اللہ تعالیٰ نے سُنا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے آسمان کے اوپر سنہری لفظوں سے اللہ لکھا گیا بہت سے لوگوں نے دیکھا ہے اُسکو اس کا مقصد ہے کہ اللہ سب کو دکھانا چاہتا ہے کہ میرا نام اللہ ہی ہے اور اس طریقے سے لکھا جاتا ہے اب فرض کیا آپ کا کوئی مذہب نہیں ہے ٹھیک ہے جس نے مذہب بنائے ہیں آپ اُس سے رابطہ کریں اللہ اللہ کریں ،اللہ اللہ کریں اللہ اللہ سے ۔کوئی بھی چیز دل میں آجاتی ہے اُس سے محبت ہو جاتی ہے جب یہ اللہ دل میں آگیا ناں تو اللہ سے محبت ہو گئی ناں جب اللہ سے محبت ہو گئی تو وہ کسی کا احسان لیتا نہیں ہے اُس کیلئے ایک روپیہ خرچ کرو دس روپے لٹاتا ہے ایک نیکی کرو دس نیکیوں کا ثواب دیتا ہے تھوڑی سی محبت کرو دس گناہ زیادہ محبت کرتا ہے ناں اور جن لوگوں سے اللہ محبت کرتا ہے پھر ایک دن اُن کو دیکھتا ہے وہ سرسری نہیں دیکھتا ،بڑے پیار سے دیکھتا ہے اور جس دن اللہ نے تمہیں پیار سے دیکھا وہ محبت بھی کٹ گئی پھر وہ عشق ہے ناں پھر میں تیرا اور تو میرا اُس وقت علامہ اقبال ؒ نے فرمایا گر ہو عشق تو کفر بھی ہے مسلمانی اگر تیرے اندر اللہ کا عشق آجائے اگر تو کافر ہے تب بھی مسلمانی ہے ناں آگے کہتے ہیں اگر ہو نہ یہ تو مسلم بھی ہے کافروزندیق کہتے ہیں اگر مسلمان ہے اُس میں اللہ کاعشق نہیں ہے تو پھر ایک دوسرے کو کافرو زندیق کہہ ہی رہے خود اپنی زبانوں سے کہہ رہے ہو ناں پھر جب اللہ اللہ سے تیرے دل میں اللہ کا عشق آئے گا ناں میگنٹ ،مغرب میں میگنٹ پہاڑ ہیں ایک قطب نما ہے اُس کا رخ جدھر بھی کرو ناں اُلٹاؤ،پلٹاؤ پھر بھی اُس کا رُخ اُن پہاڑوں کی طرف ہو گا ناں نسبت ہے ناں جب تیرے اندر اللہ کا نور آگیا ناں تو پھر تُو جس مذہب سے ہے یا جس فرقے سے ہے ناں تیرا رخ تو اللہ کی طرف ہی ہو گا ناں تو جب تیرا رخ اللہ کی طرف ہو گیا تو پھر جدھر اللہ اُدھر تو اور یقین کر اگر تو کسی مذہب میں نہ بھی ہو ا ناں صرف اُس کے عاشقوں میں چلا گیا ناں تب بھی تو اُن مذہب والوں سے بہتر ہے جن میں اللہ کا عشق نہیں ہے یہ دل ہے یہ ٹیلیفون ہے اللہ اور بندے کیلئے اب چونکہ اسمیں پاور  نہیں ہے تو اسمیں شیطان آکے بیٹھ گیا اس دل میں دو ہی چیزیں آسکتی ہیں یا شیطان یا اللہ اگر اللہ نہیں ہے تو پھر شیطان آگیا ناں اور اُس کا ثبوت ہے بھلے تم قاضی،نمازی ہو جاؤ وہ شیطان تو تمہارے دل میں بیٹھا ہوا ہے ناں او تم کہتے ہو میں نمازی ہوں ،قرآن پڑھتا ہوں شیطان کا میرے ساتھ کیا تعلق ہے اور اس کا ہم ثبوت دیتے ہیں جب تم نماز پڑھتے ہو تو تم کو وسوسے دل میں کیوں آتے ہیں تم تو نہیں چاہتے کہ تمہارے دل میں وسوسے آئیں لیکن وسوسے کیوں آتے ہیں وہ اندر شیطان ہے تب آتے ہیں ناں جب تمہارے دل میں اللہ اللہ شروع ہو جائے گی پھر بھی وسوسے آئیں گے لیکن وہ جو اللہ اللہ ہے ناں اس وسوسوں کو دور کر دے گی ناں ایک دن حضرت ابو بکر صدیقؓ نے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ جب میں نماز پڑھتا ہوں تو مجھے نماز میں وسوسے آتے ہیں آپ نے فرمایا تمہیں دو طرح کا ثواب مل رہا ہے ایک نماز پڑھنے کا اور اک جہاد کرنے