SELECT YOUR LANGUAGE:    ENGLISH    or   INDONESIAN

حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کی تصویر چاند میں نمایاں ہے

اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے (سورہ النصر)

مرکزی صفحہ  تعارف  حضرت عیسی  کرشمہ قدرت  الحجرالأسود  تعلیمات  دینِ الٰہی  پروگرام  تصانیف  ویڈیو  رابطہ    

اللہ هو کانفرنس

 اگست 1992 اورنگی ٹاؤن کراچی

 

آعوذبااﷲمن الشیطن الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

عزیز ساتھیو السلامُ علیکمُ:۔


آپ کے اس محلے میں آنے کا مقصد کوئی سیاست نہیں ہے۔ کسی کی مخالفت نہیں ہے۔ حکومت پہ نکتہ چینی نہیں ہے۔ ہر شہر میں ہر گھر میں کچھ اہل دل ہوتے ہیں۔ اُن اہل دلوں کو نکالنا ہمارا مقصد ہے اور دل کی آواز دِلوں تک پہنچانا مقصود ہے۔

حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو طرح کا علم تھا۔ ایک زبان والوں کے لیے اور ایک دِل والوں کے لیے۔ زبان والے علم کو شریعت بولتے ہیں اور دِل والے علم کو طریقت بولتے ہیں۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جن لوگوں نے صرف ظاہری علم پہ قناعت کری، اُنہی میں سے کوئی خوارج ہوئے اور کوئی منافق ہوئے۔ اور جِن لوگوں نے وہ باطنی علم بھی کیا وہ تو صحابیء یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کہلائے اور ولیوں سے بھی اعلیٰ مقام حاصل کر کے چلے گئے۔

ظاہری علم کی تشریح ضروری نہیں ہے، ہر شخص جانتا ہے۔ باطنی علم ناپید ہوچُکا، جِس کی وجہ سے 73,72 فِرقے بن گئے۔ باطنی عِلم کِتابوں میں نہیں ملتا۔ مسجدوں میں نہیں مِلتا، حدیث شریف میں بھی نہیں ملتا۔ حدیث شریف میں صرف اُسکے اشارے ہیں۔

 حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں: مجھے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے دو علم حاصل ہوئے۔ ایک تمہیں بتا دیا اگر دوسرا بتاؤں تو تم مجھے قتل کر دو۔ 

قرآن مجید میں بھی اُس کا اشارہ ہے کہ خِضرعلیہ السلام  کو علمِ لدنی تھا۔ اِشارہ ہے وہ علم نہیں ہے ایک اور جگہ ہے کہ اللہ تعالیٰ علمِ غیب کے لیے اپنے رسولوں کو، جِس کو چاہے چُن لیتا ہے۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے اللہ تعالیٰ سے تین علم حاصل ہوئے ایک عام لوگوں کے لیے، عام لوگوں کے لیے اور ایک خاص کے لیے اور ایک صرف میرے لیے۔

حضرت ابراہیم بِن ادہم فرماتے ہیں۔ کہ میں نے 70 مرتبہ اللہ کو دیکھا ہے۔ 120 مسلئے اللہ سے سیکھے ہیں، صرف 4 لوگوں کو بتائے، سب نے اِنکار کر دیا۔ 

اور اِس میں، علم باطن کا ایک اور جگہ واقعہ ہے۔ ایک دفعہ شاہ شمس تبریز، مولانا رومی کے مکتب میں چلے گئے وہ کچھ کتابوں کا مطالعہ کر رہے تھے۔ تو شاہ شمس تبریز پوچھتے ہیں کہ  ”ایں چیست کہ یہ کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ایں آں عِلم است کہ تو نمی دانی کہ یہ وہ علم ہے جِس کو تو نہیں جانتا۔ تھوڑی دیر بعد اُنکو کوئی حاجت ہوئی ،مولانا رومی کو باتھ رُوم میں چلے گئے مُڑ کے آئے تو شاہ شمس نے وہ کتابیں اُٹھا کے پانی کے حوض میں ڈالدیں۔ اب وہ پوچھتے ہیں یہاں میری کتابیں تھیں کِدھر گئیں۔ شاہ شمس نے کہا کہ میں نے پانی کے حوض میں ڈال دیں۔ انہوں نے کہا میرے قیمتی نسخے تھے۔ ضائع ہو گئے ہونگے۔ اُنہوں نے کہا گبھراتے کیوں ہو ابھی نِکالتا ہوں، جب نکالیں تو وہ اُسی طرح خُشک تھیں ۔ اُس وقت مولانا رُومی نے کہا کہ ایں چیست تو شاہ شمس نے کہا کہ ایں آں علم است کہ تُو نمی دانی کہ یہ وہ علم ہے ،جِس کو تُم نہیں جانتے۔ اب مولانا رُومی حدیث کا علم بھی جانتے تھے۔ قرآن مجید کا بھی جانتے تھے۔ سارے مسلئے مسائل جانتے تھے۔ لیکن وہ کوئی اور ہی علم تھا۔

آج جب اِس علم کی بات کی جاتی ہے ۔تو ہمارے بہت سے لوگ کہتے ہیں۔ بلکہ بہت سے عالم بھی کہتے ہیں۔ کہ یہ درویش زندیق ہیں، مردود ہیں۔ نہ قرآن کی بات نہ حدیث کی بات۔ یہ اِنکی اپنی من گھڑت باتیں ہیں۔ پھر لوگ درویشوں کے پاس جاتے ہیں۔ تو درویش کہتے ہیں کہ مولوی جاہل ہے۔ علم باطن سے محروم ہے۔ اِس سے ڈرو اور بچو۔ لوگ پریشان ہیں۔ کچھ عالموں کے ساتھ لگ گئے اور کچھ درویشوں کے ساتھ لگ گئے۔ لیکن لوگوں کو یہ بہتر یہی ہے کہ علمِ ظاہرعُلماء سے سیکھیں، اور علمِ باطن درویشوں سے سیکھیں۔ اُن کو دونوں علم چاہئیں۔
 
سخی سلطان باھورضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تیری عمر بہت کم ہے اور علم بہت ہی ذیادہ ہے۔ جو ضروری ہے اُسکو حاصل کر لے۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوا ہے کہ کچھ ایسے حضرات بھی آگئے جو علمِ ظاہر اور باطن میں یکساں تھے۔ ایسے بھی آئے ہیں غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ تھے۔ مجدد صاحب تھے۔ کاظمی صاحب تھے۔ مشوری صاحب تھے۔ ایسے لوگ بھی آئے ہیں۔ اگر ایسا آدمی کِسی کو مِل جائے تو وہ اِن دونوں سے بہتر ہے۔

اب وہ جو علمِ باطنی ہے۔ وہ کتابوں میں نہیں ،حدیث شریف نہیں ۔پھر وہ کہاں ہے۔ قرآن مجید میں صرف تین الفاظ میں اُسکے اشارے ہیں۔ ”ا ل م“  الم ذکوریت میں ہے۔ جِس کو تم کہتے ہو حروف مقطعات ،اِس کو چھوڑ دو ،آگے چلو! ایک ہدایت الم سے ہے اور ایک ہدایت کتاب سے ہے۔ الف کا مقصد ہے اللہ اللہ کا ذِکر کر یہ ذکوریت میں ہے۔ اگر اِسکی جلالت سے گھبراتا ہے تو ل لااِلہٰ اِلاللہ کا ذِکر کر، یہ معتدل ہے ۔اگر اس سے بھی تو ڈرتا ہے تو م سے محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا ذکر کر یہ جمالی ہے۔ الم۔ قرآن مجید فرماتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کو نُور سے ہدائیت ہے۔ اور جو لوگ نُور سے ہدائیت نہیں پا سکے، پھر وہ کتاب میں ہی اُلجھے رہے۔

سخی سلطان باھورضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”میں کسی اسکول، مدرسے میں نہیں پڑھا میں نے صرف قرآن مجید کا پہلا لفظ الف لے لیا، اور الف سے اللہ اللہ کرتا رہا۔ اللہ اللہ کرنے سے میرا سینا منور ہوگیا“۔ جِس طرح ظاہری علم کے لیے سفید کاغذ کی ضرورت ہے اِسی طرح باطنی علم کے لیے سفید سینے کی ضرورت ہے۔ فرماتے ہیں ”جب میرا سینہ منور ہوگیا تو حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے مجھے سینے سے لگایا اور وہ باطنی علم میرے سینے میں خودبخود ہی آگیا“۔ 

اب وہ باطنی علم کیا ہے؟ جِس طرح یہ زبان اللہ اللہ کرتی ہے اِسی طرح وہ دل بھی اللہ اللہ کر سکتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں ہم نے دل دیکھا ہے گوشت کا لوتھڑا ہے اِس کی زبان ہی نہیں ہے تو وہ کہاں سے اللہ اللہ کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں یہ درویشوں کا خیال ہے۔ اگر لوگوں کو یقین ہو جائے کہ واقعی یہ دل اللہ اللہ کرسکتا ہے، تو اُنکو اِسکے بغیر نیند ہی نہ آئے۔ وہ اِسکو خیال سمجھتے ہیں، ہم کہتے ہیں یہ زبان یہ بھی گوشت کا لوتھڑا ہے، بھئی یہ بھی تو گوشت کا لوتھڑا ہے یہ اللہ اللہ کیسے کرتی ہے۔ یہ دو جبڑوں کے درمیان لٹکی ہوئی ہے اور وہ دو پسلیوں کے درمیان لٹکا ہوا۔ پھر یہ اللہ اللہ کیسے کرتی ہے؟ ایک ہی چیز ہے۔

