SELECT YOUR LANGUAGE:    ENGLISH    or   INDONESIAN

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے

اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر)

مرکزی صفحہ  تعارف  حضرت عیسی  کرشمہ قدرت  الحجرالأسود  تعلیمات  دینِ الٰہی  پروگرام  تصانیف  ویڈیو  رابطہ    

 اِسمِ ذات اللہ کانفرنس

   مئی 1994 آرام باغ کراچی

 

اعوذبا اللہ من الشیطان الرجیم ۔  بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

عز یز ساتھیو، السلام عليكم

 

آپ کے شہر میں کئی بار آ نا ہوا۔ آنے کا مقصد کوئی سیا ست نہیں ہے، کسی فرقے کی دِل آزاری نہیں ہے، کوئی حکومت پر نکتہ چینی نہیں ہے۔ ہر گھر میں ہر محلے میں کچھ دل والے ہو تے ہیں ان دل والوں کو نِکا لنا مقصد ہے اور دل کی آواز دلوں تک پہنچا نا مقصود۔

حضرت علی رضی اللہ تعالٰی فرما تے ہیں کہ تیرے اندر ایک جہان بند ہے لیکن تجھے اِس کی خبر نہیں ہے۔ وہ جہان کیا ہے؟

تم سمجھتے ہو کہ یہ ایک گو شت کا لو تھڑا ہے۔ یہ گو شت کا لوتھڑا جانور میں بھی ہوتا ہے تو پھر وہ جہان کیا ہے؟

 

جب یہ جسم بنایا گیا تو اِس میں روح ڈالی گئی۔ روح کی ا مداد کے لیے کچھ اور مخلوقیں ڈالی گئیں۔ جن کو لطائف کہتے ہیں۔ پھر ان لطائف کی امداد کے لیے نو (9) اور مخلو قیں ڈا لی گئیں جن کو جسے کہتے ہیں۔ سولہ (16) مخلوقیں اِس ڈھانچے میں ڈال دی گئیں پھریہ ڈھانچہ چلنے پھرنے کے قابل ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ مخلوقیں ہیں حیوانی، کچھ عِلمی، کچھ شیطانی۔ اِک مخلوق شیطانی ہے جس کا نام نفس ہے۔ جس نے پورے انسان کیا پوری دنیا کو مصیبت میں ڈالا ہوا ہے۔ اب اس کی پا کیزگی کے لیے انسان کو حکم دیا گیا۔ وہ نفس کتے کی ما نند ہے۔
 

ایک حدیث شریف میں ہے کہ جس گھر میں کتا ہوگا وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ لوگ سمجھتے ہیں وہ اس کتے کے لیے ہے۔

وہ اس کتے کے لیے نہیں ہے وہ تو آدم کی حفاظت کے لیے جنت میں بنایا گیا تھا اور آج بھی وہ آدمی کی ہی حفاظت کرتا ہے گھر میں ہی کرتا ہے نا۔ اگر اس کو گلی کے کونے میں باندھ کے آگئے تو حفاظت کیا کرے گا۔ وہ اس کتے کے لیے نہیں ہے یہ جو انسان کے اندر کتا ہے اِس کے لیے ہے۔

انسان ناپاک نہیں تھا مٹی سے بنایا گیا تھا مٹی ناپاک نہیں ہے۔ وہ جو کتا اس کے اندر آیا تب وہ نا پا ک ہوا۔ جب تک اس کو پاک نہیں کریں گے خلاصی نہیں ہوگی۔ حدیث شریف میں ہے کہ کچھ لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں وہ ان کے اوپر لعنت کرتا ہے۔ بھئی کیوں لعنت کرتا ہے۔ان کے اندر کتے ہیں جس کے اندر کتا ہے وہ ناپاک ہے۔ مجدد صاحب فرماتے ہیں کہ مقتدی کو چاہیے کہ پہلے ذکر اللہ کرے، قرآن مجید ان لوگوں کے پڑھنے کے قابل نہیں جن کے نفس کتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ پہلے ذکر کرے اپنے نفس کو پاک کرے اور جب نفس پاک ہوجائے پھر قرآن مجید کو ہا تھ لگائے اس وقت کا اِک لمحہ فکریہ ہزار سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ اب وہ نفس پاک کیسے ہوتا ہے۔
 

لوگ کہتے ہیں اللہ عبادت سے مِلتا ہے، ہم کہتے ہیں بالکل غلط ہے اللہ عبادت سے نہیں مِلتا ہے۔ اگر عبادت سے مِلنا ہوتا تو سب کو مِلتا نا ہر عابد کو مِلتا نا۔ اللہ دل سے مِلتا ہے، عبادت دل کو صاف کرنے کا ذریعہ ہے اور نفس کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔ 
 

اگر آپ عبادت سے دل کو صاف نہیں کرسکے۔۔۔ نفس کو پاک نہیں کرسکتے تو آپ رب کو پا نہیں سکتے۔ اب وہ جو نفس ہے تمہارے اندر وہ پاک کیسے ہوگا۔ جو تمہارے اندر ست(7) مخلوقیں ہیں وہ ساتوں مخلوقیں اللہ کا ذکر کرتی ہیں اگر ان کو کرایا جائے تو۔ بھئی مخلوقیں ہیں جِس طرح جن فرشتے ہیں اِس طرح وہ مخلوقیں ہیں۔ سب سے پہلے قلب کا ذکر سیکھنا پڑتا ہے پھر روح کا، پھر سری کا، پھر خفی کا، پھر اخفیٰ کا، پھر انا کا۔ جب یہ سارے ذکر اندر جاری ہو جاتے ہیں، وہ جو نفس ہے اس کی غذا سانس کے ذریعے یا خوراک کے ذریعے نار اندر جا تی ہے۔ اب جب نار اندر جاتی ہے اور جو اندر اللہ اللہ ہو رہی ہے اس کی نور کی گرمی سے وہ نار جل جا تی ہے، اب اس نفس تک غذا نہیں پہنچتی۔ جب غذا نہیں پہنچتی تو اس کو بھوک لگتی ہے۔ کوئی نفس تو سرکش ہے وہ نور کی غذا نہیں لیتے مرجاتے ہیں اور کوئی نفس اِن ا پنے ہمسایہ مخلوقوں کو کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ خوراک دو جینے کے لیے، یہ پھر انھیں نور دیتے ہیں۔ دوسرے دن پھر ما نگتے ہیں پھر اِس کو نور دیتے ہیں۔ تیسرے دن پھر وہ مانگتا ہے پھر یہ کہتے ہیں کہ کلمہ پڑھ اِسی کا نور تیری غذا ہوجائے گی۔ وہ صِرف زندہ رہنے کے لیے پھر کلمہ پڑھنا شروع کرتا ہے۔
 

اس کلمے کے اثر سے وہ کالا کتا تھا وہ سفید کتا بن گیا۔ پھر وہ کلمہ پڑھتا رہتا ہے صرف زندہ رہنے کے لیے اس غذا کے لیے۔

پھر اس کی شکل بیل کی طرح ہوجاتی ہے۔ پھر کلمہ پڑھتا رہتا ہے پھر کلمے کے اثر سے اس کی شکل بکرے کی طرح ہوجاتی ہے۔

 پھر کلمہ پڑھتا رہتا ہے پھر اس کی شکل اسی انسان کی طرح ہوجاتی ہے۔ 


اس وقت وہ انسان نماز پڑھتا ہے ساتھ وہ بھی نماز پڑھتا ہے۔ وہ انسان اللہ کے ذکر میں جھومتا ہے ساتھ وہ بھی جھومتا ہے۔ پھر اس کو پکڑ کر حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محفل میں لے جا تے ہیں۔ اس وقت حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور حاضرین اَش اَش کر اٹھتے ہیں کہ آفرین ہے اِس کے اوپر اور اِس کے مرشد کے اوپر کہ اس ناپاک کتے کو انسان بنایا اور یہاں میری محفل میں لے آیا۔ اس وقت اس کو کوئی مرتبہ ارشاد ہوجاتا ہے۔ اب اِدھر اِس کے ذریعے ادھر رسائی ہوگی، عبادت تو یہ ہے نا۔ ادھر پھر قلب، جب قلب اللہ اللہ کرنا شروع کردیتا ہے تو اللہ اللہ سے اسکی صفائی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
 

حدیث شریف میں ہے کہ ہر چیز کو صاف کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی ہتھیار ہے دل کو صاف کرنے کے لیے ذکر اللہ ہے۔
 

جب دل سے اللہ اللہ شروع ہوجاتی ہے تو اِس دل کی صفائی ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کبھی کبھی اپنے بندوں کو دیکھتا ہے۔ وہ پھر داڑھیوں کو نہیں دیکھتا، شکلوں کو نہیں دیکھتا، وہ دل کو دیکھتا ہے۔ جب وہ چمکتا ہوا دل پایا تواللہ تعا لیٰ اس پہ مہربان ہوجاتا ہے۔ اب ادھر بھی رسائی ہو گئی اور اِدھر بھی رسائی ہو گئی اِس کو علمِ باطن کہتے ہیں۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں علمِ ظاہر اور علمِ باطن اکٹھے چلتے تھے۔ علمِ ظاہر زبان والوں کے لیے اور علمِ باطن دل والوں کے لیے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جن لوگوں نے صِرف زبانی عبادت پہ قناعت کری، اِ نہیں میں سے کوئی خوارج ہوا اور کوئی منافق ہوا اور آج بھی وہی لوگ زبانی زبانی والے بہتر(72) فرقوں میں تقسیم ہو گئے اور جن لوگوں نے وہ دل والا علمِ بھی حاصل کیا وہ تو اصحابی یارسول اللہ کہلا ئے اور ولیوں سے بھی اعلیٰ مقام حاصل کرکے چلے گئے۔
 

اب یہ علم کہاں سے مِلتا تھا۔ یہ علم ہمارے عالمِ ربانی یہ وہ سکھاتے تھے۔ پہلے وہ شریعت سکھاتے، زبان والے علم کو شریعت بولتے ہیں اور اِس دل والے علم کو طریقت بولتے ہیں۔ پہلے وہ شریعت سِکھاتے ہیں اس کے بعد وہ دل والا علم سِکھا تے ہیں۔ لیکن عالمِ ربانی جب چلے گئے پھر پیچھے دوسرے عالمِ زبانی رہ گئے۔ انھوں نے کہا کہ جو کچھ ہے شریعت میں ہے اِس سے آگے کچھ نہیں ہے۔ طریقت بھی شریعت میں ہے، حقیقت بھی شریعت میں ہے، معرفت بھی شریعت میں ہے۔ فنا بھی شریعت میں تو بقائ بھی شریعت میں، لقائ بھی شریعت میں اور ہم کہتے ہیں اگر یہ سب کچھ شریعت میں ہے تو غوث پاک رضی اللہ تعالٰی نے بھی شریعت سِکھی تھی وہ جنگلوں میں کیوں گئے تھے؟ بھئی خواجہ صاحب نے بھی شریت سِکھی تھی وہ اصفہان کے پہاڑوں میں کیوں رہے؟ او بوعلی قلندر شریعت کا سبق دیتے تھے وہ سبق چھوڑ کے جنگلوں میں کیوں گئے؟ وہ اِس دل والے علم کے لیے گئے۔ شریعت تو شہروں میں سِکھائی جاتی ہے نا، استاد تو شہروں میں ہے نا، جنگلوں میں استاد تو نہیں ہے نا۔ وہ جو جنگلوں والے استاد ہیں او جن کے لیے آدمی گھر بار چھوڑتا ہے کھانا، فاقے کاٹتا ہے، وہ پھر کوئی خاص ہی استاد ہونگے نا! پھر وہ استاد حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہیں پھر ان کو وہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم تعلیم دیتے ہیں۔ پھر جب وہ مڑ کے آ تے ہیں تو پھر ولی بن جا تے ہیں۔ وہ دل والی تعلیم ہے۔
 

ہمارے علماء جو زبانی رہ گئے اِنھوں نے کہا شریعت سیکھو، شریعت سکھا ئی، اِن کا شکریہ۔ اب کہنے لگے شریعت کے آگے کیا ہے سیاست ہے چلو سیاست کی طرف۔ او سیاست میں لے گئے۔ لے کے ادھر جانا تھا نا! اندر کی طرف، وہ سیاست کی طرف لے گئے۔ او پوچھا بھئی یہ سیاست تمہارا کام نہیں ہے سیاسی بہت لوگ ہیں تم کو زیب نہیں دیتی۔ کہنے لگے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے سیاست کری تھی۔ بھئی اگر حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے سیا ست کری تھی تو اس سیاست نے مسلمانوں کے ٹکڑے نہیں کیے، مذہب کے ٹکڑے نہیں کیے۔ اس سیاست نے مسلمانوں کو یکجا کیا۔ تمھاری سیاست مذہب کے ٹکڑے کررہی ہے، مسلمانوں کے ٹکڑے کررہی ہے، مذہب کے کیا ملک کے بھی ٹکڑے کررہی ہے۔