کا اُن کا دل اللہ اللہ کررہا تھا کہ جب وسوسے آتے ہیں نماز میں تو وہ جو دل اللہ اللہ کررہا ہے اُن کو باہر پھینک دیتا ہے ناں پھر وسوسے آتے ہیں وہ اللہ اللہ اُنکو باہر پھینک دیتا ہے تو یہ تیرا شیطان سے جہاد جاری ہے اگر وہ وسوسے دل پہ آکر بیٹھ جائیں اسکا مطلب ہے جہاد تو نہیں ہے ناں شکست ہے ناں تیرا دل بھی جو ہے ناں وہ شیطان کیساتھ ملا ہوا ہے ناں جب تمہیں وسوسے آرہے ہیں ناں اِس وقت ضروری ہے ،مسلمان لگے ہوئے ہیں جتنا اُنکی توفیق ہے نماز پڑھتے ہیں تلاوت قرآن ،جو کچھ بھی ہو رہا کر رہے ہیں لیکن منزل کیوں نہیں مل رہی تمہارے اندر جو ست (7 ) روحیں ہیں تمہارے اندر ست (7 ) مخلوقیں ہیں، ست (7 )جہان ہیں ہر جہان سے اللہ تعالیٰ نے اک ،اک مخلوق پکڑی اور اس ڈھانچے میں ڈال دی کیا خبر اسکو ناسوت میں گھومنے کا خیال ہو وہ نفس کے ذریعے گھوم لے گا کیا خبر اِسکو ملکوت میں بہشت میں گھومنے کا خیال ہو لطیفہ قلب کو طاقتور کر ے گا تو وہاں گھوم کے آجائے گا کیا خبر اسمیں جبروت کو جانے کا خیال ہو لطیفہ روح کو طاقت پہنچائے گا نور سے تو وہاں گھوم کے آجائے گا کیا خبر اسکو اللہ کے پاس جانے کا خیال ہو تو وہ جو مخلوق ہے لطیفہ اَنا جسکو مقامِ محمود بولتے ہیں وہ اسکو طاقتور کر لے گا تو اللہ تک پہنچ جائے گا جب یہ روحیں طاقتور پکڑتی ہیں اِن کا ذکر یاھُو ہے یاھُو کی گرمی سے اُسکے نور سے یہ طاقت پکڑتی ہیں پھر آدمی سوچتا ہے دیکھیں اوپر کیا ہو رہا ہے وہ سوچتا ہے یہ اُسکے سوچ کی محتاج ہیں وہ اوپر پرواز کر جاتی ہیں جب پرواز کرتی ہیں تو فرشتے روکنے کی کوشش کرتے ہیں نہیں رُکتیں وہاں پہنچ جاتی ہیں جہاں اللہ کی ذات ہے ظاہری جسم سے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے اور اِن مخلوقوں سے ولی وہاں پہنچتے ہیں اور جب کوئی وہاں پہنچ جاتا ہے پھر ایک دوسرے کو پیار سے دیکھتے ہیں بڑے دور سے بڑی محنت کرکے وہاں پہنچا ناں تو ایک دوسرے کو پیار سے دیکھتے ہیں ناں پھر اللہ اُسکو فرماتا ہے میں تجھے دیکھ لوں تو مجھے دیکھ لے پھر اللہ کا نقشہ اُسکی آنکھوں کے ذریعے وہ جو اوپر سیارہ مخلوق ہے اُس کے ذریعے اُس کے دل میں آجاتا ہے کیونکہ وہ تو زمین میں ہے ناں اُس کی مخلوق اوپر ہے ناں اُس مخلوق کے ذریعے اللہ کا نقشہ اُس کے دل میں آجاتا ہے جب دل میں آجاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اب تو نیچے چلا جا اب جو تجھے دیکھ لے وہ مجھے دیکھ لے وہ جو کہتے ہیں ناں اللہ تعالیٰ کس طرح لوگوں کے دلوں میں آتا ہے وہ اِسطرح دلوں میں آتا ہے ناں اسکو بولتے ہیں ناں حبل الورید وہ شہ رگ سے بھی نزدیک آگیا ناں اور اسی کو بولتے ہیں کامل مرشد جس کے دل میں اللہ آجاتا ہے ناں اُسی کو بولتے ہیں کامل مرشد اُسی کیلئے سخی سلطان باھو ؒ نے فرمایا ہے مرشد دا دیدار اے باھو ۔مینوں لکھ کروڑاں حجاں ھُو میں کعبے میں گیا کئی دفعہ گیا ،لکھ کروڑ دفعہ گیا لیکن وہاں تو مجھے اللہ نہیں ناں ملا وہاں اللہ نہیں ملا بیٹھا ہوا وہ تو یہاں اس کے دل میں بیٹھا ہوا ہے ناں ہاں اِس کے دیدار سے مجھے لکھ،کروڑوں حجوں کا ثواب مل گیا ناں۔