تو زبان میں طاقت نہیں ہے اللہ اللہ کرے اِسکو اللہ اللہ کرانے کے لیے ایک مخلوق ہے جِس کا نام ہے لطیفہ اخفیٰ وہ سینے کے درمیان ہے اگر کسی کی وہ مخلوق ضائع ہو جائے ڈاکٹر کہتے ہیں زبان تو صحیح ہی یہ بولتا کیوں نہیں ہے۔

جانوروں اور اِنسانوں میں صرف اِن مخلوقوں کا فرق ہے۔

ورنہ یہ زبانیں تو جانوروں میں بھی ہیں۔ اگر صرف زبان کی بات ہوتی تو جانور بھی کچھ نہ کچھ بولتے توتلا ہی بول لیتے اب اِس زبان کو گوشت کے لوتھڑے کو اللہ اللہ کرانے کے لیے ایک مخلوق ہے وہ آزاد ہے اور وہ جو گوشت کا لوتھڑا ہے دو پسلیوں کے درمیان اُسکو اللہ اللہ کرانے کے لیے بھی ایک مخلوق ہے اُسکا نام ہے لطیفہ قلب۔

فرق یہ ہے کہ یہ مخلوق آزاد ہے اور وہ ایک لاکھ اسی ہزار جالوں کے اندر بند ہے۔

اگر کوئی شخص اُسکو بھی آزاد کرائے تو جِس طرح یہ زبان اللہ اللہ کرتی ہے ،اِس طرح وہ دل بھی اللہ اللہ کرتا ہے۔

اب اُسکو آزاد کیسے کرائیں؟ یہ تو پتا چل گیا اگر وہ آزاد ہو جائے تو لیکن وہ آزاد کیسے ہو۔ اگر کِسی شخص نے انڈا نہ دیکھا ہو اُسے کہا جائے یہ ہوا میں اُڑے گا، یہ چُوں چُوں کرے گا، وہ کہے گا تو غلط کہتا ہے۔ نہ ٹانگیں ہیں نہ پر ہیں۔ توڑ کے دیکھتا ہے کچھ نہیں اور تو کہتا ہے یہ ہوا میں اُڑے گا۔ وہ ایک نقل ہے تمہاری عبرت کے لیے۔ اُس کا نام بیضیٰ ہے۔ تمہارے اندر بیضیٰء ناسوتی ہے۔ اُسکے اوپر تین چھلکے ہیں ،اور اِسکے اوپر 180،000 جالے ہیں۔

اُسکے اندر ایک چُوزہ بند ہے اور اِس تمہارے سینے کے اندر ایک فرشتہ بند ہے۔ اُسکو مُرغی چاہیے ورنہ بیکار،اِسکو مرشد چاہیے ورنہ زندگی بیکار۔ مُرغی کیا کرے گی اُسکی طاقت کے طاقت کے حساب سے اُسکو گرمی پہنچائیں گی۔اور مرشد کیا کرے گا، اُس کے ظرف کے حساب سے اُس میں اِسمِ اللہ کی گرمی پہنچائے گا۔ جب وہ انڈا پھٹے گا، بغیر سیکھے سِکھائے چوں چوں کرے گا، اُسکی فطرت ہے۔ اور جب یہ بیضیٰ پھٹے گا تو بغیر سیکھے سکھائے اللہ اللہ کرے گا۔ اِسکی فطرت اللہ اللہ ہے۔

اُس وقت آدمی دیکھے گا کہ میرے اندر کونسی چیز اللہ اللہ کر رہی ہے۔ میں نہیں کر رہا، کوئی اور طاقت اللہ اللہ کر رہی ہے۔ یہاں سے پھر دو طرح کی تسبیح چلتی ہے۔ ایک پتھر کی تسبیح جو عام لوگوں کی ہے۔ ایک دل کی تسبیح جو خاص کی ہے۔ پتھر کی تسبیح کا کیا کام ہے؟ زبان کرتی ہے اللہ وہ کرتی ہے ٹِک، زبان کرتی ہے اللہ وہ کرتی ہے ٹِک، یعنی اُس کا کام صرف ٹِک ٹِک کرنا ہے اب ایک دفعہ اللہ کہہ لینا کافی ہے، یہ گھڑی گھڑی اللہ اللہ کیوں کرتے ہیں۔ جِس طرح بادل آپس میں ٹکراتے ہیں تو بجلی بنتی ہے۔ اِسی طرح جب لفظ اللہ اللہ کا ٹکراؤ ہوتا ہے تو نُور بنتا ہے۔ اب زبان سے جو اللہ اللہ ہو رہی ہے وہ بھی باہر ،تسبیح بھی باہر اور وہ جو نُور بنا ہے وہ بھی باہر۔ یہ عبادت ہے ،کوئی روحانیت نہیں ہے۔ اِسی طرح کی ٹِک ٹِک تمہارے اندر ہو رہی ہے۔ اب وہ جو مخلوق جاگ اُٹھی ،آدمی اُس کا اُستاد بن جاتا ہے۔ اُسکو کہتا ہے کہ تیری تسبیح یہ ہے تُواِسکے ساتھ اللہ اللہ کر۔ تین سال تک اُسکے ساتھ اللہ اللہ مِلاتا ہے، کبھی ہٹتی ہے کبھی مِلتی ہے، کبھی ہٹتی ہے، کبھی مِلتی ہے۔ اور تین سال تک کے بعد اِتنی پختہ ہو جاتی ہے کہ آدمی ڈٹ کر سوتا ہے اور وہ اللہ اللہ کرتا رہتا ہے۔
سخی سلطان باہو فرماتے ہیں کچھ جاگدیاں سُتے ہُو کچھ سُتیوں جاگدے ھو۔ کچھ لوگ ایسے ہیں ساری رات بیٹھ کر عبادت کرتے ہیں لیکن سوتے ہوؤں میں شامل ہیں اور کُچھ لوگ ایسے ہیں جو بستروں پر سو رہے ہیں اُنکے دِل اللہ اللہ کررہے ہیں۔

حضُورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ ہم سوتے ہیں ہمارے دِل نہیں سوتے۔

اب وہ ٹِک ٹِک بھی اندر ،اللہ اللہ بھی اندر، اب وہ جو نُور بنا وہ بھی دِل کے اندر۔ اب یہاں سے پھر روحانیت چلتی ہے۔ اب اُن ٹِک ٹِکوں کا کیا کام ہے؟ جواندر ٹِک ٹِک ہو رہی ہے، وہ ٹِک ٹِک خون کو آگے دھکیلتی ہے۔ نس نس میں پہنچاتی ہے۔ پھر خون اُوپر آتا ہے۔ دِل میں آتا ہے، پھر اُسکو نس نس میں پہنچاتی ہے۔ اب اُس ٹِک ٹِک کے ساتھ اللہ اللہ مِل گیا، اب وہ اللہ اللہ اُس ٹِک ٹِک کے ذریعے نس نس میں چلا جاتا ہے۔ اللہ اللہ پُورے خون میں چلا جاتا ہے۔ جب پُورے خون میں چلا جاتا ہے۔

اُس وقت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں تو اِک دفعہ اللہ اللہ کرے گا تُجھے ساڑھے تین کروڑ اللہ اللہ کرنے کا ثواب مِلے گا۔ فرماتے ہیں کیسے مِلے گا؟ کہ تیرے اندر ساڑھے تین کروڑ نسیں ہیں۔ دِل نے اِک دفعہ اللہ کری ،ساڑھے تین کروڑ نسیں گونج اُٹھیں ۔

سخی سلطان باہُو فرماتے ہیں بہتر ہزار اور ثواب ملے گا اگر اِک دفعہ دِل اللہ کہے تو! فرماتے ہیں: یہ جوتیرے مسام ہیں یہ 72 ہزار ہیں،جہاں سے پسینہ آتا ہے۔ دِل اک دفعہ اللہ کری 72 ہزار آوازیں یہاں سے بھی گُونجیں۔

پھر علامہ اقبال نے فرمایا :پھر خُدا بندے سے پُوچھے ،بتا تیری رضا کیا ہے؟ فرماتے ہیں :خودی کو بلند اتنا، پھرخودی کا مطلب سمجھایا: خودی کا سرِنہاں لااِلہٰ اِلااللہ، تو لااِلہٰ اِلااللہ کا اِتنا ذِکرکر کہ لوگ کہیں مجنوں ہے اور منافق کہیں ریا کار ہے۔

وہ جوپہلا درجہ تھا، وہ مسلمان کا ہے۔ دِن رات تسبیح پڑھے نمازیں پڑھے نوافل پڑھے،تلاوت کرے، وہ مسلمان ہے، وہ مومن نہیں ہوسکتا ہے۔ مومن کے لیے قرآن مجید میں شرط ہے۔ سورة حجرات میں ”اعراب نے کہا ہم ایمان لے آئے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: نہیں اِن کو کہو صِرف اِسلام لائے ،مومن تب بنو گے جب نُور تمہارے دِل میں اُترے گا“۔

مسلمان میں فرقے ہیں، 72 فرقے ہیں۔ مومن میں کوئی فرقہ نہیں۔ مومن سارے بھائی بھائی ہیں۔