اگر وہ سیاست ہے جو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم والی تھی تب تو ہم تمارے ساتھ ہیں نا! اگر یہ سیاست ہے

تو پھر ہم کہتے ہیں خدارا اِن نوجوانوں کے اندر ایک خزانہ بند ہے اِن کو بجائے سیاست کے ان کو روحانیت میں لگا۔

سیاست سے اگر اِن کو کرسی ملی تو تم کو ملے گی نا، اِن کو تو نہیں ملے گی نا، یہ تو جیسے ہیں ویسے ہی ہیں نا۔ اگر یہ روحانیت میں چلے گئے تو کچھ نہ کچھ تو مل ہی جا ئے گا نا۔ بچہ سکو ل میں پڑھتا ہے زیادہ نہیں، ا ب تو جان ہی جاتا ہے نا۔ اگر یہ روحانیت میں چلے گئے زیادہ نہیں قلب تک پہنچ ہی جائیں گے نا۔ یہ دل والا علم یہ مدرسوں میں نہیں ملتا، یہ مساجد میں نہیں ملتا، یہ کتابوں میں بھی نہیں ملتا، کتابوں میں اِشارے ہیں۔
 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ مجھے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے دو علم حاصل ہوئے۔ ایک تمھیں بتایا اور اگر دوسرا بتاؤں تم مجھے قتل کردو۔

وہ دوسرا کون سا علم تھا جس سے ان کو قتل کردیا جاتا۔ ہم سو چتے تھے پتا نہیں کتنا خطرناک ہوگا، نہیں وہ دل والا علم تھا۔

جب ہم نے اِ سکی آواز اٹھائی تو واجب القتل کے فتو ے لگنا شروع ہوگئے

 

وہ یہی علم تھا۔ قرآن مجید میں بھی اِس کے اشارے ہیں کہ خضر علیہ سلام کو علمِ لدنی تھا۔ اِشارہ ہے یا اللہ تعالیٰ ا پنے رسولوں میں سے جس کو چاہے علمِ غیب کے لیے چن لیتا ہے۔ یہ اشارے ہیں علم نہیں ہے۔ ہمارے عالموں نے اس علم کو قرآن مجید سے ڈھونڈنے کی کوشش کری، ہر تفسیر کا مطلب سمجھنے کی کوشش کری لیکن وہ علم نہیں ڈھونڈ سکے۔ آ خر یہ ہی کہا کہ وہ علم ہے ہی نہیں ہے۔ اگر ہوتا تو قرآن مجید سے الگ کہاں ہوتا۔ لیکن یہ نہیں پتا کہ وہ علم حضور پاک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے سینے مبارک میں ہے اور سینہ بائی سینہ، سینہ بائی سینہ مستحق لوگوں کو ملتا ہے۔
 

حضور پاک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے تین علم عطا ہو ئے ایک زبان والوں کے لیے، ایک دل والوں کے لیے اور ایک صرف میرے لیے۔
 

اب وہ دل والا علم کس طرح ہے۔ لوگ کہتے ہیں درویشو ں کا خیال ہے۔ لوگ کہتے ہیں ہم نے دل دیکھا ہے گوشت کا لوتھڑا ہے اِس کی زبان نہیں ہے یہ کیسے اللہ للہ کر سکتا ہے یہی کہتے ہو نا! اگر تمھیں حقیقت معلوم ہوجائے کہ وا قعی یہ دل اللہ اللہ کرسکتا ہے تو یقین کرو تمھیں اِس کے بغیر نیند ہی نا آئے۔ تم نے کہا یہ خیا ل ہے، او درویش کہتے ہیں یہ زبان، یہ بھی تو گوشت کا لوتھڑا ہے نا! یہ اللہ اللہ کیسے کرتی ہے۔ وہ گو شت کا لوتھڑا ادھر لٹکا ہوا ہے دو پسلیوں کے درمیا ن اور یہ گوشت کا لوتھڑا اِدھر لٹکا ہوا ہے دو جبڑوں کے درمیا ن، وہ بھی گوشت اور یہ بھی گوشت۔ اِس گوشت کے لوتھڑے کو طاقت نہیں ہے اللہ اللہ  کرے۔ اِس کو اللہ اللہ کرانے کے لیے کوئی مخلو ق ہے او جو سینے کے سینٹر (center) میں ہے اس کا نام ہے اخفیٰ۔ وہ مخلوق اِس گوشت کے لوتھڑے کے ذریعے بولتی ہے۔ اگر کسی میں وہ مخلوق نہ آئے اس کو گونگا بو لتے ہیں ڈاکڑ کہتے ہیں زبان تو صحیح ہے یہ بولتا کیوں نہیں ہے۔ اِنسانوں اور جانوروں کا اِن مخلوقوں کا فرق ہے۔ اگر یہ مخلوقیں جانوروں میں ہوتیں تو وہ بھی کچھ نہ کچھ بولتے، توتلا ہی بولتے، کیونکہ زبانیں تو ان کی بھی ہیں۔ جس طرح اِس زبان کو بلوانے کے لیے وہ مخلوق ہے اِسی طرح وہ جو گوشت کا لوتھڑا ہے۔ اس کو عربی میں فواد کہتے ہیں اور وہ جو سا تھ مخلو ق ہے اس کو قلب کہتے ہیں فرق یہ ہے کہ یہ مخلوق آزاد ہے اور وہ مخلوق ایک لاکھ اسی ہزار جالوں کے اندر بند ہے۔ اگر کوئی شخص اس مخلو ق کو بھی جگالے تو جس طرح یہ زبان اللہ اللہ کرتی ہے اِس طرح وہ دل بھی اللہ اللہ کرتا ہے۔ اب وہ مخلوق جاگے گی کیسے۔ وہ تو ایک لاکھ اسی ہزار جالوں کے اندر بند ہے۔
 

اگر کوئی شخص انڈے کی خاصیت سے بے خبر ہو اسے کہا جائے یہ ہَوا میں اڑے گا، یہ چوں چوں کرے گا وہ کہے گا تو غلط کہتا ہے نہ اِس کی ٹا نگیں ہیں، نہ زبا ن ہے نہ پَر ہیں روز توڑ کر دیکھتا ہوں، کھاتا ہوں کچھ بھی نہیں، تو کہتا ہے یہ ہَوا میں اڑے گا۔ اس کا نام بیضہ ہے۔ یہ تمھاری عبرت کے لیے ہے تمھارے اندر بیضہِ ناسوتی ہے اس میں اِک مرغ بند ہے اور اِس کے اندر ایک مرغِ لاہوتی بند ہے۔ اس کو مرغی چاہیے اور اِس کو مرشد چا ہیے۔ مرغی کیا کرے گی اس کے حساب سے اس کو گرمی پہنچائے گی اور مرشد اس کے سینے کے حساب سے اس میں اللہ کا نور پہنچا ئے گا۔ جب وہ انڈہ پھٹے گا اس کو کو ئی نہیں سکھائے گا بغیر سیکھے سکھائے چوں چوں کریگا، چوں چوں اس کی فطرت ہے اور جب یہ پھٹے گا اس کو بھی کوئی نہیں سکھائے گا۔ بغیر سیکھے سکھائے اللہ اللہ کر ے گا، کیونکہ اللہ اللہ اِس کی فطرت ہے۔
 

اس وقت آ دمی کہے گا میں تو اللہ اللہ نہیں کررہا میرے اندر سے کوئی چیز اللہ اللہ کررہی ہے، وہ اس کا قلب جا گ اٹھا۔ یہا ں سے پھر دو طرح کی تسبی چلتی ہے ایک زبان والوں کی تسبی اور ایک دل والوں کی تسبی۔ زبان والوں کی تسبی کیا کرتی ہے، وہ کرتی ہے ٹِک زبان کرتی ہے اللہ، وہ کرتی ہے ٹِک زبان کرتی ہے اللہ۔ یعنی اس کا کام صِرف ٹِک ٹِک کرنا ہے۔ اب اس ٹِک ٹِک کے بغیر بھی اللہ اللہ کر سکتے ہیں تو کیوں انگلیاں تھکا تے ہیں، اِس میں کوئی راز ہوگا نا! جس طرح بادل آپس میں ٹکراتے ہیں تو بجلی بنتی ہے۔ اِسی طرح جب اللہ اللہ آپس میں ٹکراتا ہے تو نور بنتا ہے۔ لیکن وہ جو نور بنا وہ ا نگلیوں میں، اللہ اللہ بھی باہر، وہ نور بھی باہر، دھیان بھی باہر، عبادت ہے روحانیت نہیں ہے۔ وہ جو نور بنا وہ اب تمھارے کام نہیں آئے گا۔ اگر کام آئے گا تو یومِ مِحشر میں کام آئے گا، وہ وہا ں جمع ہوجائے گا نا! اسی طرح کی ٹِک ٹِک تمھارے اندر ہورہی ہے، وہ دل کی تسبی ہے۔ اس دل کی تسبی کے سا تھ یہ زبان اللہ اللہ نہیں مِلا سکتی، وہ جو اندر قلب جاگ اٹھا وہ اس کے ساتھ اللہ اللہ مِلاتا ہے۔ اب تم اس مخلوق کے استاد بن گئے کہ تیری تسبی یہ ہے۔ ا ب تم اس کے سا تھ اللہ اللہ ملوانا شروع کیا، تین سال تک ملایا۔ کبھی مِلا کبھی ہٹا، کبھی مِلا کبھی ہٹا اور تین سال کے بعد اِتنا پختہ ہوگیا کہ تم ڈٹ کر سوتے رہے اور اللہ اللہ ہو تی رہی۔
 

اس وقت سلطان صاحب نے فرمایا ’ کچھ جاگ دیاں ستے ہو، کچھ ستیاں جاگ دے ہو‘۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو جاگ کر عبادت کرتے ہیں

ساری رات لیکن سوئے ہوؤں میں شامل اور کچھ لوگ بستروں پر سورہے ہیں ان کے دل اللہ اللہ کر رہے ہیں۔

حضور پاک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ’ہم سو تے ہیں ہمارے دل نہیں سوتے‘۔


اب ان ٹِک ٹِکوں کا کیا کام ہے، وہ خون کو آگے بھیجتی ہیں نس نس میں پہنچاتی ہیں۔ پھر خون اوپر آتا ہے پھر وہ ٹِک ٹِک نس نس میں پہنچا تی ہے۔ اب اس ٹِک ٹِک کے سا تھ اللہ اللہ مِل گیا۔ اب یہ اللہ اللہ ٹِک ٹِک کے ذریعے نس نس میں چلا گیا ، پورے خون میں چلا گیا۔ جب اللہ اللہ نس نس میں چلا جاتا ہے، پورے خون میں چلا جاتا ہے اس وقت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں تو ایک دفعہ اللہ کرے گا تجھے ساڑھے تین کروڑ اللہ اللہ کرنے کا ثواب ملے گا۔ فرماتے ہیں کیسے ملے گا کہ تیرے اندر ساڑھے تین کروڑ نسیں ہیں دل نے ایک دفعہ اللہ کری ساڑھے تین کروڑ نسیں گونج اٹھیں۔ سلطان صاحب فرماتے ہیں بہتر(72) ہزار اور ثواب ملتا ہے اگر کِسی کا دل ایک دفعہ اللہ کہے تو۔ یہ جو مسام ہیں جہاں سے پسینہ آتا ہے یہ بہتر(72) ہزار ہوتے ہیں۔ دل نے ایک دفعہ اللہ کہا، بہتر(72) ہزار آوازیں یہاں سے بھی گونجیں۔

پھر علامہ اقبال نے فرمایا، پھر خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضائ کیا ہے۔ فرمایا خودی کو کر بلند اِتنا

اور خودی کا مطلب سمجھایا

خودی کا سرے نہاں لا اِلہٰ اِ لا اللہ۔ کہ تو لا اِ لہٰ اِ لا اللہ کا اِتنا ذکر کر، لو گ کہیں مجنوں ہے اور منا فق کہیں ریاکار ہے۔