 

 اب یہ ہے بہت سے لوگ ہیں کیونکہ یہ علم ولیوں سے ملتا ہے تو بہت سے لوگ ہیں جو ولی نہیں ہیں تو ولی بنے بیٹھے ہیں ولی نہیں ہیں لیکن ولی بنے بیٹھے ہیں اور بیعت کررہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ سلطان صاحب ؒ نے فرمایا اگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیعت ہو یا بیعت کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیعت کا حق صرف ولی کو ہے اور ولی وہ ہے ولی اللہ ،ولی اللہ کا مطلب ہے اللہ کا دوست اور دوست ایک دوسرے کو دیکھا ہوا ہو اور بات چیت ہو تو وہ اللہ کا دوست ہوتا ہے ناں وہ ولی اللہ ہوتا ہے ناں جسطرح اگر کوئی نبی نہیں ہے اور نبی کا دعویٰ کرتا ہے اُس کو کافر کہتے ہو ناں اُس کے ماننے والوں کو بھی کافر کہتے ہو ۔تو اگر کوئی ولی نہیں ہے تو ولی بن جاتا ہے اپنے آپکو ولی کہلاتا ہے وہ کفر کے نزدیک پہنچ جاتا ہے ناں تو اُس کے ماننے والے پھر کم بخت اور بے نصیب ہی رہتے ہیں ،کم بخت اور بے نصیب ہی رہتے ہیں ناں اب ہم نے جو مرشد کو پکڑا ہے ایک رہبر کو پکڑا ہے اگر تو اُس میں اللہ ہے تو پھر سلطان صاحب ؒ نے فرمایا آپے لاسی ساراں ھُو تو جیسے بھی ہے گنہگار ہے جیسے بھی ہے ناں اب وہ تیرا ذمہ دار ہے ناں ہاں اُس کیلئے حدیث شریف میں ہے کہ یوم محشر میں لوگ دیکھیں گے کہ یہ کون چمک رہے ہیں کہ فلاں نبی ہے ،فلاں نبی ہے ،فلاں نبی چمک رہا ہے اور یہ کون سا نبی ہے کہ نبی نہیں ہے یہ تو ولی تھا لوگ کہیں گے ولی تو ہر زمانے میں ہوتے ہیں ہو سکتا ہے ہمارے زمانے میں بھی ہو او جاکے پہچان لیں گے ایک کہے گا اے اللہ میں نے اِسکو وضو کرایا او چلو بخش دو او دوسرا کہے گا ا ے اللہ میں نے اِسکو کپڑا پہنایا تھا چلو بخش دو اور تیسرا کہے گا اے اللہ میں تھا ہی اسی کا تو پھر کہیں گے جدھر یہ جاتا ہے تو بھی جا تو اگر تیرا پیر نکما ہے ولی اللہ نہیں ہے تو پھر تیری زندگی خراب ہی ہو رہی ہے ناں اب ضروری ہے کہ اپنے پیر کی پہچان ہو ضروری ہے اب تمہیں جہاں سے اپنے پیرو مرشد سے بیعت ہوتے ہو تمہیں کیا خبر اُس کا تعلق اللہ سے ہے کہ نہیں تم تو اندھے ہو ضروری ہے کہ پہلے تم جوہری بنو چور کو چور پہچانتا ہے ولی کو ولی پہچانتا ہے ایک چور لاہور کا اُدھر بٹھا دو پشاور کا اِدھر بٹھا دو اُن کی آپس میں نظریں ٹکرائیں گی ناں سمجھ جائیں گے میرا پیٹی بھائی ہے اک ولی اِدھر بٹھا دو اک اُدھر بٹھا دو اُنکے دل ٹکرائیں گے ناں جب تمہارے دل میں اللہ اللہ شروع ہو جائے گی تو حدیث شریف میں ہے کہ و لی کی پہچان جس کی محفل میں اللہ اللہ شروع ہو جائے اب تیرے دل میں اللہ اللہ شروع ہو گئی ہے ناں اُسی وقت تو کسی دربار پہ چلا جانا داتا صاحب ؒ چلا جانا وہاں بھی اللہ ہے اور یہاں بھی اللہ ہے ناں تیرے اندر بھی اللہ ہے ناں وہ اللہ اللہ آپس میں ٹکرائے گا ناں جب ٹکرائے گا تو رقت پیدا ہو جائے گی ناں تیری اللہ اللہ تیز ہو جائے گی ناں پھر دوسرے دربار پہ چلے جانا وہاں بھی اللہ ہے یہاں بھی اللہ ہے اور رقت پیدا ہو گی ٹکرائیں گے ذکر آپس میں تیز ہو جائیں گے سمجھ جانا یہ بھی کوئی ولی اللہ ہے پھر اپنے مرشد کے پاس چلے جانا اگر اُس کے پاس جانے سے وہ بات ہوتی ہے جوداتا صاحب ؒیا خواجہ صاحب ؒ کے پاس جانے سے ہوئی تھی تو پھر واقعی کامل ہی ہے (اللہ) تو پھر تو جیسا ہے آپی لاسی ساراں ھُو پھر تیری جان بھی جاتی ہے جانے دے اُس کو نہیں چھوڑنا کیونکہ جان کو تو ویسے بھی جانا ہے ناں اگر اُس کے پاس بار بار جانے سے ، بار بار جانے سے کچھ بھی نہیں ہوتا گھڑی گھڑی جاتا ہے کچھ بھی نہیں ہوتا اس کا مطلب ہے وہ کچھ بھی نہیں ہے ناں تیری زندگی برباد کررہا ہے ناں اُس کیلئے سلطان صاحب ؒ نے فرمایا پھر ایسا کرنا اُس کو بوری میں بند کردینا خوب ٹانکے لگانا ،خوب مضبوطی سے اور اُس کو دریا میں پھینک آنا تاکہ وہ گھٹ گھٹ کر ہی مر جائے کیونکہ وہ تیرے اندر سولہ (16 ) مخلوقیں ہیں سولہ (16 ) مخلوقوں کا قاتل ہے اللہ کو یہ جسم نہیں جاتا وہ اندر کی مخلوقیں جاتی ہیں ناں اُس کو تو اُن مخلوقوں کو طاقت پہنچانا آئی نہیں ناں وہ اندر ہی ختم ہو گئی ناں اگر اُس کے ہزار(1000 ) مرید ہیں تو سولہ ہزار(16000 ) مریدوں کا وہ قاتل ہے اب رہا سوال کہ وہ اللہ اندر آتا کیسے ہے اس کیلئے طریقہ ہے روزانہ چھیاسٹھ(66 ) مرتبہ کاغذ کے اوپر اللہ لکھتے ہیں صرف لفظ اللہ ،ؒخواہ کوئی مسلم ہے یا غیر مسلم ہے کاغذ کے اوپر اللہ لکھتے ہیں اگر فرصت ہے تو دن میں کئی بار لکھتے ہیں لیکن جب بھی لکھو چھیا سٹھ(66 ) مرتبہ تھوڑے دن لکھیں گے آپ جو کاغذ پہ لکھتے تھے ایک دن وہ تمہاری آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے گا جب آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے پھر لکھنا بند کر دیں آنکھوں سے تصور سے دل کے اوپر اتارنے کی کوشش کریں اگر وہ کاغذ سے آنکھوں میں آسکتا ہے آنکھوں سے پھر دل پہ بھی جا سکتا ہے ناں ایک دن آئے گا تو جو کاغذ پہ لکھتا تھا وہ تیرے دل پہ لکھا نظر آئے گا جب دل پہ لکھا نظر آئے گا ،یہ پولیس کی مہر ،پولیس والا ،اللہ لکھا گیا اللہ والا اُس وقت تیرے دل کی دھڑکن تیز ہو جائے گی ٹِک،ٹِک،ٹِک،ٹِک اب اُس ٹِک،ٹِک کیساتھ اللہ ھو ملا ایک کیساتھ اللہ اک کے ساتھ ھو وہ ایسا لکھا جائے گا کالا سا جیسے تو لکھتا تھا پنسل سے ۔پھر جب وہ اللہ اللہ شروع ہو جائے گی وہ نور بننا شروع ہو جائے گا تو پھر وہ سفید ہونا شروع ہو جائے گا ناں اللہ تو پھر اک دن وہ اللہ سورج کی طرح چمک رہا ہو گا (اللہ) پھر جب سورج کی طرح چمک اُٹھے اُس وقت تو بے خوف ہو جا قبر میں چلا جا بڑی شان و شوکت سے جا منکر نکیر آئیں گے سب سے پہلے پوچھیں گے بتا تیرا رب کون ہے بس خاموش رہنا کفن ہٹانا او وہ سامنے اللہ چمک رہا ہے اُن کو جرات نہیں کہ تم سے دوسرا سوال پوچھیں اے بندہ خدا آرام سے سو جا تو جان اور تیرا رب جانے ہمیں تو شرم آتی ہے ہم تم سے کیا پوچھیں ۔

