|
SELECT YOUR LANGUAGE: ENGLISH or INDONESIAN |
||
![]() |
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے |
![]() |
|
اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر) |
||
|
مرکزی صفحہ تعارف حضرت عیسی کرشمہ قدرت الحجرالأسود تعلیمات دینِ الٰہی پروگرام تصانیف ویڈیو رابطہ |
||
|
مسجد و درگاہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہیٰ نیودہلی ہندوستان
اسلام
و علیکم
ہمارا
پاکستان سے انڈیا میں آنے کا مقصد کوئی سیاست نہیں ہے کسی فرقے کی دل
آزاری نہیں ہے ہر ملک میں ہر شہر میں ہر گھر میں کچھ دل والے ہوتے
ہیںانکو نکالنا مقصد ہے اور دل کی آواز انکے دلوں تک پہنچانا مقصود۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو طرح کا علم تھااک شریعت زبان والوں کیلئے اک طریقت دل والوں کیلئے۔جن لوگوں نے آپ کے زمانے میں صرف شریعت پہ اکتفا کیا انہی میں سے کوئی خوارج ہوا اورکوئی منافق ہوااور جن لوگوں نے وہ دل والا علم بھی حاصل کیا وہ توا صحابی یارسول اللہ کہلائے اور ولیوں سے اعلیٰ مقام بھی حاصل کرکے چلے گئے۔
وہ جن
لوگوں نے دل والا علم حاصل کیا وہی خواجہ صاحب بنے اور وہی داتا صاحب بنے اب ظاہری علم کی تشریح ضروری نہیں ہے وہ سارے جانتے ہو وہ دل والا
علم جسکو مسلمان بھول گیا اب اسکی تشریح کرتے ہیں لوگ کہتے ہیں یہ درویش
کہتے ہیں یہ دل اللہ اللہ کرتا ہے وہ کہتے ہیں انکا خیال ہے وہ کہتے ہیں
ان کا خیال ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ دل اللہ اللہ کرتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے
یہ جو دل ہے ناں یہ بھی اللہ اللہ کرتا ہے دو طرح کی تسبی ہے اک ظاہری
تسبی ہے جو بازاروںمیں بکتی ہے وہ جو ٹک ٹک کرتی ہے اسکے ساتھ اللہ اللہ
ملاتے ہیں اک تسبی تمہارے اندرلگی ہوئی ہے وہ بھی ٹک ٹک کرتی ہے اہل دل
اسکے ساتھ اللہ اللہ ملاتے ہیں جسطرح پتھر پتھر سے ٹکراتا ہے چنگاری
اٹھتی ہے لوہا لوہے سے ٹکراتا ہے چنگاری اٹھتی ہے اللہ اللہ سے ٹکراتا ہے
تو نور بنتا ہے لیکن یہ جو نور بنتا ہے یہ انگلیوں میں ہے یہ تمہیں
تمہارے حساب کتاب میں لکھ دیا جائے گا کام آیا یوم محشر میں کام آئے گا
اسی طرح کی تمہارے اندر تسبی لگی ہے وہ بھی ٹک ٹک کرتی ہے اس کے ساتھ پھر
اللہ اللہ ملاتے ہیں جب اسکے ساتھ اللہ اللہ ملاتے ہیں تو اسکے ساتھ جو
رگڑا لگتا ہے وہ جو نور بنتا ہے وہ سیدھا خون میں جاتا ہے خون سے ہوتا
ہوا وو تمہاری نسوں میں آتا ہے نسوں سے ہوتا ہوا تمہاری روح تک پہنچ جاتا
ہے جب روحوں تک جاتا ہے تو تمہاری روحیں بیدار ہوکے وہ بھی اللہ اللہ
کرنا شروع کر دیتی ہیں پھر تم سوتے رہنا اللہ اللہ ہوتی رہے گی خواب میں
بھی اللہ اللہ ،قبر میں بھی اللہ اللہ اور یوم محشر تک اللہ اللہ ہوتی
رہے گی۔ دو طرح کی شریعت ہے
ایک شریعت محمدی ہے ایک شریعت احمدی ہے تم لوگ شریعت محمدی سے واقف ہو۔ شریعت
