|
SELECT YOUR LANGUAGE: ENGLISH or INDONESIAN |
||
![]() |
حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے |
![]() |
|
اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر) |
||
|
مرکزی صفحہ تعارف حضرت عیسی کرشمہ قدرت الحجرالأسود تعلیمات دینِ الٰہی پروگرام تصانیف ویڈیو رابطہ |
||
|
عظیم الشان گنبدِ خضریٰ
کانفرنس
اعوذبااللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
عزیز ساتھیو! اسلام علیکم بڑی خوشی ہو رہی ہے کہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پروانے کسی نہ کسی بہانے سے ہر جگہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی مدح سرائی میں مصروف ہیں۔ کہیں محفل ِمیلاد ہو رہی ہے کہیں میلاد نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے جلوس نکالے جا رہے ہیں اور کہیں گنبد خضریٰ، اِن چیزوں سے مسلمانوں میں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا عشق پیدا ہو رہا ہے اور اِنہی چیزوں کو ابھی ہم نے بیرون ممالک میں بھی دیکھا ہے ہمارے علماء بیرون ممالک میں پہنچے اُنہوں نے وہاں بھی ایسی محفلیں سجھانا شروع کر دیں پچھلے سال مانچسٹر میں ایک بہت بڑا عید میلاد النبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا جلوس نکلا لیکن کچھ منفی عالم بھی وہاں پہنچ گئے۔ اُنہوں نے لوگوں کو بہکایا کہ یہ بدعت ہو رہی ہے یہ یا رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کر رہے ہیں یہ تم الٹا گناہوں میں پھنس رہے ہو۔ اب وہ لوگ بڑے پریشان ہیں کہیں بشر کا جھگڑا کہیں نور کا جھگڑا
جرمنی میں میرے جانے کا اتفاق ہوا
تو مسلمانوں نے سنا وہ آگئے ایک کہنے لگے کہ ہماری مسجد میں خطاب کرو دوسرے
کہنے لگے ہماری مسجد میں خطاب کرو تو ہم نے کہا کہ بہتر ہے کہ ایک ہی مسجد
میں سارے اکٹھے ہو جائیں کہنے لگے نہیں ہم ایک دوسرے کی مسجد میں نہیں جاتے۔ کیوں
نہیں جاتے۔ کہنے لگے ہمارا دین
کچا تھا ہمیں تو مذہب کا پتہ ہی نہیں تھا پاکستان سے علماءا ِدھر آتے ہیں
ہمکو لڑا کے چلے جاتے ہیں وہ واپس چلے جاتے ہیں ہم لڑتے رہتے ہیں۔ اب
پتہ نہیں تم کیا کہنے آئے ہو ہمیں پہلے یہ بتاؤ تم سنُی ہو شیعہ ہو وہابی
ہو پھر ہم کوئی فیصلہ کریں ہم نے کہا نہ سنُی ہیں نہ شیعہ ہیں نہ وہابی ہیں۔ کہنے
لگے پھر کیا قادیانی ہو کہ قادیانی بھی نہیں ہیں تو پھر کیا ہو ہم نے کہا
بس اُمتی ہیں۔ کہ ُامتی کیا
ہوتا ہے۔ حضور پا ک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس میں نور ہو وہ اُمتی ہوتا ہے۔ اور جب اُمتی سے نور نکلنا شروع ہو جاتا ہے
تو سنُی شعیہ وہابی بن جاتا ہے
اگر تم دوبارہ اپنے دلوں میں نور حاصل کر لو تو کبھی نہیں کہو گئے
میں سنُی ہوں میں شعیہ ہوں
میں وہابی ہوں یہی کہو گئے بس اُمتی ہوں تمہارا یا رسول اللہ صلیٰ
اللہ علیہ وسلم۔ پوچھا اُن سے کہ تم میں آپس میں لڑائی کیا ہے کہنے لگے یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم بشر ہیں تو ہم نے کہا اس میں حرج کیا ہے آپکو افضل البشر بھی تو کہا گیا ہے ناکہنے لگاکہ نہیں افضل البشر کا مقصد یہ ہے کہ جتنے بھی بشر ہیں آپ ان سے افضل ہیں چونکہ بشر جو ہے وہ اللہ کا خلیفہ ہے آپ خلیفے سے بھی افضل ہیں تو جو خلیفے سے افضل ہو گا پھر اللہ نہیں ہو گا تو اس سے جدا بھی نہیں ہو گا۔ بات تو پھر اُنکی معقول ہی تھی۔ او دوسروں سے پوچھا تمہیں کیا اختلاف ہے۔ وہ کہنے لگے کہ یہ کہتے ہیں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو کہ وہ نور ہیں ہمیں اس سے اختلاف ہے۔ میں نے کہا اس میں حرج کیا ہے۔ اگر وہ نور کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرمایا ہے کہ میں نے ظاہر میں انکو نوری بھیجا ہے ہدایت کیلئے وہ کہنے لگے نہیں جو نور ہوتا ہے اس میں اولاد نہیں ہوتی ہے اللہ نور ہے فرشتے نوری ہیں اُنکی اولاد نہیں ہے اِنکی اولاد ہے پھریہ نوری نہیں ہیں اب اُنکی دلیل بھی معقول تھی اور اُنکی دلیل بھی معقول تھی۔ اب یہ ایک راز سر بستہ ہے اگر اسکو کھول دیا جائے تو نہ اُنکو کوئی اختلاف رہے گا نہ اِنکو کوئی اختلاف رہے گا۔ضروری ہے اس راز کو کھولا جائے۔ایک دن اللہ تعالیٰ کو خیال آیا میں اپنے آپکو دیکھوں تو سہی میں ہے کیسا ہوں شکل میری کیسی ہے جسطرح آدمی کبھی کبھی اپنی صورت دیکھتا ہے اِس طرح اللہ تعالیٰ کو بھی خیال آیا کہ میں بھی اپنے آپکو دیکھوں میں کیسا ہوں۔ خیال آیا تو سامنے جو عکس پڑا تووہ اک صورت بن گئی حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی شکل میں بنایا وہ سامنے عکس پڑا وہ صورت وہ اک روح بن گئی جب وہ روح بن گئی اللہ اُس پہ عاشق وہ اللہ پہ عاشق تب کسی نے کہا کہ خود عشق خود عاشق خود معشوق اب وہ خود ہی عشق ہی ہے خود ہی عاشق ہی ہے تو خود ہی معشوق ہے۔ اب جو اللہ کا دین ہے وہ یہاں سے چلا ہے اللہ کا دین کوئی نماز روزہ نہیں ہے اللہ کا دین عشق ہے۔اُسکے دین کی ابتدا اُس دن سے ہی شروع ہو گئی۔اب اللہ نے اُس روح کی تعظیم کیلئے فرشتے بنائے روحیں بنائیں زمین و آسمان بنائے حدیث شریف میں ہے کہ اے میرے حبیب صلیٰ اللہ علیہ وسلم آپکو بھیجنا نہ ہو تا تو زمین و آسمان ہی نہ بناتا جو کچھ بنایا گیا حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لئے ہی بنایا گیا۔ اب آپکو پھر اِس دنیا میں بھیجنا تھا دنیا میں بھیجنے کیلئے پھر کَیا کِیا