 

رات کو سونے لگیں اِس (شہادت) انگلی کو قلم خیال کریں دل کے اوپر تصور سے اللہ لکھتے لکھتے سو جائیں اسی میں نیند آجائے اب یہاں سوال ہے جس طرح امریکہ کا ویزہ لگاتے ہیں تو پوری سفارش ڈھو نڈتے ہیں ناں وہ سفارش ڈھونڈتے ہیں جن کا ایمبیسی سے تعلق ہے ناں اب تم اللہ کیلئے ویزہ لگا رہے ہو ناں اب تمہیں وہ سفارش چاہیے جس کا اللہ سے تعلق ہے ناں اُس وقت تم اپنی انگلی کو دیکھو اب تمہاری انگلی میں طاقت نہیں ہے کہ تمہارے دل پہ اللہ لکھے اب جو تمہارا پیرو مرشد ہے اُسکی روحانی نور کی طاقت ہے وہ تمہاری انگلی کو پکڑ کے تمہارے دل پہ اللہ لکھے گا اُس وقت اگر تمہارا مرشد ہے تو سب سے پہلے اُس کو پکارو اگر وہ کامل ہے تو ضرور مدد کو پہنچے گا ہم نے اُس کو پکڑا ہی اسی کام کیلئے تھا جو آج کررہے ہیں ہم ۔اگر مرشد کامل نہیں ہے نہیں آتا ہے تو پھر جس دربار سے تمہیں محبت ہے دربار والے کا نقشہ لو کہ وہ دربار والا میری انگلی کو پکڑ کے میرے دل پہ اللہ لکھ رہا ہے اگر کسی دربارسے بھی نہیں ہے تو آقا کے دربار کو ہی لے لو کہ مجھے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم  سے یہ فیض حاصل ہو رہا ہے اگر وہاں سے نہیں ہے تو پھر بھی گنجائش ہے کہ خانہ کعبہ کا تصور کرو کہ خانہ کعبہ سے میری انگلی پکڑی جارہی ہے اور میرے دل پہ اللہ لکھا جا رہا ہے اُس وقت تمہارے سامنے جو بھی آجائے وہی تمہارا مرشد ہے ناں خواہ دربار والے آجائیں ،خواہ خانہ کعبہ آجائے ،خواہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم  کا روضہ آجائے خواہ تمہارا مرشد آجائے یا جہاں سے ذکر تمہیں عطا ہوا وہ آجائے تو پھر وہی تمہارا مرشد بن جائے گا ناں شخصیت کو پانا مقصد تو نہیں ہے ناں مقصد تو اللہ کو پانا ہے کہیں سے بھی حاصل ہو جائے صبح اُٹھیں وضو ہے یا نہیں ہے پرواہ نہیں ہے دل کا وضو پانی سے نہیں ہوتا ذکر خفی کرتے رہیں ذکر خفی کوئی منزل نہیں ہے صرف ذکر ہے ،عبادت ہے جب تک دل کی دھڑکنوں سے نہیں ملتا اُس کو ذکر خفی کہتے ہیں اور جس دن تمہاری دھڑکنیں اللہ اللہ پکار اُٹھیں اُس کو ذکر قلبی کہتے ہیں آج تمہاری گاڑی اللہ کی طرف چل پڑی ناں اب اُس کو پٹرول کی ضرورت ہے پھر یہ نماز روزہ اُس کے پٹرول ہیں پھر نمازیں پڑھتا جا ،پٹرول ڈالتا جا اور اُسکی طرف پہنچتا جا یہاں تھوڑی سی بات آجاتی ہے اسکو طریقت بولتے ہیں پھر اللہ اللہ کرتے کرتے جب اللہ تک پہنچ جاتا ہے تو اُس کو حقیقت بولتے ہیں ناں حقیقت کا تعلق اِن نظروں سے ہے اب کیونکہ علماءہر وقت ہوتے ہیں ولی کبھی کبھی آتے ہیں ولیوں کی تعلیم طریقت ،حقیقت ہے ناں علماءکی تعلیم طریقت ،حقیقت تو نہیں ہے ناں تو پھر وہ کہتے ہیں کہ سب کچھ جو ہے ناں وہ شریعت میں ہے طریقت بھی ،حقیقت بھی، معرفت بھی جب انہوں نے کہا کہ سب کچھ شریعت میں ہے تو آدمی شریعت میں لگ گیا ناں ،نماز ،روزے میں لگ گیا ناں تو ساری عمر نمازی ہی رہا ناں کچھ منزل تو نہیں پا سکا ناں ہم ناروے میں گئے تو وہاں ایک جگہ بورڈ لکھا ہوا تھا کہ اس کے آگے دنیا نہیں ہے اگر کوئی دنیا کا جستجو ہونے والا ہوا تو وہاں جاکے رک جائے گا ناں اگر کوئی اللہ کا طالب ہوا تو شریعت میں ہی پھنس جائے گا تم نے کہا شریعت سے آگے کچھ بھی نہیں تو شریعت میں پھنس جائے گا ناں کیوں نہیں کہتے کہ دل والے بھی ہوتے ہیں ،تو نظر والے بھی ہوتے ہیں اُدھر بھی جاﺅاگر تم کو تلاش ہے تو ۔اب اس کے آگے تو اُن لوگوں کو تو کچھ آتا نہیں ہے شریعت کے آگے پھر وہ آدمی کہتا ہے اب میں نے ساری شریعت اپنا لی میری داڑھی بھی بڑی ہو گئی ہے اللہ تو کوئی نہیں ملا ۔سُنا ہے طریقت والوں کو ،حقیقت والوں کو اللہ تعالیٰ کے تجلیات کے نظارے ہوتے ہیں مجھے تو کوئی نظارہ نہیں ہوا پھر وہ کہتے ہیں ایسا کر تو سیاست میں آجا حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم  نے بھی سیاست کری تھی پھر وہ اُس کو سیاست میں لے جاتے ہیں وہ چار،پانچ۔