ہمیں لند ن میں ایک ڈاکٹر مِلا، وہ ولی ڈاکٹر تھا۔ کہنے لگا بات اِس سے بھی آگے ہے، کہ کیا ہے۔ کہ اِنسان کے جسم میں کھربوں جراثیم ہوتے ہیں، جب خون میں اللہ اللہ جا تا ہے تو وہ بھی اللہ اللہ کرنا شروع کردیتے ہیں، تو بتاو وہ ثواب کِس کو مِلے گا۔ جب کِسی کے نس نس میں نور چلا جا تا ہے، پورے خون میں نور چلا جاتا ہے تو وہ نور بن جاتا ہے۔ لوگ تو حضور پاک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو بھی نور ماننے سے قاصر ہیں۔ لیکن عام آدمی جس کے نس نس میں نور چلا جائے وہ نور بن جا تا ہے۔ وہ جو پہلا طبقہ ہے تسبی والا، وہ مسلما ن کا ہے۔ آ پ دِن رات تسبی پڑھتے رہیں، نوافل پڑھتے رہیں، ان کا تعلق ظاہر سے ہے آپ مسلمان ہیں آ پ مومن نہیں ہوسکتے۔ مسلمانوں میں بہتر(72) فر قے ہیں۔ زبانی، زبان سے سارے کلمہ پڑھتے ہیں، اِس وجہ سے زبانی سارے ایک ہیں دل سے تو ایک نہیں ہیں نا! دل سے تو ایک دوسرے کے مخا لف ہیں اور مومن ان کی زبا ن بھی کلمہ پڑھتی ہے اور دل بھی کلمہ پڑھتا ہے
 

 

تو مومن کی تشریح ہے، اعراب نے کہا ہم ایمان لے آئے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، نہیں اِن کو کہو صِرف اسلام لائے
 

مومن تب بنو گے جب نور تمھارے دل میں اترے گا۔
 

 

اگر آج کا مسلمان دل سے بھی کلمہ پڑھ لے تو پھر فرقہ واریت ختم ہو گئی نا! زبان سے بھی ایک دل سے بھی ایک۔ پھر مومن نہیں کہتا میں سنی ہوں، میں شیعہ ہوں میں وہابی ہوں، مومن کہتا ہے بس امتی ہوں تمھارا یارسول اللہ  صلیٰ اللہ علیہ وسلم۔ عام آدمی یہاں تک پہنچا نور بن گیا۔ اگر وہ عا لم بھی ہے تو اس کو نور اعلیٰ ا لنور کہتے ہیں اور انہیں کے لیے حضور پاک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے عالم بنی اسرائیل کے نبیوں کی ما نند ہوں گے اور واقعی ان کی توہین دِینِ اسلام کی توہین ہے۔ اگر ان کی توہین کرو گے تو تم نے اسلام کی توہین کری، تو اسلام کی توہین کون کرتا ہے مسلمان تو نہیں کرتا۔ انہیں عالموں نے کافروں کو مسلمان بنایا ہے۔ اگر مسلمانوں میں کہیں فتنہ کھڑا ہوا، فوراً پہنچے جا کے مٹایا۔ ان کو عا لمِ ربَّانی کہتے ہیں
 

اور جو عا لم اِس علمِ باطن کے بغیر ہیں ان کو عا لمِ زبَّانی کہتے ہیں، عالمِ سو بھی کہتے ہیں اورا ن کے لیے 
 

حدیث شریف میں ہے کہ جاہل عالم سے ڈرو اور بچو۔ اصحا بہ نے پوچھا عالم بھی اور جاہل بھی، کہ جس کی زبان عالم اور دل

 سیاہ یعنی جاہل ہو۔

 

یہ عالم کافروں کو مسلمان نہیں بناسکے، کافروں کو مسلمان نہیں بناسکے لیکن مسلمانوں کو کافر کہہ سکتے ہیں۔ ان عالموں نے فتنے مٹائے اور یہ روز ایک نیا فتنہ کھڑا کردیتے ہیں۔ اب وہ پہلا درجہ مسلمان ، پھر مومن، پھر عالم باعمل، اِس کے بعد پھر ولایت شروع ہوتی ہے۔ اب ولایت کیا ہے، لوگ کہتے ہیں پتہ نہیں ولی کہاں سے آ تے ہیں۔ یقین کرو اِس کا راز پتا چل جائے تو بڑا آسان ہے ولایت، اگر اس کا راز ہی نہیں ہے، تو بڑی دور ہے بڑی مشکل ہے۔ تووہ ولایت کیا ہے، جو بھی بچہ اِس دنیا میں آیا خواہ کافر کا بچہ آیا ، وہ ولایت کا راز لے کے آیا اور تاریخ گواہ ہے کہ کافروں کے بچے مسلمان ہوئے، ولایت کا راز سِیکھا اور بڑے بڑ ے ولی بنے۔ اگر کافر کا بچہ وہ ولایت کا راز لے کے آیا، تَو کیا مسلما نوں کے بچو ں میں وہ راز نہیں ہو گا۔
 

آ پ نے دیکھا ہوگا رات کو سوتے ہو دوسرے شہر میں گھو متے ہو، خواب میں۔ تم نہیں ہوتے لیکن تمھا رے اندر کی کو ئی چیز ہو تی ہے

وہ نفس ہے وہ شیطا نی چیز ہے، وہ شیطا نی محفلوں میں گھومتی رہتی ہے۔
 

باقی جو چیز یں ہیں وہ تمھا ری نسو ں میں چپٹی ہوئی ہیں، سو رہی ہیں۔ جب اللہ کا نور ان نسوں میں پہنچا، ان تک پہنچا، تَو وہ بھی بیدار ہو گئیں۔ جب وہ بیدار ہوگئی، انھوں نے اندر اللہ اللہ کر نا شر وع کردی۔ ان کی اللہ اللہ سے تمھا رے میں شعور آ گیا، نور کا شعو ر آ گیا۔ اب تم نے خواب میں دیکھا حضور پاک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے رو ضے کے گرد منڈلا رہے ہو، خا نہ کعبہ کا طواف کررہے ہو، تَو ولیوں کے درباروں کی طرف تمھا را رخ ہو گیا۔ وہ ان چیزوں سے جو اندر بید ار ہو گئیں۔ ان کی غذا گو شت رو ٹی نہیں ہے ، ان کی غذا اللہ کا نو ر ہے۔ ہر وقت اللہ اللہ ہو رہی ہے، اللہ اللہ کے نور سے ان کی پرورش ہو رہی ہے۔ با رہ (12) سا ل لگے، وہ مخلو قیں ہیں، جس طر ح جِن فر شتے ہیں ، بارہ (12) سا ل لگے وہ با لکل با لغ ہو گئیں۔ اب تم نے سوچا دیکھیں حضور پاک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم کیا کر رہے ہیں ، تم نے سوچا وہ اِ س سینے سے نکلیں حضور پاک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدمو ں میں پہنچ گئیں۔ اس وقت بلھے شاہ نے فرمایا ’ لو کی پنج و یلے عا شق ہر و یلے، لو کی مسیتی عا شق قد ماں ‘۔ جو لو گ پا نچ وقت رب کو یا د کرتے ہیں ان کی اِنتہا مسجد ہے با جماعت ہو جا ئیں گے اور کیا کریں گے۔ لیکن جو لو گ اِس کے سا تھ ہر وقت وقت اللہ اللہ بھی کر تے ہیں وہ تَو حضور پاک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں پہنچ جا تے ہیں کہ قدمو ں میں پہنچ گئے نوازے تَو گئے۔
 

اب تم نے سو چا کہ دیکھیں اوپر کیا ہورہا ہے، تم نے سو چا وہ سینے سے نکلی اوپر پرواز کر گئیں۔ فرشتوں نے روکا نہیں رکیں کہنے لگے جو

کچھ بھی ہے بیت ا لمعمو ر سے آ گے جل جا ئے گا اور وہ بیت ا لمعمور سے بھی آ گے چلی گئیں ، و ہا ں پہنچ گئیں جہاں رب کی ذات ہے۔

ظا ہری جسم سے حضور پاک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے اور اِن مخلوقو ں سے ولی و ہا ں پہنچتے ہیں۔

اس و قت فر شتوں نے کہا کہ واقعی انسان اشرف المخلوقات ہے، اس وقت کہا اِ س وقت نہیں۔ اِ س کے بعد تم مرگئے۔ ہما را عقید ہ ہے کہ مر نے کے بعد نبی ہے یا ولی ہے سب کی رو حیں آ سمانوں پہ چلی جا تی ہیں۔ یہی عقید ہ ہے تو پھر درباروں میں کیا ہے۔ دربا ر وا لے کی بھی رو ح آ سمان پہ چلی گئی اور وہ جو اضا فی مخلو قیں تھیں وہ ولی بن کے دربار پہ بیٹھ گئیں۔ لوگو ں کو فیض پہنچا تی ہیں ، نما ز پڑ ھتی ہیں ، ذ کر کر تیں اور قیامت تک اِ ن کا ثواب ان کی رو ح کو مِلتا ر ہے گا۔

 

شبِ معر ا ج میں حضو ر پا ک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم موسٰی علیہ سلام کی قبر سے گز رے۔ دیکھا مو سیٰ علیہ سلام قبر میں نماز پڑھ ر ہے ہیں ، فو راً او پر پہنچے دیکھا مو سیٰ علیہ سلام و ہا ں بھی مو جود ہیں۔ مجد د ا لف ثا نی سے کسی نے پو چھا کہ میں نے آ پ کو فلا ں دِ ن خا نے کعبے میں دیکھا، فر ما نے لگے میں نہیں گیا دو سر ے نے کہا اسی د ِن حضو ر پا ک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے رو ضے پہ دیکھا، میں نہیں گیا، تیسر ے نے کہا اسی دِ ن غو ث پا ک رضی اللہ تعالٰی کے رو ضے پہ دیکھا فر ما نے لگے میں نہیں گیا۔ لو گو ں نے پو چھا پھر کیا تھا، فر ما نے لگے میر ا ا ند ر تھا۔ وہ جو ا ندر ہے یہا ں جتنے بھی بیٹھے ہیں سب کے ا ند ر وہ مخلو قیں مو جو د ہیں۔ اگر تم ان کا راز سِیکھ لو ، ان کو غذ ا پہنچاؤ تو پھر تم مر کے بھی زند ہ ہو ، پھر اد ھر بھی ہو اور اِد ھر بھی ہو۔  اگر تم نے ان کو نہیں چھیڑا تو وہ چا لیس سال کے بعد ختم ہونا شروع ہوجاتی ہیں، پھرتم زندہ ہی مردہ ہو۔
 

پھر علا مہ اقبا ل فر ما تے ہیں، ’ اب نہ تیری ضرب کاری نہ میری ضرب کاری ‘۔ 
 

اب تو اللہ ھو کریا میں اللہ ھو کراؤں وہ جو اند ر اللہ ھو کر نے والی چیزیں وہ ہی ختم ہو گئیں۔
 

غو ث پا ک کی ایک وقت میں نو آ د میوں نے دعو ت پکا ئی، سنا ہو گا نو کے گھر جا کے کھا نا کھا یا۔ کچھ تو کہتے ہیں کِیسے ہو سکتا ہے، جو آ پ کو چا ہنے وا لے ہیں وہ کہتے ہیں ایسا ضرور ہوا ہے پتہ ان کو بھی نہیں کِیسے ہوا ہے۔ غو ث پا ک رضی اللہ تعالٰی کا جسم مبارک مسجد میں موذن کے پا س اور وہ جسم کے اند ر کی چیزیں ادھر جا کے کھانا کھا رہی تھیں۔ اگر کھانا کھایا ہو گا، بیٹھی بھی ہونگی، اٹھی بھی ہونگی، با تیں بھی کری ہو نگی۔ اور جس میں اٹھنے، بیٹھنے اوریا توں کی طا قت ہے، نماز میں یہی کچھ ہے ہو سکتا ہے ان کی نماز خانہ کعبہ میں ہو تی ہے۔ اور وہ جو کہتے ہیں کہ درویش کی نما ز عرشِ معلی میں ہو تی ہے۔

 

ایک درویش نے کہا کہ درویش کی نما ز عرشِ معلی میں ہوتی ہے، مولوی صاحب ڈ نڈ ا لے کے اس کے پیچھے بھا گے۔ 
 