مومن نہیں کہتا میں سُنی ہُوں، میں شیعہ ہُوں، میں وہابی ہُوں۔ مومن کہتا ہے بس اُمتی ہُوں تمہارا یا رسُول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم۔ بس تمہارا اُمتی ہی ہُوں اور کُچھ نہیں ہُوں۔ عام آدمی اگر اِس درجے میں پہنچ جائے تو وہ نُور ہے۔ بہت سے لوگ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو بھی نُور نہیں مانتے۔ لیکن اگر عام آدمی یہاں تک پہنچ جائے تو وہ بھی نُور بن جاتا ہے۔ اگر کوئی عالم ہے تو وہ یہاں تک پہنچ گیا، نسوں میں نُور چلا گیا تو وہ نُور علیٰ نور بن جاتا ہے۔ اور اُسی کے لیے حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے عالم بنی اِسرائیل کے نبیوں کی مانند ہیں اوہ واقعی اُن کی توہین ،دین اِسلام کی توہین ہے۔ اُنہی لوگوں نے کافروں کو مسلمان بنایا۔ جہاں کوئی فتنہ اُٹھا فوراً جا کے مٹایا۔ اور جوعالم علم باطن کے بغیر ہیں۔ وہ مشکوک ہیں، وہ مشکوک ہیں جدھر مفاد دیکھا اُدھر ہوگئے، کبھی بے نظیر کے ساتھ، کبھی نوازشریف کے ساتھ اگر یہاں سے بھی اُنکا مفاد حل نہ ہوا تو اِن دونوں کے ہی مخالف ہوگئے۔ اور اِنہی عالموں کے لیے حدیث ہے، حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاہل عالم سے ڈرو اور بچو۔ اصحابہ نے پوچھا عالم بھی اور جاہل بھی ؟ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جِس کی زبان عالم اور دِل سیاہ یعنی جاہل ہو“۔

اب اس قلب کو منور کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اُس کا ذِکر چل پڑے ذکر ِقلبی، ہر وقت اللہ اللہ سے اُس کا دِل صاف ہو جائے۔ دُوسرا طریقہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ ایسے جو کہیں سے بیعت ہیں۔ اگر اُن کے مُرشد کامل ہیں تو مُرشد کی نگاہ اُن کے قلب پر پڑھے، تو اُن کے قلب کو منور کر دیتی ہے اور جو لوگ کہیں سے بیعت بھی نہیں ہیں تو پھر ایک حدیث شریف میں ہے کہ جِس کا مُرشد نہیں اُس کا مُرشد شیطان ہے“۔

وہ پہلا درجہ مسلمان کا، اُسکی نماز اور۔ دوسرا درجہ مومن کا، اُسکی نماز کچھ اور۔ تیسرا درجہ ولی کا، اُسکی نماز کچھ اور۔ اب مسلمان کی نماز کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلمکو فرمایا "قُل ھو اﷲ احد" کہہ دیجیے اﷲ ایک ہے۔ آپ نے آمین کہا۔ حضور پاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کہا کہہ دو اللہ ایک ہے، جنہوں نے آمین کہا وہ مسلمان ہُوئے، جنہوں نے نہیں مانا وہ کافر، جنہوں نے حیل وحجت کری منافق۔ اب مسلمان کِس کو کہتا ہے؟ کہہ دے اللہ ایک ہے! مسلمان اپنے دِل کو کہتا ہے کہہ دے اللہ ایک ہے۔ دِل جواب دیتا ہے گھر میں آٹا ہی نہیں ہے۔ پھرکہتا ہے "اﷲ الصمد" اﷲ بے نیاز ہے دِل جواب دیتا ہے ،بیوی بیمار ہے۔ پھر کہتا ہے "لم یلد ولم یولد" دِل کہتا ہے ڈیوٹی سے لیٹ ہوگیا ہے چل۔ کافروں کی زبان اِقرار نہیں کرتی۔

مُنافقوں کے دِل تصدیق نہیں کرتے۔ اور فاسقوں کے جِسم عمل نہیں کرتے۔
بتاؤ تمہارا دِل تو منافق تھا۔ اب منافق دِل کی نماز کیسے ہو گی؟ اِس کو نماز صورت بولتے ہیں۔ 

 

قرآن مجید فرماتا ہے کہ اُن نمازیوں کے لیے تباہی ہے جو نماز حقیقت سے بے خبر ہیں۔ اُنکی نماز دِکھاوہ ہے۔ 

یہ نماز دِکھاوہ بن جاتی ہے۔ دِکھاوہ کیسے؟ بڑے خشوع و خضوع سے مسجد میں نماز پڑھ رہا ہے، لوگ دیکھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”نہ عملوں کو دیکھتا ہوں، نہ شکلوں کو ،نہ تیری دھاڑھی کو دیکھتا ہوں، نہ تیرے سجدے کو، میں تیرے قلب اور نیت کو دیکھتا ہوں“۔ جِس کو اللہ دیکھتا ہے اُس میں بال بچے، بیوی، کاروبار۔ اور جِس کو دُنیا دیکھتی ہے اُس میں  اٹینشن کھڑا ہُوا ہے۔ یہ نماز دِکھاوہ ہے۔ اِس کو بھلے گھر میں اکیلا پڑھے، تب بھی یہ نماز دِکھاوہ ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے ”اُن نمازیوں کے لیے تباہی بھی ہے“۔ اور یہ نماز تباہی بھی بن جاتی ہے۔ تباہی کیسے؟ پانچ وقت کا نمازی تھا، لوگوں نے کہا بڑا اچھا آدمی ہے، تو دِل میں تکبر آیا نا۔ اور دوسرے نے کہا تہجد بھی پڑھتا ہے اور تکبر آیا۔ اور ایک دن بے نمازی کو دیکھا، بڑی حقارت سے دیکھا کہ میں تجھ سے بہتر ہُوں۔ یہ نہیں پتہ  '' تکبرعزازیل راخوارکرد'' نمازیں وہ بھی پڑھتا تھا۔ اب وہ سوچنے لگا جب تکبر کی انتہا ہو گئی کہ اِس وقت دنیا میں میرے جیسا کوئی آدمی نہیں، ساری سُنتیں اپناؤ۔ ساری سُنتیں اپنا لیں، پھر کہنے لگا مجھ میں اور حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم میں کیا فرق رہا، میرے بڑے بھائی کی طرح ہیں۔ جب یہاں تک پہنچا تو اُس کا ایمان ہی چلا گیا۔ وہی نمازیں اُسکو تباہی کی طرف لے گئیں۔ یہ نمازصورت ہے۔ 72 فرقے والے اِس نماز کو پڑھتے ہیں۔

اِس کے بعد نماز حقیقت ہے ،جِس کے لیے مجدد صاحب فرماتے ہیں ”عام آدمی کی نماز صورت، خاصان خدا کی نماز حقیقت۔ فرماتے ہیں ہر آدمی کو چاہیے کہ نماز حقیقت کی تلاش کرے۔ جب تک نماز حقیقت نہ ملے نماز صورت کو بھی نہ چھوڑیں“۔

اب نماز حقیقت کیا ہے؟ اِس کے لیے سب سے پہلے اللہ اللہ سیکھنی پڑتی ہے۔ جو تمہارا پہلا رُکن اِسلام کا، وہ بھی کلمہ ہے اور کلمہ ذِکر میں ہے۔ حدیث شریف افضل الذکر کلمہ طیب اور ذکر کے لیے قرآن مجید فرماتا ہے اُٹھتے، بیٹھتے حتیٰ کہ کروٹیں لیتے میرا ذِکر کر“۔ یہ تمہارا پہلا رکن ہے۔ قرآن مجید کا پہلا لفظ بھی الف اللہ ہی ہے۔ جب مسلمان ہو جاتے تھے، نمازیں تو تھیں ہی نہیں اُس وقت، نمازیں تو کئی سال بعد جب شبِ معراج ہُوا اُتریں۔ اُس وقت مسلمان کیا کرتے تھے؟ وہ ہر وقت ذِکر الٰہی کرتے۔ ذِکر الٰہی سے اُنکے سینے منور ہو گئے۔ پھر جب نمازیں اُتریں، تو سیدھے سینوں میں گئیں۔ یہ اِسمِ ذات سینوں کو منور کرنے کے لیے! اپنے دِل کی دھڑکنوں کو اللہ اللہ میں لگانا پڑے گا۔ پھر تم کوشش کرو گے کام کاج کرتا رہوں ،اللہ اللہ ہوتی رہے۔ اِس کو بولتے ہیں دست کار میں، دِل یار میں۔ کامیابی ہو جائیگی۔ پھر کوشش کرو گے کوئی اخبار رسالہ پڑھتا رہوں، اللہ اللہ ہوتی رہے، اِس میں بھی کامیابی ہو جائیگی۔

پھر کوشش کرو گے نماز پڑھتا رہوں اور اللہ اللہ ہوتی رہے۔ اُس وقت بھی زبان کہے گی کہ دے اللہ ایک ہے، دِل کہے گا اللہ اللہ اللہ۔ اللہ صمد دِل کہے گا اللہ اللہ۔ لَم یَلِد ولَم یُلَد دِل کہے گا اللہ اللہ ،زبان اقرار کر رہی ہے دِل تصدیق کررہا ہے۔اور جِسم عمل کررہا ہے۔ زبان ذِکر مفصل میں اور دِل ذِکرِ مَجمل میں۔ زبان دلیل سے منوا رہی ہے کہ کہدے اللہ ایک ہے اور دِل بغیر دلیل کے مان رہا ہے کہ اللہ ہی اللہ ۔ زبان کا تصرف ہے بی بی سی سے بولتے ہیں یہاں سُنتے ہو۔اور دِل کا تصرف ہے یہاں گونجتا ہے عرشِ معّلیٰ والے سُنتے ہیں۔ تمہاری اِس نماز کو یہ دِل عرشِ معّلیٰ میں پہنچائے گا۔ وہ نماز مومن کا معراج ہے۔