جنت میں ایک درخت ہے اُسکا نام ہے
شجرة النور اسکا بیج آپکی والدہ کو کھلایا گیا اُس بیج کی پرورش آپکی والدہ
کے شکم میں ہوئی اور وہ بیج انسانی خاصیت اختیار کر گیا پھر جب وہ بیج بڑھا
اِسمیں وہ روح جو اللہ کا عکس تھا وہ ڈالی گئی جب وہ روح ڈال دی گئی تو پھر
وہ شجرة النور اور وہ نور اب 9 سال کی عمر میں آپکا سینہ چاک ہوا آپکے سینے
میں جسہ توفیق الہیٰ ڈالا گیا جس نے اللہ اللہ کرنا شروع کر دی یعنی اسم
ذات9 سال کی عمر میں آپکو عطا ہوا اُسکے بعد پھر اللہ نے آپ کو اپنے پاس
بُلا لیا شب معراج میں پھر نور نور کے سامنے گیا پھر نور، نور علیٰ نور ہو
گیا۔ اب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ خواب میں دیدار کیا ہو گا۔ او جب عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پہ جا سکتے ہیں اٹھائے جا سکتے ہیں ادریس علیہ السلام کو فرشتے لے گئے وہ بھی ابھی ملکوت میں ہی ہیں۔ تو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نہیں جا سکتے۔ اس دنیا میں دو فرشتے آئے ہاروت اور ماروت جب ان میں وہ نفس ڈالا گیا انہوں نے بھی زہرہ سے شادی کرنے کی خواہش کری اگر وہ شادی کر لیتے تو بچے تو ہو ہی جاتے نا اُسوقت لوگ اُنکو بشر ہی کہتے تھے ہاروت اور ماروت کو لیکن اب کہتے ہیں دو فرشتے انسانی شکل میں آئے تھے۔ اسی طرح یہ نور بشر کی شکل میں آیااب آپکے جسم میں کچھ اور چیزیں بھی ڈالی گئیں جنکو لطائف بولتے ہیں ان لطائف میں سے اک لطیفہ نفس ہے جب وہ آپکے جسم میں ڈالا گیا آپکا جسم نورانی تھا وہ بھی نور ہو گیا اب آپ فرماتے ہیں کہ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اسکے ساتھ ایک شیطان جن بھی پیدا ہوتا ہے صحابہ نے پوچھا آپ کے ساتھ بھی پیدا ہوا ہو گا آپ نے فرمایا پیدا ضرور ہوا تھا لیکن وہ میری صحبت سے مسلمان ہو گیا ہے۔ اب آپکے جسم میں تو نور تھا وہ نور ہو گیا اب جو عام آدمی ہے اسکے اندر تو نور نہیں ہے تو اسکا نفس کیسے نور ہو گا۔ یہ جو گوشت ہے یہ کوئی ناپاک نہیں ہے۔ اسکے اندر جو روحیں ڈالی گیئں لطائف ڈالے گئے وہ بھی ناپاک نہیں ہیں لیکن جب اسکے اندر نفس آیا تو یہ جسم ناپاک ہوا بھلے شاہ فرماتے ہیں اس نفس پلیت نے پلیت کیتا اساں منڈوں پلیت نا ساں ہم تو پلیت نہیں تھے لیکن جب یہ نفس آیا تو ہم ناپاک ہو گئے۔ اب جب ناپاک ہو گئے۔ نبیوں کے نفس مطمئنہ وہ انسانی شکل میں ہیں لیکن عام آدمی کے نفس کتوں کی طرح ہیں
انکی شکلیں کتوں کی طرح ہیں وہ
کتے موجودہیں اک حدیث شریف میں ہے کہ جس گھر میں کتا ہو گا وہاں رحمت کے
فرشتے نہیں جاتے او اس نفس کتے نہیں ہی کہا کہ میں نہیں وہ کتا مجھے نہیں
کہا گیا او نہیں اسی کو کہا گیا ہے۔ وہ
کتا تو آدم علیہ السلام
کی حفاظت کیلئے جنت میں بنایا گیا تھا آج تک وہ حفاظت کر رہا ہے گھر میں ہی
ہو گا تو حفاظت کرے گا اگر گلی کے کونے میں باندھ آؤ تمہاری کیا حفاظت کرے
گا وہ کتا نہیں یہ کتا یہ اسکا گھر ہے یہ جسکے اندر ہے اسکو نفس امارہ
بولتے ہیں وہ ناپاک ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ کچھ لوگ قرآن
پڑھتے ہیں قرآن ان پہ لعنت بھیجتا ہے وہ جنکے نفس کتے ہیں واقع جب وہ قرآن
پڑھتے ہیں قرآن ان پہ لعنت بھیجتا ہے مجدد صاحب فرماتے ہیں کہ مقتدی کو
چاہیے کہ پہلے ذکر اللہ کرے قرآن ان لوگوں کے قابل نہیں ہے جنکے نفس کتے
ہیں اپنے نفس کو ذکر سے پاک کرے اپنے نفس کو ذکر سے پاک کرے جب نفس پاک ہو
جائے پھر قرآن پڑے اس وقت اک لمحہ فکریہ100 سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ اب رہا سوال کہ وہ نفس پاک کیسے ہو۔ جب تک نفس پاک نہیں ہوتا تمہاری کوئی عبادت اندر ٹھہرتی ہی نہیں ہے۔ اگر تمہارے اندر وہ کتا ہے تو یقین کرو جس طرح اک دربار بنا لیا باہر کلمہ لکھ دیا باہر جھنڈے لگا لیے اندر کافر بٹھا دیا دھوکہ ہے ناں اسی طرح باہر سے داڑیاں ہیں تسبیاں ہیں نمازیں ہیں لیکن اندر وہ کتا کافر بیٹھا ہوا ہے یہ سخت زبردست اپنے آپ سے دھوکہ ہے۔ اب اس نفس کو کیسے پاک کیا جائے جب تک نفس پاک نہیں ہو گا کوئی منزل ملے گی نہیں انسانیت کی منزل بھی نہیں ملے گی کیونکہ جیسا اسکا نفس ہوتا ہے باطن والوں کو وہ ویسا ہی دکھتا ہے۔