میں تو دیوار کے اوپر نہیں جا سکتا تو عرشِ معلی میں کیسے جا تا ہے؟
 

یہ جسم عرشِ معلی میں نہیں جا تا ہے، وہ جو جسم کے ا ند ر کی چیزیں ہیں وہ عر شِ معلی میں جا تی ہیں۔ اب غو ث پا ک رضی اللہ تعالٰی کا جسم مبا رک مسجد میں تھا تو وہ آ زاد تھیں۔ قبرمیں چلا گیا جسم مبارک تب بھی وہ آزاد ہیں نا۔ اوراس وقت بھی عرشِ معلی میں نمازیں پڑھتی تھیں اوراب بھی پڑھتی ہیں اور قیا مت تک پڑھتی ر ہیں گی۔ تو ثواب کِس کو ملے گا؟ جس کی ہیں۔ اللہ تعا لی کے ننا وے نام ہیں ایک ذاتی ہے 98 اٹھا نوے صفاتی ہیں، 98 اٹھانوے مِل کر بھی اِ سمِ ذات کو نہیں پہنچ سکتے۔ وہ ایک لا کھ چوبیس ہزار نبی صفا تی اِسم والے، صفا تی اِسم والے مِل کر بھی اِسمِ ذ ات والے کو نہیں پہنچ سکتے۔ مو سیٰ علیہ سلام نے کہا، اے اللہ دیدار دے ، جواب آ یا تاب نہیں ہے۔ کہنے لگے کِسی میں تا ب ہو گی، جواب آ یا ایک میرا حبیب  صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور اسکی امت۔ تو موسیٰ علیہ سلام کو جلا ل آ گیا، میں نبی ہو کے امتی کے برابر نہیں، جلو ہ دے دیکھی جا ئے گی۔ جلو ہ پڑ ا مو سیٰ علیہ سلام بے ہوش ہو گئے۔ کیونکہ مو سیٰ علیہ سلام یا رحمٰن کا صفا تی اِ سم کا ذکر کر تے تھے اور ان کے جسم میں جو نو ر آ یا وہ بھی صفا تی نور تھا اور کیا وجہ ہے کہ موسیٰ علیہ سلام اِ س دنیا میں کوہِ طور میں بیہو ش ہو ئے؟ اور حضور پاک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم سا منے جا کے مسکر ا ر ہے ہیں۔

مو سیٰ علیہ سلام کے جسم میں یا رحمٰن کا صفا تی نور تھا وہ ذ ات کی تا ب نا لا سکا، اور حضو ر پا ک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے جسم میں اِسمِ ذ ا ت کا ذ ا تی نور تھا ذ ا ت ، ذ ا ت کے سا منے مسکرا یا۔
 

اور حضور پا ک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے طفیل وہ اِسم اِس امت کو مِلا تب اِس کو فضیلت ہوئی۔ اور امت اِس سے ڈرتی ہے، یا

 محروم ہے۔
 

بنی اسر ا ئیل کے نبی ر شک کر تے ہیں اِس امت کے اوپر۔ وہ دیدار کو ترستے رہے، یہ کہتے ہیں ہم دیدار کر تے ہیں۔ اگر اِن کو فضیلت ہے تو اِسمِ ذ ا ت سے ہے۔ (حضرت ابراہیم بن ادھم ) فرما تے ہیں میں نے 70 ، ستر مر تبہ اللہ کا دید کِیا ہے۔ حضر ت اِمام ا بو حنیفہ فر ما تے ہیں میں نے 99 ، ننا و ے د فعہ اللہ کو دیکھا ہے۔ سلطا ن صا حب فرماتے ہیں اِدھر دیکھتا ہوں مخلوق نظر آ تی ہےاوپر دیکھتا ہوں اللہ نظر آ تا ہے۔ یہ اِ سمِ ذ ا ت کِسی نبی کو نہیں مِلا، مِلا تو حضو ر پاک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو مِلا۔ حضو ر پاک  صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے بعد ، 9، نواصحابہ کرام کو مِلا، جنھوں نے اِ س کو پھیلا یا۔ یہ چشتی، نقشبند ی، قا در ی ا سی میں آ تے ہیں۔ پہلے نو تھے اب چا ر رہ گئے۔چا ر بھی ایک کٹ گیا، سہر ور دی، تین رہ گئے، تین رہ گئے اب۔ اچھا، پھر نو اصحا بہ سے پھر ان با رہ اِ ما مو ں کو جو وقت کے غو ث تھے، اجتما عی طو ر پہ پھر ان کو دے دیا گیا، پھر انھو ں نے اِ س کو پھیلا یا۔ پھر با رہ اِماموں سے لے کے انفراد ی طور پہ غوث پاک کو دے دیا گیا، تب آپ غوث اعظم کہلا ئے۔ اب پھر غوث پا ک رضی اللہ تعالٰی کو حکم ہوا کہ اب تم اِس کو پھیلاؤ۔ اب پھر

غو ث پا ک رضی اللہ تعالٰی نے پھر ولیوں کو پھیلا نا شروع کر دیا۔ اب یہ اِسمِ ذات غو ث پا ک رضی اللہ تعالٰی کے پا س ہے۔ آ پ کو کہیں سے بھی حا صل ہو جا ئے سمجھیں کہ آپ غوث پاک رضی اللہ تعالٰی سے ہی آ پ کو اِ سمِ ذ ات حا صل ہُو ا ہے۔ پھر جب یہ ولیوں تک پہنچا ، اُن کے سینوں تک پہنچا، پھر اِس کے بعد یہ بگڑنا بھی شر وع ہو گیا ۔ بگڑا کیسے؟
 

ولی تھا اِسمِ ذا ت لے کے آیا، لوگوں کو اِسمِ ذات سِکھایا، قلب کا اِسمِ ذ ات سِکھایا۔ جب وہ دنیا سے چلا گیا، اُس

 کا بیٹا ولی بن کے بیٹھ گیا۔
 

ولایت وراثت نہیں تھی، اگر وراثت ہوتی تو نبوت وراثت ہوتی نا! بھئی نبوت ہوتی نا! وراثت، نبوت اعلیٰ مقا م ہے نا ولایت سے۔
 

اگر نبوت وراثت نہیں ہے تو ولایت کیسے وراثت ہو سکتی ہے۔ اگر نبی کا بیٹا نبی نہیں ہو سکتا تو ولی کا بیٹا ولی کےسے ہو

 سکتا ہے۔
 

پھر کیا ہُوا، پھر اُس کا بیٹا ولی بن کے بیٹھ گیا، صدیوں سے یہ رسم چلنا شروع ہو گئی۔ 
 

 

ہو سکتا ہے اُن میں کوئی ایک آدھ ولی آ بھی جا ئے لیکن ساری اُن کی سا ری اُولا د ولی تو نہیں ہو سکتی نا! اب ہما رے لوگ گئے ان سے جا کے بیعت ہو نا شر و ع ہو گئے۔ جا کے پو چھا، او سُنا تھا کہ قلب کا بھی معاملہ ہوتا ہے ، کہنے لگے یہ تو بڑا مشکل کام ہے جنگلو ں میں جا نا پڑ تا ہے یہ تو بڑ ا جلا لی ہے تُو پا گل ہو جائے گا، کیا تُو جنگل میں جائے گا بہتر ہے کہ تُو شجرہ شریف پڑھ لیا کر۔ ہا ں بس اِسی سے رب تُجھ پہ راضی ہو جا ئے گا۔ وہ بےچارہ ساری عُمر ہی شجرہ شریف پڑھتا رہا۔ شجرہ شریف سے صِرف، صِرف شناخت ہُو ئی نا! کہ اُس ولی کی کِس کِس سے نسبت ہے اور تو اُس میں کچھ نہیں نا! صِرف شنا خت تھی نا!۔ وہ شجرہ شریف پڑھتا رہا، آ خر میں اُس نے بھی گھر میں وہ رکھ د یا ایک طر ف، پھر آ گے ہما ر ے عا لم تھے۔ اُ نھو ں نے دیکھا یہ خا لی پیلی گد ی نشین، سجا دہ نشین اگر یہ بیعت کرسکتے ہیں تو ہم بیعت نہیں کر سکتے۔ وہ ہما ر ے تعویذ لکھنے والے، اُنھو ں نے بیعت کرنا شر و ع کر دی۔ جب بیعت کر نا شروع کر دی تو مر ید و ں نے کہا بھئی اب قلب کا سلسلہ، اُنھو ں نے کہا بس یہ ہے کہ خلقِ خُد ا کو را ضی رکھو، اُن کو فیض پہنچا ﺅ اور یہ تعویذ لکھ کے اُن کو دو، بس اِسی میں اللہ مِل جا ئے گا۔ تو وہ بھی تعویذ لکھنا شر وع ہو گئے۔ خیا ل اب اِد ھر چلا گیا نا! تعویذوں کی طر ف، اُن کا خیا ل شجرہ کی طرف چلا گیا نا! وہ اللہ کو بھو ل ہی گئے نا!۔ اُس کے بعد ہمارے عا لمو ں نے دیکھا، بھئی ہم تو اِن سے بہتر ہیں اِتنا علم جا نتے ہیں اگر اُنھو ں نے دس، بیس آ دمی پیچھے لگا لیے، تو ہم نہیں کر سکتے ایسا، وہ عالموں نے بیعت کرنا شروع کردی۔ جب عا لمو ں نے بیعت کرنا شروع کردی، تو مریدوں نے کہا کچھ قلب کا معاملہ، بس منطق سِیکھ لو، فلسفہ سِیکھ لو، بحث کرنا سِکھ لو، پھر کیا ہُوا کی ’ نیم حکیم خطرہ جا ن، نیم مُلا خطرہ اِیمان ’ ۔ پھر وہ جو اُن کے مُرید تھے وہ بحث مبا حثے میں لگ گئے، ہر جگہ بحث مباحثہ شر وع ہو گیا۔ پھر ہما رے مُفتیوں نے دیکھا یہ تو ہما رے شا گرد تھے عا لم، اِن کے اِ تنے مُرید ہو گئے تو ہم کیوں پیچھے رہ جا ئیں اُنہوں نے کہا ہم بھی بیعت کر تے ہیں جی آ جا ﺅ، اب بیعت شروع ہو گئی۔
 

اُنھوں نے پھر کیا کِیا، پھر اپنے شا گردوں کو وہ فتوٰی سِکھا دیا کہ جو بھی ذرا ہلے جُلے اُس پہ فتوٰ ی لگا دینا، ہما رے بغیر جو بھی ہلے جُلے اُس پہ فتوٰی لگا دینا۔ اور تُم ، اِس کا ثبو ت ہم تُمہیں دیتے ہیں۔ ابھی روحانی سفر کو دیکھ لو اِ س کے اُو پر جو فتوے لگائے اُنہیں کے شا گردوں نے لگا ئے نا! بھئی اُنہیں مُفتیوں کے شا گردوں نے فتو ے لگا ئے نا! اور اِ س کو پڑھ کے دیکھو آ یا

 اِ س پہ فتو ے لگتے ہیں یا نہیں۔

 

اب اُمت با لکل ہی اِسمِ ذ ات سے دور چلی گئی۔ اب اُن کو پتا ہی نہیں ر ہا کہ اِسمِ ذ ات بھی ہو تا تھا۔ کچھ کہنے لگے ہوتا تھا لیکن پرانے زمانے میں اب نہیں ہے۔ لیکن جِس دِن یہ اِسمِ ذ ات دنیا سے چلا گیا، دنیا کو حق ہی نہیں ہے زندہ رہنے کا، اُسی دِن قیامت کو آجانا ہے۔ یہ اِسمِ ذات ہر زمانے میں ہے صِرف ایک اِس کی شناخت نہیں ہے ۔ اِس وقت جتنے بھی آدمی ہیں کِسی نہ کِسی سے بیعت ہوں گے۔ ہر شخص اپنے پیر کو ولی سمجھتا ہے تب اُس سے بیعت ہُوا نا! کیونکہ بیعت تو و لی کی ہوتی ہے، اب سارے تو ولی نہیں ہو سکتے نا! سب کے پیر ولی نہیں ہو سکتے۔ 
 

اِس وقت دنیا میںتین سو ساٹھ 360, ولی ہو تا ہے، چالیس (40) ابدا ل ہو تا ہے۔ ابدا ل کو بھی اجا ز ت نہیں کہ وہ بیعت کر ے ۔

صِرف غوث اور قطب، ایک غو ث تین قطب،وہ ابدا ل، ایک غو ث تیں قطب وہ بیعت کے مجا ز ہیں یا اُن کے آگے خلیفے۔