اِسکے بعد پھر ولی کی نماز شروع ہوتی ہے۔ جِس کو نمازِ عِشق بولتے ہیں۔ 

ایک دفعہ مجدد الف ثانی مسجد میں گئے۔ دیکھا ایک آدمی سورہا ہے۔ سوچا شاید نماز پڑھ کے سویا ہو گا۔ پھر گئے، دیکھا سو رہا ہے۔ آپ عصر سے مغرب تک مسجد میں رہتے، مغرب کی ازان ہو رہی ہے اور وہ سو رہا ہے۔ آپ کافی ناراض ہُوئے۔ اُسکو جھنجھوڑا، اُٹھ! یا مسجد سے نِکل جا یا نماز پڑھ۔ وہ فوراً اُٹھا وضو کیا، جماعت کھڑی ہونے والی تھی۔ بلند آوازسے کہا امام صاحب رُک جائیں، امام صاحب رُک گئے۔ اُس نے فوراًنیتی دِو رکعات سُنت وقت فجر! دیکھتے ہیں فجر کا سماں ہوگیا۔ پھر اُس نے ظہر کی نماز پڑھی پھر ظہر کا سماں ہوگیا، پھر عصر کی نماز پڑھی ۔ایک راوی لکھتا ہے کہ سورج واپس آگیا۔ اس وقت اُس نے کہا مجدد صاحب  آپ تو صاحب نظر تھے۔ بہتر تھا مجھے جگانے سے پہلے میرا حال دیکھتے۔ میں تو اُسی کے پاس تھا جِسکی تم نمازیں پڑھتے ہو۔

اور جب دِل کی دھڑکنیں اللہ اللہ میں لگ جاتی ہیں، نس نس میں نور چلا جاتا ہے۔ اُس وقت ایک شاعر لکھتا ہے۔ گنہگار پہنچے درِ پاک پر زاہد و پارسا دیکھتے رہ گئے۔ بھئی گنہگار کیسے پہنچ گئے اور زاہد و پارسا کیسے دیکھتے رہ گئے؟ کوئی سمجھ میں بات آتی ہے؟

ایک زاہد و پارسا نیکی کرتا ہے۔ اُسکی فائل کے اُوپر نیکی لکھی جاتی ہے، لیکن تھوڑا سا تکبر آجاتا ہے۔ جواُس کے دِل پہ جم جاتا ہے۔اب کیا ہُوا وہ نیکیاں کرتا رہا۔ فائل بھری گئی ،تکبر اور بخل اُس سے بھی دِل بھر گیا۔ نیکیوں سے فائل بھر گئی۔ اور بخل تکبر سے دِل بھر گیا۔ اللہ تعالیٰ کبھی کبھی اپنی مخلوق کو دیکھتا ہے۔ وہ فائلوں کو نہیں دیکھتا، وہ دِلوں کو دیکھتا ہے۔ جب اُس زاہد کا دِل دیکھا وہ تو بخل تکبر سے بھرا پڑا تھا۔ اللہ تعالیٰ اُس سے بیزار ہو گیا۔ جب اللہ تعالیٰ اُس سے بیزار ہوگیا، تواُس کی ساری نیکیاں برباد ہو گئیں۔ اب وہ گنہگار کیسے پہنچ گئے؟ گنہگار نے بھی گناہ کیا، اُسکی فائل پہ بھی لکھا گیا۔ اُسکے دِل پہ بھی ایک دھبہ لگایا گیا۔ کیا ہُوا ایک دن اُسکی فائل بھی گناہوں سے بھر گئی اور اُس کا دِل بھی گناہوں سے سیاہ ہو گیا۔ لیکن اُس نے دِل کو صاف کرنے والا طریقہ سیکھ لیا۔

حدیث شریف میں ہے کہ ہر چیز کو صاف کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی ہتھیار ہے۔ دِل کو صاف کرنے کے لیے ذِکر اللہ ہے۔ اُس نے اللہ اللہ سیکھ لیا۔

اللہ اللہ کرتا رہا۔ اللہ اللہ کرنے سے اُس کا سینہ منور ہو گیا۔ اُس کا دِل صاف شفاف ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اُسکے بھی دِل کو دیکھا۔ جب اُسکے دِل کو چمکتا ہُوا دیکھا تو اللہ تعالیٰ اُس پہ مہربان ہو گیا۔ جب مہربان ہو گیا اور وہ فائل دھری کی دھری رہ گئی۔ اللہ اللہ کرنے والوں میں ایک اور بات بھی پیدا ہوجاتی ہے، اللہ تعالیٰ بہت ہی سخی ہے ۔اور جو شخص اللہ کا ذِکر کرتا ہے وہ بھی سخی ہو جاتا ہے۔

ایک دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے شیطان سے پوچھا کہ تیرا بہترین دوست کون ہے؟ اُس نے کہا کنجوس عابد! کہ وہ کِس طرح ؟ کہ اُسکی عبادت کو اُسکی کنجوسی رائیگاں کر دیتی ہے۔آپ دیکھ لیں جتنے بھی عابد مِلیں گے کوئی ایک آدھ ہی اُن میں آپ کو سخی ملے گا۔ زیادہ تر کنجوس ہی ملیں گے۔ لیکن سخاوت میں دیکھیں! اب عیسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: اچھا تیرا سب سے بڑا دشمن کون ہے؟ اُس نے کہا گنہگار سخی۔ کہ وہ کیسے؟ کہ اُس کے گناہوں کو اُسکی سخاوت جلا دیتی ہے۔ اب یہ مرتبہ تو مومنوں کا ہے۔ اِسکے بعد پھر ولائیت شروع ہوتی ہے۔

ولائیت کوئی مشکل نہیں ہے، ولائیت کوئی آسمانوں میں نہیں ہے، بیعت المعمور میں بھی نہیں ہے۔ ولائیت تمہارے اندر ہے۔ جو بھی بچہ اِس دُنیا میں آیا، ولائیت کا راز لے کے آیا۔ ہندؤ کے بچے، کافر کے بچے ، وہ بھی ولائیت کا راز لے کے آئے۔

دو چار سال کی بات ہے سکرنڈ میں ایک ہندو تھا ۔ اُس کا تین سال کا بچہ تھا۔ اُسکی ایک آنکھ پہ اللہ اور ایک آنکھ پہ خانہ کعبہ تھا۔ تمہارے اِس جسم میں ساتھ روحیں ہیں۔ جن کے باقاعدہ حدیث شریف میں نام ہیں، لطیفہءقلب، روح، سری، خفی، اخفیٰ، اناٰ، نفس 9 اُنکے خلیفے ہیں۔ جِن کو جُسے بولتے ہیں۔9،7 سولہ مخلوقیں اِس تمہارے ڈھانچے میں بند ہیں۔ وہ تمہاری نسوں میں چپٹی ہُوئی ہیں۔ اُن کو خوراک کی ضرورت ہے۔ جب وہ اللہ اللہ کا نور اُن نسوں میں گیا تووہ مخلوقیں بھی بیدار ہونا شروع ہو گئیں۔ اُن میں بھی جان آ گئی۔ کیونکہ اُنکی غذا گوشت، روٹی نہیں ہے۔ اُنکی غذا اللہ کا نور ہے۔ جب نور سے وہ اندر بیدار ہو گئیں۔ تم نے دیکھا ہوگا خواب میں یہاں سوتے ہو دوسرے شہر میں گھومتے ہو، وہ تم نہیں ہوتے لیکن تمہارے اندر کی کوئی چیز ہوتی ہے۔ جِس کا نام یہ لطیفہء نفس۔ اُس کا تعلق شیطانوں سے ہے۔ اور وہ شیطانی محفلوں میں گھومتا رہتا ہے۔

اب تمہارے اندر وہ روحانی چیزیں ، وہ بھی بیدار ہوگئیں ۔اب تم نے خواب میں دیکھا کہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے روضے کے گرد منڈلا رہے ہو۔ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہو۔ ولیوں کے درباروں کی طرف تمہارا رُخ ہوگیا۔ وہ جو اندر چیزیں جاگ اُٹھیں اُنکی وجہ سے۔ 

12 سال لگتے ہیں۔ 12 سال اُنکو اللہ کے نور کی خوراک ملتی رہتی ہے۔ 12 سال کے بعد وہ بالغ ہوجاتے ہیں۔ جب وہ بالغ ہو جاتے ہیں تو پھر سونے کی ضرورت نہیں ہے، پھر تم نے سوچا دیکھیں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کیا کررہے ہیں۔ تم نے سوچا وہ حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں! وہ اِس سینے سے نِکل کر حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں۔

بھلے شاہ فرماتے ہیں لوکی پنج ویلے عاشق ہر ویلے لوکی مسیطی عاشق قدماں

کہ جو لوگ پانچ وقت رب کو یاد کرتے ہیں، نماز بھی رب کی یاد ہے اُنکی اِنتہا مسجد ہے، باجماعت ہو جائینگے اور کیا کریں گے۔ اور جو لوگ ہروقت اِس کے ساتھ اللہ اللہ بھی کرتے ہیں وہ حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں پہنچ جائینگے۔ قدموں میں پہنچ گئے، نوازے تو گئے۔ اب تم نے سوچا دیکھیں اوپر کیا ہورہا ہے۔ تم نے سوچا یہ سینے کی چیزیں اوپر پرواز کر گئیں۔ فرشتوں نے روکا نہیں رُکیں۔ کہنے لگے جو کچھ بھی ہے بیت المعمور سے آگے جل جائے گا۔