ایک دفعہ رابعہ بصری نے اپنے غلام
کو کہا کہ تیل لے آ لیکن کسی بھی انسان سے لے آنا۔ وہ
کہنے لگا مجھ کو تو سارے ہی انسان لگتے
ہیں۔ انہوں نے اپنا ایک بال
دیا کہ اس بال کی گولائی میں دیکھ لینا جو انسان نظر آئے اس بال کی گولائی
میں اسے تیل دینا وہ سارا دن گھومتے رہے اسے کوئی گدھا نظر آرہا ہے کوئی
کتا نظر آ رہا ہے بڑی مشکل سے ایک آدمی جو ہے نا وہ انسان نظر آیا اور اس سے تیل
خریدا اسکا نفس پاک تھا۔
شاہ عبدالعزیز کے زمانے میں ایک عورت ننگی گھومتی
لیکن جب شاہ عبدالعزیز کو دیکھتی تو پردہ کر لیتی
خلیفہ کہتا کہ کیا وجہ ہے آپ بڈھے
بھی ہیں آپ سے پردہ کر لیتی ہے
ہم جوان بھی ہیں ہمارے سامنے ننگی گھومتی رہتی ہے۔ شاہ
عبدالعزیز نے فرمایا کہ یہ انگھوٹھی لے جا ؤ اب جب وہ عورت آئے تو پہن لینا
پھر تمہیں راز کا پتہ چلے گا۔ جب
وہ عورت آئی تو انہوں نے وہ انگھوٹھی پہن لی دیکھتے ہیں کہ سب انسانوں میں
کوئی کتا ہے کوئی گدھا ہے کوئی گائے ہے اپنے آپکو دیکھا بکرا صرف شاہ
عبدالعزیز اور وہ عورت انسان نظر آئے۔ اسوقت
شاہ عبدالعزیز نے کہا کہ وہ
کہتی ہے کہ مجھے سارے جانور نظر آتے ہیں میں پردہ کس سے کروں۔
اب وہ نفس پاک کیسے ہو یہ باہر کی
نماز روزے اس تک نہیں پہنچتے وہ تو اندر ہے وہ تو نسوں میں ہے تم باہر سے
اسکو ڈنڈے مار رہے ہو یہ نماز روزہ اتنا ہے کہ بس ڈنڈے سانپ کو لیکن اندر
وہ دبھکا ہوا ہے ڈنڈے چھوڑے تو باہر نکل آئے جب تک اس تک ہتھیا رنہیں پہنچے
گا کیسے باز آئے گا۔ اب اسکو
پاک کیسے کرتے ہیں۔ اسکے کئی
طریقے ہیں کچھ لوگ جنگلوں میں چلے گئے روزے رکھنے شروع کیے بھوک پیاسیں
کاٹیں اسکو نفسانی غذا نہیں دی ذکر وغیرہ کی غذائیں دیں نمازیں تو اس سے
نفس پاک ہوئے۔ لیکن وہ بہت
مشکل ہے اسکے لیے کوئی کوئی کامیاب ہوتا ہے اور کوئی کوئی جنگلوں میں جاتا
ہے۔ ایک اور طریقہ جو شہریوں کے لئے ہے شہریوں کو بھی ضرورت ہے نفس کو پاک
کرنے کی بھئی شہریوں کےلئے جو طریقہ ہے اسکے لئے انکو کہیں سے ذکر قلب
ڈھونڈنا پڑتا ہے ذکر قلب کیا ہوتا ہے۔ اب کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں نور ہے کہتے ہیں ناں ایک سکھ نے کہا میں تمہارا عالم رہ کر آیا ہوں میں تمہارے بچوں کو قرآن پڑھاتا رہا اگر قرآن میں نور ہوتا تو میں نوری کیوں نہیں ہوا ایک عیسائی بول اٹھا کہ میں شب و روز قرآن کا مطالعہ کرتا ہوں نوری میں بھی کوئی نہیں ہوا۔ ہم نے کہا تم نے دل سے نہیں پڑھا وہ کہنے لگے چلو ہم نے دل سے نہیں پڑھا تمہارے مسلمان تو دل سے پڑھتے ہیں ناں تو وہ نوری کیوں نہیں ہوئے اگر وہ سارے نوری ہو جاتے تو ایک دوسرے کو کافر منافق کیوں کہتے۔ واقع اسنے صحیح کہا تھا کسی کسی کو نور حاصل کرنے کا طریقہ آتا ہے ہر کوئی قرآن سے نور حاصل نہیں کر سکتا ۔ جسطرح بادل بادل سے ٹکراتے ہیں بجلی بنتی ہے لوہا لوہے سے ٹکراتا ہے چنگاری نکلتی ہے قرآن کی آیتیں جب آئیتوں سے ٹکراتی ہیں تو نور بنتا ہے نا۔ اب قرآن پڑھنے والوں سے پوچھو تم نے کبھی آئیتوں کوآئیتوں سے ٹکرایا اور جن لوگوں نے ٹکرایا وہ عامل بن گئے کچھ لوگوں نے تسبیح کے ذریعے ،جو ٹک ٹک تسبیح کرتی ہے اسکے ساتھ اللہ اللہ ملاتے ہیں اللہ اللہ کا رگڑا دیتے ہیں 101 مرتبہ اللہ اللہ ہوتی ہے تو معمولی سی نور کی چنگاری اٹھتی ہے معمولی سی لیکن یہ کیا کرتے ہیں کہ دس بارہ ، دفعہ اللہ اللہ کری پوچھتے ہیں بھائی کیا حال ہے خیریت ہے وہ تسلسل ٹوٹ گیا نور کیسے بنے گا۔ کچھ لوگوں نے پھر وہ راز سیکھ لیا دل کی دھڑکن یہ بھی تسبیح ہے۔ دل کی دھڑکن کے ساتھ اللہ اللہ ملانا شروع کر دی۔ جب وہ دل کی دھڑکن کے ساتھ اللہ اللہ کا رگڑا لگا تو پھر وہ اندر نور بننا شروع ہو گیا تو پھر وہ نور باہر نہیں نکلا انگلیوں میں نہیں گیا وہ نسوں میں چلا گیا جب نور نسوں میں گیا نسوں سے پھر وہ خون میں گیا خون سے پھر وہ روحوں تک پہنچا جب وہ روحوں تک پہنچا روحوں نے اللہ اللہ کرنا شروع کر دی پھر جب روحوں نے اللہ اللہ کرنا شروع کر دی تو پھر تم قبر میں بھی چلے جانا وہاں بھی روح اللہ اللہ کرتی رہے گی یوم محشر میں بھی یہ روح اللہ اللہ کرتی رہے گی پھر اسوقت کیا ہو گا کہ وہ نور اللہ اللہ کا نور تمہارے دل میں جمع ہو جائے گا جب وہ نسوں میں نور جائے گا تو پھر جہاں نفس ہے اسکو بھی وہ نور گھیرلے گا چاروں طرف سے اسکی غذا بند ہو جائے گی پھر بحالت مجبوری اسکو کلمہ پڑھنا پڑھے گا۔ بحالت مجبوری پھراسکو کلمہ پڑھنا پڑھے گا کلمے کے اثر سے کالا کتا تھا سفید کتا ہو گیا۔ پھر کلمے کے اثر سے اسکی شکل بیل کی طرح ہو گئی پھر بکرے کی طرح ہو گئی۔ پھر ایک دن اسکی شکل تمہاری طرح ہو گئی۔ پھر اسکو پکڑ کر حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محفل میں لے گئے حاضرین اور حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم عش عش کر اٹھے آفرین ہے اسکے اوپر اور اسکے مرشد کے اوپر کہ جس نے کتے کو پاک کیا انسان بنایا اور میری محفل میں لے آیا۔ اس وقت حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم اسکو کوئی مرتبہ ارشاد دیتے ہیں۔ اب اسکی رسائی ادھر ہو جاتی ہے رسائی ادھر ہو جاتی ہے اسکو اب معارف کہتے ہیں۔ وہ پہلا عارف ہے اب اسکو معارف کہتے ہیں جو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں پہنچ گیا۔ اب معارف دیکھتا ہے کیونکہ اسکا نفس وہاں پہنچا ہے خود نہیں پہنچا خود جسم ادھر ہے اب وہ جو عارف ہیں انکے جسم وہاں پہنچ گئے ہیں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پاس اب یہ معارف دیکھتا ہے کہ کتنے خوش نصیب ہیں کہ جسم سمیت حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محفل میں بیٹھے ہیں اتنے میں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کسی سے بات کرتے ہیں اب وہ عارف پوچھتے ہیں آپ کس سے بات کر رہے ہیں ہمیں تو کوئی نظر نہیں آرہا فرماتے ہیں اس سے بات کر رہا ہوں جس کا جسم مخلوق میں اور یہ روح نفس کی روح میرے پاس اور وہ کہتے ہیں کتنا خوش نصیب ہے اِدھر بھی موجود ہے اور اُدھر بھی موجود ہے اتنے میں نماز کا وقت آتا ہے حکم ہوتا ہے کہ یہ جو ظاہری جسم والے ہیں یہ ظاہر میں جا کر نماز پڑیں ورنہ ولائت سلب ہو جائے گی۔ اس روحانی کی نماز اس لطیفہ نفس کے ذریعے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوتی ہے۔ وہ اگر اک نماز بھی حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پیچھے مل جائے تو ہزاروں رکعتوں سے بہتر ہے۔ اب ادھر حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی طرف رسائی ہو گئی اب باقی اللہ رہ گیا۔ اب وہ جو اللہ اللہ کرتا تھا اللہ اللہ کا نور اسکے دل میں جمع ہو گیا۔ ایک حدیث شریف میں ہے کہ یہ جو باطن ہے یہ ظاہر کی نقل ہےظاہر میں بجلی کا نظام ہے باطن میں نور کا نظام ہے۔
یہاں موبائل پڑا ہے اس لہر بجلی
ہے اسمیں اسکی لہریں یہاں سے اٹھتیں ہیں امریکہ پہنچ جاتی ہیں اگر بجلی کی
لہریں یہاں سے اٹھتی ہیں امریکہ پہنچ جاتی ہیں اگر کہیں نور ہو گا اسکی
لہریں اٹھیں گی وہ کہاں پہنچیں گی نور کی لہریں وہاں سے اٹھیں گی عرش معلی
تک پہنچیں گی۔ اب صرف عرش معلی
سے رابطہ ہوا ہے بات چیت نہیں ہے جس طرح امریکہ سے فون مل گیا اب بات چیت
کیا ہو گی۔ جب حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم
شب معراج میں گئے اللہ
تعالیٰ نے تحفہ دیا یہ نمازیں تحفہ ہیں کہ یہ اپنی امت کو دے دینا یہ تحفے
وہ مجھ کو بھیجیں گے میں انکو یاد رہوں گا وہ مجھے یادرہیں گے اب وہ تحفے
نیچے آگئے اب تحفوں کو اوپر بھیجنے کیلئے وہ ٹیلیفوں چاہیے۔ اگر
آپکے اندر وہ نوری ٹیلی فون نہیں ہے تو آپ کے تحفے یہیں ہیں اوپر نہیں جا
رہے ہیں اسکو نماز صورت بولتے ہیں۔ صورت
کا مطلب ہے کہ جس طرح تمہارا عکس ہے اب عکس تمہارے فوٹو سے کیا اصل ہو گا۔ یہ
نماز صورت ہے لیکن جس کے اندر وہ نوری ٹیلیفون لگ گیا اس ٹیلیفون کے ذریعے
اسکی نماز عرش معلی تک جاتی ہے اسکو بولتے ہیں نماز مومن کا معراج ہے یہ
صرف مومن کو معراج ہے اگر مومن کو معراج ہے تو ولی تو اس سے اگلی چیز ہے
ناں مومن کی آواز عرش معلی میں پہنچتی ہے تو ولی ان روحوں کے ذریعے بذات
خود وہاں پہنچ جاتا ہے۔ جب
تمہارے اندر اللہ اللہ شروع ہوجائے گی تو تمہارے اندر اور بھی مخلوقیں ہیں
روحیں ہیں جس طرح جن اور فرشتے ہیں اسی طرح وہ روحیں تمہارے اندر ہیں باقاعدہ حدیث شریف میں انکے نام ہیں قلب،روح،سری،خفی،اخفیٰ،انا،نفس 9 انکے خلیفے ہیں باڈی گارڈ 16 چیزیں تمہارے اندر ہیں جب تم 16چیزیں ان میں نور جائے گا تو وہ16 چیزیں اللہ اللہ کرنا شروع کر دیں گی اس جسم میں یا اللہ ہو گا اگر اللہ نہیں ہے تو پھر شیطان ہو گا۔ اگر تمہارے دل میں نور نہیں ہے تو پھر تمہارے دل میں شیطان ہے۔اور یقین کرو کہ جو قلبی اللہ اللہ نہیں کرتے انکے دلوں میں شیطان ہےانکو یہ بات بری لگی ہو گی لیکن ہم دلیل دیتے ہیں جب وہ نماز پڑھتے ہیں وہ سوچنا نہیں چاہتے انکو ایسے ایسے وسوسے آتے ہیں جو وہ سوچنا ہی نہیں چاہتے اسکا مطلب ہے کہ وہ نہیں سوچنا چاہتے لیکن جو انکے دل میں وسوسے آتے ہیں تو پھر وہ شیطان ہی ڈالتا ہے ناں۔ انکی نماز خراب کرنے آتا ہے نا۔ کیونکہ شیطان ہے نا۔ اب دوسرا اسکا ثبوت ہے آپ ذکر کے حلقے میں بیٹھ جائیں وسوسہ نہیں آئے گا آپ اللہ ھو میں لگ جائیں وسوسہ نہیں آئے گا الٹی مستی آئے گی تو کیا وجہ ہے۔ مستی کیوں آئے گی۔ کیونکہ جسطرح کوا تیر سے بھاگتا ہے اسطرح شیطان اللہ ھو سے بھاگتا ہےجب اللہ ھو سے شیطان بھاگتا ہے لیکن جب تم اللہ ھو کا ذکر چھوڑو گے تو پھر واپس آجائے گا ناں اگر تمہارے اندر ہی حلقہ بن جائے ناں تو وہ جو تمہارے اندر کی مخلوقیں اللہ اللہ کرنا شروع کر دیں تو۔ تو پھر یہی مسجد یہی کعبہ یہی گل گلزار جنت ہے۔ اب تمہاری نماز اس مسجد میں ہے تمہاری نماز خانہ کعبہ میں ہو گی لیکن انکے خانے کعبے کوئی اور ہیں۔ یہ جب جوان ہو جاتی ہیں انکا خانہ کعبہ بیعت المعمور ہے۔ یہ وہاں جا کے نمازیں پڑھتی ہیں عرش معلی میں جا کے نمازیں پڑھتی ہیں فرشتوں کے ساتھ نمازیں پڑھتی ہیں نبیوں ولیوں کی روحوں کے ساتھ نمازیں پڑھتی ہیں۔ اور یہ اسوقت تک سر نہیں اٹھاتیں جب تک اللہ جواب نہ دے لبیک یا ابدی۔ اسوقت تک سر ہی نہیں اٹھاتیں۔ پھر یہی چیزیں جو تمہارے اندر ہیں۔ یہی چیزیں نور سے بالکل نوری ہو جاتی ہیں جب نوری ہو جاتی ہیں تو پھر انسان سوچتا ہے کہ دیکھیں اوپر کیا ہو رہا ہے یہ اوپر پرواز کرتی ہیں بیعت المعمور سے بھی اوپر چلی جاتی ہیں فرشتے روکتے ہیں نہیں رکتیں کہتے ہیں جو کچھ بھی ہے بیعت المعمور سے آگے جل جائے گا۔ اور یہ بیعت المعمور سے بھی آگے چلی جاتی ہیں وہاں پہنچ جاتی ہیں جہاں رب کی ذات ہے۔ ظاہری جسم سے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے اور ان مخلوقوں سے ولی وہاں پہنچتے ہیں۔ جب کوئی اللہ کے روبرو چلا جاتا ہے تو ایک دوسرے کو پیار سے دیکھتے ہیںپھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تجھے دیکھ لوں تو مجھے دیکھ لے دیکھتے ہیں پیار سے دیکھتے ہیں پھر اللہ کا نقشہ اسکی آنکھوں میں آتا ہے آنکھوں سے اسکے دل میں جاتا ہے جب دل میں جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اب تو نیچے چلا جا اب جو تجھے دیکھ لے وہ مجھے دیکھ لے۔ انسان یہاں تک پہنچ سکتا ہے اور انسان پہنچتے ہیں۔سات سیارے ہیں۔ سات جہان ہیں۔ ہر جہان سے اک اک مخلوق پکڑ کر اللہ تعالیٰ نے انکے جسموں میں ڈال دی اور سات ہی جنتیں بنائیں۔ پتا نہیں اسکو کس جہاں کی سیر کرنے کا شوق ہو اگر اسکو ملکوت کی سیر کا شوق ہوا تو قلب کو طاقتور بنا لے گا۔ اگر جبروت میں جانے کا شوق ہوا تو روح کو طاقتور بنا لے گا۔ اگر اسکو شوق ہوا کہ میں اللہ کو دیکھوں تو لطیفہ انا کو طاقتور بنا لے گا۔ اسکے بعد اللہ تعالیٰ نے سات جنتیں بنائیں او اک ہی جنت کافی تھی ناں سات جنتیں کیوں بنائیں تو پھر اگر سات جنتوں میں اک لوگ ہی چلے جائیں نہیں اسنے پھر سات مخلوقیں بنائیں یہ قلب سے بات کرے گا خلد کا حقدار ہے۔ یہ روح سے بات کرے گا دارالاسلام کا۔ یہ سری سے اقرار کرے گا دار اقرار کا۔ یہ خفی سے کرے گا عدن کا نعیم کا ،ماوہ کا ،فردوس کا ایک سے ایک اعلیٰ جنت ہے اب لوگ تو کہتے ہیں ہم تو بخشے جائیں گے ہم بھی کہتے ہیں پانچ نمازوں سے بھی جنت مل جائے گی بلکہ اگر عقیدہ تمہارا صحیح ہے گستاخ نہ ہو گنہگار ہی سہی حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے گستاخ نہ ہو بھلے گنہگار ہی سہی ہو سکتا ہے ایک ہی دفعہ انکے نام کو چوم لو اسی صدقے سے اللہ تعالیٰ تم کو بخش دے۔ اور ہمارا عقیدہ ہے گستاخ نہ ہو کلمہ گو ہو بخشا ہی جائے گا۔لیکن اب بخشیا تو گیا ادھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا ان لوگوں نے سمجھ رکھا ہے ہم انکو نیک وکاروں کے برابر کر دیں گے۔ بخشیا بھی گیا اب نیک وکاروں کے برابر تو نہیں ہو سکتا ناں سب سے جو ادنیٰ جنت ہے وہ خلد ہے سب سے جو ادنیٰ عبادت ہے وہ قلب کی ہے اس نے تو قلب کی عبادت کری ہی کوئی نہیں۔ پھر جنت میں چلا گیا جنتیوں کا غلام بن کر رہے گا کتنا پچھتائے گا اک حدیث شریف میں ہے کہ جنتیوں کو جنت میں جو افسوس ہو گا کہ دنیا میں جو لمحہ بغیر ذکراللہ میں گزرا۔اک حدیث شریف ہے جو ذکر نہیں کرتے تھے انکو افسوس کاش ہم قلب کا ذکر کرتے خلد کے حق دار ہوتے۔ خلد والے کہتے کاش ہم روح کا کرتے تو دارالاقرار میں چلے جاتے دارالاسلام میں چلے جاتے ہر کسی کو کسی کا افسوس ہوگا۔ اب جو بات دل میں ہو جو بات زبان میں ہو جو دل میں اسکو آپ سچا کہیں گے ناں دنیاوی لحاظ سے بھی اگر آپکی زبان میں کچھ اور ہے دل میں کچھ اور ہے آپ منافق ہیں نا۔ دنیاوی حساب سے بھی اگر دنیاوی حساب سے آپ منافق ہیں تو اللہ کے معاملے میں اگر آپ زبان میں اور رکھیں تو دل میں اور رکھیں تو آپ بہت بڑے منافق ہیں۔ کیوں جی۔ جب آپ نماز پڑھتے ہیں تو اسکی نماز پڑھتے ہیں زبان سے کہتے ہیں کہہ دے اللہ ایک ہے دل کہتا ہے گھر وچ آٹا ہی کوئی نہیں آ بھئی زبان سے کہتے ہیں اللہ الصمد اللہ بے نیاز ہے دل میں کہتے ہیں بیوی بیمار ہے۔ ولم یلد ولم یولد دل کہتا ہے ڈیوٹی سے لیٹ ہوگیا ہے چل۔ زبان میں اور دل میں اور یہ منافقت ہے۔ ایسی نماز کبھی قبول نہیں ہوتی بھلے سنی ہو شیعہ ہو یا وہابی ہو۔