اب جدھربھی جاﺅ غوث زمان اور قطب زمان، غو ث زمان اور قطب زمان، اب اِن کو پہچاننا بڑ ا مشکل ہو گیا۔ ولی کو ولی پہنچانتا ہے، ولی کو ولی پہنچا نتا ہے چور کو چور پہنچانتا ہے۔ اِن کو پہنچاننے کے لیے سب سے پہلے تمہیں ذاکر قلبی بننا ہو گا، دل کی دھڑکن کواللہ اللہ میں لگانا ہو گا۔ حدیث شریف میں ہے کہ ولی کی پہنچا ن، جِس کی محفل میں اللہ اللہ شروع ہو جائے۔ جب تُمہاری دل کی دھڑکنیں اللہ اللہ میں لگ جائیں گی، پھر یہاں نزدیک، نزدیک ہی دربار ہے عبد اللہ شاہ غا زی کا و ہا ں چلے جا نا، تو وہاں بھی اللہ ہے یہاں بھی اللہ ہے۔ جس طر ح بادل ٹکراتے ہیں گڑگڑاہٹ بھی ہوتی ہے، اِسی طرح جب اللہ اللہ ٹکراتا ہے تو رقعت بھی ہوتی ہے تمہارے دل میں رقعت پیدا ہو جا ئے گی تمہارا ذکر تیز ہو جا ئے گا سمجھ جا ﺅ گے یہ ولی ہے۔ پھر دوسرے دربار پہ چلے جانا، سیہون شریف چلے جانا ، وہاں بھی اللہ یہاں بھی اللہ، وہاں بھی رقعت پیدا ہو جا ئے گی دل کی دھڑکن اللہ اللہ تیز ہو جائے گی، سمجھ جا ﺅ گے کامل ہے۔ پھر اپنے مُرشد کے پا س چلے جا نا ، اگر وہا ں بھی جا نے سے و ہی چیز ہو تی ہے جو سیہو ن شریف میں ہُو ئی تھی، جو غا زی با با پہ ہُو ئی تھی پھر تُمہارا مُرشد کامل ہے، پھر جا ن بھی جاتی ہے جا نے دینا اُ س کو نہیں چھوڑنا۔ پھر تم جیسے بھی ہو پرواہ نہیں۔ سُلطان صا حب نے فرمایا، اساں مُرشد پھڑیا آپے ای لا سی سا را ھو۔ کہ ہم نے مُر شد کو پکڑ لیا اب وہ خُو د ہی ہمارے گناہوں کو معا ف کرائے گا، صا ف کرائے گا ہمارے دل کا زنگ اُتا رے گا۔ بلکہ
 

ایسے مُر شد کے لیے حدیث ہے کہ یومِ محشر میں چمک ر ہیں گے ایک کو نے پہ نبیوں کی طرح، لوگ کہیں گے پتا نہیں یہ کونسا نبی ہے، آواز آئے گی نبی نہیں ولی تھا ۔ لو گ کہیں گے ولی تو ہر زما نے میں ہو تا ہے دیکھیں تو جا کے سہی۔ پہچا ن جا ئیں گے ایک کہے گا اے اللہ میں نے اِ س کو وضو کرا یا تھا، چلو بخش دو، ایک کہے گا اے اللہ میں نے اِس کو کھا نا کِھلا یا تھا چلو بخش دو، ایک کہے گا اے اللہ میں نے اِس کو کپڑا دیا تھا چلو بخش دو، ہزاروں گنہگار اِسی طریقے سے بخشے جا ئیں گے۔ اور جن کو اُن نے خرید ا ہُوا ہو گا بھئی جو اُس کے مُرید ہونگے جن کو خرید ا ہُو ا ہو گا، پھر وہ جدھر جا ئے گا اُد ھر اُن کو بھی لے کے جا ئیں گے۔
 

پھر آ پ ا پنے مُر شد کے پا س جاتے ہیں بار بار جا تے ہیں، بار بار جا تے ہیں، او کچھ بھی نہیں ہو تا تو پھر وہ کا مل نہیں ہے نا! تو پھر تو ایویں ای نکما ہی ہے نا!۔ تو پھر سلطا ن صا حب  نے فر ما یا، اُس کو بو ری میں بند کر دینا یہا ں کر ا چی میں سمند ر نز د یک ہے و ہا ں جا کے پھینک د ینا۔ کہتے ہیں کہ وہ سو لہ مخلو قو ں کا قا تل ہے تُمہارے اند ر وہ جو سو لہ مخلو قیں تھیں، جنھو ں نے ر ب تک پہنچنا تھا، رب تک یہ جسم نہیں جا تا ہے وہ مخلو قیں جا تی ہیں۔ تُم نے بیعت کر ی اللہ کو پا نے کے لیے بیعت کری۔ شخصیت پا نا مقصد نہیں مقصد تو رب پا نا تھا، اُس نے وہ سو لہ مخلو قیں ضا ئع کر دیں۔ اگر اُس کے ہز ار مرید ہیں تو سو لہ ہز ار کا قاتل ہے نا۔ پھر قا تل ، وہ ایسی مخلو قیں تھیں، اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے میر ی کچھ ایسی مخلو ق ہے جس کو میر ے سو ا کو ئی نہیں جا نتا، او جس کے اند ر ہیں وہ بھی نہیں جا نتا۔ اور وہ مخلو ق جب اپنے ہا تھ، نُو ری ہا تھ اُٹھا تی ہے اللہ تعا لیٰ اُن کی دعا قبو ل فر ما تا ہے۔ اور وہ مخلو ق تھی تُم مر بھی جا تے اور وہ مخلو ق قےا مت تک تُمہا ری جگہ اللہ اللہ کر تی رہتی، وہ اُن سو لہ مخلو قو ں کا قا تل ہے۔ تو پھر بتا ﺅ جدھر وہ جا ئے گا تُم کو اُدھر لے کے جا ئے گا۔
 

اب ولیوں کے لیے کیا ہے جو ولی بنے ہُو ئے ہیں۔ جس طر ح جھو ٹی ولایت کا دعو ے دار ، جھو ٹی نبوت کا دعو دار کا فر ہے نبی نہیں ہے لیکن اپنے آ پ کو نبی سمجھتا ہے کا فر ہے، اُس کو ما ننے والے بھی کا فر ہو جا تے ہیں۔ اِسی طر ح اگر کو ئی ولی نہیں ہے، اپنے آ پ کو ولی سمجھتا ہے تو پھر وہ کُفر کے نز دیک پہنچ جا تا ہے اور اُس کو ما ننے والے کم بخت اور بے نصیب۔ اب ولی کیا ہے یہ سا رے اپنے آ پ کو ولی سمجھتے ہیں پھر ولی کیا ہے؟ ولی پھر وہی ہے اگر آ پ کی نو ا ز شر یف سے دو ستی ہے تو نواز شریف سے بات چیت ہو اور اُس کو دیکھا ہُوا ہو۔ نا دیکھا ہے نا بات چیت ہے کہتے ہیں میر ا دوست ہے جھوٹ ہے نا!۔ ولی اللہ اللہ کا دوست، اللہ سے بات چیت ہو، اللہ کو دیکھا ہُوا، وہ ولی اللہ ہے۔ نا ں اللہ کو دیکھا ہے ، نا ں اُس سے بات چیت کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ میں اُس کا دوست ہُوں ، کِتنا بڑا فراڈیا ہے۔ بتا، یقین کر و اِ س عِلمِ با طن کے بغیر عِلمِ ظا ہر بیکا ر ہے ۔
 

ایک حدیث شریف میں ہے یہ جو ظاہر ہے یہ با طن کی نقل ہے۔ با ت کہہ دیتے ہیں فتوے تو پہلے ہی کا فی لگے ہُو ئے ہیں ۔ یہ جو دنیا ہے یہ باطن کی نقل ہے اصل اُدھر ہے نقل اِدھر آ یا۔ ایسے سب سے پہلے یہ جو عورت جس پہ تُم مر تے ہو ، یہ بھی نقل ہے نا! اصل تو حو ریں ہیں اُدھر ، تُمہا رے لیے جو اصل ہے وہ حوریں ہیں یہ نقل ہے اُن کی جگہ۔ اُس کے بعد یہ جو تُمہا رے مکا ن تم بنا ئے ہو یہ بھی نقل ہے اُد ھر سو نے چا ند ی کے محلات ہیں اِ د ھر اِ نٹیں گا رے کے مکا ن ہیں یہ بھی اُن کی نقل ہے، نقل ہے نا! اُس کے بعد یہ جو تُم فروٹ کھا تے ہو ، کھا نا کھا تے ہو یہ بھی نقل ہے سب سے پہلے انگور آیا اُوپر سے بہشت سے آیا ، آ دم علیہ سلام نے کھا یا وہ اصل تھا ۔ پھر وہ زمین میں گیا پھر اُ گا، پھر زمین میں گیا او نقلی ہو گیا نا! اب اِس میں زمین کی تا ثیر ہو گئی اور یہ بھی نقل ۔ اور تیسری جس خا نے کعبہ میں تُم جا تے ہو کتنے پیار سے جا تے ہو او یقین کرو وہ بھی نقل ، اصل خا نہ کعبہ بیت المامور ہے۔ اللہ تعا لیٰ نے حضر ت ابراہیم علیہ سلام کو دِ کھا یا خواب میں د کھا یا کہ ایسا ہی نقل خا نہ کعبہ بنا۔ اُنھو ں نے ایسا ہی خا نہ کعبہ بنایا اصل تو اُوپر ہے نا ! اصل میں اصلی جا ئے نا! نقل، اِس میں تو نقلی بھی جا سکتا ہے ، ہر قسم کا آ د می جا سکتا ہے اُس میں تو نقلی نہیں جا ئے گا اُس میں تو اصلی بننا پڑ ے گا۔ اور یقین کر و یہ تُمہا را جو قرآن مجید ہے یہ بھی نقل۔ یہ بھی پرییس سے آ یا ہے کا غذ یہا ں سے خریدا ہے پریس لگا یا نقل ہے نا! اصل جو قرآن مجید ہے اُس میں اصلی پہنچے گا، وہ تو نُوری الفا ظ میں حضور پا ک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے سینے مُبا رک میں ہے ۔اصلی بنو گے تو اصل تک پہنچو گے اگر اصلی نہیں بنو گے تو نقل ہی نقل ہے تُمہا رے لیے اللہ ہو ۔ اور یقین کرو یہ تُمہاری نمازیں بھی نقل او اصل نماز تو مومن کا معراج ہے تو یہ نماز فرقوں میں مُبتلا کر کے لے گئی یہ نما ز صورت ہے۔ مجد د صاحب فرما تے ہیں ہر آ دمی کی نما ز صورت ہے، صو رت نقل کو بو لتے ہیں ، خا صا نِ خُد ا کی نما ز حقیقت ہے۔ فر ما تے ہیں ہر آ د می کو چا ہیے کہ نما ز حقیقت کی تلا ش کرے۔ نما ز حقیقت معراج ہے اور یہ نماز نقل یہ فرقوں میں ، بہتر 72 فرقوں میں تقسیم ہو گئی ہے اب اُس با طن کے بغیر ظا ہر کا کوئی قبولیت نہیں ہے نمازوں کی بھی قبولیت نہیں ہے ۔ کیونکہ ان میں علمِ باطن نہیں ہے نا! باطن کیا ہے؟ ظا ہر لوگوں کو دکھا نے کے لیے، با طن اللہ کو د کھا نے کے لیے۔ ظاہر کے لیے حکم ہے تُو ایسی عبادت کر مسجد میں جا کے کر تا کہ لوگ دیکھیں جا کے تُو نما ز ی ہے اور باطن کے لیے حکم ہے ایسی عبادت کر چُپکے چُپکے کر تُو جان اور میں جانُو اِس کو بھی خبر نہ ہو۔ وہ با طن کی عبا دت کیا ہے؟ وہ جب تُمہا را قلب اللہ اللہ میں لگ جا ئے گا، یا تُمہیں خبر ہو گی تو یا اللہ کو ہو گی اِ س کو بھی نہیں پتا یہ کیا کر رہا ہے ۔
 

 