اور یہ بیت المعمور سے بھی آگے چلی گئیں۔ وہاں پہنچ گئیں جہاں رب کی ذات ہے۔

ظاہری جسم کے ساتھ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے، اور اِن مخلوقوں کے ذریعے ولی وہاں پہنچے ہیں۔
اُس وقت فرشتوں نے کہا کہ واقعی انسان اشرف المخلوقات ہے، اُس وقت کہا، اِس وقت نہیں۔ 

اِس کے بعد کیا ہوا کہ تم مر گئے۔ مرنا سب کو ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد سب کی روحیں آسمانوں پہ چلی جاتی ہیں، خواہ نبی ہے یا ولی ہے۔ جب یہ عقیدہ ہے تو پھر کبھی سوچا کہ اِن درباروں میں کیا ہے۔ روح اِن کی بھی اوپر چلی گئی، پھر فیض کیوں ہے؟ روح اِن کی بھی اوپر چلی گئی لیکن وہ جو اضافی مخلوقیں تھیں وہ ولی بن کے دربار پہ بیٹھ گئیں، لوگوں کو فیض پہنچاتیں ہیں، نماز پڑھتی ہیں، ذکر کرتی ہیں اور قیامت تک اِس کا ثواب اُسکی روح کو ملتا رہے گا۔ شب معراج میں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم موسیٰ علیہ السلام کی قبر سے گزرے۔ دیکھا موسیٰ علیہ السلام قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ فوراً اوپر پہنچے، دیکھا موسیٰ علیہ السلام وہاں بھی موجود ہیں۔

مجدد الف ثانی  سے کِسی نے کہا کہ میں نے فلاں دن آپ کو کعبے میں دیکھا، فرمانے لگے میں نہیں گیا، دوسرے نے کہا اُسی دن حضورپاک
صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے روضے پہ دیکھا، کہ میں نہیں گیا۔ تیسرے نے کہا اُسی دن غوث پاک کے روضے پہ دیکھا، کہ میں نہیں گیا۔ لوگوں نے کہا ، پھر کیا تھا؟ فرمانے لگے، میرا اندر تھا۔
 

جتنے میں یہاں موجود ہیں، وہ اندر سب کے اندر موجود ہے۔ 


اُن 16 میں سے تم اِک کو بھی جگا لو تو تم مر کے بھی زندہ ہو۔
 

غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ کی ایک وقت میں 9 آدمیوں نے دعوت پکائی ۔ 9 کے گھر جا کر کھانہ کھایا۔ کچھ لوگ تو اِس بات کو مانتے ہی نہیں ۔ اور کچھ جو اہل محبت ہیں وہ کہتے ہیں 9 جگہ جا کے کھانہ کھایا لیکن اُن کو بھی نہیں پتہ کہ کیسے کھایا۔ غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ کا جسم مبارک مسجد میں معذن کے پاس تھا، اور وہ جسم کے اندر کی چیزیں وہاں جاکے کھانہ کھا رہی تھیں۔ اگر انہوں نے وہاں جاکے کھانہ کھایا ہوگا۔ بیٹھی بھی ہونگی ، اُٹھی بھی ہونگیں، باتیں بھی کری ہونگیں۔ اور جسم میں اُٹھنے ، بیٹھنے اور باتوں کی طاقت ہے، نماز میں بھی یہی کچھ ہے۔ ہوسکتا ہے اُنکی نماز خانہ کعبہ میں ہوتی ہو۔ اور وہ جو کہتے ہیں کہ درویش کی نماز عرش معلی میں ہوتی ہے۔ یہ جسم عرش معلی میں نہیں جاتا ہے وہ جسم کے اندر کی چیزیں عرش معلی میں جاتی ہیں۔ اب وہ ثواب کِس کو ملتا ہے، جِس کی وہ چیزیں ہیں۔ اب غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ کا جسم مبارک مسجد میں تھا تو وہ آزاد تھیں۔ وہی جِسم مبارک قبر میں چلا گیا، تب بھی وہ آزاد ہیں۔ وہ آج تک لوگوں کو فیض پہنچا رہی ہیں۔ اور اُس کا ثواب کِس کوملے گا، جِسکی ہیں۔

سب کو پتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے 99 نام ہیں۔ ایک نام ذاتی ہے ۔ 98 صفاتی ہیں۔
98 کے فیض کا مجموعہ مِل کر بھی اِسم ذات کو نہیں پہنچ سکتا۔ 
جب جانتے ہیں، سارے جانتے ہیں، پھر اِسم ذات سے محروم کیوں ہیں؟ 

 

یہ اِسم بنی اسرائیل کے نبی بھی ترستے رہے۔ اُن کو اِسم ذات نہیں مِلا۔ مُوسیٰ علیہ السلام یارحمن ُ کا ذکر کرتے، عیسیٰ علیہ السلام یاقدوس ُ کا، سلمان علیہ السلام یاوہابُ کا، داؤد علیہ السلام یاودُودُ کا، باقی نبی اپنے اواللعزم مُرسل کا کلمہ پڑھتے۔ ایک دِن موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے اللہ دیدار دے۔ جواب آیا تاب نہیں ہے۔ کہنے لگے کِسی میں تاب ہوگی؟ جواب آیا ایک میرا حبیب اور اُسکی اُمّت۔ موسیٰ علیہ السلام کو جلال آگیا، کہ میں ایک نبی ہو کے اُمتی کے برابر نہیں۔ جلوہ دے دیکھی جائے گی۔

جلوہ پڑا،موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہوگئے اب کیا وجہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلاماِس دُنیا میں کوہِ طور پر میں بے ہوش ہوئے۔ حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سامنے جاکر مسکرارہے ہیں۔ کیا وجہ تھی؟ موسیٰ علیہ السلام کے جسم میں یا رحمن ُ کا صفاتی نُور تھا، وہ ذات کی تاب نہ لاسکا۔ حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے جسم میں اِسمِ ذات کا ذاتی نُور تھا۔ ذات ذات کے سامنے مسکرایا۔ اور حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے طفیل یہ اِسم اس اُمت کو ملا، تب اسکو فضیلت ہوئی۔

امت اس سے ڈرتی ہے یا محروم ہے، تو اس سے وہ یا رحمن ُسے چمکنے والے بہتر ہیں۔ 

ایک حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دِن اُمتوں کی پہچان نُور سے ہوگی۔ یہ یارحمن ُ سے چمک رہے ہیں، موسیٰ علیہ السلام کی اُمت یا ودُودُ سے چمک رہے ہیں، داؤدعلیہ السلام کی امت، اور یہ جو اللہ ھو سے چمک رہے ہیں یہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ اور تم تو اس سے ڈرتے ہو۔ لڑنے میں فضائیہ سب سے بہتر ہے، کیوں کہ وہ جہاز سے لڑتا ہے اگر اس سے جہاز چھن جائے تو اس سے وہ بندوق والا بہتر ہے۔

سب لوگوں کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ عبادت سے ملتا ہے۔ ہم کہتے ہیں بالکل غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ عبادت سے نہیں ملتا، اگر عبادت سے ملتا تو سب عابدوں کو کیوں نہیں ملتا۔ اللہ تعالیٰ دِل سے ملتا ہے۔ عبادت دِل کو صاف کرنے کا ذریعہ ہے اگر آپ عبادت سے دِل کو صاف نہیں کرسکتے تو اللہ کو پا نہیں سکتے۔

ایک شخص تھا،اس کو اللہ کی طلب ہوئی ،گھر میں بیٹھا ورد، وضائف میں لگا 2،3 سال بعد دیکھا، اندر سے تو خالی ہُوں سوچنے لگا، شاید گھر میں لگا رہا، مسجد میں نہیں گیا۔ مسجد اللہ کا گھر تھا۔ مسجد میں چلا گیا۔ وہاں 2،3 سال! اب اندر نگاہ ڈالی تو خالی۔ سوچا! رب شائید جنگلوں میں ملتا ہے۔ جنگلوں میں چلا گیا۔ وہاں ورد و وضائف جو آتا تھا پڑھتا رہا۔ لیکن جب اندر نگاہ ڈالے تو خالی۔ پھر سوچنے لگا، شاید رب دریاؤں میں ملتا ہے۔ دریاؤں میں چلا گیا ۔ وہاں بھی اندر نگاہ ڈالے تو خالی! پھر سمجھ میں آئی کہ موسیٰ علیہ السلام کو کوہِ طور پہ ملا تھا، وہ کوہ ِ طور میں چلا گیا۔ کئی سال ہوگئے، کہیں رب کا نام و نشان نہیں ۔دِل میں یہی تجسس تھا، میں نے گھر بار چھوڑا، زنگی ضائع کری، رب پتہ نہیں کہاں؟ پتہ نہیں کیسے ملتا ہے؟ اُسکی موت کا وقت تھا ،آواز آئی اے نادان! میں تیرے گھر میں موجود تھا۔ وہ کہتا ہے اے اللہ کس کونے میں تھا؟ کہ میں تیرے دِل میں تھا۔ اگر تو گھر میں بیٹھ کر دِل سے یاد کرلیتا، مجھے پا لیتا۔ کیونکہ اللہ کا تعلق ان دِلوں سے ہے۔ 