چھ سال سیاست کرتا ہے کہ ابھی بھی کوئی تجلیات کوئی نام و نشان نہیں پھر ایسا کر کہ تو جہاد کر کہ جہاد کیسے کروں کہ وہ یا رسول اللہ نہیں کہتے ہیں تو اُنکو مار وہ تجھے ماریں گے بس جہاد تو شروع ہو گیا ناں اس طریقے سے وہ نوجوانوں کی زندگیاں برباد کررہے ہیں اب اُس سیاست کی ضرورت نہیں ہے اب روحانیت کی ضرورت ہے اب کرسیوں کی ضرورت نہیں ہے اب اللہ کی ضرورت ہے اب ضرورت ہے کہ تم اللہ کی طرف راغب ہو جاؤ اب اِن عالموں کی بھی قسمیں ہوتی ہیں ناں ۔اک عالمِ ربانی ہے عالمِ ربانی وہ ہے جس نے سب سے پہلے اپنے اندر کو منور کیا اُس کیلئے مولانا رومی ؒنے کہا کہ مولوی ہر گز نہ شُد مولائے روم ،تا غلامِ ِ تبریزی نہ شُد کہ مولوی کبھی بھی مولانا روم نہیں بن سکتا جب تک کسی،جب تک کسی تبریز کی غلامی نہ کرے اب غلامی کری ،اندر سے منور ہوا جب منور ہوا تو پھر جب اُس نے قرآن پڑھا ناں تو وہ قرآن اُس کے اندر اُترا ناں پھر کہتے ہیں کہ قاری نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں ہے قرآن اب اُس کے اندر قرآن ہے وہ عالمِ ربانی ہیں اب جس طرح تو قرآن کا احترام کرتا ہے اِس طرح اُس کا احترام تیرے اوپر لازم ہے تو ایک قرآن کو چومتا ہے ،کھولتا ہے ناں ،چومتا ہے ناں وہ بھی چومنے کے قابل ہو گیا ناں اُس کے اندر قرآن ہے ناں تو قرآن کو پشت نہیں کرتا ہے ناں ۔اب تو اُسکو بھی پشت نہیں کر سکتا ہے ناں ،اُس کے اندر بھی قرآن ہے ناں یہ عالمِ ربانی ہیں انہی لوگوں نے کافروں کو مسلمان بنایا ناں اور دوسرا اُس کو عالمِ سُو کہتے ہیں اب اندر پاک ہو تو اُس کے اندر قرآن اُترے ناں بھئی قرآن تو پاک چیز ہے وہ تو اندر سے ناپاک ہے تو قرآن اُس کے اندر کیسے اُترے وہ پھر قرآن پڑھتا ہی ہے ،نماز پڑھتا ہی ہے قرآن مجید میں کہیں بھی نہیں لکھا ہوا کہ تو نماز پڑھ قرآن مجید میں یہی لکھا ہوا ہے کہ نماز کو قائم کر ،نماز قائم اور ہے عالمِ ربانی نے قائم کی اور دوسرا عالم قائم نہیں کرتا وہ پڑھتا ہے بھئی جب وہ نماز پڑھتا ہے تو اُس وقت اپنے آپ کو مومن تصور کرتا ہے ناں تو جب نماز چھوڑتا ہے اب تو مومن نہیں ہے اب تو پھر ہیرا پھیری شروع ہو گئی جب اُس کا منور اندر ہو گا ناں تو پھر وہ نماز اندر جائے گی ناں جب وہ نماز پڑھتا تھا تب بھی مومن ،اب جب وہ نماز نہیں پڑھ رہا فارغ ہے تب بھی وہ مومن ہی ہے ناں دوسرا عالم اُس عالمِ سُو کہتے ہیں وہ کافروں کو مسلمان نہیں بنا سکتا وہ مسلمانوں کو کافر کہہ سکتا ہے ناں مسلمانوں میں بہتر (72 ) فرقے اُسی نے بنائے ہیں ناں اور تیسرا عالم جو اُس سے بھی زیادہ خطرناک ہے وہ کیا کرتا ہے کہ قرآن کو بغلوں میں ڈال لیتا ہے جب قرآن کو بغلوں میں ڈال لیتا ہے ناں اللہ تو اب نہیں ملا چلو کرسی ہی مل جائے صبح کہتا ہے بے نظیر کافر ہے شام کو پیسے ملتے ہیں کہتا ہے میں نے تھوڑا ہی کہا تھا اُس کیلئے پھر بلھے شاہ ؒ نے فرمایا کھا کے سارا مکر گئے جنہاندے بغل وچ قرآن اب وہ خود بھی گمراہ ہوا اور ہزاروں نوجوانوں کو بھی سیاست میں لگا کے اُس نے گمراہ کیا، نہ کرسی اُس کو ملی اب یہ جو پانچ،چھ سال اُس کے ساتھ لگے رہے انکو کیا ملا اگر یہ پانچ ،چھ سال اللہ اللہ کرتے تو پانچ،چھ سال میں، سخی سلطان صاحب ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے صرف قرآن کا ہک لفظ لیا ،میں کسی مدرسے میں نہیں پڑھا الف سے اللہ اللہ کرتا رہا اللہ اللہ سے میرا سینہ چمک اُٹھا جب سینہ چمک ،حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے چمکتا ہوا سینہ دیکھا تو سینے سے سینہ لگایا وہ سارا قرآن سینے میں خودبخود ہی آگیا ۔