اس نماز کو نماز صورت بولتے ہیںمجدد صاحب فرماتے ہیں ہر آدمی کی نماز صورت ہے خاصان خدا کی نماز حقیقت ہے فرماتے ہیں کہ ہر آدمی کو چاہیے کہ نماز حقیقت تلاش کرے نماز حقیقت کیلئے تمہیں سب سے پہلے اللہ اللہ سیکھنی ہو گی یہ تمہارا پہلا رکن ہے پہلا رکن تمہارا کلمہ طیب ہے اور حدیث شریف میں ہے کہ افضل ذکر کلمہ طیب اسکا مطلب ہے یہ کلمہ طیب ذکر میں ہے اور کچھ لوگ واقع ہی مسجد میں نماز کے بعد کلمہ طیب کا ذکر کرتے ہیں پھر قرآن فرماتا ہے ان دوسرے لوگوں کیلئے اٹھتے بیٹھتے حتیٰ کہ کروٹیں لیتے میرا ذکر کر خریدوفروخت میں بھی اس سے غافل نہ رہنا یہ تمہارا پہلا رکن ہے یہ تمہارے قرآن کا پہلا لفظ ہے الف سے اللہ اللہ کر اگر اسکی جلالت سے ڈرتا ہے تو لام سے لاالہ الاللہ کا ہی ذکر کر اگر اسکی بھی توفیق نہیں ہے تو میم سے محمد رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہی پڑھتا رےاگر اسکی بھی توفیق نہیں ہے پھر قرآن میں لگا رہ پھر پتا نہیں قرآن تجھے ہدائت دے یا تجھے گمراہ کر دے کیونکہ قرآن انکو ہدائت دیتا ہے جنکے نفس پاک ہو چکے ہیں باقاعدہ لکھا ہوا ہے کہ ھدللمتقین یہ ہدائت کرتا ہے پاکوں کو یہ جو ہدائت کرتا ہے یہ پاک لوگوں کو ہدائت کرتا ہے اور وہ جو پاک لوگ تھے وہ جو ہمارے عالم تھے انہوں نے اسی قرآن کے ذریعے کافروں کو مسلمان بنایا ناں اور انکی توہین دین اسلام کی توہین ہے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انہی عالموں کیلئے انکو عالم ربانی بھی کہتے ہیں کہ میرے عالم بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہیں مسلمانوں میں کہیں بھی فتنہ کھڑا ہوتا فوراً وہاں پہنچ جاتے اسکو جا کر مٹاتے تو جن عالموں نے نفس پاک ہوئے بغیر اس سے ہدائت پانے کی کوشش کری وہ خود بھی گمراہ ہو گئے اور 72 فرقے بنا دیئے اور وہ جو کہتا ہے ناں قرآن مجید کہ کچھ لوگ ہیں قرآن جن پہ لعنت کرتا ہے یہ وہی لوگ ہیں ناں بھی انکو لوگ لعنتی ہی کہتے ہیں ناں کافر کہتے ہیں ناں منافق کہتے ہیں ناں پھر لعنتی تو ہو گئے ناں اور وہ لوگ کافروں کو مسلمان نہیں بنا سکتے وہ تو ان لوگوں نے بنائے جنکے نفس پاک تھے یہ مسلمانوں کو کافر کہہ سکتے ہیں مسلمانوں کو کافر کہہ سکتے ہیں وہ فتنے مٹاتے تھے یہ روز اک نیا فتنہ کھڑا کر دیتے ہیں۔ انکے پاس فتنہ کیا ہے کہ بس فتوے لگا دو فتویٰ ایک فتنہ ہے
یہ پہلی سنت بھی ہے۔ حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم
کو9 سال کی عمر میں اسم ذات
عطا ہوا ہے کسی نبی کو عطا نہیں ہوا اسم ذات انکو صفاتی اسماء ملتے رہے صرف
حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم
کو 9 سال کی عمر میں اسم ذات عطا
ہوا۔ جب آپ لوگوں کو مسلمان
بناتے تھے نمازیں تو اتری ہی نہیں تھیں اسوقت۔ تو
پھر مسلمان کیا کرتے تھے ہر وقت ذکر الہیٰ کرتے ذکر الہیٰ سے انکے سینے
منور ہوگئے پھر جب نمازیں اتریں حلقوں میں نہیں اٹکیں سیدھی سینوں میں گئیں۔ یہ
تمہاری پہلی سنت ہے۔ اسکے لیے
تمہیں اللہ اللہ سیکھنی ہو گی دل کی دھڑکنوں کو اللہ اللہ میں لگانا ہوگا
کیونکہ قرآن مجید فرماتا ہے اٹھتے بیٹھتے حتیٰ کہ کروٹیں
لیتے ہوئے بھی میرا ذکر کر خریدوفروخت میں
بھی میرا ذکر کر دل کی دھڑکنوں کے ساتھ اسکو ملانا ہوگا پھر کوشش کرو گے
کام کاج کرتا رہوں اللہ اللہ ہوتی رہے گی اسکو بولتے ہیں دست کار میں دل
یار میں پھر کوشش کرو گے گاڑی چلاتا رہوں اخبار رسالہ پڑھتا رہوں اللہ اللہ
ہوتی رہے کامیابی ہو جائے گی پھر کوشش کرو گئے نماز پڑھتا رہوں اور اللہ
اللہ ہوتی رہے اسوقت زبان کہے گی کہہ دے اللہ ایک ہے دل کہے گا اللہ ہی
اللہ اللہ الصمد دل کہے گا اللہ ہی اللہ اب زبان اقرار کر رہی ہے دل تصدیق
کر رہا ہے اب جو زبان میں ہے وہی دل میں ہے زبان ذکر مفصل میں ہے اور دل
ذکر مجمل میں زبان دلیل سے منوا رہی ہے کہ کہہ دے اللہ اور دل بغیر دلیل کے
مان رہا ہے اللہ ہی اللہ زبان کا تصرف ہے امریکہ سے بولتے ہیں یہاں سنتے ہو
اور دل کا تصرف ہے یہاں گونجتا ہے عرش معلی والے سنتے ہیں تمہاری نماز کو
یہ دل عرش معلی تک پہنچائے گا۔ اب اسلامی ممالک سارے ہیں عراق بھی ہے ایران بھی ہے پاکستان بھی ہے اس زبان سے سارے ایک ہیں کیونکہ زبان سے سارے ہی کلمہ پڑھتے ہیں ناں اور دل سے تو ایک نہیں ہیں دل سے تو ایک دوسرے کو کافر ومنافق کہتے ہیں لڑتے ہیں جب تمہارے دلوں میں بھی اللہ اللہ آجائے گی پھر زبان سے بھی ایک اور دل سے بھی ایک پھر نہ شیعہ رہے گا نہ دیوبندی رہے گا نہ سنی رہے گا بس امتی ہوں تمہارا یا رسول اللہ۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے امت کیلئے فرمایا میری امت وہ جس میں نور ہو گا حدیث شریف میں بھی ہے کہ قیامت کے روز امتوں کی پہچان نور سے ہو گی۔