اب یہ جو بیان کیا۔ جِس طرح کسی سورت کا چِلہ کرنے کیلئے کِسی عامل کی اجازت ہوتی ہے، اور یہ جو اسمِ ذات ہے یہ سب سورتوں سے اعلیٰ۔ اِسکے لیئے بھی کسی کامل کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور جو لوگ بغیر اجازت سے اسمِ ذات کرنے کی کوشش کری، وہ واقعی جل گئے اور تباہ ہوگئے۔ اِسکی باقاعدہ اجازت ہوتی ہے۔ اجازت کیا ہے؟ آپ یہاں دن رات تہجد پڑھتے رہیں۔ نوافل پڑھتے رہیں، شیطان ایک کونے پہ کھڑا ہنستا رہتا ہے کہ تُو تھکتا رہ، تیرا دِل تو میرے ہاتھ میں ہے، جب جی چاہوں گا موڑ دوں گا۔ ایک دن آپکو شکایت ہوئی، میں بڑا تہجد گزار تھا مجھے کیا ہوا میں فرض نماز نہیں پڑھ سکتا، لیکن جب کوئی شخص اسمِ اللہ کو دِل میں بسانے کی کوشش کرتا ہے شیطان سوچتا ہے، اگر یہ لفظ اللہ اس کے دِل میں چلا گیا، اسکا دِل منور ہوگیا تو یہ شخص ساری عمر کیلئے میرے ہاتھوں سے گیا۔ بعض لوگ جب اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو اللہ اللہ کرنے سے اُن کے دِل پہ لفظ اللہ درج ہو جاتا ہے۔

قرآن مجید فرماتا ہے ”کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے دِلوں پہ ایمان لکھ دیا گیا“۔ ایمان کیا ہے ؟ لفظ اللہ ہی ہے۔ 
ترکی میں ایک آدمی کے دِل کا آپریشن ہوا ، کوئی 8،10سال ہوگئے، تو اسکے دِل کے اوپر لفظ اللہ لکھا ہوا تھا۔ 

کچھ لوگ ایسے ہیں، جو اللہ اللہ کرتے ہیں، حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی رنگ لاتی ہے، تو انکے دِل کے اوپر مدینہ نقش ہو جاتا ہے۔ پھر وہ کہیں بھی ہے، مدینے میں ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں، اللہ اللہ کرنے سے جب ہر وقت اللہ اللہ کرتے رہتے ہیں تو انکے دِل پہ خانہ کعبہ آجاتا ہے۔


ایک دفعہ مجدد صاحب  نے دیکھا کہ باطنی مخلوق ، جِن، فرشتے انکو سجدہ کررہے ہیں ۔آپ بڑے پریشان ہوئے، سجدہ تو انسان کو جائز نہیں، یہ کیوں کر رہے ہیں سجدہ! آواز آئی گھبراؤ نہیں یہ تمہیں سجدہ نہیں کررہے، وہ جو تمہارے اندر خانہ کعبہ بس گیا ہے، یہ اسکو سجدہ کررہے ہیں۔ اور اسی کیلئے مولانا رومی نے فرمایا "ایسا دِل ہزار کعبوں سے بہتر ہے"۔ اسکی بنیاد ابراہیم علیہ السلام نے رکھی اور اسکی بنیاد اللہ تعالیٰ رکھتا ہے۔ اور شاہ منصور بھی یہی کہتے کہتے سولی پہ چڑھ گئے۔ وہ کہتے تھے تو اُس کعبے پہ کیوں جاتا ہے، جب تیرے اندر کعبہ بس سکتا ہے۔ کہتے تو یہاں کعبہ بسا، جب یہاں کعبہ بس جائے گا، تو جب رابعہ بصری کو خیال آیا کہ میں کعبے کا طواف کروں تو کعبے کو حکم ہوا جا، جا اُسکے طواف کر۔ ایسے دِل کیلئے کسی شاعر نے کہا ہے کہ مسجد ڈھاویں، مندر ڈھاویں ، ڈھاویں جو کُج ڈھیندا ای، اک بندے دا دِل نہ ڈھاویں رب دِلاں وچ رہندا ای۔

اور ایسے ہی دِل کیلئے قرآن مجید میں آیا ہے کہ میں حبل الورید، کہ میں تمہاری شاہ رگ کے بھی ذیادہ نزدیک ہوں۔ 
 
ہر آدمی کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری شاہ رگ کے نزدیک ہے۔ نہیں۔

علامہ اقبال پہ بھی اِسی بات پہ فتویٰ لگا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ تُو بھی تو ہر جائی ہے ہم شراب پیتے ہیں، کُچھ بھی کرتے ہیں، تو بھی ہمارے ساتھ ہوتا ہے ۔جب ہمارے ساتھ ہوتا ہے تو پھر حساب کتاب کیا؟ اِسی بات پہ وہ فتویٰ لگا تھا۔ لیکن انہوں نے پھر جب جواب شکواہ دیا۔ انہوں نے کہا حبل الورید انہی لوگوں کیلئے ہے، جنہوں نے اُس کو اپنے اندر بسا لیا۔ اور حدیث شریف میں بھی ہے بندہ نوافل کے ذریعے میرا اِتنا قرب حاصل کرلیتا ہے کہ میں اُسکی زبان بن جاتا ہوں، جس سے وہ بولتا ہے۔ میں اُس کے ہاتھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ پکڑتا ہے۔

اب وہ شیطان سوچتا ہے کہ اِس مرتبے میں سے کوئی مرتبہ کہیں اِس کو مِل نہ جائے۔ شیطان کے پاس ہندو فوج ہے۔ حُکم دیتا، جاؤ اِس کو برباد کرو، تباہ کرو، کچھ بھی کرو، یہ لفظ اللہ اِسکے اندر نہ جائے۔ ورنہ یہ ساری عمر کے لی چلا گیا۔ اب تمہارے پاس تو ایک جِن بھی نہیں ہے جو اُس کا مقابلہ کرو۔ وہ آئیں گے تمہیں پریشان کریں گے۔ باز نہیں آئے، بیمار کریں گے۔ باز نہیں آئے پاگل کر کے چلے جائیں گے۔ جب ہوش آئے گا تو یہی کہو گے "خبردار! اللہ ُھو مت کرنا، اِس سے لوگ پاگل ہوجاتے ہیں"۔ لیکن جہاں سے اِسکی اجازت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اُن کو بھی ایک رحمانی فوج دیتا ہے۔ او شیطانی فوج تم پہ ٹوٹ پڑی، اور وہ رحمانی فوج شیطانوں پہ ٹوٹ پڑی۔ اور وہ رحمانی فوج اُس وقت تک تمہارا ساتھ دے گی ، جب تک تمہارے اندر رحمان جاگ نہیں اُٹھتا۔ پھر بندہ نہیں رہے ، بندہ نواز بن گئے۔ غریب نہیں رہے، غریب نواز بن گئے۔ یہ اِسکی اجازت ہے۔

اب اِس کا تھوڑا سا طریقہ بھی بتا دیں۔ ہو سکتا ہے کوئی اہل دِل ہو۔ روزانہ 66 مرتبہ سفید کاغذ پر کالی پینسل سے لفظ اللہ لکھیں ۔ جِس طرح 786 کو بسم اللہ سے نسبت ہے۔ اِسی طرح 66 کو اِسمِ اللہ سے نسبت ہے۔ لکھتے رہیں، خوبصورت لکھیں، خوشخط لِکھیں، ایک دن ایسا آئے گا، آپ جو کاغذ پہ لِکھتے تھے، وہ آپکی آنکھوں پہ تیرنا شروع ہو جائے گا۔ جب آنکھوں پہ تیرنا شروع ہو جائے تو لکھنا بند کر دیں۔ آنکھوں سے پھراِس کو دِل پہ اُتارنے کی کوشش کریں۔ اگر رب نے چاہا تو جو کاغذ پہ لکھتے تھے وہ دِل پہ لِکھا نظر آئے گا۔ اُس وقت دِل کی دھڑکن تیز ہو جائے گی۔ ٹِک ٹِک ، اُس ٹِک ٹِک کے ساتھ اللہ ھو ملائیں۔ ایک کے ساتھ اللہ ایک کے ساتھ ھُو۔ بار بار ایسا کریں گے وہ دِل کی دھڑکنیں اللہ ھوُ میں تبدیل ہوجائیں گی۔ رات کو سونے لگیں، اُنگلی کو قلم خیال کر کے، دِل کے اوپر اللہ لکھتے لکھتے سو جائیں۔ اِسی میں نیند آجائے۔ اِس دُنیا میں روزانہ 70 ہزار فرشتہ آتا ہے۔ ایک دفعہ جو آئے گا، اُسکو دوبارہ آنے کا موقع نہیں ملے گا۔ سب سے پہلے وہ حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے روضے کی حاضری دیتا ہے۔ اُسکے بعد پھر اُن لوگوں کو ڈھونڈتا ہے، جن کا اللہ رسول سے تعلق ہے۔ لِسٹیں اُنکے پاس ہوتی ہیں۔ وہ سو رہے ہیں، اور کراماً کاتبین سے پوچھتے ہیں کہ بتاؤ اِس کا آخری عمل کیا تھا ، بھئی یہ عشاء کی نماز پڑھ کے سویا تھا۔ دعا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اِسکو اور خوش کرے۔ اور یہ، یہ درود شریف پڑھ کے سویا تھا، اللہ تعالیٰ اِسکو اور خوش رکھے۔ اور یہ ایک مسکین کو کھانہ کھلا کے سویا تھا، اللہ تعالیٰ اِسکو بھی خوش رکھے۔