اللہ تعا لیٰ نے حضور پا ک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو فر ما یا ، قُل ہو واللہ ہو ا حد، کہہ دیجیےء اللہ ایک ہے آپ نے آ مین کہا ۔ آ پ نے لو گو ں کو کہا کہہ دو اللہ ایک ہے جنھو ں نے آ مین کہا مسلما ن ، جنھو ں نے نہیں ما نا کا فر، جنھو ں نے حیل و حُجت کر ی منافق۔ اب تُم کس کو کہتے ہو کہہ دے اللہ ایک ہے بس یہی ایک راز ہے۔ بُلھے شا ہ نے فر مایا ہک نقطے وچ گل مکد ی اے۔ تُم اپنے دل کو کہتے ہو کہہ دے اللہ ایک ہے او جواب دیتا ہے گھر میں آ ٹا ہی نہیں ہے ، حیل و حُجت کر ی نا! پھر کہتے ہو اللہ ا لصمد، اللہ بے نیا ز ہے وہ کہتا ہے بیو ی بیما ر ہے ، نہیں ما نا ۔ لم یا لد و لم یو لد، دل کہتا ہے ڈیو ٹی سے لیٹ ہو گیا چل۔ جو زبا ن میں ہو وہ دل میں ہو وہ صا دق ہے ما نو گے نا! اگر زبا ن میں اور دل میں تو منا فق ہے نا! ۔ کافروں کی زبان اقرار نہیں کرتی ، منا فقو ں کے دل تصدیق نہیں کر تے اور فا سقو ں کے جسم عمل نہیں کر تے ، بتا ﺅ تُمہا را دل تو منا فق تھا اور منا فق دل کی نما ز کیسے ہو گی ، وہ ہی ہیں منا فق دل والے جو بہتر 72, ، فر قو ں میں تقسیم ہو گئے۔وہ دل با طن ہے زبا ن ظا ہر ہے اُس کے سا تھ با طن نہیں ہے وہ فرقوں میں چلی گئی۔
 

اب اُس نما ز کے لیے تُمہیں سب سے پہلے اللہ اللہ سیکھنا ہو گا، دل کی دھڑ کنوں کو اللہ اللہ میں لگا نا ہو گا۔ پھر کو شش کروگے کا م کاج کرتا رہُو ں اللہ اللہ ہو تی رہے، اِس کو بو لتے ہیں ’ دست کا ر میں دل یا ر میں ‘ ۔ پھر کو شش کر و گے ا خبا ر رسا لہ پڑ ھتا ر ہُو ں اللہ اللہ ہو تی رہے کامیابی ہوجا ئے گی ۔ پھر کو شش کر و گے نما ز پڑ ھتا رہُو ں اور اللہ اللہ ہو تی رہے، اُس وقت زبا ن کہے گی کہہ دے اللہ ایک ہے دل کہے گا اللہ اللہ ، اللہ الصمد، دل کہے گا اللہ اللہ لم یا لد و لم یو لد، دل کہے گا اللہ اللہ ۔ اب زبا ن ، جو کچھ زبا ن میں وہ ہی دل میں ، زبا ن اقر ار کر رہی ہے دل تصد یق کررہا ہے اور جسم عمل کر رہا ہے ۔ اب زبا ن میں ظا ہر دل میں با طن ، با طن اور ظا ہر مِل گیا۔ زبا ن ذ کرِ مُفصل میں ہے اور دل ذ کرِ مجمل میں ہے ، زبا ن دلیل سے منو ا رہی ہے کہ کہہ دے اللہ ایک ہے اور دل بغیر دلیل کے ما ن رہا ہے کہ اللہ ہی اللہ۔ زبا ن کا کما ل ہے امریکہ سے بو لتے ہیں یہا ں سُنتے ہو، یہ جو تُمہا را اخفیٰ ہے ےہ اُس کا کما ل ہے ، اِس لو تھڑ ے کا کیا ہے اخفیٰ کا کما ل ہے وہا ں بو لتے ہیں یہا ں سُنتا ہے یہ اور اِس قلب کا کما ل ہے یہا ں گو نجتا ہے عر شِ معلی والے سُنتے ہیں۔ یہ قلب یہا ں گو نجے گا عر شِ معلی وا لے سُنیں گے ۔


 

اُس تُمہا ری نما ز کو یہ دل عر شِ معلی میں پہنچا ئے گا ، وہ نما ز مو من کا معر ا ج ہے ۔
 

اگر پو ری زند گی میں دو رکعا تیں بھی ایسی مِل جا ئیں تو اُن ہز ا رو ں ر کعا تو ں سے بہتر ہے ۔ یہ نما ز حقیقت ہے 
 

اور یہ تُمہا ری پہلی سُنت ہے۔ حضو ر پا ک صلیٰ اللہ علیہ وسلم غا رِ حر ا میں جا تے کیا کر تے ، نما زیں تو تھیں نہیں ذکرِ اِ لٰہی کر تے۔ پھر جب آ پ لو گو ں کو مسلما ن بنا تے، نمازیں اُس وقت بھی نہیں تھیں، نمازیں تو بعد میں اُتریں اُس وقت مسلما ن کیا کرتے ذکرِ اِ لٰہی کر تے ۔ بس ذکرِ اِلٰہی کرتے رہے کئی سا ل کرتے رہے، ذ کرِ اِ لٰہی سے اُن کے سینے منور ہو گئے۔ پھر جب نمازیں اُتریں شبِ معر ا ج میں اُتریں، تو پھر ہو حلقو ں میں نہیں اٹکیں سید ھی سینو ں میں گئیں۔ یہ تُمہا را پہلا رکن بھی ہے ۔ پا نچ رکن ہیں ، پہلا رکن ، کلمہ طیبہ ۔۔۔ اور کلمے کے لیے حدیث شریف ، افضل ذ کر کلمہ طیب اور ذ کر کے لیے قرآ ن مجید فر ما تا ہے ، اُٹھتے بیٹھتے حتیٰ کروٹیں لیتے میر ا ذ کر کر، خر ید و فر و خت میں بھی اِ س سے غا فل نہ ہو نا۔
 

 

یہ تُمہا را پہلا رکن بھی ہے اور یہ تُمہا ری قر آ ن مجید کا پہلا لفظ بھی ہے۔ ا ل م، تُم کہتے ہو حر و فِ مقطعا ت، آ گے چلو۔
 

سُلطا ن صا حب نے فر ما یا، میں کسی مدرسے میں نہیں پڑ ھا میں نے قر آ ن مجید کا پہلا لفظ لے لیا، ا سے اللہ اللہ کر تا رہا۔ 
 

اللہ اللہ کر نے سے میرا سینہ چمک اُٹھا، حضو ر پا ک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے چمکا ہُو ا سینہ دیکھا اور سینے سے سینہ لگا لیا
 

اور سا رے عِلم اِس سینے میں خود بخود ہی آ گئے۔
 

الف ( ا ) سے اللہ اللہ کر ، اگر اِس کی جلا لت سے ڈرتا ہے تو ( ل) سے لا اِ لہ الا اللہ ہی پڑ ھتا رہ، اگر اُس سے بھی ڈرتا ہے تو ( م ) سے محمد الرسول اللہ ہی پڑھ، اگر اِس کی بھی تو فیق نہیں ہے پھر کتا ب میں لگا رہ۔ یہ لو گ (ال م) والے نُو ر سے ہدایت ہیں اور آ گے کتا ب سے ہدایت ہے کتاب کا کو ئی اعتبا ر نہیں تُجھے گمراہ بھی کر سکتی ہے، لیکن ( ال م ) والے نُو ر کی ہدایت والے کبھی گمراہ نہیں ہو تے۔ ایک حدیث شریف میں ہے کہ ذاکر کبھی گمراہ نہیں ہو تا، یہ ما نتے ہیں اُس سے غلطی ہو سکتی ہے گناہ ہو سکتا ہے لیکن یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ وہ دیو بند ی ہو جا ئے ، یہ مر ذ ئی ہو جائے یا و ہا بی ہو جا ئے۔ وہ سُنی کا سُنی ہی رہے گاوہ غیر مقلد کبھی نہیں ہو سکتا۔ ہر آ د می کو گما ن ہے اللہ تعا لیٰ میر ے پہ بڑ ا مہر با ن ہے جس سے پوچھو کیا حا ل ہے بڑا اللہ کا کر م ہے کیو ں ؟ کار بنگلہ ہے کر م نہیں تو اور کیا، او دوسر ے سے پو چھتے ہیں کہ کیا حا ل ہے بڑ ا کر م کیو ں؟ اتنا بڈ ھا ہُو ں اتنی صحت ہے کر م نہیں تو اور کیا۔ اور تیسر ے سے پو چھتے ہیں کیا حا ل ہے بڑا کرم کیو ں؟ غریب خا ندان سے تھا اتنا بڑ ا افسر بن گیا کرم نہیں تو اور کیا۔ اور ہم کہتے ہیں اگر تُم اِس کو کرم سمجھتے ہوتو تُمہا ری نا دا نی ہے او یہ چیزیں تو کا فر و ں کو بھی دی ہیں، جو کا فر و ں کو د یں وہ تُم کودیں تُمہا ر ے اُوپر کیا کر م ہُو ا ہے ۔
 

اگر تُم نے اُس کا کر م دیکھنا ہے کہ وا قعی اُس کا کر م تُمہا ر ے اُو پر ہے تو اُس کے ذ کر میں لگ جا ﺅ۔ وہ آیت ہے کہ کیا ا یما ن والو ں کے دل

وہ وقت نہیں آ یا ہے کہ اُن کے دل ذ کرِ اللہ میں جُھک جا ئیں۔ اُس کے ذ کر میں جُھک جا ﺅ، دو چا ر پا نچ چھ دن میں اند ر سے اللہ اللہ شر و ع ہو گئی

 اُس کا کر م ہو گیا۔ فا ذ کر و نی ا ذ کر کم، تُو میر ا ذ کر کر میں تیر ا ذ کر کر وں گا، ذ کر اُسی کا کیا جا تا ہے جس سے دو ستی ہو جا ئے۔

 

اگر کوشش کے با و جو د اللہ اللہ نہیں جمتا ، اُلٹا و حشت ہو تی ہے، اُلٹا اِس کے خلا ف ہو گئے، تو تُمہا رے پر رب کا کوئی کرم نہیں، اگر کرم ہوتا تو تُم کو اپنے نام لیواﺅں میں لیتا۔ اپنے آ پ کو پہچا ننے کا راز میں کیا ہُو ں، میرا مرشد کیا ہے اور مجھ پہ رب کتنا کریم ہے یہی ایک کسو ٹی ہے۔ بند ے اور رب کے در میا ن ایک ہتھیا ر ہے وہ دل ہے، کہتا ہے اگر مجھ سے رابطہ کر نا چا ہے تو اِ س ٹیلی فو ن کو صاف کر لے نا اور کِسی چیز سے تعلق نہیں ہے اِ س دل سے تعلق ہے اِ س دل کو صاف کر لینا۔ اب دل صاف کیسے ہو تا ہے اللہ کے ذ کر سے ہوتا ہے وہ بھی دل ذ کر کرے تو، زبان سے تو زبان پا ک ہو گی نا! دل سے دل پا ک ہو گا نا!۔ جب وہ دل کا ذکر سیکھے گا تو اُس کا دل پا ک ہو جا ئے گا صا ف ہو جا ئے گا۔ اگر ٹیلی فون صا ف بھی ہو ٹھیک بھی پڑا ہو تب بھی اُس کو دو بجلی کی تاروں کی ضرورت ہے، اگر یہ صا ف ہو جا ئے تب بھی اِس دنیا کا نظا م بجلی کا ہے اُس دنیا کا نظا م نُو ر کا ہے۔ اِ س دل میں ذرا بھی نُور آ جا ئے، جس طرح لوہے کو لوہے سے نسبت ہے مقناطیس معمولی سی سُوئی کو دور سے کھینچ لیتا ہے تا نبے کو کیو ں نہیں کھنچتا ، نسبت ہے نا لوہے کو ، لوہے کو کھینچتا ہے۔ اِسی طر ح ذرا سا بھی نُو ر آ جا ئے وہ نُو ر کا گو لا اِ س سے پیوست ہو جا تا ہے، اُس آ دمی کو اُس سے نسبت ہو جا تی ہے ۔ اب لو گ دُعا ما نگتے ہیں قبو ل نہیں ہو تی، قبو ل نہیں ہو تی تب و لیو ں کے پا س جا تے ہیں نا! بھئی اُن کا ٹیلی فو ن ہے ہی نہیں ہے۔ دُعا ئیں کر تے ہیں، کرامً کا تبینً پتا نہیں کب اُو پر پہنچا ئیں گے، کب وہ در خو ا ستیں دیکھے نہ دیکھے، و لیو ں کے پا س کیوں؟ اُن کے ٹیلی فو ن صا ف ہیں نا! فو راً جا تے ہیں جو با ت کر تے ہیں فو راً اُو پر پہنچ جا تی ہے جب اُو پر پہنچ جا تی ہے تو اللہ تعا لیٰ قبو ل کر لیتا ہے اور یہ جو ٹیلی فو ن ولیو ں میں ہیں وہ بھی تُمہاری طر ح تھے اُنھو ں نے اپنے ٹیلی فو ن کو صا ف کیا تو وہ وہا ں تک پہنچے ، تُم بھی و ہا ں تک پہنچ سکتے ہو اور جب کوئی ہر شخص اللہ اللہ کر تا ہے دل سے اللہ اللہ کر تا ہے تو اُس کے دل میں اللہ کی محبت پید ا ہو جا تی ہے ۔
 