ہر نبی کی امت میں منافق بھی تھے خوارج بھی تھے جن میں نور تھا اب موسیٰ علیہ السلام کی امت میں یا رحمٰن کا صفاتی نور تھا عیسیٰ علیہ السلام کی امت میں یا قدوس کا ،ایک دن موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے اللہ دیدار دے جواب آیا تاب نہیں ہے کہنے لگے کسی میں تاب ہو گی جواب آیا اک میرا حبیب اور اسکی امت تو موسیٰ علیہ السلام کو جلال آگیا میں نبی ہو کے امتی کے برابر نہیں جلوہ دے دیکھی جائے گا جلوہ پڑا موسیٰ علیہ السلام بیہوش ہو گئے اب کیا وجہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کوطور میں اس دنیا میں بیہوش ہوئے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سامنے جا کے مسکرا رہے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کے جسم میں یا رحمٰن کا صفاتی نور تھا وہ ذات کی تاب نہ لا سکے۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک میں اسم ذات کا ذاتی نور تھا ذات ذات کے سامنے مسکرائے اور حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے طفیل وہ اسم اس امت کو ملا تب اسکو فضیلت ہوئی اور امت تو اس سے ڈرتی ہے یا محروم ہے۔ ا مت اس سے ڈرتی ہے یا محروم ہے۔ اور یقین کرو کہ جس میں نور نہیں ہے وہ امتی ہی نہیں ہے۔بھئی وہ امتی نہیں ہے تب ہی تو کہتا ہے میں شعیہ ہوں سنی ہوں وہابی ہوں اگر نور ہو توکیوں کہے، کہے میں امتی ہوں۔
ایک دن عیسیٰ علیہ السلام
بھی کہہ بیٹھے اے اللہ دیدار دے تو اللہ نے فرمایا تونے موسیٰ علیہ السلام
کا حال نہیں دیکھا۔ تو
سہم گئے کیونکہ حال دیکھا ہوا تھا تو پھر دیدار کیسے ہوگا مجھے تو بہت طلب
ہے۔ فرمایا دیدار بڑے عرصے بعد
ہو گا وہ بھی میرے حبیب
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو اور
اسکی امت کو۔ تو عیسیٰ
علیہ السلام
نے کہا اے اللہ نبوت سنبھال تو مجھے امتیوں سے ہی امتیوں ہی میں کھڑا کر
دینا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام
کی دعا قبول کری انکو زندہ اٹھایا۔
اب مہدی علیہ السلام آئیں گے عیسیٰ
علیہ السلام کو پھر بھیجا جائے گا جاؤ جا کر ان سے بیعت ہو۔ پھر
عیسیٰ
علیہ السلام
مہدی
علیہ السلام
سے بیعت ہوں گے پھر اسم ذات انکو دیا جائے گا۔ اسم
ذات کے ذریعے انکو اللہ کا دیدار ہو گا۔ اور
جس کیلئے نبیوں نے اتنی پریشانی اٹھائی وہ چیز جو تم کو ملی اور تم اس سے
محروم۔ تم اس سے محروم کتنی بد نصیبی ہے اس وقت ہر آدمی اپنے آپ کو امتی تصور کر رہا ہے بہت سے لوگ ہیں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی کوئی منافق ہو گیا کوئی خوارج ہو گیا۔ وہ منافق آج بھی موجود ہیں اپنے آپکو وہ بھی امتی کہتے ہیں لیکن منافق ہیں وہ سرحد کی طرف دیکھنے میں آتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم نمازیں بھی پڑیں گے تسبیحاں بھی تہجد بھی ہر کام اسلامی شریعت کا کریں گے لیکن سود کا کاروبار نہیں چھوڑیں گے۔ وہ منافق ،خارج ہو گئے۔ اورجو منافق ہیں وہ بھی ہم نے دیکھے ہیں وہ کہتے ہیں ہماری طرح تو بشر ہی ہیں انکے بچے ہوتے ہیں ان میں ہم میں کیا فرق ہے بس بڑے بھائی کی طرح ہیں اللہ اور ہمارے درمیان ایک ڈاکیا ہے۔ وہ منافق ہیں وہ بھی لوگ دیکھنے میں آتے ہیں۔ نہ منافق کی عبادت قبول ہوتی ہے نہ خوارج کی عبادت قبول ہوتی ہے۔ لیکن جو باقی رہ گئے ان میں بھی حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جھوٹا بھی میرا امتی نہیں ہے۔ وہ تو نکل ہی گئے ناں جھوٹے کو کہا یہ بھی میرا امتی نہیں ہے اب کیا خبر تم تو جھوٹ سے بھی بڑے بڑے کام کر جاتے ہو تو ہو سکتا ہے تمہیں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے خارج کر دیا ہو جسطرح انکے پاس بھی کوئی ثبوت نہیں ہے اسطرح تمہارے پاس بھی تو کوئی ثبوت نہیں ہے ناں۔ یقین کرو جو تمہارا ورثہ تھا اسم ذات کا اس دنیا میں آچکا ہےآؤ اپنا اپنا حصہ لے جاؤ
اور اس کیلئے کوئی شرط نہیں رکھی
اللہ تعالیٰ نے نا کوئی نذرانہ نا کوئی بیعت نا کوئی کالا
نا کوئی چٹا نا کوئی گورا نا
کوئی عیسائی نا کوئی کافر اور نہ کوئی یہودی ساری دنیا کیلئے۔ اس
نے وہ خزانہ نیچے بھیج دیا ۔ جو
امتی ہو گا اسی کو ملے گا ناں آؤ اپنا خزانہ لے لو اگر تمہارے سینے میں
اللہ اللہ چلا گیا ناں تو امتی ہو گئے ناں ثبوت ہو گیا ناں اگر کوشش کے
باوجود خزانہ آنے کے باوجود تم کو ملتا ہی نہیں ہے تو یا منافق ہو یا خارج
ہو اب اس خزانے کو حاصل کرنے کا طریقہ بھی ہے بھئی کوئی بھی چیز ہے تمہیں
حاصل کرنی ہے اس کیلئے کہیں تو جانا ہی پڑے گا ناں۔ اس