اور یہ اللہ ھوُ پڑھتے پڑھتے، اُسی کی مستی میں سوگیا تھا۔ وہ کہتے ہیں خاموش، آہستہ بات کرو، شاید اُسکی یاد میں آنکھ لگ گئی ہو۔ اور ہوسکتا ہے ساری رات تمہاری اللہ تعالیٰ عبادت میں شامل کر دے۔ کیونکہ سوتے وقت جو نیت ہوتی ہے، خواب میں بھی وہی کچھ ہوتا ہے۔ وہ اللہ ھو پڑھتے پڑھتے سو گئے اور خواب میں بھی اللہ ھوُ کرتے رہے۔

صُبح اُٹھیں، آفس میں جائیں، کاروبار کیلئے جائیں، ذکرِ خفی کرتے رہیں۔ ذکرِ خفی اور ہے۔ ذکرِ قلبی اور ہے۔ جب تک دِل کی دھڑکنوں سے اللہ اللہ نہیں ملتا، وہ ذکرِ خفی کہلاتا ہے۔ وضوُ ہو یا نہ ہو، آپ دِل کو پانی سے کیسے وضوُ دیں گے؟ سارا دن پانی میں آپ پڑے رہیں دِل تو پانی جائے گا نہیں ۔جب وہ دِل میں اللہ ُ کا نورجمع ہوجائے گا، تو وہ نور دِل کو دھوڈالے گا۔ اُس کو بولتے ہیں "وضو کرلے شوق شراباں دا"اور وہ وضوُ گھڑی گھڑی نہیں کرتے، وہ زندگی میں ایک بار ہی کافی ہے۔

سُنا ہو گا آپ نے، کتابوں میں پڑھا ہوگا کہ کچھ بزرگوں کے پاس لوگ جاتے۔ سب بزرگوں کے پاس نہیں، کچھ کے پاس وہ اُن کو کہتے، کہ یہ دیوار بناو۔ دیوار بناتے شام کو پھر گرا دیتے، پھر صُبح کہتے دیوار بناؤ، شام کو پھر گرا دیتے۔ کوئی پتہ نہیں چلتا تھا کہ ایسا وہ بزرگ کیوں کرتے۔ اِس میں بزرگ کا کیا فائدہ ؟ یا جو دیوار بناتا، اُس کا کیا فائدہ؟ دیوار بھی بناتے گِراتے بھی اور ساتھ، ساتھ اُسکے دِل کے اوپر ہاتھ بھی رکھتے، دیکھتے بھی۔ گارا مٹی اُٹھاتا، ہانپتا، کانپتا، دِل کی دھڑکنیں جِس وقت اُبھرتیں، کہتے اب گارا مٹی کو چھوڑ، اب دھڑکنوں کے ساتھ اللہ اللہ مِلا۔

ایک بزرگ ہیں ، حضرت امیر کلال جب اُن کے 20،25آدمی جاتے ، کہتے چلو کبڈی کھیلیں۔ وہ کہتے ہم تو فیض کیلئے آئے، بولتے ہمارا فیض کبڈی میں ہے۔ بہت سے لوگ واپس چلے جاتے، بہت سے اُن کے ساتھ کبڈی کھیلتے۔ کبڈی کھیل رہے تھے، اتنے میں بہاوالدین نقش بند جو بہت بڑے عالم تھے، بڑے دُور سے فیض کیلئے وہاں پہنچ گئے۔ لوگوں سے پوچھا کہاں ہیں کہ کبڈی کھیل رہے ہیں۔ کہتے ہیں ولی تو کبڈی نہیں کھیلتا، ولی ہو ہی نہیں سکتے! واپس جانے لگے، لیکن زمین نے اُن کو روک لیا۔ بعد وہی خواجہ بہاوالدین نقش بند اُن کے ساتھ کبڈی کھیل کے اِتنے بڑے ولی بنے۔ اب وہ کبڈی میں کیا راز تھا؟ کوئی عبادت تو نہیں تھی ۔ وہ دوڑتے، اُن کو دوڑاتے، خوب دوڑاتے۔ جب خوب دوڑاتے ، انکے دِل کی دھڑکنیں اُبھرتیں۔ کہتے اب کبڈی کو چھوڑ، اِنکی دھڑکنوں کے ساتھ ساتھ اللہ اللہ مِلاؤ۔

اگر کوئی سہون گیا ہوگا، تو وہاں دیکھا ہوگا، وہاں ایک دھمال ہے۔ وہ ایک ناچ کی قسم کا ہے۔ ہمارے علماء کہتے ہیں حرام ہے۔ اگر حرام ہے تو اُس دربار میں کیوں ہے؟ یا اُس ولی کو ہی نہ مانو! اگر اُس کو مانتے ہو تو اُسکی بات کو حرام کیوں کہتے ہو؟ وہ قلندر پاک خود بھی ناچا کرتے تھے۔ کیوں ناچتے؟ آدمی اکٹھے ہوتے، کہتے چلو ناچیں۔ خوب نچاتے اُن کو، اُس وقت اِس ناچ سے ابھرتی دھڑکن کے ساتھ اللہ اللہ ملاتے

اور اس قلب کی چمک دھمک ہی اِس کا حساب ہے۔----- کچھ لوگ ہونگے جو کہیں سے بیعت بھی ہونگے۔ بیعت اپنی جگہ فیض اپنی جگہ ! بیعت وہیں رہیں، آپ کئی جگہ سے فیض حاصل کرسکتے ہیں۔ حضرت لعل شہباز قلندر، ابراہیم قادری مروندی سے بیعت تھے لیکن فیض صدرالدین سے حاصل کیا۔ پوری تسلی نہ ہوئی ، پھر ملتان چلے گئے بہاوالدین ذکریا ملتانی سے فیض حاصل کیا۔ پھر بھی تسلی پوری نہ ہوئی، پھر دِلی چلے گئے ، بوعلی قلندر سے فیض حاصل کیا۔ مُڑ کے آئے سب کے سردار ہوگئے۔

اِس وجہ سے اگر کہیں سے بیعت ہے یا نہیں ہے، وہ فیض حاصل کرسکتا ہے۔

بہت سے لوگ ہونگے جن کے مرشد کامِل ہونگے۔ بہت سے ایسے ہونگے جن کے مرشد ویسے ہی ناقص ہونگے۔ ہر آدمی کو یہ گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے پہ بڑا مہربان ہے۔ جب وہ انگلی سے دِل کے اوپر اللہ لکھنے کی کوشش کریں گے، اگر اُن کا مرشد کامل ہُوا تو وہ اُنکی اُنگلی کے ساتھ نظر آئے گا۔ اگر ناقص ہُوا تو کُچھ بھی نہیں۔ پھر اُس وقت اپنے آپ کو آزما لینا۔

جو بھی تمہاری اُنگلی کے پاس آگیا، تمہارے دِل پہ اللہ لِکھ دیا پھر وہی تمہارا مرشد ہوگیا، اُس وقت پھر وہی تمہارا مُرشد ہے۔
 شخصیت کو پانا مقصد نہیں ہے، مقصد رب کو پانا، کِسی طریقے سے بھی حاصل ہو جائے۔ 


اگر آپ ہزار مُرشدوں کو پا کے رب کو نہیں پہنچ سکتے تو بے کار ہے۔ ایک بھوکا، ننگا، پیاسا، اُسی سے رب مِل جاتا ہے تو ہزار سے بہتر ہے۔ بیعت کے بغیر گزارہ نہیں ہے، لیکن اگر کِسی ناقص کی بیعت ہو گئی تو جدھر وہ جائے گا، اُدھر اُس کا مال بھی چلا جائے گا۔ بیعت سے پہلے ضروری ہے کہ آدمی جوہری بن جائے، اگر آپ کو کہا جائے کہ کوہ نور ہیرا خرید کے لے آئیں، مغلوں کے پاس تھا، بڑا فیض اُن کو ملا ہے۔ جب اُن سے گیا تو حکومت ہی چلی گئی۔

آپ کو پتہ ہی نہیں، آپ اصل کی جگہ نقل خرید کے لے آئیں گے۔ گھر میں رکھیں گے، کوئی فیض نہیں ہوگا۔ آپکا ایمان ہی ہیرے سے اُٹھ جائے گا۔ بہتر تھا کہ آپ 2،4سال لگا کے جوہری بن جاتے پھر ہیروں کی تلاش میں نِکلتے۔ پھر جب بھی ملتا، اصلی مِلتا، آپ کا ایمان خراب نہیں ہوتا۔ 

اِس وقت ضروری ہے کہ پہلے آپ ذاکرِ بن جائیں۔ بہت سے ولیوں نے پہلے لوگوں کو ذاکر بنایا ہے،آپ ذاکر بن جائیں۔ جب آپ کا دل اللہ اللہ میں لگ جائے گا۔ آپ کِسی دربار پہ جائیں گے، تو دِل زور سے مچلے گا۔ رقت پیدا ہو جائے گی۔ آپ سمجھیں گے، یہاں کوئی کامل ہے۔ جب کِسی زندہ کامِل کے پاس جائیں گے، تو دِل اُسی طرح رقت میں آئے گا۔ اور جب ناقص کے پاس جائیں گے دِل کوخبر ہی نہیں ہوگی۔ جب سفلی کے پاس جائیں گے، وہ دِل گھُٹے گا۔ ذِکر کم ہوجائے گا۔ آپ سمجھ جائیں گے یہ سفلی ہے۔ اُس وقت کہیں جاکے بیعت ہونا۔ اُس وقت جب بھی مِلا تو کامل ہی ملے گا۔