احمدی سے واقف نہیں ہو۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کا نام محمد رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم تھا آپ کی روح مبارک کا نام احمد تھا۔آپ کی ایک روح ہے یہاں اسکو اخفیٰ بولتے ہیں اسکا نام احمد تھااور ایک روح ہے جسکو انا بولتے ہیں دماغ میں ہے اسکا نام محمود تھا۔
جب
حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم شب معراج میں گئے اوپر جانے سے پہلے آپ نے بیت المقدس میں
نماز پڑھائی تھی جسمیں سب نبیوں ،ولیوں کی ارواح شامل تھیں پھر آپ جب
اوپر گئے نیچے نماز پڑھا کے گئے تھے ناں تو اوپر نماز کون سی ملی وہ جو
پڑھا کر گئے تھے وہ پاکوں کی نماز تھی وہ جو اوپر جو ملی وہ ناپاک لوگوں
کیلئے تھی تاکہ وہ انکو پاک کرے اگر آج تمہاری روح بھی اس قابل ہوجائے تو
تم کو بھی وہ نماز میسر ہو سکتی ہے اسکو روحانی نماز کہتے ہیں وہ اس وقت
تک سر ہی نہیں اٹھاتے جب تک اللہ جواب نہیں دے لبیک یا عبدی۔
انسان
کا اندر مٹی کا بنایا مٹی کوئی ناپاک نہیں تھی باقی مخلوقیں چھ (6) ڈالیں
وہ بھی کوئی ناپاک نہیں تھیں جب اسمیں وہ نفس ڈالا گیا تو پھر یہ جسم
ناپاک ہوا اس کیلئے بلھے
شاہ نے فرمایا اس نفس پلیت نے پلیت کیتا اساں منڈوں پلیت ناسیں جب
یہ نفس اندر آیا تو ناپاک ہوا ناں تو جب وہ اندر نور جاتا ہے ناں تو وہ
نفس پاک ہوتا ہے ناں تو جب وہ نفس پاک ہوتا ہے اس وقت تو بھی پاک ہو گیا
ناں اب تو نماز پڑھتا ہے قرآن پڑھتا ہے تیرے اندر نہیں اترتا ہے وہ نفس
ناپاک ہے ناں جب تو نفس پاک ہو جائے گا پھر قرآن بھی اندراور نماز بھی
اندر یہ جو نفس ہے اسکی کتے کی طرح شکل ہے یہ کالے کتے کی طرح ہے ذکر کے
نور سے اسکی شکل سفید کتے کی طرح ہو جاتی ہے پھر ذکر کے نور سے اسکی شکل
بیل کی طرح ہوجاتی ہے پھر ذکر کے نور سے اسکی شکل بکرے کی طرح ہو جاتی ہے
پھر ذکر کے نور سے وہ تمہاری شکل اختیار کر لیتا ہے پھر تم ذکر کرو گئے
ساتھ یہ بھی جھومے گا نماز پڑھو گے ساتھ یہ بھی نمازپڑھے گا اس وقت اسکو
پکڑ کر حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محفل میں لے جاتے ہیں پھر حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور حاضرین عش
عش کر اٹھتے ہیں آفرین ہے اسکے اوپر اور اسکے مرشد کے اوپر کتے کو انسان
بنایا پاک کیا میری محفل میں لے آیا اسکو بولتے ہیں نفس مطمئنہ۔
اگر تمہارا نفس مطمئنہ نہیں ہے نفس
امارہ ہے آج مسلمانوں میں72 فرقے بن گئے ہیں ایک دوسرے کو کافرو زندیق
کہتے ہیں۔
وہ
کیوں کہہ رہے ہیں وہ نفس امارہ کی وجہ سے کہہ رہے ہیں اور یقین کرو کہ جب
تک یہ تمہارانفس پاک نہیں ہوتا تمہاری نمازوں کا کوئی اعتباربھی نہیں ہے
نمازیں تین قسم کی ہیں اک نماز صورت ہے، اک نماز حقیقت ہے، اک نماز عشق
ہے نماز صورت کیا ہے 72 فرقے والے نماز صورت ہی پڑھتے ہیں قرآن فرماتا ہے ان نمازیوں کیلئے تباہی ہے جو نماز حقیقت سے بے خبر ہیں انکی نماز دکھاوا ہے۔
دکھاوا