 

کوئی شخص ہیں دل پہ اللہ لکھتے ہیں اللہ لکھا جاتا ہے قرآن مجید فرماتا ہے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے دلوں پہ ایمان لکھ دیا یہ اللہ ایمان ہی ہے خواجہ بہاؤالدین نقشبند ؒ لوگوں کے دلوں پہ لفظ اللہ نقش کر دیتے تب اُنکو نقشبندی کہتے ہیں ناں کئی سال ہو گئے ترکی سے ایک خبر آئی تھی کہ ایک آدمی کے دل کا آپریشن ہوا اُس کے دل کے اوپر اللہ لکھا ہوا تھا اِس کا مطلب ہے کہ اللہ اِس دل پہ لکھا جا سکتا ہے کوئی لوگ ایسے ہیں جو ہر وقت اللہ اللہ کرتے رہتے ہیں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم  کا روضہ مبارک اس دل پہ آجاتا ہے وہ خدا بھی نہیں جُدا بھی نہیں جب وہ روضہ اس دل پہ آجاتا ہے تو پھر وہ کہیں بھی ہے مدینے میں ہے تو کئی لوگ ہیں جو اللہ اللہ کرتے ہیں اِن کے دلوں پہ خانہ کعبہ آجاتا ہے ایک دفعہ مجدد صاحب ؒ نے دیکھا کہ یہ باطنی مخلوق جن،فرشتے اُن کو سجدہ کررہے ہیں بڑے پریشان ہوئے سجدہ تو انسان کو جائز ہی نہیں یہ مجھے کیوں کررہے ہیں آواز آئی تمہیں نہیں کررہے وہ جو تمہارے اندر خانہ کعبہ بس گیا ناں یہ اُس کو سجدہ کررہے ہیں جب رابعہ بصری ؒ کے دل پہ خانہ کعبہ آیا اُس کعبے کو حکم ہوا جا جاکے اُس کا طواف کر او تجھے ابراہیم ؑ نے گارے ،مٹی سے بنایا اِس کو میں نے اپنے نور سے بنایا اب یہاں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم  خانہ کعبہ میں گئے اُن کے پاس کیوں نہیں آیا اگر حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں نہ جاتے کوئی حرج نہ تھا آپ تو کعبے کا کعبہ تھے صرف فرق یہ تھا اگر آپ خانے کعبے میں نہ جاتے آج اُمت بھی نہ جاتی جو اپنے آپکو کہتے ہیں ہم حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم  جیسے ہیں وہ کہتے خود تو گئے نہیں ہمیں کہہ کے چلے گئے آپ کو نمازوں کی بھی ضرورت نہیں تھی آپ تو وہ نمازیں پڑھتے تھے اس نماز اُترنے سے پہلے بھی وہ نمازیں پڑھتے تھے ناں آپ کو نمازوں کی کیا ضرورت تھی آپ تو کہتے ہیں میں اس وقت بھی نبی تھا فرماتے ہیں میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم ؑ کو بنایا ہی نہیں گیا تھا اُس وقت بھی نبی تھا صرف آپ نے نمازیں کیوں پڑھیں اِس اُمت کیلئے پڑھیں اگر منگل کی نماز آپ چھوڑ دیتے اُمت بھی اُس کو سُنت بنا لیتی ناں آپ نے سخت بیماری کی حالت میں نمازیں پڑھیں اگر آپ نہ پڑھتے اُمت کو نزلہ،زکام ہوتا تو کہتے ہم بھی بیمار ہیں (اللہ) اُس وجہ سے آپ نے جو کچھ بھی کیا ناں اِس اُمت کیلئے کیا ورنہ آپ کو نہ حج کی ضرورت تھی،نہ نمازوں کی ضرورت تھی آپ تو وہ تھے اللہ آپ کو دیکھتا تھا آپ اللہ کو دیکھتے تھے (اللہ) تو جب کوئی اس مقام پہ پہنچ جائے اک مقام ایسا ہے جہاں نماز نہ پڑھنا کفر ہے آپ نماز نہیں پڑھتے اک مقام ایسا ہے کفر ہے اور اک مقام ایسا ہے جہاں نماز پڑھنا کفر ہے (اللہ) وہ کون سا مقام ہے بھئی جب تو رب سے دیدار کررہا ہے بات چیت کررہا ہے اُدھر نماز کا وقت آگیا اُس کو چھوڑ کے نماز میں لگ گیا تو کفر ہے ناں کیونکہ نماز اُسی کی ہے ناں جس نے یہ نماز بنائی ،جس نے تجھے بنایا اب اس کیلئے کوئی کسی مذہب سے ہے ،کسی فرقے سے ہے ،کسی سلسلے سے ہے ہمیں اس سے مطلب نہیں ہمیں مطلب تمہاری روحوں سے ہے ہمیں تمہارے جسموں سے مطلب نہیں جہاں بھی کہیں بیعت ہیں ہمیں اُس سے مطلب نہیں اگر تیرا جسم سکھ ہے ،ہندو ہے ،ہمیں اس سے بھی مطلب نہیں ہمیں تیری روح سے مطلب ہے ناں جب تیری روح منور ہو جائے گی اگر تو سکھ ہے تو یہاں سکھ تھا ناں تیرا جسم مٹی میں دفنا دیا ناں تو یہیں رہ گیا ناں جسم سکھ تھا اُس کو اِدھر دفنا دیا روح منور ہو گئی اللہ والی ہو گئی وہ اُدھر چلی گئی بھئی جدھر نور ہے اُدھر چلی گئی ناں تو پھر وہ سکھ کیا رہا حسن ابدال میں گورونانک ہیں وہ جنگلوں میں رہے اپنے من کی صفائی کرتے رہے آخر میں اُن کو ایک درویش ملا کہ تو اسکا بھی سبق لے لے کہ کیا پڑھوں تو کلمہ پڑھ اُس نے کہا میں کلمہ نہیں