اب لوگ سوچتے ہیں کہ بیعت ہی کرنی ہے ،اُنکی اولاد سے ہی سہی۔ یہ ایک رسم بنا لی ہے۔ 
 
لیکن ولائیت وراثت نہیں ہے۔ اگر وراثت ہوتی تو نبوت وراثت ہوتی، جو اِس سے اعلیٰ ہے۔
جب نبوت وراثت نہیں ہے تو ولائیت کیسے وراثت ہوسکتی ہے۔ 

لوگ کہتے ہیں یہ اُنکے بیٹے ہیں، پوتے، پڑپوتے ہیں۔ یہ بھی دھاڑی رکھی ہے شریعت کے پابند ہیں ۔ نماز پڑھتے ہیں۔ بیعت ہی تو کرنی ہے۔ نہیں! ولی میں اور عابد، زاہد میں فرق ہے، ولی کیا ہے؟ جب اللہ تعالیٰ کِسی پہ مہربان ہوجائے، خواہ اُسکی ریاضت مجاہدے پہ، عبادت پہ، جب بھی اُس پہ مہربان ہوجائے، اللہ تعالیٰ اُسکے اوپرایک تجلی ڈالتا ہے۔ جو موسیٰ علیہ السلام کے اوپر ڈالی تھی۔ ہوسکتا ہے وہ تجلی کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوجائے، ہونے دو۔ اُس کو شکستہ قبر والا بولتے ہیں۔ ہوسکتا ہے اُسکا شیشہء عقل ٹوٹ جائے ۔ وہ مجذوب ہو جائے، ہونے دو۔ اگر شیشہء عقل بھی نہ ٹوٹا تو پھر اُس کو محبوب بولتے ہیں۔ اب شرط ہے کہ جِس کہ اوپر ایک دفعہ تجلی پڑھ جائے، اللہ تعالیٰ اُس کو روز 360 سے 500 مرتبہ دیکھتا ہے۔ ایک دفعہ دیکھتا ہے، اُس کے 7 کبیرہ گناہ جلتے ہیں۔ اب اُس سے گناہ کیا ہوتے ہیں، اُسکی محفل میں بیٹھنے والوں کے گناہ جلنا شروع ہوجاتے ہیں۔

حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے اوپر وہ نظر رحمت ہر وقت پڑتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں بیٹھنے والے بغیر وظیفوں اور چلوں کے، ولیوں سے بھی اعلیٰ مقام حاصل کرکے چلے گئے۔ جب اصحابہ کھف پہ وہ نظر ِرحمت پڑنا شروع ہُوئی تو وہاں کوئی شخص نہیں تھا، صرف ایک کُتا تھا۔ وہ کُتا ہی حضرت قطمیر بن گیا۔

وہ ولیوں کی جب بیعت ہوتی ہے جو نسبت ہوتی ہے اُن کے پاس بیٹھنے سے ہی گناہ جلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اور وہ جواُنکی اولاد ہے یا پوتے پڑپوتے، اُنکو تو اپنی بھی خبر نہیں، تو دوسروں کی بخشش کا کیسے سامان مہیا کریں گے۔ بیعت ہو تو ولی کی ہو۔ اگر ولی کی بیعت نہیں ہے تو تمہاری بیعت ہی نہیں ہے۔ اگر تم کہیں سے بیعت ہو۔ تو ولی نہیں ہے تو بیعت ہی نہیں ہے۔ بیعت تو ولی کی ہوتی ہے۔ وہ ولی ہی نہیں تو بیعت ہی نہیں ہے۔

بلکہ سخی سلطان باھُو فرماتے ہیں:"کہتے ہیں کہ اگر تو کہیں بیعت ہوگیا تو7 دِن تک اُس کو آزمانا۔ اگر تیرا قلب جاری نہ کر سکے تو اُسکو بوری میں بند کر کے دریا میں بہا آنا"۔ ولیوں کی تو یہ پہچان ہوتی ہے کہ 7 دِن میں!ایک ولی ذات ہوتاہے، کامل ذات، ایک کامل ممات، ایک کامل حیات۔ اگر آپ کامل حیات کے پاس جائیں گے تو وہ 7 دِن کے اندر آپ کا قلب جاری کرے گا۔ اگر کامل ممات کے پاس، جیسے لوگ کہتے ہیں کہ مجھ پہ قلندر پاک کا ہاتھ ہے یا داتا صاحب کا ہاتھ ہے، اگر ایسا مل جائے گا تو وہ 3دِن میں تمہارا قلب جاری کرے گا۔ اور کامل ذات ، اگر ایسا مل جائے، جیسے غوث پاک ہیں، اگر ایسا کوئی مل جائے ، تو ایک ہی نظر سے قلب جاری کر دے گا۔

ہر آدمی کو گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے پہ بڑا مہربان ہے۔ پوچھتے ہیں کیا حال ہے؟ کہ بڑا اللہ کا کرم ہے۔ کیوں؟ کار، بنگلہ ہے، کرم نہیں تو اور کیا؟ دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کیاحال ہے؟ بہت ہی کرم ہے۔کیوں ؟ غریب خاندان سے تھا، اتنا بڑا افسر بن گیا،  کرم نہیں اور کیا؟ اور تیسرے سے پوچھتے ہیں کہ کیا حال ہے؟ بہت ہی کرم ہے۔کہ کیوں؟ اِتنا بڈھا ہوں ، اِتنی صحت ہے۔ کرم نہیں تو اور کیا ہے؟ ہم کہتے اگر تم اِس کو کرم سمجھتے ہو تو یہ چیزیں کافروں کے پاس بھی ہیں ۔ جو کافروں کو دیں ، وہ تم کو دِیں ،تو تمہارے اوپر کیا کرم ہوا۔ اگر تم نے دیکھنا ہے کہ واقعی تمہارے اوپر رب کا کرم ہے۔ تو اُسکے ذکر لگ جاؤ۔ 2،4،5،7دِن میں اللہ اللہ شروع ہوگئی تو اُس کا کرم ہو گیا۔

فااذکرونی اذکرُکُم“ تو میرا ذکر کر میں تیرا ذکر کروں گا۔ ذکر اُسی کا کیا جاتا ہے جِس سے دوستی ہوجائے۔”

اگر کوشش کے باوجود اللہ اللہ نہیں جمتا، اُلٹا اِس سے وحشت ہوتی ہے۔ الٹا اِس کے مخالف ہوگئے تو تمہارے اوپر رب کا کوئی کرم نہیں۔ کرم ہوتا تو تم کو اپنے نام لیواؤں میں لیتا۔ اپنے آپ کو پہچاننے کاراز کے میں کیا ہُوں ؟ میرا مرشد کیا ہے؟ اور رب مجھ پہ کتنا مہربان ہے؟ یہی اِسمِ ذات کی ایک کسوٹی ہے۔


تو اِس کیلئے ہم آپ سے کوئی نظرانہ مانگ رہے ہیں نہ آپ کو بیعت کررہے ہیں۔ ایک فیض تھا وہ حاصل ہوا، ہم کہتے ہیں کہ باقی مسلمان بھائی بھی اِس سے مستفیض ہوں۔ اگر یہ اللہ اللہ تمہارے سینے میں چلا گیا تو دُعا دے دینا۔ اگر اللہ اللہ نہ جما تو جو 5،7دِن محنت کری، اُس کا ثواب تو مل جائے گا نا۔ تم اپنے گھر ہم اپنے گھر۔

جو شخص ذکر کی اجازت لینا چاہتے ہیں۔ بڑے شوق سے آسکتے ہیں۔ اجازت کے بعد، کبھی یہ شکایت نہیں ہو گی کہ مجھے گھبراہٹ، جلال آ گیا ہے۔ بلکہ ذکر لینے کے بعد آپ یہ کہیں گے کہ میں 24 گھنٹے اللہ ھوُ کرتا ہوں، مجھے توذرہ بھی جلال نہیں آتا۔ ماسوائے اُن لوگوں کے، کیونکہ یہ جلالی ہے۔ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا اسمِ مبارک اِسے کنٹرول کرتا ہے۔ اور جنکے دِلوں میں حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محبت نہیں ہے۔ وہ حضورپاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے جو بغض رکھتے ہیں جو گستاخیاں کرتے ہیں۔ وہ اللہ ھوُ میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ آپ اُن کی مسجدوں میں جاکے اللہ ھوُُ کریں، کیونکہ حضور پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محبت اِسے کنٹرول کرتی ہے۔ وہاں محبت ہی نہیں ہے  پھر وہ کنٹرول ہی نہیں ہوتا ہے۔ وہ کہیں گے مر جائیں گے،مار دیں گے، لیکن یہاں اللہ ھوُُ نہیں کرنے دیں گے۔
 
ماسوائے اُن لوگوں کے دوسرا کوئی شخص یہ شکایت نہیں کرے گا کہ مجھے ذرہ بھی جلال آگیا۔ 


اِسکے لیے اجازت جو لینا چاہیں، اُنکو بُلالیں۔

 

*****اللہ ھو*****اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو******اللہ ھو

 

 

 

اگر آپ بھی ذکر کی لینا چاہتے ہیں تو امام مہدی ریاض احمد گوھرشاہی کی شبیہ مبارک کوپورے چاند پر دیکھتے ہوئے
 

تین دفعہ اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں کلک کریں اور اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے سرکار شاہ صاحب کے پیچھے اللہ ھو پڑھیں گے تو اجازت مل جائے گی۔

 

© 1998-2010 All Faith Spiritual Movement Intl'
admin@theallfaith.com