کیسے ہے اللہ تعالیٰ نے حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو فرمایا قل ھو اللہ احد کہہ دیجئے
اللہ ایک ہے آپ نے آمین کہا آپ نے لوگوں کو کہا کہہ دو اللہ ایک ہے جنہوں
نے آمین کہا مسلمان ،جنہوں نے حیل و حجت کری منافق، جنہوں نے نہیں مانا
کافر اب تم کس کو کہتے ہو روزانہ کہتے ہو ،ہر نماز میں کہتے ہو کہہ دے
اللہ ایک ہے تم اپنے دل کو کہتے ہو کہہ دے اللہ ایک ہے وہ جواب دیتا ہے
گھر میں آٹاہی نہیں ہے تو پھر کہتے ہو اللہ الصمد اللہ بے نیاز ہے دل
کہتا ہے نہیں بیوی بیمار ہے۔ لم یلد ولم یلد دل کہتا ہے ڈیوٹی سے لیٹ ہو
گیا ہے سو چل کافروں کی زبان اقرار نہیں کرتی ،منافقوں کے دل تصدیق نہیں
کرتے اور فاسقوں کے جسم عمل نہیں کرتے ۔ یہ نماز صورت ہے اس نماز کا کوئی
اعتبار نہیں ہے اور نماز حقیقت کیا ہے اس کیلئے ہے کہ لا لصلوٰةالا بحضور لقلب دل کی حاضری کے بغیر نماز ہی نہیں ہوتی۔
اس دل
میں سب سے پہلے تمہیں اللہ اللہ سیکھنا ہو گا یہ جتنے بھی یہاں ولی اللہ
بنے ہیں ناں یہ سب نے اللہ اللہ سیکھی ہے اپنے دل کی دھڑکنوں کو اللہ
اللہ میں لگایا اپنی روحوں کو اللہ اللہ میں لگایا پھر یہ کام کاج بھی
کرتے رہے اللہ اللہ ہوتی رہی دست کار میں دل یار میں گاڑی رسالہ یہ بھی
تم پھر چلاتے رہو اللہ اللہ ہوتی رہے گی پھر جب تم نماز پڑھتے رہو گے ناں
پھر بھی اللہ اللہ ہوتی رہے گی اس وقت زبان کہے گی کہہ دے اللہ ایک ہے دل
کہے گا اللہ ہی اللہ ،اللہ الصمد دل کہے گا اللہ ہی اللہ لم یلد ولم
یلددل کہے گا اللہ ہی اللہ اب زبان اقرار کر رہی ہے دل تصدیق کر رہا ہے
اور جسم عمل کر رہا ہے زبان ذکر مفصل میں ہے دل ذکر مجمل میں ہے۔زبان دلیل سے منوا رہی ہے کہ کہہ دے اللہ ایک ہے اور دل بغیر دلیل کے مان رہا ہےکہ اللہ ہی اللہ
زبان
کا تصرف ہے یہاں بولتے ہو امریکہ والے سنتے ہیں اور دل کا تصرف ہے یہاں
گونجتا ہے تو عر ش معلی والے سنتے ہیں ہاں تمہاری نماز کو یہ دل عرش معلی
میں پہنچائے گا یہ نماز مومن کا معراج ہے پھر آگے نماز عشق ہے یہ جب
تمہاری روحیں بیدار ہو جائیں گی تم نے دیکھا ہو گا خواب میں سوتے ہو
دوسرے شہر میں گھومتے ہو وہ تم نہیں ہوتے ہو وہ تمہارے اندر کی اک مخلوق
ہوتی ہے وہ اک نفس لطیفہ نفس ہے وہ ہر کسی کا طاقتور ہو تا ہے وہ خواب
میں جاکرنکل کر شیطانوں میں گھومتا رہتاہے جب وہ دوسری روحیں وہ بھی نور
کی طاقت سے طاقت ورپکڑ جاتی ہیں تو پھر وہ بھی اس جسم سے خواب سے نکلتی
ہیں وہ شیطان شیطانوں میں یہ نورانی چیزیں سیدھی نوریوں میں جاتی ہیں سب
سے پہلے حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جا کے گرتی ہیں اس وقت بلھے
شاہ نے فرمایا لوکی پنج ویلے تے عاشق ہر ویلے لوکی مسیتی عاشق قدماں ،کہ
یہ جو لوگ پانچ وقت رب کو یاد کرتے ہیں نماز بھی رب کی یاد ہے انکی انتہا
مسجد ہے باجماعت ہو جائیں گے اور کیا کریں گے لیکن جو اسکے ساتھ ہر وقت
اللہ اللہ کرتے ہیں وہ تو حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں پہنچ جائیں گے تو پھر