پڑھوں گااللہ اللہ ہی کر اُس نے کہا یہ مجھے قبول ہے دل کا طریقہ بتایا دل میں اللہ اللہ شروع ہو گیا جب دل میں اللہ اللہ شروع ہو گیا اب اُس کی طرف سکھ بھی آتے ہیں تو مسلمان بھی آتے ہیں ناں مسلمان اُس دل میں جو اللہ تھا اُس کی وجہ سے آتے ناں پھر جب وہ مرگیا مسلمانوں نے کہا ہمارا ہے سکھوں نے کہا ہمارا ہے انگریز نے کہا لڑو نہیں اسکو چارپائی پہ ڈالو چار پائی کو اُٹھاؤ یہ جدھر چلا گیا اُن کا چارپائی پہ ڈالا ،سیدھا ڈالا چارپائی اُٹھائی نہ مسلمانوں میں گیا تو نہ سکھوں میں گیا وہ لاش ہی غائب ہو گئی وہ کدھر گیا وہ اللہ والا تھا اللہ کی طرف ہی چلا گیا ناں (اللہ) اس وجہ سے کوئی بھی ہے جس بھی فرقے سے ہے ناں وہ ذکر لے کے اپنی قسمت آزمائے ہر آدمی کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے پہ بڑا مہربان ہے ہر آدمی کیوں ،کار بنگلہ ہے کرم نہیں تو اور کیا اور دوسرے سے پوچھتے ہیں کیا حال ہے ہیں کہ بڑا ہی کرم ہے اتنا بڑا افسر ہوں کرم نہیں ہے تو اور کیا ہے اور تیسرا کہتا ہے اتنا بڈھا ہوں اتنی صحت ہے کرم نہیں تو اور کیا اور ہم کہتے ہیں اگر تم اسکو کرم سمجھتے ہو تو یہ چیزیں تو کفار کے پاس بھی ہیں جو اُن کو دیں وہ تم کو دیں تمہارے پہ کیا کرم ہوا اگر تم نے دیکھنا ہے کہ واقعی تمہارے پہ اللہ کا کرم ہے تو ذکر میں لگ جاؤ زبان سے نہیں دل سے اگر دو،چار،پانچ،سات دن میں اس دل نے اللہ اللہ شروع کی تو تیرے پہ اللہ کا کرم ہو گیا فاذکرونی اذکرکُم تو میرا ذکرکر میں تیرا ذکر کروں گا اگر کوشش کے باوجود تیرا دل اللہ اللہ نہیں کرتا ہے تو پھر تو اللہ سے بہت ہی دور ہے ناں پھر تیرے پہ اللہ کا کرم کیا ہوا اگر اس کا کرم ہوتا تو تجھے اپنے نام لیواؤں میں لیتا ناں جنب تیرے دل نے اللہ اللہ شروع کری پھر تجھے کار،بنگلہ،صحت ملی تو پھر کرم ہی کرم ہے ناں (اللہ) بھئی پھر کرم ہی کرم ہے ناں اپنے آپکو آزمانے کا راز ،مرشد کو آزمانے کا راز ،اللہ کو آزمانے کا کہ میرے اوپر کتنا رحیم ہے یہی ایک کسوٹی ہے بس اس کیلئے جو لوگ ذکر لینا چاہیں ذکر لیں کچھ لوگوں کو یہ خدشہ ہو گا کہ بغیر بیعت کے فیض تو نہیں ہوتا ہم بیعت بھی ہونا نہیں چاہتے لیکن اگر تمہارے گھر میں کوئی ٹوکرا چھوڑ جائے تو بہت ہی کسی کا کرم ہو گیا ناں بغیر بیعت کے یہ دل اللہ اللہ نہیں کر سکتا ہے اگر بغیر بیعت کے ہی اللہ اللہ شروع ہو گئی تو بہت بڑی ہستی کا کرم ہو گیا ناں یا پھر اللہ کا ہو ا یا اُس کے حبیب کا ہوا ورنہ یہ دل اللہ اللہ نہیں کر سکتا ہے تو جب تیرے پہ اللہ کا کرم ہو گیا پھر اللہ ہی تیرے لئے کافی ہے ناں (اللہ) یہ ہے اجازت کا یہ ہے کہ ہم اُس وقت تک تمہاری حفاظت کریں گے جب تک یہ تمہاری روحانی چیزیں اس جسم میں طاقتور ہو کے باہر نہیں نکلتیں جب یہ چیزیں باہر نکلیں گی تو پھر تو بندہ نہیں بندہ نواز بن جائے گا پھر غریب نہیں غریب نواز بن جائے گا اُس کیلئے اجازت لیں اور قسمت آزمائیں اگر تمہارے دلوں نے اللہ اللہ کرنا شروع کردی تو پھر دُعا دے دینا ناں اگر نہ کری تو پھر تم جیسے ہو ویسے تو رہو گے ناں تمہارا کچھ بگڑے گا تو نہیں ناں طریقہ اِن کیلئے بھی یہی ہے صرف یہ فرق جو اُن کے سامنے آگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو درباروں کو مانتے ہی نہیں ہیں اُن کیلئے تو ہمارا ہی تصور کافی ہے اور انشاءاللہ پہنچیں گے خواہ گورا ہے،خواہ ہندو ہے وہ تجربہ کرکے دیکھیں ہاں بتائیں اُنہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں یہ پتہ چل جائے گا ناں کون کون ہے کس مذہب سے ہے جو ذکر لینا چاہیں ناں میری زبان کیساتھ اقرار کریں میں بھی اللہ ھُو پڑھوں گا وہ بھی اللہ ھُو پڑھیں اُن کو اجازت ہو گی تو جو لوگ ذکر نہ لینا چاہیں ناں پھر وہ خاموش ہی رہیں اپنی زبان بند ہی رکھیں انگلش میں بتا دیں پڑھو جی اللہ ھُو ،اللہ ھُو ،اللہ ھُو ،اللہ ھُو ،اللہ ھُو ،اللہ ھُو لا الہ الاللہ محمد رسول اللہ  بس جی اجازت ہو گئی۔ دُعا مانگیں اور چلیں 
 