خزانے کو حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔ یقین کرو وہ صرف مسلمانوں کیلئے نہیں ہے ان لوگوں میں بھی کچھ ایسے ہیں جنکو اللہ چاہتا ہے کافروں سکھوں میں بھی ایسے ہیں جنکو اللہ چاہتا ہے سب کیلئے ہے۔ کیونکہ یہ جو دین ہے یہ دین تو جیسا انسان تھا ویسا ہی اللہ تعالیٰ نے اس کیلئے دین بنا لیا تورات میں کچھ اور دین ہے زبور میں کچھ اور ہے انجیل میں کچھ اور ہے قرآن میں کچھ اور ہے پھر اسکا اپنا دین کیا ہے۔ پھر اسکا اپنا دین کچھ اور ہو گا ناں وہ نور ہے جو نوری ہو جاتا ہے وہ اس کا ہو جاتا ہے۔ جسطرح میگنٹ کے پہاڑ ہیں مغرب کی طرف یہاں قطب نما ہے وہ جس شہر میں بھی لے جاؤ اس کا رخ ادھر ہی ہوگا مغرب کی طرف ہی ہوگا اس سے نسبت ہے ناں۔ اگر تمہارے دل میں نور آگیا تو پھر تم جس فرقے میں ہو جس مذہب میں ہو تمہارا رخ اللہ کی طرف ہی ہوگاناں تو پھر جدھر اللہ ادھر تم خود بخود ہی تمہیں موڑ لے گا ناں۔
اب اسکا طریقہ کیا ہے روزانہ66 مرتبہ سفید کاغذ پہ کالی پنسل سے اللہ لکھو۔ آپ تھوڑ ے دن لکھیں گئے آپ جو کاغذ پہ لکھتے تھے وہ آپکی آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے گا۔ لوگ کہتے ہیں یہ مسمریزم ہے صحیح کہتے ہیں یہ مسمریزم نہیں ہے مسمریزم اسی سے نکلا ہے۔ مسمریزم والے کیا کرتے ہیں شمع کو یا سورج کی روشنی کو آنکھوں میں لے آتے ہیں اسکی طاقت سے شیشے کے گلاس پہ نظر ڈالتے ہیں وہ ٹوٹ جاتا ہے لیکن انسان کے اوپر ایک لاکھ اسی ہزار جھالے ہیں دل کے اوپر وہ شمع یا سورج کی روشنی ان جھالوں کو توڑ نہیں سکتی جب وہ اللہ کا لفظ آنکھوں میں آتا ہے آنکھوں سے پھر توجہ سے دل کے اوپر اتاریں اس اللہ کے لفظ میں اتنی طاقت ہے کہ وہ ایک لاکھ اسی ہزار جھالوں کو توڑتا توڑتا دل کے اوپر جا کر بیٹھ جائے گا۔ جب دل کے اوپر جاکر بیٹھ جائے گا تو دل کی دھڑکن تیز ہو جائے گی ٹک ٹک ٹک وہ اسکی تسبیح ہے۔ اس ٹک ٹک کے ساتھ پھر اللہ ھو ملائیں ایک ساتھ اللہ ایک کے ساتھ ھو۔ رات کو سونے لگیں انگلی کو قلم خیال کریں دل پہ اللہ لکھتے لکھتے سو جائیں اسی میں نیند آجائے۔ یقین کرو بہت سے لوگ ہیں اس زمانے میں یہاں بھی موجود ہیں جن کے دلوں پہ اللہ لکھا نظر آتا ہے۔ انکو خود نطر آتا ہے انکے دلوں پہ اللہ لکھا ہوا ہے۔ جب اللہ لکھا جائے تو پھر یقین کرو بے خوف ہو جانا بڑی شان و شوکت سے قبر میں چلے جانا فرشتے آئیں گے سب سے پہلے پوچھیں گے بتا تیرا رب کون ہے پوچھیں گے تیرا رب کون ہے خاموش ہو جانا ستانا انکو پھر پوچھیں گے تیرا رب کون ہے بتاتا کیوں نہیں پھر خاموش تیسری دفعہ پھر پوچھیں گے گھونگھا تو نہیں ہے بتا تیرا رب کون ہے کفن کو پیچھے ہٹانا اللہ لکھا ہوا ہے۔ جرآت نہیں پڑے گی کوئی دوسرا سوال تجھ سے پوچھیں کہیں سلام علیکم ہم جا رہے ہیں تو جان اور تیرا رب جانے۔ اب اس اللہ کو ہر فرقہ مانتا ہے ہر مذہب مانتا ہےخواہ کوئی عیسائی ہے یا سکھ ہے یا ہندو ہے سارے ہی اسکو مانتے ہیں اللہ کو تو مانتے ہیں ناںہم نے اس میں اگر کوئی غیر مذہب بھی ہے تو اپنی نماز کی بات تو نہیں کری ہے ناں اللہ کی بات کری ہے تو دل میں اللہ کو لا ناں کوئی بھی فرقے والا ہے دیوبندی ہے مرزائی ہے شیعہ ہے کافر ہے کوئی بھی ہے یہ اسکے لیے ہے۔ رات کو سونے لگیں انگلی کو قلم خیال کر کے تصورسے اللہ لکھتے لکھتے سو جائیں اسی میں نیند آ جائے صبح اٹھیں وضو ہے یا نہیں ہے پروا نہیں دل کا وضو پانی سے نہیں ہوتا۔ جب یہ اللہ کا نور اس دل میں جائے گا وہ اس دل کو دھوئے گا اسکو بولتے ہیں وضو کرلے شوق شراباں دا۔ ذکر خفی کرتے رہیں ذکر خفی عبادت ہے منزل نہیں۔ جس دن تمہارے دل کی دھڑکنوں نے اللہ اللہ کرنا شروع کر دیا وہ تمہارا طریقت میں پہلا قدم ہے۔ یہ جو کہتے ہیں شریعت اور طریقت حقیقت اور معرفت ہمارے علماءکہتے ہیں یہ سب شریعت میں نہیں شریعت کا تعلق اس زبان سے ہے اور طریقت جب دل بول اٹھا اللہ اللہ میں یہ طریقت ہے نا۔ جب اللہ اللہ سے پہنچ گیا اللہ تک وہ حقیقت ہے ناں حقیقت کا تعلق ان آنکھوں سے ہے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ جب اسکو زبان دیتا ہے تو وہ معرفت ہے ناں معرفت پھر اسکوبولتے ہیں نا۔ تم کیسے کہتے ہو کہ سب کچھ شریعت میں ہے
اگر ذکر سے گرمی محسوس ہو تو درود
شریف پڑھیں وہ اسکو ٹھنڈا کر دے گا پھر دیکھیں کہ ذکر سے غصہ آرہا ہے یا
خیال آیا ہے کہ گھر بار چھوڑو پھر درود شریف پڑھیں وہ اسکو ٹھنڈا کر دے گا۔ یہ
اسکا طریقہ ہے اسکے لیے جو لوگ چاہتے ہیں ذکر لینا بھلے کہیں سے بیعت ہیں
یا نہیں ہیں ہمیں اس سے مقصد نہیں ہے۔ ذکر
لیں اور اپنی قسمت آزمائیں اگر تو اللہ اللہ شروع ہو گیا تو دعا دے دینا
اگر اللہ اللہ شروع نہ ہوا تو جو دو چار دن اللہ اللہ کرو گے اسکا ثواب تو
مل جائے گا نا۔ اسکے لیے بتا
دیں جو لوگ ذکر لینے والے ہیں ذکر لیں اور قسمت آزمائیں ۔
*****اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو*****
اگر آپ بھی ذکر کی لینا
چاہتے ہیں تو امام
مہدی ریاض احمد
گوھرشاہی کی شبیہ مبارک کوپورے
چاند پر دیکھتے ہوئے تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔
|
|
© 1998-2010 All Faith Spiritual
Movement Intl' |