آ پ کِسی بھی شخص کو امریکہ میں بیٹھا ہے آ پ اُس کو دل سے یا د کریں، چالیس دن یا د کریں دل کو دل سے راہ ہے اُس کا خط

 آ جا ئے گا
 

جب آ پ اللہ کو دل سے یا د کریں گے تو آ پ کے دل میں اللہ کی محبت پیدا ہو جا ئے گی، (جب) اللہ کی محبت پید ا ہو جا ئے گی تو اللہ تعا لیٰ کِسی کا احسا ن اپنے اُو پر نہیں لیتا بھئی اُس کے لیے ایک نما ز پڑ ھو دس کا ثو اب دے دیتا ہے ، (ہک) ایک روپیہ خر چ کر و دس واپس کر دیتا ہے اُس سے تھو ڑ ی سی بھی محبت کر و ، وہ اُس سے بہت ز یا دہ محبت پھر کر تا ہے کیونکہ وہ احسا ن نہیں لیتا۔ محبت کا بد لہ محبت، پھر جب وہ اُس سے محبت کر تا ہے پھر وہ عشق کا مقا م ہے ، (تے) جیتھے عشق پہنچا وے او تھے ایما ن کو بھی خبر کو ئی نہیں ہے ، پھر میں تیرا اور تُو میرا۔ اب اِس کی اجازت بھی ہوتی ہے آپ یہاں تہجد پڑھتے رہیں شیطا ن کو نے پہ کھڑا ہنستا رہتا ہے، کیو ں؟ تھکتا رہ تیرا دل تو میرے ہا تھ میں ہے جب جی چا ہو ں گا موڑ دوں گا ۔ اور تُمہیں ایک دن شکایت ہُوئی میں بڑا تہجد گزار تھا مجھے کیا ہو گیا میں فر ض نماز نہیں پڑھ سکتا، تو شیطان نے دل موڑ دیا نا! جب کوئی شخص اللہ اللہ کو دل میں بسانے کی کو شش کر تا ہے شیطا ن سو چتا ہے اگر یہ اللہ اِ س کے دل میں چلا گیا ، اِس کا دل منو ر ہو گیا یہ تو سا ری عُمر کے لیے میر ے ہا تھو ں سے گیا ۔ اُس کے پا س ہند و فو ج ہے حُکم دیتا ہے جا ﺅ اِس کو تباہ کرو، بر با د کر و کچھ بھی کرو یہ اللہ اِس کے اند ر نہ جا ئے۔ اگر یہ اللہ اِ س کے اند ر چلا گیا تو پھر کچھ لو گ ایسے ہیں جو اللہ اللہ کر تے ہیں اُن کے دل پہ اللہ نقش ہو جا تا ہے پھر قرآن اُن کے لیے فرما تا ہے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے دلوں پہ ایمان لکھ دیا ۔ ایما ن کیا ہے ، یہ مہر پو لیس کی لگی ہُو ئی ہے تو ثا بت ہے پو لیس والا ، یہ اللہ کی مہر لگی ہُو ئی ہے ثا بت ہے اللہ والا۔ کچھ لو گ ہر وقت اللہ اللہ کر تے ہیں اُن کے دل پہ حضو ر پا ک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا رو ضہ

 مبا رک بس جا تا ہے پھر وہ کہیں بھی ہے مد ینے میں ہے ۔ کچھ لو گ ایسے ہیں ہر وقت اللہ اللہ کر تے ہیں اُن کے دل پہ خا نہ کعبہ آ جاتا ہے ۔ ایک د فعہ مجد د الف ثا نی  نے دیکھا کہ با طنی مخلوق اُن کو سجد ہ کر رہی ہے۔ پریشا ن ہُوئے سجد ہ تو انسان کو جا ئز نہیں ، اِستد راج تو نہیں ہو گیا ۔ آواز آ ئی گھبراﺅ نہیں یہ تُمہیں سجد ہ نہیں کر رہے وہ جو تُمہا رے اند ر خا کعبہ بس گیا ہے یہ اُس کو سجد ہ کر رہے ہیں۔ جب را بعہ بصر ی  کے دل پہ خا نہ کعبہ آ یا اُس کعبے کو حُکم ہُو ا جا ، جا کے اُس کا طو ا ف کر (او) تُجھے ا بر ا ہیم  علیہ سلام نے بنا یا اِ س کو تو میں نے نُو ر سے بنا یا ہے ۔
 

تو پھر قر آ ن مجید بھی فرما تا ہے ’حبل الورید ‘ میں اُن ہی کی شہ رگ کے نزد یک ہُوں ۔ ہر آ دمی سوچتا ہے نہیں میر ی شہ رگ کے بھی نزد یک ہے۔ علا مہ اقبا ل  نے بھی یہی کہا تھا ’حبل ا لورید ‘۔ وہ کہتے تھے تُو بھی ہماری شہ رگ کے نزدیک ہے نا! ہم شرا ب پیتے ہیں کچھ بھی کرتے ہیں تُو بھی ہمارے سا تھ ہوتا ہے نا! بھئی شہ رگ کے نز د یک ہے پھر ہما رے ہر فعل میں تُو سا تھ ہے تو جب تُو ہما رے سا تھ ہو تا ہے تو پھر ہما را حسا ب کتا ب کِس چیز کا لے گا۔ بھئی اگر تُو ’حبل الورید ‘ ہے تو پھر ہما رے سا تھ ہی ہے پھر حسا ب کتا ب کیا؟
 

پھر اُنھو ں نے کھولا تھا نہیں ، جب فتو ے کے جو ا ب د یا تھا کہ وہ اُنہی کے ’ حبل الورید ‘ ہے جن لوگوں نے اُس کو اپنے اند ر بسا لیا ۔
 

اور جن لو گو ں نے اُس کو اپنے اند ر بسا لیا، اُس کے لیے تو حدیث ہے میں اُن کی زبا ن بن جا تا ہو ں جِس سے وہ بو لتا ہے، میں اُس کے ہا تھ بن جا تا ہو ں جِس سے وہ پکڑ تا ہے۔ شیطا ن سو چتا ہے اِ ن مر ا تب میں سے کو ئی مر تبہ لے نہ جا ئے ، ہند و فو ج جِنا ت کی حُکم دیتا ہے جا ﺅ اِس کو تبا ہ کرو، اب تُمہار ے پا س تو (ہک) ایک جِن بھی نہیں ہے جو اُن کا مُقا بلہ کر ے۔ جہا ں سے اِس کی اجازت ہوتی ہے اللہ تعا لیٰ اُن کو بھی ایک رحما نی فو ج دیتا ہے۔ او شیطا نی فو ج تُم پہ ٹو ٹ پڑی، اور رحما نی فو ج شیطانوں پہ ٹو ٹ پڑ ی۔ اور وہ رحما نی فو ج اُس وقت تک تُمہا را سا تھ دے گی جب تک تُمہا رے اند ر وہ رحما ن جا گ نہیں اُٹھتے۔ وہ مخلو قیں جب تک جا گ نہیں اُٹھتیں ، پھر تُم بندہ نہیں رہے بند ہ نو از بن گئے، غر یب نہیں رہے غر یب نو ا ز بن گئے۔ یہ اِ س کی اِجا ز ت ہے
 

اب اِ س کا طر یقہ بھی بتا ئیں ہو سکتا ہے کچھ اِ ہل دل ہوں، (ہک) ایک بھی اہل دل نکل آ یا تو ہما را مقصد پورا ہو گیا۔ کیو نکہ اگر کِسی (ہک) کا بھی دل اللہ کے ذ کر سے د ھڑ کے ، بیما ر ی سے نہیں اللہ کے ذ کر سے د ھڑکے تو یقین کرو اُدھر عرشِ معلی بھی د ھڑکتا ہے ۔ پھر عرشِ معلی ہلتا ہے تو فرشتے پوچھتے ہیں اے اللہ یہ کیا ہو رہا ہے ، اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے میر ا ایک خا کی بند ہ جس پہ انکا رِ سجد ہ ہُو ا تھا آ ج وہ نہیں آ ج اُس کا د ل میر ے ذ کر میں مصروف ہے ۔ تو فرشتے کہتے ہیں کا ش ہم بھی اِ س طر ح کے انسا ن ہو تے ، ہما ر ے اند ر بھی ایسا دل ہو تا ، ہم بھی تیر ے عر ش کو ہلا تے۔ (اِ ک ) آ دمی بھی ایسا نکل آ ئے تو ہما ر ے لیے بہت کچھ ہے جو عر ش کو ہلا ئے۔
 

اور اُسی کے لیے علا مہ اقبا ل نے فر ما یا ، محبت مُجھے اُن جو ا نو ں سے ہے ستاروں پہ جو ڈ ا لتے ہیں کمند۔
 

اب اِ س کا طریقہ کیا ہے ؟ روزانہ چھیا سٹھ (66) مر تبہ سفید کا غذ پر کا لی پنسل سے اللہ لکھیں۔ آ پ تھو ڑ ے دن لکھیں گے ایک وقت آ ئے گا آ پ جو کا غذ پہ لکھتے تھے آ پ کی آ نکھو ں پہ تیر نا شروع ہو جا ئے گا ۔ جب آ نکھوں پہ تیر نا شروع ہو جا ئے پھر لکھنا بند کر دیں، آ نکھوں سے پھر دل کے اُوپر اُتارنے کی کو شش کریں۔ اگر اللہ نے چا ہا جو کا غذ پہ لکھتے تھے وہ دل پہ لکھا نظر آ ئے گا۔ اُس وقت دل کی دھڑ کن تیز ہو جا ئے گی ، ٹِک ٹِک، پھر اُس کے سا تھ اللہ ھو ملا ئیں ۔ (ہک ) ایک کے سا تھ اللہ (ہک) ایک کے سا تھ ھو، با ر با ر ایسا کریں گے وہ دل کی دھڑ کنیں اللہ ھو میں تبدیل ہو جا ئیں گی ۔ رات کو سو نے لگیں اُنگلی کو قلم خیا ل کر کے دل کے اُوپر اللہ لکھتے لکھتے سو جا ئیں اِ سی میں نیند آ جا ئے۔ آ د ھی رات کے وقت اِ س د نیا میں خا ص فر شتے آتے ہیں، کراماً کا تبین سے ہر آ دمی کے با رے میں پو چھتے ہیں بتا ﺅ اِ س کا آ خری عمل کیا تھا جب یہ سو نے لگا تھا پتا نہیں صبح اِ س کی جا نا ہے یا نہیں ۔ (او) یہ عشاء کی نما ز پڑ ھ کے سو یا تھا دعا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اِس کو خو ش ر کھے، اور یہ درود شر یف پڑ ھ کے سو یا تھا اللہ تعا لیٰ اِ س کو بھی خو ش رکھے، اور یہ ایک مسکین کو کھا نا کھلا کے سو یا تھا اللہ تعا لیٰ اِ س کو بھی خو ش رکھے۔ اور یہ اللہ ھو پڑھتے پڑھتے اُسی کی مستی میں سو گیا تھا وہ کہتے ہیں خا مو ش آ ہستہ با ت کر و شا ید اُس کی یا د میں آ نکھ لگ گئی ہو۔ ہو سکتا ہے تُمہا ری سا ری رات اللہ تعا لیٰ عبا د ت میں شا مل کر دے۔ صبح اُ ٹھیں آ فس جا رہے ہیں ، جب تک دل کی د ھڑ کن سے نہیں ملتا اُس کو ذکر خفی کہتے ہیں لو گ خفی کو قلبی سمجھتے ہیں، نہیں جب دل کی دھڑکن سے اللہ اللہ ملتا ہے وہ ذ کرِ قلبی کہلا تا ہے، جب تک ذ کرِ قلبی نہیں ہو تا ذ کرِ خفی کر تے رہیں۔ وضو ہو یا نہ ہو دل کا و ضو پا نی سے نہیں ہو تا ہے سارا دن پا نی میں پڑے رہیں پانی تو دل میں جا ئے گا نہیں تو وضو کیسے ہو گا؟ جب وہ اللہ کا نُور اِ س دل میں جا ئے گا وہ اِس کو دھو ئے گا اُس کو بو لتے ہیں وضو کر لے شو ق شرابہ دا۔ اور وہ وضو گھڑ ی گھڑ ی نہیں کر تے ز ند گی میں ایک با ر ہی کا فی ہے۔
 