وہاں حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جب پہنچے تو وہاں نمازیں بھی ہوتی ہیں
توتلاوتیں بھی ہوتی ہیں۔ وہ نماز عشق ہے روح ادھر نماز پڑھ رہی ہے اور جسم ادھر نماز پڑھ رہا ہے۔
اب
تھوڑا سا اس کاطریقہ بتادوں ٹائم مجھے مختصر ملا ہے اب لوگ اللہ اللہ
کرتے ہیں آپ ساری عمر اللہ اللہ کرتے رہیں آپ عابد ہیں ولی نہیں بن سکتے
مومن بھی نہیں بن سکتے کیونکہ سورة
حجرات میں ہے عراب نے کہا ہم ایمان لے آئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں
کہو صرف اسلام لائے مومن تب بنو گے جب نور تمہارے دل میں اترے گا۔
اب آپ
اللہ اللہ کریں عبادت ہے روحانیت تو نہیں ہے اس اللہ کو اپنے اندر جذب
کرنا ہے تب روحانیت ہے ناں اس کیلئے روزانہ66 مرتبہ کاغذ کے اوپر اللہ
لکھتے ہیں جب بھی آپکو وقت ملے کاغذ کے اوپر66 مرتبہ اللہ لکھیں ۔آپ
تھوڑے دن لکھیں گے ایک دن آئے گا آپ جو کاغذ پہ لکھتے تھے وہ آپ کی
آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے گا دوسرا طریقہ زیرو کے بلب پر پیلے رنگ
سے اللہ لکھیں اسکو سوتے وقت دیکھتے رہیں جب تک نیند نہ آئے اسکو دیکھتے
رہیں ایک دن آئے گا وہی لفظ اللہ آنکھوں پہ تیرتا ہوا نظر آئے گا جب
آنکھوں پہ تیرتا نظر آئے پھر لکھنا دیکھنا بند کر دیں پھر آنکھوں سے توجہ
سے اسکو دل کے اوپر اتاریں وہی لفظ جو کاغذ پہ تھا وہ دل پہ لکھا نظر آئے
گا قرآن مجید فرماتا ہے کچھ لوگ ایسے جن کے دلوں پہ ایمان لکھ دیا یہ
پولیس کی مہر تو پولیس والا ،اللہ لکھا گیا تو اللہ والا جب یہ اللہ کا
تصور آئے گا تو دل کی دھڑکن تیز ہو جائے گی ٹک،ٹک،ٹک ،ٹک اس ٹک ،ٹک کے
ساتھ اللہ ھو ملائیں اک کے ساتھ اللہ اک کے ساتھ ھو گھڑی گھڑی اسطرح کریں
گے تو دل کی دھڑکنیں اللہ ھو میں تبدیل ہو جائیں گی رات کو سونے لگیں
انگلی کو قلم تصور کریں کہ میں اپنے دل پہ تصور سے اللہ لکھ رہا ہوں او
جن ہستیوں کے پاس بیٹھے ہو ان سے فیض حاصل کرو تم ان سے روحانی فیض حاصل
نہیں کر رہے دنیاوی فیض کیلئے آتے ہو اور خیال کروکہ خواجہ نظام الدین
اولیاء میری انگلی کو پکڑے میرے دل پہ اللہ لکھ رہے ہیں پھرانشاءاللہ
ایک دن آئے گاکہ تمہارے دل پہ اللہ لکھا نظر آئے گا صبح اٹھو وضو ہے یا
نہیں ہے پرواہ نہیں اس دل کا وضو پانی سے نہیں ہوتا ذکر خفی کرتے رہو جب
تک دل کی دھڑکن سے نہیں ملتا ہے اسکو ذکر خفی کہتے ہیں جب دل کی دھڑکن سے
ملتا ہے اسکو ذکر قلبی کہتے ہیں آج تمہارا طریقت میں پہلا قدم ہے آج
تمہاری گاڑی اللہ کی طرف چل پڑی تو پھر اللہ اللہ کرتے کرتے جب وہ اللہ
تک پہنچ جاتا ہے وہ حقیقت ہے حقیقت کا تعلق ان نظروں سے ہے کوئی ایسا کام
کرو جس سے دل دھڑکے بھلے ورزش کرو ،بھلے اللہ ھو کی ضربیں لگاﺅ جس سے دل
دھڑکے دھڑکن کے ساتھ اللہ ھو ملاﺅ کبھی کبھی نبض کے ساتھ ہاتھ رکھو جب
نبض دھڑکے اسکے ساتھ اللہ ھو ملاﺅ کہ یہ اللہ ھو اس نبض کے ذریعے میرے دل