دُعا

اعوذ بااللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یا الہیٰ رحم کُم برماھُما ،عفُکُن جملہ گناہ ماھُما ،یاالہیٰ اس سرزمیں پہ اپنا رحم کر یا الہیٰ ان لوگوں پہ اپنا رحم کر ،یا الہیٰ ان کے دل چمکا دے، یاالہیٰ ان کے دلوں میں اپنی اور محبت اپنے محبوب کی محبت پیدا کر ،یا الہیٰ اِن کی دینی دُنیاوی مشکلات دور فرما یا ،الہیٰ اِن کے دکھ درد دور فرما ربنا اتِنا فی الدُنیا حسنتہ و فی الآخرتِ حسنتہ وقنا عذاب ُالنار ،اللھُما انت سلام ومن لتسلام و علیکَ یرجع السلام حیٰ نا ربنا واَدخلنا دارالسلام تبارکتا ربنا وقا علینا یا ذوالجلال والکرام لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ - بس جی اچھا جی اسلام وعلیکم

 

*****************************************

 

اگر آپ بھی ذکر کی لینا چاہتے ہیں تو امام مہدی ریاض احمد گوھرشاہی کی شبیہ مبارک کوپورے چاند پر دیکھتے ہوئے
 

تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔

 

© 1998-2011 All Faith Spiritual Movement Intl'
admin@theallfaith.com