 

اگر ذکر سے گرمی آ ئے برداشت کریں تو بہت بہتر ہے، اگر برداشت نہ ہو تو درود شریف پڑھیں، درود شریف اُس کو ٹھنڈ ا کر دے گا، پھر ذ کر کریں کیونکہ قا نو نِ قد رت ہے گرمی کے بغیر کو ئی چیز نہیں پکتی۔ یہ قا نو نِ قد ر ت ہی ہے فصل وہ بھی گر می کے بغیر نہیں پکتا ، لیکن جب وہ جلنے کو ہو تا ہے تو اللہ تعا لیٰ اُس کے اُ و پر با رش برسا تا ہے ۔ گھر میں ہا نڈ ی ہے جب جلنے کو ہو تی ہے تو پا نی کا چھینٹا ما رتے ہیں اور خو شبو ہو تی ہے ۔ اِ س طر ح یہ سینہ بھی گر می کے بغیر نہیں پکتا ہے نا! جب یہ اللہ کے نُو ر سے جلنے کو ہو تا ہے تو ( پھر ) درود شر یف پڑ ھتے ہیں وہ اُس کو ٹھنڈ ا کر دیتا ہے۔
 

 

زبانی عبادت میں سب سے افضل درود شریف ہے لیکن جب ذ کرِ قلب عطا ہو جاتا ہے تو درود شریف اُس کا وسیلہ بن جاتا ہے ۔


بہت سے لو گ ہو ں گے جن کے دل کی دھڑ کنیں عُمر کی وجہ سے محسو س نہ ہو تی ہو ں گی ، پہلے تو وہ کو شش کر یں کہ کِسی طر یقے سے دل کی دھڑ کن اُ بھریں ( اُبھر ے ) ، اگر نہیں اُبھر تی ہے تو پھر وہ سا نس کا ذ کر کر نا شروع کر دیں ، سا نس اند ر لیتے وقت اللہ با ہر ھو ، اللہ ھو ، سا نس تو آ یا نا! چلو عبا د ت ہی سہی۔ جہا ں ذ کر کے حلقے ہو تے ہیں و ہا ں جا کے بیٹھیں، اللہ ھو کی ضر بیں لگا ئیں ، یہ اللہ ھو کی ضر بیں جو ہیں یہ شو ر مچا نے کے لیے نہیں ہیں اگر آ پ صِر ف ضر بیں لگا کے گھر چلے جا تے ہیں تو شو ر مچا کے آ ئے ہیں ۔ یہ اللہ ھو کی ضر بیں ، ذور ذور سے اللہ اللہ کر تے ہیں جسم کو ہلا تے ہں ( او ) دل کی د ھڑ کنیں اُ بھر تی ہیں اِ س سے ۔ (او) جب دل کی دھڑ کنیں اُبھر تی ہیں پھر اِ س کے سا تھ اللہ اللہ ملا تے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کِسا نی آ د ھی ولا یت ہے کیو ں و لایت ہے ، وہ ہل چلا تا ہے، ہل چلا تا ہے کا فی دیر تک چلا تا رہتا ہے پھر اُس کا دل د ھڑ کنا شر وع ہو جا تا ہے جب دل دھڑکنا شر وع ہو جا تا ہے اگر اُس د ھڑ کن کے سا تھ اللہ اللہ ملا ئے تو آ د ھی و لا یت ہے نا ! ور نہ جس طر ح بیل کا دل د ھڑ ک ر ہا ہے اِسی طر ح اُس کا دل د ھڑ ک رہا ہے ۔
 

اب اِس ذکو ریت کے کچھ اور بھی طر یقے ہیں کچھ لوگ قنا عت پسند ہیں کچھ کم مر تبے میں ہیں کچھ ز یا د ہ مر تبے میں ہیں کچھ عا شقین میں ہیں ۔ اگر تُو پا نچ نما زیں پڑ ھتا ہے قنا عت پسند ہے تو پا نچ ہز ار(5000) دفعہ روز ذ کر کر یہ طر یقے ہیں فقر کے ، اگر تُو عا لم ہے اما م ہے مقتد ی پہ فضیلت ہے وہ پا نچ ہز ار دفعہ ذکر کر تا ہے تُو پچیس ہز ار دفعہ روزذ کر کر ، تب تجھے اُ س پہ فضیلت ہے اِ س کو عا لم با عمل بو لتے ہیں ۔ اگرکو ئی ( تو ئی ) قُطب، ابد ا ل کا رُتبہ چا ہتا ہے اُس کے لیے حُکم ہے کہ بہتر ہز ار دفعہ ذ کر کر ، اگر تُو میر ا عا شق میں تیر ا عا شق اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے جلد ی آ میں تیا ر ہُو ں ۔ یعنی و ہا ں کو ئی د یر نہیں ہے وہ طر یقہ بھی نہیں ہے اُس کے لیے سو ا لا کھ (لکھ ) د فعہ روز ذ کر کر نا پڑ تا ہے تو سو ا لا کھ ( لکھ ) دفعہ ذ کر تسبی سے نہیں ہو تا ہے ، سا نس سے نہیں ہو تا ہے ، ضربوں سے نہیں ہو تا ہے ، خفی نہیں ہو تا ، سوا لا کھ (لکھ ) کا ذ کر اِ ن دل کی دھڑ کنو ں سے ہو تا ہے ۔ یہ سیکنڈ کی سُوئی اِن دھڑکن سے بنی ہے یہ ایک گھنٹے میں چھتیس سو دفعہ ٹِک ٹِک کرلیتا ہے ذ کر سے اور تیز ہو جاتا ہے گرمی سے، ایک گھنٹے میں چھ ہزار دفعہ اللہ اللہ کر سکتا ہے ، چو بیس گھنٹے میں سو ا لا کھ ( لکھ ) سے بھی بڑ ھ جا تا ہے ، سو ا لا کھ ( لکھ ) سے آ گے کو ئی عبا د ت نہیں ہے ۔ آ پ نے ، جب فتح مکہ ہُو ئی تو اصحا بہ کر ا م کے دل سو ا لا کھ ( لکھ ) تک پہنچ چکے تھے۔ 
 

اُ س وقت و ہ آ یت اُتر ی کہ میں نے تُمہا رو ں کے ا گلے پچھلے گنا ہ معا ف کر د ئیے۔ وہ آ یت ہر ز ما نے کے لیے ہے آ ج کے بھی لیے ہے

اگر آ ج بھی کِسی کا دل سوا لاکھ ( لکھ ) تک پہنچ جا ئے ، اللہ قسم اللہ تعا لیٰ اُس کے اگلے پچھلے گنا ہ معا ف کر دیتا ہے۔

 

کو ئی مصیبت آ تی ہے آ یت ، آ یتہ الکریمہ پڑھاتے ہیں سوا لا کھ ( لکھ ) دفعہ پڑھاتے ہیں نا! اگر اِ س سے زیادہ بھی مقدار ہوتی تو وہ بھی پڑھاتے نا
 

دو لا کھ ( لکھ ) دفعہ ، پو نے دو لا کھ ( لکھ ) دفعہ ، لیکن ہے ہی سو ا لا کھ ( لکھ ) دفعہ وہ اِ س سے آ گے عبا د ت ہی کو ئی نہیں ہے۔
 

اگر وہ قبو ل ہو جا ئے تو مصیبت ٹل جا تی ہے نا

اگر کوئی شخص روزانہ ہی سوا لا کھ ( لکھ ) دفعہ اللہ اللہ کر تا رہے تو، تو مصیبت ہی نہ آ ئے۔ اِس کے لیے نہ تُمہیں بیعت کرتے ہیں نہ تُم سے کوئی چند ہ مانگتے ہیں اُس وقت تک تُمہا را سا تھ دیں گے جب تک تُم بند ہ نو ا ز نہیں بن جا تے۔ جن کے مر شد ہیں جب وہ جوہری بن گئے تو اپنے مر شد و ں کو پہچا ن لیں گے، جب پہچا ن لیں گے تو ہٹ ہی جا ئیں گے نا ! خو بخو د ہی ۔ تو جو بیعت نہیں ہیں تو پھر جب وہ جوہری بنیں، تو اُن کو کوئی مردِ کامل ملے گا تو ولی ہی ملے گا نا! اِ س کے لیے ذ کر لیں اور اپنی قسمت آ زما ئیں ۔ اگرذ کر چل پڑ ا تو دعا دے دینا اور کیا دو گے ، اگر ذ کر نہیں چلا تو دو، چا ر پا نچ چھ دن محنت کری اُس کا ثو ا ب تو مِل جا ئے گا نا ! وہ تو رائےگاں نہیں جا ئے گا نا!۔

 

اِس کے لیے، میر ے خیا ل میں ایک اور با ت بتا دوں ، اِس کے لیے دل کا صاف ہونا ضروری ہے

اگر دل میں ذرا بھی با ت ہوتو یہ ذ کر پھر نہیں چل سکتے ہیں ۔

 

دل کی صفا ئی کیا ہے؟ کہ ہم نے ایک روحانی سفر لکھی تھی ، کچھ زندگی کے واقعا ت، کچھ خوابوں کے واقعات ۔ بہت سے علماء ہیں جو ہمارے حق میں ہیں، بہت سے علماء ہیں جو بالکل ہمارے دشمن ہیں وہ جو عا لمِ سُو قسم کے لو گ ہیں نا ! وہ تو ہم پنجا ب گئے ہم تُمہا ری ٹا نگیں توڑیں اگر آئے تو۔ تو وہ جو عا لمِ حق ہیں نا وہ تو سینے سے لگا تے ہیں بڑا اچھا کام کر کے آ ئے ہو۔ اُن عالمِ سُو کو اپنی روٹیا ں نظر آتی ہیں اب تو کم ہو جائیں گی مر ید بھی اُن کے اِدھر آ رہے ہیں ۔ اُنھوں نے کیا کِیا، خوابوں کو ظاہر میں تبد یل کیا، اُن سطروں کو آ گے پیچھے کرکے اُس کے اُو پر فتوئے لگا دئیے۔ ہم جدھر جا تے ہیں وہ فتو ے آ گے پہنچے ہُوے ہوتے ہیں۔ تو لو گو ں کو کہتے ہیں بہتر ہے کہ تُم روحانی سفر خو د ہی پڑ ھو پھر انصا ف کر و ۔ پھر وہ لو گ روحا نی سفر پڑ ھتے ہیں پھر کہتے ہیں اُن عُلماء سے کہتے ہیں اِ ن میں تو ایسی چیز نہیں ہے (ہیں ) جو تُم نے فتو ے لگا دئیے۔ پھر وہ کہتے ہیں دراصل با ت یہ ہے یہ دوسر ا ایڈ یشن ہے وہ پہلا ایڈیشن اِنھو ں نے چُھپا لیا ہے ۔ اور ہم کہتے ہیں کہ وپہلا ایڈ یشن تُمہا رے پا س تو ہو گا نا! جس سے تُم نے وہ تحر یر یں لی ہیں وہ ہی دکھا ﺅ نا! بھئی وہ ہی دکھا ﺅ پتا چلے۔ ہم ایک اللہ اور رسو ل کے حُکم سے ایک با ت کر کے جا تے ہیں اور وہ اُس کے اُوپر جھا ڑ و پھیرنے کی کو شش کر تے ہیں ۔ بے شک اُن کا جھاڑو زبانی لوگوں کے اُوپر پِھر سکتا ہے لیکن وہ جو دل والے ہیں اُن کا جھا ڑ و کبھی دل پہ نہیں جا سکے گا ۔ جب دل پہ جھا ڑو ہی نہیں جا سکے گا
 

تو ہم تو دیکھ رہے ہیں اُن کی مخا لفت کے باوجود ( او ) وہ دل والے نکل ہی رہے ہیں اور نکلتے ہی رہیں گے ۔
 


 

ذکر لینا چاہیں لیں اِ ن کو بلا ئیں قسمت آ زمائیں۔ 


 

 

*****اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو*****


 

 

 

اگر آپ بھی ذکر کی لینا چاہتے ہیں تو امام مہدی ریاض احمد گوھرشاہی کی شبیہ  مبارک کوپورے چاند پر دیکھتے ہوئے
 

تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔

 

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو

 اجازت مل جائے گی۔


 

© 1998-2010 All Faith Spiritual Movement Intl'
admin@theallfaith.com