میں جا رہا ہے یہ اللہ ھو جلالی بھی ہے لوگ اس سے ڈرتے ہیں اگر جلالت
پیدا ہو گرمی پیدا ہو تو درود شریف پڑھو وہ ٹھنڈا کر دے گا پھر آپ اللہ
ھوکرو پھر جلالت آتی ہے درود شریف پڑھو اک دن درود شریف اورلفظ اللہ اک
ہو جائے گا نہ جلال اور نہ جمال یہ اسکا طریقہ ہے اس کیلئے اجازت ہو تی
ہے اجازت کا مقصد یہ ہوتا ہے آپ یہاں تہجد پڑھتے ہیں شیطان ایک کونے پہ کھڑا کھڑا ہنستا رہتا ہے او تھکتا رہ تیرا دل تو میرے ہاتھ میں ہے ناں جب جی چاہے گا موڑ دوں گا اور اک دن تمہیں شکایت ہوتی ہے میں بڑا تہجد گزار تھا مجھے کیا ہو گیا میں فرض نماز نہیں پڑھ سکتا وہ شیطان نے دل موڑ دیا ناں۔
جب
انسان اس اللہ کو اپنے دل میں بسانے کی کوشش کرتا ہے شیطان سوچتا ہے اگر
یہ اللہ اسکے اندر چلا گیا تو یہ تو ساری عمر کیلئے میرے ہاتھوں سے گیا
بایزید بسطامی جوانی کے ایام میں جنگل میں چلے گئے جب باقی عبادت کرتے
شیطان دیکھتا رہتا لیکن جب وہ اللہ ھو کی ضربیں لگاتے تو شیطان قریب آکر
انکو ستاتا،روشن ضمیر ہو گئے تھے اک دن ڈنڈا لے کے اسکے پیچھے بھاگے آج
اسکو ماروں گاآواز آئی اے بایزید یہ ڈنڈوں سے نہیں مرتا یہ اللہ کے نور
سے جلتا ہے اتنا ذکر کر اتنا ذکر کر کہ تو نور علی نور ہو جائے جب بایزید
بسطامی نور علی نور ہو گئے تو شہر بسطام سے جادو گر بھی چلے گئے اب
ہمارا عمل اثر نہیں کرتا شیطان کے پاس شیطانی فوج ہے وہ حکم دیتا ہے جاﺅ
اسکو تباہ کر و برباد کرو کچھ بھی کرو یہ اللہ اسکے اندر نہ جائے ورنہ یہ
ساری عمر کیلئے گیا اب تمہارے پاس اک جن بھی نہیں ہے کہ اسکا مقابلہ کرو
جہاں سے اسکی اجازت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ انکو بھی رحمانی فوج دیتا ہے
شیطانی فوج تم پہ ٹوٹ پڑی رحمانی فوج ان پہ ٹوٹ پڑی وہ رحمانی فوج اس وقت
تک تمہارا ساتھ دے گی جب تک تمہارے اندر رحمان جاگ نہیں اٹھتے پھر بندہ
نہیں بندہ نواز بن گئے توغریب نہیں غریب نواز بن گئے یہ اس کی اجازت ہے
اس کیلئے اگر کوئی اجازت لینا چاہے
کوئی پیری مریدی نہیں ہے کوئی
نذرانہ نہیں ہے اک اللہ رسول
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے جو تم کو سنا رہے ہیں اگر تم یہ مشقیں کرو گئے انشاءاللہ اپنے ساتھ پاﺅ گے
تو
اس کیلئے اگر کوئی صاحب اجازت لینا چاہیں تو میری
زبان کے ساتھ اللہ ھو پڑھیں گے
اجازت ہو جائے
گی دربار پہ آکے پریکٹس کریں انشاءاللہ انکو کامیابی مل
جائے گی ۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم بھئی جسکو جی چاہے پڑھے یا نہ پڑھے اجازت لے لیں.
اللہ ھو ،اللہ ھو،اللہ ھو،اللہ ھو، اللہ ھو،اللہ ھو،اللہ ھو،اللہ ھو،اللہ ھو،اللہ ھو، اللہ ھو
اگر آپ بھی ذکر کی لینا چاہتے ہیں تو امام مہدی ریاض احمد گوھرشاہی کی شبیہ مبارک کوپورے چاند پر دیکھتے ہوئے
تین دفعہ اللہ ھو
پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔
|
|
© 1998-2010 All Faith Spiritual
Movement Intl' |